Baaghi TV

Tag: روس

  • 82 ملین ٹن تیل:روس کی موجیں ہوگئیں

    82 ملین ٹن تیل:روس کی موجیں ہوگئیں

    ماسکو : 82 ملین ٹن تیل:روس کی موجیں ہوگئیں ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے تنازعے کی وجہ سے عالمی توانائی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے تو دوسری طرف یوکرین اور روس کے درمیان گزشتہ 5 ماہ سے جاری جنگ کے بعد دونوں ممالک کو کافی حد تک مالی نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے، تاہم اب روس کو ایک تیل کمپنی نے خوشخبری سنادی۔

    روس کا ایک اوریوکرینی شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    روس کی توانائی کی بڑی کمپنی روزنیفٹ نے بحیرہ پیچورا میں تیل کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے جس میں 82 ملین ٹن تیل موجود ہے۔تیل کے یہ ذخائر میڈینسکواور وارانڈیسکی کے علاقے میں کھدائی کی مہم کیے دوران دریافت ہوئے ہیں۔ تجربات کے دوران تیل کا تیز ترین بہاؤ 220 کیوبک میٹر ایک دن کی زیادہ سے زیادہ بہاؤ کی شرح کے ساتھ حاصل کیا گیا۔

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    کمپنی کے جاری کردہ بیان بتایا گیا ہے کہ تیل ہلکا، کم سلفر، کم وسکوسیٹی پر مشتمل ہے، روزنیفٹ نے مزید بتایا کیا کہ بحیرہ پیچورا کے پانیوں میں تلاش کے کاموں نے شیلف پر تیمن، پیکورا صوبے میں تیل کی موجودگی کو ثابت کیا اور یہ اس علاقے کی تحقیق اور ترقی کو جاری رکھنے کی بنیادی وجہ بن گئی ہے۔

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    دوسری جانب پاکستان نے کہا ہے کہ روسی خام تیل ملک کو مہنگا پڑے گا، روس سے خام تیل خریدنے میں ٹرانسپورٹ اخراجات زیادہ آئیں گے۔پیٹرولیم ڈویژن ذرائع کے مطابق روسی خام تیل کو پاکستان میں ریفائن کرنا فلحال کوئی مسئلہ نہیں لیکن روس سے خام تیل کی درآمد میں ایک ماہ لگ سکتا۔اس لئے یہ بات عملی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا روس سے خام تیل خریدا بھی جاسکتا ہے یا نہیں کیا اس بات کا کوئی امکان موجود ہے۔

  • گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    گندم کاعالمی بحران خطرناک صورتحال اختیارکرگیا،چند ممالک میں بھوک بڑھنےکاخدشہ

    ماسکو: گندم کی عالمی مارکیٹ متاثر، چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ ،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی عالمی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ روس اور یوکرین کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا گندم برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ گندم مصر، انڈونیشیا، نائیجیریا اور ترکی درآمد کرتے ہیں۔ آخر گندم کا کوئی متبادل کوئی کیوں نہیں ہے؟ گندم کو ہی چکی میں پیس کر آٹا و معدہ تیار کیا جاتا ہے جو پھر ڈبل روٹی، نوڈلز اور مختلف قسم کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے جس میں طرح طرح کے میٹھے بھی شامل ہیں۔

    معاشی ماہر اور ’فیڈنگ ہیومینٹی‘ نامی کتاب کے مصنف برونو پرمینٹیئر کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی گندم کھاتا ہے لیکن ہر کوئی گندم پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘ دنیا بھر میں صرف چند ایسے ممالک ہیں جو اتنی مقدار میں گندم پیدا کرتے ہیں کہ خود بھی استعمال کریں اور باقی برآمد کر دیں۔

    چین جبکہ گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اپنی ایک کروڑ 40 ارب کی آبادی کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ گندم درآمد بھی کرنا پڑتی ہے۔ دیکھا جائے تو اناج کی قیمت روس کے یوکرین پر فروری میں حملہ کرنے سے پہلے بھی زیادہ تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کورونا میں کمی کے بعد جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوا اور معیشیت بحال ہونا شروع ہوئی تو ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوا جس کے بعد نائٹروجن سے بننے والی کھاد کی قیمت بھی بڑھ گئی

  • روس کا ایک اوریوکرینی شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    روس کا ایک اوریوکرینی شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ

    روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرینی شہر لیسیچنسک اور فرنٹ لائن ریجن لوہانسک کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "الجزیرہ” کی رپورٹ کے مطابق روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی یوکرین کے صوبہ لوہانسک کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے بعد یوکرین کے آخری ہولڈ آؤٹ لائسیچنسک پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

    ملکہ برطانیہ کی بعض اہم ذمہ داریوں میں کمی کردی گئی

    یوکرین کے مشرقی علاقے لوہانسک میں لیسیچنسک آخری اہم شہر ہے جو ابھی تک یوکرین کے کنٹرول میں ہے روس کا دعویٰ درست ثابت ہونے پریہ روسی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی اور وہ یوکرین کے مشرقی حصے کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے قابل ہو سکیں گی یوکرینی دارالحکومت کیف سے واپس ہٹنے کے بعد سے روسی فورسز اس محاذ پر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں-

    روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو مطلع کیا کہ لوہانسک کو "آزاد” کر دیا گیا ہے، وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ یوکرائنیوں نے جنگی پروپیگنڈہ کے طور پر ایک اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے لیسیچنسک کے آس پاس کے دیہات پر قبضہ کر لیا ہے اور شہر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

    یوکرین کی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج لیسیچنسک سے واپس چلی گئی ہیں۔

    چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    اپنے رات کو اپنے ویڈیو خطاب میں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انخلاء کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ شہر کے لیے لڑائی اب بھی اس کے مضافات میں جاری ہےیوکرین کچھ بھی واپس نہیں کرے گا اور مزید جدید ہتھیاروں کے ساتھ شہر کو دوبارہ حاصل کرنے کا عہد کیا۔ دوسرے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے میں اپنی افواج کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے، اس نے وعدہ کیا کہ ایک دن آئے گا جب ہم ڈونباس کے بارے میں بھی یہی کہیں گے-

    اس سے قبل زیلینسکی نے کہا تھا کہ کیف کی افواج اب بھی لیسیچنسک کے مضافات میں روسی فوجیوں سے "بہت مشکل اور خطرناک صورتحال” میں لڑ رہی ہیں۔

    ہم آپ کو حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے۔ زیلنسکی نے کیف میں آسٹریلیا کے دورے پر آئے ہوئے وزیر اعظم کے ساتھ دی گئی ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ لیسیچنسک کے لیے ابھی بھی جنگ لڑی جا رہی ہے علاقہ تیزی سے ایک طرف سے دوسری طرف جا سکتا ہے۔

    یوکرائنی حکام نے اس سے قبل رہائشی علاقوں پر شدید توپ خانے کی اطلاع دی تھی۔

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    لوہانسک کے گورنر Serhiy Haidai نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ روسی لیسیچنسک کے علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں، شہر میں آگ لگی ہوئی ہے انہوں نے ناقابل بیان وحشیانہ حکمت عملی کے ساتھ شہر پر حملہ کیا۔

    دریں اثنا، انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار، جو واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک ہے، نے ایک بریفنگ نوٹ میں لکھا کہ یوکرین کی افواج نے ممکنہ طور پرلیسیچنسک سے جان بوجھ کر انخلاء کیا، جس کے نتیجے میں 2 جولائی کو روسیوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ یوکرین کے فوجی حکام نےعوامی طور پر فوجیوں کے انخلاء کا اعلان نہیں کیا لیکن نہ ہی انہوں نے لیسیچنسک کے ارد گرد دفاعی لڑائیوں کی اطلاع دی اس میں مزید کہا گیا کہ روس آنے والے دنوں میں ممکنہ طور پر لوہانسک اوبلاست کے باقی ماندہ علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر لے گا۔

    ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی بول اُٹھے

    یوکرین کے جنگجوؤں نے لیسیچنسک کا دفاع کرنے اور اسے روس کے گرنے سے روکنے کی کوشش میں ہفتے گزارے، جیسا کہ گزشتہ ہفتے پڑوسی ملک سیوروڈونٹسک نے کیا تھا۔ ایک صدارتی مشیر نے ہفتے کے روز دیر سے پیش گوئی کی تھی کہ شہر کی قسمت کا فیصلہ دنوں میں ہو سکتا ہے۔

    ایک دریا Lysychansk کو Severodonetsk سے الگ کرتا ہے۔ یوکرائنی صدر کے ایک مشیر اولیکسی آریسٹووچ نے ہفتے کے روز دیر گئے ایک آن لائن انٹرویو کےدوران کہا کہ روسی افواج پہلی بار شمال سےدریا کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں، جس سے ایک "خطر ناک” صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    آریسٹووچ نے اس وقت کہا تھا کہ روسی افواج شہر کے مرکز تک نہیں پہنچی ہیں لیکن لڑائی کے دوران یہ اشارہ ملتا ہے کہ لیسیچنسک کی لڑائی کا فیصلہ پیر تک کر لیا جائے گا۔

    روس کے 2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد سے روسی علیحدگی پسند ڈونباس کے علاقے میں یوکرین کی افواج سے لڑ رہے ہیں۔

    روسی حملے سے پہلے، علیحدگی پسندوں نے لوہانسک اور ڈونیٹسک دونوں حصوں میں نام نہاد عوامی جمہوریہ تشکیل دیے تھے، حالانکہ وہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہیں۔ 24 فروری کو یوکرین پر حملہ شروع کرنے سے کچھ دیر پہلے، پیوٹن نے دونوں خطوں کو یوکرین سے آزاد قرار دیا تھا-

    یوکرینی سرحد کے قریب روسی شہر میں متعدد دھماکے،3 افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور…

  • چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    چین کے خلاف نیٹو کا اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا، چینی وزارت خارجہ

    بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے یورپی ڈویژن کے ڈائریکٹر وانگ لو تھونگ نے جی سیون اور نیٹو سمٹ میں چین سے متعلقہ امور کے حوالے سے چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف نیٹو کا” اقتصادی ورژن بنانا بہت خطرناک ہوگا۔

    اتوار کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق ” دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو” سے مقابلہ کرنے کے لیے جی 7 کے پیش کردہ ” عالمی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ پارٹنرشپ” منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے منصوبے ایک دوسرے کے مقابل یا الگ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ہم آہنگ بنایا جانا چاہیے۔ چین کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو جغرافیائی سیاسی مفادات کے حصول کے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    وانگ لو تھونگ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں سننے میں آیا ہے کہ چین کے خلاف نیٹو کا ایک “اقتصادی ورژن” بنایا جائے گا ۔ یہ عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کو شدید نقصان پہنچائے گا، اور بہت خطرناک بھی ہو گا

    امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ تائیوان تنازعے سے متعلق امریکا نے چین پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، مستقبل میں چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ تائیوان پر چین کے فوری حملے کا تو کوئی امکان نہیں ہے لیکن امریکا نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

    جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ چین، تائیوان پر حملے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں چین کی جانب سے تائیوان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا تائیوان پر حملہ کرنا ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔

    خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک علیحدہ ریاست مانتا ہے اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔

    ادھرہانگ کانگ کے قریب سمندری طوفان چابا کی زد میں آکر ایک بحری جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے جس کے بعد سے عملے کے افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    یہ واقعہ 2 جولائی کو پیش آیا تھا اور ہانگ کانگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفانی لہروں کی وجہ سے عملے کے لاپتہ27 افراد کے بچنے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔

    سمندری طوفان کے دوران 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں اور طوفانی لہروں کے نتیجے میں فوجنگ 001 نامی جہاز کے 2 ٹکڑے ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد عملے کے 3 افراد کو بچا لیا گیا تھا مگر 27 افراد اب بھی گمشدہ ہیں۔

    ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے عملے کو بچانے کے لیے 4 طیارے، 6 ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جبکہ 36 رکنی ریسکیو ٹیم سرچ آپریشن پر کام کر رہی ہے۔حکام نے بتایا کہ ان 27 افراد کی زندگی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ وقت بہت زیادہ ہوچکا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں مگر خراب موسم کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہورہا ہے۔

  • نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    نظریہ ضرورت کی سیاست میں مسائل کیسے حل ہوں:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    ملک اور عوام ایک نئے ہیجان خیز دور سے لرزتے ہوئے گزر رہے ہیں جو کسی آنے والے مارشل لاء سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ عوام غربت کی انتہا پر ہیں۔ ہمارے سیاستدان ، اعلی عہدوں پر تعینات سول وفوجی افسران امارت اور خوشحالی انتہا پر ہیں۔ عوام کو آڈیو اور ویڈیو کے پیچھے لگا دیا ہے یہ آڈیو اور ویڈیو کی ریکارڈنگ کون کر تا ہے ؟ عوام کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے اس کی ذمہ داری کوئی نہیں لے رہا ۔

    عوام مہنگائی ،بے روزگارئی بدامنی سے ہلکان ہو رہے ہیں ۔ بجلی جیسی ہروقت کی ضرورت ختم ہو گئی چھوٹے بڑے کاروبار بجلی کے محتاج ہیں۔ جب سے جدید ٹیکنالوجی سوشل میڈیا نے ترقی کی ہے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ترقی کے نام پر وہ گُل کھلانے شروع کردئیے ہیں کہ اب ان کی انچ سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملکی قومی اداروں کو گلی کوچوں چوراہوں جلسے جلوسوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے نہ پاک فوج محفوظ نہ عدلیہ محفوظ نہ غیر جانبدار صحافی محفوظ۔ سیاسی معیار بدل گئے سیاست کے آداب بدل گئے۔ سیاستدان بدل گئے۔ پارلیمنٹ تو موجودہے ۔

    پارلیمنٹ کی بالادستی نہیں رہی ۔ ارکان اسمبلی عوام کے لئے قانون سازی نہیں کرتے ۔ اپنی مراعات اپنی تنخواہ اور اپنی ضروریات کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں موجود قد آور سیاستدانوں کا فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں ووٹ نواز شریرف کا ہے وہ پنجاب میں مقبول ترین ہیں لیکن لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف کی غیر ائینی سزائوں کے خلاف اپیل کب دائر ہوگی ؟ مریم نواز کو پاسپورٹ کب ملے گا؟ سینیٹر اسحاق ڈار وطن واپس کب آئیں گے؟ ان سوالوں کا جواب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے میرے جیسے عام آدمی کے پاس نہیں ؟ تاہم یہ بات طے ہے کہ نواز شریف ایک شریف نیک نیت انسان ہیں اور شرم وحیا والے انسان ہیں آج اگر مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں مقبولیت حاصل ہے تو وہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی وجہ سے ہے ۔

    سیاست آج کل نظریہ ضرورت کے تابع ہو چکی ہے جب تک نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوتا نہ جمہوریت مستحکم ہوگی نہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور نہ ہی ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ آج کے اقتدار اور سیاستدانوں کی اکثریت سرمائے کی تابع ہے اور یہی آج کل جمہوریت کا مسکن ہے آج کی نظریہ ضرورت کی سیاست میں عوام کے بنیادی مسائل حل ہوں تو کیسے ہوں ؟

  • روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    کیف: روس نے یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن نارڈ اسٹریم ون کو 10 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    روسی حکام کے مطابق نارڈ اسٹریم ون گیس پائپ لائن 11 جولائی سے 21 جولائی تک بند رہے گی، پائپ لائن کو مرمت کی غرض سے بند کیا جارہا ہے، تاہم گیس پائپ لائن بند ہونے سے یورپ میں گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    یورپ کو 60 فیصد گیس نارڈ اسٹریم پائپ لائن سے سپلائی کی جاتی ہے جو بند ہونے سے یورپ کو گیس کی سپلائی آدھی رہ جائے گی۔
    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ 2600 سے زیادہ شہر اور قصبے روس کے کنٹرول میں ہیں کیونکہ جنگ جاری ہے۔

    زیلنسکی نے کہا کہ یوکرائنی افواج نے 1,000 سے زیادہ شہروں اور قصبوں کو آزاد کرالیا ہے، لیکن انہیں اب بھی 2,610 کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات سے متاثر ہونے والے ان مقامات میں سے زیادہ تر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، اور ان میں سے سینکڑوں کو "روسی فوج نے مکمل طور پر تباہ کر دیا”۔

    "یقیناً، ہم نے پہلے ہی آزاد شدہ کمیونٹیز اور علاقوں میں اپنے طور پر معمول کی زندگی کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے،” زیلنسکی نے جاری رکھتے ہوئے کہا، "لیکن پورے ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر منصوبے کو نافذ کرنا، نئے حفاظتی معیارات اور زندگی کا ایک نیا معیار فراہم کرنا۔ بین الاقوامی صلاحیتوں کو راغب کرنے سے ہی ممکن ہے۔

    انہوں نے ایک کانفرنس میں کہا کہ یوکرین پیر کو سوئٹزرلینڈ کے ساتھ مشترکہ طور پر میزبانی کرے گا اور منگل کو یوکرین کی تعمیر نو کے لیے "ایک اہم قدم” ہوگا۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کہا کہ وہ یوکرین کی جنگ جیتنے میں "جتنا وقت لگے” اس کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔ اگلے دن، پینٹاگون نے یوکرین کے لیے 820 ملین ڈالر کی اضافی سیکیورٹی امداد کا اعلان کیا۔ سٹریٹیجک مشرقی صوبے لوہانسک میں یوکرین کے آخری گڑھ لیسی چانسک کے لیے لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتہ کو ماسکو کے حامی خود ساختہ لوہانسک ریپبلک کے سفیر روڈیون میروشنک نے روسی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’لیسی چانسک پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس کو آزاد نہیں کرایا جا سکا۔‘ روسی میڈیا پر لوہانسک کی ملیشیا کو لیسی چانسک کی سڑکوں پر پریڈ اور پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا تاہم یوکرین کے نیشنل گارڈ کے ترجمان رسلن موزیچک نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ شہر اب بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔

     

     

    لیسی چانسک کے قریب شدید لڑائیاں جاری ہیں۔ خوش قسمتی سے شہر کا محاصرہ نہیں ہوا اور یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ لیسی چانسک، بخموت اور خارکیو میں سب سے زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ بحیرہ اسود کے قریبی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ جنوبی علاقے میکولیئو کے میئر نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ دھماکوں کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ اس نے فوج کی کمانڈ پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ ’روس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے راستہ مشکل ہو گا لیکن عوام اپنے عزم کو برقرار رکھیں اور دشمن کو نقصان پہنچائیں تاکہ ہر روسی کو یہ یاد ہو یوکرین کو توڑا نہیں جا سکتا۔‘

     

     

    کیئف نے کہا ہے کہ ماسکو نے مرکزی میدان جنگ سے دور شہروں میں میزائل حملے تیز کر دیے ہیں اور جان بوجھ کر شہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ 24 فروری کو روسی حملے کے بعد ہزاروں یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد شہر بھی تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

     

     

    کریملن کے ترجمان دمتری پاسکوف نے روس کے اس موقف کو دہرایا کہ اس نے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ گزشتہ ماہ شدید لڑائی کے بعد روسی فوجیوں نے لیسی چانسک کے قریبی شہر سیوروڈونیسک پر قبضہ کیا تھا۔ یوکرین نے مغرب سے مزید ہتھیاروں کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوج کو روسی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے شکست دی ہے۔

  • یوکرینی سرحد کے قریب روسی شہر میں متعدد دھماکے،3 افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور 39 گھر تباہ

    یوکرینی سرحد کے قریب روسی شہر میں متعدد دھماکے،3 افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور 39 گھر تباہ

    یوکرین کی سرحد کے قریب روسی شہر بلگورود میں متعدد دھماکوں میں افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور 39 گھر تباہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی :خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب روسی شہر بلگورود میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات ہیں یلگورود ریجن کے گورنر ویاچیسلوف گلادکوف کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں 3 افراد ہلاک، 11 رہائشی عمارتیں اور 39 گھر تباہ ہو گئے جن میں سے 5 مکمل طور پر تباہ ہوگئے 2 گھروں میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

    روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھراقوام متحدہ میں کوئی بھی رہ سکے گا:روس کا انتباہ

    ریسکیو ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ گھروں کو خالی کرالیا گیا ہے تاحال دھماکے کی نوعیت اور وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔ بیلگوروڈ کے گورنر نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی-

    یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا-

    یاد رہے کہ گزشتہ روز یوکرینی فوج نے روس پر جزیرہ اسنیک پر فاسفورس بموں کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی فضائیہ نے 2 بار جزیرہ اسنیک پر فاسفورس بم گرائے تاہم اس سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

    دوسری جانب روسی فوج نے مشرقی یوکرینی شہر لیسیچنسک اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے لوہانسک کے گورنر کا کہنا ہے کہ روس اس شہر پر قبضے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے –

    مئیر نے کہا کہ لوہانسک اور ڈونیٹسک یوکرین کے دو ایسے صوبے ہیں جن سے مل کر ڈونباس کا ریجن بنتا ہے روس کی کوشش ہے کہ یوکرین کے اس مشرقی ریجن پر قبضہ کر لیا جائے۔

    یوکرینی حکام نے روس پر الزام عائد کر دیا ہے کہ وہ ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کر رہا ہے۔ مشرقی یوکرینی شہر سلووینسک میں مبینہ طور پر ان خطرناک بموں کے حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں یہ حملے ایسے شہری علاقوں میں کیے گئے جہاں کوئی عسکری تنصیب نہیں ہے۔ ایک عالمی کنوینشن کے تحت کلسٹر بموں کا استعمال غیر قانونی ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے یوکرین کو مزید دفاعی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محمکہ دفاع نے بتایا ہے کہ روسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے کیف کو820 ملین امریکی ڈالر کا دفاعی پیکج دیا جائے گا زیادہ تر اسلحہ امریکی حکومت کے بجائے امریکی اسلحہ ساز صنعت فراہم کرے گی۔ یوکرین جنگ کے شروع ہونے کے بعد امریکی حکومت یوکرین کو مجموعی طور پر سات بلین ڈالر کا اسلحہ فراہم کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    دوسری جانب روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ کیا ہے ایک جرمن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک کلب BRICS مغربی اکثریتی گروپ آف سیون (G7) کا مقابلہ کرے۔ اس مقصد کے لیے، بیجنگ اور ماسکو بظاہر اس گروپ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے دیگر تین شرکاء برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ ہیں۔

    بدھ کے روز ایک رپورٹ میں، فرینکفرٹر آلگیمین زیتونگ نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین کے خلاف روس کے حملے کے آغاز اور مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے، ماسکو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط اور بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابقہ ​​G8 سے نکالے جانے کے بعد، کریملن نے مبینہ طور پر برسوں سے برکس کو G7 کے متبادل میں تبدیل کرنے کی امید کو پروان چڑھایا ہے۔ جرمن اخبار کے مطابق، کریملن نے اب ان کوششوں کوتیز کر دیا ہے۔

    امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے

    ادھر اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے واضح کیا ہے کہ روس کو سلامتی کونسل سے صرف اقوام متحدہ کے خاتمے کی صورت میں ہی نکالا جاسکتا ہے اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے یہ سخت بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ختم کرنے کے مطالبات پر دیا ہے۔

    روسی نمائندے دیمتری پولیانسکی نے یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریمارکس سلامتی کیلئے کارگر نہیں ہیں، ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ لوگ جانتے ہیں کہ روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکالنا صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب اقوام متحدہ کو ختم کردیا جائے اور اسے نئے سرے سے تشکیل دیا جائے۔

    روسی نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے کونسل کے دیگر اراکین سے پیشگی مشاورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت دی گئی، جو موجودہ طرز عمل کی خلاف ورزی ہے۔

    مغرب کی دشمنی: روسی کھلاڑی کھیل سے محروم کردیئے گئے

  • روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھراقوام متحدہ میں کوئی بھی رہ سکے گا:روس کا انتباہ

    روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھراقوام متحدہ میں کوئی بھی رہ سکے گا:روس کا انتباہ

    ماسکو:روس کوسلامتی کونسل سے نکالاگیاتوپھرسخت ردعمل آئے گا:اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے واضح کیا ہے کہ روس کو سلامتی کونسل سے صرف اقوام متحدہ کے خاتمے کی صورت میں ہی نکالا جاسکتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روس کے پہلے نائب مستقل نمائندے دیمتری پولیانسکی نے یہ سخت بیان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ختم کرنے کے مطالبات پر دیا ہے۔

    روسی نمائندے دیمتری پولیانسکی نے کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریمارکس سلامتی کیلیے کارگر نہیں ہیں، ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ لوگ جانتے ہیں کہ روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکالنا صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب اقوام متحدہ کو ختم کردیا جائے اور اسے نئے سرے سے تشکیل دیا جائے۔

    روسی نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے کونسل کے دیگر اراکین سے پیشگی مشاورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت دی گئی، جو موجودہ طرز عمل کی خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کیف کا کام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو “اشتعال دلانا” تھا، جو یوکرائنی مسئلے سے تیزی سے تنگ آ رہے ہیں۔ پولیانسکی کے مطابق یوکرینی صدر زیلینسکی اور اقوام متحدہ میں یوکرین کے ایلچی دونوں ہی اپنی سانسیں ضائع کر رہے ہیں، وہ وقتاً فوقتاً یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روس کا اس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست پر کوئی حق نہیں ہے، کہ ہم نے اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد غیر قانونی طور پر برقرار رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر مضحکہ خیز ہے ہم نے اس کی وضاحت کی ہے اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے حکام نے بھی مناسب وضاحتیں فراہم کی ہیں۔
    قانون سازی کی معلومات کے سرکاری روسی ویب پورٹل کی طرف سے شائع کردہ ایک دستاویز کے مطابق، روس کے وزیر اعظم میخائل میشوسٹن نے کونسل آف یورپ کے فریم ورک کے اندر متعدد معاہدوں میں روس کی شرکت کو ختم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔

    حکومت کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کونسل آف یورپ انٹرنیشنل کوآپریشن گروپ آن ڈرگس اینڈ ایڈکشن (پومپیڈو گروپ) سے دستبردار ہو جائے گا، 1990 کا جزوی معاہدہ یورپ کی کونسل برائے جمہوریت کے ذریعے یورپی کمیشن کا قیام، کھلا جزوی معاہدہ بڑی قدرتی اور تکنیکی آفات کی روک تھام، ان کے خلاف تحفظ، اور امداد کی تنظیم کے لیے تعاون پر، کھیلوں پر وسیع جزوی معاہدہ، ثقافتی راستوں پر وسیع جزوی معاہدہ اور یورپ میں تاریخ کی تعلیم پر آبزرویٹری جیسے معاہدوں سے بھی روس نکل جائے گا

    مزید برآں، روس اب کونسل آف یوروپ کے کلچرل سپورٹ فنڈ (Eurimages) اور یورپی Audiovisual Observatory کے کام میں حصہ نہیں لے گا۔

    روس نے 26 سال قبل کونسل آف یورپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1996 کے بعد سے، روسی مندوبین نے تعاون کے پانچ اہم فارمیٹس میں حصہ لیا: بین الحکومتی (کمیٹی آف دی وزراء کونسل آف دی یورپ، CMCE)، بین الپارلیمانی (پارلیمانی اسمبلی آف دی کونسل آف یورپ، PACE)، بین علاقائی (کانگریس آف لوکل اور علاقائی حکام)، عدالتی (یورپی عدالت برائے انسانی حقوق) اور غیر سرکاری (آئی این جی اوز کانفرنس آف دی کونسل آف یورپ)۔شامل ہیں‌

    مزید یہ کہ روس کی کونسل آف یورپ کے انٹرنیشنل کوآپریشن گروپ آن ڈرگس اینڈ ایڈکشن (پومپیڈو گروپ)، یورپی کمیشن برائے جمہوریت برائے قانون (وینس کمیشن)، بدعنوانی کے خلاف ریاستوں کے گروپ (گریکو) میں نمائندگی کی گئی تھی۔ بین الحکومتی کمیٹیاں اور کونسل آف یورپ کی ورکنگ باڈیز۔ اس نے کئی درجن کونسل آف یورپ کے ایکٹ اور معاہدوں میں شمولیت اختیار کی تھی اس سے بھی نکل جائے گا

    ڈالرنہں اب روسی روبل چلے گا:ولادی میرپوتن کااعلان ،اطلاعات کے مطابق ولادی میرپوتن کی حکومت نے اناج، سورج مکھی کے تیل اور اشیا خورد و نوش کو برآمدات کی فہرستیں شامل کرتے ہوئے بڑا اعلان کر ڈالا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گندم اسی کو ملے گی جو ادائیگی روبل میں کرے گا، یہ بیان اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جب روسی حکومت نے اناج، سورج مکھی کے تیل اور اشیا خورد و نوش کو برآمدات کی فہرست میں شامل کیا۔

    روسی کابینہ کے فیصلے میں اس بات کی بھی توثیق کی گئی کہ جو دوست ممالک اکتیس اگست دو ہزار تئیس تک برآمد شدہ سورج مکھی کے تیل اور سورج مکھی کی کھانے والی اشیا کی برآمدات کی ادائیگی قومی کرنسی (روبل) میں کرینگے، ان پر ایک سال کی ڈیوٹی میں توسیع کردی جائے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ نئے ادائیگی کے طریقہ کار تحت گندم پر برآمدی ڈیوٹی کی بنیادی قیمت 15,000 روبل ($267 سے زیادہ) فی ٹن ہوگی۔

    واضح رہے کہ روس دنیا میں گندم کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور سورج مکھی کے بیجوں کا ایک بڑا سپلائر ہے۔ گذشتہ ماہ روس کے وزیر برائے زراعت دیمتری پیٹروشیف نے بتایا کہ روسی اناج کی فصل رواں سال ایک سو تیس ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمدی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہوگی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم زرعی مصنوعات صرف “دوست ممالک” کو برآمد کرینگے۔

  • روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ

    بیجنگ:روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ،اطلاعات ہیں کہ ایک جرمن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس چاہتے ہیں کہ پانچ بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک کلب BRICS مغربی اکثریتی گروپ آف سیون (G7) کا مقابلہ کرے۔ اس مقصد کے لیے، بیجنگ اور ماسکو بظاہر اس گروپ کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے دیگر تین شرکاء برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ ہیں۔

    بدھ کے روز ایک رپورٹ میں، فرینکفرٹر آلگیمین زیتونگ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے خلاف روس کے حملے کے آغاز اور مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے، ماسکو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط اور بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سابقہ ​​G8 سے نکالے جانے کے بعد، کریملن نے مبینہ طور پر برسوں سے برکس کو G7 کے متبادل میں تبدیل کرنے کی امید کو پروان چڑھایا ہے۔ جرمن اخبار کے مطابق، کریملن نے اب ان کوششوں کوتیز کر دیا ہے۔

    پیر کے روز روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا کہ دو اور ممالک، ارجنٹائن اور ایران نے گروپ میں شامل ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔ اپنے ٹیلیگرام چینل پر، سفارت کار نے حوالہ دیا کہ یہ اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس سوچ رہا تھا کہ دنیا میں روس اورچین کا راستہ کس طرح روکا جائے

    قبل ازیں، تہران اور بیونس آئرس دونوں کے حکام نے اپنے ممالک کی مکمل رکن بننے کی خواہش کی تصدیق کی تھی۔

    ٹیلیگرام پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے روسی سینیٹر الیکسی پشکوف جو پہلے ریاست ڈوما میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں کہتے ہیں کہ "اگرچہ برکس اس کا اعلان نہیں کرتا ہے، لیکن یہ ایک متبادل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہاں تک کہ کاؤنٹر ویٹ بھی ہے ۔ مستقبل میں G7 کے لیے کیونکہ یہ غیر مغربی دنیا کے سرکردہ ممالک کو متحد کرتا ہے۔

    پشکوف نے ایران اور ارجنٹائن کی شامل ہونے کی خواہش کو "ایک پیش رفت کے طور پر بیان کیا، کیونکہ یہ نہ صرف روس کو الگ تھلگ کرنے کی مغرب کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ غیر مغربی دنیا کی اعلیٰ ترین اقتصادی-سیاسی تنظیم کو بھی وسیع کرتا ہے”۔

    دریں اثنا، روس کی RIA نووستی نیوز ایجنسی کے حوالے سے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں مزید دس ممالک برکس میں شامل ہو سکتے ہیں، جن میں میکسیکو، ترکی اور سعودی عرب شامل ہیں۔

    رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گروپ کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو ظاہر کرنے کے لیے چین نے 13 مہمان ممالک کو بھی اس تقریب میں مدعو کیا ہے۔ ان ممالک میں مصر، فجی، الجزائر، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں۔

    جرمن اخبارکا کہنا ہے کہ روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلے کی تصدیق چینی صدرکے بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں صدر نے برکس کو امریکہ کی زیر قیادت اتحادوں کے برعکس، ایک انسداد پراجیکٹ اور ایک "بڑا خاندان” قرار دیا،

    جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے سربراہی اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ برکس کے تمام رکن ممالک نے گروپ کو بڑھانے کے خیال کی حمایت کی ہے، برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ اس معاملے پر مکمل طور پر ایک صفحے پر نہیں ہیں،بھارت کی شمولیت کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں

  • امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے

    امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے

    واشنگٹن:امریکہ نے اپنےبچاوکےلیےمشرق وسطیٰ میں 14 خفیہ پراکسی وار آپریشن کیئے،اطلاعات کے مطابق انٹرسیپٹ نامی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے قوی ثبوت ہیں کہ امریکہ نے 2020 کے اوائل میں مشرق وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک خطے میں کم از کم 14 پراکسی وار آپریشنز کرنے کے لیے "127E” کے نام سے ایک خفیہ اتھارٹی کا استعمال کیا ہے، انٹرسیپٹ نے اپنے حاصل کردہ دستاویزات کے ساتھ ساتھ محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام کا حوالہ دیتے ہوئےکہا ہے کہ اس سارے معاملے کی نگرانی پینٹا گان نے کی تھی

    انٹرسیپٹ کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ "127E” اتھارٹی کا استعمال کرتا رہا ہے تاکہ امریکی کمانڈوز کو دنیا بھر میں غیر ملکی اور بے قاعدہ پارٹنر فورسز کے ذریعے نام نہاد ‘انسداد دہشت گردی آپریشنز’ کرنے کی اجازت دی جا سکے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طریقہ کار یہ ہے کہ امریکہ، اتھارٹی کے ذریعے، پھر غیر ملکی افواج کو اسلحہ، تربیت اور انٹیلی جنس فراہم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، جو پھر امریکی دشمنوں کو نشانہ بنانے والے امریکی ہدایت پر بھیجے گئے مشنز پر بھیجے جاتے ہیں۔

    ریٹائرڈ فور سٹار آرمی جنرل جوزف ووٹل کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ نے مصر، لبنان، شام اور یمن میں انسداد دہشت گردی کی "127E” کوششیں کیں۔ایک اور سابق سینئر دفاعی اہلکار نے انٹرسیپٹ کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ عراق میں "127E” آپریشن ہوا اور حاصل کردہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ تیونس میں بھی ایسا ہی ایک اور "127E” آپریشن ہوا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان خفیہ کارروائیوں پر 2017 اور 2020 کے درمیان امریکہ کو 310 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ محکمہ دفاع اور سپیشل آپریشنز کمانڈ "127E” اتھارٹی پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ درجہ بند ہے اور وائٹ ہاؤس اس معاملے کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اس کے علاوہ، یہ معلوم نہیں ہے کہ "127E” آپریشنز کے دوران کتنے عام شہری اور غیر ملکی افواج مارے گئے ہیں، لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی جانی نقصان ہوا ہے۔رپورٹ میں پروگرام سے واقف امریکی حکومت کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹیوں کے قانون سازوں کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد "127E” آپریشنزسے واقف ہے جبکہ اکثرسے یہ معاملہ چھپایا گیاہے