Baaghi TV

Tag: زلزلہ

  • بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    باغی ٹی وی:بلوچستان کے ضلع آواران میں آنے کم شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق 4.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز آواران سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سالوں میں آوارن میں متعدد بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ضلع آواران اور اس سے متصل ضلع کیچ کے بعض علاقے 24 ستمبر 2013 کو زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار ہوئے تھے۔

    اس زلزلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 400 افراد ہلاک جبکہ 599 زخمی ہوئے تھے۔

  • ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ زلزلہ: 12 روز بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا

    ترکیہ کے شہر انطاکیہ میں زلزلے کے 296 گھنٹے تقریباً (12 روز) بعد ملبے سے بچے سمیت 3 افراد کو زندہ نکال لیاگیا۔

    باغی ٹی وی: ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں 6 فروری کو آنے والے دو بڑے زلزلوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی اور ہزاروں افراد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    معاشی مشکلات کے باوجود ترکیہ کے بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کریں گے

    ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کےمطابق ترکیہ میں زلزلےسےہلاکتوں کی مجموعی تعداد 40642 ہوگئی،زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں 5700 آفٹرشاکس آچکے ہیں۔

    دوسری جانب شام میں ہلاکتوں کی تعداد 5800 ہوگئی اور یوں مجموعی طور پر اموات 46 ہزار 442 ہوگئیں۔

    ترکیہ میں زلزلوں کے 12 روز بعد بھی ملبے تلے زندگی کے آثار موجود ہیں اور ترک صوبے حاطے کے شہر انطاکیہ میں جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران ٹیموں نے بچے سمیت 3 افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے نکالے جانے والے افراد کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا ہے۔

    دریں اثنا ترک صدررجب طیب اردوان نے قہرمان ماراش میں ملبے سے زندہ نکالے جانے والی 17 سالہ لڑکی کی ٹیلی فون پر ہمت بندھائی۔

    دوسری جا نب تر کیہ میں لگ بھگ 200 متاثرہ مقامات پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ترکیہ نے زلزلے سے تباہ شدہ گھروں کی ایک سال کے اندر اندر دوبارہ تعمیر کے عزم کے اظہار کیا ہے۔

    زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے اور 7 ہزار سے زائد ماہرین نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں، 6 لاکھ 84 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کا معائنہ مکمل کرلیاگیا ہے۔

    اس حوالے سے ترک اربانائزیشن وزیر کا کہناہےکہ تعمیر نو کا کام مارچ میں شروع کیا جائے گا اور کوئی عمارت تین سے چار منزلہ سے بلند نہیں ہوگی۔

    اُدھر ترک میڈيا کو انٹرویو میں وزیراعظم شہباز شریف نےکہاکہ ہماری توجہ سردیوں کےخیمےزیادہ سےزیادہ ترکیہ بھیجنےپر ہے، پاکستان میں سردیوں کے خیمے تیار کرنے والی کمپنیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

    کوئٹہ سے مبینہ خود کش بمبار خاتون گرفتار

  • ترکیہ اور شام میں زلزلہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 37,000 سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلہ؛ جاں بحق افراد کی تعداد 37,000 سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں 6 فروری کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے سے اموات کی تعدا 37 ہزار سے زیادہ ہوگئیں-

    تفصیلات کے مطابق ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، آٹھ روز بعد بھی ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری ہے،ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر گئی ، ترکیہ میں 31ہزار 643 اور شام میں 4ہزار 581 افراد جان سے گئے متاثرہ علاقوں میں تعفن بھی پھیلنے لگا، ماراش میں پانچ ہزار افراد کی اجتماعی تدفین کردی گئی۔

    ترکیہ میں 5 ہزار افراد کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن

    ترکیہ کے بعض متاثرہ علاقوں میں پانی کی قلت ہوگئی جبکہ صحت و صفائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے، اس کے علاوہ وبائی امراض بھی پھیلنے لگے ، متاثرین کی جانب سے جلد کی بیماریاں اور ڈائریا کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

    ادھر شام میں حالات انتہائی سنگین ہو گئے، اقوامِ متحدہ کا ایک اور امدادی قافلہ شام پہنچ گیا ہے۔

    دوسری جانب ورثا اب بھی اپنے پیاروں کی زندگی کی آس لگائے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں، آٹھ روز بعد بھی ملبے تلے زندگی کے آثار موجود ہونے پر ریسکیو ورکرز حیران رہ گئے ترک میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے صوبے Gaziantep میں زلزلے کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے معجزاتی طور پر 9 سالہ بچے کو زلزلے کے تقریباً 155 گھنٹے بعد زندہ نکال لیا۔

    رپورٹس میں بتایا گیا کہ 6 دن سے زائد ملبے تلے بھوکا پیاسا پھنسے رہنے کے بعد بچے نے ریسکیو اہلکاروں کو دیکھتے ہی مختلف فرمائشیں کیں،ملبے سے زندہ نکلنے کے بعد بچے نے بظاہر اسٹریچر پر لیٹے ہوئے ہی ریسکیو اہلکاروں سے درخواست کی کہ میرے لیے اسٹرابیری ذائقے والی آئسکریم لے کر آئیں،اس کے علاوہ اس نے 5 گیلن پانی لانے کی بھی فرمائش کی۔

    ترکیہ زلزلہ: کورولش عثمان کے اداکار اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے

    جب ریسکیو اہلکاروں نے بچے سے پوچھا کہ کیا تم اتنا سارا پانی پی لو گے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ جی پی لوں گا، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔ساتھ ہی اس نے سوال بھی کیا کہ میں کتنے دن تک ملبے تلے رہا؟

    جبکہ حاطے میں آٹھویں روز بارہ سال کے بچے کو نکال لیا گیا جبکہ 171گھنٹوں بعد ملبے تلے چھ سال کی بچی زندہ نکل آئی 181 گھنٹوں بعد دو بھائیوں کو ریسکیو کر لیا گیا، زلزلے میں بچ جانےوالےوالد اپنی بیٹی سے ایک ہفتے بعد ملے تو رو پڑے اس سے قبل ترکیہ میں 140 گھنٹے بعد 7 ماہ کے بچےکو ملبے سے نکال لیا گیا، اس کے علاوہ 136 گھنٹے بعد 13 سال کی لڑکی کو بھی ملبےسے نکالا گیا، ایک اور عمارت کے ملبے سے 70 سال کی ترک خاتون کو نکالا گیا۔

    ترک صدر نے اہلیہ کے ہمراہ اسپتال کا دورہ کیا اور متاثرین کی دادرسی کی ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر تے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل

    واضح رہے کہ 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے ترکیے میں 6 ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہناہے کہ دونوں ملکوں میں 2 کروڑ 60 لاکھ افراد متاثرہوئے ہیں، متاثرین کے لیے 4 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی فوری امدادکی اپیل کی گئی ہے۔

    اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہرکیا ہےکہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد دوگنا ہوسکتی ہے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہےکہ سلامتی کونسل ترکیہ اور شام کے درمیان سرحد پار امدادی مراکز کھولنے کی اجازت دے۔

  • ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ژوب اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں لوگ کلمہ شریف کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہ نکل آئے جبکہ علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 309 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ زیر زمین گہرائی 40 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ زلزلے سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل سوات اور گرد و نواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زیر زمین گہرائی 203 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

  • ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال لیا،ویڈیو

    ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال لیا،ویڈیو

    ترکیہ میں ریسکیو ٹیم نے140 گھنٹے بعد ریاست ہاتائی میں 7 ماہ کے بچے کو ملبے کے نیچے سے نکال لیا-

    باغی ٹی وی: گریٹر کوکیلی میونسپلٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فائر فائٹنگ ٹیموں نے نوزائیدہ حمزہ کو ہاتائی کے علاقے انطاکیا میں ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے بچا لیا، ٹیموں نے 7 ماہ کےحمزہ کو ملبے تلے 140 گھنٹے رہنے کے بعد نکالا اور اسے اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس ٹیم کے حوالے کر دیا۔

    ترکیہ:زلزلے کے بعد لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار


    واضح رہے کہ پیر کی صبح کے وقت، جنوبی ترکیہ اور شمالی شام میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد چند گھنٹوں بعد 7.6 کی شدت کے ساتھ ایک اور زلزلہ آیا اور سینکڑوں پرشدید آفٹر شاکس آئے، جس سے دونوں ممالک میں بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

    ترکیہ اور شام میں قیامت خیز زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد تیس ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے سے ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں۔ جنگ زدہ شام کے اکثر متاثرہ علاقوں میں اب تک امداد نہ پہنچ سکی، جہاں لوگ مدد کو پکار رہے ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کو شدید سرد موسم کا بھی سامنا ہے۔

    زلزلہ زدہ علاقوں میں آفٹرشاکس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شام کے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچ رہی ہے نہ ریسکیو ٹیمیں پہنچ پا رہی ہیں۔ شام میں عوام اب مایوس ہوچکے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ سردی اور بھوک اب ان کی جان لے لے گی۔ لوگ اپیلیں کررہے ہیں، شامی عوام نے فریاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے تو دہشت گرد نہیں، خدارا انہیں بچائیں۔

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارٹن گریفتھس کا خیال ہے کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے کے متاثرین کی تعداد 40,000 سے تجاوز کر جائے گی۔

    گریفتھس نے ہفتے کے روز ’اسکائی نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ ابھی تک ملبہ نہیں ہٹایا گیا، لیکن مجھے یقین ہے کہ مرنے والوں کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے-

    اقوام متحدہ کے مطابق شام میں پینسٹھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ ابتر صورت حال کو دیکھ کر امریکا نے چھ ماہ کے لئے شام پر سے پابندیاں اٹھالی ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ اب شامی متاثرین کو امداد اور مدد دونوں ملے گی-

    پاکستان سے 4.7 ٹن امدادی سامان کی ایک اور کھیپ ترکیہ روانہ:اموات کی تعداد 30 ہزارتک پہنچ گئی

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

  • حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    ترکیہ میں تباہ کن زلزلے پر حکومتی امدادی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی آن لائن تنقید کے بعد اب ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند ہے جبکہ شہریوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کرنے کیلئے وی پی این سروس استعمال کرنی پڑ رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی کے مطابق پہلے ٹوئٹر کو کنٹرول کیا گیا اور پھر تمام موبائل فون سروسز پر اس کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔

    تاہم انٹرنیٹ مانیٹرنگ کمپنی نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ترکی میں ٹوئٹر تک رسائی بحال کر دی گئی ہے، مواد کو ہٹانے اور غلط معلومات پر پھیلانے پر حکام نے ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کی اور ان کی ذمہ داریاں یاد کرائیں، جس کے بعد ٹوئٹر سروس بحال کی گئی ہے۔

    ترکیہ میں سوشل میڈیا میں صدر طیب اردوان کی حکومت کی امدادی سرگرمیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں لوگ حکومت کی جانب سے ریسکیو کی ناکافی کوششوں کی شکایت کررہے ہیں۔

    واضح رہے اس سے پہلے بھی ترکیہ میں ایمرجنسی اور بڑے حادثات کے دوران سوشل میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں-

    امریکی جیولوجیکل سروے کےمطابق پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 اورگہرائی 17.9 تھی زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا اس کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جبکہ قیامت خیز تباہی کےبعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں،ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  • ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرگئی، ترکیہ میں 12 ہزار 391 اور شام میں 2 ہزار 992 افراد ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ ابھی مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 اورگہرائی 17.9 تھی زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا اس کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جبکہ قیامت خیز تباہی کےبعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے شام کے لیے 35 لاکھ یورو کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، یورپی یونین نے اسی امدادی پروگرام کے تحت ترکی کوبھی 30 لاکھ یورودینےکا اعلان کر رکھا ہے،دوسری جانب پاکستان،عراق، ایران، اردن، متحدہ عرب امارات اورمصرسے امدادی پروازیں شام پہنچ رہی ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں،ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے دونوں ملکوں میں 40 ہزار اموات اور 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونےکا خدشہ ہے جن میں 14 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا ہے، کئی لوگوں کا شکوہ ہے کہ حکومت نے اب تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں اور ان تک مدد نہیں پہنچی ہے یہ اتحاد و یکجہتی کا وقت ہے جبکہ تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 10 صوبوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے ہولناک زلزلے کے باعث نقصانات سے امدادی کاموں میں دشواری ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی ترکیہ میں زلزلے کا شکار 10 شہروں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ امدادی کاموں کے لیے 5 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے 45 ہزار پناہ گاہیں جنگی بنیادوں پر تعمیرہوں گی جب کہ زلزلہ زدگان کو اناطولیہ کے ہوٹلوں میں عارضی طور رکھنے پرغور کیا جارہا ہےترکیہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے، 70 سے زائد ممالک نے امداد اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہی کے بعد کاروباری مندی بھی ہو گئی ہے جس کے بعد ترک حکام نے استنبول اسٹاک ایکسچینج کو 5 روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ استنبول اسٹاک ایکسچینج 24 سال میں پہلی مرتبہ بند ہوئی ہے۔


    دوسری جانب شام میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے شام میں ملبے تلے دبی ایک خاتون بچےکو جنم دے کر زندگی ہارگئی، لوگ دل تھام کر بیٹھ گئے جب کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے میں دبی شامی بچی کو خود سے زیادہ ننھے بھائی کی فکر ہے، شامی شہر ادلب میں ایک خاندان کو چالیس گھنٹوں بعد ملبے سے نکالے جانے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔