Baaghi TV

Tag: روس

  • روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ

    روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ

    کیف:ماسکو:روسی گیس تنصیبات پریوکرین کا ترکی کے ڈرون سےحملہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے بحیرہ اسود میں روسی آف شور گیس تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے ترکی ساختہ Bayraktar TB2 ڈرون اور اینٹی شپ میزائلوں کا استعمال کیا، روسی فوج نےکے ترجمان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ ساری صورتحال واضح کی

    روسی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ غیرفوجی علاقے میں جس میں تین افراد زخمی اور سات لاپتہ ہوئے، اس کے اوائل میں اسنیک آئی لینڈ پر ناکام حملے کے باوجود کیے گئے، یہ بھی بتایا گیا کہ یوکرین کی افواج نے پیر کی صبح سویرے روس سے جزیرے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیف نے 15 سے زیادہ UAVs، Tochka-U ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل، Uragan راکٹ آرٹلری، اور امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ M777 ہووٹزرکی مدد سے یوکرین نے حملہ کیا ہے ۔ ماسکو نے کہا کہ اس دوران یوکرائنی S-300 طیارہ شکن نظام نے آپریشن کے لیے اضافی مدد فراہم کی۔

    وزارت دفاع کے مطابق، Snake Island کی حفاظت کرنے والے روسی فضائی دفاع نے 13 ڈرونز، چار میزائلوں اور 21 راکٹ آرٹلری پروجیکٹائل کو تباہ کر کے یوکرین کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ روسی فوج نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کے بعد کہ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی، کیف حکومت نے بحیرہ اسود کے شمال مغربی حصے میں روسی گیس نکالنے کے بنیادی ڈھانچے پرحملہ کیا

    دو آف شور گیس مقامات پر اینٹی شپ میزائلوں اور ایک Bayraktar TB-2 ڈرون سے حملہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک پر آگ لگ گئی۔ادھر روسی حکام نے کریمیا میں قائم سرکاری فرم کی طرف سے ملازمین کو علاقہ جلد از جلد چھوڑ دینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں‌،

    روسی فوج نے منگل کے روز کہا کہ اس نے پیر کے آپریشن میں شامل یوکرینی فورسز کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ رپورٹ کردہ اہداف میں "یوکرینی Bayraktar TB-2 UAVs کے ساتھ ہینگر” اور کوبانسکی جزیرے پر تعینات M777 بندوقیں شامل ہیں، جو رومانیہ کی سرحد پر دریائے ڈینیوب کے ڈیلٹا میں قدرتی ریزورٹ کا حصہ ہیں۔

    یوکرین اور رومانیہ کے علاقائی پانیوں کے درمیان سرحد پر واقع سانپ جزیرہ پر روس نے یوکرین کے خلاف حملے کے پہلے دنوں میں ہی قبضہ کر لیا تھا۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ جزیرے کے تمام محافظ کارروائی میں مارے گئے، لیکن یہ بیان اس وقت غلط ثابت ہوا جب روس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین کے فوجیوں نے ہتھیار ڈالے اور انہیں قیدی بنا لیا گیا۔

    ماسکو نے مئی میں جزیرے پر حملہ کرنے کی کیف کی ایک اور ناکام کوشش کی اطلاع دی۔ روسی فوج نے اسے ایک "احمقانہ PR کارروائی” کے طور پر بیان کیا اور بتایا کہ اس آپریشن میں یوکرین کے تقریباً 50 فوجی ہلاک ہوئے۔

    روسی افواج نےیوکرین کے کئی اہم شہروں پرقبضہ کرلیا،اطلاعات کےمطابق لوہانسک کے گورنر اور یوکرین کے جنرل سٹاف نے جنگ کی تازہ ترین صورت حال پرخبرجاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی افواج نے لوہانسک کے علاقے میں لائسیچانسک اور سیوروڈونٹسک کے قریب کئی چھوٹے شہروں اوربستیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

    لوہانسک کے گورنر سیرحی حیدائی نے یوکرین کے قومی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ روسی افواج نے سیوروڈونٹسک کے جنوب میں توشکیوکا کی بستی پر قبضہ کر لیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ "بدقسمتی سے، دشمن نے اس پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور بڑے فوجی لشکرکےساتھ چڑھائی کی اور قبضہ کرلیا

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی کہا کہ لوہانسک کے مشرقی علاقے میں فوجی صورتحال بہت مشکل تھی کیونکہ روس نے اہم علاقوں سے یوکرائنی فوجیوں کو نکالنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ زیلنسکی نے شام کے ایک ویڈیو خطاب میں اپنی قوم کوبتایا کہ ۔ "یہ واقعی سب سے مشکل جگہ ہے۔ روسی افواج بہت سخت دباؤ ڈال رہے ہیں،”

    یوکرین نے روس کے خلاف جرمنی کا اسلحہ استعمال کرنا شروع کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے منگل کو کہا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید جرمن توپخانے کے نظام کو "آخر کار” تعینات کر دیا ہے جس کا یوکرین بڑے عرصے سے مطالبہ کررہا تھا

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق "Panzerhaubitze 2000 آخر کار یوکرائنی توپ خانے کے 155 ملی میٹر کے ہووٹزر ہتھیاروں کا حصہ بن چکےہیں،” یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف نے اپنے جرمن ہم منصب کرسٹین لیمبریچٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اب جرمنی کے اسلحے سے روسی فوج کا مقابلہ کیا جائے گا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے جرمنی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ سات خود سے چلنے والے ہووٹزر یوکرین بھیجے گا، جو کیف کو روس کے حملے سےبچانے میں مدد دینے کے لیے مدد دے گا اور روسی افواج پرجوابی حملےمیں کارگرثابت ہوگا

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ جرمن فوج کے پاس تقریباً 100 ہاوِٹزر 2000 ہیں، لیکن صرف 40 جنگی تیار ہیں۔جن پر جرمنی نے اکتفا کیا ہے دوسری طرف امریکہ، فرانس اور یوکرین کے دیگر اتحادیوں نے کیف کے لیے بھاری ہتھیاروں کی مزید سپلائی کا وعدہ کیا ہے، اور واشنگٹن کی طرف سے اس ماہ یوکرین کو اسلحے کی بڑی کھیپ ملنے والی ہے

    امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    یہ تو درست ہےکہ روس کے خلاف لڑنے کے لیے مغرب نے کریملن کی افواج سے لڑنے میں مدد کے لیے یوکرین میں ہتھیار بھیجے ہیں، لیکن کیف کو شکایت ہے کہ اسے اس کی ضرورت کا صرف ایک حصہ ہی ملا ہے جبکہ یوکرین کا کہنا ہےکہ اسے جدید اوربھاری ہتھیاروں کی فی الفورضرورت ہے

    جرمنی یوکرین کو اس قسم کے ہتھیاروں کا نظام فراہم کر رہا ہے جس کی اسے درحقیقت روس سے لڑنے کی ضرورت ہے، لہٰذا اس کے برعکس دعووں پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے، چانسلر اولاف شولز نے منگل کو مکمل طور پر شائع ہونے والے اخبار Munchner Merkur کے ساتھ ایک انٹرویو میں جرمنی کی حمایت کا یقین دلایا

    اس دوران جب ان سے یوکرائنی حکام کی شکایات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جرمنی نے کیف کو ہتھیاروں کی ترسیل کے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے، تو شولز نے کہا کہ "یہاں جو کچھ کہا جا رہا ہےوہ بالکل درست نہیں ہے۔”لٰہذا ہمیں مورود الزام ٹھہرانا درست نہیں

    انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگی ہتھیار کار ڈیلر کی دکان پر گاڑیوں کی طرح دستیاب ہیں، وہ غلط ہیں، انہوں نے مزید کہا، "میں جانتا ہوں کہ مجھے تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن میں اس موقع پراحتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ سکتا

    یوکرینی بچوں کی مدد کیلئے روسی صحافی نے اپنا نوبل انعام نیلام کر دیا

    جرمن چانسلر نے اصرار کیا کہ ان کا ملک یوکرین کو اس قسم کے ہتھیار بھیج رہا ہے جس کی اسے درحقیقت ضرورت ہے، جیسے کہ فضائی دفاعی نظام اور ہووٹزرکی کھیپ پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی اس بات پر مبنی ہے جو وہ یوکرین کی حکومت سے براہ راست سنتے ہیں۔

    انہوں نے اصرار کیا کہ اگر جرمن ہتھیاروں کو یوکرین میں اتنی تیزی سے نہیں اتارا جاتا جیسا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یوکرین کے فوجیوں کو انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔جرمن چانسلر نے کہا کہ انہیں مناسب گولہ بارود کی بھی ضرورت ہے، جس کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی

    روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے روڈینکو نے بھی منگل کے روز ماسکو میں یورپی یونین کے سفیر مارکس ایڈیرر کو خبردار کیا کہ کیف کو بلاک کی جانب سے جاری ہتھیاروں کی سپلائی ناقابل قبول ہے۔

  • روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے اعلان کیا کہ یوکرین سے اشیائے خور و نوش کی برآمدات کو یقینی بنانے کے معاملے پر جرمنی آئندہ جمعہ کو ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

    روس نے بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جبکہ ترکی نے یہ تجویز دی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روس نے بدھ کے روز بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن راہداریوں کے قیام کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

    روس کے اقوام متحدہ کے لیے مقرر کردہ سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ ’ہم محفوظ راہداریوں کے قیام کے ذمہ دار نہیں ہیں تاہم، اگر راہداری قائم ہو جائے تو ہم یوکرین کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر سکتے ہیں‘۔رپورٹ کے مطابق، روس کے علاوہ ترکی نے بھی یوکرین کے اناج کے جہازوں کی مدد کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے۔

    ترکی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود یوکرینی جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ ابھی تک اس منصوبے پر ماسکو کے ردعمل کا انتظار کررہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ معلوم ہے کہ سی مائنز(Sea Mines) کہاں موجود ہیں، اس لیے تین بندرگاہوں پر کچھ محفوظ راستے بنائے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ روس کے حملے اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد سے یوکرینی اناج کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے اناج، کھانا پکانے کے تیل، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ یوکرین کی برآمدات اور روسی خوراک اور کھاد کی برآمدات کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    ماسکو:امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی،اطلاعات کے مطابق روسی صدارتی ترجمان نے یوکرین میں پکڑے جانے والے سابق امریکی فوجیوں کی سزائے موت کا عندیہ دے دیا۔دوسری طرف امریکی حکام روس کے اس فیصلے پرکڑی نظررکھے ہوئے ہیں

    مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ یوکرین میں پکڑے گئے سابق امریکی فوجیوں کو سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ میں کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا، یہ تحقیقات پر منحصر ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں 2 سابق امریکی فوجی الیگزینڈر ڈروک اور اینڈی ہیون کو خارکیو کے قریب سے پکڑا گیا تھا، امریکی محکمہ خارجہ نے 16 جون کو کہا کہ وہ یوکرین میں جنگ میں حصہ لینے والے امریکی شہریوں کے حوالے سے روس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    اس سے قبل یوکرین میں 2 برطانوی اور ایک شامی فوجی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہیں عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر امریکی شہریوں کو یوکرین جانے کے خلاف سختی سے روکا ہے۔

    ادھریورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

    یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    روسی فوجی آپریشن میں اب تک 10ہزارہمارے فوجی ہلاک ،30ہزارزخمی ہوچکے:یوکرین

    کیف:روسی فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک 10,000 یوکرائنی فوجی ہلاک اور 30,000 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دفتر کے مشیر الیکسی آریسٹووچ نے پیر کو تصدیق کرتے ہوئے یوکرین کے اتنے بڑے نقصان کی تفصیلات بتائیں

    "تقریباً 10,000 مارے گئے۔اور ہر تین مین سے ایک فوجی زخمی ہورہا ہے ، اس حوالے سے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے اریستووچ نے یوکرین کے صحافی دمتری گورڈن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا اریستووچ نے نشاندہی کی کہ 96 سے 98 فیصد زخمی فوجی واپس فوج میں واپس آ جاتے ہیں۔

    اس سے قبل یوکرائنی وزارت دفاع الیکسی ریزنیکوف نے کہا تھا کہ یوکرین کے ایک دن میں 100 فوجیوں کو ہلاک اور 500 کو زخمی ہورہے ہیں۔ اس کے بعد، یوکرین کے صدر کے دفتر کے سربراہ کے مشیر میخائل پوڈولیاک نے کہا کہ روزانہ 100 سے 200 یوکرائنی فوجی لڑائی میں مارے جا رہے ہیں۔جبکہ حکمران جماعت کے دھڑے کے سرونٹ آف پیپلز کے سربراہ ڈیوڈ اراکامیا نے یوکرین کی مسلح افواج کے روزانہ 200 سے 500 افراد کے نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ 10 جون کو، اریستووچ نے پہلی بار یوکرائنی فوجیوں میں ہونے والے کل نقصانات کی تفصیلات بتائیں

    یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 24 فروری کو ڈونباس جمہوریہ کے سربراہوں کی درخواست کے جواب میں، ایک خصوصی فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماسکو کے منصوبوں میں یوکرین کے علاقوں پر قبضہ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس کا مقصد مشرقی یوروپی ملک کو غیر فوجی بنانا اور اسے ختم کرنا ہے۔

  • یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے :روس

    یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے :روس

    ماسکو:یوکرین کا تنازعہ طوالت اختیارکرے گا،ہم مغرب کے جھانسےمیں نہیں آئیں گے:،اطلاعات کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کا بحران ایک طویل تنازعہ ہوگا اور روس اب مغرب پر بھروسہ نہیں کرے گا۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو نشر ہونے والے این بی سی انٹرویو میں کہا جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کا تنازعہ طویل عرصے تک چلے گا۔تو انہوں نے جواب دیا "ہاں، یہ ایک دیرپا بحران ہو گا، لیکن ہم اب کبھی بھی مغرب پر بھروسہ نہیں کریں گے،”

    اس سے قبل امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ سفارت کار کے مطابق دوطرفہ تعلقات جو پہلے ہی گزشتہ چند سالوں سے گہرے بحران کا شکار تھے اب نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔

    امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے پہلے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی بات چیت غیر معمولی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے، اور اس اعتماد کو مجروح کیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس وقت باہمی دلچسپی کے بہت سے معاملات پر بھی تعاون کا بہت زیادہ فقدان ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 24 فروری سے روس یوکرین کو غیر فوجی اور غیر فوجی بنانے کے لیے ایک خصوصی فوجی آپریشن کر رہا ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد "ان لوگوں کا تحفظ ہے جو کییف حکومت کے ہاتھوں آٹھ سالوں سے بدسلوکی اور نسل کشی کا شکار ہیں”۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق، فوج نے آپریشن کے پہلے مرحلے کے اہم کام مکمل کر لیے ہیں، جس سے یوکرین کی جنگی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ دریں اثنا، پورے فوجی آپریشن کا بنیادی بیان کردہ مقصد ڈان باس کی مکمل آزادی ہے۔

  • روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    یوکرین جنگ کے بعد روس پر لگنے والی بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل بیچ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : "الجزیرہ” کے مطابق روس چین کو سب سے زیادہ تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا ہے گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس مئی تک روس سے خام تیل کی چینی درآمدات میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے-

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

    چین نے مئی میں روس سے خام تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا، جس سے یوکرین پر اس کے حملے پر روس کی توانائی کی خریداریوں کو کم کرنے کے لیے مغربی ممالک سے ماسکو کے نقصانات کو پورا کرنے میں مدد ملی۔

    چینی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ 8 اعشاریہ چار دو ملین ٹن تیل برآمد کیا گیا۔ جس کے بعد سعودی عرب کی بجائے روس، چین کو آئل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    چینی جنرل ایڈمنِسٹریشن آف کسٹمز کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ماہ 8.42 ملین ٹن تیل برآمد کیا گیا تھا، جبکہ چین نے سعودی عرب سے 7.82 ملین ٹن خام تیل خریدا۔

    چین 2016 سے روس کی خام تیل کی سب سے بڑی منڈی ہے اور اس نے یوکرین میں ماسکو کی جنگ کی عوامی سطح پر مذمت نہیں کی۔ اس کے بجائے، چین نے اپنے الگ تھلگ پڑوسی سے معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روسی تیل کی درآمدات میں مشرقی سائبیریا پیسیفک اوقیانوس پائپ لائن کے ذریعے پمپ کی جانے والی سپلائی اور روس کی یورپی اور مشرق بعید کی بندرگاہوں سے سمندری ترسیل شامل ہیں۔

    اعداد و شمار، جو ظاہر کرتے ہیں کہ روس نے 19 ماہ کے وقفے کے بعد دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے درآمد کنندہ کو سپلائرز کی ٹاپ رینکنگ واپس لے لی، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماسکو مغربی پابندیوں کے باوجود اپنے تیل کے لیے خریدار تلاش کرنے میں کامیاب ہے، حالانکہ اسے قیمتوں میں کمی کرنا پڑی ہے ایسا کرنے کے لئے.

    بلومبرگ نیوز کے مطابق، چین نے مئی میں 7.47 بلین ڈالر مالیت کی روسی توانائی کی مصنوعات خریدیں، جو اپریل کے مقابلے میں تقریباً 1 بلین ڈالر زیادہ تھیں چین کے کسٹمز کے نئے اعداد و شمار یوکرین میں جنگ کے چار ماہ بعد سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکہ اور یورپ کے خریداروں نے روسی توانائی کی درآمدات سے گریز کیا ہے یا آنے والے مہینوں میں ان میں کمی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیائی مانگ روس، خاص طور پر چین اور بھارت کے خریداروں کے لیے ان نقصانات میں سے کچھ کو پورا کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

    روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

    تجزیہ کار وی چیونگ ہو نے کہا کہ ابھی کے لیے، یہ خالص معاشیات ہے کہ ہندوستانی اور چینی ریفائنرز زیادہ روسی نژاد خام تیل درآمد کر رہے ہیں کیونکہ یہ تیل سستا ہے۔

    دوسری جانب تہران پر امریکی پابندیوں کے باوجود چین ایرانی تیل بھی خرید رہا ہے، چین نے گزشتہ ماہ ایران سے بھی 260,000 ٹن خام تیل درآمد کیا۔ دسمبر کے بعد سے یہ اس کی تیسری شپمنٹ تھی۔

    بی بی سی کی گلوبل ٹریڈ کارسپانڈینٹ، دھارشینی کا کہنا ہے کہ صرف چین نے ہی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے بلکہ انڈیا نے بھی روسی تیل کی خرید میں اضافہ کر دیا ہے۔

    ریسرچ فرم Rystad Energy کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت نے مارچ سے مئی تک گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ روسی تیل خریدا، اور اس عرصے کے دوران چین کی درآمدات میں تین گنا اضافہ ہوا۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تازہ ترین عالمی تیل رپورٹ کے مطابق، ہندوستان نے گزشتہ دو مہینوں میں جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر روسی خام درآمد کرنے والے دوسرے سب سے بڑے ملک کے طور پر آگے نکل گیا ہے۔

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

    علیحدہ طور پر، اعداد و شمار نے یہ بھی دکھایا کہ چین کی روسی مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمدات گزشتہ ماہ تقریباً 400,000 ٹن تھیں، جو کہ مئی 2021 کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہیں۔

    کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق، اس سال کے پہلے پانچ مہینوں کے لیے، روسی ایل این جی کی درآمدات – زیادہ تر مشرق بعید میں سخالین-2 پروجیکٹ اور روسی آرکٹک میں یامال ایل این جی سے – سال کے دوران 22 فیصد بڑھ کر 1.84 ملین ٹن ہو گئیں۔

    واضح رہے کہ روس نے کیف کے لیے یورپ کی حمایت پر بظاہر انتقامی کارروائی میں توانائی ذرائع کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے گیس سپلائی کو کم کردیا ہے روس نے گزشتہ دنوں نورڈ اسٹریم پائپ لائن سےگیس کی سپلائی میں 60 فیصد کٹوتی کی ہے جس سے جرمنی، فرانس، آسٹریا اور جمہوریہ چیک متاثر ہوئے ہیں گیس کی سپلائی میں کمی سے توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے یورپی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔

    نچوڑ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، خطے کی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا اور یورپی یکجہتی کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے – کریملن کے لیے تمام فتوحات جو کہ یورپی رہنماؤں نے ملک کے ایک اعلیٰ سطحی دورے کے دوران یوکرین کے لیے حمایت پر زور دیا۔

    برطانیہ کو 30 سالہ تاریخ میں سب سے بڑی ریلوے ہڑتال کا سامنا

    کنسلٹنٹ ووڈ میکنزی لمیٹڈ کے مطابق، اگر روس اپنا مرکزی رابطہ مکمل طور پر بند کر دیتا ہے، تو خطے میں جنوری تک سپلائی ختم ہو سکتی ہے کشیدگی کی وجہ سے، یورپی قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا جو یوکرین میں روس کی جنگ کے ابتدائی مراحل کے بعد سے سب سے بڑا ہفتہ وار فائدہ ہے اس خطے کے پاس روس کی پائپ لائنوں کا بہت کم متبادل ہے، خاص طور پر موسم سرما کے دوران، ناروے اور نیدرلینڈز سے اسپیئر گنجائش بہت کم ہے، اور مائع قدرتی گیس کے کارگوز کے مزید سخت ہونے کی امید ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر روس کی جانب سے مرکزی لنک کو بند کردیا جائے تو یورپ جنوری میں گیس کی سپلائی سے محروم ہوجائے گا یورپ کے پاس ابھی روس سے ہٹ کر توانائی کے حصول کا کوئی ٹھوس متبادل موجود نہیں، بالخصوص موسم سرما کے دوران اسی طرح دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بھی بڑھ گئی ہےاور چین دنیا میں ایل این جی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے تو یورپی ممالک کو ایندھن کے اس ذریعے کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    عام عادت جو موت کا سبب بن سکتی ہے

  • عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    عالمی جنگ؟روس سے جنگ کیلئے فوج تیار رہے، برطانوی آرمی چیف کا حکم

    لندن: برطانوی فوج کے آرمی چیف نے فوجیوں کو میدان جنگ میں روس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔بی بی سی کے مطابق جنرل سر پیٹرک سینڈرز، جنہوں نے گزشتہ ہفتے ہی بحیثیت فوج کے سربراہ کے عہدہ سنبھالا ہے، نے کہا کہ وہ 1941 کے بعد سے پہلے چیف آف دی جنرل اسٹاف ہیں جنہوں نے یورپ میں ایک بڑی براعظمی طاقت پر مشتمل زمینی جنگ کے سائے میں فوج کی کمان سنبھالی۔

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    انہوں نے مزید کہا کہ روس کا یوکرین پر حملہ ہمارے بنیادی مقصد کی نشاندہی کرتا ہے؛ برطانیہ کی حفاظت کرنا اور زمین پر جنگ لڑنے اور جیتنے کے لیے تیار رہنا۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین جنگ طاقت کے ذریعے روسی جارحیت کو روکنے کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    جنرل سر پیٹرک نے “نیٹو کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور روس کو یورپ پر مزید قبضے سے روکنے کے لیے برطانوی فوج کی نقل و حرکت اور اس میں جدت لانے کا اپنا ہدف بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا، ’ہم وہ نسل ہیں جو فوج کو یورپ میں ایک بار پھر لڑنے کے لیے تیار کرے گی‘۔

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل نیٹو چیف اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جنگ سالوں پر محیط ہوسکتی ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم اور نیٹو سربراہ جانز اسٹولٹنبرگ نے بھی یوکرین کو اپنی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    مغرب ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے:ہمیں کوئی پرواہ نہیں: روس

    ماسکو: روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرائے کے فوجی کے طور پر کام کرنے والے برطانوی شہریوں کا فیصلہ عدالت کرے گی، اور روس کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کی مغرب اس حوالے سے کیا سوچ رہا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یوکرین میں پکڑے گئے اور کرائے کے فوجیوں کے طور پر سزائے موت پانے والے برطانوی جنگجوؤں کی قسمت کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کے تحت دونیسک عوامی جمہوریہ کو کرنا ہے۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ روس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ مغرب کو کیسا لگتا ہے۔

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    خیال رہے کہ 2 برطانوی شہری شان پنر اور ایڈن اسلن ان تینوں غیر ملکی جنگجوؤں میں شامل تھے جنہیں دونیسک میں سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے کرائے کے فوجی ہونے کا مجرم قرار دیا تھا۔انہیں مراکشی شہری سعدون ابراہیم کے ساتھ موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

    امریکہ اوراتحادی روس کوطویل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتےہیں:فیصلہ ہوگیا

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغرب کی نظر میں روس ان لوگوں کی قسمت کا ذمہ دار ہے لیکن یہ ایک آزاد ریاست کا فیصلہ ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق روزن برگ نے اس پر احتجاج کیا ہے کہ یہ دونوں افراد کرائے کے فوجی نہیں تھے بلکہ یوکرین کی فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے۔اس کے رد عمل میں سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ جیسے برطانوی عدالتوں کی طرح آزاد فیصلے صادر ہوتے ہیں ویسے ہی یہ بھی ایک آزاد ملک کی عدالت کا فیصلہ ہے۔

  • امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں

    برلن :روس یوکرین جنگ، امریکہ جرمنی میں قربتیں بڑھنے لگیں،اطلاعات ہیں کہ روس کو تنہا کرنے کےلیےامریکہ نے اپنی لابنگ جاری رکھی ہے اورنئی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے ، اس حوالے سے امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ روس یوکرین جنگ کےباعث مغربی اتحادی ممالک متحد ہوگئے ہیں جبکہ امریکا اور جرمنی میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔

     

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں…

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جاب یوکرین میں روسی جارحیت کی وجہ سے مغربی اتحادیوں میں ایک نئی صف آرائی دیکھی جا رہی ہے۔ اس جنگ نے جہاں متعدد مغربی ممالک کو متحد کیا ہے وہیں روس کے خطرے نے امریکا اور جرمنی کے مابین تعلقات میں موجود سرد مہری کو بھی کسی حد تک ختم کیا ہے۔لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جرمنی اس نئے اتحاد کو جنگ عظیم اول اور دوم سے بھی ملا کرپڑھ رہا ہے ، اس میں جرمنی کے اصل باشندوں کے خیالات کچھ اور ہیں

    خبردار ! روس جنگ کی آگ بڑھا رہا ہے ، جرمنی مسلسل چلانے لگا

    اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے لاحق خطرات، مشترکہ جیو پولیٹیکل وژن اور مفادات کی وجہ سے امریکا اور یورپ کے مابین زیادہ گرمجوشی کی امید کی جا سکتی ہے۔بالخصوص جرمنی اور امریکا کے باہمی تعلقات دو دہائیوں بعد اپنی بہترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔مغربی اتحاد کا ایک مشترکہ مقصد روسی جارحیت کی مذمت کرنا بھی ہے۔ امریکی حکام نے جرمن چانسلر اولاف شولس کے نارتھ اسٹریم پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کے اعلان پر مسرت کا اظہار کیا تھا ۔ منصوبے کے تحت جرمن حکومت روس سے گیس خریدنا چاہتی تھی۔

    بعدازاں جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے روس پر دباؤ بڑھانے کی خاطر گیس پائپ لائن کا یہ منصوبہ ختم کر کے ملکی ضروریات کی گیس امریکا سے منگوائی جائے گی۔

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی

    روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کا اتحاد اور روس پر پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اپنے آبائی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ایک بزنس فورم سے خطاب میں انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ روس میں انویسٹمنٹ کریں۔انھوں نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دیں گے جو ان کے ساتھ تعاون کے متمنی ہیں۔

    روسی صدر نے یوکرین پر حملے کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم یہ ضروری تھا۔ عسکری مہم کا مقصد در حقیقت یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی بولنے والی آبادی کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

  • روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ "اب ہم دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں پیدا کریں گے اور ہم ہر چیز کا متبادل بنائیں گے اورہرچیز کو متبادل بنائیں گے تاکہ دنیا کو بہترین اور معیاری چیزیں دستیاب ہوسکیں "۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس اب دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرے کا فیصلہ کرچکا ہے ، جس پربہت جلد عمل ہوگا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے SPIEF 2022 کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس اب ان مغربی کمپنیوں کے ذریعے مطلوبہ سامان تیار کرنا سیکھے گا جو روس چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا دوسرے ممالک کی کمپنیاں انھیں ایسی مصنوعات فراہم کرتی تھیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں کے بجائے دوسری کمپنیاں پہلے ہی جگہ بنانے روس کا رُخ کررہی ہیں‌۔ ہم صنعتی استعمال کے لیے پینٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش اور آلات بھی تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔

    روسی صدر کے مطابق ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو دنیا کر سکتی ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو نئی بنیادوں پر پیداوار کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو پرانی ٹیکنالوجیز سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔