Baaghi TV

Tag: روس

  • روس صدرکا10یا زائد بچوں کوجنم دینے والی خواتین کیلئے میڈل اور لاکھوں روپے انعام کا اعلان

    روس صدرکا10یا زائد بچوں کوجنم دینے والی خواتین کیلئے میڈل اور لاکھوں روپے انعام کا اعلان

    ماسکو:روس صدرکا10یا زائد بچوں کوجنم دینے والی خواتین کیلئےمیڈل اور لاکھوں روپے انعام کا اعلان،دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 34 لاکھ روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے۔

    دوسری جانب اتنی بڑی رقم اور میڈل کو حاصل کرنے کیلئے خواتین کو کئی شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں تمام 10 بچوں کا زندہ ہونا ضروری ہے،اس کے علاوہ یہ رقم اس وقت ادا کی جائے گی جب خاتون کا دسواں بچہ ایک سال کا ہوجائے گا جبکہ ان تمام بچوں کی بہتر پرورش کرنا بھی ضروری ہے، جن میں بہتر تعلیم، صحت ، اخلاقیات وغیرہ شامل ہیں۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔رپورٹس کے مطابق مدر ہیروئن کا خطاب حاصل کرنے والی خواتین کو 5 ستاروں پر مشتمل ایک میڈل دیا جائے گا ۔

    دوسری جانب ماہرین نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا جبکہ ایک نے کہا کہ روسی صدر پیوٹن کا ماننا ہے ،جن لوگوں کے خاندان بڑے ہوتے ہیں وہ زیادہ محب وطن ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2010 سے روس میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں مسلسل کمی آئی ہے جو اب خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

  • امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    واشنگٹن: امریکہ یوکرین کے لیے تقریباً 800 ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کے لیے تیار ہے۔ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ نئی امریکی فوجی امداد کا اعلان جمعہ کو کیا جا سکتا ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعلان اگلے ہفتے تک پھسل سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اپنی صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے فوجی امداد کی اجازت دیں گے، جو صدر کو امریکی اسٹاک سے زائد ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ہتھیاروں کے پیکجوں کے اعلان سے پہلے ان کی قیمت میں تبدیلی آسکتی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے یوکرین میں "خصوصی فوجی آپریشن” کا اعلان کرنے کے بعد سے امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار دیے ہیں جس کا مقصد ملک کو "غیر عسکری” اور "غیر محفوظ” کرنا ہے۔

    اینٹی آرمر میزائلوں سے لے کر ہیلی کاپٹروں تک اور اس سے آگے، عوامی طور پر اعلان کردہ مہلک امدادی پیکجز پہلے ہی $8 بلین سے تجاوز کر چکے ہیں، جن میں زیادہ تر منتقلی صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی کے تحت ہو رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگست کے آغاز سے، پینٹاگون نے 550 ملین ڈالر اور 1 بلین ڈالر کے دو فوجی امدادی پیکجوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں HIMARS گولہ بارود، آرٹلری گولہ بارود، جیولن میزائل اور دیگر اینٹی آرمر ہتھیار شامل ہیں۔

    ان ہتھیاروں کے لیے زیادہ تر فنڈنگ ​​اس رقم سے آتی ہے جو کانگریس نے کیف کو مسلح کرنے کے لیے مختص کی ہے۔ کانگریس نے یوکرین کے لیے دو امدادی پیکجوں کی منظوری دی ہے، جن میں مارچ میں 13.6 بلین ڈالر اور مئی میں 40 بلین ڈالر شامل ہیں۔ ان میں سے نصف رقم فوجی امداد کے لیے مختص کی گئی تھی۔

  • روس یوکرین جنگ:  ایٹمی پلانٹ پر حملہ خودکشی ہوگا،یو این سیکرٹری جنرل

    روس یوکرین جنگ: ایٹمی پلانٹ پر حملہ خودکشی ہوگا،یو این سیکرٹری جنرل

    روس اور یوکرین لڑائی: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ژاپروژیا کے ایٹمی پلانٹ پر ممکنہ حملے کو خودکشی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک سمٹ کے دوان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے جنوبی یوکرین کے شہر ژاپروژیا پر ممکنہ حملے سے متعلق بات کی۔

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ دونوں ملکوں کی لڑائی میں ژاپروژیا کے نزدیک قائم ایٹمی پلانٹ پر حملہ خودکشی ہوگا یوکرین کے شہر کیف پر حملے کے بعد یوکرینی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

    اس موقع پر ترک صدر طیب اردوان نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں اسے زمین پر ایک بڑا بحران قرار دیا ترک صدر نے کہا کہ ہم یہ صورت حال دیکھ کرپریشان ہیں اور ایک اور چرنوبل کو نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

    صدر اردوان نے صحافیوں کوبتایاکہ نیٹو کا رکن ترکی اس تنازع میں یوکرین کی حمایت میں پختہ عزم کے ساتھ کاربند ہےاور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا ہم بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور اس ضمن مں ہم یوکرین کے دوستوں کے شانہ بشانہ ہیں۔

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    طیب اردوان نے صحافیوں سے گفتگو میں صرف ایک بار روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کا ذکر کیاکہا کہ ہم نے جنگی قیدیوں کے تبادلے اور اس سلسلے میں اپنے اقدامات پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا کہ’’ ہم مسٹر پوتین کے ساتھ اس بارے میں بات کرتے رہیں گے۔

    یوکرین کے صدر نے پاور پلانٹس پر ہونے والے حالیہ حملوں کو روس کی ارادی کارروائی قرار دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے یوکرین کی جن دفاعی املاک پر مارچ میں قبضہ کیا تھا ان پر حالیہ ہفتوں میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے جب کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کررہے ہیں۔

    چین کی ہوا میں معلق "اسکائی ٹرین”جو بجلی کےبغیربھی سفرکرسکتی ہے

  • چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    چین اور روس کے صدور انڈونیشیا میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق انڈونشیا 20 بڑی معیشتوں کے گروپ کی سربراہی کر رہا ہے اور نومبر میں اس کا اعلٰی سطح اجلاس جزیرہ بالی پر ہو گا چین اور روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ سے اس کو کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ امغربی ممالک نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے روسی صدر پیوٹن کا دعوت نامہ منسوخ کیا جائے جس کو روس ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    بلوم برگ کے مطابق انڈونیشیا کےصدرکےمطابق جی 20 اجلاس نومبر میں منعقد ہوگا چین کے صدر شی جن پنگ آئیں گے اور پیوتن نے مجھے خود بتایا ہےکہ وہ بھی آئیں گےجب چین کی وزارت خارجہ سےاس اطلاع کےحوالےسےموقف جاننےکی کوشش کی گئی تووہاں سے فوری طورپرکوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    چین میں بھی موسلا دھار بارشیں، سیلاب سے 16 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

    انڈونیشئین صدر نے متحارب ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس کے لیے یوکرین اور روس دونوں کے دورے بھی کیے اور صدور سے ملاقاتیں بھی کیں ان ملاقاتوں کے بعد جوکووی نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے انڈونیشیا کو امن کے پُل کے طور پر قبول کیا ہےبڑے ممالک کے رہنما نومبر میں ملاقات کریں گے جن میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن بھی شامل ہیں جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

    یاد رہے روس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تب سے خراب ہیں جب سے اس نے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا ہے، امریکہ اور مغربی ممالک کھل کر یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ روس اور امریکہ کی قیادت کے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی جاری ہے۔

    اسی طرح رواں امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکرنینسی پلوسی کےتائیوان کےدورے پرامریکہ اور چین کےتعلقات میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور چین نے جنگی مشقیں بھی شروع کیں بعد ازاں امریکی کانگریس کا ایک اوروفد تائیوان جا پہنچاجس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہیں۔ چین پڑوسی ملک تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعوٰی رکھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو آزاد ملک قرار دیتا ہے-

    ملکہ برطانیہ کو قتل کرنا چاہتا تھا، ونڈسر محل کے باہر سے تیر کمان سمیت گرفتارملزم…

  • یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے

    یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے

    لاہور:یوکرین روس تنازعہ:دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر:کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے،اطلاعات ہیں کہ زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ جو کہ یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے ۔ یوکرین کا یہ جوہری بجلی گھر روسی افواج کے کنٹرول میں ہے۔اور یہ بات امریکہ اوریورپ کو کسی بھی صورت گوارا نہیں ہے ،

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    اس سلسلے میں عالمی ذرائع ابلاغ نے پیر کی رات یوکرینی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے نزدیک متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے اطراف کے علاقوں پر گزشتہ دنوں کئی بار گولہ باری ہوئی ہے۔

    ماسکو اور کیف میں سے کسی نے بھی ان گولہ باریوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔شہر انرگودار کے میئر نے جہاں یورپ کا یہ سب سے بڑا جوہری بجلی گھر واقع ہے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ اس جوہری بجلی گھر میں المیہ رونما ہونے کا امکان روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    یوکرین کے زاپوریژیا جوہری بجلی گھر میں المیہ رونما ہونے کی تشویش کے دوران، پیر کو روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ماہرین یوکرین کے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کا جلد سےجلد معائنہ کریں اور ماسکو اس سلسلے میں ہر ضروری تعاون کے لئے تیار ہے ۔

    روسی وزارت خارجہ کے اس بیان کے بعد ، اقوام متحدہ نے یوکرین کے اس جوہری بجلی گھر کے تعلق سے آئی اے ای اے کی سنگین ذمہ داریوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔اسی کے ساتھ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترش نے مذکورہ جوہری بجلی گھر کی سلامتی کے بارے میں روس کے وزیر دفاع سرگئی شویگوف کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا ۔

    روس، یوکرین اوراس کے حامی مغربی ملکوں پر یہ الزام لگاچکا ہے کہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر میں بھی چرنوبیل جیسا المیہ رونما ہوجائے۔

    یاد رہے کہ روس نے یوکرین سے علیحدگی اور خود مختاری کا اعلان کرنے والے، علاقوں دونیسک اور لوہانسک کی حمایت میں چوبیس فروری سے فوجی آپریشن شروع کررکھا ہے ۔ روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے خلاف اس کا فوجی آپریشن آغاز جنگ کے مترادف نہیں ہے بلکہ عالمی سطح کی جنگ روکنے کا ایک اقدام ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن کا مقصد ، نیونازی انتہا پسندوں کا خاتمہ اور روسی زبان بولنے والے شہریوں کو نسل کشی سے بچانا بتایا ہے۔یوکرین جنگ شروع ہونے سے قبل روس نے مغربی ملکوں کو بارہا خبردار کیا تھا کہ کیف کو مسلح کرنے، مشرقی یوکرین میں آباد روسی زبان شہریوں پر یوکرینی فوج کے حملوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

    قابل ذکرہے کہ مشرقی یوکرین کے دو علاقوں ، دونیسک اور لوہانسک نے، دو ہزار چودہ میں اس وقت کی حکومت کے خلاف مغرب نوازوں کی بغاوت اور حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد، یوکرین سے علیحدگی اور خود مختاری کا اعلان کیا تھا۔

    ایران، روس کو ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے،امریکا

    2014 میں بلوے اور بغاوت کے ذریعے وکٹر یانوکویچ کی حکومت کا تختہ الٹ کر یوکرین میں برسراقتدار آنے والی مغرب نواز حکومت نے روس کی تشویش اور انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے، یورپ اور امریکا سے قریب تر ہونے اور یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت کے لئے کوششیں جاری رکھیں اور اسی کے ساتھ یورپ اور امریکا نے بھی روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی غرض سے یوکرین کے لئے اسلحہ جاتی اور فوجی امداد کا سلسلہ تیز کردیا۔

    دوسری طرف نیٹو نے بھی یوکرینی فوجیوں کو ٹریننگ دینے اور یوکرین کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں انجام دینے جیسے اشتعال انگیز اقدامات انجام دیئے جو یوکرین اور روس کے درمیان موجودہ جنگ پر منتج ہوئے ۔ ساڑھے پانچ مہینے سے یہ جنگ جاری ہے اور اب اس جنگ کے نتیجے میں جوہری جنگ کے خطرات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔

  • امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    ماسکو:امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تائیوان میں امریکی مداخلت ایک خطرناک سازش ہے ، پوتن کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کے تنازع کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایشیا پیسیفک خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    پوتن نے ماسکو انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ "یوکرین کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس تنازعے کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ بالکل اسی طرح کام کر رہے ہیں، جو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں تنازعات کے امکانات کو ہوا دے رہے ہیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا، کیف کی جانب سے منسک معاہدوں کی شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی اور ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک اور لوہانسک کے الگ ہونے والے علاقوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ ردعمل دیا ہے ۔اس وقت، پوتن نے کہا تھا کہ جس کو وہ "خصوصی فوجی آپریشن” کہتے ہیں اس کا ایک مقصد یوکرین کو "ڈی نازیفی” کرنا تھا۔

    روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی مغربی سپلائی کے ساتھ ساتھ ماسکو پر سخت پابندیاں جاری جنگ کو طول دے گی، جو پہلے ہی چھٹے مہینے میں پہنچ چکی ہے۔

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    پوتن نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے حالیہ متنازع دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک احتیاط سے منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا۔انہوں نے کہا، "تائیوان کے سلسلے میں امریکی مہم جوئی صرف ایک انفرادی غیر ذمہ دار سیاستدان کا سفر نہیں ہے، بلکہ خطے اور دنیا کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے ایک بامقصد، باشعور امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

    چین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تائیوان کے دورے نے آبنائے تائیوان میں امن کو خراب کرنے والے کے طور پر واشنگٹن کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    چین نے طویل عرصے سے خودساختہ جزیرے میں امریکی مداخلت کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے اس علاقے کے باقاعدہ دوروں کی مخالفت کی ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے "ایک چائنا” پالیسی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً تمام ممالک تائیوان پر بیجنگ کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔

    پیلوسی کے دورے کے جواب میں، چین نے جزیرے کے ارد گرد بے مثال فوجی مشقیں کیں اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کچھ لائنوں کو معطل کر دیا۔پیلوسی 25 سالوں میں اس جزیرے کا دورہ کرنے والی سب سے سینئر امریکی سیاست دان بن گئیں۔ چینی وزیر خارجہ نے اس طوفانی سفر کو "پاگل، غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول” قرار دیا۔

    پیلوسی کے خودساختہ جزیرے کے دورے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، امریکی کانگریس کا ایک وفد پیر کو غیر اعلانیہ دورے پر تائیوان پہنچا، جسے مبصرین امریکہ کے ایک اور اشتعال انگیز اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دارالحکومت تائی پے میں واشنگٹن کے ڈی فیکٹو سفارت خانے نے کہا کہ کانگریس کے پانچ ارکان پیر تک دورہ کریں گے۔

  • روس کی اتحادی ممالک کوجدید ترین ہتھیاردینے کی پیشکش

    روس کی اتحادی ممالک کوجدید ترین ہتھیاردینے کی پیشکش

    ماسکو:روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ ہم جدیدترین ہتھیار اپنے اتحادی ممالک کو فروخت کرنے اور فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس کے نئے ہتھیار دیگر ممالک کے مقابلے زیادہ بہتر ہیں۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    ماسکو میں اسلحے کی نمائش کے موقع پر روسی صدر نے کہا کہ ہمارے ہتھیار حریف ممالک کے ہتھیاروں سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس کے لاطینی امریکا، ایشیا اور افریقا سے تعلقات مضبوط ہیں اور ہم اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر لڑاکا طیارے، ڈرونز اور دیگر ہتھیار اتحادیوں کو فراہم کر سکتے ہیں اور ان ہتھیاروں کو حقیقی جنگی آپریشنز میں ایک سے زیادہ بار استعمال کیا جاسکے گا۔

    امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    روسی صدر نے کہا کہ ہم جدید ترین ہتھیاروں اور روبوٹیکس کی بات کررہے ہیں جن میں سے بیشتر دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی سے کئی برس آگے ہیں۔یہ خطاب یوکرین جنگ کے بعد مختلف اتحادیوں جیسے چین، ایران اور دیگر سے تعاون بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے تاکہ امریکی بالادستی کو ختم کیا جاسکے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ہمارے ساتھ متعدد ہم خیال اتحادی اور شراکت دار ممالک ہیں، ان کی قیادت کسی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

  • امریکہ نے اپنے جدید جنگی طیارے پولینڈ میں تعینات کردیئے

    امریکہ نے اپنے جدید جنگی طیارے پولینڈ میں تعینات کردیئے

    امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نیٹو کے رکن ملکوں کے دفاع کو تقویت پہنچانے کی غرض سے بارہ ایف بائیس قسم کے طیارے الاسکا ایئر بیس سے اڑان بھر کر پولینڈ پہنچ گئے ہیں ، کہا جارہا ہے کہ مذکورہ طیاروں کے پولینڈ پہنچنے کے بعد یورپ اور افریقہ کے لیے امریکی ایئر کمان کے سربراہ جیمز ہیکر نے دعوی کیا ہے کہ ان جنگی طیاروں کی پولینڈ میں تعیناتی نیٹو میں اپنے اتحادیوں کی حمایت کے حوالے سے ایک اہم قدم شمار ہوتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ برطانوی ایئر فورس کے چھے ایف پندرہ ایگل طیارے بھی پولینڈ میں امریکی ایف بائیس طیاروں میں شامل ہوجائیں گے۔
    کچھ عرصہ قبل پولینڈ کے وزیردفاع نے ساڑھے چار ارب ڈالر مالیت سے زیادہ کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ان کا ملک امریکہ سے ایک تربیتی اور لاجسٹک سپورٹ پیکج سمیت بتیس ایف پینتیس طیارے حاصل کرے گا۔

    امریکہ کافی عرصے سے روس کے مقابلے میں نیٹو کی تقویت کے بہانے مشرقی یورپ کے ملک رومانیہ کو فوجی امداد فراہم کررہا ہے۔کچھ عرصہ قبل، جنگ یوکرین کے شور شرابے میں امریکہ کے اسٹریٹجک جنگی طیارے رومانیہ کی فضاؤں میں پروازیں بھی کرتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ کے سینیئر سیاستداں اور خارجہ پالیسی کے ماہر، ہنری کیسنجر نے خـبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک روس اور چین کے ساتھ جنگ کے قریب پہنچ گیا ہے۔وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ہنری کیسنجر نے لکھا ہے کہ ہم ایسے مسائل کے بارے میں پیدا ہونے والے اختلافات کی وجہ سے جن کے خاتمے کے طریقہ کار اور نتائج کا کچھ پتہ نہیں ہے، روس اور چین کے خلاف جنگ پر اترآئے ہیں۔

    ہنری کیسنجر نے تائیوان کے معاملے میں امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر بھی گہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے لکھا ہے کہ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کا دور گذرگیا ہے ۔ ہم صرف اتنا کرسکتے ہیں کہ کشیدگی کی رفتار کو بڑھنے سے روکیں اور راہ حل کی تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

    سینئیر امریکی سیاستدان اور خارجہ پالیسی کے ماہر، ہنری کیسنجر کا کہنا ہے کہ یوکرین کو اتحاد میں شمولیت کا پیغام دیکر نیٹو نے سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ہنری کیسنجر نے چند ماہ قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور نیٹو کی پالیسیاں ہی ممکنہ طور پر یوکرین کے موجوہ بحران کی اصل وجہ ہیں، اس بیان پر انہیں امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

  • امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    ماسکو:روسی وزارت خارجہ نے امریکا کوخبردار کیاہے کہ امریکا کی جانب سے روسی اثاثے ضبط کیے جانے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ ماسکو کے دوطرفہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق روس کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات اس وقت سے بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں جب سے ماسکو نے 24 فروری کو ہزاروں فوجی یوکرین میں بھیجے اوراسے خصوصی فوجی آپریشن قراردیا

     

    بھارت چین کے سرحدی تنازع پرایک دوسرے پرالزامات، اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے، چین…

    ماسکو: روس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے اور امریکہ کے درمیان تعلقات’خطرناک ٹکراؤ کے مقام‘ پر پہنچ گیا ہے اورواشنگٹن اس پر مستقل نظامی دباؤ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے کالجیم کی میٹنگ کے بعد بدھ کو اس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کی حرکتوں کے سبب حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے مابین تعلقات خراب ہورہے ہیں۔ روس پرامریکہ اوراس کے ساتھی ممالک نظامی دباؤ بنارہے ہیں، جو کافی حد تک نظریاتی عوامل سے متاثرہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا رخ بین الاقوامی قانون کی سراسرخلاف ورزی کرتا ہے اوراس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ روس اپنے جائز مفادات برقرار رکھے گا۔ وزارت کے مطابق جینیوا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اوران کے امریکی ہم منصب جو بائڈن کے درمیان جون میں ہوئی چوٹی کانفرنس سے یہ پتہ چلا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک استحکام، موسمیاتی تبدیلی، سائبر سیکورٹی اور علاقائی تنازعات کے حل جیسے شعبوں میں تعمیری بات چیت کو دوبارہ زندہ کرنے کے مواقع تھے۔

    روس کے اس اقدام کے جواب میں مغربی ممالک نے ماسکو پر ایسی معاشی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ان پابندیوں میں روس کے تقریباً سونے اور زرمبادلہ کے نصف ذخائر کو منجمد کرنا بھی شامل ہے جن مالیت 24 فروری سے قبل 640 ارب ڈالر کے قریب تھی. یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل سمیت اہم مغربی حکام مستقبل میں یوکرین کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے منجمد اثاثوں کو ضبط کرنے کی تجویز دے چکے ہیں

    جو بائیڈن انتظامیہ کے مطابق امریکا اور اس کے یورپی اتحادی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تعلقات رکھنے والے دولت مند افراد کے 30 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کرچکے ہیں، ان منجمد کیے گئے اثاثوں میں ان روسی افراد کی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، گھر، پلازے اور قیمتی تخلیقی اشیا شامل ہیں . جولائی میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری ماسکو کے اقدامات کے جواب میں دباﺅ ڈالنے کے لیے امریکی محکمہ انصاف کانگریس سے روسی امرا کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے مزید وسیع اختیار طلب کر رہا ہے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ روس نے امریکا کو متنبہ کر دیا ہے کہ اگر روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا گیا تو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے اور پھر یہ تعلقات ٹوٹ بھی سکتے ہیں.

    یوکرین کی صورت حال سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ کیف پر امریکی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امریکا تنازع میں براہ راست فریق بنتا جا رہا ہے رپورٹ میں الیگزینڈر ڈارچیف نے تصدیق کی کہ امریکا کی قید میں موجود روسی شہری وکٹر باﺅٹ اور روس میں زیر حراست امریکی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنر اور سابق فوجی پال وہیلان سے متعلق ماسکو اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں بات چیت کی جا رہی ہے.

  • بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    بھارت متحدہ چین کی حمایت کرتاہے:ترجمان وزارت خارجہ اریندم باگچی

    نئی دہلی:متحدہ چین کے اصول کی حمایت کرنے والے اولین ملک کی حثیت سے ہندوستان نے ایک بار پھر اس پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

     

    بھارت چین کے سامنے بھی اکڑ گیا ، چین مداخلت سے باز رہے

    ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے کہا ہے کہ متحدہ چین کے بارے میں ہماری پالیسی پوری طرح واضح ہے اور اسے بار بار دھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان فریقین سے صبر و تحمل سے کام لینے اور علاقےکی صورتحال میں کسی بھی یک طرفہ تبدیلی سے گزیر کی اپیل کرتی ہے تاکہ کشیدگی کو ختم کی جاسکے۔

    بھارت چین کشیدگی: چین سے کیسے نمٹا جائے : واشنگٹن اور نئی دہلی نے سرجوڑ لیئے

    اس سے پہلے دھلی میں قائم چین کے سفارت خانے نے کہا تھا کہ ہمیں امید ہے ک متحدہ چین کے اصول کی حمایت کرنے والے اولین ملک کی حثیت سے ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    ہندوستانی وزار ت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں علاقائی امن و استحکام کو باقی رکھنے کی کوششوں اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ کے متنازعہ دورہ تائیوان کے بعد تائیپے اور واشنگٹن سے بیجنگ کی کشیدگی کے نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

    بھارت چین کے سرحدی تنازع پرایک دوسرے پرالزامات، اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے، چین

    چین جزیرہ تائیوان کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور اس علاقے کی خودمختاری کے بارے میں کئی بار خبردار کرچکا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے جزیرہ تائیوان کو علیحدگی پر اکسا رہے ہیں۔