Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • تاج محل — ریاض علی خٹک

    تاج محل — ریاض علی خٹک

    آگرہ میں تاج محل کے سامنے کسی انجنئیر کو کھڑا کر دیں. وہ آپ کو اس عمارت کی فن تعمیر میں وہ زاوئے نکال کر دکھائے گا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے. وہ بتائے گا دیکھو یہ اسلامی فن تعمیر کا ٹچ ہے یہ ہند کا تو یہ ثمرقند و بخارا کا زاویہ ہے.

    کسی شاعر کو کھڑا کر دیں وہ محبت کی لازوال داستان سنائے گا. کسی تاجر کو کھڑا کر دیں وہ اس کی آج کی قیمت طے کرنے لگے گا. تاریخ دان اس کی تاریخ سنائے گا کسی سیاست کے مارے مذہب پرست کو کھڑا کر دیں وہ بتائے گا یہ ایک مندر کے اوپر کھڑی عمارت ہے اسے گرا دو.

    ہمارے پختون دیہاتی معاشرے میں کسی آرکیٹیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی. ایک قطار میں لڑکے گن کر کمرے بنا دیتے ہیں سامنے ایک برآمدہ ہوگا برآمدے میں ہوا یا خوبصورتی کیلئے بارانی جالی لگی ہوگی اور آرکیٹیکچر کے نام پر صرف برآمدے کے ستون رے جاتے ہیں. سیدھے رکھیں یا ترچھا کر کے کونا آگے کر دیں؟ زیادہ انجینئرنگ ہو تو بس ایک کی جگہ دو ستون کردو. جسے بھی سامنے کھڑا کردو وہ کہے گا بس رہنے کیلئے ہی عمارت بنی ہے.

    ہماری فیس بُک کی تحریریں گاوں کی یہی سیدھی قطار کی سیدھی آبادی ہوتی ہے. کچھ لوگ پتہ نہیں کیسے خود کو انجینئر یا تحریر کو تاج محل سمجھ کر اس میں سے وہ مفہوم نکالنے لگتے ہیں جو ہم نے بھی سوچے نہیں ہوتے لیکن کمال تو سیاست کے مارے ذہن دکھاتے ہیں وہ اس کی بنیاد پر ہی سوال کھڑا کر دیتے ہیں.

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    بنجامن فرینکلن کا ایک سیاسی حریف اسے شدید ناپسند کرتا تھا. جبکہ دوسری طرف فرینکلن چاہتا تھا وہ اسکا دوست بن جائے. فرینکلن کو پتہ چلا اس کے پاس ایک نایاب کتاب ہے. فرینکلن نے اسے پیغام بیجھا کیا آپ کچھ دن کیلئے عاریتاً یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں.؟ کتاب اسے دے دی گئی. کچھ دن بعد کتاب پڑھ کر فرینکلن نے اسے ایک شکریہ اور تشکر کے تحریری نوٹ کے ساتھ واپس کردی. اور ان کی دوستی کی ابتداء ہوگئی.

    بنجامن فرینکلن ایک ہی وقت میں بہت کچھ تھا. وہ سائنس دان بھی تھا اور سیاستدان بھی لکھاری بھی تھا پبلشر بھی سفیر بھی تھا اور فلسفی بھی لیکن اوپر اس کے تحریر اس تجربے کو بن فرینکلن ایفیکٹ کہتے ہیں. ہمارا دماغ دو انتہاؤں کے درمیان اکثر کنفیوز ہوتا ہے ہم اپنی تسلی اور اطمینان کیلئے پھر چیز کو یا تو سفید یا سیاہ کہتے ہیں. دن یا رات اچھا یا برا فرشتہ یا شیطان. دماغ درمیان میں کچھ رکھنا نہیں چاہتا تو دستیاب معلومات پر فوراً ایک انتہا پر چلا جاتا ہے.

    بنجامن فرینکلن نے اپنے اس حریف کو مجبور کیا وہ بنجامن پر احسان کرے. حریف کے دماغ کو اس احسان کیلئے اپنی انتہا سے کچھ نیچے اترنا پڑا. اور واپسی کے نوٹ نے کہا یار بندہ اتنا بھی برا نہیں اور ایک تعلق کی ابتداء ہوگئی. بقول امام راغب اصفہانی احسان ایسا عمل ہے جو ہر طرف سے خوبصورت ہو متوازن ہو.

    ایک حدیث میں ہے احسان دین کی تیسری ضرورت ہے. اور یہ درجہ بندے کو تب حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں. یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم کسی انتہا پر نہ ہوں. نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کیلئے. اگر آپ سمجھتے ہیں دوسرے آپ کیلئے انتہا پر ہیں تو فرینکلن ایفیکٹ کی سائنس سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو موقع دیں وہ آپ پر کوئی احسان کریں.

    لیکن اگر ہمارا نفس دوسرے کا احسان لینے پر بھی آمادہ نہ ہو تو پھر انتہا پر ہم خود کھڑے ہوتے ہیں. ایسے میں خود پر احسان کریں. انتہا سے نیچے اتریں. بندگی کا سارا حسن دو انتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے.

  • جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

    وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

    استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

    کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.

  • اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    بے شک ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہماری جلد سے ہر منٹ ہزاروں مردہ سیل جھڑ کر گر رہے ہوتے ہیں. جسم ان کی جگہ جلد کے نئے سیلز بنا رہا ہوتا ہے. اللہ رب العزت نے ہمارے جسم میں یہ ایک خودکار نظام بنایا ہے. شُکر کریں اللہ نے روزانہ کی یہ مرمت ہمارے ذمہ نہیں لگائی ورنہ تو آج کا کام کل اور کل کا پرسوں پر چھوڑ کر ہم سب بھوت بن چکے ہوتے.

    گاڑی بھی جب سڑک پر چلتی ہے تو اسے ڈینٹ بھی پڑتے ہیں خراشیں بھی آتی ہیں اور بدقسمتی ہو تو ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں. شکر ہے ہم میں کچھ لوگ ڈینٹر پینٹر بن گئے یہ کاریگر ایسے ہیں کہ گاڑی کو دوبارہ وہی شکل دے دیتے ہیں جیسے نئی گاڑی ہو. ورنہ سڑکوں پر کباڑ دوڑ رہا ہوتا.

    کسی بھی ڈینٹر پینٹر استاد سے پوچھیں آپ کے اوزار میں سے اہم اوزار کیا ہے تو وہ آپ کو جو چند اوزار دکھائے گا اس میں ریگمال ضرور ہوگا. یہی ریگمال ہماری شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے. تکلیف تو ہوتی ہے لیکن اپنی مرمت کیلئے پہلے ہمیں اپنی سطح صاف کرنی ہوتے ہے ہموار کرنی ہوتی ہے. تب ہی اس پر وہ نیا رنگ چڑھتا ہے جو بے جوڑ نہ ہو.

    کچھ کام اللہ نے ہمارے ذمہ نہیں لگائے. ہم اپنے سیلز کی مرمت خود ہر منٹ نہیں کر سکتے. لیکن کچھ ہمارے ذمہ لگائے ہیں جو ہمارے اعمال کا حساب بناتے ہیں. ان اعمال کو اپنی عادت بنانے کیلئے شخصیت میں پڑے ڈینٹ اور خراشیں صاف کرنی ہوتی ہے. بری عادت کو کھرچ کھرچ کر نکالنا ہوتا ہے. اسی پر نئی اچھی عادات کا رنگ بھرا جاتا ہے.

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں . دیکھتے ہیں مجھے اور آپ کو کونسے نمبر کا ریگمال لگے گا.؟

  • باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.

    ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.

    مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

  • میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟

    مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.

    اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.

    رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.

  • آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!!  — ریاض علی خٹک

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک صاحب ریٹائرڈ ہوگئے. اچھا بھلا ریٹائرمنٹ فنڈ ملا. بچے تعلیم کے آخری مراحل میں تھے. کسی نے ان سے پوچھا کہ اب کیا پروگرام ہے. انہوں نے کہا کچھ نہیں اب اللہ اللہ کریں گے. پوچھنے والے نے کہا ایسے تو سارا فنڈ آپ گھر بیٹھ کر کھا جائیں گے. کسی کاروبار کی سوچ لیں. ان صاحب نے کہا بھائی مجھے کاروبار کی نہ سمجھ نہ تجربہ نہ شوق ہے. بجائے اپنا فنڈ مارکیٹ میں دوسروں کو کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ گھر بیٹھ کر خود اور اپنے بچوں کو کھلا دوں.؟

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے. ہماری مارکیٹ میں ہر دوسرے دن ایک نیا ڈبل شاہ نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ کامیابی سے سب کو چونا بھی لگاتا ہے کیونکہ ہم خود سے بھی جھوٹ بولتے ہیں. جس مارکیٹ میں دس سے بیس فیصد ریٹرن کیلئے لوگ صبح سے رات تک لڑ رہے ہوتے ہیں ایک بندہ بہت اعتماد سے بتائے گا میں آپ کو پچیس فیصد ریٹرن دوں گا.

    ڈبل شاہ ہمیں ایک ایسا لالچ دیتا ہے جس کیلئے پھر ہم خود سے جھوٹ بولنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں. ہمیں ڈبل شاہ دھوکہ نہیں دیتا ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے. مارکیٹ سب کیلئے کھلی ہے خود سے سچ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ خود مارکیٹ میں بیٹھ کر اپنے فیصلے کریں. پھر نفع ہوا یا نقصان کم از کم آپ سچے ضرور ہوں گے.