Baaghi TV

Tag: روس

  • اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    جینوا :اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی حملے کو اب تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے اور جنگ کے خاتمے کے ابھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ ادھر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے یوکرین کے خلاف آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور یہ پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ یہ اتنا مختصر نہیں ہو گا۔

    اس دوران یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی محاصرے کے سبب اسٹریٹیجک اعتبار سے اہم بندرگاہی شہر ماریوپول کے باشندے خوراک، پانی اور ادویات سے محروم ہو چکے ہیں۔ زیلنسکی نے اطالوی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ ماریوپول میں اب ”کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

    انہوں نے روس سے اپیل کی کہ شہر میں بچ جانے والے تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔ جس وقت وہ یہ باتیں کہہ رہے تھے اسی دوران یوکرین کے حکام نے دعوی کیا کہ روس نے شہر پر دو مزید بڑے بم گرائے ہیں۔

    روس کی جنگی طاقت میں کمی کا امریکی دعویٰ امریکہ کے ایک سینیئر دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے سے پہلے کے مقابلے میں روس کی جنگی قوت میں اب تقریبا ً90 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان کا امکان ہے۔ امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا، ”پہلی بار وہ نوے فیصد سے تھوڑا سا نیچے ہو سکتے ہیں۔” تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    اس ماہ کے اوائل میں روس نے کہا تھا کہ اس کے حملے کے بعد سے اب تک 498 اہلکار ہلاک اور 1597 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ ‘لغو اور ناقابل فتح’ ہے، انٹونیو گوٹیرش اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق عالمی ادارے کے سکریٹری جنرل، انٹونیو گوٹیرش نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران روس کو ایک ”سخت پیغام” دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ جنگ لغو ہے جسے ”جیتا نہیں جا سکتا۔” انہوں نے ماسکو سے کہا کہ یہ، ”جنگ ناقابل فتح ہے۔ جلد یا بدیر، اسے میدان جنگ سے امن کی میز کی جانب لے جانا پڑے گا۔یہ ناگزیر ہے۔

    سوال صرف یہ ہے کہ اب اور کتنی جانیں ضائع ہونی چاہئیں؟ انہوں نے مزید کہا، ”جنگ تیزی سے ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے، ماریوپول کو روسی فوج نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس پر مسلسل بمباری، گولہ باری اور حملے کیے ہیں۔ آخر کس لیے؟ اگر ماریوپول کا زوال ہو بھی جائے، پھر بھی یوکرین کو شہر بہ شہر، گلی بہ گلی، یا پھر اس کے گھر گھر کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے فوری بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی پر فوری عمل ہو اور بات چیت کے لیے میز پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ روس کی جی 20 رکنیت خطرے میں خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس کو یوکرین پر حملے کے بعد گروپ آف ٹوئنٹی (جی ٹوئنٹی) میں رہنا چاہیے یا نہیں۔ جی سیون کے ایک سینیئر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے کہ آیا روس کے لیے جی 20 کا حصہ بنے رہنا مناسب ہے یا نہیں۔ اور روس اگر اس کا رکن برقرار رہتا ہے، تو پھر یہ تنظیم شاید بہت زیادہ کار آمد نہیں رہے گی۔”

  • پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا جواب

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    امریکی صدرکا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ادھر روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں۔

    ماسکو میں امریکی سفیرکودفترخارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیاہ۔

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔اس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں۔اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادی میرپوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

  • یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکی صدر

    یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ پیوٹن کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولاد یمیر پیوٹن بندگلی میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لئے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔

    بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

    یوکرین اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کی جانب سے ساحلی شہر ماریوپل میں ہتھیار ڈالنے کے بدلے شہریوں کو نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز مسترد کر دی ہے یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم ساحلی شہر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گا۔

    روس نے یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں اب لوگوں تک اشیائے ضرورت اور دوائیں بھی نہیں پہنچ رہی ہیں۔

    ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والا یہودی یوکرین جنگ میں ہلاک

    امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں

    دوسری جانب روس نے خبردارکیا ہے کہ امریکا سے تعلقات تیزی سے ختم ہونے کی طرف جارہے ہیں ماسکو میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے صدرپوٹن سے متعلق امریکی ہم منصب کے بیان کوناقابل قبول قراردیا گیا۔امریکی سفیرکواحتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا ہے-

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی سفیرکودئیے گئے احتجاجی مراسلے میں روس کا کہنا تھا کہ امریکی صدرجوبائیڈن کے روسی ہم منصب سے متعلق بیان نے دونوں ممالک کے تعلقات کوخطرے میں ڈال دیا ہےاس طرح کے بیانات امریکی صدرکے عہدے کے شایان شان نہیں اس قسم کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین پرحملے کے حوالےسے روسی صدرولادیمیرپیوٹن کوجنگی مجرم قراردیا تھا۔

    فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر…

    آئرلینڈ یوکرین سے 200,000 پناہ گزینوں کو واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے

    گارجئین کی رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ یوکرین سے 200,000 پناہ گزینوں کو واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے حکومت کی کابینہ آج ایک "اہم یوکرین میمو” پر تبادلہ خیال کرے گی تاکہ ان چیلنجوں پر غور کیا جا سکے، خاص طور پر ہاؤسنگ چیلنج وزیر ٹرانسپورٹ ایمون ریان نے پیر کو کہا کہ 10,000 پناہ گزین پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔

    حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہوٹلوں، مکانات کے حصص، بلکہ کمیونٹی سینٹرز اور مذہبی آرڈر کی جائیدادوں کی دستیابی کا فوری آڈٹ کریں گے جو مہاجرین کے بحران کے بڑھنے کے ساتھ ہی دستیاب ہو سکتے ہیں ڈبلن اور دارالحکومت کے باہر وسیع تر مکانات کے بحران کے پیش نظر وزراء نے کہا ہے کہ فوری تعمیر شدہ ماڈیولر ہاؤسنگ بھی ایک آپشن ہے۔

    روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNHCR) کے مطابق 3,528,346 یوکرینی باشندے بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ ایجنسی نے بتایا کہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پولینڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔

    شامی صدر کی میزبانی :امریکہ نے عرب امارات پرناراضگی کا اظہارکردیا

    یوکرین کے رکن پارلیمنٹ دیمیٹرو گورین صورتحال کے سفارتی حل کے بارے میں "بہت مایوسی کا شکار” ہیں

    یوکرین کے رکن پارلیمنٹ دیمیٹرو گورین نے اپنے آبائی شہر ماریوپول کی صورت حال کو "جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے برطانیہ میں اسکائی نیوز کو بتایا کہ "گولہ باری کبھی نہیں رکتی، فائرنگ کبھی نہیں رکتی۔ اب ماریوپول میں 300,000 لوگوں کو خوراک مہیا نہیں یہ اب جنگ نہیں ہے۔ ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ روس صرف اپنی سفارتی پوزیشن پر مجبور کرنے کے لیے یوکرینی باشندوں کو بھوک و افلاس میں مبتلا کرنا چاہتا ہے

    گورین نے کہا کہ وہ اس وقت صورتحال کے سفارتی حل کے بارے میں "بہت مایوسی کا شکار” ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ولادیمیر پوتن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی قیمت "اس کاغذ سے کم ہوگی جس پر لکھا گیا تھا-

    وقت آ گیا ہے ماسکو یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے،یوکرینی صدر

    نوکیا ٹائرز روس میں پیداوار جاری رکھے گی-

    فن لینڈ کی نوکیا ٹائرز نے کہا ہے کہ وہ اپنی مقامی فیکٹری کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے روس میں پیداوار جاری رکھے گی۔

    نوکیا کے چیف ایگزیکٹیو جوکا موئسیو نے ایک انٹرویو میں Helsingin Sanomat کو بتایا کہ کمپنی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی روسی فیکٹری "غلط ہاتھوں” میں ختم ہو جائے تاکہ اس کی روسی فیکٹریوں کو فوج کے لیے ٹائر بنانے کے لیے استعمال ہونے سے بچایا جا سکے۔

    موئسیو نے اخبار کو بتایا، "ہماری رائے میں یہ بہتر ہے کہ فیکٹری کسی اور کے کنٹرول میں ہو۔”

    این کورنین نے رائٹرز کے لیے رپورٹ کیا کہ نوکیا میں حصص پیر کو 13 فیصد تک گر گئے، جب فن لینڈ کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ ہفتے ایک کال میں تجزیہ کاروں کو بتایا تھا کہ وہ روس سے نکلنے والے حریفوں سے مارکیٹ شیئر جیتنے کی کوشش کرے گی۔ نوکیا نے منگل کو اس کی تردید کی۔

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے…

  • روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

    میسجنگ ایپ ٹیلی گرام نے دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن ایسا پوری دنیا میں نہیں بلکہ صرف روس میں ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام ، واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے روس کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 24 فروری کو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں ٹیلی گرام کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق روس یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد لاکھوں صارفین نے واٹس ایپ کی بجائے ٹیلی گرام استعمال کرنا شروع کر دیا۔

    میگافون کے مطابق مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں مجموعی میسجنگ ٹریفک میں ٹیلی گرام کا حصہ 43 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گیا ہے جبکہ واٹس ایپ کا حصہ اسی عرصے میں 48 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    اس سے قبل واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کی حمایت کرنے والے روسی شہریوں اور جنگ میں حصہ لینے والے روسی فوجیوں کے خلاف پرتشدد میسجزکی اجازت دے گی۔

    روس انسٹاگرام اور فیس بک کو شدت پسند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر چکا ہے روس کا موقف ہے کہ یوکرین سے جنگ کے معاملے پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا روس مخالف مہم چلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔

    فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر…

  • بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

    بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

    نیٹو کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار نے خبردار کیا کہ بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے "دی گارجئین” کے مطابق نیٹو کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق، روس کا قریبی اتحادی بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے اور روس کو بیلاروس کی سرزمین پر جوہری ہتھیار رکھنے کی ممکنہ اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

    ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والا یہودی یوکرین جنگ میں ہلاک

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے، اہلکار نے کہا کہ اتحاد کو تشویش ہے کہ بیلاروسی فوجی یوکرین میں لڑائی میں شامل ہو سکتے ہیں بیلاروس کی حکومت یوکرین کے خلاف بیلاروس کی کارروائی اور بیلاروس میں روسی جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ماحول تیار کر رہی ہے۔

    یوکرائنی حکام عوامی سطح پر خبردار کرتے رہے ہیں کہ بیلاروس جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ جہاں بیلاروس نے روسی فوجیوں کو زمینی اور فضائی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، نیٹو نے اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں دیکھا کہ بیلاروس کے فوجیوں نے براہ راست یوکرین میں جنگ میں حصہ لیا ہے۔

    اہلکار نے مزہد کہا کہ میں آپ کو یہ نہیں بتا رہا ہوں کہ وہ کل وہاں جوہری ہتھیار ڈالیں گے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی طور پر ایسے اقدامات کیے ہیں کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا جائے تو اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے-

    اہلکار نے کہا کہ یوکرین میں تنازع تعطل میں داخل ہونے کے دہانے پر ہے، یوکرین کی افواج روس کو پیش رفت کرنے سے روک رہی ہیں لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    اہلکار نے کہ اگر ہم پیشرفت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تو ہم تیزی سے ایک کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک فریق کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے گزشتہ دو ہفتوں میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کے باوجود، پوٹن ناکامی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں تعطل ایک "طویل، کھینچی جانے والی لڑائی” کا باعث بنے گا جس میں "شدید” جانی اور مالی نقصان شامل ہو گا۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    نیٹو اہلکار نے مزید کہ یہاں کوئی بھی فریق نہیں جیت سکتا۔ کوئی بھی فریق تسلیم نہیں کرے گا۔

    ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے آخر میں روس کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا کہ اس نے یوکرائنی ہدف پر ہائپر سونک میزائل داغے تھے۔ ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ اس طرح کے ہتھیار کا استعمال فوجی نقطہ نظر سے بہت کم معنی رکھتا ہے۔

    وقت آ گیا ہے ماسکو یوکرین کی خود مختاری اور سالمیت کو تسلیم کر لے،یوکرینی صدر

  • فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر قبضہ

    فرانس نے روس کےاثاثےمنجمند کر دیئے،سوئس حکام کا بھی سوئٹزرلینڈ میں پیوٹن کےقریبی ساتھی کی جائیداد پر قبضہ

    پیرس: امریکا کے بعد فرانس نے بھی روسی کاروباریوں کے تقریباً 850 ملین یورو کے اثاثے اور جائیدادیں منجمد کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے”گارجئین” کے مطابق وزیر خزانہ برونو لی مائیر نے فرانسیسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انفرادی کھاتوں میں 150 ملین یورو کو منجمد کیا ہے جس میں روس کی کریڈٹ لائنز اور ملک میں قائم کردہ روسی کاروبار شامل ہیں۔

    امریکہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے فرانسیسی رئیل اسٹیٹ میں روس کے 539 ملین یورو بھی منجمد کیے ہیں جو کہ تقریباً 390 جائیدادوں اور اپارٹمنٹس کی مالیت کے مساوی ہیں جبکہ اس کے علاوہ ہم نے ہم نے دو چھوٹے بحری جہازوں جس کی قیمت 150 ملین یورو ہے، اسے بھی ضبط کیا ہے۔

    واضح رہے کہ روسی اثاثوں پر فرانس نے یہ حالیہ کریک ڈاؤن یوکرین پر روسی حملے کے بعد کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ روسی مالکان اپنے اثاثوں کو فروخت کرنے اور ان سے نفع اٹھانے سے قاصر ہیں۔

    دوسری جانب گارجئین نے روئٹرز کے حوالے سے بتایا کہ سوئس حکام نے ایک پرتعیش پہاڑی پر بنے گھر پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ روسی تاجر پیٹر ایون کی ملکیت ہے، جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ساتھی ہیں۔

    NZZ am Sonntag اخبار کے مطابق، تین بیڈ روم والا یہ فلیٹ ایک پرتعیش کمپلیکس کی پانچویں منزل پر خوبصورت برنیس اوبرلینڈ کے ایک گولف ریزورٹ پر ہے، جو کہ برفیلی چوٹیوں سے گھرا ہوا ہے۔

    پیٹری، 67، پوٹن کا قریبی ساتھی اور اس گروپ کا ایک بڑا شیئر ہولڈر ہے جو روس کے سب سے بڑے نجی بینک، الفا کا مالک ہے۔ پچھلے مہینے، اس نے کہا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ کی طرف سے اختیار کی گئی "جعلی اور بے بنیاد” یورپی یونین کی پابندیوں کا مقابلہ کریں گے۔

    سوئٹزرلینڈ، ایک ایسا ملک جس نے روایتی طور پر غیر جانبداری کی پالیسی کا انتخاب کیا ہے، روسی اشیاء کے لیے ایک بڑا تجارتی مرکز ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سوئس بینکوں میں 213 بلین ڈالر (£161bn) روسی دولت موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کی خلاف ورزی پر خبردار کیا ہے اور ماسکو میں امریکی سفیر کو طلب کر کے جو بائیڈن کی طرف سے ولادیمیر پوٹن کو جنگی مجرم قرار دینے پر سرکاری احتجاج کے لیے طلب کیا ہے، جیسا کہ امریکی صدر نے یورپی اتحادیوں سے روسی حملے کو روکنے کی کوششوں پر بات چیت کی۔

    بائیڈن نے پیر کے روز برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں سے ماسکو کے خلاف متحد محاذ کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر بات کی، یورپی یونین کے اندر روس کے تیل اور گیس پر پابندیاں عائد کرنے میں کس حد تک اتفاق ہے-

    لائبریری جس میں صرف ممنوعہ کتابیں ہی رکھی جاتی ہیں

    روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکی سفیر جان سلیوان کو پوٹن کے بارے میں بائیڈن کے "حالیہ ناقابل قبول بیانات” پر ملاقات کے لیے طلب کیا تھا، جس کے چند دن بعد بائیڈن نے یوکرائنی شہروں پر بمباری کے دوران پوتن کو "جنگی مجرم” کہا تھا۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی صدر کے اس طرح کے ریمارکس، جو اتنے بڑے عہدے کی ریاستی شخصیت کے لائق نہیں ہیں، روس اور امریکا کے تعلقات مزید خراب کر دینے کا باعث بنیں گے-

    امریکہ اور روس نے 1933 سے سرد جنگ کے دوران سفارتی تعلقات برقرار رکھے، لیکن پوٹن کے علاقائی توسیع کی مہم شروع کرنے کے بعد سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات بہت زیادہ غیر مستحکم ہو گئے ہیں۔

    برطانیہ، فرانس، البانیہ، آئرلینڈ اور ناروے نے بھی روس پر یوکرین میں جنگی جرائم کا الزام عائد کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف نے ماسکو کو اپنے حملے کو روکنے کا حکم دیا ہے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    سعودی عرب میں آئل فیکٹری:گیس تنصیبات اور بجلی گھر پر میزائل حملے:بہت زیادہ نقصان

  • مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    خارکیف : مغربی سرحد پر بیلاروس کے حملے کا خدشہ ہے:یوکرین نے امریکہ سے مدد مانگ لی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کی مغربی سرحدوں پر بیلا روس کی جانب سے حملہ کیا جاسکتا ہے۔

    یوکرینی صدروولودیمیرزیلینسکی کے دفترسے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مغربی علاقے وولین میں بیلا روس کی جانب سے حملے کے خطرات کو محسوس کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین کے شمالی، جنوبی اور مشرقی حصوں پرحملے کر رہا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق یہ بات فوری طورپرواضح نہیں ہوسکی ہے کہ یوکرین کو مغربی سرحد پر روسی فوجوں سے حملے کا خطرہ ہے یا بیلا روس کی فوج سے۔

    بیلا روس روسی فوج، میزائلوں اور جہازوں کے لیے 24 فروری کے بعد اوراس سے قبل بھی بطوراسٹیجنگ پوسٹ خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ تاہم اس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ میں اپنی افواج کو صف آرا نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ بیلا روس کی جانب سے روسی افواج کی مدد کا تاحال کوئی عوامی معاہدہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    روسی صدر الیگزیندرلیکا شینکو نے جمعرات کو اپنے بیان میں یوکرین کی جانب سے داغے گئے میزائل کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بیلا روس نے روس کی مدد سے یوکرینی سرحد کے نزدیک پری پیت کے مقام پر اس یوکرینی میزائل کا راستہ روک کراسے تباہ کردیا تھا۔

    ادھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین میں جاری تنازع کے حل کے پیشِ نظر یوکرینی صدر وولوڈِمیر زیلنسکی سے ملنے کے لیے بالآخر تیار ہوگئے۔

    دونوں رہنماؤں کی جانب سے ان کی سفارتی ٹیمیوں نے 24 فروری کو تنازع شروع ہونے کے تھوڑا عرصہ بعد ہی امن مذاکرات شروع کر دیے تھے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نمائندہ لیزا ڈوسیٹ کا کہنا تھا کہ روسی صدر کا اب ماننا ہے کہ ان کے اعلیٰ سفارت کار کمزور پڑے ہیں اور ان کو کسی موقع پر بذاتِ خود مذاکرات میں شرکت کرنی ہوگی۔

    ڈوسیٹ کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کار بات کر رہے ہیں، مذاکرات کرنے والے بات کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین پیشرفت کر رہے ہیں۔ صدر پیوٹن بالآخر اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملیں۔ زیلنسکی جنوری سے ایک ملاقات کی درخواست کر رہے تھے۔

  • ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌:منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں‌

    کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے، پیوٹن کا دعویٰ

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو کے اسٹیڈم میں روسی پرچم لہراتے لاکھوں لوگوں سے خطاب میں کہا کہ کریملن کے مقاصد پورے ہوں گے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں خطاب کیا اور یوکرین پر حملے کو درست قرار دیا۔

    انہوں نے روسی پرچم لہراتے لاکھوں افراد سے کہا کہ کریملن کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان کے معروف جملوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ گھبرانا نہیں‌ ہم ایک خاص منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں‌

    لوزنکی اسٹیڈیم میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے، اوراس کی کیا قیمت ہو گی۔اور ہم اپنے تمام مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیں گے۔

    انھوں نے یوکرین کی لڑائی کو خصوصی فوجی آپریشن قرار دیا اور کہا کہ سپاہی جذبے سے لڑ رہے ہیں جو بات روس کے اتحاد کی مظہر ہے۔

    بقول پیوٹن کے کاندھا کاندھے سے ملا کر، وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں۔

    پیوٹن نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے اس قسم کے اتحاد کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔

    پیوٹن کے خطاب کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن نے تھوڑی دیر تک ان کا خطاب منقطع کرکے قومی ترانوں پر مشتمل ریکارڈ شدہ فوٹیج دکھائی۔ لیکن، بعدازاں کریملن کے سربراہ پھر اسکرین پر دکھائی دیے۔

    روسی خبر رساں ادارے نے کریملن کے ترجمان، دمتری پیسکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ سرورمیں تکنیکی خرابی کے باعث ٹیلی ویژن سے پیوٹن کی تقریر کی نشریات منقطع ہوئیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرین کا آپریشن ضروری تھا چونکہ یوکرین کو استعمال کرتے ہوئے، بقول ان کے، امریکہ روس کو دھمکیاں دے رہا تھا، جب کہ روس روسی زبان بولنے والے افراد کو یوکرین کے قتل عام سے بچانا چاہتا تھا۔

     

    یوکرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ کہ پیوٹن کا قتل عام کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ وہ روس کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں، درست نہیں۔

    جس اسٹیج پر پیوٹن خطاب کررہے تھے وہاں بینروں پر نعرے تحریر تھے، جیسا کہ دنیا کو نازی ازم کی ضرورت نہیں اورہمارے صدر کے لیے کا نعرہ ، جس کے لیے یوکرین میں جاری فوجی کارروائی کے دوران انگریزی حرف زیڈ کی شکل کا نشان استعمال ہو رہا ہے۔

    میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لوزنکی اسٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں دو لاکھ سے زائد لوگ موجود تھے۔

    پیوٹن نے ملکی افواج کو سراہا، جوشیلنگ اور میزائل حملوں کے ذریعے یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔اس موقع پر معروف روسی گلوکار اولیگ گزمانوف نے میڈ ان رشیا کے عنوان پر ایک گانابھی گایا۔

  • روسی حملوں کے باعث کیف میں ہلاکتیں 222 اورزخمیوں کی تعداد 889 ہو گئی

    روسی حملوں کے باعث کیف میں ہلاکتیں 222 اورزخمیوں کی تعداد 889 ہو گئی

    کیف: روسی حملوں کے باعث يوکرينی دارالحکومت کیف ميں ہلاکتوں کی تعداد 222 ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق يوکرينی حکام نے بتایا کہ دارالحکومت کيف ميں روس کی جانب سے حملوں میں اب تک 4 بچوں سمیت 222 افراد ہلاک ہو چکے ہيں جن ميں 60 شہری شامل ہيں۔

    حکام کے مطابق روسی حملوں کے باعث اب تک زخمی ہونے والوں کی تعداد 889 بنتی ہے ان ميں 241 شہری شامل ہيں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق يوکرين ميں روسی حملے ميں اب تک مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 780 ہے 1,252 افراد اب تک زخمی بھی ہو ئے ہيں۔

    قبل ازیں جمعرات کو امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ روسی افواج اپنے توپ خانے کو دارالحکومت کیف کی طرف منتقل کر رہی ہیں اور اس پر بمباری کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق بحیرہ اسود میں جنگی بحری جہاز مشرقی یوکرین کے شہر اوڈیسا کے اطراف میں حملے کی تیاری کر رہے ہیں روسی فوجی قافلے ابھی تک کسی ٹھوس نقل و حرکت کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں اور وہ دارالحکومت کیف سے 15 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو ملنے والا نیا سامان اسے روسی افواج کا قریبی فاصلے سے مقابلہ کرنے کی سہولت دے گا جیسا کہ خارخیو، کیف اور چرنیف کے آس پاس ہوا تھا۔

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    واضح رہے کہ 24 فروری کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے کیف کے اتحادی یورپی ممالک اور امریکا کی سربراہی میں بالعموم نیٹو ممالک نے یوکرین کو بہت سے دفاعی ہتھیار بھیجے ہیں ان میں سے بہت سے ممالک نے یوکرین کی حکومت اور بے گھر افراد کے لیے بھی مالی امداد مختص کی ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے 80 کروڑڈالر کی اضافی حفاظتی امداد مہیا کرنے کی منظوری دینے کا اعلان کیا تھا امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کے لیے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کررہا ہےاس کے تحت ہم آج بے پایاں سلامتی اور انسانی امداد مہیا کررہے ہیں ہم آنے والے دنوں اورہفتوں میں مزید کام جاری رکھیں گے ہم پابندیوں کی سزا کے ذریعے صدر ولادیمیرپیوٹن کی معیشت کو کمزورکررہے ہیں، یہ پابندیاں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تکلیف دہ ثابت ہوں گی-

    بائیڈن نے بتایا تھا کہ یوکرین کو 800 طیارہ شکن نظام، 9000 اینٹی آرمرسسٹم، 7000 چھوٹے ہتھیار، دوکروڑ گولیاں،گولہ بارود اور ڈرون مہیا کئے جائیں گے-

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں…

  • روسگرام اور انکل وانیاز،میکڈونلڈز اور انسٹاگرام کا روسی متبادل

    روسگرام اور انکل وانیاز،میکڈونلڈز اور انسٹاگرام کا روسی متبادل

    یوکرین میں فوجی آپریشن کے سبب ماسکو پر مغربی ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں بعض عالمی کمپنیوں نے روس میں کاروبار بند کر دیا ہے جس کے بعد ماسکو بظاہر متبادل راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار "دی انڈیپینڈنٹ” کے مطابق روسی پارلیمنٹ کی جانب سے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی مقامی کمپنی کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے تا کہ وہ "میک ڈونلڈز” کی جگہ لے سکے واضح رہے کہ کمپنی نے کچھ عرصہ قبل روس میں اپنے مراکز بند کرنے اور ملک سے رخصت ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔

    انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    رپورٹ کے مطابق نئی فاسٹ فوڈ چین کا نام Uncle Vanya’s ہے روس کا یہ نیا برانڈ ایک سال کے اندر کام شروع کر دے گا یہ پیش رفت روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے تحت عمل میں آئے گی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر…

    مذکورہ نئی فاسٹ فوڈ چین کا لوگو بھی امریکی مکڈونلڈز کے لوگو سے ملتا جلتا ہو گا ماسکو مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹ "انسٹاگرام” کی متبادل ایپلی کیشن کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے اس نئی ایپ کا نام "روسگرام” ہو گا اور اس کا ہدف ملک میں موجود انسٹاگرام کے 8 کروڑ صارفین ہوں گے روسگرام کی نئی ایپلی کیشن رواں سال اپریل میں قابل رسائی ہو گی۔

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر…

    واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران میں متعدد عالمی برانڈز روس سے رخصت ہو چکے ہیں ان میں زارا ، ایچ اینڈ ایم، مینگو، ایڈیڈاس، مکڈونلڈز اور اسٹار بکس وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں متعدد عالمی کمپنیوں نے روس میں اپنا کام روک دینے کا اعلان کیا ہے۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس دو ہفتوں سے بھی کم عرصے ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ملک بن گیا ہے ماسکو پر عائد پابندیوں کی مجموعی تعداد 5530 سے زیادہ ہے۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق تہران 3616 پابندیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    یوکرین تنازع:برطانیہ کا100 سےزائد روسی تاجروں کے اثاثے منجمد کرنے اور روسی مصنوعات…