Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو کسی کی شخصیت کا بیانیہ بن جاتی ہیں. جیسے دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہو جانا. یہ دروازہ اگر آپ کھول سکتے ہیں تو دوسرا بھی کھول سکتا ہے. لیکن کسی کا یہ دروازہ آپ کیلئے کھول کر کھڑا ہونا آپ کو وہ عزت دیتا ہے جو بتا رہا ہوتا کہ آپ اہم ہیں آپ کا وقت اور توانائی اہم ہے.

    چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کو اپنی سمجھ دیتی ہیں. جیسے ڈور وے ایفیکٹ ہو. آپ کچھ لینے دوسرے کمرے میں گئے لیکن جاکر بھول گئے لینے کیا آیا تھا. کیونکہ ہمارے دماغ کی ڈیزائینگ ایسی ہے کہ جب یہ کوئی دروازہ پار کرتا ہے منظر اور ماحول بدل جاتا ہے تو اس کو اپنی یادداشت ری ایڈجسٹ کرنی ہوتی ہے. ایسے میں وہ یہ بھول جاتا ہے میں یہاں آیا کیوں تھا.

    ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے چھوٹے چھوٹے حل ہوتے ہیں. جیسے کاپی میں کچھ لکھنا ہے لیکن قلم دوسرے کمرے میں ہے تو کاپی ہاتھ میں لے کر جائیں آپ کبھی قلم نہیں بھولیں گے. البتہ یہی چھوٹی باتیں زندگی کی بڑی بڑی باتیں سمجھاتی ہیں. مثلاً مایوسی کسی ایک مقام کسی ایک منظر کی ہوتی ہے. اسے ہی زندگی سمجھ کر زندگی سے مایوس ہوجانے کی بجائے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیں. ماحول اور منظر جب بدل جائے گا تو زندگی پر آپ کی سوچ بھی بدل جائے گی.

    زندگی سے مایوس لوگ کسی ایک ماحول اور منظر کے گرفتار لوگ ہوتے ہیں. ایسے میں دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہونے والے لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں. ان کا یہ چھوٹا سا کام دوسروں کو اپنی ذات میں معتبر بنا دیتا ہے.

  • اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    زندگی کا موسم ایک سا نہیں رہتا اس میں نشیب و فراز آتے ہیں. جب وقت موافق نہ ہو تو تنہا ایک معصوم سا پودا بھی اسے بھانپ لیتا ہے. وہ ہوا میں قدرت کی مہربان نمی جب کم دیکھتا ہے سورج کو دہکتے اور آسمان کو بادلوں سے صاف دیکھتا ہے. آس پاس خشک ہوتے میدان اور مرجھائے چہروں والے گھاس کی تلاش میں چرتے مویشی دیکھتا ہے تو یہ بھی پریشان ہو جاتا ہے.

    لیکن پودا روتا نہیں ہے. کیونکہ اوپر اللہ اور نیچے اس تنہا کو سننے والا کوئی دستیاب نہیں ہوتا. وہ اپنے پتوں پر بنے چھوٹے چھوٹے سوراخ یعنی stomata بند کر لیتا ہے جیسے طوفان کے آثار دیکھ کر ہم اپنی کھڑکیاں دروازے مضبوطی سے بند کرتے ہیں. وہ اپنی جمع توانائی اپنی جڑوں پر لگا کر ان کو زمین کی مہرباں گود میں پھیلانے لگتا ہے. وہ اپنا اوسموس سسٹم ری ایڈجسٹ کرتا ہے.

    پودا اپنی بقا کی خاموش جنگ لڑنے لگتا ہے. اس کے مرجھائے پتے اُس انتظار پر البتہ گواہ ہوتے ہیں جو آسمان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں. یہاں تک کے وقت دوبارہ مہربان ہو جائے آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جائیں اور منظر بدل جائے. انسان بھی وقت کے اس نشیب و فراز میں اسی طرح پریشان ہو جاتے ہیں. کچھ مرجھائے ہوئے چہروں کے پیچھے بقا کی یہی جنگ چل رہی ہوتی ہے.

    انسانوں کو البتہ زبان ملی ہوئی ہے. وہ احساس ملا ہے جو دوسرے کی پریشانی نہ صرف محسوس کر سکتا ہے بلکہ اسے بانٹ بھی سکتا ہے. ہم ایک دوسرے کو اچھے دنوں کی اُمید دے سکتے ہیں. ہم کسی کی خزاں میں اپنی بہار کے کچھ رنگ دے کر اس انتظار کو آسان بنا سکتے ہیں. یہی انسانیت کا شرف ہے جو اسے جانوروں اور پودوں سے ممتاز کرتا ہے.

  • خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پرندہ اپنے انڈوں بچوں کو سانپ سے بچانے کیلئے گھونسلا ایسا بناتا ہے جو سانپ کو فریب دیتا ہو. وہ سامنے کی طرف ایک خانہ بناتا ہے جو خالی ہوتا ہے. اس کے اوپر سے ایک سرنگ گھوم کر پیچھے جاتی ہے جہاں وہ انڈے بچے دیتا ہے. سانپ خالی خانہ میں منہ مار کر مایوس چلا جاتا ہے. اللہ رب العزت نے جانوروں اور پرندوں کو بھی اپنے حصے کی عقل دی ہے.

    پرندہ یہ فریب دوسرے سے کرے تو سمجھ آتا ہے. لیکن کچھ لوگ یہی فریب اپنے ساتھ کرتے ہیں. اسے خود فریبی یا self deception کہتے ہیں. اس میں انسان خود سے جھوٹ بولتا ہے، ایک جھوٹ چھپانے کیلئے پھر دوسرا اور یہ سلسلہ اتنا پھیل جاتا ہے کہ ہماری ذات جھوٹ کے بنے جال میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے مکڑی کا کوئی جال ہو.

    یہ جھوٹ کیا ہوتا ہے.؟ جب ہم سچائی اور حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز شروع کر دیں. جب ہم وہ نہ ہوں جو ہم دکھانے کے جتن کر رہے ہوتے ہیں. جب ہم سمجھ لیں ہم نے جو سمجھا جانا یہی اٹل ہے. تب ہم دوسروں سے ڈرتے ہیں کوئی اسے رد نہ کردے. ہم خود سے بھی ڈرتے ہیں اور اپنی ہر کمی کوتاہی کمزوری کیلئے تاویلات ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں.

    شخصیت پھر تعصبات کا شکار بن جاتی ہے. جو بات کام یا فرد آپ کی تائید کرتا ہے آپ اسے پسند کرتے ہیں. جسے آپ ناپسند کریں اس پر بات کرتے اس سے سامنا کرتے گھبراتے ہیں. اپنی کمزوری کو چھپانے کیلئے خود سے اور دوسروں سے جھوٹ بولتے ہیں. شخصیت کے گھونسلے میں سامنے کچھ تو پس پردہ کچھ اور ہوتا ہے. زندگی چوکیداری کرتے بیت رہی ہوتی ہے.

    یہ خود فریبی ایک روگ ہے. جیسے قرآن سورۃ

    البقرة میں منافقین کے بارے کہتا ہے.

    فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ‏ ۞

    "ان کے دلوں میں روگ ہے چنانچہ اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کردیا ہے اور ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے. ” خود فریبی بھی اپنی ذات اور بندگی سے ایک منافقت ہی ہے.

  • ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق؟ — ریاض علی خٹک

    یورپ کے کسی قصبے میں بھکاری نے ایک گھر کے دروازے پر آواز لگائی. مالک مکان دروازے پر بچا ہوا کھانا لایا اس کے سامنے رکھا اور بھکاری سے کہا چلو دعا کریں تم میرے پیچھے دہرانا. عیسائیت میں کھانے سے پہلے کی دعا میں مالک مکان نے جب کہا اے جنت میں ہمارے باپ بھکاری نے کہا "اے جنت میں اس کے باپ” . مالک مکان نے کہا نہیں بولو ہمارے باپ بھکاری نے پھر کہا اس کے باپ.

    مالک مکان نے جھنجھلا کر کہا تمہیں دعا نہیں آتی بولو ہمارے باپ گداگر نے کہا دعا تو آتی ہے لیکن اس رشتے میں پھر میں تمہارا بھائی بن جاتا ہوں جسے عزت و احترام سے گھر میں بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے نہ کہ باسی کھانا گھر کے دروازے کے فرش پر کھلایا جائے. اس لئے جنت میں تمہارے فادر کو یاد کرتے ہیں جس نے تمہیں گھر دیا اور مجھے بھکاری بنایا.

    کہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ سارے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں. اس رشتے پر ہم سب ہی بہن بھائی ہیں. اللہ رب العزت کی ایک تقسیم اور ہماری زندگی کا امتحان ہے جو ہمیں مختلف مقامات پر آزمایا جا رہا ہے. البتہ عزت دینا ہم بھولتے جا رہے ہیں. ہم نہیں جانتے کون کس کشمکش زندگی سے دوچار ہے.؟ کیوں دوچار ہے لیکن عزت نفس تو سب کا حق ہے.

    یہی عزت نفس ہیومن رائٹس یا انسانی حقوق کہلاتی ہے. یہ عزت ہو تو مشکل سے مشکل امتحان بندہ آسانی سے سہہ لیتا ہے. بے عزت ہو تو چھوٹی تکلیف بھی پہاڑ لگتی ہے. ایک دوسرے کی عزت کریں زندگی سب پر آسان ہو جاتی ہے.

  • وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    جوئے کیلئے پوری دنیا میں مشہور لاس ویگاس کے کسی جوا خانے میں آپ کو گھڑی نظر نہیں آئے گی. وہ چاہتے ہی نہیں کہ اپنی کمائی کو جوئے کی ٹیبل پر رکھنے والے جواری کو وقت گزرنے کا احساس ہو. آپ کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں چلے جائیں اس کی دیواروں پر بھی گھڑی نہیں ہوگی. وہ بھی نہیں چاہتے گاہک کو ہماری اشیاء سے بھری الماریوں کے درمیان وقت کا حساب یاد رہے.

    مشہور زمانہ روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا دنیا کے سب سے بڑے جنگجو وقت اور صبر ہیں. اگر آپ ادب کے میدان سے تعلق نہیں رکھتے تو چلیں دنیا کے کسی بھی امیر ترین انسان سے پوچھیں دولت کی کوئی یک لفظی چابی کیا ہے.؟ وہ بتائے گا "سرمایہ کاری” یعنی انویسٹمنٹ. وقت ہماری سرمایہ کاری ہے.

    ہمارا سرمایہ ہمارا "وقت” ہے. وقت کے اس بازار میں اگر آپ ہیں تو سرمایہ وقت آپ کے پاس ہے . چیلنج ایک ہی ہوگا آپ اپنے اس سرمائے کی سرمایہ کاری کیسے کرتے ہیں.؟ جوا اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری میں آپ نہیں ہوتے بلکہ آپ اپنے چانس یا نصیب کو سامنے کردیتے ہیں. بازاروں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں. وقت کے اس سرمائے کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے.

    اس سرمایہ وقت کی حفاظت صبر کہلاتا ہے. بے صبر اپنا سرمایہ وقت جواری کی طرح ہار رہا ہوتا ہے. وقت کے بہترین جنگجو پھر صبر سے اپنے وقت کا حساب کرتے ہیں اور بروقت اپنے فیصلے کرتے ہیں.

  • امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    بنی اسرائیل کی روایات میں آتا ہے نوجوان داود علیہ السلام نے جب جالوت کے مظالم اور خوف کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی سے پوچھا تم لوگ اس کے خلاف کھڑے کیوں نہیں ہوتے.؟ ان کے بھائی نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے وہ کتنا بڑا دیو ہے. کتنا لمبا چوڑا ہے. کیا اس کو مارا جا سکتا ہے.؟ داود نے کہا ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے جس طرف سے بھی نشانہ لگاو یہ بچ ہی نہیں سکتا.

    اور انہوں نے اسے اپنی غلیل سے مار دیا تھا. بڑی چیزوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے. کوئی نشانہ خطا ہی نہیں ہوتا. جیسے بڑے بڑے پہاڑ ہوں. ایک چیلنج کی طرح ناقابل عبور لگتے ہیں. لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے درے ان کی بلندی کے راستے بن جاتے ہیں. ایک چھوٹی سی سرنگ لمحوں میں اسے پار کرا دیتی ہے اور پہاڑ دیکھتا رے جاتا ہے.

    بڑی بڑی چوٹیاں جیسے کے ٹو ماونٹ ایورسٹ ہم نے چار پانچ پڑاو میں تقسیم کر کے نہ صرف سر کر لیں بلکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں. ہم دوسروں میں شیشے کی طرح خود کو دیکھتے ہیں. دوسرے بھی ہم میں خود کو شیشے میں دیکھتے ہیں. لیکن جب آپ اپنی ذات کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ شیشے ختم ہو جاتے ہیں.

    داود کے بھائی کو جالوت میں ڈرا سہما ہوا اپنا آپ نظر آرہا تھا. جالوت کو دوسروں میں اپنا دیو قامت قد اور رعب و دبدبہ نظر آرہا تھا. لیکن داود علیہ السلام کو ایک ایسا دیو ہیکل جسم جسے جس طرف سے بھی مارو نشانہ خطا ہو ہی نہیں سکتا. اس لئے بڑے خواب بڑے چیلنج دیکھنے والے بھلے ان چوٹیوں کو سر نہ بھی کریں وہ کسی نہ کسی پڑاو پر سر کرنے کی امید اور یقین ضرور رکھتے ہیں.

  • اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پھول کا حُسن اُس کلی کے صبر میں ہے جس نے اس حسن کو سمیٹ کر رکھا ہوتا ہے. دنیا کی نظروں سے دور یہ کلی پرت در پرت اپنے پتے ترتیب سے بنا رہی ہوتی ہے. ایک لاروا اپنے حول میں بند تتلی کے وہ پر بہت صبر سے بنا رہی ہوتی ہے جو اس بظاہر بدشکل کیڑے کو خوبصورت رنگ دے کر قوت پرواز دے گا.

    ہم لوگ اس صبر پر گواہ نہیں ہوتے. ہم تو کھلے ہوئے پھول اور اس پر لپکتی خوبصورت پروں کی تتلیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں شائد یہ پیدا ہی ایسے ہوئے. ہم انسان جو دیکھتے ہیں اسے ہی مان لیتے ہیں. اس لئے ایک سادہ سا سوال بھی ہمیں کنفیوز کر دیتا ہے جیسے کوئی پوچھ لے کیا آپ خود کو پسند کرتے ہیں.؟

    ہماری اکثریت خود کو ہی نہیں جانتی. کیونکہ خود کی پسندیدگی کا مطلب اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا ہے. ایسے لوگ خود پر دوسروں کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے. ان کو خوش رہنے کیلئے باہر کے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ خود کے ساتھ خوش رے سکتے ہیں اور منفی لوگوں کیلئے ان کی ذات پر صبر کے ویسے ہی پردے ہوتے ہیں جیسے کلی یا لاروے نے اپنے رنگ بچائے ہوتے ہیں.

    اس لئے ہم خود کو پسند کرنے کا دعویٰ کرتے ہچکچاتے ہیں. ہم دوسروں کے رنگ دیکھ کر ان کو خوش قسمت اور خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں. اسی بدقسمتی میں ہم اپنی زندگی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں. شائد کچھ رنگ ہم بھی جمع کر لیں؟ اور زندگی ایک دوڑ بن جاتی ہے. ہم تھک جاتے ہیں. خود سے راضی شخص جبکہ ایک صحرا میں بھی ایسے ہی خوش ہوگا جیسے یہ کوئی گلستان ہو. خود سے راضی اپنے بنانے والے سے راضی ہوتا ہے. اور مالک اس سے راضی ہوکر اسے وہ رنگ دیتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے اسے خوش قسمت سمجھتے ہیں.

  • باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    چاول کے پودے سے نکلے ریشے سے بنے تتامی غالیچے جاپانی تہذیب کی نشانی ہیں. اسے یہ گھر میں بچھاتے ہیں اسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اسی پر لیٹ کر سو جاتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ یہ تتامی غالیچہ کافی نازک ہوتا ہے. یہ گیلا ہو جائے تو بھی مسئلہ، گرد آلود ہوا تو فنگس لگ جاتی ہے. جاپانیوں نے اسکا حل صفائی میں نکالا. جاپانی گھر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں. گھر کا ہر فرد اندر داخل ہونے سے پہلے جوتے نکال لیتا ہے. بھاری بھرکم کپڑے دروازے پر ہی اتار لیتا ہے اور ان کے برتن گہرے بڑے ہوتے ہیں. تاکہ کچھ گرنے کا چانس ہی کم ہو.

    یورپ اور دوسرے ٹھنڈے ممالک میں بھی گھر کے دروازوں پر ایک ہینگر سٹینڈ ہوتا ہے. آپ اپنے اوور کوٹ اور لمبے بھاری جوتے دروازے پر اتار کر داخل ہوتے ہیں. ہمارے ہاں ایسے رواجوں کی طرف کم ہی کسی کا دھیان جاتا ہے. ہم سب کچھ پہنے گھر میں داخل ہوتے ہیں. باہر کے استعمال کے جوتے ہی کیا باہر کی زندگی بھی اپنے ساتھ کھینچ کر اندر لے آتے ہیں.

    کوئی بھی کاروبار ہو آفس ہو نوکری ہو یا روزگار اس میں اونچ نیچ کام کا حصہ ہے. بلکل ویسے ہی جیسے روز آتے جاتے سڑک کی ٹریفک پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی کام کی ایک اپنی ٹریفک ہوتی ہے. کبھی کھلی سڑک ملتی ہے کبھی ٹریفک جام تو کبھی سگنلز بند تو کبھی یہاں ٹکر وہاں ٹکر. لیکن یہ عملی زندگی کے میدان کا کھیل ہی تو ہے.

    مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم یہ سب کچھ سر پر سوار کر لیں. اور بڑے مسائل تب بنتے ہیں جب یہ سواریاں ہم اپنے ساتھ گھر پر بھی لے آئیں. گھر میں سارا دن انتظار کرتے بچے خواتین تتامی کے غالیچے کی طرح نازک اور کمزور ہوتے ہیں. وہ یہ پریشر برداشت نہیں کر سکتے. اور ماحول بگڑنے لگتا ہے. ہمیں بھی اپنے دروازوں پر ہینگر لگانے چاہئے. جہاں گھر کا رواج بنا دیا جائے کہ باہر کی آلودگی یہاں ٹانگ کر اندر آنا ہے.

    ایک پرسکون گھر سے سکون حاصل کر کے نکلا فرد پھر دن بھر کا یہ کھیل سکون سے کھیل سکتا ہے.

  • "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    "نامکمل زندگی” — ریاض علی خٹک

    شیر شاہ کراچی میں کار کی پسنجر سیٹ پر انتظار کرتے شیشے سے دیکھا ایک لمبا تڑنگا مجہول سا سادہ آدمی مجھے غور سے دیکھ رہا ہے. آنکھیں چار ہوئیں تو وہ میری طرف بڑھا. سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ نے کئی تجزیے کر ڈالے. یہ خطرناک علاقہ ہے لوٹنے والا نہ ہو.؟ یہ ضرور اب کچھ مانگے گا.؟ سیل فون بٹوہ کہاں ہے؟ کیا اوپری جیب میں کچھ کھلے پیسے ہیں؟

    وہ آدمی جب پہنچا تو اس نے پوچھا باو جی خیریت تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں. میں نے کہا نہیں بھائی سب ٹھیک ہے دوست کا انتظار کر رہا ہوں. اس نے بند مٹھی میں مکئی کے دانے پکڑے تھے جو وہ کھا رہا تھا. اس نے کچھ شرمندگی سے کہا باو جی کھاو گے.؟ میں نے کچھ دانے لئے اور کہا کیوں نہیں بس بھائی دعا کرنا میری نظر کچھ کمزور ہے.

    سچی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی ہی نظر کمزور ہیں. ہم فوری دوسروں پر دیکھ کر ایک رائے بناتے ہیں اور اپنی سوچ و رائے کو ختمی سمجھ لیتے ہیں. یہی حال اسپیشل لوگوں پر معاشرتی سوچ کا ہے. ہم ان کو معذور سمجھ کر زندگی کا بوجھ سمجھ لیتے ہیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ اللہ جس نے ہمیں اگر مکمل بنایا تو اپنے ایک دوسرے بندے کو نامکمل کیوں بنایا.؟

    اللہ رب العزت انسانیت کی تصویر مکمل کرنے کیلئے ہمیں خالی جگہیں دیتا ہے. ان خالی جگہوں پر ان اسپیشل لوگوں کو مکمل سمجھ کر جب ہم جگہ دیتے ہیں تو تصویر مکمل ہوتی ہے. معاشرے کی سوچ جب معذور ہو جائے تب یہ خالی جگہیں نامکمل رہتی ہیں اور معاشرہ ٹھوکر پر ٹھوکریں کھاتا چلا جا رہا ہوتا ہے.

    ہماری بہن حنا سرور کی کتاب نامکمل زندگی بھی ایک شاندار اسپیشل شخصیت کی یہی سمجھاتی کوشش ہے. اسے مکمل پذیرائی دے کر اپنی بینائی کا ثبوت دیں. زندگی آپ کو بڑے بڑے عالم اور لکھاری فلسفی نہیں سمجھا سکتے. زندگی ہمیشہ عام لوگوں کی عام باتوں پر سمجھ آتی ہے بس اگر آپ کی نظر ٹھیک ہو.

  • محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    کونو میگریگا آئرش باکسر ہے. ایک بار اپنی بیوی پر ہوئے ایک سوال پر اُس نے کہا جب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا تب بھی میں ایک باکسر بننا چاہتا تھا. مجھے اپنا یہ خواب پورا کرنے کیلئے وقت تربیت اور ایک اتھلیٹ کی خوراک چاہئے تھے. آئرلینڈ میں ڈبلن سے تیس کلومیٹر دور کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تب میرے ساتھ ایک ہی ہستی تھی. وہ میری بیوی تھی.

    اسے یقین تھا کہ میں باکسر بن جاوں گا. اسی نے وہ تکلیف اٹھائی وہ دور میرے ساتھ برداشت کیا جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا لیکن خواب بہت بڑے تھے. آج میرے پاس سب کچھ ہے میں اس کیلئے کوئی بھی گھر گاڑی خرید سکتا ہوں. لیکن وہ کل بھی مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھی اور آج بھی وہ میرے لئے ہی خوش ہے.

    محبت اور وفا کی کہانیاں کبھی ایک منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتیں. رتن ٹاٹا نے کیوں شادی نہیں کی.؟ وفا کی یہ داستان آج ایک کامیاب مشہور و دولتمند شخص کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئے گی جب تک تاریخ کے ورق پلٹ کر آپ لاس اینجلس امریکہ کی اُس لڑکی تک نہ چلے جائیں جس سے رتن نے شادی کا وعدہ کیا تھا.

    محبت اور وفا کی کہانیاں بہت انمول ہوتی ہیں. جب کوئی وفا کی اپنی کہانی میں ثابت قدم رہتا ہے وقت پھر اس کہانی اور اس کے کرداروں کو کامیاب بناتا ہے. اتنا کامیاب جسے اکثریت جان لے. وفا کی یہ کہانی پھر مثال بنتی ہے کچھ نئی کہانیوں کی ابتداء ہوتی ہے.