Baaghi TV

Tag: روس

  • روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    یورپی یونین کا ایک بار پھر روس پر غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف جوزف بورل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کرکے دنیا بھر میں بھوک کا بحران شدید کر رہا ہے۔

     

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    اگرچہ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں استنبول معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین ایک بار پھر غذائی اجناس بھیجنے کے قابل ہوگیا ہے تاہم روس پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کے بقول روس اپنے وعدے کی پاسداری کرے تاکہ یوکرین سے غلات کی برآمد کا سلسلہ ضرورت مند ملکوں کے لئے جاری رہے جن میں زیادہ ترافریقی ممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے عالمی غذائی سیکیورٹی کے معاملے میں مغربی ملکوں کی جانب سے شکوک و شبہات پھیلانے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں اس بات پرافسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ یوکرین سے غلات لے جانے والا ایک بھی جہاز افریقہ کا رخ نہیں کررہا بلکہ ساری اجناس اور پکانے کا تیل، مغربی ملکوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔

    چین کا اقدام،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں

    روس نے اس رویئے کو عالمی غذائی سیکیورٹی کے حوالے سے مغربی ملکوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کے منافی قرار دیا ہے۔

  • روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    امریکا نے خبر دار کیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران سے روسی اہلکاروں کو ڈرون استعمال کی تربیت کے سلسلے میں ایک سوال پر امریکی دفتر خارجہ نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی اور اس وجہ سے ان پر اقتصادی پابندیاں زیادہ مضبوطی سے عائد کی جائیں گی-

    دفتر خارجہ کے نائب ترجمان وینڈت پٹیل نے کہا کہ امریکہ نے ان تمام امور کا جائزہ لیا ہے کہ ایران کی طرف سے روس کو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون طیارے موصول ہوئے ہیں ۔ امریکہ کو ایران کے ان ڈرونز کے بارے میں غیر معمولی طور پر تشویش ہے۔

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    نائب ترجمان نےمزید کہا کہ ایرانی ڈرون امریکی افواج اورامریکی اتحادیوں کےخلاف استعمال ہوسکتے ہیں اس لیےامریکہ صرف اقتصادی پابندیوں تک نہ رہے گا بلکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پیچھے تک جائے گا اور ایران کو ڈرونز سےمتعلق لوازمات فراہم کرنے والوں اور ایرانی خریدداری کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کرے گا۔

    واضح رہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ نےروس کے لیےایرانی ڈرون طیاروں کی فراہمی اور روسیوں کو تربیت دینے کےمعاملے پر گزشتہ ماہ کہا تھا کہ امریکہ کو ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ روسی حکام نے ڈرون طیاروں کےحصول کے معاہدے کے حصے کے طور پر ایرانی ماہرین سے تربیت حاصل کی ہےیہ بھی کہا گیا تھا کہ ان ایرانی ڈرون طیاروں کو روس یوکرین کے خلاف استعمال کرے گا-

    یاد رہے کہ روس نے قازقستان سے ایران کا سیٹلائٹ (خیام ) خلا میں بھیج دیا ہے روس نے منگل کے روز قازقستان کی ائیر بیس سے ایران کا سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا۔ روسی مشن نے سیٹلائٹ کے مدار میں داخل ہونے کی تصدیق کردی ہے ایرانی آئی سی ٹی کے وزیر کے مطابق، لانچ خلائی صنعت میں دونوں ممالک کے درمیان ’اسٹریٹیجک تعاون‘ کے آغاز کا اشارہ ہے۔

    ایران، روس کو ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے،امریکا

    ایرانی خبررساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ روسی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گئے ایرانی سیٹلائٹ کا پہلا ٹیلی میٹری ڈیٹا موصول ہوگیا ہے دوسری جانب اس ماہ کے شروع میں، واشنگٹن پوسٹ نے گمنام امریکی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ خدشہ ہے کہ روس ایرانی سیٹلائٹ سے یوکرین میں فوجی اہداف کی نگرانی کرے گا تاہم اس دعوے کو ایرانی خلائی ایجنسی (ISA) نے نے امریکی انٹیلی جنس کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سیٹلائٹ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اس میں کسی تیسرے ملک کا عمل دخل نہیں ہے۔

    دوسری جانب ایران کی حکومت کے ترجمان نے خبر دی ہے کہ قومی سائنسدانوں کی شرکت سے خیام سیٹلائٹ کے مزید تین ورژن کی تیاری، حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہو گئی۔اس حوالے سے حکومت نے ایرانی سائنسدانوں کواس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کا ہدف دے دیا ہے-

    خیام سیٹلائٹ کے مزید تین ورژن کی تیاری:ایرانی سائنسدانوں کو بڑا ہدف دے دیا گیا

  • ایران، روس  کو ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے،امریکا

    ایران، روس کو ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے،امریکا

    ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران نے روسی حکام کوایرانی ساختہ ڈرون استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران میں روسی حکام نے ایران میں بغیرپائیلٹ طیاروں (یو اے وی) کے استعمال کی تربیت حاصل کی ہے یہ تربیتی عمل ایران سے روس میں یو اے وی کی منتقلی کے معاہدے کا حصہ ہے فراہم کردہ معلومات کم ترانٹیلی جنس پر مبنی ہیں-

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    بائیڈن انتظامیہ نےگذشتہ ماہ پہلی بارانکشاف کیا تھا کہ اس کے پاس روس اور ایران کے بارے میں ایسی معلومات ہیں جن کے مطابق روس کویوکرین میں استعمال کے لیے ایرانی ڈرونزکی ممکنہ فروخت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے قبل ازیں کہا تھا کہ امریکا کے پاس ایسی انٹیلی جنس اطلاعات ہیں جن سے پتاچلتا ہے کہ ایران روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے کے لیے’’کئی سو‘‘ ڈرون مہیّاکرنے کی تیاری کررہا ہے اس کے لیے تربیتی عمل جولائی کے اوائل میں شروع ہونے والاتھا۔

    گذشتہ ماہ جیک سلیوان نے سیٹلائٹ تصاویر بھی دکھائی تھیں کہ ایران میں ایک روسی وفد نے حملے کی صلاحیت کے حامل یو اے وی دیکھے تھے اور ان پرایرانی حکام سے تبادلہ خیال کیا تھا۔

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    لیکن جولائی کے آخرمیں جب قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی سے ان اطلاعات کے بارے میں دریافت کیا گیا بتایا کہ امریکانے روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایرانی ڈرونز کی اصل ترسیل یا خریداری کے کوئی اشارے نہیں دیکھے ہیں۔

    قبل ازیں وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کے روز خبردی ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ نے روس کے ساتھ ڈرون پروگرام میں شراکت داری کی تردید کی ہے۔

    اس سے قبل واشنگٹن نے ماسکو پرالزام عائد کیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ لڑتے ہوئے تہران کی طرف دیکھ رہا ہے۔

    روس یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے صرف ایران سے اس کے ساختہ ڈرون لینا چاہتا ہے لیکن کیف کو امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں سے اربوں ڈالر کے ہتھیار مل رہے ہیں۔

  • خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت — نعمان سلطان

    پاکستان میں جائیداد سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں ایک ہی تصور تھا کہ اسے فروخت کر کے منافع کمایا جائے یا اسے کرائے پر دے کر ماہانہ کرایہ لے کر اپنی ضروریات پوری کی جائیں اور جگہ کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھے جائیں لیکن ملک ریاض نے "بحریہ ٹاؤن ” بنا کر پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ایک نیا تصور دیا کہ حکومت کے کاغذات میں جگہ کے مالکانہ حقوق ملک ریاض کے پاس ہیں جبکہ ملک ریاض نے اپنا پٹواری نظام بنا کر لوگوں کو "بحریہ ٹاؤن” میں جگہ کی خرید و فروخت شروع کر دی۔

    زمین کی خرید و فروخت میں مختلف” ٹیکسز” کی مد میں حکومت کو جو آمدن ہوتی تھی وہ ملک ریاض نے اپنے پٹواری نظام کی وجہ سے خود حاصل کرنا شروع کر دی اس کے علاوہ مختلف سروسز کی مد میں لوگوں سے سروسز چارجز کے نام پر بھی ہر مہینے ایک معقول رقم وصول کرنا شروع کر دی اس طرح سمجھیں زمین کے مالکان ہر مہینے ملک ریاض کو کرایہ دینا شروع ہو گئے، مزے کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اپنی زمین بیچنے کے باوجود بھی ملک ریاض حکومت کے کاغذات میں زمین کا مالک ہی رہا اور لوگ ملک ریاض کے کاغذوں میں زمین کے مالک ہونے کے باوجود ملک ریاض کے کرایہ دار ہی رہے لوگ اس سب کے باوجود مطمئین اور اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے رہے کہ "شکر ہے ہمیں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ مل گیا” یہ سب صرف ملک ریاض کی کاروباری سوچ، میڈیا کے درست استعمال اور مسائل پیدا کرنے والے لوگوں سے ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ممکن ہو سکا ۔

    اب ہم اپنی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہیں سب سے پہلے "چین” کی صورت میں دنیا میں ایک ایسا ملک تھا جس کے پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک خاص طور پر امریکہ سے تعلقات نہ ہونے کے برابر تھے، "جیسے ابھی ہمارے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو اس کی ثالثی کے لئے ہم امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک میں اس کا اثر و رسوخ ہے” ایسے ہی چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات یا غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا تھا ۔

    اب اگر پاکستان ملک ریاض والی پالیسی اختیار کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک خاص حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیتا تو دونوں ممالک تنازعات اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے پاکستان پر ہی انحصار کرتے رہتے اس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا کہ دونوں ممالک پاکستان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ملک پاکستان کے مفادات کا خیال رکھتے ایک مضبوط ملک ہی مضبوط ضامن ہوتا ہے اس وجہ سے وہ پاکستان پر کبھی بھی بھارت کو فوقیت نہ دیتے اور ملک دولخت بھی نہ ہوتا اس کے علاوہ بھی پاکستان دونوں ممالک سے بےتحاشہ فوائد حاصل کر سکتا تھا ۔

    لیکن ہم نے اس کے بالکل الٹ کام کیا ہم نے چین اور امریکہ کو ایک ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان کی آپس کی غلط فہمیاں دور کر دی اس کا ہمیں یہ نقصان ہوا کہ اپنا مطلب نکلنے کے بعد ہم امریکہ کے کسی کام کے نہ رہے اور اس نے ہمیں نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ دوستی اپنے مفاد میں بڑھانا شروع کر دی اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں جہاں ان کا مفاد ہوا پاکستان کے خلاف بھارت کی بھرپور سیاسی اور عسکری ساز و سامان سے مدد کی اور نتیجتاً پاکستان کو بھرپور نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک کے دو ٹکڑے بھی کر دئیے ۔

    جبکہ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک عرصے تک پاکستان کا احسان مند رہا اور جب جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی چین نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا یہاں تک کہ انڈیا پاکستان کی جنگ کے دوران اپنی فوج کو انڈیا کے بارڈر پر لے آیا اور انڈیا پر بارڈر کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر جنگ کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے انڈیا گھبرا گیا اور پاکستان سے جنگ بندی کر لی اس کے علاوہ پاکستان میں ریکارڈ انویسٹمنٹ کی اور عسکری شعبے میں پاکستان کے ساتھ لامحدود تعاون کیا، لیکن اب ہماری سیاسی قلابازیوں سے تنگ آکر چین نے بھی اپنا مفاد دیکھ کر پاکستان کے ساتھ تعاون محدود کرنا شروع کردیا ہے ۔

    پاکستان کو دوسرا موقع افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی کامیابی کی صورت میں ملا، طالبان اپنی سخت گیر سوچ اور نظریات میں لچک نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی دنیا کے لئے قابل قبول نہ تھے لیکن ان میں مدارس کے طالب علم ہونے کی وجہ سے وہ پاکستانی علماء کا بے حد احترام کرتے تھے اور کئی معاملات میں ان کے سپریم لیڈر اپنی رائے پر پاکستان کے جید علماء کی رائے کو ترجیح دیتے تھے اور ان کے کہنے پر اپنے موقف میں لچک پیدا کر لیتے تھے، اس وجہ سے ہم دوبارہ مغرب کی ضرورت بن گئے اور وہ طالبان سے معاملات طے کرنے کے لئے ہمارا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ ان کی وجہ سے ہمارا بارڈر بھی محفوظ ہو گیا، اور وہاں موجود اضافی نفری ہم نے جہاں ضرورت محسوس کی تعینات کر دی ۔

    لیکن اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر ہم نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ میں بغیر کوئی فائدہ اٹھائے امریکہ کا ساتھ دیا، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر ہم ان کی اخلاقی حمایت نہیں کر سکتے تو اس جنگ میں غیر جانبدار ہو جائیں نتیجتاً طالبان کی امریکہ تک تو پہنچ نہ تھی ان کے بعض اتحادیوں نے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں شروع کر دی اور پاکستان کو اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ دہشت گردی کے خلاف لڑنی پڑی، جس میں وطن عزیز کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حمایت یافتہ حکومت آنے کی وجہ سے بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آنے لگے، انہیں روکنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے افغان بارڈر پر دوبارہ سے فوج اور باڑ لگانی پڑی، یعنی یہ فیصلہ کسی بھی طرح ملکی مفاد میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔

    ابھی قسمت سے ہمیں دوبارہ موقع ملا ہے افغانستان میں طالبان برسرِ اقتدار آ گئے ہیں، یہ ٹھیک ہے دونوں طرف اعتماد کا فقدان ہے لیکن اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے طالبان نے بھی اپنے مزاج میں تھوڑی بہت لچک پیدا کر لی ہے اور مدارس کے اساتذہ کی وجہ سے بھی وہ پاکستان کے لئے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے ان کے ساتھ تعلقات کو بتدریج بہتر بنائیں، اس کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افغانستان سے جو تھوڑی بہت دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی ممالک سے طالبان کے تعلقات بہتر بنانے کے صلے میں ہمیں ان کی حمایت حاصل ہو جائے گی جس کا ہم معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

    اس کے علاوہ تائیوان کے معاملے کو لے کر چین اور امریکہ کے تعلقات دوبارہ سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور ان معاملات میں ثالث یا پیامبر کا کردار پاکستان ہی ادا کرے گا تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اب ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کو نہ دہرائے، یہ ابھی بہترین موقع ہے دونوں ممالک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے پاکستان کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم موقع کا فائدے اٹھاتے ہیں یا حسب معمول پرانی روش ہی اختیار کرتے ہیں ۔

    ملک ریاض نے اگر ایک عام آدمی ہوتے ہوئے "بحریہ ٹاؤن” بنا دیا،موقع کے مطابق لوگوں سے تعلقات بنا کر ان کو مطمئین کر کے اپنا مفاد حاصل کیا، طاقت کے مراکز(بحریہ ٹاؤن سے متعلقہ ادارے) کی ہر خواہش کو پورا کر کے راستے کی رکاوٹیں دور کیں اور تمام محکموں کو دینے کے بعد بھی اتنا کچھ بنا لیا کہ رفاہ عامہ کے بے شمار کام کرنے کے باوجود اس کے پاس لامحدود سرمایہ موجود ہے ۔تو حکومت اتنے زیادہ وزیر، مشیر اور تھنک ٹینک ہونے کے باوجود ایسی پالیسیاں کیوں نہیں بناتی کہ جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور عسکری استحکام حاصل ہو ۔

    آخر یہ مشیر حکومت وقت کو مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر گرنا ہی ہے تو بنئیے کے بیٹے کی طرح "کسی کام کی چیز "پر تو گرو، اگر ہم سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر عملی طور پر اس پر عملدرآمد کر کے دکھائیں، وقت کسی کو دوسرا موقع نہیں دیتا اگر خوش قسمتی سے ہمیں دوسرا موقع مل گیا ہے تو ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ورنہ دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے تاریخ کی کتابوں میں "ملک ریاض” کا نام ایک کامیاب کاروباری شخص اور بھرپور وسائل کے ہوتے ہوئے بھی سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے "حکمرانوں” کا نام بدترین حکمرانوں اور ہماری "خارجہ پالیسی” کا ذکر بدترین خارجہ پالیسیوں میں ہو گا۔

  • روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    روس نےایرانی سیٹلائٹ "خیام” خلا میں بھیج دیا

    روس نے قازقستان سے ایران کا سیٹلائٹ (خیام ) خلا میں بھیج دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے منگل کے روز قازقستان کی ائیر بیس سے ایران کا سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا۔ روسی مشن نے سیٹلائٹ کے مدار میں داخل ہونے کی تصدیق کردی ہے ایرانی آئی سی ٹی کے وزیر کے مطابق، لانچ خلائی صنعت میں دونوں ممالک کے درمیان ’اسٹریٹیجک تعاون‘ کے آغاز کا اشارہ ہے۔

    ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گئے ایرانی سیٹلائٹ کا پہلا ٹیلی میٹری ڈیٹا موصول ہوگیا ہے۔

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق ریموٹ سینسنگ خیام سیٹلائٹ، جسے ایران نے کہا ہے کہ وہ غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، منگل کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔

    دوسری جانب اس ماہ کے شروع میں، واشنگٹن پوسٹ نے گمنام امریکی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ خدشہ ہے کہ روس ایرانی سیٹلائٹ سے یوکرین میں فوجی اہداف کی نگرانی کرے گا تاہم اس دعوے کو ایرانی خلائی ایجنسی (ISA) نے نے امریکی انٹیلی جنس کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سیٹلائٹ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اس میں کسی تیسرے ملک کا عمل دخل نہیں ہے۔

    آئی ایس اے نے کہا کہ سیٹلائٹ کو بھیجے گئے آرڈرز اور اس سے موصول ہونے والے ڈیٹا کو ایران میں موجود ایرانی انجینئروں اور سائنسدانوں کی ٹیم کے ذریعے خفیہ اور کنٹرول کیا جائے گا، اور "اس سارے عمل میں کسی دوسرے ملک کی معلومات تک رسائی نہیں ہے”۔

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    ایجنسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیام کی تصاویر، جن کی ایک میٹر کی ریزولوشن کے ساتھ آنے کی توقع ہے، کا استعمال ڈیزاسٹر مینجمنٹ، سرحد کی نگرانی کےعلاوہ مختلف صنعتوں جیسےزراعت، قدرتی وسائل، ماحولیات، آبی وسائل، کان کنی میں "انتظام اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں” کو بڑھانے کے لیے کیا جائے گا۔ ۔

    اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مغرب کے خلاف مل کر کام کرنے کے عہد کے 3 ہفتے بعد روس کی جانب سے ایران کے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، ایران 5-10 میٹر (16.4-32.8 فٹ) کی تصویری ریزولوشن کے ساتھ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور 50 کلوگرام (110 پاؤنڈ) پیکجوں کو 500 کلومیٹر (311 میل) مدار میں داخل کر سکتا ہے۔

    لیکن خیام – جس کا نام 11ویں صدی کے فارسی پولیمتھ عمر خیام کے نام پر رکھا گیا ہے جسے ایران اور روس نے بنایا تھا، 1 میٹر (3.3 فٹ) کے زیادہ درست ریزولوشن کو نشانہ بنا سکتا ہے اور 500 کلومیٹر کے مدار میں کام کرے گا جبکہ اس کا وزن تقریباً 600 کلوگرام ہے۔ (1,322 پاؤنڈ)۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےگھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ:اہم دستاویزات ساتھ لے گئے

    ایران کے آئی سی ٹی وزیر عیسی زری پور نے پیر کے روز بایکونور میں راکٹ کے سامنے کھڑے ہونے کی ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ ایران اور روس کے درمیان خلائی صنعت میں تزویراتی تعاون کا آغاز ہے ایران کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا ہے اگلے سال تک 500 کلومیٹر کے مدار میں 100 کلوگرام سیٹلائٹ۔

    ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہےکہ ملک کا فوجی خلائی پروگرام الگ ہے آئی ایس اے نے کہا کہ ملک کی دفاعی افواج اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تکنیکی اور تزویراتی طور پر اپنے مخصوص راستے اختیار کریں گی ۔

    اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے اب تک دو سیٹلائٹ خلا میں بھیجے ہیں، دوسرا لانچ آئندہ برس مارچ میں ہوگا ایلیٹ فورسز کے ایرو اسپیس کے سربراہ امیرعلی حاجی زادہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی مارچ 2023 میں موجودہ ایرانی سال کے اختتام سے قبل ایک اور سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یوکرین کی برہمی پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار افسوس

    ایران کی وزارت دفاع نے جون کے آخر میں ایک سیٹلائٹ گاڑی کا تجربہ بھی کیا تھا جو اس کے بقول تحقیقی مقاصد کے لیے تھا ایران نے برقرار رکھا ہے کہ اس کا فوجی خلائی پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس سے دوسروں کو کوئی خطرہ نہیں، تاہم مغربی حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی جوہری وار ہیڈ لے جانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

    ایران نے مسلسل کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا، اور اپریل 2021 سے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جسے امریکا نے یکطرفہ طور پر 2018 میں ترک کر دیا تھا۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ ماہ تہران کا دورہ کیا تھا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی کیونکہ دونوں ممالک 20 سالہ تعاون کے معاہدے کی تجدید کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکہ کی تائیوان میں مداخلت:متعدد ایشیائی ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے

  • ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    ایٹمی بجلی گھر پر یوکرین کی گولہ باری کا نتیجہ خوفناک ثابت ہوسکتا ہے: روس

    ماسکو:روس نے کہا ہے کہ یوکرین زاپو روژیا ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کرکے یورپ کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخا رووا نے کہا ہے کہ کیف نہ صرف روسی عوام کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ خود یوکرین بھی اس کا ٹارگیٹ بن گیا ہے۔

    ملک بھر میں 9 محرم کے جلوس: موبائل سروس بند، سکیورٹی کے سخت انتظامات

    زاخارووا نے کہا کہ دراصل یوکرین کی قیادت نے پورے یورپ کو یرغمال بنایا ہے اور اپنے نسل پرستانہ نازی اہداف تک پہنچنے کے لئے اس ایٹمی بجلی گھر کو آگ لگانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین ان ری ایکٹروں اور ایٹمی ایندھن کے ذخیروں پر گولہ باری کر رہا ہے جہاں پر سرگرمیاں جاری ہیں۔

     

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے بھی زور دیکر کہا ہے کہ ماسکو کا ان ممالک سے جو یوکرین کی قیادت پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، مطالبہ ہے کہ کیف پر دباؤ ڈال کر ایسے واقعات کو روکنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے زاپوروژیا ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ کسی حادثے کی صورت میں یورپ کے وسیع حصے میں تباہی آسکتی ہے۔

    ویانا مذاکرات کامقصد ایران کےساتھ معاہدے کوبحال کرنا اور پابندیاں ہٹانا ہے:روس

    دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترس نے یوکرین کے ایٹمی بجلی گھر پر گولہ باری کو خودکشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کی طوالت کی جانب سے بھی پریشانی ظاہر کی ہے۔

  • یوکرین کی برہمی پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار افسوس

    یوکرین کی برہمی پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار افسوس

    لندن : ایمنسٹی انٹر نیشنل نے یوکرینی فوج کی جانب سے غیر فوجیوں کو انسانی ڈھال بنانے پر مبنی اپنی رپورٹ پر یوکرین کے رد عمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا ہے کہ اسے یوکرینی فوج کی جانب سے غیر فوجیوں کو انسانی ڈھال بنانے پر مبنی اپنی رپورٹ پر یوکرین کے رد عمل پر گہرا افسوس ہے۔

    یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے اختیار کی جانے والی جنگی حکمت عملی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور عام شہریوں کے لئے نہایت خطرناک ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ میں آیا ہے کہ یوکرینی فوجی، رہائشی علاق

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہونے اور عام شہریوں کے لئے نہایت خطرناک ہونے کی دستاویزات بھی موجود ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے ایمنسٹی انٹر نیشنل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حکومت روس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب فنلینڈ کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ سے یورپ کو اقتصادی جمود کا سامنا کرنا پڑے گا۔تاس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فنلینڈ کے صدر ساؤلی نینیستو نے اتوار کی رات کہا کہ فنلینڈ کے عوام اور یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس صورت حال میں معاشی ترقی نہیں ہو گی اور اس سے یورپ کے اتحاد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    انھوں نے کہا کہ ترقی کا اچانک رک جانا بہت سے مسائل و مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ابھی سے یوکرین کے جنگ کے منفی نتائج پر توجہ دی جائے اس لئے کہ روس اور یورپ کے تعلقات اور خاص طور سے روس اور فنلینڈ کے تعلقات کا دارومدار یوکرین جنگ کے نتائج پر ہے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    یورپی یونین نے جنگ یوکرین کی بنا پر روس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی غرض سے‎ امریکہ کے ساتھ مل کر شدید ترین پابندیاں عائد کی ہیں جس کے جواب میں روس نے بھی کچھ اقدامات کئے ہیں جن میں یورپ کے لئے گیس کی سپلائی روک دینا بھی شامل ہے۔ روس کی اس پابندی سے یورپ میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور گیس کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے جبکہ تیل کی قیمت بھی دوگنا ہو گئی ہے جس سے یورپی عوام کے لئے اخراجات پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ یورپی ملکوں میں معاشی بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چنانچہ مغرب کو اس وقت ایک المناک اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے جس سے نمٹنا پورے یورپ کے لئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

  • ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

    کیف:ایٹمی جنگ کےبادل منڈلا رہے ہیں،کسی بھی وقت کُچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کئی عشروں کے بعد ایٹی جنگ کا خطرہ پھر منڈلا رہا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملکوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جنگ میں پہل نہ کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کرتے رہیں۔

    رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھنے پر سخت خبردار کیا ہے۔

    انھوں نے یوکرین میں زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے کے بارے میں جو یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر شمار ہوتا ہے، ایک نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایٹمی بجلی گھر پر حملہ خودکشی کے مترادف ہے۔

    دریں اثنا روس نے یوکرین میں اس ملک کی فوج کی جانب سے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے پر ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے دفاعی اور کمزور ردعمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

    امریکہ میں روس کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ کیف کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کرے اور ایٹمی بجلی گھر پر یوکرینی فوج کے حملے کے اثرات روکنے کے لئے فوری طور پر موثر اقدامات عمل میں لائیں۔

    روس کے سفارت خانے کے بیان میں امریکی نامہ نگاروں اور صحافیوں س

    یوکرین کا روس پر ایک بار پھر جوہری پلانٹ پر گولہ باری کا الزام

    ے بھی مطالبہ ہوا ہے کہ وہ جعلی خبروں سے روس سے ہراساں کرانے کی کوششوں سے باز آجائیں۔

    ژاپروژیا علاقے کے سربراہ یوگنی بالیتسکی نے بھی کہا ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی یوکرین میں اس ملک کی فوج کی جانب سے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر پر حملے سے مکمل طور پر باخبر ہے مگر اس نے اس قسم کے حملے اور اس کے نتائج کو روکنے کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

    امریکہ میں روس کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اس ایٹمی بجلی گھر پر حملے کے تعلق سے روس کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔

    خطے میں روسی غلبہ ختم کرنے کیلئےامریکی وزیر خارجہ کا تین مُلکی دورہ

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی وزارت دفاع نے زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر کے اطراف میں یوکرینی فوج کی گولہ باری کو عالمی قوانین اور ضابطوں کے تحت ایک دہشت گردانہ اقدام قرار دیا ہے۔

    ہنگری کےجنرل رومولس روسزین کی جنرل ندیم رضا سے اہم ملاقات

    روس کے نیشنل ڈیفنس کنٹرول سینٹر کے سربراہ میخائل میزنتسوف نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ زاپوریژیا ایٹمی بجلی گھر میں رونما ہونے والا کوئی بھی حادثہ ،چرنوبل اور فوکو شیما کے واقعات سے زیادہ خطرناک نتائج پر منتج ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی حادثے کے نتائج پورے یوکرین، دونیسک اورلوہانسک کے علاوہ روس، بیلاروس، مولداویہ، بلغاریہ اور رومانیہ کو بھی تابکاری اثرات کی لپیٹ میں لے لیں گے۔

  • یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    ماسکو:روس نے یوکرین میں فضائی حملوں کے دوران درجنوں غیرملکی جنگجوؤں اور یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع کے مطابق، جنوب مشرقی یوکرین میں فضائی حملوں میں 80 سے زائد غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے۔ روسی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ بہت سے غیرملکی جنگجو نامناسب تربیت اور جنگی تجربہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    اپریل میں روسی فوج نے اندازہ لگایا تھا کہ یوکرین میں 7000غیرملکی فوجی موجود ہیں تاہم اب ان کی تعداد 3000 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

    ادھر روس اور یوکرین کی جنگ کے تناظر میں ترک صدر طیب اردوغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع روس کے سیاحتی شہر سوچی میں ہوئی۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    موصولہ رپورٹ کے مطابق، روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اورعالمی چیلنجز کے باوجود باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے سمیت اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور شام میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    خیال رہے کہ ترکی کی ثالثی میں گزشتہ ماہ استنبول میں یوکرین، روس اور اقوام متحدہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئی تھی۔

  • روسی ہائپر سونک ماہرغداری کے شبہ میں گرفتار

    روسی ہائپر سونک ماہرغداری کے شبہ میں گرفتار

    ماسکو: روسی ہائپر سونک ماہر کو غداری کے شبہ میں جمعہ کے روزگرفتار کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ڈاکٹر الیگزینڈر شپلیوک نووسیبرسک انسٹی ٹیوٹ آف تھیوریٹیکل اینڈ اپلائیڈ میکینکس میں ہائپرسونک لیبارٹری کے سربراہ ہیں۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آندرے شپلیوک گزشتہ سالوں کے دوران ہائپرسونک میزائل سسٹم کی ترقی میں معاونت کے لیے تفصیلی تحقیق کر چکے ہیں۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی نے اسی حوالے سے ٹی اے ایس ایس کے توسط سے بتایا ہے کہ شپلیوک کے ساتھیوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ میں تلاشی کے دوران انہیں حراست میں لیا گیا۔

    روسی اکیڈمی آف سائنسز کی سائبیرین برانچ کے انسٹی ٹیوٹ آف تھیوریٹیکل اینڈ اپلائیڈ میکینکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر الیگزینڈر شپلیوک اس موسم گرما میں تیسرے روسی سائنسدان ہیں جنہیں غداری کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    انسٹی ٹیوٹ کے سائنسی ڈائریکٹر واسیلی فومین نے روسی خبر رساں ایجنسی TASS کو بتایا کہ شپلیوک کو ماسکو میں لیفورٹووو پری ٹرائل حراستی مرکز بھیج دیا گیا تھا۔

    امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    ان کی حراست 27 جون کو انسٹی ٹیوٹ کے چیف محقق اناتولی مسلوف کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے، جن پر ہائپرسونک میزائلوں سے متعلق ریاستی خفیہ ڈیٹا کی منتقلی کا شبہ ہے۔

    انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ کے مطابق، شپلیوک ایک ٹیکنالوجی لیب کا سربراہ ہے جس میں منفرد ونڈ ٹنلز ہیں جو ہائپرسونک حالات کی تقلید کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    اس سے قبل 30 جون کو، نووسیبرسک کی سوویتسکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک اور سائنسدان، دامتری کولکر کو بھی شبے میں گرفتار کیا، جو روسی اکیڈمی آف سائنسز کی سائبیرین برانچ کے انسٹی ٹیوٹ آف لیزر فزکس کے محقق تھےکولکر کو چین کی سیکیورٹی سروسز کے ساتھ مبینہ طور پر تعاون کرنے کے الزام میں ریاستی غداری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

    تھائی لینڈ کے ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی،13 افراد ہلاک ،41 زخمی

    کولکر، جسے لبلبے کے اسٹیج فور کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، پری ٹرائل حراستی مرکز سے منتقل کیے جانے کے دوران انتقال کر گئے۔

    روس، چین اور امریکہ کی فوجی طاقتیں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل (HGV) ہتھیار تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں یہ انتہائی قابل تدبیر ہتھیار ہیں جو نظریاتی طور پر ہائپرسونک رفتار سے اڑ سکتے ہیں جبکہ ریڈار کا پتہ لگانے اور میزائل کے دفاع کے ارد گرد پرواز کرنے کے لیے کورس اور اونچائی کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیاروں کا دفاع کرنا ناقابل یقین حد تک مشکل ہےروس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے ہتھیاروں میں HGV ہے، Avangard سسٹم، جس کے بارے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 2018 میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ مغربی فضائی دفاع کے لیے "عملی طور پر ناقابل تسخیر” ہے۔

    واضح رہے کہ نووسیبرسک میں مقیم ایک اور طبیعیات دان دمتری کولکر کو بھی غداری کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن پھر وہ کے کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

    تائیوان کا دورہ، چین نے نینسی پلوسی پر پابندیاں عائد کردیں