Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے حصے جس میں مشتری، زحل اور یورینس شامل ہیں سے آنے والے بڑے بڑے آگ کے گولوں نے 4.6 ارب سال قبل زمین زندگی کی بنیاد رکھی۔

    باغی ٹی وی: میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ قدیم شہابیے کاربنیسیئس کونڈرائٹ سے بنے ہوئے تھے جو پوٹاشیم اور زِنک کے عناصر پر مشتمل تھا پوٹاشیم خلیے کے مائع کو بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زِنک ڈی این اے کی تخلیق کے لیے اہم جزو ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    اتار چڑھاؤ ایسے عناصر یا مرکبات ہیں جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع حالت سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں ان میں جانداروں کے ساتھ ساتھ پانی میں پائے جانے والے چھ سب سے عام عناصر شامل ہیں۔ اس طرح، اس مواد کا اضافہ زمین پر زندگی کے ظہور کے لیے اہم رہے گا۔

    اس سے پہلے، محققین کا خیال تھا کہ زمین کے زیادہ تر اتار چڑھاؤ ان سیاروں سے آتے ہیں جو زمین کے قریب بنتے ہیں۔ نتائج سے اس بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں کہ زمین زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار خصوصی حالات کو کس طرح سہارا دیتی ہے۔

    حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری زمین جب تخلیق کے مراحل میں تھی تب اس سے ٹکرائی جانے والی خلائی چٹانوں میں 10فیصد وہ خلائی چٹانیں تھیں جوکاربنیسیئس کونڈرائٹ سےبنی تھیں جبکہ دیگر90 فیصد چٹانیں ایسےنظاموں سے آئیں تھیں جو کاربنیسیئس مواد سے نہیں بنے تھے ان شہابیوں نے زمین کو 20 فی صد پوٹاشیم اور زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار فراہم کی۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹرنِکول نائی کےمطابق پوٹاشیم کم غیرمستحکم جبکہ زنک سب سے زیادہ غیر مستحکم عنصر ہے دونوں عناصر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہے جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع صورت سے بھانپ می تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    تحقیق کےسینئر مصنف اور امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر مارک ریہکمپر نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق میں حاصل ہونے والی معلومات بتاتی ہے کہ زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آنے والے مواد نے فراہم کی ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینئر مصنف پروفیسر مارک ریہکا نے کہا: "ہمارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ زمین کی زنک انوینٹری کاتقریباً نصف حصہ مشتری کےمدار سےباہر بیرونی نظام شمسی سے مواد کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی شمسی نظام کی ترقی کے موجودہ ماڈلز کی بنیاد پر، یہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اس کے برعکس، نئے نتائج بتاتے ہیں کہ بیرونی نظام شمسی نے پہلے سوچنے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

    پروفیسر ریہکا نے مزید کہا کہ بیرونی نظام شمسی کے مواد کی اس شراکت نے زمین کی غیر مستحکم کیمیکلز کی انوینٹری کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی نظام شمسی کے مواد کی شراکت کے بغیر، زمین میں اتار چڑھاؤ کی مقدار اس سے کہیں کم ہوگی جو آج ہم جانتے ہیں – یہ خشک اور ممکنہ طور پر زندگی کی پرورش اور برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    اس تحقیق کے لیے، محققین نے مختلف ماخذ کے 18 شہابیوں کا جائزہ لیا – گیارہ نظامِ شمسی سے، جو غیر کاربوناسیئس میٹورائٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور سات بیرونی نظامِ شمسی سے، جنہیں کاربوناسیئس میٹیورائٹس کہا جاتا ہے۔

    اس مقالے کی پہلی مصنفہ رائیسا مارٹنز، شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی امیدوار نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین میں کچھ کاربونیسیئس مواد شامل کیا گیا تھالیکن ہمارے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مواد نے زمین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہمارے غیر مستحکم عناصر کا بجٹ، جن میں سے کچھ زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس کے بعد محققین مریخ کی چٹانوں کا تجزیہ کریں گے جن میں 4.1 سے 3 بلین سال پہلے خشک ہونے سے پہلے پانی موجود تھا-

    پروفیسر ریہکا ایمپر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رائج نظریہ یہ ہے کہ چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تقریباً 4.5 بلین سال پہلے ایک بہت بڑا سیارچہ ایک برانن زمین سے ٹکرا گیا۔ چاند کی چٹانوں میں زنک آسوٹوپس کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اس مفروضے کو جانچنے اور یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ٹکرانے والے شہابیے نے پانی سمیت اتار چڑھاؤ کو زمین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

  • مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    مسلسل فاسٹ فوڈ کی عادت جگر کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے،گزشتہ 50 برسوں میں فاسٹ فوڈ پوری دنیا میں خوب بڑھا ہے اور اب بھی لوگ طرح طرح کے امراض کےشکار بن رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں واقع کیک اسکول آف میڈیسن کی جانب سے شائع کرائی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ فاسٹ فوڈ کھانے کی طویل عادت جگر میں چربی چڑھا سکتی ہے اس صورت میں ’نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز‘ (این اے ایف ایل ڈی) نہ صرف ظاہر ہوسکتی ہے بلکہ مزید پیچیدہ بن کر جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    تحقیق سے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر عینی کرداشیئن کہتی ہیں کہ اگر کوئی اپنے روزمرہ حراروں (کیلوریز) کا پانچواں حصہ فاسٹ فوڈ سے لیتا ہےتو جلد یا بدیر ان کے جگر کو مختلف چکنائیاں گھیرلیتی ہیں۔

    اس ضمن میں 2017 اور 2018 کے صحت و غذائیت کے سروے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے امریکہ میں ہر سال اس موزوں پر سب سے بڑا عوامی سروے بھی ہوتا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ جگرمیں چکنائیوں کا جمع ہونا، ہیپاٹائٹس، جگر کی ناکاکردگی بلکہ سرطان کی وجہ بھی بن رہا ہے یا بن سکتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے اس فہرست میں برگر کے علاوہ میٹھی اشیا، ڈونٹس اور پیزا وغیرہ کو بھی شامل کیا ہے۔ اس تحقیقی سروے میں کل 4000 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا ہے ان میں سے 52 فیصد افراد فاسٹ فوڈ کھانے کے عادی تھےجو افراد اپنے ضروری غذائی حراروں کی صرف 20 سے 29 فیصد مقدار فاسٹ فوڈ سے حاصل کررہے تھے وہ سب جگر پر اضافی چربی میں متبلا پائے گئے جسے این اے ایف ایل ڈی کہا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جو فربہ افراد میں جگر پر چربی کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ کی مقدار اور عادت میں کسی بھی طرح کمی کریں۔ فربہ افراد کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی شکایت بھی کرتے نظرآئےیہی وجہ ہے کہ ماہرین نے عوام کو فاسٹ فوڈ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

  • ہرفرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے،بل گیٹس

    مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ ہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : 2015 میں پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے میں دنیا بھر کے رہنماؤں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم اب بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے ہدف کو حاصل نہیں کرسکے گی۔

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ


    یہ پیشگوئی بل گیٹس نے سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ میں بات کرتے ہوئے کی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے ہونے والے کام میں کافی تیزی آئی ہے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ناقص کوششوں کی وجہ سے انسانی حالات میں بہتری کے لیے ہونے والی پیشرفت بھی سست رفتار ہوگئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں 10 فیصد سے زیادہ بچے 5 سال کی عمر سے پہلے ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ 30 فیصد سے زیادہ افراد کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تمام تر حالات کے باوجود مجھے اب بھی یقین ہے کہ ہم بھیانک نتائج سے بچ سکتے ہیں-

    خیال رہے کہ بل گیٹس نے ایک جوہری کمپنی ٹیرا پاور کی بنیاد رکھی ہے جبکہ بریک تھرو انرجی نامی کمپنی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے متعدد جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے،علاوہ ازیں بل گیٹس نے مصنوعی گوشت کی تیاری کے لیے بھی متعدد کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    انہوں نے بتایا کہ مصنوعی گوشت سے تیار ہونے والی مصنوعات کا شیئر تو ابھی نہ ہونے کے برابر ہے مگر یہ گوشت کے متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری کے لیے اہم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست مصنوعات سستی ہوں، یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم دنیا بھر کے ممالک سےتبدیلی لانےکا مطالبہ کرسکتے ہیں، اگر ان مصنوعات کی لاگت زیادہ ہوتوہم کامیاب نہیں ہوسکتےہر فرد موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرسکتا ہے آپ ایک ووٹر، خریدار اور ایک ورکر ہیں، ان تمام کرداروں میں آپ اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ میرے پاس امریکہ میں 1/4000 سے بھی کم کھیتی ہے۔ میں نے ان فارموں میں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ انہیں مزید پیداواری بنایا جا سکے اور مزید ملازمتیں پیدا کی جا سکیں۔ اس میں کوئی بڑی اسکیم شامل نہیں ہے – درحقیقت یہ تمام فیصلے پیشہ ورانہ سرمایہ کاری ٹیم کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    بہت امیر لوگوں کو میرے خیال میں انہیں بہت زیادہ ٹیکس ادا کرنا چاہئے اور انہیں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دولت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ میرے لیے بہت پورا کرنے والا رہا ہے اور یہ میرا کل وقتی کام ہے مجھے حیرت ہے کہ ٹیکس میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر کیپیٹل گین کی شرحیں عام آمدنی کی شرح کے برابر ہوسکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے لوگوں کے لیے چیزیں مشکل ہیں۔

    واضح رہے کہ بل گیٹس سے قبل اکتوبر 2022 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کیجانب سے جاری ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا لگ بھگ ناممکن ہے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

  • چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چینی انجینیئروں نےڈرون ٹیکنالوجی میں ایک حیرت انگیز خاصیت پیدا کی ہے کہ وہ زمین سے پھینکی گئی لیزر سے توانائی بنا کر کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ تک زمین پر اترے بغیر ہوا میں سفر کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: شمال مغربی چین میں محققین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے ہائی انرجی لیزر بیم استعمال کرنے کا ایک طریقہ تیار کیا ہے، ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ہمیشہ کے لیے ہوا میں رکھنے کے لیے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    چین سمیت کئی ممالک ڈرون مخالف ہتھیاروں کے طور پر طاقتور لیزر سسٹم تیار کر رہے ہیں۔ لیکن چیان یانگ میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی (این پی یو) کے پروفیسر لی زیلونگ اور ان کے ساتھیوں نے ڈرون لیزر تعلقات کو دوسرے زاویے سے دیکھا۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج سے وابستہ ماہرین نے ریموٹ چارجنگ پر مبنی ڈرون بنائے ہیں جو لیزر سے چارج ہوتے رہیں گے اور ان میں بیٹری بدلنے یا چارج کرنےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اس کے لیے ہر ڈرون کے نیچے فوٹولیکٹرک کنورٹرلگایا گیا ہے جو لیزر کی مدد سے قوت لیں گے اوربےتار انداز میں اپنےاندربجلی بھریں گے۔ تاہم اب بھی اس میں توانائی ضائع ہورہی ہے۔ لیزر سے بجلی بنانے کا عمل 50 سے 85 فیصد تک ہی مؤثر ہوتا ہ یعنی 100 فیصد میں سے اتنے فیصد بجلی ہی بنائی جاسکتی ہے۔ پھر جب یہ لیزر (ڈرون کے) کنورٹرپرپڑتی ہے تو اس میں مزید 50 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    تاہم 24 گھنٹے نگرانی کرنے والے ڈرون کے لیے یہ عمل قابلِ قبول ہے ہوسکتا ہے۔ لیزر شعاع کو ٹھیک فوٹوالیکٹرک کنورٹر پر مرکوز رکھنے کے لیے سائنسدانوں نے ’انٹیلی جنٹ وژول ٹریکنگ الگورتھم‘ بنایا ہے جو ہوا، دھند اور دیگر رکاوٹوں کا خیال بھی رکھتا ہے۔ یہ الگورتھم لیزر کو اپنے ہدف تک پھینکتا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج کے سائنسدانوں نے ایک چھوٹا کواڈکاپٹرآزمایا ہے انہوں نے دن، رات، ایک ہال کے اندر اور کھلی فضا میں لیزر سے ڈرون اڑایا ہے جو لگ بھگ 10 میٹر کی بلندی تک گیا۔ اس پر فرش پر لگے ایک متحرک اسٹیشن سے لیزر ڈالی گئی تھی۔ تاہم ڈیزائن بہتر کرکے ڈرون کو مزید بلندی پر بھی لیزر سے چلایا جاسکتا ہے۔

    چینی سائنسدانوں کے مطابق اس کے عسکری اور شہری دونوں طرح کے لاتعداد استعمالات ہوسکتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟