Baaghi TV

Tag: سائنس وٹیکنالوجی

  • وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک تحقیق میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2018 میں خراب غذا کے سبب 1 کروڑ 41 لاکھ افراد ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میڈیسن میں شائع کردہ تحقیق کے مطابق 1990 سے 2018 کے درمیان کیے جانے والے تجزیے میں عالمی سطح پر دیکھا گیا کہ وہ کونسے غذائی عوامل تھے جو اتنے بڑے پیمانے پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنے تحقیق کے نتائج 184 ممالک کی غذائی مدخل کے تحقیقی ماڈل پر مبنی ہیں جو امریکا میں قائم ٹفٹس یونیورسٹی کے فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پولیسی کے محققین نے بنایا تھا۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    درحقیقت، مطالعہ کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2018 میں دنیا بھرمیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 10 میں سے 7 کیسز کا تعلق کھانے کے ناقص انتخاب سے تھا 2018 میں ناقص خوراک کی وجہ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے 8.6 ملین مزید کیسز سامنے آئے، اس تحقیق میں پتا چلا۔

    سائنس دانوں نے بتایا کہ تحقیق میں 11 غذائی عوامل میں سے تین عوامل ایسے پائے گئے جںہوں نے عالمی سطح پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کی شرح میں اضافے میں کردارادا کیاان عوامل میں ثابت اناج جیسے کہ جو اورثابت گندم کا ناکافی استعمال، چھنے ہوئے چاول اور گندم کا زیادہ استعمال اور پروسیسڈ گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال تھے۔

    اس بیماری کے 60 فیصد سے زیادہ عالمی خوراک سے منسوب کیسز صرف چھ نقصان دہ غذائی عادات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے تھے: بہت زیادہ بہتر چاول، گندم اور آلو کھانا؛ بہت زیادہ پروسیس شدہ اور غیر پروسس شدہ سرخ گوشت؛ اور بہت زیادہ چینی والے میٹھے مشروبات اور پھلوں کا رس پینا-

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    محققین نے پایا کہ بہت زیادہ غیر صحت بخش غذائیں کھانا عالمی سطح پر صحت بخش غذا نہ کھانے سے زیادہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر مردوں کے لیے خواتین کے مقابلے میں، بوڑھے بالغوں کے مقابلے میں کم عمر، اور شہری بمقابلہ دیہی باشندوں میں۔

    تحقیق کے نتائج کے مطابق پھلوں کا رس پینے اور کم نشاستے والی سبزیوں، گری دار میووں یا بیجوں کی ناکافی کھپت کے اس بیماری کے نئے کیسز پر انتہائی کم اثرات تھے۔

    ٹفٹس یونیورسٹی میں غذائیت کے پروفیسراوربوسٹن کےٹفٹس سکول آف میڈیسن میں میڈیسن کےپروفیسرسینئر مصنف ڈاکٹردریوش مظفریان کہتے ہیں کہ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ کا ناقص معیار عالمی سطح پر خوراک سے منسوب ٹائپ 2 ذیابیطس کا ایک اہم محرک ہے-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    تحقیق کے سینئر مصنف دریوش مظفرین کا کہنا تھا کہ نتائج میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غذا کی بہتری اور ذیا بیطس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پر توجہ کرنی ہوگی۔

    ٹفٹس ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن لیٹر کے چیف ایڈیٹر مظفرین نے کہا کہ یہ نئی دریافتیں غذائیت کو بہتر بنانے اور ذیابیطس کے تباہ کن بوجھ کو کم کرنے کے لیے قومی اور عالمی توجہ کے لیے اہم شعبوں کو ظاہر کرتی ہیں-

  • واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    سان فرانسسکو: واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے، یہ نیا فیچر آنے والے ہفتوں میں تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    باغی ٹی وی: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نےاس فیچرکا اعلان کیا واٹس ایپ میں ڈس اپیئرنگ میسج فیچر کو 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا جس میں ٹیکسٹ میسج مخصوص وقت (24 گھنٹے، 7 دن اور 90 دن) کے بعد غائب ہوجاتا ہے،اب اس فیچر کو کچھ بدلا گیا ہے-

    اسنیپ چیٹ نے بھی اے آئی ٹیکنالوجی ٹول کو ایپ کا حصہ بنا …

    کمپنی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ نے اس نئے فیچر کو سینڈر سب پاور کا نام دیا ہے اور یہ ایسا فیچر ہے جو بھیجنے اور موصول کرنے والے صارف کی مرضی پر ہی کام کرے گا یعنی جب تک ڈس اپیئرنگ میسج بھیجنے والے صارف کی مرضی نہیں ہوگی اس وقت تک آپ اس میسج کو محفوظ نہیں کر سکیں گےاس نئے فیچر سے میسج بھیجنے والے کو اس وقت ‘ویٹو’ پاور مل جائے گی جب موصول کرنے والا میسج کو محفوظ کرنے کی کوشش کرے گا۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    اس فیچر کو استعمال کرنا بہت آسان ہےاگر آپ کو کوئی فرد ڈس اپیئرنگ میسج بھیجتا ہے تو آپ اس میسج کو کچھ دیر تک دبا کر رکھیں ایسا کرنے کے بعد اوپر ریپلائی، ڈیلیٹ، فارورڈ آئیکون کے ساتھ بک مارک کا آپشن بھی نظر آئے گا، اس پر کلک کردیں ایسا کرنے پر اس میسج کو بھیجنے والے صارف کو آگاہ کیا جائے گا کہ آپ اس میسج کو محفوظ کرناچاہتے ہیںاگر وہ اس کی اجازت دیتا ہے تو اس مخصوص میسج پر بک مارک آئیکون بن جائے گا البتہ اگر میسج بھیجنے والا اجازت نہیں ہوتا تو وہ میسج طے شدہ وقت کے بعد ڈیلیٹ ہو جائے گا۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    دوسری جانب سوشل میڈیا ایپلی کیشن واٹس یپ کو برطانیہ میں متعارف کرائے جانے والے نئے آن لائن سیفٹی بل پر عملدرآمد کرنے سے انکار کرنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاس بل کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ان کے سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم پر غیر قانونی مواد ڈھونڈ کر ختم کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔ لیکن اس کے نتیجے میں ’اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن‘ کے فیچر کا غیر مؤثر ہونا ہوسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا سیکیورٹی فیچر ہے جو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ پیغامات صرف پیغام بھیجنے والا اور اس کو موصول کرنے والا ہی پڑھ سکتا ہے۔

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    واٹس ایپ، سِگنل، وائبر اور ایلیمنٹ سمیت دیگر میسجنگ سروسز (جو اس فیچر کو استعمال کرتی ہیں) نے اس بل کو ایوانِ بالا میں پیش کیے جانے سے قبل اس کے خلاف ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ برطانوی حکومت فی الحال ایک نئی قانون سازی کے متعلق سوچ رہی ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن کا حصار توڑنے پر مجبور کرے گی۔ یہ قانون ایک غیر منتخب شدہ آفیشل کو دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی پرائیویسی کو کمزور کر سکتا ہے۔

    35 ہزار سال قبل مصری باشندہ کیسا دکھتا تھا ماہرین نے ڈیجیٹل امیج تیار کر …

    خط میں کہا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی کمپنی، حکومت یا شخص کے پاس اتنی طاقت نہین ہونی چاہیئے کہ وہ کسی کے نجی پیغامات پڑھیں اور ہم اِنکرپشن ٹیکنالوجی کا دفاع کرتے رہیں گےتاہم، برطانوی حکومت اس بات پر مصر ہے کہ تجویز کردہ بِل اینڈ-ٹو-اینڈ اِنکرپشن پر پابندی نہیں لگاتا۔ مزید یہ کہ ہم بیک وقت پرائیویسی اور بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں-

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

  • گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی سرچ انجن پر کام کیا جا رہا ہے جس کا کوڈ نام ماگی رکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ماگی سرچ انجن میں صارفین کو زیادہ بہتر سروس فراہم کی جائے گی،یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کے ٹولز آئندہ ماہ عوام کے لیے متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

    ایلون مسک کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی بنانے کا اعلان

    گوگل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر پراڈکٹ کو متعارف کرایا جائے، مگر ہم اے آئی پر مبی فیچرز سرچ کا حصہ بنانے کے لیے پرجوش ہیں اور بہت جلد مزید تفصیلات شیئر کی جائیں گیاے آئی کو برسوں سے گوگل سرچ کا حصہ بنایا جا رہا ہے جبکہ لینس اور ملٹی سرچ جیسی سروسز کو اس ٹیکنالوجی سے بہتر بنایا گیا –

    رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے اپنے فونز میں کروم کی بجائے مائیکرو سافٹ بنگ کو ڈیفالٹ سرچ انجن بنایا جا رہا ہے،کروم کی جگہ بنگ کو دینے کی رپورٹ پر گوگل کے حصص میں 4 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    واضح رہے کہ مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ میں چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے فروری 2023 میں اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

  • 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    145 ممکنہ جینز کی نشاندہی،جو بچوں کے قد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

    سائنسدانوں نے نے ایسے 145 ممکنہ جینز کی نشاندہی کی ہے جو بچوں کے قد میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی ہارورڈ میڈیکل اسکول اور بوسٹن چلڈرنز ہاسپٹل کی جرنل سیل جینومک میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ہڈیوں کے آخر میں موجود لچکدار ہڈیاں کے خلیات قد و قامت میں کردار ادا کرتی ہیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    تحقیق کے مطابق یہ خلیات کونڈروسائٹ ( chondrocytes) بچوں کی بڑی ہڈیوں کے آخر میں موجود ٹشوز میں ہوتے ہیں اور وہی بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل میں قد اور جسمانی ساخت کا تعین کرتے ہیں جب کسی فرد کی جسمانی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے تو یہ حصے ‘بند’ ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ سخت ہڈی لے لیتی ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد انسانی اونچائی کے جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈیز (GWASs) کو جینوم وائیڈ ناک آؤٹ (KO) اسکرینوں کے ساتھ گروتھ پلیٹ کونڈروسائٹ کے پھیلاؤ اور وٹرو میں پختگی کے ساتھ جوڑا بنا کر انسانی نشوونما سے متعلقہ جینز اور راستوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے 145 جینوں کی نشاندہی کی جو ثقافت میں ابتدائی یا دیرسے وقت کے پوائنٹس پرکونڈروسائٹ کےپھیلاؤ اور پختگی کو تبدیل کرتے ہیں، ثانوی اسکریننگ میں 90 فیصد جینز کی توثیق ہوتی ہے۔ یہ جین مونوجینک گروتھ ڈس آرڈر جینز اور KEGG راستوں میں افزودہ ہوتے ہیں جوجسم کی نشوونما اور اینڈوکونڈرل اوسیفیکیشن کے لیے اہم ہیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    مزید یہ کہ، ان جینز کے قریب عام متغیرات GWASs سےکمپیوٹیشنل طورپرترجیح دیئےگئے جینوں سے آزاد اونچائی کے ورثے کو حاصل کرتے ہیں۔ ہمارا مطالعہ حیاتیاتی طور پر متعلقہ ٹشوز میں فنکشنل اسٹڈیز کی قدر پر زور دیتا ہے جیسا کہ آرتھوگونل ڈیٹاسیٹس GWASs سے ممکنہ وجہ جینوں کو بہتر بناتے ہیں اور کونڈروسیٹ پھیلاؤ اور پختگی کے نئے جینیاتی ریگولیٹرز کو متاثر کرتے ہیں۔

    سائنسدان پہلے سے جانتے تھے کہ یہ خلیات ہڈیوں کی نشوونما اور انسانی قد کے حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں مگر اب پہلی بار ان خلیات کو کنٹرول کرنے والے جینز کا تعین کیا گیا ہے محققین نے بتایا کہ انسانی قد سے منسلک مخصوص جینز کی شناخت ایک چیلنجگ کام ہے کیونکہ قد ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس پر جینز اورماحولیاتی عناصر دونوں اثر انداز ہوتے ہیں تحقیق میں ان خلیات پر اس لیے توجہ مرکوز کی گئی کیونکہ وہ ہڈیوں کی نشوونما کے لیے مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس تحقیق میں چوہوں کے کروڑوں خلیات کی جانچ پڑتال کرکے ان جینز کو دریافت کیا جو اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے کرسپر جینوم ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے ان جینز کو خلیات سے نکال باہر کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص خلیات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    اس طرح انہوں نے 145 جینز کو دریافت کیا جن کو نکالنے سے جانوروں کے خلیات کی نشوونما غیر معمولی رفتار سے ہونے لگی جو انسانی ڈھانچے ایک ایک مخصوص جینیاتی مرض سے ملتا جلتا عمل تھا اس کے بعد محققین نے چوہوں کے ان جینز کا موازنہ انسانی قد پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے کیا۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملا کہ مخصوص جینز قد کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوں نے ان جینز کو انسانی جینوم میں بھی دریافت کیا اور ان کے مطابق یہ جینز دیگر جینیاتی عناصر سے زیادہ قد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے نئے جینز کی شناخت ہوئی ہے جو ہڈیوں کی نشوونما کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لچکدار ہڈیاں انسانی قد کے لیےاہم ترین ہوتی ہیں ابھی انسانوں پر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور ہمیں توقع ہےکہ اس سے ڈھانچے سے متعلق امراض کے شکار افراد کی مدد ہو سکے گی۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    گوگل سرچ انجن میں تبدیلی کا اعلان

    کیلیفورنیا: گوگل سرچ انجن میں جلد انقلابی تبدیلی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ گوگل سرچ انجن بہت جلد مختلف محسوس ہو گا اور اے آئی جیسی ٹیکنالوجی سے گوگل کو بہت بہتر بنایا جا سکے گا بہت جلد لوگ گوگل سے سرچ کے علاوہ سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    اگرچہ، آؤٹ لیٹ کے مطابق، مسٹر پچائی نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ چیٹ بوٹس نے گوگل کے سرچ کاروبار کو خطرہ لاحق ہے، جس سے اس کے والدین الفابیٹ انکارپوریشن کی نصف سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے انٹرویو میں کہا کہ موقع کی جگہ، اگر کچھ بھی ہے، پہلے سے زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز (LLMs) ایسے کمپیوٹر پروگرام ہیں جو لوگوں کے سوالات کے جوابات فراہم کر سکتے ہیں اور گوگل اس شعبے میں پیش پیش رہا ہے۔ ٹیک دیو اب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سرچ انجن پر صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا کیا لوگ گوگل سے سوالات پوچھ سکیں گے اور تلاش کے تناظر میں ایل ایل ایم کے ساتھ مشغول ہوں گے؟-

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    لاگت میں کمی کے لیے سرمایہ کاروں کے دباؤ کے علاوہ، مسٹر پچائی برسوں میں گوگل کے مرکزی کاروبار کے لیے سب سے بڑے خطرے سے نمٹ رہے ہیں کیونکہ مائیکروسافٹ نے حال ہی میں بنگ سرچ انجن کا اپنا بہتر ورژن متعارف کرایا ہے-

    واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کے بعد گوگل نے اپنے چیٹ بوٹ بارڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جسے رواں سال مارچ میں امریکہ اور برطانیہ میں محدود صارفین کے لیے متعارف کرا دیا گیا تھا بارڈ چیٹ بوٹ گوگل کے لینگوئج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلیکیشنز (ایل اے ایم ڈی اے) پر مبنی ہے تاہم ابھی تک اسے گوگل سرچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    سندر پچائی نے یہ نہیں واضح کیا کہ نئے اے آئی فیچرز کب تک گوگل سرچ میں دستیاب ہوں گے تاہم انہوں نے بتایا کہ گوگل کی جانب سے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی کئی سرچ پراڈکٹس کی آزمائش کی جاری ہے۔

  • سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ریاض: سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ 9 مئی کو خلائی مہم پر روانہ ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق علی القرنی اور ریانہ برناوی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والے پہلے سعودی خلاباز ہیں۔ دونوں خلابازوں کے کریڈٹ پر 11 اہم سائنسی تحقیقات شامل ہیں ان تحقیقات میں مائیکروگریویٹی،انسانی ریسرچ، سیل سائنسز، اورمائیکرو گریویٹی میں مصنوعی بارش کے لیے تحقیق کے تجربات شامل ہیں۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    سعودی اسپیس اتھارٹی کے مطابق علی اور ریانہ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے سفر کے دوران سائنسی تجربات کرنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام مکمل کیا ہے۔ دونوں خلاباز 9 مئی کو خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوں گے۔

    قبل ازیں سعودی وزیر اطلاعات عبداللہ السواحہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ولی عہد کی مدد کے باعث، جو خلائی سپریم کونسل کے سربراہ بھی ہیں پہلی سعودی خلا نورد خاتون ریانہ برناوی اور خلا نورد علی القرنی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے تاریخی مشن پر روانہ ہوں گے تاکہ ریسرچ اور ایجادات کے ذریعے بنی نوع انسان کو نئی دنیاؤں سے آشنا کر سکیں۔

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

  • 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر دیکھ سکتے ہیں

    آج رات آسمان پر سبز دم دار ستارہ 50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے-

    باغی ٹی وی:سی 2002 ای 3 (ZTF) نامی اس دم دار ستارے کو آج دیکھ سکیں گے یہ دم دار ستارہ زمین کے شمالی نصف کرے کے اوپر 2 کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ میل کے فاصلے سے گزرے گا،اتنے قریب ہونے کے باوجود یہ دم دار ستارہ زمین سے چاند کے مقابلے میں 100 گنا سے زیادہ دور ہوگا۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    زمین کے کچھ مقامات (جہاں روشنی کی آلودگی نہ ہو اور آسمان مکمل تاریک ہو) پر اس کا نظارہ آنکھوں سے بھی کرنا ممکن ہوگا اور قطبی ستارے کے قریب اس کی مدھم سبز جگمگاہٹ نظر آئے گی یہ دم دار ستارہ دور بین اور ٹیلی اسکوپ پر زیادہ واضح نظر آئے گا۔

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

    2 فروری کے بعد یہ ایک بار پھر زمین سے دور ہونے لگے گا اور پھر اس کی واپسی ایک تخمینے کے مطابق لاکھوں سال سے قبل ممکن نہیں ہوگی 10 فروری کو یہ مریخ کے قریب ہوگا۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا۔

    دم دار ستارے گرد اور برف کی ایسی گیندوں کو کہا جاتا ہے جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے ان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 2 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر لی ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی NGC 346 نامی ستاروں کے اس مجمع کی تازہ ترین تصویر میں دراصل ستاروں کی 10 ارب سال پُرانی تصویر ہے۔


    سائنسدانوں کی جانب سے اس جھرمٹ، جو چھوٹےسےایک میگلینِک بادل میں موجود ہے، جس میں خصوصی طور پردلچسپی لی گئی ہے کیوںکہ یہ ابتدائی وقت کی کائنات سے مشابہ ہیں جب ستارہ سازی کا عمل اپنے عروج پر تھا۔

    ماہرینِ فلکیات پُر امید ہیں کہ اس خطے کا مزید مطالعہ ایسے مزید سوالات کے جوابات دے گا کہ بِگ بینگ سے صرف 2 یا 3 ارب سال بعد ’کوسمک نون‘ کے دوران ابتدائی ستارے کیسے وجود میں آئے۔


    اس تصویر کے حامل تحقیقی مقالے کی مصنفہ ڈاکٹر اولیویا جونز کے مطابق ایسا پہلی ہوا ہے کہ ماہرین کسی اور کہکشاں میں کم اور زیادہ حجم والے ستاروں کے بننے کے مکمل کو دیکھ سکتے ہیں۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ہائی ریزولوشن پر مطالعے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا موجود ہے جو ہمیں اس متعلق نئی معلومات دے گا کہ ستاروں کے بننے سے ان کے ماحول کیسے وجود میں آئے اور اس سے زیادہ اہم ستارے بننے کے عمل کے متعلق بتائے گا۔

    جیسے جیسے ستارے بنتے ہیں، وہ گیس اور دھول جمع کرتے ہیں، جو ارد گرد کے سالماتی بادل سے ویب کی تصویر میں ربن کی طرح نظر آتے ہیں موادایک ایکریشن ڈسک میں جمع ہوتا ہےجو مرکزی پروٹوسٹارکوکھلاتا ہےماہرین فلکیات نے NGC 346 کے اندر پروٹوسٹار کے ارد گرد گیس کا پتہ لگایا ہے، لیکن ویب کے قریب اور مشاہدات نے پہلی بار ان ڈسکوں میں دھول کا بھی پتہ لگایا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے شریک تفتیش کار یورپی خلائی ایجنسی کے گائیڈو ڈی مارچی نے کہا کہ ہم عمارت کے بلاکس دیکھ رہے ہیں، نہ صرف ستاروں کے، بلکہ ممکنہ طور پر سیاروں کے بھی ،اور چونکہ چھوٹے میجیلانک کلاؤڈ کا ماحول کائناتی دوپہر کے دوران کہکشاؤں سے ملتا جلتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ چٹانی سیارے کائنات میں اس سے پہلے بن چکے ہوں جتنا ہم نے سوچا ہوگا۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ٹیم کے پاس Webb کے NIRSpec آلے سے سپیکٹروسکوپک مشاہدات بھی ہیں جن کا وہ مسلسل تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انفرادی پروٹوسٹارز کے ساتھ ساتھ فوری طور پر پروٹوسٹار کے آس پاس کے ماحول کے بارے میں نئی ​​بصیرت فراہم کریں گے۔

    یہ نتائج 11 جنوری کو امریکن ایسٹرانومیکل سوسائٹی کے 241 ویں اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مشاہدات پروگرام 1227 کے حصے کے طور پر حاصل کیے گئے تھے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ دنیا کی سب سے بڑی خلائی سائنس رصد گاہ ہےویب ہمارے نظام شمسی کے اسرار کو حل کرے گا، دوسرے ستاروں کے آس پاس دور دراز کی دنیاوں کو دیکھے گا، اورہماری کائنات کے پراسرارڈھانچے اورابتداء اوراس میں ہمارے مقام کی تحقیقات کرے گا۔ ویب ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جس کی قیادت NASA اپنے شراکت داروں، ESA (یورپی خلائی ایجنسی) اور کینیڈا کی خلائی ایجنسی کے ساتھ کرتی ہے۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

  • چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    ناسا کا چاند پر جانے والا آرٹیمس 1 مشن 11 دسمبر کو واپس زمین پر اتر گیا تھا،مگر اس کے تاریخی مشن کی تصاویر اور ویڈیوز اب بھی شیئر کی جارہی ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ چاند کے قریب زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…


    ناسا نے بتایا کہ ویڈیو اورین اسپیس کرافٹ نے 28 نومبر کو اس وقت ریکارڈ کی تھی جب وہ زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود تھا آرٹیمس 1 اپنے مشن کو 25 دن میں مکمل کرکے 11 دسمبر کو زمین پر واپس اترا تھا ناسا کے مطابق جاری کی گئی ویڈیو اصل رفتار سے 900 گنا زیادہ ہے اور اسے گھمایا اور کاٹا گیا ہے۔

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    زمین کی فضا میں داخل ہونے پر اورین کیپسول میں آگ لگ گئی تھی مگر وہ سمندر میں اترنے میں کامیاب رہا،آرٹیمس 1 مشن کو نومبر 2022 میں ناسا کی تاریخ کے سب سے بڑے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا –

    آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا