Baaghi TV

Tag: روس

  • کیف کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں:روس کا پیغام

    کیف کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں:روس کا پیغام

    ماسکو: روسی ایوان صدر قصر کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ نہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور نہ ہی وزیر خارجہ ، کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ یوکرین سے مذاکرات کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔

    انھوں نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات بے معنی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ماسکو اور کیف کے درمیان بیلا روس میں ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے دور میں بھی یہ بات عیاں تھی کی یوکرین مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

    اس سے پہلے روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے اپنے حالیہ دورہ تہران میں کہا ہے کہ کیف کے حکام نے دو طرفہ سمجھوتوں پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات اس وقت نتیجہ بخش ہوتے ہیں جب دونوں فریقوں میں سمجھوتوں کی پابندی کا ارادہ پایا جائے اور کیف کے حکام میں یہ ارادہ نظر نہیں آتا۔

    روسی وزیر خارجہ نے امریکا اور برطانیہ پر روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑی جنگ شروع کرانے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے رشا ٹوڈے اور اسپوٹنک نیوز ایجنسی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا اور برطانیہ یوکرین جنگ کو روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑی جنگ میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ امریکی اور برطانوی حکام ، جرمنی ، پولینڈ اور بالٹک ریجن کے بعض عناصرکی حمایت کرکے پوری کوشش کررہےہیں کہ یہ جنگ روس اور یورپ کے درمیان ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوجائے ۔

    روس یوکرین کےمفتوحہ علاقوں کوروس کا حصہ بنانےکا فیصلہ کرچکاجونامنظورہے:امریکہ

    روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی حکومتیں یوکرین کو امن و آشتی کے ہر تعمیری اقدام سے دور رکھتی ہیں اور یوکرین ان سے صرف اسلحے لے رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یوکرین خطرناک انداز میں ان ہتھیاروں سے کام لینے پر مجبور ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے اسی کے ساتھ یوکرین کو دور مار اسلحے دیئے جانے کی بابت مغربی حکومتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنگ کا دائرہ وسیع تر ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اب ماسکو کے اہداف صرف دونباس تک محدود نہیں رہیں گے۔

    روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی حکومتوں کی جانب سے یوکرین کو دور تک مارکرنے والے ہتھیاروں کی سپلائی کے بعد ماسکو کی حکمت عملی بدل گئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ روس کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے یوکرینی افواج کو اگلے مورچوں سے پیچھے ہٹانا ضروری ہوگیا ہے۔

    روسی حکام مغربی حکومتوں کو بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ یوکرین کو دور مار میزائل سسٹم دیئے گئے تو روسی افواج ان اہداف کو نشانہ بنائیں گی جنہیں اب تک نظرانداز کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی وزیر جنگ لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کو روسی فوجیوں سے جنگ کے لئے مزید جدید قسم کے چار ہیمرراکٹ سسٹم دیئے جائیں گے۔ یوکرین کو مزید جدید قسم کے چار ہیمرراکٹ سسٹم ملنے کے بعد اس کو ملنے والے ہیمرراکٹ سسٹموں کی تعداد سولہ ہوجائے گی۔

    روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے حال ہی میں یوکرین کےلئے مزید چار سو ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امریکا سے یوکرین کو ملنے والی امداد کی سطح سات اعشاریہ تین دو ارب ڈالر ہوگئی ہے۔

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    مغرب سے یوکرین کی طرف اسلحے کی ترسیل کا سیلاب ایسی حالت میں جاری ہے کہ یوکرین کے وزیراعظم نے روس سے جنگ سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ سات سو پچارس ارب ڈالر لگایا ہے۔

  • امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    تہران :امریکہ کوہرحال میں مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلنا ہوگا:آستانہ اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مشرقی فرات کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کو ہر حال میں اس علاقے سے نکلنا ہوگا۔

     

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن

    تہران میں آستانہ سربراہی کانفرنس کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی نے ان مذاکرات میں روس اور ترکی کے صدور کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نشست کے دوران شام کی موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار اعلی پر زور دیا گیا۔

    صدر ایران نے مزید کہا کہ شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں امریکہ کی موجودگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اورامریکی افواج کو ہر حال میں ان علاقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے شام کے تمام علاقوں پر اس ملک کی مرکزی حکومت کے اقتدار اعلی پر زور دیا۔

    ایرانی اور روسی صدر سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ آستانہ سربراہی اجلاس کے شرکا کی اس نشست میں دہشت گردی کے مقابلے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس موقع پر آستانہ مذاکرات کے سربراہوں کی ملاقات اور بات چیت کو شام کے مسئلہ کے حل کے لئے انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔ پوتین نے اس نشست کے اختتامی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے شام کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مستحکم تعاون پر زور دیا ہے اور اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔

    پوتین نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ایرانی اور ترک حلیفوں سمیت شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے

    پاکستان، ترکی ،آذربائیجان میں سہ فریقی ملاقات :آج اہم فیصلے متوقع

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی آستانہ نشست کے شرکا کے درمیان تعاون جاری رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

  • روس یوکرین کےمفتوحہ علاقوں کوروس کا حصہ بنانےکا فیصلہ کرچکاجونامنظورہے:امریکہ

    روس یوکرین کےمفتوحہ علاقوں کوروس کا حصہ بنانےکا فیصلہ کرچکاجونامنظورہے:امریکہ

    واشنگٹن :روس یوکرین کے مفتوحہ علاقوں کوروس کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرچکاجونامنظورہے،اطلاعات کےمطابق امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے کوآرڈینیٹر برائے سٹریٹجک کمیونیکیشن جان کربی نے منگل کو کہا کہ روس یوکرین کے اپنے زیر کنٹرول مفتوحہ علاقوں کو "الحاق” کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    جان کربی نے منگل کو وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ روس "اس کا ایک ورژن تیار کرنے کے درپے ہے جسے آپ الحاق پلے بک کہہ سکتے ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ یہ 2014 میں پیش آنے والے واقعات سے "مماثل” ہے، جب کریمیا کا دوبارہ اتحاد ہوا۔

    روس ، یوکرین تنازعہ:جنگ عظیم دوم کے پہلی مرتبہ جرمنی کا تجارتی خسارہ 3کھرب روپے تک…

    جان کربی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "ہمارے پاس آج ایسی معلومات موجود ہیں جن میں درج ذیل انٹیلی جنس بھی شامل ہے جو ہم آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے قابل ہیں کہ روس یوکرین کی سرزمین کو ضم کرنے کی بنیاد ڈال رہا ہے جسے وہ یوکرین کی خودمختاری کی براہ راست خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے

    جان کربی نے مزید کہا کہ "ہم کافی شواہد اور انٹیلی جنس اور عوامی ڈومین میں دیکھ رہے ہیں کہ روس یوکرین کے اضافی علاقے کو ضم کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔”

    کربی نے مزید الزام لگایا کہ روس کھیرسن، زپوریزہیا کے ساتھ ساتھ لوگانسک اور ڈونیٹسک کے تمام علاقوں کو ضم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے ان الزامات کو دہرایا کہ ماسکو کا یوکرین میں "غیر قانونی پراکسی شروع کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے

    "روس ان علاقوں میں روبل کو ڈیفالٹ کرنسی کے طور پر قائم کرنے کے لیے روسی بینکوں کی شاخیں قائم کرنے اور شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو سبوتاژ کرنے کے ذریعے حالات کو زمین پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے،” جان کربی کہتے ہیں کہ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ روسی حکام ان علاقوں کے رہنے والے لوگوں کومجبور کررہی ہیں کہ وہ روس کے ساتھ شامل ہونے کی درخواست دیں تاکہ اسے قانونی شکل دی جائے سکے

    نووا کاخوو پریوکرین کی شیلنگ،بڑی تعداد میں شہری جابحق،درجنوں زخمی

    واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے۔ اس سے قبل روسی وزارت خارجہ نے یوکرین میں کٹھ پتلی حکومت کے قیام کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ مغربی ممالک خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    تازہ ترین ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب کربی نے یہ بھی تفصیل سے بتایا کہ جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو ایک اور فوجی امدادی پیکج جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے – جس میں اضافی ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم اور متعدد لانچ راکٹ سسٹم کے لیے گولہ بارود شامل ہوگا۔

  • روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    روس دنیاکوتیل بیچے:ایسا نہیں ہونے دیں‌گے:امریکہ

    واشنگٹن:امریکہ اب روس کومعاشی طورپرابھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ روسی تیل کی برآمدات روکنے کی پوری کوشش کرے گا

    وائٹ ہاؤس نے روس پر تیل و گیس کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ سعودی عرب کے فیصلے سے اوپک پلس تیل کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پیئر نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ، سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھائے اور عالمی منڈیوں میں روس کا متبادل بنے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن روسی تیل کی برآمدات روکے جانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ روس نے توانائی کے شعبے میں تیل و گیس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کی بنا پر ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ترجمان کے بقول روس، یورپ کے لئے گیس کی برآمدات منقطع کر سکتا ہے اور امریکہ اس بات کی طرف متوجہ ہے اس لئے متبادل تلاش کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پرجاری کئے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، سعودی عرب کی فوجی حمایت کرتا ہے اور اس ملک کو بھی چاہئے کہ تیل کی منڈیوں میں توازن کا تحفظ کرے ۔

  • یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا

    برسلز:یورپ نے روس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ادارے کے سربراہ نے اپنے روس مخالف رویے کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے پابندیوں کو بائی پاس کرنے کو روکنے کی کوشش جاری رہے گی۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے دعوی کیا ہے کہ ماسکو پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کو بے اثر بنانے والے راستوں کو بند کرنے کے لئے برسلز ایک نئے منصوبے کی پلاننگ کرچکا ہے۔

    پیر کی شام یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے کونسل کی نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ان راستوں کو بند اور اس خلا کو پر کیا جائے گا جس کو استعمال کرکے روس پابندیوں کو بائی پاس کر رہا ہے۔ اس موقع پر جوزف بورل نے یوکرین کو پچاس کروڑ یورو پر مشتمل فوجی امداد کا عندیہ بھی دیا۔انہوں نے یورپ میں گیس کے بحران پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے اس موضوع کو یورپی حکام کے لئے سب سے زیادہ تشویش کا باعث قرار دیا۔

    قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل یورپی کونسل کے سربراہ چارلز میشل نے بھی جنگ کے بہانے یوکرین کو مزید فوجی امداد فراہم کرنے کی بات کی تھی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کی جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے جس کے تمام سیاسی، فوجی، معاشی، سماجی حتی کہ ثقافتی اثرات کے باوجود، مغربی ممالک نے اس ملک کی جانب ہتھیاروں کے بہاؤ کو کم کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی کے بعد، امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف مغربی ممالک نے ایک جانب کھل کر کیف کی حمایت کی تو دوسری جانب ماسکو پر شدید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تیل اور گیس سمیت روس کے مختلف اقتصادی شعبوں پر عائد پابندیوں کے بعد، مغربی ممالک کو اس بات کی بھی تشویش لاحق ہے کہ یورپ سمیت عالمی توانائی کی منڈیاں مزید عدم توازن کا شکار نہ ہوجائیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برسلز کی روس مخالف پالیسیوں نے یورپی ممالک کے اندرونی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی ایوان صدر کریملن نے بارہا اعلان کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نے اس بحران کو مزید پیچیدہ اور اس کے انجام کو نامعلوم بنا دیا ہے۔

  • سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:   طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    تہران : سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال،اطلاعات کے مطابق آج ایران کی سرزمین پرسہ فریقی سربراہی اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے اور اس سلسلے میں طیب اردوان اور روسی صدر ایرانی قیادت کے ساتھ صلاح مشورے کریں‌گے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک شام سے متعلق آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس آج ایران، روس اور ترکی کے سربراہوں کی شرکت سے تہران میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان گزشتہ شب تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ روسی صدر ولادمیر پوتین تہران پہنچنے کو ہیں۔

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌

    اجلاس کی سائیڈ لائن میں ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت ایک دوسرے سے علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ترکی کے صدر کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی وفد میں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، انٹیلینجس کے سربراہ، صدارتی دفتر کے سربراہ، صدارتی دفتر کے ترجمان، وزیر توانائی اور وزیر تجارت شامل ہیں۔

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ دار

    گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اجلاس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام میں لڑائی والے علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور شام میں استحکام کے تحفظ کے مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شام اور ترکی کے مابین نئے سیکورٹی بحران کو حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں تیس کلو میٹر اندر تک فوجی کاروائی کرنے کی بات کرتا ہے اور ایران اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور ترکی کے تعاون اور شام میں قیام امن کی غرض سے آستانہ مذاکرات دو ہزار سترہ میں ایران کی کوششوں سے شروع ہوئے ہیں۔

  • سعودی عرب نے روس کیساتھ تیل کی درآمد دگنی کردی

    سعودی عرب نے روس کیساتھ تیل کی درآمد دگنی کردی

    ریاض: تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب نے روس کے ساتھ تیل کی درآمد دگنی کر دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب روسی تیل سے ملکی پاور پلانٹ چلانے لگا ہے۔ روس نے اس سعودی تعاون کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ترجمان کریملن ڈمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے امریکی صدر جوبائیڈن سعودی عرب کو روس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب نے بجلی کی پیداوار کے لیے دوسری سہ ماہی میں روسی ایندھن کے تیل کی درآمد کو دوگنا کر دیا ہے۔

    روس سے تیل کی درآمد کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جوبائیڈن مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی ہے۔

    امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق

    یاد رہے کہ ایک طرف سعودی عرب روس سے تیل کے حوالے سے بہت بڑا معاہدہ کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ سے بھی ایک معاہدہ کیا ہے ، جس کے مطابق امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

    امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب پہنچ گئے: شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

  • سعودیہ اسرائیل تنازع ختم، امریکا کا 2 جزائر سے فوج بلانے کا اعلان

    سعودیہ اسرائیل تنازع ختم، امریکا کا 2 جزائر سے فوج بلانے کا اعلان

    ریاض :امریکا نے سعودی عرب، مصر اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی وجہ بننے والے جزائر تیران اور صنافیر سے امن افواج واپس بلالیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحیرہ احمر میں واقع خصوصی اہمیت کے حامل جزائر تیران اور صنافیر پر نصف صدی سے سعودی عرب اور مصر کے درمیان ملکیت کا تنازع ہے۔ بعد ازاں اسرائیل بھی اس میں پارٹی بن گیا تھا۔ مصر نے دونوں جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن اسرائیل نے یہ جزائر سعودی عرب کو دینے کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی تاہم امریکی ثالثی کے باعث اسرائیل نے جزائر سعودی عرب کو واپس کرنے سے متعلق اعتراض واپس لے لیا۔

    جزائر کی سعودی عرب کو واپسی اسرائیل اور سعودیہ کے درمیان تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر مشرق وسطی کا 4 روزہ دورے میں اسرائیل، فلسطین اور سعودی عرب پہنچے اور سربراہان مملکت سے ملاقات کیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی پروازوں پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں اور جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے بحال ہوجائیں گے۔

    امریکا اور سعودی عرب کا تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے مشترکہ کوششوں پراتفاق،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکی صدر سعودی عرب کے دورے پر ہیں اور خطے کے سیکورٹی کے معاملات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی لین دین اورعالمی تجارتی معاہدوں کی توثیق کررہے ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کی جانب سے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    امریکی اور سعودی حکام اس معاملے کو بڑی اہمیت دے رہیں اس حوالے سے مزید پیش رفت بھی سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکا سعودی عرب کو دفاع کے لیے فوجی سازوسامان مہیا کرے گا اور خطے میں ایران کی مداخلت روکنے اور ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول سے روکنے کے لیے دونوں ملکوں کی جانب سے مل کر کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے، توانائی، سکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلیوں، انسانی بحران اور عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کا عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے مل کر کوششیں کرنے پربھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کی درمیان سیاحتی اور تجارتی ویزوں میں دس سال کی توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن بطور صدر مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر تھے اور اس دوران وہ اسرائیل بھی گئے تھے۔امریکی صدر بائیڈن مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوگئے ہیں، بائیڈن نے چار روز مشرق وسطیٰ میں گزارے۔

  • کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا

    برلن :کورونا کے بعد یوکرین روس تنازعہ:جرمنی معاشی بدحالی کا شکارہوگیا،اطلاعات کے مطابق جرمن میڈیا گروپ (RND) نے جمعہ کو اگلے سال کے بجٹ سے متعلق ملکی وزارت خزانہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2023 میں حکومتی قرضوں کی فراہمی پر جرمنی کو اس وقت لگ بھگ دوگنا لاگت آئے گی جو اس وقت بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے خرچ کرتا ہے۔

     

     

     

    آراین ڈی میڈیا گروپ کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں کی افراط زر کی پیشن گوئیوں میں غلط حساب کتاب کی وجہ سے، جرمنی کی اس کے عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی 16 بلین یورو ($16.09 بلین) سے بڑھ کر اگلے سال تقریباً 30 بلین یورو ہو جائے گی،

     

     

     

    نیوزآؤٹ لیٹ میں کہا گیا ہے کہ برلن نے افراط زر میں اضافے کے خطرے کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں اب اسے ان بانڈز کی کے ذریعے بہت زیادہ رقم فراہم کرنے کی ضرورت کا سامنا ہے۔

     

     

    "2023 کے بجٹ کے مسودے کی دستاویزات کے مطابق، آنے والے سال میں افراط زر سے منسلک بانڈز کی ادائیگی کے لیے تقریباً 7.6 بلین یورو مختص کیے جائیں گے۔ یہ اس سال کے مقابلے میں €3 بلین یورو زیادہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 7 بلین یورو زیادہ ہے،

     

     

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جن بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا فنڈز نے جرمن حکومت کو قرضے فراہم کیے ہیں، بنیادی طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھائیں گے، کیونکہ انہیں سود کی ادائیگی میں زیادہ رقم ملے گی۔ تاہم، جرمن ٹیکس دہندگان کے خوش ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کی رقم ہے جو سود کی ادائیگی پر خرچ کی جائے گی۔

     

     

     

    جرمن پارلیمان کے بائیں بازو کے دھڑے کے رہنما، ڈائٹمار بارٹش نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’قرض لیتے وقت افراطِ زر کی حد سے کم شرح پر شرط لگانا ایک غلطی تھی جو اب ٹیکس دہندگان کے لیے بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی قرضہ پالیسیوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

  • رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    پیرس:رات کولائٹیں بند کرکے سویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ رات کے وقت پبلک لائٹس بند کرنے کے لیے تیار رہیں،کیونکہ مُلک میں توانائی کا شدید بحران آچکا ہے

    فرانسیسی شہریوں کو اس توانائی بحران سے خبردار کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے اور مغربی ریاستوں کی پابندیوں کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    میکرون نے کہا کہ یوکرائن کی جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، فرانسیسیوں کو اپنے اخراجات کوکم سے کم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے

    فرانسیسی صدر نے جمعرات کو فرانس کی قومی تعطیل، باسٹیل ڈے کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ساتھ یہ جنگ جاری رہے گی جس کے مستقبل میں گھمبیراثرات مرتب ہوکررہیں گے

    عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ "روس توانائی کا استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ وہ خوراک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،” میکرون نے مزید کہا، "ہمیں خود کو اس منظر نامے کے لیے تیار کرنا چاہیے جہاں ہمیں روسی گیس کے بغیر جانا ہے۔”

    دوسری طرف کریملن نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو گیس یا تیل کو "سیاسی دباؤ کے ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ حکومت توانائی کے تحفظ کے لیے ایک "سوبریٹی پلان” تیار کرے گی، جس کا آغاز رات کے وقت پبلک لائٹس کو بند کرنے سے ہو گا

    صدر نے کہا کہ فرانس گیس کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے کوشاں رہے گا، موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے آف شور ونڈ فارمز کی طرف تیزی سے تبدیلی اور یورپی سرحد پار توانائی کے تعاون پر زور دیا۔

    میکرون کے انتہائی دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی مخالفین نے یورپی یونین کی پابندیوں کو فرانسیسی صارفین کی قوت خرید کو کم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ، اس موقع پر فرانس کے صدر نے انٹرویو کے دوران یوکرین کی طرف پالیسی میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    میکرون نے کہا کہ ہم شام کی جنگ بھی جیت نہ پائے اب یوکرین کا محاذ کھل گیا ہے، آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے آثار بہت کم دکھائی دیتے ہیں ، اس لیے احتیاطی تدابیرلازم ہیں‌