Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • کینیڈین حکومت کا میٹا کے اشتہارات روکنے کا فیصلہ

    کینیڈین حکومت کا میٹا کے اشتہارات روکنے کا فیصلہ

    اوٹاوا، اونٹاریو: کینیڈین حکومت نےبدھ کو کہا کہ اس نے فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ”میٹا“ کے اشتہارات روکنے کا فیصلہ کر لیا۔

    "اے پی” کے مطابق کینیڈین حکومت اور میٹا کے درمیان سوشل میڈیا کے حوالے سے گزشتہ چند ماہ سے کشیدگی جاری ہے گزشتہ ماہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کینیڈین صارفین کے لیے خبروں تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھاجس کے بعد کینیڈا میں فیس بک اور انسٹا گرام سے خبریں ہٹا دی گئی تھیں۔

    کینیڈین حکومت کی جانب سے ایک بل منظور کیا گیا تھا جس میں سوشل میڈیا کمپنی کو کینیڈا کی خبریں شیئر کرنے پرمعاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھاثقافتی ورثہ کے وزیر پابلو روڈریگز نے ایک نیوز کانفرنس میں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے فیصلے کا اعلان کیا کینیڈا کا یہ اقدام اس تنازعہ کی تازہ ترین کڑی ہے جو ٹروڈو کی انتظامیہ کی جانب سے ایک بل کی تجویز کے بعد شروع ہوا جس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پبلشرز کو اپنے مواد کو آن لائن سے منسلک کرنے یا دوبارہ پیش کرنے کے لیے ادائیگی کرنے کی ضرورت ہوگی۔

    مارک زکربرگ کی 12 سال بعد پہلی ٹوئٹ

    ثقافتی ورثہ کے کینیڈین وزیر پابلو روڈریگیز نے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں لکھا کہ ہم نے فیس بک پر کینیڈا کے سرکاری اشتہارات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہےہم میٹا کو اشتہارات کی مد میں مزید ڈالرز کی ادائیگی اس وقت تک نہیں کر سکتے، جب تک وہ کینیڈا کی خبر رساں تنظیموں کو ان کا منصفانہ حصہ ادا نہیں کرتے۔

    روڈریگز کا کہنا ہے کہ 2022 میں کینیڈا میں اشتہارات کی تمام آمدنی کا 80 فیصد تقریباً 10 بلین کینیڈین ڈالرگوگل اور فیس بک کو گیا، اور لبرل حکومت چاہتی ہے کہ دونوں پلیٹ فارمز ملکی صحافت میں اپنا حصہ ڈالیں سرکاری اشتہارات کو معطل کرنے کے فیصلے سے فیس بک اور انسٹاگرام کو سالانہ 10 ملین کینیڈین ڈالر کا نقصان ہوگا۔

    دوسری جانب میٹا کا مؤقف ہے کہ خبریں کمپنی کے لیے معاشی اہمیت نہیں رکھتیں اور خبر رساں اداروں کو فیس بک پر اپنی رپورٹس شیئر کرکے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

    فیس بک نےٹوئٹر کی متبادل ایپ تیار کرلی

  • ٹویٹ ڈیک صرف ویریفائیڈ اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے

    ٹویٹ ڈیک صرف ویریفائیڈ اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے

    ٹوئٹرانتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ٹویٹ ڈیک صرف ویریفائیڈ اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے-

    دی گارڈین کے مطابق ٹوئٹر انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ آن لائن ڈیش بورڈ TweetDeck استعمال کرنے کے لیے صارفین کو تصدیق کے مرحلے سےگزرنا ہوگا تاہم ٹویٹ ڈیک کے استعمال سے متعلق یہ تبدیلی آئندہ 30 روز کے اندرنافذالعمل کردی جائے گی۔

    اس حوالے سے کی جانے والی ایک تفصیلی ٹویٹ میں ٹوئٹر انتظامیہ نے بتایا کہ ٹویٹ ڈیک ورژن کو مزید جدید بناتے ہوئے اس میں کچھ نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں، تاہم فی الحال یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا ٹوئٹرصارفین سے ٹویٹ ڈیک کا پرانا یا نیا ورژن استعمال کرنے پر رقم وصول کی جائے گی یا نہیں۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1675990712297443330?s=20
    ٹویٹ ڈیک کے استعمال پر رقم لی گئی تو اس سے ٹوئٹر کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، پلیٹ فارم کے مالک ایلون مسک پہلے ہی اشتہارات کی آمدنی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    واضح رہے کہ ٹویٹ ڈیک ایک اہم فیچر ہے جو اب تک مفت تھا، اس فیچر کو زیادہ ترکاروباری اورخبروں سے متعلق ادارے استعمال کررہے تھے۔ ٹویٹ ڈیک کے ذریعے اپنے مواد کی رسائی کوباآسانی مانیٹر کیاجاسکتا ہے۔

    ٹویٹ ڈیک کے استعمال کیلئے تصدیق کے مرحلے سے گزرنے کا یہ اقدام ایلون مسک کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ مصدقہ اورغیرمصدقہ دونوں طرح کے اکاؤنٹس کیلئے پوسٹس کی تعداد کم کی جائے گی ایلون نے واضح کیا تھا کہ اس عمل کا مقصد ڈیٹا سکریپنگ اورسسٹم میں گڑبڑکو روکنا ہےاس نئے اعلان پر ٹوئٹرصارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    اس سے قبل ایلون مسک یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اکاؤنٹ کی تصدیق کیلئے ہرصارف کو انفرادی طور پر آٹھ ڈالر دینا پڑیں گے جبکہ کسی ادارے کے تحت چلنے والے اکاؤنٹ کے لیے ادارے کو ہر ماہ ایک ہزار ڈالر ادا کرنا پڑیں گے۔

  • ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کیلئے تیار

    ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کیلئے تیار

    10 سال بعد معروف میسجنگ ایپ ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کے لیے تیار ہے-

    باغی ٹی وی: ٹیلی گرام کے بانی پاویل دوروف نے اعلان کیا ہے کہ میسجنگ ایپ میں اسٹوریز کا فیچر آئندہ ماہ کسی وقت صارفین کے لیے دستیاب ہوگاہم اپنی حریف ایپس کی طرح اس فیچر کو کاپی نہیں کر رہے بلکہ اسے منفرد انداز سے ٹیلی گرام کا حصہ بنایا جائے گا صارفین خود فیصلہ کر سکیں گے کہ ان کی ہراسٹوری کو کون دیکھ سکے گا اسٹوریزچیٹ لسٹ کے اوپر نظر آئیں گی اور کسی کانٹیکٹ کی اسٹوری کو ہائیڈ کرنا بھی ممکن ہوگا۔

    لاہور کی مساجد میں نماز عیدالاضحی کے اوقات

    پاویل دوروف نے کہا کہ صارفین ٹیلی گرام اسٹوریز میں کیپشنز کے ساتھ ساتھ فوٹوز اور ویڈیوز کو پوسٹ کر سکیں گےایک اسٹوری 6، 12، 24 یا 48 گھنٹے میں ایکسپائر ہوگی اور ہر ایک کی پرائیویسی سیٹنگ الگ ہوگی چینلز سے میسجز کو اسٹوریز میں ری پوسٹ کرنا ممکن ہوگا۔

    واضح رہے کہ اسنیپ چیٹ نے 2013 میں اسٹوریز کا فیچر سب سے پہلے متعارف کرایا تھا جو اس کے بعد لگ بھگ ہر سوشل میڈیا ایپ پر متعارف کرایا گیا اسنیپ چیٹ کے بعد فیس بک، میسنجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میں اسٹوریزکا فیچرشامل ہوا جب کہ گوگل نے بھی اس پر تجربات کیے۔

    باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن 3 دہشتگرد ہلاک

  • پہلے کیا آیا مرغی  یا انڈہ؟ماہرین نے نئی تحقیق میں جواب جان لیا

    پہلے کیا آیا مرغی یا انڈہ؟ماہرین نے نئی تحقیق میں جواب جان لیا

    ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔

    باغی ٹی وی :دی گارڈین کے مطابق انڈا پہلے آیا یا مرغی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے یونانیوں کے بعد سے فلسفیوں کو پریشان کیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ہمارے پاس اس آسان سوال کا جواب ہے،یہ اطمینان بخش نتیجہ ایک ماہر پینل کیجانب سے کی گئی تحقیق تھی جس میں ایک فلسفی، ماہر جینیات اور چکن فارمر شامل تھے۔

    جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع بلاگ کے مطابق سائنسدانوں نے یہ جواب ایمفیبین (خشکی اور پانی میں رہنے والے جاندار جیسے مینڈک) اور lizards پر کی جانے والی ایک تحقیق میں دریافت کیاجس میں بتایا گیا کہ موجودہ عہد کے رینگے والے جانور (چھپکلی، سانپ اور دیگر)، پرندے اور ممالیہ جانداروں کے آباؤ اجداد انڈے دینے کی بجائے بچے کو جنم دیتے تھے۔

    پاکستان کےخودکار چیک کلیئرنگ سسٹم نِفٹ پر سائبر حملہ

    کنگز کالج لندن میں پینل کے رکن اور سائنس کے فلسفی ڈیوڈ پاپیناؤ نے کہا، "چکن کے انڈے مرغیوں سے پہلے تھے، یہ مرغی کے انڈوں کی نوعیت پر منحصر ہے میں بحث کروں گا کہ یہ مرغی کا انڈا ہے اگر اس میں مرغی ہے۔ اگر کینگرو ایک انڈا دے جس سے شتر مرغ نکلے تو وہ یقیناً شتر مرغ کا انڈا ہوگا، کینگرو کا انڈا نہیں اس استدلال سپہلا چکن واقعی مرغی کے انڈے سے آیا تھاحالانکہ وہ انڈا مرغیوں سے نہیں آیا تھا۔

    51 قدیم جانداروں اور 29 زندہ جانوروں پر تحقیق میں بتایا گیا کہ ممالیہ اور رینگے والے جانوروں کے ساتھ ساتھ پرندوں کے اجداد بھی بچوں کو اپنے بطن میں زیادہ وقت تک رکھتے تھے اب پرندے اور رینگنے والے جاندار انڈے دیتے ہیں مگر زمانہ قدیم میں ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ممالیہ جانوروں کی طرح ہی ہوتی تھی۔

    طویل عرصے تک سائنسدان سخت چھلکوں والے انڈوں کو ارتقا کی ایک بہترین مثال تصور کرتے رہے ہیں مگر اس نئی تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ طویل عرصے تک بچوں کو بطن میں رکھنے والے جانوروں کو زیادہ تحفظ ملتا تھا۔

    محققین نے بتایا کہ لگ بھگ 32 کروڑ سال پہلے ایسے جانور ابھرنا شروع ہوئے جن کی جِلد واٹر پروف تھی اور وہ موسم کے مطابق خود کو ڈھالنے لگے اور پھر ان کے بچے انڈوں کے ذریعے پیدا ہونے لگے۔

    سعودی وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات

    زمانہ قدیم کے فوسلز کے تجزیے سے انکشاف ہوا کہ اب انڈے دینے والے جاندار اس زمانے میں بچوں کو جنم دیتے تھے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بتدریج انڈے دینے لگے تھے محققین کے مطابق بتدریج ان جانداروں کے تولیدی نظام میں تبدیلی آئی تاکہ وہ اپنے بچوں کو ماحول سے تحفظ فراہم کر سکیں۔

    تو اگر آپ سے پوچھا جائے کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ، تو اس نئی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے مرغی زیادہ بہتر انتخاب ہے۔

    واضح رہے کہ بچگانہ معمہ کا سب سے قدیم ریکارڈ شدہ حوالہ یونانی مورخ میسٹریس پلوٹارکس کے مضامین اور مباحثوں کے مجموعے سے ملتا ہے، جو 46AD میں پیدا ہوا تھا۔ مرغی یا انڈا پہلے آیا کے عنوان سے ایک حصے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ سوال پہلے سے ہی قائم ہے: "انڈے اور مرغی کے بارے میں مسئلہ، ان میں سے کون پہلے آیا، اس پہیلی کو عام بھی استعمال کیا جانے لگا-

    آیا پینل نے اس بحث کو حل کیا ہے، یہ واضح نہیں ہے، لیکن وہ چکن/انڈے کے درست آرڈر پر متفق تھےجان بروک فیلڈ، نوٹنگھم یونیورسٹی کے ایک ارتقائی جینیاتی ماہر نے کہا کہ اس حل میں قیاس آرائی کے واقعہ کو ایک ساتھ جوڑنا شامل ہےجس میں مرغیوں نےپہلی بار ارتقاء کیا تھا۔

    اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک

    وہ تصور کرتے ہیں کہ دو غیر مرغی کے والدین اکٹھے ہو رہے ہیں اور جینیاتی تغیر کی وجہ سے ایک نئی نسل کے پہلے فرد کو جنم دے رہے ہیں۔ پروفیسر بروک فیلڈ نے کہا کہ "پہلا مرغ اپنے والدین سے کسی جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے مختلف ہوا ہو گا، شاید یہ ایک بہت ہی لطیف تھا، لیکن ایک ایسا پرندہ جس کی وجہ سے یہ پرندہ واقعی مرغی ہونے کے لیے ہمارے معیار پر پورا اترنے والا پہلا تھا-

    انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح انڈے کے چھلکے کے اندر رہنے والے جاندار کا ڈی این اے وہی ہوتا جو مرغی میں ہوتا ہے، اور اس طرح وہ خود مرغی کی نسل کا ایک رکن بن جاتا ہے-

  • چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    بیجنگ: چین سال 2026 تک وہ چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا-

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق ان سیٹلائٹ میں ایک مرکزی اور 8 چھوٹے سیٹلائٹ چاند کے گرد مدار میں بھیجے جائیں گے۔ چینی حکام کے مطابق کائنات میں انتہائی بعید ترین ریڈیائی سگنلوں کو دیکھنا ممکن ہوگااس کے لیے چھوٹی دوربینوں کا ڈیٹا مرکزی دوربین تک جائے گا۔ اس کے بعد وہاں ڈیٹا جمع ہوکر زمین کی جانب بھیجا جائے گااس منصوبے کا نام ’طویل طولِ موج سے فلکیاتی دریافت‘ یا ہونگ مینگ پروجیکٹ رکھا گیا ہے۔

    امریکا پاکستان کو آئی ایم ایف کیجانب سےامداد کی فراہمی میں کردارادا کرے،امریکی رکن کانگریس

    ماہرین کے مطابق قمری دوربینیں زیادہ گہرائی سے کائنات کے ان دیکھے گوشے دیکھ سکیں گی اور یوں ہمارے علم میں پیش بہا اضافہ ہوگا۔ زمین میں فضا، اور دیگر آلودگی کی وجہ سے یہ ریڈیائی مشاہدہ ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ چاند اس کے مشاہدے کی ایک بہترین جگہ ہے اس سے قدیم ترین ان ریڈیائی امواج کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو عین بگ بینگ کے بعد نمودار ہوئی تھیں-

    ہرملک کواپنی توانئی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے مطابق فیصلہ کرنا ہے،امریکا

    چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) سے وابستہ زیولائی چین نے کہا کہ چاند پر رصدگاہ بنانے سے بہتر ہے کہ آلودگی سے پاک قمری مداروں میں دوربینی سیٹلائٹ روانہ کیے جائیں۔ انہیں بنانا کم خرچ ہے اور سادہ طریقہ بھی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کرلیا گیا

  • موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    سول: سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک پر موجود برف اندازہ لگائے گئے وقت سے 10 سال پہلے ہی مکمل طور پر پگھل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آنےوالی دہائیوں میں ستمبر کے مہینے سے شروع ہونے والے موسمِ گرما میں آرکٹک سمندر کی برف مکمل طور پرپگھل سکتی ہےاگر دنیا آج سے ہی زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کو بڑے پیمانے پر کم کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت 2050 کی دہائی تک جا سکتا ہے۔

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    محققین نے 1979 سے 2019 تک اس خطے میں برف میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا اور مختلف سیٹلائیٹ ڈیٹا اور کلائیمٹ ماڈلز کا موازنہ کیاتاکہ آرکٹک سمندر کی برف میں آنےوالی تبدیلی کا معائنہ کیا جائزے میں ان کو معلوم ہوا کہ سمندری برف کےکم ہونےکی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جبکہ ماضی کے ماڈلز نے برف کے پگھلنے کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔

    ماہرین نے طویل عرصے سے 2050 تک آرکٹک کی برف کے تیرنے کے کم از کم ،کم سےکم سطح تک کم ہونےکاخدشہ ظاہر کیا ہے، جس کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ انسان زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں۔ نئی تحقیق اگرچہ، یہ بتاتی ہے کہ کافی کم اخراج والے منظر نامے میں بھی جو کرہ ارض کی گرمی کو 2 ڈگری سیلسیس سے کم رکھتا ہے، 2050 کی دہائی میں موسم گرما میں آرکٹک سمندری برف کے بغیر باقاعدہ سال ہو سکتے ہیں۔

    ایمازون کے جنگلات میں طیارہ حادثہ،4 بچے معجزاتی طور پر 40 دنوں بعد زندہ مل …

    اخراج کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی یہ رجحان بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بدترین صورت حال میں، اس بات کا امکان ہے کہ آرکٹک میں 2030 کی دہائی کے ساتھ ہی ستمبر میں برف نہ ہو، پچھلی تحقیق سے ایک دہائی پہلے اشارہ کیا گیا تھا۔

    جنوبی کوریا کی پوہینگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف سی انگ-کی مِن کے مطابق سائنس دان یہ جان کر حیران تھے کہ موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا باوجود اس کے کہ (کاربن) اخراج میں کمی کے لیے کتنی ہی کوشش کر لی جائے۔

    آرکٹک کی برف موسمِ سرما میں بڑھتی ہے اور پھر موسمِ گرما میں پگھل جاتی ہے اور یہ سائیکل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ستمبر میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔

    پچاس کلو چاندی لوٹنے کے واقعہ میں پولیس ہی ملوث نکلی

    سی انگ-کی مِن کا کہنا تھا کہ ایک بار آرکٹک کی برف موسمِ گرما میں مکمل طور پر پگھل جائے، سمندری برف کا سردی کے موسم میں دوبارہ بڑھنا مزید سست ہوجائے گا۔ جتنی زیادہ گرمی بڑھے گی، یہ خطہ اتنا زیادہ موسمِ سرما میں بغیر برف کے رہے گا۔

  • بحرالکاہل میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت

    بحرالکاہل میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت

    لندن: بحرالکاہل کے ایک گہرے علاقے کلیریئن کلِیپرٹن زون میں 5000 سے زائد نئے اقسام کے جاندار دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ہوائی اور میکسیکو کے درمیان 60 لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط کلیریئن کلِپرٹن زون سمندر کی تہہ کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں مستقبل میں کان کنی متوقع ہے محققیں نے اس خطے میں 5 ہزار 578 نئی اقسام کی حیات دریافت کی جن میں سے 92 فیصد سائنس میں بالکل نئی ہیں اور تقریباً سبھی اس خطے کے لیے منفرد ہیں صرف چھ، بشمول ایک گوشت خور سپنج اور ایک سمندری ککڑی کے جو کہیں اور دیکھے گئے ہیں۔

    اسپیس کا سفر کرنے والی پہلی عرب خاتون ریانا برناوی

    یہ پہلی بار ہے کہ کلیریئن-کلیپرٹن زون (CCZ)، جو کہ بحر الکاہل میں ہوائی اور میکسیکو کے درمیان 1.7m مربع میل پر محیط معدنیات سے مالا مال علاقہ ہے، کی پہلے سے نامعلوم حیاتیاتی تنوع کو جامع طور پر دستاویز کیا گیا ہے۔ یہ تحقیق جانداروں کے معدوم ہونے کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے اہم ہو گی-

    کرنٹ بائیولوجی جریدے میں شائع مضمون کے مطابق اس میں 5,578 مختلف انواع شامل ہیں، جن میں سے ایک اندازے کے مطابق 88 فیصد سے 92 فیصد کو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

    اب واٹس ایپ صارفین میسج ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ایڈٹ کر سکیں گے

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ میوریل ریبون کے مطابق اس خطے سے تعلق رکھنے والی 438 حیات کے متعلق معلوم ہے لیکن ایسی 5 ہزار 142 بے نام انواع ہیں جن کے غیر رسمی نام ہیں ان حیات کے متعلق تفصیلات موجود نہیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے انواع کا تو علم ہے لیکن ان کی ذیلی قسم کی شناخت نہیں ہوسکتی۔

    شناخت کیے جانے والے اکثر جانداروں میں آرتھروپوڈز، جھینگے اور کیکڑے جیسے بغیر ریڑھ کی ہڈی والے خول دار جاندار جبکہ دیگر میں اینیلِڈ اور نیماٹوڈا گروپ کے کیچھوے شامل تھے۔

    زیر سمندر 7000 سال پرانی سڑک دریافت

  • زیر سمندر 7000 سال پرانی سڑک دریافت

    زیر سمندر 7000 سال پرانی سڑک دریافت

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے بحیرہ روم کی تہہ میں 7 ہزار سال قبل بنائی گئی سڑک دریافت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: "ہیلو میگزین” کےمطابق یونیورسٹی آف زادار کے ماہر آثار قدیمہ ایگور بورزیک نے پتھر کے زمانے کی سڑک کی باقیات کروشیا کے ساحل سے دور خلیج گریڈینا میں پانی کے تقریباً 16 فٹ نیچے دریافت کی ہزاروں سال پہلے کی اس اہم دریافت نے آثار قدیمہ کے ماہرین کو پرجوش کر دیا ہے۔

    ٹائٹینک کا پہلی بار فل سائز ڈیجیٹل اسکین،تصاویر دیکھ کر ماہرین دنگ رہ گئے

    اگرچہ یہ کوئی اٹلانٹس کی طرح کھویا ہوا شہر نہیں ہےتاہم سائنسدانوں نے ایک ایسے تاریخی حصے کو بےنقاب کیا ہے جسے سمندر نگل چکا تھا۔ ماہرین نے اعتراف کیا کہ وہ بھی حیران رہ گئے جب غوطہ خوروں نے 7،000 سال پرانی پتھر کی سڑک کا پتہ لگایا جو سمندر کی مٹی کی تہوں میں دبی ہوئی تھی۔

    قدیم ڈھانچے کو اس وقت دریافت کیا گیا جب یونیورسٹی آف زادار کے ماہر آثار قدیمہ ایگور بورزیک نے کروشیا کے ساحل سے دور خلیج گریڈینا میں تقریباً 16 فٹ (5 میٹر) پانی کے اندر “عجیب ڈھانچے” کو دیکھا۔

    ماہرین کے مطابق ڈوبی ہوئی سڑک کبھی کسی زمانے میں کروشیا کے جزیرے کورچولا کو قدیم بستی سے جوڑتی تھی۔ بستی کا تعلق سمندری ثقافت Hvar سے تھا جو ایک مصنوعی زمین پر بیٹھی تھی لیکن اب بحیرہ روم میں ایڈریاٹک سمندر کے نیچے چار سے پانچ میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

    سولین نامی اس قدیم جگہ کو 2021 میں کروشیا یونیورسٹی کے محققین نے اس وقت دریافت کیا جب انہوں نے سیٹلائٹ تصاویر میں سمندر کی تہہ میں غیر معمولی ڈھانچے کو دیکھا۔ غوطہ خوری اور قریب سے دیکھنے پر، انہوں نے ایک بستی دریافت کی، جو کہ نیو لیتھک ٹولز کے ساتھ مکمل تھی۔ جبکہ اس مقام پر ملنے والے نوادرات 4,900 سال پہلے کے ہیں، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ سڑک تقریباً 7000 سال پہلے بنائی گئی تھی سولین کی طرح، قدیم سڑک ان تمام سالوں کے لیے نقصان سے محفوظ رہی کیونکہ اس علاقے کے ارد گرد جزیرے تھے۔

    یونیورسٹی آف زادار نے دریافت کی فوٹیج جاری کی جس میں سڑک دکھائی گئی جو پتھروں پر مشتمل تھی اور اس کی پیمائش تقریباً 12 فٹ (تقریباً 4 میٹر) تھی۔

    ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ لوگ تقریباً 7,000 سال پہلے اس سڑک پر چلتے تھے جبکہ اس جگہ کے قریب لکڑی کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ بستی 4,900 قبل مسیح کی ہے۔

    ڈاونچی گلو ،چاند کا دلچسپ نظارہ جو آئندہ چند دنوں میں نظرآئے گا

    تقریباً چار میٹر چوڑائی پر، سڑک کو احتیاط سے پتھر کے سلیبوں کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ آج، یہ مٹی کی ایک موٹی تہہ سے ڈھکی ہوئی ہے جیسا کہ کسی بھی زیر آب ساخت کی طرح ہوتی ہے-

    صرف یہی نہیں، اسی تحقیقی ٹیم نے جزیرے کے مخالف سمت میں ایک اور زیر آب بستی دریافت کی جو حیرت انگیز طور پر سولین سے ملتی جلتی ہے۔ سائنس دانوں نے اس سائٹ سے پتھر کے زمانے کے کچھ دلچسپ نوادرات بھی دریافت کیے، جن میں بلیڈ اور کلہاڑی بھی شامل ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ سولین کی دریافتوں کی طرح Hvar ثقافت کا حصہ ہیں۔

    ان دلچسپ دریافتوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ابتدائی انسان کس طرح خود کو مختلف ماحول کے مطابق ڈھال سکتے تھے اور ان کے درمیان سڑکیں بنا سکتے تھے۔

    گوگل کا غیر متحرک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ

  • یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ممکنہ طور پر پانی موجود ہے،ناسا

    ناسا کی جانب سے ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کے چاربڑے چاندوں میں ان کے مرکز اور برفیلے خول کے درمیان ممکنہ طور پر پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق، ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں یورینس کے پانچوں بڑے چاندوں (ایریئل، امبریئل، ٹائٹینیا، اوبیرون اور مِیرانڈا) کے سانچے اور اندرونی تشکیل کے ارتقاء کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے تحقیق کے مطابق چار چاندوں میں سمندر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر میلوں گہرے ہوسکتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے


    ناسا کے وائجر خلائی جہاز کے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ، نئے کمپیوٹر ماڈلنگ کے ساتھ، ناسا کے سائنسدانوں کو اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یورینس کے سب سے بڑے چاندوں میں سے چار ممکنہ طور پر اپنے کور اور برفیلی پرتوں کے درمیان ایک سمندری تہہ پر مشتمل ہیں-

    مجموعی طور پر، کم از کم 27 چاند یورینس کے گرد چکر لگاتے ہیں، جس میں چار سب سے بڑے ایریئل سے لے کر، 720 میل (1,160 کلومیٹر) کے اس پار، ٹائٹینیا تک ہیں، جو 980 میل (1،580 کلومیٹر) تک ہیں سائنسدانوں نے طویل عرصے سےٹائٹینیا کےسائز کو دیکھتے ہوئےسوچا ہے کہ اندرونی حرارت کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جو تابکار کشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    دوسرے چاند کو پہلے بڑے پیمانے پر بہت چھوٹا سمجھا جاتا تھا کہ وہ اندرونی سمندر کو جمنے سےبچانے کے لیے ضروری حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے بہت چھوٹا سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ یورینس کی کشش ثقل کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت گرمی کا صرف ایک معمولی ذریعہ ہے۔

    نیشنل اکیڈمیز کے 2023 پلانیٹری سائنس اینڈ ایسٹروبائیولوجی ڈیکاڈل سروے نےیورینس کی تلاش کو ترجیح دی۔ ایسے مشن کی تیاری میں، سیاروں کے سائنس دان پراسرار یورینس نظام کے بارے میں اپنے علم کو بڑھانے کے لیے برف کےپہاڑوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

    جنوبی کیلی فورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے لیڈ مصنف جولی کاسٹیلوروگیز نے کہا کہ جرنل آف جیو فزیکل ریسرچ میں شائع ہوا، نیا کام یہ بتا سکتا ہے کہ مستقبل کا مشن چاندوں کی تحقیقات کیسے کر سکتا ہےلیکن اس مقالے میں ایسے مضمرات بھی ہیں جو یورینس سے آگے بڑھتے ہیں-

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کی جولی کاسٹیلو روگیزنےایک بیان میں کہا کہ جب چھوٹےاجرامِ فلکی کی بات آتی ہےتوماضی میں سیاروی سائنس دانوں کو متعدد غیر متوقع جگہوں پر سمندروں کے شواہد ملے ہیں۔ ان جگہوں میں بونے سیارے سِیریز اور پلوٹو اور سیارے زحل کا چاند مِیماس شامل ہیں۔لہٰذا ان جگہوں پر کچھ ایسے نظام ہیں جن کو ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ یہ دریافت وائجر اسپیس کرافٹ سے حاصل ہونے والے اصل ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ وائجر نے یہ تفصیلی معلومات 1980 کی دہائی میں یورینس کے قریب سے دو بار گزرنے کے دوران اکٹھا کی تھیں۔

    ڈیٹا کے استعمال کے ساتھ ناسا سائنس دانوں نے روایتی ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے سیاروں کے کمپیوٹر ماڈل بنائے جن میں ناسا کے گیلیلیو، کیسینی، ڈان اور نیو ہورائزنز سے حاصل ہونے والی معلومات بھی شامل تھیں۔

    زمین موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے باعث "نامعلوم مقام” پر پہنچ گئی ہے،سائنسدانوں کا انتباہ …

  • واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کیلئے نئے فیچرز متعارف کروا ئے ہیں-

    باغی ٹی وی: کمپنی کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر نئے فیچرز شامل کیے جارہے ہیں جس سے ہمیں امید ہے کہ صارفین کو چیٹ کرنے کے دوران سہولت میسر ہوگی-

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    نومبر 2022 میں واٹس ایپ نے پولنگ کا نیا فیچر متعارف کیا تھا، اب رواں ماہ اسے مزید اپڈیٹ کیا گیا ہے، اس فیچر کے تحت آپ واٹس ایپ پولز میں کسی فرد کو محض ایک ووٹ دینے تک محدود کرسکتے ہیں اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے پول کو پوسٹ کرنے سے قبل آپ کو ملٹی پل آنسرز ( ’allow multiple answers‘ ) کے آپشن کو ڈس ایبل(disable) کرنا ہوگا۔

    اس کے علاوہ جب دیگر لوگ آپ کے پوسٹ کیے گئے پول پر ووٹ دیں گے تو آپ کو ایک نوٹیفیکشن موصول ہوگا، اس نوٹیفیکشن میں یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کتنے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔

    میٹا کی واٹس ایپ میں گوگل ڈرائیو کی متبادل ٹرانسفر کی آزمائش

    دوسری جانب واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور نامعلوم نمبر سے کال آنے پر پریشانی سے بچنے کے لیے ایک نیا ٹول پیش کیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے اس نئے آپشن کا اسکرین شاٹ بھی شئیر کیا گیا جس میں دکھایا گیا کہ آپ واٹس ایپ سیٹنگز میں پرائیویسی پر کلک کرکے اس آپشن کا استعمال کرسکتے ہیں نامعلوم افراد کی جانب سے آنے والی کال کے فون نمبر کو آپ silence unknown calls پر کلک کرکے ان کی کالز کو mute کرسکتے ہیں تاہم یہ نمبرز آپ کی کالز لسٹ یا نوٹیفیکشن پر دکھائی دیں گے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …