Baaghi TV

Tag: سائنس وٹیکنالوجی

  • زمین کے حجم کے برابر سیارہ دریافت، جہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے،تحقیق

    زمین کے حجم کے برابر سیارہ دریافت، جہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے زمین کے حجم کے برابر ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جہاں کسی قسم کی زندگی موجود ہوسکتی ہے،اس سیارے کو ناسا کے Transiting Exoplanet Survey Satellite کا ڈیٹا استعمال کر کے دریافت کیا گیا اور اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے اس کا مشاہدہ کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :سدرن کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ زمین سے 40 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع سیارے کا حجم زہرہ کے برابر جبکہ زمین سے کچھ چھوٹا ہے اس سیارے کا درجہ حرارت بھی ممکنہ طور پر اتنا ہے جو زندگی کو سپورٹ کرنے کے لیے کافی ہےاسے Gliese 12 b کا نام دیا گیا ہے جو ایک ایسے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے جو ہمارے سورج سے 27 فیصد چھوٹا ہے۔

    جرنل Monthly Notices of the Royal Astronomical Society میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ستارے کے گرد اپنا چکر 12.8 دنوں میں مکمل کرتا ہے اور ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس میں آب و ہوا موجود ہے یا نہیں، مگر سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ اس سیارے کی سطح کا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے، جو اب تک دریافت ہونے والے ہزاروں دیگر سیاروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

    آنے والے دنوں میں مہنگائی کم اور روٹی مزید سستی ہوگی

    تحقیق کے مطابق سیارے کا درجہ حرارت سطح پر سیال پانی کے لیے درست ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ پانی زندگی کے لیے ضروری جز ہےمحققین اب یہ تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ Gliese 12 b کی آب و ہوا زمین سے ملتی جلتی ہے یا نہیں یا زمین سے کس حد تک مختلف ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج کو واٹس ایپ پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے …

  • دریائے نیل کی  ایک شاخ نے  اہرام مصر کی تعمیر  کا معمہ حل کردیا

    دریائے نیل کی ایک شاخ نے اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل کردیا

    مصر: ماہرین کی نئی دریافت نے اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ حل کردیا-

    یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا ولیمنگٹن کی ایک تحقیق کے مطابق محققین کے ایک گروپ کو دریائے نیل کی ایک 64 کلومیٹر لمبی شاخ ملی ہے، جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ شاید یہی وہ معمہ ہے جس نے اہرام مصر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، یہ نہر ہزار سال تک صحرا اور کھیتوں کے نیچے چھپی ہوئی تھی، دریا کی یہ شاخ مصر میں 31 اہراموں کے ساتھ ساتھ بہتی تھی، دریائے نیل کو پتھر کے بڑے بلاکس کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    اس تازہ ترین دریافت نے ایک طرح سے 4,700 اور 3,700 سال پہلے کے درمیان اہرام کی تعمیر کی وجہ بھی بتائی ہے، محققین نے ریڈار سیٹلائٹ کی تصاویر کو دریا کی شاخ کا نقشہ بنانے کے لیے استعمال کیا،یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا ولیمنگٹن کے ارتھ اینڈ اوشین سائنسز کے پروفیسر ایمن گونیم نے”اے ایف پی ” کو بتایا کہ ریڈار نے انہیں ’ریت کی سطح پر گھسنے کے نشان، دبے ہوئے دریاؤں اور قدیم ڈھانچے سمیت پوشیدہ خصوصیات کی تصاویر بنانے کی منفرد صلاحیت فراہم کی۔

    یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ، ٹیم نے یہ بھی پایا کہ کئی اہراموں میں کاز ویز تھے جو مجوزہ دریا کے کناروں پر ختم ہوتے ہیں، جس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ دریا کو تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا گیا تھا-

    آرمی چیف سے آسٹریلین ڈیفنس فورسز کے سربراہ کی ملاقات

    مطالعہ میں شامل ایمان غونیم کا اس دریافت پر کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ جو قدیم مصر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس بات سے واقف ہیں کہ مصریوں نے اہرام اور وادی کے مندروں کی طرح اپنی بہت بڑی یادگاروں کی تعمیر کے لیے آبی گزرگاہ کا استعمال کیا ہوگا، لیکن کسی کو بھی اس مقام یا اس کی شکل، سائز، یا اس میگا واٹر وے کی اصل اہرام کی جگہ سے قربت کے بارے میں یقین نہیں تھا ہماری تحقیق اتنے بڑے پیمانے پر دریائے نیل کی ایک اہم قدیم شاخ کا پہلا نقشہ پیش کرتی ہے اور اسے مصر کے سب سے بڑے اہرام کے میدانوں سے جوڑتی ہے۔

    پاکستان کو اپنی نیٹ انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پوزیشن مضبوط کرنا ہوگی، آئی ایم ایف

  • دنیا کا قدیم ترین لکڑی کا ڈھانچہ دریافت

    دنیا کا قدیم ترین لکڑی کا ڈھانچہ دریافت

    لوساکا: افریقی ملک زمبیا میں کالامبو آبشار کے قریب ایک تاریخی مقام پر ماہرین آثارِ قدیمہ نے دنیا کا قدیم ترین 5 لاکھ سال پُرانا لکڑی کا ڈھانچہ دریافت کیاہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈھانچہ ایک ایسے درخت کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے جس کا پھل اُس زمانے میں کافی بڑا ہوتا تھا جبکہ یہ ڈھانچہ ایک ایسی حالت میں دریافت ہوا ہے کہ اس کے آس پاس مٹی کی ایک موٹی تہہ موجود تھی جس سے یہ بات واضح ہے کہ لکڑی کے اس ڈھانچے کو بہترین حالت میں محفوظ بھی رکھا گیا۔

    محققین کے مطابق لکڑی کا یہ ڈھانچہ دلدل والی زمین پر ایک اونچی گزرگاہ کے طور پر تیار کیا گیا تھا جبکہ یہ دنیا کے دو سب سے شاندار قدرتی عجائبات یعنی 235 میٹر اونچی ایک آبشار اور 300 میٹر گہرےدرے سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر ملا ہے یہ چوپی ڈھانچہ سائنسی اصطلاح میں ‘ہومو سیپیئن’ کہلانے والی موجود نوع انسانی کے آغاز سے پہلے کے دور کی معلوم ہوتی ہے۔

    برطانیہ:دنیا کا پہلا حجابی مجسمہ تیار

    ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدیم دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت کے انسان بھی کافی سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور اُنہوں نے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے یہ مضبوط لکڑی کا ڈھانچہ بنایا تھا جو آج تک صحیح سلامت دریا میں موجود تھا۔

    جناح ہاؤس کیس: 28 ملزمان کے اشتہار جاری

  • پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    لندن: ہبل دوربین کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے پہلی مرتبہ کائنات میں ایک ایسی بلبلہ نما ساخت دریافت کی ہے جو کہکشاؤں پر مبنی ہے اور اس کی غیرمعمولی وسعت کا اندازہ ایک ارب نوری سال لگایا گیا ہے،جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بگ بینگ کے فوراً بعد کا ایک فوسل شدہ باقیات ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹیم کے رکن کولن ہولیٹ، یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے سکول آف میتھمیٹکس اینڈ فزکس نے کہا کہ یہ بلبلہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے 10 ہزار گنا بڑا ہے اور اسی کہکشاں سے 82 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے خیال ہے کہ یہ عظیم بلبلہ بگ بینگ کے فوری بعد پیدا ہوا تھا اور یوں قدیم کائنات کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اسی بنا پر ماہرین نے اسے کائناتی رکاز (فاسل) بھی کہا ہے۔

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    حیرت انگیز طورپربڑے اس کائناتی مظہر سے ایک جانب تو خود سائنسداں حیران ہیں تو دوسری جانب اس کا مطالعہ کئی دلچسپ انکشافات کا اضافہ کرتا ہے کولن ہولیٹ کہتے ہیں کہ اس کائناتی عجوبے کو دیکھ کر ہم خود انگشت بدنداں ہیں کیونکہ یہ ہم سے بہت ہی قریب ہے۔

    کیولن ہولیٹ نے یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کی تلاش بھی نہیں کر رہے تھے، لیکن ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ یہ آسمان کے اس سیکٹر کے کناروں تک پھیل گیا جس کا ہم تجزیہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر کائناتی پھیلاؤ کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہےاور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہوسکتی ہے ان کے مطابق اس دریافت کی روشنی میں کائناتی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے-

    آب و ہوا کے مطالعے کے لیے پہلی پرواز شروع

    یہ تحقیق اس ہفتے کے ’ایسٹرفزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے تحقیق کےمطابق ابتدائی کائنات میں گرم پلازمہ کی وجہ سے ثقلی اور ریڈیائی عمل سے صوتی (آواز) کی امواج خارج ہوئی تھیں جنہیں ’بیریئن اکاسٹک آسلیشن‘ (بی اے او) کہا جاتا ہے ماہرین نے 2005 میں بے اے او کے سگنل محسوس کئے تھے۔

    تاہم بگ بینگ کے 380000 برس بعد یہ عمل رک گیا، کائنات کچھ ٹھنڈی ہوئی اور کہیں کہیں بلبلوں کی شکلیں وجود میں آگئیں پھر یہ بلبلے پھیلے اور خوب بڑے ہوئے لیکن انہیں ہم ابتدائی کائنات کی اولین نشانیاں کہہ سکتے ہیں اور یہ بلبلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

  • وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن سی اور ای کی گولیاں لینا پھیپھڑوں کے کینسر بڑھنے اور پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چوہوں میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن سی اور ای جیسے اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر بڑے ہو سکتے ہیں اور ٹیومر کے اندر خون کی نالیوں کی تشکیل کو تحریک دے کر پھیل سکتے ہیں سوئیڈش سائنس دانوں کے مطابق وہ افراد جو کسی بھی قسم کے کینسر میں مبتلا ہیں ان کو اپنی میں غذا میں کسی قسم کی تبدیلی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    محققین کے مطابق وٹامن سی اور ای سے بھرپور صحت مند غذا کے علاوہ سپلیمنٹ کا لینا کینسر کا مرض پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے جرنل آف کلینکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کینسر میں مبتلا چوہوں کو اضافی وٹامن دیے جو وہ اپنی غذا میں پہلے ہی حاصل کر رہے تھے چوہوں میں جتنی زیادہ وٹامن کی مقدار تھی، کینسر کی رسولیوں میں اتنی زیادہ خون کی نئی شریانیں بن رہیں تھیں جو ممکنہ طور پر بیماری کےبڑھنے اور پھیلنےکا سبب ہوسکتی ہے،انہوں نے چوہوں کے پانی کو وٹامن سی کے ساتھ ملایا، جو جانور قدرتی طور پر پیدا کرتے ہیں، اور وٹامن ای اور این ایسٹیل سسٹین، جو وہ اپنی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔

    فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    کیرولِنسکااِنسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر مارٹن برگو کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے لوگ جو صحت مند خوراک لیتے ہیں، کچھ سپلیمنٹ کھاتے ہیں اور پھر شاید اسموتھی بھی پیتے ہیں اگر یہ سب بطور غذا لیا جائے تو آپ کی وٹامن کی کھپت اتنی ہوتی ہے جس کے متعلق تحقیق میں بتایا گیا ہے وٹامن انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم شے ہے اگر غذاؤں سے تمام اینٹی آکسیڈنٹ نکال لیں آپ متعدد وجوہات سے بیمار ہوسکتے ہیں جیسے کہ وٹامن کی کمی وغیرہ اور یہ کینسر پر اثر ڈالتا ہے۔

    ایک محقق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حالت میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں ان اینٹی آکسیڈنٹ سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، لیکن سپلیمنٹس کے ذریعے ضرورت سے زیادہ حاصل کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

  • جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    واشنگٹن: ماہرین فلکیات نے زمین سے 1 لاکھ 68 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود زیر مطالعہ سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات کئے ہیں یہ معلومات ستاروں کے دھماکے سے پھٹنے کے متعلق مزید معموں کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: 1987 میں دریافت ہونے والے سُپر نووا ایس این 1987 اے کا مطالعہ سائنس دان پچھلی تین دہائیوں سے کر رہے ہیں سُپر نووا ستارے کا وہ طاقت ور دھماکا ہوتا ہے جو اس کی زندگی کے اختتام پر ہوتا ہےجب ستارہ 1987 میں عروج پر تھا، تو یہ تقریباً 400 سالوں میں زمین سے دیکھا جانے والا قریب ترین، روشن ترین سپرنووا تھا تاہم اب نئی سپر اسپیس ٹیلی سکوپ جیمز ویب ہمیں ایسی تفصیلات دکھا رہی ہے جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

    SN1987A بڑے میجیلانک کلاؤڈ میں ہم سے محض 170,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جو ہماری اپنی کہکشاں سے متصل ایک بونی کہکشاں ہے ماہرین فلکیات اس چیز سے متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک پیچیدہ منظر پیش کرتا ہے کہ جب بڑے ستارے اپنے دن ختم ہوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے-

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    ناسا کے مطابق تازہ ترین مشاہدوں میں سپر نووا کے مرکزی سانچے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ چابی کے سوراخ جیسا دِکھنے والا یہ سانچہ دبیز گیس سے اور دھماکے سے خارج ہونے والی گرد سے بھرا ہوا ہے

    محققین کے مطابق یہ گرد اتنی گاڑھی ہے کہ جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی اس کے پار نہیں دیکھ سکتی اور یہی چیز چابی کے سوراخ جیسی شکل کا سبب بھی ہے۔یہ شکل اطراف میں موجود روشن چھلے اور دو بیرونی چھلوں کے سبب بھی وجود میں آتی ہے۔

    اطراف میں موجود اکوئیٹوریل رِنگ سپرنووا سے ہزاروں سال قبل خارج ہونے والے مادے سے بنا ہے۔ اس چھلے میں روشن ہاٹ اسپاٹ بھی موجود ہیں جو سپر نووا سے خارج ہونے والی شاک ویو ٹکرانے کے سبب وجود میں آئے ہیں۔

    امریکا کا یوکرین کوڈیپلیٹڈ یورینیم گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ

    اس سپر نووا کا کئی سالوں تک ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور اسپٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے مطالعہ کیا گیا لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی غیر معمولی صلاحیتیں وہ پوشیدہ حقائق سامنے لے کر آئیں جو اس سے قبل نہیں آسکیں تھیں۔

  • موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موجودہ عہد میں موبائل فونز لگ بھگ ہر فرد کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر کچھ افراد کو ان ڈیوائسز کے باعث ایک عجیب مرض کا سامنا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل بی ایم سی سائیکاٹری میں شائع ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں انحصار سنڈروم کی علامات کی نشوونما کا باعث بنتا ہے جو بالغوں کے مقابلے میں موبائل فون پر زیادہ انحصار کرتے ہیں کوویڈ وبائی مرض نے معاشرے کے متعدد گروہوں خصوصاً یونیورسٹی کے طلباء کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا ہے اس مطالعے کا مقصد یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون پر انحصار کے پھیلاؤ اور اس سے وابستہ عوامل کو تلاش کرنا تھا۔

    ماہرین نے ستمبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان، اردن، لبنان، مصر، بحرین اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں آن لائن اور کاغذ پر مبنی خود زیر انتظام سوالنامے کا استعمال کرتے ہوئے ایک کراس سیکشنل مطالعہ کیا گیا،اس تحقیق میں یونیورسٹی کے کل 5,720 طلباء شامل تھے جن میں مصر کے 2813، سعودی عرب کے 1509، اردن کے 766، لبنان کے 432، اور بحرین کے 200 طلبا کو تحقیق میں شامل کیا گیا-

    روس نے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرحدوں پر نصب کر دیئے

    موبائل فون استعمال کرنے پر روزانہ کا اوسط تخمینہ 186.4 (94.4) منٹ تھا مصر سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے زیادہ سکور دیکھا گیا اور لبنان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے کم سکور دیکھا گیا۔ مطالعہ کے نمونے میں انحصار کا سب سے عام معیار خراب کنٹرول 55.6 فیصد تھا اور سب سے کم عام نقصان دہ استعمال 25.1 فیصد تھا خواتین اور جن کی اطلاع ہے کہ اضطراب کا مسئلہ ہے یا اضطراب کا علاج استعمال کرتے ہیں ان میں بالترتیب 15فیصد اور 75 فیصد موبائل فون پر انحصار بڑھنے کا زیادہ خطرہ تھا۔

    ماہرین نے تحقیق میں پایا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کے عرب ممالک میں یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون کا انحصار عام ہے موبائل فون پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مفید اور نئے مشاغل اپنانے کی مستقبل کے مطالعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 …

    تحقیق کے مطابق نو موبائل فون فوبیا (نو مو فوبیا) کی اصطلاح کا استعمال ایسی انزائٹی کے لیے کیا جاتا ہے جس کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب موبائل فون اس کی رسائی میں نہیں ہوتا، نو مو فوبیا سے موبائل فون کی لت کا اظہار ہوتا ہے،انزائٹی، غصہ، پسینے کا اخراج، سانس لینے کے انداز میں تبدیلیاں، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا اور اردگرد کے ماحول کا احساس ختم ہو جانا اس مرض کی علامات ہیں نوجوانوں میں نو مو فوبیا زیادہ عام ہے مگر ہر عمر کے افراد کو اس کا سامنا ہو سکتا ہے موبائل فونز پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔

    محققین کے مطابق موبائل فونز ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں کیونکہ وہ منی (mini) کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں جن سے ہم کہیں بھی اپنا کام کر پاتے ہیں اور خاندان سے بھی جڑے رہتے ہیں مگر جب ہم اچانک موبائل فونز سے محروم ہوتے ہیں تو ذہنی بے چینی کے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ کم ہوگیا ہے خود اعتمادی کی کمی، جذباتی انتشار اور انزائٹی کے قریب پہنچ جانے والے افراد میں نو مو فوبیا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    محققین نے بتایا کہ جب کوئی فرد موبائل فون پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے تو اس کی زندگی کے متعدد پہلوؤں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ روزمرہ کے کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر لوگ اس فوبیا سے بچنا چاہتے ہیں تو فارغ وقت میں موبائل فون کے بغیر رہنے کی کوشش کریں، اسی طرح روزانہ ایک گھنٹے کے لیے فون بند کر دیں یا فون کو گھر میں چھوڑ کر باہر نکل جائیں وقت گزارنے کے لیے نئے مشاغل کو اپنانے سے بھی فون پر انحصار کم ہوتا ہے۔

  • گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

    گوگل کا ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ

    کیلیفورنیا: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ورک اسپیس کے لیے ڈاکس اور ڈرائیو میں ای دستخط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا الیکٹرانک دستخط دستاویزات کے ذخیرہ اور انتظام میں شامل کمپنیوں کے لیے ٹیبل سٹیک بن گئے ہیں۔

    یہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ گوگل نے آج گوگل ورک اسپیس میں اپنی نئی ای دستخط کی صلاحیت کے کھلے بیٹا کا اعلان کیا۔ نیا فیچر خاص طور پر Google Docs اور Google Drive کے لیے انفرادی اور مختلف گروپ اکاؤنٹس کے لیے دستیاب ہوگا یہ ای دستخط فیچر صارفین کو کسی بھی آفیشل معاہدے پر ٹیب بدلے بغیر گوگل ڈرائیو میں رہتے ہوئے ہی دستخط کرنے کی سہولت دے گا۔

    پانی کی سطح سے اڑان بھرنے والا روسی طیارہ

    نئی خصوصیت، جو اب تک محدود الفا ریلیز میں تھی، اس کا مقصد سولو پرینیورز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ہے تاکہ دستخط حاصل کرنے کے لیے پرنٹنگ، دستخط، اسکیننگ اور ای میل کیے بغیر دستاویز میں ڈیجیٹل دستخطوں کو آسانی سے جمع اور ٹریک کریں۔

    کمپنی نے نئی خصوصیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ صارفین کے لیے ایک لاک پی ڈی ایف فائل بنائی جائے گی اور دستخط کے مطلوبہ فیلڈ کو پر کر کے درخواست جمع کرا دی جائے گی جو مخصوص وصول کنندہ کو بھیجی جائے گی۔ صارف کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ ای دستخط کی درخواست کے اسٹیٹس کی نگرانی کر سکے۔ اس دستخط میں نام، نام کے مخفف اور تاریخ شامل ہوں گی۔

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد دستخط شدہ پی ڈی ایف علیحدہ سے دستخط بنانے والے کی ڈرائیو میں شامل ہوجائے گی اور بطور ای میل درخواست گزار اور دستخط کنندہ کو بھیج دی جائے گی۔

  • سویلینزکے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کاحکمنامہ جاری

    سویلینزکے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت کاحکمنامہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس کی گزشتہ سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: عدالت عظمیٰ نے فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیاحکم نامے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ 2021 میں قرار دے چکی بینچز کی تشکیل کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، چیف جسٹس بطور ماسٹر آف روسٹر بینچ کی تشکیل پر فیصلہ کرچکے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے فل کورٹ بنانےکی درخواست دی، فل کورٹ بنانےکی استدعا مستردکی جاتی ہے، اٹارنی جنرل نےکہا کہ بینچ کی تشکیل عدالت کی صوابدید ہے، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہےکہ بینچ کی تشکیل واحد چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔

    فیصلےمیں کہا گیا ہےکہ موجودہ حالات فوجی عدالتوں کے کیس میں فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ممکن نہیں، چیف جسٹس پاکستان کا موقف ہےکہ اس وقت موسم گرما کی تعطیلات کے باعث فل کورٹ بنانا ممکن نہیں، ملٹری کورٹس کے کیس کی سماعت کے لیے 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس سردار طارق مسعود بینچ میں بیٹھنے سے انکار کرچکے، جسٹس منصور علی شاہ نےکیس سننے سے معذرت کی، فل کورٹ بنانا اس وقت تکنیکی بنیادوں پر ممکن نہیں ہے، لہٰذا درخواست خارج کرنےکی بنا پر نمٹائی جاتی ہے۔

    اگست کا مہینہ جیل میں، بشریٰ بی بی زمان پارک سے غائب

    واضح رہے کہ حکومت نے 9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانےوالوں کے خلاف مقدمات ملٹری کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور متعدد افراد کے مقدمات فوجی عدالت میں بھجوائے جا چکے ہیں اس فیصلے سے قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ہونے والی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے دوران اس عزم کا اظہارکیا گیا تھا کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد اوران کے سہولت کاروں اورماسٹرمائنڈز کو کٹہرے میں لایا جائے گافوجی عدالتوں میں سویلین مقدمات کیخلاف درخواستیں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، سینیئر وکیل اعتزاز احسن، کرامت علی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دائر کر رکھی ہیں۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  • سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    سائبیریا کی برف کے نیچے 46 ہزار سال سے منجمد کیڑے کو سائنسدان ہوش میں لے آئے ۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ان کیڑوں نے ہوش میں آنے کے بعد کئی بچے پیدا کیے اور پھر اپنی قدرتی موت مرگئے، اس تحقیق سے سائنسدانوں نے ثابت کر دیا کہ زندگی کو غیر معینہ مدت کے لیے pause کیا جاسکتا ہےآج سے کوئی 46 ہزار سال پہلے جب زمین پر ہاتھی نما دیو ہیکل جانور گھومتے تھے، تب انتہائی چھوٹے کیڑے سائبیریا کی برفیلی زمین میں فریز ہو گئے تھے۔

    عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے جب ہزاروں سال کی جمی ہوئی برف پگھلی تو نیچے دبے ہوئے کیڑوں کو سائنسدانوں نے دوبارہ ہوش میں لانے کی تگ و دو کی،کیڑوں کو نارمل پانی میں ڈالا گیا (ہائیڈریٹڈ کیا گیا) تو وہ آسانی سے ہوش میں آگئے ، اِن کیڑوں کی طبعی عمر محض چند دن کی تھی۔

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    اس کیڑے کو دوبارہ زندہ کرنے کی تحقیق میں شامل پروفیسر ٹے مُورس کُرزچالیا کا کہنا ہے کہ جو آرگنزم کرپٹو بائیوسس کی حالت میں ہوتے ہیں ان میں پانی اور آکسیجن بالکل نہیں ہوتی اوریہ سخت درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتے ہیں،ایسے آرگنزم اس صورتحال میں زندگی اور موت کے درمیان رہتے ہیں پروفیسر نے بتایا کہ کوئی بھی آگنزم زندگی روک سکتا ہے اور دوبارہ سے زندگی کا آغاز کرسکتا ہے، بلا شبہ یہ ایک بڑی دریافت ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آچکا ہے، 5 سال پہلے روس کے 2 سائنسدانوں نے بھی سائبیریا کی برف سے 2 اقسام کے کیڑوں کو دریافت کیا تھا اور انہیں بھی پانی میں ڈال کر زندہ کیا گیا تھا۔

    سمندری طوفان ڈوکسوری کی چین میں تباہ کاریاں، دارالحکومت بیجنگ بھی شدید متاثر