Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    رتن ٹاٹا نے ایک انٹرویو میں کہا جب وہ ٹاٹا موٹرز شروع کر رہا تھا تو اس وقت اسکا کوئی دوست نہیں تھا. ایلون مسک سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا آپ اس نئے نوجوان کو کیا مشورہ دیں گے جو کل کا ایلون مسک بننا چاہتا ہے؟ مسک نے کہا میں اسے ایلون مسک بننے کا مشورہ کبھی نہیں دوں گا. اس زندگی میں کوئی fun نہیں ہے.

    دولت و شہرت کی دوڑ میں ایک مقام آتا ہے جب دوڑنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے میں کتنا تنہا ہوں. اسکا تجربہ اسے سمجھا دیتا ہے میرے آس پاس ہر وقت جی جی کرنے والے میری محبت میں میرے ساتھ ہیں یا اس دولت و شہرت میں اپنا حصہ لینے کیلئے.؟ کیونکہ ہماری اکثریت زندگی کی شروعات میں دوڑنے اور چلنے کا فرق نہیں سمجھ پاتی.

    ہم لوگ سمجھتے ہیں چلنے اور دوڑنے میں بس رفتار کا ہی فرق ہے. لیکن جسم کیلئے یہ دو بلکل الگ چیزیں ہیں. چلتے ہوئے ایک قدم آپ کا ہر وقت زمین پر ہوتا ہے جبکہ دوڑتے ہوئے آپ ہوا میں ہوتے ہیں. کچھ دیر زمین کو جو چھوتے بھی ہیں تو اپنے ہی جسم کا وزن تین گنا ہو کر ایک جھٹکا جسم کو دیتا ہے. ہمیں یہ جھٹکے تھکا دیتے ہیں.

    زندگی کا فن چلنے میں ہے. چلتے رہنے میں ہے. چلنا آپ کو اپنے لئے اور اپنوں کیلئے وقت دیتا ہے. زمین ہمیں تھکنے نہیں دیتی ہر قدم دوسرے قدم کیلئے حوصلہ دیتا ہے. دوڑ تھکا دیتی ہے. ہمارے پاس نہ اپنے لئے نہ اپنوں کیلئے پھر کوئی وقت ہوتا ہے. ہم بہت قیمتی لمحے کھو کر آگے نکل تو جاتے ہیں لیکن پھر ہم تنہا اور تھکن سے چور بھی ہو جاتے ہیں.

  • چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل کی کوئی اتنی قدر نہیں کرتا لیکن بہت مہنگے والا موبائل فون کوئی خرید لے تو اس کی قیمت مجبور کرتی ہے کہ اب اس کی قدر بھی کی جائے. موبائل فون استعمال کرنے والے یہ قدر مند پھر اس کی تین باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.

    اول اس کے سوفٹویر اپڈیٹ کا کہ اتنی مہنگی چیز اپڈیٹ نہ ہو تو فائدہ کیا. دوسرا اس کی بیٹری ہر وقت فل چارج رہے اور تیسرا اس کی صفائی چاہے اندرونی ہو جیسے اینٹی وائرس فضول لنکس اور میموری صاف رکھنا یا بیرونی جیسے سکریچز سے بچانے کیلئے کور پروٹیکٹر وغیرہ.

    کیا آپ خود کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہی تینوں چیزیں آپ کی بھی ضرورت ہیں. کتابیں علم اور تجربات آپ کو اپڈیٹ رکھتے ہیں. اچھی نیند اور اچھی صحت آپ کی توانائی کی بیٹریاں چارج رکھتی ہیں. آپ وہ فضول عادات ختم کرتے ہیں جو آپ کی توانائی ضائع کریں. اور اندرونی بیرونی صفائی آپ کیلئے بھی لازم ہے. آپ اپنی زندگی اپنی سوچ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں.

    اللہ رب العزت نے انسان کو بہت قیمتی بنایا ہے. یہ ہم پر ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر اس نعمت زندگی کی قدر کریں یا خود کو چائنا موبائل سمجھ کر بے قدر زندگی گزار لیں. کام دونوں ہی کرتے ہیں لیکن کلاس بہت الگ ہے. جیسے ایک ہی ٹرین کی فرسٹ کلاس اور تھرڈ کلاس کا سفر ہو.

  • زومبیز — ریاض علی خٹک

    زومبیز — ریاض علی خٹک

    سترہویں صدی میں جب جنوبی افریقہ کے غلاموں کو براعظم امریکہ لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحری جہاز پہلے جزائر ہیٹی آتے تھے. اس جزیرے کے لوگ جب جہازوں سے ان زندہ لاشوں کو اترتے دیکھتے طویل بحری سفر اور غیر انسانی سلوک کے بعد بے ترتیب قدموں سے ایک قطار میں چلتے ان غلاموں کو وہ زومبی کہتے تھے.

    فلم انڈسٹری نے بعد میں زومبی کو ایک مخلوق منوا کر اسے شہرت دی. ایسی لو بجٹ فلمیں بھی صرف زومبی دکھا کر کامیاب ہوئیں جن میں نہ کہانی تھی نہ سکرپٹ اچھا نہ ہدایتکاری کا کوئی کمال لیکن زومبی کا کردار ہی ایسا تھا کے لوگوں نے جوش و خروش سے ان کو دیکھا.

    ان ڈبہ فلموں کا ہی کمال ہے کہ زومبی کو ایک عقل سے عاری قابل نفرت بے وقوف سا کردار بنا کر ایسا پیش کیا گیا کہ یہ زومبی صرف انسانی گوشت و خون کے پیاسے ہیں. یہ نہ اناج کھاتے ہیں نہ مال مویشیوں کو کچھ کہتے ہیں ان کی کوئی انسانی ضرورت ہے. بس یہ سب آدم خور ہیں.

    اس پوری کہانی میں وہ کردار چھپ گئے جنہوں نے ان کو زومبی بنایا. جو ان کو ان کی آباد بستیوں سے کھینچ کر بحری جہازوں پر لائے اور زنجیروں سے باندھ دیا. ذہنی غلامی آج ظالم کو تہذیب یافتہ اور مظلوم کو زومبی کہتی ہے. زومبی جن کو مارنا پھر ثواب بنا دیا جاتا ہے. لیکن لازم نہیں ہر دفعہ سامراج کی فلم ہی ہٹ ہو کوئی دن زومبیز کا بھی آئے گا اور تصویر کا دوسرا رخ پھر دنیا دیکھے گی.

  • کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک

    میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .

    لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.

    مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.

    مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.