Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع

    واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے وائس چیٹ اور کال میں غیرمعمولی تبدیلیاں متوقع کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ویب بیٹا انفو‘ کے مطابق آڈیو چیٹ میں بعض بالکل نئی تبدیلیاں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں جلد ٹویٹر اسپیسِس جیسی سہولیات پیش کی جائیں گی۔

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

    بیٹا ورژن 2.23.7.12 کے مطابق واٹس ایپ کال کا نیا انٹرفیس پیش کیا جائے گا۔ کال بٹن کی جگہ لہردار لوگو پیش کیا جائے گا۔ یہ لوگو مینو میں سب سے بلند دکھائی دے گا اس طرح اوپر کی آڈیو بار کو بڑھا یا گیا ہے۔

    اس طرح گروپ چیٹس کو بہتر بنایا جائے گا جس میں بہت سارے لوگ دوست اور ساتھی آڈیو فائل شیئر کرسکیں گےیعنی انہیں ٹویٹراسپیسس جیسا بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ تجزیہ نگاروں نے اسے سلیک ہڈلزیا ڈسکارڈ وائس ایپ سے بھی تشبیہہ دی ہےتجزیہ نگاروں کے مطابق امکان ہے کہ وائس آپشن ڈسکارڈ کے زیادہ قریب ہوگا۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    سیم موبائل ویب سائٹ نے اسے آڈیو چیٹ کا نام دیا ہے اور اس کا ایک اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے۔

  • سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    ڈرہم: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے اب تک کے دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ میں ماہرین فلکیات نے سورج کی کمیت سے تقریباً 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہےڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا کہ بہت بڑا بلیک ہول اب تک کا سب سے بڑا دریافت ہے۔ ٹیم نے اپنے نتائج کو، جو کہ رائل فلکیاتی سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوا، کو "انتہائی دلچسپ” قر ار دیا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین کے مطابق اس بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج کے حجم سے 30 ارب گُنا زیادہ ہے جبکہ اس کا وجود ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سیگِیٹیریس سے 8000 گُنا بڑا ہےانتہائی دلچسپ دریافت گریویٹیشنل لینسنگ کے مظہر کے سبب ممکن ہوئی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس تکنیک سے کوئی بلیک ہول دریافت کیا گیا ہو۔ گریویٹیشنل لینسنگ کا معاملہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب آگے موجود کہکشاں اپنی پشت پر موجود دور دراز اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنیوں کو موڑ دیتی ہے اور بڑا کر دیتی ہےاس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ڈرہم یونیورسٹی کے محققین نے کہکشاں کے مرکز میں زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود دیو ہیکل بلیک ہول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کا کہناتھا کہ یہ بلیک ہول، جس کا حجم ہمارے سورج سےاندازاً 30 ارب گُنا زیادہ ہے، دریافت ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے یقین ہے کہ بلیک ہولز نظریاتی طور پر بن سکتے ہیں، اس لیے یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    یہ بلیک ہول کتنا بڑا ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کے مطابق اگررات میں آسمان کیجانب دیکھا جائے اور تمام ستاروں اور سیاروں کو ملا کر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تب بھی یہ سب مل کر اس بلیک ہول کے سائز کا عشرِ عشیر بھی نہیں بھر پائیں گے۔

    الٹرا میسیو بلیک ہولز نایاب اور مضحکہ خیز ہیں، اور ان کی اصلیت واضح نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے انتہائی انضمام سےتشکیل پائےتھےجب کائنات ابھی بنی ہی تھیسائنسدانوں نےاس کے سائز کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی میں سپر کمپیوٹر سمیلیشنز اور ہبل خلائی دوربین کے ذریعے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا بلیک ہول تھا جو کشش ثقل لینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائٹنگیل نے کہا کہ "زیادہ تر سب سے بڑے بلیک ہول جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ ایک فعال حالت میں ہیں، جہاں بلیک ہول کے قریب کھینچا جانے والا مادہ گرم ہوتا ہے اور روشنی، ایکس رے اور دیگر تابکاری کی شکل میں توانائی خارج کرتا ہے-

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    تاہم، کشش ثقل لینسنگ غیر فعال بلیک ہولز کا مطالعہ ممکن بناتی ہے، جو کہ دور دراز کہکشاؤں میں فی الحال ممکن نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم اپنی مقامی کائنات سےآگے بہت سے بلیک ہولزکا پتہ لگا سکتےہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کائناتی وقت میں یہ غیر ملکی اشیاء مزید کیسے تیار ہوئیں۔

    محققین نے کہا کہ ان کے کام نے اس "ٹینٹالیزنگ امکان” کو کھول دیا ہے کہ ماہرین فلکیات پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ الٹرماسیو بلیک ہولز دریافت کر سکتے ہیں اس تحقیق کو یو کے اسپیس ایجنسی، رائل سوسائٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی سہولیات کونسل، یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن کا حصہ، اور یورپی ریسرچ کونسل نے تعاون کیا۔

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

  • 40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی جانے والی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر موجود VHS 1256b کا مشاہدہ کیا ہے سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ فلکیات کی تاریخ میں اس سے قبل ایسا سیارہ نہیں دیکھا گیا ہے 815 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رکھنے والے اس سیارے کا ماحول گرم مٹی کے بادلوں پر مشتمل ہے جو مستقل ابھرتے ہیں، ملتے ہیں اور 22 گھنٹے کے دن کے دوران حرکت میں رہتے ہیں۔


    یونیورسٹی آف ایریزونا کی برِٹنی مائلز کی رہنمائی میں کام کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم نے ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیارے میں صاف پانی، میتھین اور کاربن مونو آکسائیڈ کی شناخت بھی کی۔ سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں۔


    صرف 15 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والے اس سیارے کے متعلق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کی کم عمری بتاتی ہے کہ اس سیارے کاآسمان اتنا طوفانی کیوں ہے۔


    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا کروز سے تعلق رکھنےوالے تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو اسکیمر کے ایک بیان کے مطابق کسی دوسری ٹیلی اسکوپ نے آج تک ایک جِرم میں بیک وقت اتنی خصوصیات کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

  • بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    واشنگٹن: مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانی آبادی کو اپنا دشمن سمجھ کر اس پر حملہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی ویب سائٹ "مرر” کے مطابق مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی سے پرجوش اور متاثر ہیں تاہم انہیں خدشہ ہے کہ اے آئی فورسز دنیا پر حکمرانی کے لیے روبوٹس تعینات کر سکتی ہیں اگر "اچھے” کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، کاروبار اور طرز زندگی کو فروغ دے سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی عدم مساوات اور غربت کو بھی کم کر سکتا ہے۔

    امریکی ریاست مسی سپی میں تباہ کن طوفان اور بگولہ،23 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا

    اے آئی ٹیکنالوجی کئی ملازمتوں میں انسانوں کی جگہ لے رہی ہے اور اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ہر روز نت نئے استعمالات سامنے آرہے ہیں لیکن مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے اے آئی ایک خطرناک رُخ لے سکتی ہے –

    اگراے آئی غلط ہاتھوں میں آجاتا ہے تو ان کو حقیقی زندگی کے جیمز بانڈ طرز کے ولن اپنے بٹے ہوئے اہداف کو فروغ دینے کے لیے جوڑ توڑ کر سکتے ہیں، جو کہ اتنا اچھا نہیں لگتا تاہم دوسری طرف، بل گیٹس کا یہ بھی ماننا ہے کہ اے آئی یہ فیصلہ کر نے کی بھی اہلیت رکھتی ہے کہ انسان ایک خطرہ ہیں اور ہم پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

    خالصتان تحریک پراحتجاج،بھارت نے نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کم کردی

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی  تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ درختوں کے ساتھ خوردنی مشروم کی افزائش جہاں لاکھوں افراد کی غذا بن سکتی ہے تو دوسری جانب اس سے آب وہوا میں تبدیلی کے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونیورسٹی آف اسٹرلنگ کی فیکلٹی آف نیچرل سائنسز میں بطور اعزازی پروفیسر کام کرنے والے پال تھامس گزشتہ دو سالوں سے مائیکوفاریسٹری کے ابھرتے میدان میں ہونے والے مطالعات کا ڈیٹا دیکھ رہے ہیں۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنگلات میں کھانے کے قابل ’ایکومائیکورِزل فنجائی‘ (ای ایم ایف) کی کاشت سے ممکنہ طور پر سالانہ 12.8 ٹن فی ہیکٹر کاربن ختم کی جاسکتی ہےجبکہ اس فنجائی کو درختوں سے قریب اگانے کی صورت میں سالانہ 1 کروڑ 90 لاکھ افراد کے لیے غذا کا بند و بست بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ درختوں کے ساتھ اگنے والی فنجائی کو لگنے والے نئے درختوں سے حاصل ہونے والی غذائی فصل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس نظام کو استعمال کرتے ہوئے فنجائی کی پیداوار گرین ہاؤس گیس کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے مشروم سے حاصل ہونے والا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے غذا کی پیداوار ہمیں موسمیاتی تغیر کو ختم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    فی الوقت اس حوالے سے عالمی سطح پر زمین کے استعمال سے متعلق ایک تنازعاتی بحث جاری ہے کہ آیا جنگلات لگائے جائیں یا بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کھیتی باڑی کی جائے ڈیٹا کے مطابق 2010 سے 2020 تک ہر سال 47 لاکھ ہیکٹر کے وسیع رقبے تک جنگلات کاٹے گئے ہیں۔زرعی زمین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو جنگلات کے ختم ہونے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا جارہا ہے۔

    پروفیسر تھامس کے مطابق درختوں کے ساتھ مشروم کا اگایا جانا نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کی ضرورت کو کم کرے گا بلکہ درختوں کی افزائش کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔

    مشروم کی ساخت مسام دار اور گوشت کی طرح ہوتی ہے۔ مشروم ایک قدرتی فنگس ہے جو کہ ہمارے کھانوں میں الگ پہچان رکھتا ہے مشروم کی زیادہ تر اقسام میں بہت کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ ان میں وافر مقدار میں وٹامن ڈی اور بہت سارے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔

    مشروم کے روٹین میں استعمال سے وزن کم اور قوت مدافعت میں مدد ملتی ہے۔ یہ گلوکوز لیول کا برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہو سکتا ہے،ماہرین

    ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہو سکتا ہے،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہوا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی: "ڈیلی میل” کے مطابق ماہرینِ فلکیات نے چھ سال قبل ہمارے نظامِ شمسی کے کنارے پر ایک پُر اسرار نویں سیارے کی ممکنہ موجودگی کے واضح شواہد حاصل کیے تھے۔ لیکن ’پلینٹ نائن‘ کے نام سے جانی جانے والی اس فرضی دنیا کا ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا گیا ہےتاہم اب سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے بالآخر ایسا طریقہ کار وضع کر لیا ہے جس سے اس سیارے کو ڈھونڈا جاسکے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پلینٹ نائن‘ 20 تپتے ہوئے چاندوں سے گھرا ہوا سکتا ہے جو اس پُر اسرار سیارے کی موجودگی کی تصدیق کے لیے اہم چیز ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیارہ نو کو تقریباً 62 میل (100 کلومیٹر) چوڑے 20 گرم چاندوں سے گھیر لیا جا سکتا ہے، جو پراسرار دنیا کے وجود کی تصدیق کی کلید ثابت ہو سکتا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ چاند سیارے کی کشش ثقل کی وجہ سے گرم ہو جائیں گے جس کی بدولت سمندری حرارت کے نام سے جانا جاتا ہے، جس سے ان کو تلاش کرنا آسان ہو جائے گا۔

    چاندوں کے تپنے کی وجہ سیارے کی کششِ ثقل کا کھچاؤ (گریویٹیشنل پُل) ہے، جس کی وجہ سے ان کی نشان دہی آسانی سے کی جاسکتی ہے اور اگریہ چاند نظر آجائیں تو وہ ماہرین فلکیات کے لیے اس چھپے ہوئے سیارے کا سراغ ہو سکتے ہیں۔

    اس سیارے کو براہ راست نہ دیکھے جاسکنے کی وجہ اس کاانتہائی فاصلے پر موجود ہونا ہےکیوںکہ فاصلے کی وجہ سے سورج کی روشنی اس پر نہیں پڑتی۔

    ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ اگر یہ حقیقت میں موجود ہوا تو اس کا وزن زمین کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہوسکتا ہے اور یہ سورج کے گرد ایک چکر کا دورانیہ 10 ہزار سے 20 ہزار سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھنے کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی اوٹاوا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے سے درمیانی عمر سے بڑھاپے تک بالغ افراد کو سماجی معاونت ملتی ہے، چاہے جوڑوں کا باہمی تعلق اچھا ہو یا خراب۔

    انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات دریافت

    محققین نے بتایا کہ طلاق یا کسی بھی وجہ سے شریک حیات سے الگ ہوکر تنہا رہ جانے والے افراد میں طبی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوان ماہرین نے ازدواجی حیثیت، ازدواجی رشتے کے معیار اور معمر افراد میں بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی

    اس مقصد کے لیے 50 سے 89 سال کی عمر کے ایسے 3335 افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا جن میں 2004 سے 2013 کے درمیان ذیابیطس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    ان افراد کے خون کے نمونوں کے ذریعے بلڈ گلوکوز کی سطح کو دیکھا گیا اور ان کے ازدواجی تعلق کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔

    تحقیق میں تمام تر عناصر کو مدنظر رکھنے پر دریافت ہوا کہ جب شریک حیات سے رشتے میں تبدیلی آتی ہے جیسے طلاق ہوجاتی ہے، تو بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں جس سے ذیابیطس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر شریک حیات سے اچھا یا خراب تعلق بلڈ شوگر کی سطح پر نمایاں اثرات مرتب نہیں کرتا۔

    محققین کے مطابق یہ مشاہداتی تحقیق تھی تو وہ شریک حیات کے ساتھ اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی کی وجہ دریافت نہیں کرسکے۔

    بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    اس تحقیق کے نتائج برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے۔

    قبل ازیں ناروے میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے بتایا تھا کہ شادی کے بندھن میں بندھنا عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ڈیمینشیا جیسے ذہنی امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    نارویجن انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ طلاق یافتہ اور زندگی بھر کنوارے رہنے والے افراد کے مقابلے میں طویل المعیاد عرصے تک شریک حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والوں میں ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے ڈیمینشیا کے خطرے پر اثر انداز ہونے والے دیگر عناصر جیسے تعلیمی قابلیت اور طرز زندگی کی عادات کو مدنظر رکھنے پر بھی شریک حیات کا طویل المعیاد ساتھ دماغی صحت کو امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ طلاق یافتہ اور کنوارے افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص کا امکان بالترتیب 50 اور 73 فیصد زیادہ ہوتا ہے،اس تحقیق میں 8700 افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے ازدواجی حیثیت کا جائزہ 24 سال تک لیا گیا اس عرصے میں 12 فیصد افراد میں ڈیمینشیا کی تشخیص ہوئی جبکہ دیگر 35 فیصد کو معمولی ذہنی مسائل جیسے یادداشت کی کمزوری کا سامنا ہوا۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    محققین نے دریافت کیا تھا کہ شادی شدہ ہونے اور معمولی ذہنی مسائل کے خطرے کے درمیان تو ٹھوس تعلق نہیں مگر ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی کے حوالے سے یہ تعلق واضح ہے،شریک حیات کا ساتھ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    ایک اور تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا تھا کہ اگرچہ مردوں کی اوسط عمر خواتین کے مقابلے میں کچھ کم ہوتی ہے مگر اس بات کا ٹھوس امکان ہے کہ وہ خواتین سے زیادہ عمر پاسکتے ہیں، بالخصوص اگر وہ شادی شدہ ہوں بی ایم جے اوپن جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 25 سے 50 فیصد مردوں کی عمر خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔

    تحقیق کے دوران 199 ممالک کے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین کی عمروں کے لگ بھگ 200 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جس میں محققین نے دریافت کیا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ مردوں کی عمر خواتین سے زیادہ ہوسکتی ہے، بالخصوص وہ مرد جو شادی شدہ ہوں یا ڈگری لی ہوئی ہو جن مردوں کی شادی ہوچکی ہو یا یونیورسٹی ڈگری حاصل کی ہو، وہ خواتین سے زیادہ لمبی عمر پاسکتے ہیں۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

    تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک میں 1970 کی دہائی تک خواتین کی زندگی مردوں سے زیادہ ہوتی تھی مگر بتدریج یہ فرق کم ہونے لگا کئی بار اوسط عمر میں فرق تمباکو نوشی اور دیگر عادات کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔

    محققین نے بتایا تھا کہ اگرچہ مردوں کی اوسط عمر خواتین کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور ہر عمر کے مردوں میں اموات کی شرح زیادہ ہے، مگر وہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندگی بھی گزار سکتے ہیں یہ نتائج اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ مردوں کی عمر خواتین جتنی لمبی نہیں ہوتی۔