Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فضائی آلودگی سے  ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    فضائی آلودگی سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    نئی دہلی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سموگ سے آلودہ ہوا میں سانس لینے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دہلی اور جنوبی شہر چنئی میں کی گئی تحقیق میں پتاچلا ہےکہ PM2.5 ذرات کی زیادہ مقدار والی ہوا میں سانس لینےےخون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہےاور ٹائپ 2 ذیابیطس کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے سانس لینے پر PM2.5 ذرات جو کہ بالوں سے بھی 30 گنا پتلے ہوتے ہیں خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور سانس اور قلبی امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یہ مطالعہ ہندوستان میں دائمی بیماریوں کے بارے میں جاری تحقیق کا حصہ ہے جس کا آغاز 2010 میں ہوا تھا،فضائی معیار کے حوالے سے دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہندوستان میں کیا گیا یہ مطالعہ محیطی PM2.5 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان رابطے پر توجہ مرکوز کرنے والی پہلی تحقیق ہے۔

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

    مطالعہ میں محققین نے 2010 سے 2017 تک دہلی اور چنئی میں 12,000 مردوں اور عورتوں کے ایک گروپ کی نگرانی کی اور وقتاً فوقتاً ان کے خون میں شوگر کی سطح کی پیمائش کی سیٹلائٹ ڈیٹا اور فضائی آلودگی کی نمائش کے ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اس ٹائم فریم میں مطالعے میں شریک ہر شخص کے علاقے میں فضائی آلودگی کا تعین کیا۔

    انہوں نے پایا کہ پی ایم 2.5 کے ایک ماہ کی نمائش سے خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور ایک سال یا اس سے زیادہ طویل عرصے تک رہنے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے دہلی میں اسی گروہ پر ایک اور تحقیق کی گئی جس میں پایا گیا کہ PM2.5 کی اوسط سالانہ نمائش کی وجہ سے بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہوا اور ہائی بلڈ پریشر کے امکانات بڑھ گئے۔

    اسرائیلی فوج کا جبالیا کے کیمپ پر حملہ،100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک

    امراض قلب کے ماہر اور مرکز برائے دائمی بیماریوں کے کنٹرول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور مقالے کے مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر ڈور یراج پربھاکرن نے کہا کہ پی ایم 2.5 میں سلفیٹ، نائٹریٹ، بھاری دھاتیں اور سیاہ کاربن ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کی پرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور شریانوں کو سخت کر کے بلڈ پریشر کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ذرات چکنائی کے خلیوں میں جمع ہو کر سوزش کا باعث بن سکتے ہیں اور دل کے پٹھوں پر بھی براہ راست حملہ کر سکتے ہیں۔

    محققین کی ٹیم میں شامل ایک رکن نے کہا کہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہروں میں ہوا میں PM2.5 کی محفوظ سطح سے زیادہ ہونا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتا ہے جو ایتھروسکلروسیس (شریانوں میں چربی کے ذخائر)، دل کے دورے اور دل کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے اینڈوکرائن ڈسپوٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے PM 2.5 جسم میں انسولین کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کے اثر کو روکتا ہے مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ آلودگی ان سب کی وجہ بننے میں کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ یہ اینڈوکرائن سسٹم میں خلل ڈالتی ہے جو جسم میں تمام ہارمونز پیدا کرتا ہے۔

    یو اے ڈبلیو نے جی ایم کے ساتھ معاہدہ کرلیا، ڈیٹرائٹ آٹومیکرز کے خلاف ہڑتال …

    محققین اب جسم میں کولیسٹرول اور وٹامن ڈی کی سطح پر آلودگی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، اور افراد کی زندگی کے چکر پر اس کے اثرات، بشمول پیدائش کے وقت بچے کا وزن، حاملہ خواتین کی صحت، نوعمروں میں انسولین کے خلاف مزاحمت، اور پارکنسنز کے لیے خطرہ، الزائمر کی بیماری، دوسروں کے درمیان تعلق تلاش کر رہے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ اگرچہ اس کے نتائج تشویش ناک ہیں، لیکن یہ مطالعہ سائنس دانوں کو امید دلاتا ہے کہ آلودگی کو کم کرنے سے ذیابیطس کے ساتھ ساتھ دیگر غیر متعدی بیماریوں کے بوجھ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

  • خلا میں آزاد گھومتے   سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    دنیا کی طاقتور ترین دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” خلا میں آزاد گھومتے دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی:دریافت کےبارے میں دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ سیارے جوڑی میں حرکت کرتےنظر آتےہیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےان سیاروں کا مشہور Orion نیبولا کےنئےتفصیلی سروےمیں مشاہدہ کیاجہاں ان جیسے تقریباً 40 جوڑےسیارےموجود ہیں، سائنس دانوں نے ان سیاروں کو مختصراً “JuMBOs” کا عرفی نام دیا ہے تاہم یہ بغیر کسی شمسی نظام کے خلا میں کیسے گھوم رہے ہیں، اس کے بارے میں ناسا کے ماہرین فلکیات نے دو امکانات کا ذکر کیا ہے۔

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …


    ماہرین کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ یہ سیارے نیبولا کے ان خطوں سے نکلے ہیں جہاں مواد (materials) کی کثافت پوری طرح سے ستارے بنانے کے لیے ناکافی تھی جس کی بنا پر یہ اس مقام سے خارج ہوگئے دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ ستاروں کے گرد وجود میں آئے اور پھر مختلف تعاملات کے ذریعے خلا میں خارج ہوگئے ناسا کے پروفیسر مارک میک کیوگرین نے کہا کہ مذکورہ بالا دونوں امکانات میں سے فی الحال اول الذکر مفروضے کو اپنایا گیا ہے۔

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

  • ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کرلیا

    ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کرلیا

    جغرافیائی ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق یہ جزیرہ کسی وقت میں ایک قدیم سپر براعظم کا حصہ تھا جس میں مغربی انٹارکٹیکا اور مشرقی آسٹریلیا شامل تھےماہرین قیاس آرائیاں کرتےرہے ہیں کہ ماؤری زبان میں زیلینڈیا یا( تی ریو ماوی) کے نام سے جانا جانے والا براعظم تاریخی طور پرخطے پرموجود ہے زیلینڈیا کا سائز 1.89 ملین مربع میل ہے تقریباً 1.89 ملین مربع میل (4.9 ملین مربع کلومیٹر) پرمحیط یہ براعظم جو جگہ جگہ چھپا ہوا تھا، زیادہ تر زیرآب ہے اسے سب سے پہلے 1642 میں ڈچ تاجر اور ملاح ایبل تسمان نے دریافت کیا تھا ، جو ”عظیم جنوبی براعظم“ بے نقاب کرنے کے لئے نکلا تھا ۔

    ایبل تسمان کی ملاقات وہاں موجود ماؤری قبیلے کے لوگوں سے ہوئی جو اس کی وہاں موجودگی سے ناخوش تھے لیکن پھر انہوں نے اسے وہاں کے بارے میں معلومات فراہم کیں جواس کے لئےکافی حیرت انگیزتھیں ،انہوں نےاسے وہاں موجود مشرق میں ایک بڑے زمینی حصے کے وجود کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا-

    نیب کا حساس اداروں کے افسران کی خدمات لینے کا فیصلہ

    نیوزی لینڈ کراؤن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جی این ایس سائنس کے ماہر ارضیات اینڈی ٹلوچ کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح کسی بہت واضح چیز کو سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے انھوں نے وضاحت کی کہ یہ براعظم 6560 فٹ (2 کلومیٹر) پانی کے نیچے واقع ہے،اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ساتھی نک مورٹیمر نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”بہت اچھا“ تھا اور انہوں نے وضاحت کی کہ اسے دریافت کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔

    عام انتخابات کونسے مہینے میں ہوں گے؟الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا

    اس عظیم جنوبی براعظم کے بارے میں رومن دور سے نظریہ سازی کی گئی ہے اور یہاں تک کہ 1600 کی دہائی میں اسے جزوی طور پر دریافت کیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے پراسرار آٹھویں براعظم کے بارے میں معلومات ریکارڈ کیں،ماہرین ارضیات کو نئے براعظم پر اتفاق کرنے میں بھی طویل عرصہ درکار ہے۔

  • واٹس ایپ نے نیا دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا

    واٹس ایپ نے نیا دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ایک اور نیا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: میٹا کے پانی مارک زکر برگ کے مطابق صارفین کے لیے واٹس ایپ چینلز متعارف کروانے جارہے ہیں جس میں ہزاروں نئے چینلز شامل کیے جائیں گے جنہیں صارفین واٹس ایپ پر فالو کر سکیں گے،صارفین ان چینلز کو نئے اپ ڈیٹس ٹیب میں دیکھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جو آپ کو ایپ کے اندر ہی ان لوگوں اور تنظیموں کی اپ ڈیٹس کو فالو کرنے میں مدد دے گا جو آپ کے لیے اہم ہیں واٹس ایپ چینلز کہلاتے ہیں-

    پینشن حاصل کرنےکیلئےبیوی کی لاش 5 سال تک گھرکےفریزرمیں چھپاکررکھنےوالاشوہرگرفتار

    واضح رہے کہ چینلز نما یہ نیا فیچر دراصل ایک براڈ کاسٹ فیچر ہے جسے سیاسی، سماجی اور تمام مشہور شخصیات و ادارے اپنی اپ ڈیٹس شیئر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں یہ فیچر ایک نئے اپ ڈیٹس ٹیب پر ظاہر ہوگا جو دوستوں اور رشتہ داروں سے کی جانے والی عمومی چیٹ سے علیحدہ ہوگا۔

    میسجنگ ایپ نے چند ماہ قبل دو ممالک میں یہ نیا فیچر متعارف کروایا تھا، مارک زکربرگ نے اپنے نئے واٹس ایپ چینل پر اس فیچر کے رول آؤٹ کا اعلان کیا ہےنیٹ فلکس جیسی کمپنیاں اس فیچر کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چینل کے ذریعے صارفین کو یک طرفہ سیریز دیکھا سکیں گی، چینل کی ہسٹری صرف 30 دن تک محدود ہوگی، جس کے بعد وہ ازخود ڈیلیٹ ہوجائے گی،اگلے چند ہفتوں میں چینلز عالمی سطح پر شروع ہو رہے ہیں، اور ہندوستان سمیت 150 سے زیادہ ممالک میں دستیاب ہوں گے۔

    قطر سے اسلام آباد کی پرواز میں ہنگامی صورتحال،دوحہ ائیر پورٹ پرلینڈنگ

  • ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی زیرملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر تمام صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی: اگست میں مارک زکربرگ نے اعلان کیا تھا کہ واٹس ایپ میں ایچ ڈی فوٹوز شیئر کرنے کا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر بھی جلد میسجنگ ایپ کا حصہ بنے گا تاہم اب واٹس ایپ کے ترجمان کی جانب سےجاری بیان میں بتایا گیا کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ویڈیوز کا فیچر دنیا بھر میں صارفین استعمال کر سکتے ہیں-

    اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین واٹس ایپ پر 720p ریزولوشن والی ویڈیوز اپنے دوستوں سے شیئر کر سکیں گے اس سے پہلے 480p ویڈیوز کو ہی بھیجنا ممکن تھا،اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے اس فوٹو یا ویڈیو کوسلیکٹ کریں جس کوشیئر کرنا چاہتےہیں اور اسکرین پر اوپر ایڈیٹنگ ٹولز میں ایچ ڈی کے آپشن پر کلک کریں۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    جب اس ایچ ڈی بٹن پر کلک کریں تو ایک نئی پوپ اپ ونڈو نمودار ہوگی جہاں آپ فوٹو یا ویڈیو کوالٹی سلیکٹ کر سکیں گے واٹس ایپ میں بائی ڈیفالٹ اسٹینڈرڈ کوالٹی کو سلیکٹ کیا گیا ہے مگر اس کے نیچے ایچ ڈی کوالٹی کا آپشن بھی ہوگا جب کوئی صارف ایچ ڈی کوالٹی کو سلیکٹ کرکے فوٹو یا ویڈیو بھیجے گا تو اس میں ایچ ڈی لیبل بھی بائیں کونے میں نیچے نظر آئے گا۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

  • آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ستمبر سے 12 ستمبر کے دوران زمین کے قریب سے چار سیارچے گزریں گے-

    باغی ٹی وی :ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے ڈیش بورڈ کے مطابق دو سیارچے 8 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزریں گے ان میں کیو سی 5 نامی سیارچے کا سائز 79 فٹ (جہاز کے برابر) جبکہ جی ای نامی سیارچے کا سائز 26 فٹ (بس کے برابر) کے قریب ہےجہاز کے برابر دوسرے سیارچے کیو ایف 6 (جو رواں سال ہی دریافت ہوا) کا سائز تقریباً 68 فِٹ ہے،چوتھا اور آخری سیارچہ آر ٹی 2 جو کہ بس کے برابر ہے-

    کیو سی 5 سیارچہ (جس کا پہلی بار مشاہدہ رواں برس ہی کیا گیا تھا) تقریباً 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سےجبکہ جی ای سیارچہ (جس کو 2020 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا) زمین سے 56 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ کیو ایف 610 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزرے گا یہ سیارچہ زمین سب سے قریب یعنی صرف 25 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ آر ٹی 2 کا گزر زمین کے قریب سے 12 ستمبر کو ہوگا۔ یہ سیارچہ زمین سے 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا ان سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    ان سے قبل 6 ستمبر کو جے اے 5 نامی سیارچہ (جو 2021 میں دریافت کیا گیا تھا) زمین سے 49 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک دم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے جسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura نامی دم دار ستارے کو اگست میں ہی دریافت کیا گیا تھا اور اسے 9 اور 10 ستمبر کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگااس دم دار ستارے کو ایک جاپانی ماہر Hideo Nishimura نے 11 اگست کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔

    اس دم دار ستارے کا حجم تو ابھی معلوم نہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی دم دار ستارے کو اس وقت دریافت کیا جائے جب وہ زمین کے قریب ہوعموماً اس طرح کے دم دار ستاروں کو کئی ماہ یا سال پہلے ہی دریافت کر لیا جاتا ہےماہرین کے مطابق یہ دم دار ستارہ 437 سال میں محض ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، یعنی اسے آئندہ دیکھنے کے لیے 5 صدیوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    Nishimura سورج کے قریب سے 17 ستمبر کو گزرے گا اور اس وقت وہ سورج سے 3 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوگا اسی طرح یہ دم دار ستارہ زمین سے ساڑھے 12 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا لوگوں کے لیے اسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا، البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ آسمان صاف ہو، ورنہ چھوٹی دوربین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق 9 اور 10 ستمبر کو سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر اس دم دار ستارے کو شمال مغربی سمت میں دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura کی دم سبز رنگ کی ہوگی کیونکہ اس میں گرد کے مقابلے میں گیس زیادہ ہے۔

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے، جس سے انہیں زمین پر دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

  • لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بنیادی طور پر لوگ ایسے افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں جو شخصیت کے لحاظ سے ان سے ملتے جلتے ہوں۔

    باغی ٹی وی: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑے کی زندگی میں کافی کچھ مشترک ہوتا ہے، کچھ کے تو چہرے بھی ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگتے ہیں،کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں 80 ہزار کے قریب جوڑوں کی 133 عادات کا تجزیہ کیا گیا۔

    ماہرین نے 22 خصائص پر انسانی مرد-خواتین پارٹنر کے ارتباط کے منظم جائزے اور بے ترتیب اثرات کے میٹا تجزیے کیے جن کا عام طورپرماہرین نفسیات،ماہرین معاشیات، سماجیات، ماہر بشریات، وبائی امراض کےماہرین اورجینیاتی ماہرین نےمطالعہ کیا ScienceDirect، PubMed اور Google Scholar کا استعمال کرتے ہوئے شریک والدین، منگنی شدہ جوڑوں، شادی شدہ جوڑوں اور/یا ساتھ رہنے والے جوڑوں کے 199 ہم مرتبہ جائزہ شدہ مطالعات سے 480 پارٹنر ارتباط کو شامل کیا جو 16 اگست 2022 کو یا اس سے پہلے شائع ہوئے تھے۔

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    جرنل نیچر ہیومین بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں کی 82 سے 89 فیصد تک عادات لگ بھگ ایک جیسی ہوتی ہیں، محض 3 فیصد عادات نمایاں حد تک مختلف ہوتی ہیں اس تحقیقی ٹیم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کام کیا تھا مگر اس وقت لاکھوں جوڑوں کی 22 عادات کا جائزہ لیا گیا تھااب اس تحقیق کو آگےبڑھایا گیا اورنتائج سےمعلوم ہوا ہےکہ جوڑوں کے سیاسی اور مذہبی نظریات، تعلیمی لیول اور آئی کیو کافی حد تک ملتے جلتے ہوتے ہیں۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جوڑے ہر پہلو سے ایک دوسرے جیسے نہیں ہوتے، قد، وزن، طبی مسائل اور شخصی عادات میں کسی حد تک فرق ہوتا ہے گھر سے باہر زیادہ گھومنا پھرنا پسند کرنے والے افراد اپنی جیسی فطرت کے حامل شریک حیات کو پسند نہیں کرتے یہ بالکل کسی سکے کے 2 رخ جیسا معاملہ ہے، یعنی سکہ تو ایک ہوتا ہے مگر اوپر اور نیچے کچھ فرق ہوتا ہے۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ماہرین کے مطابق جب ہم کسی کو پسند کرتے ہیں اور وہ شخصی اعتبار سے ہم سے بالکل مختلف ہو تو وہ تعلق اکثر کمزور ہوتا ہے اور جلد ٹوٹ جاتا ہےاس کی مثال یہ ہے کہ اگرکوئی صبح جلد جاگنےوالا فرد کسی رات گئے تک جاگنے والے کو پسند کرتا ہے تو ان کا تعلق ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہےجوڑوں کا ایک دوسرے جیسا ہونے کا اثر آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوتا ہے، یعنی سماجی اور دیگر عادات بھی آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن …

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

  • موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض  سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    ایک نئی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ سے متاثر افراد کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اس سال دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کے نئے ریکارڈز دیکھنے میں آئے ہیں،محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر سکیں۔

    سانس کے ماہرین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی کے لیے اپنی ریگولیٹری حدود کو کم کرے،انہوں نے کہا کہ ہمیں مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کی ضرورت ہے،ایک اندازے کے مطابق فضائی آلودگی نے 2019 میں عالمی سطح پر 6.7 ملین اور یورپ میں 373,000 افراد کی جان لے لی ہے، جس میں گرین ہاؤس گیسز اور فضائی آلودگی ایک جیسے ذرائع میں سے بہت سے شریک ہیں۔

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جرنل European Respiratory میں شائع تحقیق میں بتایا گیاکہ پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ اور chronic obstructive pulmonary disease (سی او پی ڈی) کے شکار افراد کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے،ہیٹ ویوز، جنگلات میں آتشزدگی اور سیلاب وغیرہ جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہر فرد کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے مگر نظام تنفس کے امراض کے شکار مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوگا،جن افراد کو پہلے ہی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کی علامات موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید بدتر ہو جائیں گی۔

    2 افراد دیوار چین میں سوراخ کرنے پر گرفتار

    محققین نے بتایا کہ فضائی آلودگی پہلے ہی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب موسمیاتی تبدیلیاں بھی نظام تنفس کے امراض کے شکار افراد کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جبکہ ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آتشزدگی اور دیگر شدید موسمیاتی اثرات کے باعث فضا میں نمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ماحولیاتی وبائی امراض کی پروفیسر اور اس رپورٹ کی مصنفہ زورانا جووانووک اینڈرسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہر کسی کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، لیکن دلیل کے طور پر، سانس کے مریض سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے ہی سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ ہماری بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے بہت زیادہ حساس ہیں۔ ان کی علامات بدتر ہو جائیں گی، اور کچھ کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہو گا۔

    ڈائنا سور کے قدموں کے11 کروڑ سال پرانے پیروں کے نشانات دریافت

  • گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔

    باغی ٹی وی: گوگل کی مقبول ترین سروس میپس کو روزانہ کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں،اس سروس سے لوگوں کو مختلف مقامات کے راستوں کو سمجھنے یا وہاں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے،اب کمپنی کی جانب سے خاموشی سے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اس تبدیلی کے باعث گوگل میپس سروس بیشتر افراد کو پہلے کے مقابلے میں مختلف نظر آنے لگے گی،اس اپ ڈیٹ کے ذریعے فون اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے گوگل میپس کے رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہےاب سڑکوں کے لیے گرے، پانی کے لیے سبزی مائل نیلے جبکہ پارکوں کے لیے نیلگوں مائل سبز رنگ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی تعیناتی کی خبریں اور قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،وزیر …

    اس نئی تبدیلی کو بتدریج تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اس سے پہلے گوگل میپس میں سڑکوں کے لیے پیلا جبکہ پانی کے لیے ذرا گہرا نیلا رنگ استعمال کیا جاتا تھا مگر اب رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہے جس کے باعث صارفین کے لیےراستوں کو شناخت کرنا مشکل ہوگیا ہے یا کم از کم پانی اور پارک لگ بھگ ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں اس سروس کو ڈارک موڈ پر استعمال کر سکتے ہیں جس میں پرانا یوزر انٹرفیس ہی برقرار رکھا گیا ہے۔

    کچھ لوگ پاکستان کا خوبصورت چہرہ تباہ کرناچاہتے ہیں،نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور