Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • بھارت کا سیٹلائٹ لانچنگ کے دوران ناکام

    بھارت کا سیٹلائٹ لانچنگ کے دوران ناکام

    بھارت کا سیٹلائٹ لانچ بری طرح ناکام ہو گیا-

    بھارت کا پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C61) اتوار کی صبح 5:59 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھاون اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا، لیکن چند منٹ بعد ہی اس کے تیسرے مرحلے کے راکٹ موٹر میں خرابی آ گئی جس کے نتیجے میں ای او ایس-09 سیٹلائٹ کے کامیاب لانچ میں ناکامی ہوئی۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق، راکٹ کے تیسرے مرحلے کا موٹر، جو ہائیڈروکسیل ٹرمینیٹڈ پالی بیوٹادیین ایندھن استعمال کرتا ہے، روانگی کے 203 سیکنڈ بعد درست کام نہیں کر سکا، جس کے باعث سیٹلائٹ اپنے متعین 524 کلومیٹر کے سن سنکرونس پولر مدار تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

    پنجاب بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو الرٹ جاری

    اس ناکامی کے بعد، بھارتی خلائی ایجنسی ’آئی ایس آر او‘ نے مشن کو فیلڈ ٹرمینیشن پروسیجر کے تحت ختم کر دیا اور راکٹ کے چوتھے مرحلے اور سیٹلائٹ کو تباہ کر دیا سیٹلائٹ کا 1696 کلوگرام وزن کا EOS-09 سیٹلائٹ، جو کہ موسم سے آزاد تصویریں فراہم کرنے کے لیے سی- بینڈ سنتھیٹک اپرچر راڈار (ایس اے آر) پر مبنی تھا، بھارت کے سرحدی نگرانی اور قدرتی آفات کے ردعمل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے منصوبوں کے لئے اہمیت رکھتا تھا۔

    بھارت خطے، خاص طور پر پاکستان میں دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ واقعہ ’پی ایس ایل وی‘ پروگرام کے 63 مشنز میں سے تیسری مکمل ناکامی ہے، اس ناکامی کے بعد ’آئی ایس آر او‘ کے انجینئروں نے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ خرابی ایندھن کے بہاؤ میں خرابی، نوزل کے مسائل یا ساختی ناکامی کس وجہ سے ہوئی تھی،اس ناکامی سے بھارت کے 52 سیٹلائٹس پر مشتمل نگرانی کے نیٹ ورک کے قیام میں تاخیر ہوگی۔

    آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت سنبھلنے لگی

  • 21  اور 25 جنوری  کو  آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ  کر سکیں گے

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے

    اسلام آباد: 21 جنوری اور 25 جنوری کو آپ آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی: ماہرین فلکیات کے مطابق 6 میں سے 4 سیاروں یعنی زہرہ، مشتری، زحل اور مریخ کو دیکھنے کے لیے آپ کو دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ کھلی آنکھوں سے انہیں سورج غروب ہونے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے البتہ نیپچون اور یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی زہرہ اور زحل تو ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب موجود ہوں گے۔

    سیاروں کی اس طرح کی قطار بہت زیادہ غیرمعمولی نہیں مگر متعدد سیاروں کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ہر سال نہیں ملتا، جس وجہ سے یہ پلینٹ پریڈ بہت خاص ہے اگر آپ سیاروں کو آسمان پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین وقت سورج غروب ہونے کے 45 منٹ بعد ہوگا زہرہ اور زحل جنوب مغرب میں جگمگا رہے ہوں گے جبکہ مشتری جنوب مشرقی آسمان پر چھایا ہوا ہوگا اور مریخ مشرق میں نظر آئے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    سیاروں کے نظر آنے کا یہ سلسلہ 3 گھنٹوں تک برقرار رہے گا جس کے بعد زہرہ اور زحل مغرب میں غروب ہو جائیں گےان سیاروں کے بہترین نظارے کے لیے شہروں کی روشنی سے دور کسی تاریک جگہ کا رخ کریں اور جنوب مشرقی افق پر نظر رکھیں۔

    زہرہ آسمان پر چاند کے بعد دوسرا روشن ترین نظارہ پیش کرتا ہے اور اس کی جگمگاہٹ زحل سے 110 گنا زیادہ ہوگی یہ دونوں سیارے حیران کن حد تک ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور دوربین یا آنکھوں سے بھی دنگ کر دینے والا نظارہ پیش کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    نیپچون زحل اور زہرہ کے بالکل اوپر ہوگا جبکہ یورینس کو آپ مشتری کے اوپر دریافت کرسکتے ہیں مریخ 2022 کے بعد اب سب سے زیادہ روشن ہے، یعنی زمین براہ راست مریخ اور سورج کے درمیان آچکی ہے اور اس وجہ سے سرخ سیارہ مشرق میں زیادہ جگمگاتا نظر آرہا ہے سیاروں کی یہ پریڈ یہاں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ 31 جنوری کو چاند بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا جو زحل سے محض ایک ڈگری دور نظر آئے گا یکم فروری کو چاند زہرہ کے قریب ہو جائے گا جس سے رات کو آسمان پر ایک اور خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • چین  چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    چین چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    بیجنگ: چین کی جانب سے چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے والا پہلا ملک بن گیا-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین چاند کے دور دراز علاقے سے نمونے اکٹھا کر کے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے چینی خلائی مشن ’چینگ ای 6 مشن کا ری انٹری کیپسول‘ اندرونی منگولیا کے خطے Siziwang Banner میں قیمتی سامان کے ساتھ لینڈ ہوا، چاند سے نمونے لانے والی چین کی اس خلائی لینڈنگ کو چینی میڈیا چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا جسے چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ مذکورہ چینی خلائی مشن چینگ ای 6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ جاننے میں مدد ملے گی چینگ ای 6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ چینگ ای مشن 3 مئی کو چاند پر روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کے اس مقام پر اترا تھا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی-

  • امریکا کا روس پر  اینٹی اسپیس سیٹلائٹ لانچ کرنے  کا الزام

    امریکا کا روس پر اینٹی اسپیس سیٹلائٹ لانچ کرنے کا الزام

    واشنگٹن: امریکا کی اسپیس کمانڈ نے روس پر ایک ایسا سیٹلائٹ لانچ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جو ممکنہ طور پر اینٹی اسپیس ہتھیار ہے-

    یہ الزام ایسے وقت میں لگایا گیا جب روسی خلائی جہاز ”کوسموس 2576“ کو نیشنل ریکونیسنس آفس (NRO) کے امریکی جاسوس سیٹلائٹ کا پیچھا کرتے دیکھا گیا،روس کا سویوز راکٹ 16 مئی کو پلیسیٹسک لانچ سائٹ سے خلا میں پہنچا اور اس نے کم از کم نو سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں تعینات کیا، جن میں کوسموس 2576 بھی شامل تھا۔

    یو ایس اسپیس کمانڈ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے معمولی سرگرمی کا مشاہدہ کیا ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک اینٹی اسپیس ہتھیار ہے جو ممکنہ طور پر زمین کے نچلے مدار میں موجود دیگر سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےروس نے اس نئے اینٹی اسپیس ہتھیار کو امریکی حکومت کے سیٹلائٹ کے مدار میں تعینات کیا ہے-

    نیب ترامیم کیس:عمران خان نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کیلئے درخواست دائر کردی

     

    کوسموس 2576، 2019اور 2022 سے پہلے تعینات کیے گئے روسی کاؤنٹر اسپیس پے لوڈز سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں حساس امریکی جاسوس سیٹلائٹس کےقریب سیٹلائٹس کی تعیناتی کےہتھکنڈوں سےمتعلق نمائش کی گئی تھی 2019 میں، ایک روسی سیٹلائٹ نے ایک شے کو خلا میں تعینات کیا اور قریب سے ایک این آر او سیٹلائٹ کا پیچھا کیا،اگرچہ کوسموس 2576 ابھی تک کسی امریکی سیٹلائٹ کے قریب نہیں پہنچا ہے، لیکن خلائی تجزیہ کاروں نے اسے یو ایس اے 314 کے اسی مداری حلقے میں دیکھا ہے، جو اپریل 2021 میں لانچ کیا گیا بس سائز کا این آر او سیٹلائٹ ہے۔

    گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ کو خط

  • ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آئیں گے

    ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آئیں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آنے کو تیار ہیں۔

    ”پلینیٹری الائنمنٹ“ ایک اصطلاح ہے جو نظام شمسی میں سیاروں کی پوزیشننگ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسے کہ سیدھی قطار میں آنا یا کسی مخصوص مقام سے دیکھنے پر قریب نظر آنا وغیرہ، لیکن سیاروں کا واقعی خلا میں ایک سیدھی لائن میں آنا دراصل ایک بصری دھوکہ ہے اور اس میں نقطہ نظر کا زیادہ کردار ہے۔

    عطارد، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک قریب سیدھی لکیر بنائیں گے، یہ اس کائناتی مظہر کو دیکھنے کا ایک غیر معمولی موقع گا تاہم، زمین سے وسیع فاصلے پر ہونے کی وجہ سے، ان میں سے سب صرف آنکھ سے نظر نہیں آئیں گے چاند بھی اس مظہر کی مرئیت کو خراب کرے گا۔

    قاتلانہ حملے میں زخمی صحافی علاج کیلئے سندھ حکومت کی ایمبولینس پر کراچی منتقل

    عطارد اور مشتری کو اپنے مدار میں سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے آسمان میں دیکھنا مشکل ہوگا تاہم، مریخ اور زحل دیکھے جاسکیں گے، لیکن بہت مدھم ہوں گے دور دراز سیاروں یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے اعلیٰ طاقت والی دوربین کی ضرورت ہوگی۔

    نان فائلرز کی اب تک کتنی موبائل سمز بلاک ہوئی؟ایف بی آر نے …

  • مشتری سے 50 فیصد بڑا   لیکن  وزن میں  روئی سے بھی ہلکا اور ملائم  سیارہ دریافت

    مشتری سے 50 فیصد بڑا لیکن وزن میں روئی سے بھی ہلکا اور ملائم سیارہ دریافت

    سائنسدانوں نے حال ہی میں انہوں ایک ایسے بڑے حجم والا سیارہ دریافت کیا ہے جو زمین سے 2600 گنا بڑا لیکن وزن میں انتہائی ہلکا پھلکا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے سیارے کو ابتدائی طور پر وائڈ اینگل سرچ فار پلینٹس (WASP) کی مدد سے دیکھا گیازمین سے 12 سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ”WASP-193b“ نامی نیا سیارہ مشتری سے 50 فیصد او ر زمین سے 2600 گنا بڑا ہے لیکن اس کا وزن روئی سے بھی ہلکا اور یہ بہت ملائم ہے۔

    ناسا کے مطابق کاٹن کینڈی کی کثافت والے اس حیرت انگیز سیارے کو ”Super-Puffs“ کا نام دیا گیا ہے سیارہ انتہائی کم کثافت رکھتا ہے، جس کا حجم اور سائز مشتری سے بالترتیب 0.14 اور 1.5 گنا زیادہ ہے جس کے نتیجے میں کثافت تقریباً 0.059 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر بنتی ہے، جو کاٹن کینڈی جتنی ہے۔

    روسی وزارت دفاع کا ایک اور سینئیر افسر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

    ایم آئی ٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے شریک مصنف جولین ڈی وٹ کا کہنا ہے کہ سیارہ اتنا ہلکا ہے کہ ایک مشابہ، ٹھوس سیارے کے مواد کے بارے میں سوچنا مشکل ہے، سیارہ بنیادی طور پر روئی جیسا نرم و ملائم ہے،محققین کو شبہ ہے کہ WASP-193b زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنا ہے، جس کا ماحول مشتری کے اپنے ماحول سے دسیوں ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، تاہم، سیاروں کی تشکیل کے موجودہ نظریات ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ کسی سیارے کا ماحول اس حد تک کیسے پھیل سکتا ہے۔

    ایف آئی اےکی کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

  • “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی“ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: یہ تصاویر ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO) نے لی ہیں جن میں مارول کے معروف تخیلاتی کردار ”سلور سرفر“ کے بورڈ سے مشابہت رکھتی پتلی افقی لکیر دکھائی دے رہی ہےسلور سرفر دراصل مارول کامکس کا ایک کردار ہے جو مکمل طور پر سلور رنگ کا ہوتا ہے اور اپنے سرف بورڈ پر خلا میں گھومتا ہے اور اپنے مالک کیلئے خوراک کا انتظام کرتا ہے، جو پورے پورے سیارے نگل جاتا ہے۔

    خلائی ایجنسی نے کہا کہ یہ پراسرار شے کوئی کامک بک کیریکٹر، سپر ہیرو فلموں یا خلائی مخلوق کا جہاز نہیں، بلکہ ناسا کے ایل آر او نے دراصل وہاں سے گزرتے جنوبی کوریائی سیٹلائٹ کو اس وقت کیمرے میں قید کیا جب دونوں مدار میں ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے تھے۔

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    ناسا کے مطابق ، ایل آر او نے کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھیجے گئے ”دانوری لونر آربیٹر“ کی متعدد تصاویر اس وقت حاصل کیں، جب دونوں 5 اور 6 مارچ کے درمیان متوازی لیکن مخالف سمتوں میں ایک دوسرے کے پاس سے گزر رہے تھے،دانوری جو 2022 سے چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے، اس کے اور ایل آر او کے درمیان انتہائی تیز رفتار کی وجہ سے تصویر مسخ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    رواں سال کراچی میں 425 مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے، سندھ پولیس

    دانوری چاند پر جنوبی کوریا کا پہلا خلائی جہاز ہے اور دسمبر 2022 سے چاند کے مدار میں ہے ایل آر او کو 2009 میں شروع کیا گیا تھا تب سے، اس نے اپنے سات طاقتور آلات کے ساتھ اہم ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، یہ چاند کے مطالعہ میں ایک انمول شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    شرجیل میمن کی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیوں کا سیکرٹری انفارمیشن کو آگاہ کرنے …

  • شادی کے بعد  خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    شادی کے بعد خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    محققین کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں میاں بیوی کے برابر گھریلو کام کاج کرنے کا تصور پایا جاتا ہے مگر حقیقت میں اب بھی گھر میں خواتین ہی کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے-

    باغی ٹی وی: ویب سائٹ ’secretlifeofmom.com‘ کے مطابق یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین کی ٹیم نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ زندگی میں شوہر کے آنے سے کسی بھی خاتون کے گھریلو کام کاج میں اوسطاً 4گھنٹے فی ہفتہ کام کا اضافہ ہوتا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ماہر معاشیات فرینک سٹافرڈ کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں میاں بیوی کے برابر گھریلو کام کاج کرنے کا تصور پایا جاتا ہے مگر حقیقت میں اب بھی گھر میں خواتین ہی کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، امریکی خواتین 20ویں صدی کے وسط میں ایک ہفتے میں 26گھنٹے کام کرتی تھیں، اب ان کے کام کی شرح میں کمی واقع ہو چکی ہے اور وہ ہفتے میں اوسطاً 17گھنٹے کام کرتی ہیں۔

    فرینک سٹافرڈ کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں مردوں کے کام میں لگ بھگ دو گنا اضافہ ہوا ہے، 20ویں صدی کے وسط میں مرد ہفتے میں اوسطاً 6 گھنٹے کام کرتے تھے اور آج 13 گھنٹے کر رہے ہیں خواتین کے گھریلو کام کاج پر شادی کے اثرات کے حوالے سے فرینک سٹافرڈ اور ان کی ٹیم نے بتایا کہ 1976 میں شادی کرنے کے بعد خواتین کو ہفتے میں اوسطاً 9 گھنٹے اضافی کام کرنا پڑتا تھا، اس میں بھی بتدریج کمی ہوئی ہے اور 2005 کے بعد سے شادی کے بعد خواتین کو 4گھنٹے اضافی کام کرنا پڑ رہا ہے، اسی طرح اس عرصے میں بھی شادی کے بعد مردوں کے کام میں اضافہ ہوا ہے اور 2005 کے بعد سے شادی کے بعد وہ ہفتہ وار 5گھنٹے اضافی کام کر رہے ہیں۔

  • واٹس ایپ کی صارفین پر نئی شرائط لاگو کرنے کی تیاری

    واٹس ایپ کی صارفین پر نئی شرائط لاگو کرنے کی تیاری

    واٹس ایپ اس ہفتے اپنی اپ ڈیٹ کردہ شرائط کو لاگو کرنے کی تیاری کر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے پیش کی گئی تبدیلیوں کو بطور ڈیفالٹ قبول کرنے کی آخری تاریخ آج ہے، اس کے بعد آپ کو 48 گھنٹے دئیے جائیں گے اور 11 اپریل سے اُپ کو اپنا واٹس ایپ اکاونٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور کیا جائے گا،واٹس ایپ کی جانب سے شرائط میں تبدیلی یورپ کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (DMA) کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے کی گئی ہے،واٹس ایپ کی نئی شرائط کا تعلق تھرڈ پارٹی چیٹ انٹیگریشن سے ہے، جس سے وہ دوسرے میسنجر کے ساتھ اُن کے اِن باکسز کو ہم آہنگ کرنے کے لیے بات چیت کر سکتا ہے۔

    اس میں سن برڈ جیسی ایپس کے ساتھ مشغول ہونا بھی شامل ہے، جو اینڈرائیڈ پر iMessage کو فعال کرتی ہے، جس سے نان انکرپٹڈ پیغامات اور تصاویر کے ساتھ بڑے سیکورٹی خدشات ساتھ آتے ہیں، یہ پہلا موقع ہو گا جب واٹس ایپ جیسی ہائی پروفائل میسجنگ ایپ نے اپنی دیواریں کھولی ہیں تاکہ کسی تھرڈ پارٹی میسجنگ ایپلیکیشن کو ساتھ لایا جائے اور اپنے صارفین کے ساتھ مشغول ہونے کی اجازت دی جا سکے، جو کہ ناصرف ایک گیم چینجر ہے، بلکہ پرائیویسی کیلئے ڈراؤنا خواب بھی ہے۔

    سعودی عرب،یو اے ای، قطر، فلپائن، ملائشیا اور آسٹریلیا میں بھی عیدالفطر کل منائی جائے …

    میٹا نے ایک حالیہ بیان میں یہاں تک کہا ہے کہ جب کوئی تھرڈ پارٹی پیغامات کو ہینڈل کر لیتی ہے تو وہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی گارنٹی نہیں دے سکتا، کیونکہ اس طرح کے انکرپشن کو دونوں طرف سے کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

    واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ دونوں کلائنٹس (اینڈ پوائنٹس) کی ملکیت کے بغیر ہم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ فریق ثالث فراہم کنندہ بھیجے گئے یا موصول ہونے والے پیغامات کے ساتھ کیا کرتا ہے، اور اس لیے ہم انکرپشن کا وہی وعدہ نہیں کر سکتے۔

    اسرائیل نے رفح پر فوجی حملے کے لیے تاریخ مقرر کرلی

    WhatsApp نے ان تبدیلیوں کو ہر ایک کے لیے لازمی کر دیا ہےاس میں کہا گیا ہے کہ ’اگر آپ ہماری شرائط کو قبول نہیں کرنا چاہتے تو آپ آسانی سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر سکتے ہیں، حالانکہ ہمیں آپ کے واٹس ایپ کو چھوڑتے ہوئے افسوس ہوگا۔