Baaghi TV

Tag: سائنس وٹیکنالوجی

  • فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب سے زائد ہوگئی

    فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب سے زائد ہوگئی

    دنیا کے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب سے زائد ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق میٹا کی جانب سے جاری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پہلی بار فیس بک کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب سے زائد ہوگئی ہےان اعداد و شمار سے عندیہ ملتا ہے کہ اگرچہ نوجوانوں میں فیس بک کی مقبولیت میں کمی آئی ہے مگر اب بھی بیشتر افراد اسے استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں،درحقیقت فیس بک کے اعدادوشمار سے عندیہ ملتا ہے کہ کمپنی کی اشتہاری آمدنی کا بنیادی ذریعہ اب بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

    میٹا کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کی ایپس بشمول واٹس ایپ، انسٹاگرام، میسنجر اوراب تھریڈز کے ماہانہ صارفین کی تعداد 3 ارب 88 کروڑ ہے، یعنی لگ بھگ دنیا کی 50 فیصد آبادی میٹا کی ایپس کو استعمال کر رہی ہے فیس بک کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اپریل سے جون 2023 کے دوران اضافہ ہوا۔

    مکیش امبانی نے نئی ’بم پروف‘ مرسڈیز کار خرید لی

    اس سہ ماہی کے دوران فیس بک کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 2 ارب 64 لاکھ تک پہنچ گئی، جو جنوری سے مارچ کے دوران 2 ارب 37 لاکھ تھی یہ بھی کمپنی کے لیے اہم پیشرفت ہے کیونکہ 2021 کی آخری سہ ماہی کے دوران فیس بک کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں پہلی بار کمی دیکھنے میں آئی تھی صارفین کی تعداد میں اضافے کی وجہ ریلز ویڈیوز بنی ہیں اور کمپنی کے مطابق میٹا کی ایپس میں روزانہ 200 ارب بار ریلز ویڈیوز کو دیکھا جاتا ہے۔

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے رپورٹ جاری کرتےہوئے کہاکہ تھریڈز بھی بہترین کام کر رہی ہے ہم نے بہترین پیشرفت دیکھی ہے اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری توقع سے زیادہ افراد روزانہ ایپس پر واپس آرہے ہیں۔

  • جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کر لیا

    جیمیز ویب ٹیلی اسکوپ نے سُپر سائز کا ایک بلیک ہول دریافت کرلیا ہے جو آج سے 13 ارب سال پہلے وجود میں آیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے دریافت ہونے والا یہ اب تک کا قدیم ترین بلیک ہول ہے، جو ایک انتہائی عمر رسیدہ کہکشاں کی گہرائی میں واقع ہے یہ کہکشاں بِگ بینک کے 570 ملین سال بعد وجود میں آئی۔ اس سُپر سائز بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج سے کوئی 9 ملین گنا پڑا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے 2 دیگر بیلک ہولز اور 11 نئی کہکشائیں بھی دریافت ہوئی ہیں ایکٹو بلیک ہول جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے بگ بینگ سے 570 ملین سال بعد بننے والی CEERS 1019 نامی گیلکسی کی گہرائیوں میں دریافت کیا گیا ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ناسا سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اب تک کی دریافتوں اور مستقبل کی امکانی دریافتوں کے بعد ستاروں اور کہکشاؤں کو بننے اور فنا ہونے کے بارے میں مزید گھری معلومات حاصل ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ اس سے فلکیات کے تحقیقی مطالعات کیلئے ہماری سوچنے اور سمجھنے کے طریقے ہی تبدیل ہو جائیں-

    قبل ازیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصویر 12 جولائی 2022 کو جاری کی تھی جیمز ویب کی جانب سے تصاویر کھینچنے کے سلسلے کو ایک سال مکمل ہونے پر ناسا کی جانب سے اب تک کی ایک بہترین تصویر اور ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

    واٹس ایپ نے بھارت میں مزید 65 لاکھ واٹس ایپ اکاؤنٹس پر پابندی لگادی


    اس تصویر میں سورج جیسے ستاروں کو جنم لیتے دکھایا گیا ہے جبکہ ویڈیو میں 50 ننھے ستاروں کو ایک بادل میں دکھایا گیا ہے،یہ تصویر اور ویڈیو زمین سے 390 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع مقام Rho Ophiuchi کی ہےخلا کا یہ حصہ گیسوں اور گرد سے جگمگا رہا ہے جو کہ مزید ستاروں کے آغاز کی جانب اشارہ ہے۔

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ستاروں کی پیدائش کو دیکھیں،ناسا کی ایک اور عہدیدار پامیلا میلوری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک سال ہوگیا اور ایڈونچر تو ابھی شروع ہوا ہے۔

    ویڈیو اور تصویر میں دکھائے جانے والے ستارے ہمارے سورج سے زیادہ بڑے نہیں اور سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے ایک ستارے کی زندگی کے ابتدائی مرحلے کی واضح عکاسی ہوتی ہے ناسا کے مطابق ہمارا سورج بھی بہت پہلے اس مرحلے سے گزرا تھا اور اب ہمارے پاس کسی ستارے کی کہانی کے آغاز کو دیکھنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

  • ایلون مسک کا اے آئی کمپنی قائم کرنے کا اعلان

    ایلون مسک کا اے آئی کمپنی قائم کرنے کا اعلان

    ٹسیلا اور ٹوئٹرسمیت متعدد کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے ایک اے آئی کمپنی ایکس اے آئی (xAI) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ میں اس کمپنی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کمپنی کا مقصد حقیقت کو سمجھنا ہے ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ میں اس کمپنی کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کمپنی کا مقصد حقیقت کو سمجھنا ہے۔


    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ایلون مسک سمیت 12 افراد کی ٹیم اس کا انتظام سنبھالے گی، یہ سب افراد اوپن اے آئی، ڈیپ مائنڈ، گوگل ریسرچ، مائیکرو سافٹ ریسرچ اور ٹیسلا جیسی کمپنیوں میں کام کر چکے ہیں، تاہم کمپنی کے حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال نہیں بتائی گئیں۔

    وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

    ایلون مسک سمیت کمپنی کے عہدیداران 14 جولائی کو ٹوئٹر اسپیسز پر عوام سے بات کریں گے، جس کے دوران ممکنہ طور پر کمپنی کے مقاصد کے بارے میں تفصیلات بتائی جائیں گی،اس کمپنی کی تشکیل کے لیے ایلون مسک کئی ماہ سے کام کر رہے تھے اور اسے مارچ میں امریکی ریاست نویڈا میں رجسٹر بھی کرایا گیا تھا،اس نئی کمپنی سے ایلون مسک اوپن اے آئی کا مقابلہ کر سکیں گے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    اوپن اے آئی وہ کمپنی ہے جس کے وہ شریک بانی ہیں، البتہ 2018 میں انہوں نے اوپن اے آئی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اس علیحدگی کی وجہ کمپنی کی انتظامیہ سے اے آئی ٹیکنالوجی کے محفوظ ہونے کے حوالے سے تنازعات تھے دسمبر 2022 میں ایک ٹوئٹ کے دوران انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کو خوفزدہ کردینے کی حد تک اچھا قرار دیا تھا۔

    یونان کشتی حادثہ؛ تحقیقات میں کوسٹ گارڈ کی غفلت کا انکشاف

  • گوگل کی جانب سے کیلینڈر ایپلی کیشن میں انتہائی اہم فیچر شامل

    گوگل کی جانب سے کیلینڈر ایپلی کیشن میں انتہائی اہم فیچر شامل

    گوگل کیلنڈر اینڈرائیڈ کے لیے بہترین کیلنڈر ایپس میں سے ایک ہے،سرچ انجن گوگل خاموشی سے کیلینڈر ایپلی کیشن میں ایک بڑی تبدیلی کرنے جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کیلنڈر ایپ میں کمپنی کی جانب سے انتہائی اہم فیچر شامل کیا جا رہا ہے۔ جس کے مطابق صارفین گوگل کیلینڈر میں شیئر کا بٹن بھی استعمال کرسکیں گے گوگل کیلینڈر ایونٹس میں شیئر بٹن کا مطلب ہے کہ ایونٹ کے منتظمین بڑی تعداد میں لوگوں کو انفرادی طور ای میل کیے بغیر ہی مدعو کرسکیں گے۔


    رواں سال مارچ میں، خبر سامنے آئی تھی کہ گوگل کیلنڈر ایونٹس کے لیے ایک نیا شیئر بٹن تیار کر رہا ہے، لیکن اس وقت یہ کام نہیں کر رہا تھا یہ فیچر مارچ کے مہینے میں نامکمل شکل میں متعارف کرایا گیا تھا۔ لیکن ٹوئٹر صارف کی جانب سے شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں اس کو مکمل شکل میں دیکھا جا سکتا ہے،کیلینڈر ایپ پر صارفین جب بھی کوئی ایونٹ سیٹ کریں گے، وہاں ایونٹ کے نام اور تاریخ کے نیچے ایک شیئر بٹن دِکھائی دے گا۔

    خاکروب کی معمولی غلطی سے امریکی لیبارٹری میں 20 سال کی سائنسی تحقیق ضائع

    اس بٹن کو دبانے وہ معیاری اینڈرائیڈ شیئر شیٹ کھل جاتی ہے جو آپ کو کسی بھی دوسری فائلوں،جیسےکہ تصاویر اور دستاویزات کا اشترا ک کرتے وقت نظر آتی ہے۔ یہاں اس ایونٹ کو ٹیلی گرام، واٹس ایپ یا ڈِسکورڈ جیسی متعدد ایپ میں شیئر کر سکتے ہیں جن افراد کو دعوت نامے موصول ہوئے ہوں گے وہ لنک پر ہاں، ناں یا شاید کا انتخاب کرتے ہوئے اپنی دستیابی کے متعلق بتا سکیں گےتاہم کمپنی کی جانب سے اس فیچر کی ریلیز کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    ھریڈز پراکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی کیا قیمت ادا کرنی ہوگی؟

    یہ طریقہ فوری واقعات اور مدعو کرنے والوں کی ایک طویل فہرست کے ساتھ تقریبات کے لیے زیادہ آسان ہے۔ امکان ہے کہ آپ پہلے ہی ٹیلیگرام گروپ، واٹس ایپ کمیونٹی، یا ڈسکارڈ سرور میں مذکورہ مدعو افراد کے ساتھ تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہوں۔ لہذا، آپ اس جگہ پر ایونٹ کا لنک آسانی سے شیئر کر سکتے ہیں۔ لنک کا ہر وصول کنندہ تین پیش سیٹ بٹنوں کا استعمال کرتے ہوئے آپ کو اپنی دستیابی بتائے گا ہاں، نہیں، اور شاید،جبکہ بٹنوں کے ساتھ آن اسکرین تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ ایونٹ کا اصل کیلنڈر لنک ان کے ای میل آئی ڈیز پر بھیج دیا جائے گا۔

    میکڈونلڈز نےبھارت میں اپنےکھانے کی تیاری میں ٹماٹرکا استعمال بند کردیا

  • ٹوئٹس کیلئے حروف کی حد میں مزید اضافہ

    ٹوئٹس کیلئے حروف کی حد میں مزید اضافہ

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے ایک بار پھر ایک ٹوئٹ کے لیے حروف کی حد کو بڑھا دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق پہلے ایک ٹوئٹ میں صرف 140 حروف استعمال ہوسکتے تھے فروری میں ٹوئٹر کی جانب سے حروف کی حد کو 280 سے بڑھا کر 4 ہزار کیا گیا تھا جس کو اپریل میں 10 ہزار تک بڑھا دیا گیا تھا اس وقت کمپنی کی جانب سے ٹوئٹس کے لیے فارمیٹنگ فیچرز جیسے بولڈ اور اٹالک کو بھی متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب ٹوئٹر بلیو کےصارفین 25 ہزار حروف پرمشتمل ٹوئٹ کر سکتے ہیں،ٹوئٹر بلیو کے پیج پر حروف کی حد میں اضافے کے بارے میں بتایا گیا۔

    واضح رہے کہ ٹوئٹس کے لیے حروف کی حد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر بلیو صارفین کے لیے طویل ویڈیوز اپ لوڈ کرنا بھی ممکن ہے دسمبر میں 2022 میں ماہانہ فیس ادا کرنے والے صارفین کے لیے ایک گھنٹے طویل ویڈیو پوسٹ کرنا ممکن بنایا گیا اور مئی 2023 میں اسے 2 گھنٹے تک بڑھا دیا گیا تھا۔

    پُرامن ممالک کی فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟

    قبل ازیں ٹوئٹر کے بلیو ٹک صارفین کے لیے پیغام ایڈٹ کرنے کے دورانیے میں اضافہ کیا گیا ٹوئٹر بلیو کے آفیشل اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ اس فیچر کے تحت اب ٹوئٹس کو ایک گھنٹے تک ایڈٹ کیا جاسکے گا البتہ یہ سہولت صرف ان صارفین کے لیے ہوگی جو ہر ماہ ٹوئٹر کو فیس ادا کرتے ہیں۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان

    اس فیچر سے مستفید ہونے والے بلیو ٹک صارفین اپنے ٹوئٹ میں ایک گھنٹے کے اندر اندر تبدیلی کرسکتے ہیں، ٹویٹر بلیو سبسکرائبرز (ویریفائیڈ اکاؤنٹس) کیلئےایڈٹنگ کا فیچر گزشتہ سال ایلون مسک کے ٹوئٹر خریدنے کے اعلان کے بعد متعارف کرایا گیا تھا ٹویٹر کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ وہ صارفین جن کا بلیو ٹک ہے اور وہ فیس ادا کرتے ہیں، وہ ٹوئٹر پر آنے والے جدید فیچرزسے مستفید ہوسکیں گے۔

    شمالی وزیرستان کے تاریخ میں کم عمر ترین بچی کے قتل کا پہلا واقع

  • میٹا نے نیا  وائس باکس ٹول پیش کر دیا

    میٹا نے نیا وائس باکس ٹول پیش کر دیا

    میٹا نے حال ہی میں ’وائس باکس اے آئی‘ کےنام سے ایک نیا ٹول پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کمپنی کے اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ہم نے وائس باکس تیار کیا ہے، ایک جدید ترین AI ماڈل جو اسپیچ جنریشن کے کام انجام دے سکتا ہے جیسے ایڈیٹنگ، سیمپلنگ اور اسٹائلائزجسے سیاق و سباق میں سیکھنے کے لیے خاص طور پر تربیت نہیں دی گئی تھی۔

    اگرچہ اس کی افادیت کی مزید آزمائش جاری ہے لیکن وائس باکس دیگر بہت سے کام بھی کرسکتا ہے۔ یہ پہلے سے ریکارڈ شدہ آڈیو سے بلند معیار کے آڈیو کلپس بناسکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے کسی جگہ کوئی اہم بات ریکارڈ کی ہے اور پس منظر میں گاڑیوں کے ہارن اور شور وغیرہ ہے تو وائس باکس انہیں ہٹاکر بہترین آڈیو فائل پیش کرسکتا ہے۔

    خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ کینیڈا کے گوردوارے میں قتل


    وائس باکس اعلی معیار کے آڈیو کلپس تیار کر سکتا ہے اور پہلے سے ریکارڈ شدہ آڈیو میں ترمیم کر سکتا ہے اگلے مرحلے میں وائس باکس انسانی لہجے کے مزید قریب ہوجائے گا۔ اس طرح مشین سے تیارکردہ آواز کو قدرے حقیقی اور انسانی روپ دے سکے گا ماڈل کثیر لسانی بھی ہے اور چھ زبانوں میں تقریر تیار کر سکتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید وسیع کیا جائے گاآخرکار اسے میٹاورس کے ورچول کرداروں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ شاید یہی کچھ میٹا چاہتا بھی ہے۔

    یونان میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج

    اس نئے کی بدولت عام صارفین اپنی زبان میں کوئی جملہ ادا کرتے ہیں تو وہ فوری طور پر اس کا ترجمہ کرکے ٹیکسٹ میں ظاہر کرتا ہے فی الحال یہ الٹا کام بھی کرسکتا ہے یعنی شامل شدہ ٹیکسٹ کو آڈیو میں ترجمہ کرتا ہے۔ تاہم اسے مختلف طریقوں اور موڈ وغیرہ میں اس کی آواز سن سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکسٹ سے آڈیو ترجمے کو بہت اچھی سطح پر بدلتا ہے لیکن اس میں ڈیٹا ان پٹ اور لرننگ کم درکار ہوتی ہے۔

    دوسری جانب بصارت سے محروف افراد اپنے دوستوں کے لکھے گئے ٹیکسٹ میسج کو ان ہی کی آواز میں سن سکیں گے۔ ان سب خواص کی بنا پر وائس باکس کو بہت سے اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہےجبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے جعلی ویڈیو، آوازوں اور کرداروں کا ایک نیا دروازہ بھی کھلے گا۔ تاہم اس کی افادیت وقت ہی بتائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

  • امریکی پروفیسرنے 100 دن زیر آب گزار نیا ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    امریکی پروفیسرنے 100 دن زیر آب گزار نیا ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا

    یو ایس نیوی کے سابق غوطہ خور اور بایومیڈیکل انجینئرنگ کے ماہر امریکی پروفیسر جوزف ڈیٹوری نے 100 دن زیر آب گزار کر کسی بھی انسان کی جانب سے طویل عرصے تک زیر آب رہنے کا نیا ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    باغی ٹی وی: گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی ویب سائٹ کے مطابق پروفیسر ڈیٹوری یکم مارچ کو زیر آب گئے اور 13 مئی 2023 کو پورے 100 دن بعد باہر نکلے تھے۔

    دبئی :کاروبار کے نام پر درجنوں افراد کو دھوکہ، عرب نژاد یورپی شہری گرفتار

    یونیورسٹی پروفیسر جوزف ڈیٹوری کسی بھی شخص کیجانب سے ڈی پریشرائزنگ کے بغیر زیر آب گزارے گئے وقت کا ورلڈ ریکارڈ اپنے 74 ویں دن ہی توڑ چکے تھے تاہم 100 دن مکمل ہونے تک انہوں نے زیر آب اپنا قیام جاری رکھا فلوریڈا کے’جولیس انڈر سی لاج‘ میں ڈی پریشرائزنگ کے بغیر30 فٹ گہرائی میں موجود شیشےاورلوہے سے بنے ’لارگو لگون‘ میں قیام پذیر رہے تھے۔

    پروفیسر ڈیٹوری کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کوئی ریکارڈ قائم کرنا نہیں تھابلکہ وہ میرین ریسورسز فاؤنڈیشن کےطویل مدتی ریسرچ منصوبے ’پراجیکٹ نیپچون 100‘ کے تحت میرین سائنس کے حوالے سے تحقیق کرنے کیلئے زیر آب گئے تھے۔

    نمک کا زیادہ استعمال ذہنی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    انہوں نے کہا کہ وہ ’پراجیکٹ نیپچون 100‘ کےتحت سب میرین کی طرح ٹیکنالوجی کی مدد سے اندر کے پریشر کو بحال کرنے کے بجائے زیر آب دباؤ کے تحت سخت ترین ماحول اور قید تنہائی کے انسانی ذہن اور جسم پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق تحقیق کر رہے تھے۔

    امریکی پروفیسر نے بتایا کہ پریشر میں رہنے سے ہماری ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے اور دماغ پر ایک تناؤ پڑتا ہے جبکہ پریشر کی وجہ سے جسم کے مختلف حصے دُکھنے لکتے ہیں اور سورج کی کمی کے باعث جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہڈیوں اور پٹھوں میں تکلیف ہوتی ہے اور اس کے ساتھ نیند جیسی نعمت میں بھی خلل آتا ہے۔

    موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

  • اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    لندن: سائنسدانوں ںے خبردار کیا ہے کہ روشنی کی آلودگی کے باعث بالخصوص شہروں میں رہنے والی آبادی اگلے دوعشروں میں ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب منظر سے محروم ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی: ممتاز برطانوی سائنسدان سر مارٹِن ریس نے بھی کہا ہے کہ رات کا تاروں بھرا آسمان ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے اور اگلی نسل اب یہ منظر نہیں دیکھ سکے گی سائنسدانوں نے پایا ہے کہ روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈس (ایل ای ڈی) اور روشنی کی دیگر اقسام کا بڑھتا ہوا استعمال ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب نظارے کی کم کر رہا ہے-

    گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر کے شہروں میں طرح طرح کی طاقتور روشنیاں بڑھتی جارہی ہیں جس سے رات کی تاریکی ختم ہو رہی ہے اور روشنی کی اس دھند میں ستارے تیزی سےغائب ہورہے ہیں 2016 کے بعد سے اب تک کرہ ارض کی ایک تہائی آبادی رات کوملکی وے کے شاندار نظارے سے محروم ہوچکی ہے اس کی موجودہ شرح سےزیادہ تر بڑے برج 20 سالوں میں ناقابل فہم ہو جائیں گے،جو ثقافتی اور سائنسی طور پر نقصان شدید ہو گا۔

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی …

    دوسری جانب، جرمن مرکز برائے ارضی طبعیات کے ماہر کرسٹوفر کائبہ نے کہا اگر آج پیدا ہونے والا کوئی بچہ رات 250 ستارے دیکھ سکتا ہے تو 18 برس کی عمر میں آسمان پر نظرآنے والے ستاروں کی تعداد کم ہوکر صرف 100 تک ہوجائے گی۔

    ماہرین نے زور دیا کہ چند اقدامات سے روشنی کی آلودگی کم کی جاسکتی ہے۔ روشنی کے اوپر چھتری نما رکاوٹ رکھی جائے۔ روشنیوں کا رخ زمین کی جانب رکھا جائے۔ اسی طرح روشنیاں مدھم رکھی جائیں اور سفید یا نیلی روشنیوں کی جگہ سرخ یا نارنجی روشنیاں ہی استعمال کی جائیں۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

  • ٹائٹینک کا پہلی بار فل سائز ڈیجیٹل اسکین،تصاویر دیکھ کر ماہرین دنگ رہ گئے

    ٹائٹینک کا پہلی بار فل سائز ڈیجیٹل اسکین،تصاویر دیکھ کر ماہرین دنگ رہ گئے

    ماہرین کی نئی تحقیق میں دنیا کے مشہور ترین بحری جہاز کے ملبے کو اس طرح دکھایا گیا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

    باغی ٹی وی : ٹائٹینک کا پہلا مکمل سائز کا ڈیجیٹل اسکین، جو بحر اوقیانوس میں 3,800m (12,500ft) نیچے ہے، گہرے سمندر کی نقشہ سازی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہےاس سے پورے جہاز کی منفرد 3 ڈی تصاویر تیار ہوئیں اور ایسا لگتا ہے کہ اردگرد پانی موجود ہی نہیں اور اس کے لیے ڈیپ سی میپنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔

    ماہرین کو توقع ہے کہ اس ڈیجیٹل اسکین سے اس بات پر روشنی ڈالنے میں مدد ملے گی آخر جہاز کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا جس کے باعث وہ 1912 میں ڈوب گیا تھا-

    1,500 سے زیادہ افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب جہاز اپریل 1912 میں ساؤتھمپٹن(برطانیہ) ​​سے نیویارک(امریکا) جاتے ہوئے اپنے پہلے سفر کے دوران برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوبا تھا،ٹائی ٹینک کے تجزیہ کار پارکس اسٹیفن سن نے بی بی سی نیوز بتایا کہ ابھی بھی اس حادثے کے حوالے سے ایسے متعدد سوالات موجود ہیں جن کے جواب معلوم نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 3 ڈی ماڈل ٹائی ٹینک کی قیاسات سے ہٹ کر شواہد پر مبنی اصل کہانی سامنے لانے کی جانب پہلا قدم ہے،ڈوبنے کے بعد اس جہاز کا ملبہ بھی ایک معمہ بن گیا تھا اور 7 دہائیوں سے زائد عرصے بعد 1985 میں اسے دریافت کیا گیا تھا۔

    1985 میں ملبے کی دریافت کے بعد سے ٹائٹینک کی بڑے پیمانے پر کھوج کی گئی ہے مگر یہ جہاز اتنا بڑا ہے کہ کیمرے اس کی غیر واضح تصاویر ہی کھینچ پاتے ہیں اور پورے ملبے کو تو دکھانا ممکن ہی نہیں،مگر نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے پورے ملبے کو اسکین کرکے اس کا واضح نظارہ دکھایا گیا۔

    یہ جہاز 2 حصوں میں تقسیم ہوکر سمندر کی تہہ میں موجود ہے کمان اور سٹرن تقریباً 800m (2,600ft) سے الگ ہیں۔ ٹوٹے ہوئے برتن کے چاروں طرف ملبے کا ایک بہت بڑا ڈھیر ہےیہ اسکین 2022 کے موسم گرما میں میگیلن لمیٹڈ، ایک گہرے سمندر میں نقشہ سازی کرنے والی کمپنی، اور اٹلانٹک پروڈکشنز نے کیا تھا، جو اس منصوبے کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنا رہے ہیں۔

    اس مقصد کے لیے آبدوزوں کی مدد لی گئی جن کو ایک خصوصی جہاز میں سوار ماہرین نے کنٹرول کیا اور 200 گھنٹوں سے زائد وقت تک ملبے کی لمبائی اور چوڑائی کا سروے کیا گیاماہرین نے جہاز کی ہر زاویے سے 7 لاکھ سے زیادہ تصاویر لیں اور پھر ان کی مدد سے 3 ڈی ماڈل تیار کیا۔

    میگیلن کے گیرہارڈ سیفرٹ، جنہوں نے اس مہم کی منصوبہ بندی کی، کہا کہ یہ پانی کے اندر سکیننگ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو اس نے کبھی شروع کیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ 4 ہزار میٹر گہرائی میں یہ کام کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا جبکہ ہمیں کسی چیز کو چھونے کی اجازت بھی نہیں تھی کیونکہ اس سے ملبے کو نقصان پہنچ سکتا تھا ان کا کہنا تھا کہ ایک چیلنج یہ بھی تھا کہ جہاز کے ہر اسکوائر سینٹی میٹر کا نقشہ تیار کیا جائے۔

    اسکین میں جہاز کے حجم کے ساتھ ساتھ اس کی باریک تفصیلات جیسے پروپلر میں موجود سیریل نمبر تک کو دکھایا گیا جہاز کے اگلے حصے پر اب زنگ چڑھ چکا ہے مگر 111 سال بعد بھی اسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔

    پارکس اسٹیفن سن برسوں سے ٹائی ٹینک پر تحقیق کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان 3 ڈی تصاویر کو دیکھ کردنگ رہ گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ان اسکینز کی جانچ پڑتال سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ اپریل 1912 کی رات کو جہاز کے ساتھ کیا ہوا تھا، جیسے یہ معلوم ہوگا کہ جہاز کا کونسا حصہ برفانی تودے سے ٹکرایا۔

    ماہرین کے مطابق ایک صدی سے زائد عرصے سے سمندر کی تہہ میں موجود اس ملبے کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے، جرثومے اس کے مختلف حصوں کو چاٹ چکے ہیں اس بحری حادثے کو مکمل طور پر سمجھنے کا وقت بہت کم رہ گیا ہےمگر نئے اسکینز سے یہ ملبہ تاریخ میں ہمیشہ موجود رہے گا اور ماہرین اس کے رازوں سے پردہ اٹھا سکیں گے۔

    جو اب زنگ کے سٹالیکٹائٹس میں ڈھکا ہوا ہے، جہاز کے گم ہونے کے 100 سال بعد بھی فوری طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔ سب سے اوپر کشتی کا ڈیک ہےبحری جہاز کا یہ حصہ سمندر کی تہہ میں گرنے سے گر گیاآس پاس کے ملبے کے میدان میں اشیاء بکھری پڑی ہیں، جن میں جہاز سے آرائشی دھاتی کام، مجسمے اور نہ کھولی گئی شیمپین کی بوتلیں شامل ہیں۔ تلچھٹ پر پڑے درجنوں جوتے سمیت ذاتی املاک بھی موجود ہیں۔

  • انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    ہماری انگلیوں کے سروں پر پرنٹس کس طرح بنتی ہیں یہ ایک دیرینہ سائنسی معمہ ہےتاہم اب سائنسدانوں نے اس معمہ کوحل کردیاہے، جس سےنہ صرف اس عمل کو ظاہر کیا گیا ہے جس سےانگلیوں کےنشان بنتے ہیں، بلکہ اس کے ذمہ دار جینز بھی ہیں اوریہ پتہ چلتا ہے، ہمارے مخصوص پرنٹس اسی رجحان سے نکلتے ہیں جس سے زیبرا کی دھاریاں اور چیتے کے دھبے بنتے ہیں-

    باغی ٹی وی: کئی سالوں سے، یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ترقیاتی ماہر حیاتیات ڈینس ہیڈن، جیمز گلووراور ان کے ساتھی انگلیوں کے نشانات میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ، جلد کی نشوونما اور پختگی کےطریقےکی تحقیقات کر رہے تھے فنگرپرنٹس جو آپ کی انگلیوں کے سِروں پر گھومتی اور ابھری لکیریں ہیں، پیدائش سے پہلے ہی وجود میں آجاتی ہیں یہ پوریں ہر انگلی کےتین نقطوں سےپھیلناشروع ہوتی ہیں؛ ایک ناخن کے نیچے سے، انگلی کے بیچ سے اور انگلی کی نوک کی قریب ترین جگہ سے۔

    طاقت ور ترین سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش کے ساحل سے ٹکرانے کیلئے تیار

    سائنس دان جانتے تھے کہ فنگرپرنٹس جِلد کے نیچے چھوٹی چھوٹی گہرائیاں بننے سے پیدا پوتے ہیں اور یہ گہرائیاں نیچے تک چلی جاتی ہیں جن کے نچلے ترین حصے میں خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور وہ بھی نیچے کی طرف بڑھتےچلےجاتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد خلیات نیچے کی طرف بڑھنا رُک جاتے ہیں۔ اس کے بجائےوہ اوپر کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور جلد کواوپرکی طرف دھکیلتے ہیں جس سے جلد پر ابھری لکیریں بن جاتی ہیں۔

    تاہم یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جوفنگرپرنٹس کے آخری ڈیزائن کا تعین کرتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ پوروں کی نمو میں کون سے مالیکیول شامل ہو سکتے ہیں، محققین نے جلد کے ایک اور جُز کا جائزہ لیا جو جلد کے اوپر ہی نہیں بلکہ اندر نیچے کی طرف بھی بڑھتا ہے اور وہ ہے بال۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    ٹیم نے بالوں کے خلیوں کی نشوونما کا موازنہ ابھرتے ہوئے فنگر پرنٹس سے کیا۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ ایک جیسے ہی مالیکیولز دونوں کے نیچے کی طرف بڑھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں کچھ خاص قسم کے مالیکیولز ہوتے ہیں جو خلیوں کے درمیان سگنلز کو منتقل کرتے ہیں۔

    جیف راسموسن، واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک ترقیاتی ماہر حیاتیات جو اس کام میں شامل نہیں تھے نے کہا کہ ایک چیز جو میرے سامنے کھڑی تھی وہ صرف مختلف طریقوں کی وسعت تھی جسے وہ کاغذ میں استعمال کرتے ہیں وہ تمام مختلف قسم کے طریقہ کار واقعی [ایک] مربوط کہانی بنانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

    یہ کہانی جسم کے بافتوں کی بیرونی تہہ سے شروع ہوتی ہے، جسے اپیتھیلیم کہتے ہیں۔ ہیڈن کی ٹیم نے بالآخر پایا کہ انگلیوں کے نشان بالوں کے پٹکوں سے بہت ملتے جلتے نظر آنے لگتے ہیں: دونوں اپیتھیلیم پر خلیات کی چھوٹی ڈسکس کے طور پر شروع ہوتے ہیں، اور دونوں صورتوں میں، خلیے EDAR اور WNT سمیت پروٹین کے ایک سوٹ کے لیے جینز کو چالو کرتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    بالوں اور فنگر پرنٹس دونوں میں WNT،EDAR اورBMP نامی مالیکیولز ہوتے ہیں ۔WNT خلیات کی پیداوار کو بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ابھرنے میں مدد ملتی ہے۔ WNT خلیوں کو EDAR پیدا کرنے کی بھی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں WNT کی سرگرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔

    دوسری طرفBMP ان تمام کارروائیوں کو روکتا ہے۔ جہاںBMP بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں جلد کے خلیوں کی تعمیر رُک جاتی ہے اور اس طرح زیادہ BMP والی جگہیں انگلی کے پوروں کے درمیان سطحی رہتی ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق