Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    واٹس ایپ میں نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ

    سان فرانسسكو:دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بعد اینڈروئڈ پلیٹ فارم کے لیے نیچے کی جانب نیوی گیشن ٹول بار کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب واٹس ایپ کو بصری طور پر بہتر بنایا جارہاہے تو دوسری جانب اس کے ٹول میں اضافہ ہورہا ہےاب اس کے نئے آزمائشی ورژن 2.23.8.4 میں نئی نیوی گیشن بار کا اضافہ کیا گیا ہے جو سب سےنیچے دکھائی دے رہی ہے۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    نیوی گیشن بار میں چار شعبے ہوں گے جو چیٹس، کمیونٹیز، اسٹیٹس اور کالز کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ پہلےبھی موجود تھے لیکن انہیں اب ری ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عین اسی طرح کی نیوی گیشن بار آئی او ایس میں پہلے ہی رائج ہے اوراب اینڈروئڈ پلیٹ فارم کےلیےپیش کی گئی ہے۔

    لیکن کمپنی نے حتمی طور پر نہیں بتایا کہ یہ سہولت پوری دنیا میں کب پیش کی جائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا اصرار ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں واٹس ایپ کے انٹرفیس پر اسے دیکھا جاسکے گا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

  • تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے

    ناسا ماہرین نے خلا میں سورج سے دو کروڑ مرتبہ بڑے ایک نئے اور تیز رفتار بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے ماہرین نے تیزی سے سفر کرتے ہوئے اس نئے دریافت ہونے والے بلیک ہول کو ’انوزیبل مونسٹر‘ کا نام دیا ہے یہ بلیک ہول کائنات میں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے انوزیبل مونسٹر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ یہ زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے کر سکتا ہے-

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا دریافت ہونے والا یہ بلیک ہول جہاں سے گذر رہا ہے وہاں اپنے پیچھے نئے پیدا کیے ہوئے ستاروں کی ایک قطار چھوڑ رہا ہے یہ بلیک ہول اپنےسامنے آنے والے ستاروں کو کھانے کے بجائے اپنے راستے میں آنے والی گیسوں سے نئے ستاروں کو جنم دے رہا ہے بلیک ہول کی غیر معمولی رفتار کے باعث ستاروں کی دو لاکھ نوری سال طویل قطار کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ نیا دریافت ہونے والا بیلک ہول اپنی پیرینٹ گیلکسی کےکالم کے اختتام پر موجود ہے اور اس کی بیرونی ٹپ کے گرد آئیو نائیزڈ آکسیجن کا روشن حلقہ موجود ہے ہم جسے دیکھ رہے ہیں وہ ’نتیجہ‘ (Aftermath) ہے، جیسے سمندری جہاز کے گذر جانے کے بعد کی اٹھتی لہر کو دیکھتے ہیں، ہم بلیک ہول کی گذرگاہ میں اس لہر کو دیکھ رہے ہیں جہاں گیسیں ٹھنڈی ہوکر ستارے بنا رہی ہیں۔

    ناسا کے ماہرین کے کہنا ہے کہ ایسی صورتحال کا اس سے قبل کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا گیا اور ٹیلی اسکوپ نے ’انوزیبل مانسٹر‘ کو اتفاق سے دریافت کرلیا تھا۔

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟

    بلیک ہول کسی ستارے کی زندگی کے خاتمے کے قریب بنتے ہیں۔ یہ ستارے اپنے حجم کی وجہ سے مرتے ہیں تو اپنے وزن اور دباؤ کی وجہ سے اندر سے ہی تباہ ہو جاتے ہیں بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ لامحدود حد تک کثیف ہو جاتا ہے یہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہاں تک کہ روشنی بھی یہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔

    بلیک ہولز کچھ انتہائی بڑے ستاروں کی زندگی کے دھماکہ خیز اختتام سے وجود میں آتے ہیں۔ کچھ بلیک ہولز ہمارے سورج سے اربوں گنا بڑے ہو سکتے ہیں سائنسدان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کیسے بنے مگر یہ واضح ہے کہ یہ کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کی ارتقا پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

  • آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟

    کئی بار ہم کوئی گانا سنتے ہیں تو اس کے بول بار بار ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں ماہرین نے اس پر حال ہی میں تحقیق کی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن ہے؟-

    باغی ٹی وی: "دی گارڈین” کے مطابق جرنل میوزک اینڈ سائنس میں شائع آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے آرٹس اینڈ میڈیا اسکول کے محققین کے مطابق مخصوص گانے اپنی دھن کی وجہ سےنہیں بلکہ اس لیے ذہن سے چپکنے میں کامیاب ہوتےہیں کیونکہ ان میں ایسی تکرار ہوتی ہے جو ہمارے دماغ کے لیے جانی پہچانی ہوتی ہے۔

    محققین نے بتایا کہ بیشتر ایسے گانے بنیادی طور پرکورس سانگ (ایسے گانے جو کئی افراد مل کر گاتے ہیں) ہوتے ہیں۔اس طرح کے گانوں پر اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس میں یہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی کہ گانے کا کونسا پہلو ذہن سے چپکنے کا باعث بنتا ہے،درحقیقت زیادہ ترگانوں کی موسیقی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کی موسیقی کے اسٹرکچر میں موجود تکرار اس حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تکرار اس پہیلی کا ایک پہلو ہے، کئی اور چیزیں بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتی ہیں، جیسے گانا نیا ہو اور اس کی موسیقی جانی پہچانی محسوس ہوتی ہو اسی طرح کوئی گانا اس وقت ذہن میں بار بار ابھرتا ہے جب ہم بہت سکون کی حالت میں ہوتے ہیں اور کچھ کرنے کی بجائے خیالی پلاؤ پکا رہے ہوتے ہیں، اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو پھر ایسا تجربہ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    اس تحقیق کے مصنف پروفیسر ایمری شوبرٹ نے کہا کہ یہ ایسے گانے ہوتے ہیں جو بار بار ذہن میں ابھرتے ہیں، ان کے بول ذہن میں گونجتے ہیں اور یہ پورا عمل مسلسل ہوتا ہے اور اس کا تجربہ بیشتر افراد کو ہوتا ہے بیشتر افراد اس طرح کے گانوں کو اپنے لیے مسرت بخش سمجھتے ہیں، تاہم جب انہیں موسیقی پسند نہ آئے اور گانا ذہن سے چپک جائے تو پھر وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔اس سلسلے کو کافی حد تک شعوری طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جیسے اس گانے کو مکمل سن لیں یا شعوری طور پر کسی اور گانے کے بارے میں سوچنا شروع کردیں۔

  • پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے،تحقیق

    کہتے ہیں کہ پورا چاند انسانوں اور شاید دیگر جانداروں میں پراسرار تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جبکہ حال ہی میں ماہرین ارضیات نے چاند اور دیگر سیاروں کی حرکت کے دنیا میں زلزلوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی تھی تاہم اب ایک اور تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہےکہ پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا ہے-

    باغی ٹی وی: انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے سائنسی جریدے "ارتھ” کے مطابق تحقیق، جو جرنل ڈسکور مینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر کے دفتر سے 2012-2016 کے دوران ہونے والی خودکشیوں کے بارے میں ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    تحقیق میں بتایا گیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران 55 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خودکشیوں کے رجحان میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ماہر نفسیات نے اس حوالے سے خودکشیوں کے دن اور مہینوں کے اوقات کو بھی مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے ہیں۔

    ماہر نفسیات نے اپنی تحقیق میں پایا کہ خودکشی کا رجحان اکثر دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا تعلق دن بھر کے دباؤ سے ہوسکتا ہے۔ اس وقت کم روشنی کا آغاز ہوتا ہے۔ سرکیڈین جینز اور کورٹیسول کا اظہار بھی کم ہو جاتا ہے۔ ستمبر میں خود کشیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بہت سے لوگ اپنی گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر نے کہاکہ ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے ارد گرد خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیےکہ آیا ان اوقات میں زیادہ خطرے والے مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال کی جانی چاہیے یا نہیں۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

    ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی۔ خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خودکشی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ دن کے عین نصف النھار کے گھنٹے اور سال کے ایسے سب سے زیادہ متحرک مہینوں کا پتہ لگایا گیا جب خود کشی کا رجحان پیدا کرنے والے جین زیادہ مقدار میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ جین ہیں جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتے ہیں۔ اسے سرکیڈین کلاک بھی کہا جاتا ہے۔ جانچ کے دوران ہم نے یہ بھی پایا کہ الکحل کے استعمال کی خرابی میں مبتلا افراد یا افسردہ لوگوں کو اس وقت کے دوران زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    نکولیسکو نے کہا کہ پورے چاند سےخارج ہونے والی بڑھتی ہوئی روشنی اس عرصے کے دوران خودکشیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ محیطی روشنی جسم کی سرکیڈین تال میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے طبی نقطہ نظر اور صحت عامہ کے نقطہ نظرسےہمیں اس مطالعہ میں کچھ اہم پیغامات ملے ہیں، زیادہ خطرہ والے مریضوں کی ممکنہ طور پر پورے چاند کے ہفتے، دوپہر کے آخر میں اور شاید ستمبر کے مہینے میں زیادہ قریب جانچ کی جانی چاہیے-

    دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد اور ان کی مجموعی دولت میں کمی

  • ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ

    زمین کے قریب آنے والے شہابیے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں کیونکہ کسی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی زندگی کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے حال ہی میں، نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(ناسا) نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوائی جہاز جتنے بڑے شہابیے سے زمین کو ایک بار پھر خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق ایک سو پچاس فِٹ بڑا شہابیہ تیزرفتاری سےزمین کی طرف بڑھ رہا ہےناسا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہوائی جہاز کے جتنا بڑا ایف زیڈ تھری نامی سیارچے کا کل زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے 150 فِٹ چوڑی چٹان 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے وہ 4,190,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب پہنچ جائے گا-

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    ناسا کے مطابق، پانچ شہابیے ہمارے سیارے کے قریب پہنچیں گے، ان میں سے دو آج زمین کے قریب ترین پہنچیں گے،

    ناسا کے مطابق شہابیہ 2023 ایف یو 6: 45 فٹ کا ایک چھوٹا سیارچہ آج زمین کے قریب 1,870,000 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ رہا ہے۔

    شہابیہ ایف ایس 11 :82 فٹ ہوائی جہاز کے سائز کا سیارچہ آج 6,610,000 کلومیٹر کے قریب سے زمین سے گزرے گا۔

    شہابیہ ایف اے 7: ایک ہوائی جہاز کے سائز کا 92 فٹ کا سیارچہ 4 اپریل کو 2,250,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    شہابیہ ایف کیو 7: اپریل کو، ایک 65 فٹ گھر کے سائز کا سیارچہ 5,750,000 کلومیٹر کی دوری پر زمین کے قریب ترین قریب پہنچے گا۔

    شہابیہ ایف زیڈ 3: اگلے آنے والے سیارچوں میں سب سے بڑا سیارچہ جو کہ ہوائی جہاز کے سائز کا ہے 6 اپریل کو زمین کے قریب سے گزرنے کا امکان ہے۔ 150 فٹ چوڑی چٹان جو 67656 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا زمین سے قریب ترین نقطہ نظر 4,190,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے تاہم زمین کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک خطرہ نہیں ہے-

    اس سے قبل 2020 میں بھی ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لندن آئی’ سے بڑا ایک پتھر خلا سے بَرق رفتاری کے ساتھ زمین کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

  • رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    لندن: یہ جانا پہچانا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک کھانا وزن میں اضافے اور صحت کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن تحقیق سے اب پتہ چلا ہے کہ رات کا کھانا رات 9.30 بجے ختم کرنا بالکل ٹھیک ہے یعنی اگر آپ اگلے دن کا ناشتہ تھوڑی تاخیر سے کرنے والے ہیں تو رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : کنگز کالج لندن میں جینیٹک ایپڈیمیولوجی کے پروفیسر ٹِم اسپیکٹر نے برطانیہ میں 80 ہزار افراد پر تحقیق کی مطالعے میں انہوں نے کھانے کے مختلف اوقات اور وہ جن اوقات میں لوگ کھانا کھاتے ہیں ان کا جائزہ لیا۔

    ماہ رمضان ذائقے: دنیا بھر میں افطار کے خصوصی پکوان

    ذاتی غذائیت کی کمپنی Zoe کے ذریعے جمع کیے گئے تحقیق کے مکمل نتائج اس سال کے آخر تک شائع نہیں کیے جائیں گے لیکن ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ افراد صحت اور وزن کے مسائل سے بچتے ہوئے رات 9 بج کر 30 منٹ تک کی تاخیر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

    رات کے کھانے میں تاخیر کے سبب کسی مسئلے سے بچنے کا اہم طریقہ اگلے روز کا ناشتہ تاخیر سے کرنا ہے (صبح 11:30 یا اس کے بعد) تاکہ میٹابولزم کے لیے بہتر عامل اور 14 گھنٹوں کے فاقے کے دورانیے کو حاصل کیا جاسکے فاقے کا یہ دورانیہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے مؤثر تھا چاہے انہوں نے کتنی ہی تاخیر سے کھانا کھایا ہو۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    پروفیسر ٹِم اسپیکٹر کے مطابق رات کا کھانا جلدی کھانے کے فوائد کا خیال کم عمر افراد پر کیے جانے والے بہت کم مطالعوں پر مبنی ہے، جس میں فاقے کے دورانیے کو شامل نہیں کیا گیا تھاان مطالعوں میں رات کا کھانا جلدی کھانے کے انتہائی معمولی فوائد سامنے آئے اس لیے پروفیسر ٹِم کا خیال ہے کہ ان فوائد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے رات کو تاخیر سے کھانا کھایا لیکن ہر دن 14 گھنٹوں کا فاقہ کیا انہوں نے خود کے زیادہ توانا ہونے کے متعلق بتایا اور یہ مطالعات پہلے رات کا کھانا کھانے کا صرف ایک معمولی فائدہ ظاہر کرتی ہیں لہذا اس کا خیال ہے کہ فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

    پروفیسر سپیکٹر، کتاب فوڈ فار لائف: دی نیو سائنس آف ایٹنگ ویل کے مصنف، وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے کا ایک چیمپئن ہے، جسے بہت سے مطالعات نے میٹابولک صحت اور وزن کم کرنے کے لیے مفید پایا ہے اور مطالعہ میں، جو لوگ دیر سے کھاتے ہیں لیکن دن میں 14 گھنٹے روزہ رکھتے ہیں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔

    بریانی اے ٹی ایم مشین، جہاں گرما گرم بریانی آرڈر کرسکتے ہیں

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    تل ابیب: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماضی میں کی جانے والے ایک تحقیق میں سینسر کو استعمال کرتے ہوئے پودوں سے نکلنے والی الٹرا سونک لہروں کو ریکارڈ کیا جاچکا ہےحال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودے آواز نکالتے ہیں جس کے متعلق محققین نے اندازہ لگایا کہ تیز سماعت رکھنے والے جانور یہ آوازیں 16 فٹ کی دوری سے سن سکتے ہیں۔

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    سائنسئ جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں مصنفین نے پایا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کے تنوں کو حال ہی میں کاٹا گیا ہے وہ فی گھنٹہ تقریباً 35 آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سے ہائیڈریٹڈ اور کٹے ہوئے پودے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، جو فی گھنٹہ صرف ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔

    آپ نے شاید کبھی پیاسے پودے کو شور کرتے نہیں سنا ہوگا کہ آوازیں الٹراسونک ہیں تقریباً 20-100 کلو ہرٹز۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ بہت کم انسان انہیں سن سکتے ہیں۔ کچھ جانور، تاہم، شاید کر سکتے ہیں چمگادڑ، چوہے اور کیڑے ممکنہ طور پر پودوں کی آوازوں سے بھری ہوئی دنیا میں رہ سکتے ہیں، اور اسی ٹیم کےپچھلے کام سے پتہ چلا ہےکہ پودے بھی جانوروں کی آوازوں کا جواب دیتے ہیں۔

    انسان چوںکہ بلند فریکوئنسی کی آواز نہیں سکتا اس لیے محققین نے ان آوازوں کی فریکوئنسی کم کی تاکہ ان آوازوں کی سماعت کی جاسکے اور اس طرح معلوم ہوا کہ ان آوازوں کی تیزی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی انسانی گفتگو کی ہوتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    عام طور پر پودے پاپ کارن کے پھٹنے جیسی آوازیں ہر گھنٹے میں اوسطاً ایک سے کم بار نکالتے ہیں۔ ان آوازوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنے میں بننے والے بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

    لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ ٹماٹر کے پودے جن کو پانچ دنوں تک پانی نہیں دیا گیا ان پودوں میں سے آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ نکلیں۔ یہ پودے ہر دو منٹ میں اوسطاً ایک سے زیادہ بار ایسی آوازیں نکالتے تھے جب ان پودوں کو کاٹا جاتا تب یہ پودے ہر ڈھائی منٹ میں ایک تنبیہی آواز نکالتے تھے۔

    تحقیق میں شامل محقق ہاڈنی کا کہنا ہے کہ پودوں میں آواز کی ہڈی یا پھیپھڑے نہیں ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریہ کہ پودے اپنے زائلم پر شور کا مرکز کیسے بناتے ہیں، وہ ٹیوبیں جو پانی اور غذائی اجزاء کو اپنی جڑوں سے اپنے تنوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں۔ زائلم میں پانی کو سطح کے تناؤ سے ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی پینے کے تنکے سے چوسا جاتا ہے۔ جب زائلم میں ہوا کا بلبلہ بنتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ تھوڑا سا پاپنگ شور کر سکتا ہے، اور خشک سالی کے دباؤ کے دوران بلبلے کی تشکیل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن درست طریقہ کار کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے-

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

  • 100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    فلوریڈا: گزشتہ 30 دنوں سے زیر آب رہنے والے سائنسدان نے ایک نئی نوع کے دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سابق نیول افسر ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری جو فلوریڈا لگون میں سطح سمندر سے 30 فٹ کی گہرائی میں ریکارڈ بنانے کی غرض سے100 دن کے لیے موجود ہیں۔ اس کوشش کا ایک مقصد طویل مدت تک جسم پر پڑنے والے انتہائی دباؤ کے سبب ہونے والے اثرات کا مطالعہ کرنا بھی ہے۔البتہ تجربے کے دوران ایک مہینے میں ہی ان کی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ایک مختلف سائنسی دریافت کی ہے۔

    جامعہ فلوریڈا کے ایک پروفیسر100 دن زیر آب رہیں گے

    ڈاکٹر جوزف ڈِٹوری کے مطابق ٹیم نے ایک خلیے کا سیلیئٹ دریافت کیا جس کے متعلق ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ایک بالکل نئی نوع ہے۔ لوگوں نے ہزاروں بار یہاں غوطہ خوری کی، یہ نوع یہیں تھی صرف ہم نے نہیں دیکھا تھا تاہم، مائیکرو بائیولوجسٹ اس کے نئے نوع ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس کا جائزہ لیں گے۔

    ڈاکٹر جوزف پُر امید ہیں کہ یہ دریافت بھی ان متعدد دریافت میں سے ایک ہوگی جو انہوں نے زیر آب گزارے جانے والے طویل وقت میں کی ہیں۔

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تجربے کے دوران جسم پر پڑنے والے شدید دباؤ کے سبب ان کا قد ایک انچ تک کم ہو سکتا ہے۔ بالکل اس ہی طرح جیسے خلاء میں وقت گزارنے کے بعد خلاء نوردوں کا قد تین فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    ناسا نے چاند پرجانےکیلئے پہلی بارخاتون اورسیاہ فام خلانوردوں کومنتخب کرلیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل وہ زیرِ آب بلبلے نما مرکزمیں وہ 16 روز 22 میٹرگہرائی میں گزارکر تحقیق کرچکے ہیں۔ تاہم گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق 2014 میں بروس سینٹرل اور جیسیکا فائن جولس انڈر سی لاج میں 73 دن تک رہ کر عالمی ریکارڈ بناچکے ہیں اب پروفیسر جوزف طویل تحقیق کے ساتھ یہ ریکارڈ بھی توڑنا چاہتے ہیں وہ فلوریڈا کے پاس کی لارگو لگون کے پاس 22 فٹ گہرائی میں بنے بلبلہ نما گھر میں آبی حیات پر تحقیق کر رہے ہیں-

    اس منصوبے کو ’پروجیکٹ نیپچون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جو ڈیٹوری چاہتے ہیں کہ ایک جانب وہ سمندر کی گہرائی میں رہ کر نئی دریافتیں کریں تو دوسری جانب وہ اتنے طویل عرصے تک پانی نے اندر رہ کر خود اپنے جسم پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی