Baaghi TV

Tag: سائنس ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کافون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے فون کی سٹوریج بچانے کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ایک ایسا نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو اسٹوریج بھرنے کے مسئلے کا حل ثابت ہوگا۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    واٹس ایپ کی جانب سے آئی او ایس کے بیٹا ورژن میں ایک فیچر پیش کیا گیا ہے جسے ایکسپائرنگ گروپس کا نام دیا گیا ہے یہ بنیادی طور پر ڈس اپیئرنگ فیچر جیسا ہی ہے جو انفرادی چیٹس کے لیے 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

    اس فیچر سے صارفین گروپس کے میسجز کے لیے ایکسپائری ڈیٹ کا تعین کر سکیں گے اس فیچر میں صارفین کو ایک دن، ایک ہفتہ یا کاسٹیوم ڈیٹ جیسے آپشنز فراہم کیے جائیں گے صارف کے پاس یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ ایکسپائری ڈیٹ کو ڈیلیٹ کر دے۔

    ابھی یہ فیچر تیاری کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور عام صارفین تک اسے پہنچنے میں کئی ہفتے یا کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے صارفین کی آسانی کے لیے ایک ایسے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت اب نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز سےچھٹکارا حاصل کرنا انتہائی آسان ہوگا۔

    سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    اس حوالے سے ویب سائٹ واٹس ایپ بیٹا انفو نے ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ اب صارفین Unknown نمبرز کو میوٹ کرسکیں گے، یعنی کوئی بھی ایسے نمبر سے اگر انہیں فون آیا جو فون میں سیو نہیں، وہ میوٹ پر رہے گا۔

    کالز کا نوٹیفکیشن کال ہسٹری میں نظر آئے گا، البتہ آپ کے پاس کال نہیں آئے گی، اس کے لیے آپ کو سیٹنگز میں جاکر میوٹ Unknown نمبرز کرنا ہوگا واٹس ایپ کی جانب سے فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ فیچر کب تک متعارف کرایا جائے گا، تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فیچر پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اگست 2022 میں صارفین کے لیے ایک بہترین پرائیویسی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا اس فیچر کا مقصد صارفین کو ناپسندیدہ واٹس ایپ گروپس خاموشی سے چھوڑنے کی سہولت فراہم کرنا ہے مگر اس اعلان کے بعد کئی ماہ تک یہ فیچر صارفین کو دستیاب نہیں ہوسکا تھا مگر اب اسے استعمال کرنا ممکن ہے۔

    یعنی اب یہ فیچر تمام صارفین کے لیے دستیاب ہےیہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اب اگر کوئی آپ کو کسی ایسے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر دیتا ہے جس سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں تو اس فیچر سے آپ کسی کو آگاہ کیے بغیر اس گروپ کو چھوڑ سکیں گے ایسا کرنے پر آپ کے گروپ چھوڑنے کا علم ایڈمن کے سوا کسی اور کو نہیں ہوگا، البتہ دیگر اراکین گروپ کی تفصیلات کے پیج میں جاکر اس بارے میں جان سکتے ہیں۔

    اس فیچر سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے گروپ کے تمام افراد کو ایک نوٹیفکیشن بھیج کر آگاہ کیا جاتا تھا کہ کسی فرد نے گروپ سے علیحدگی اختیار کرلی ہے البتہ کسی واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن اس فیچر کو استعمال نہیں کر سکیں گے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی دریافت شدہ کہکشائیں،جو سائنسدانوں کے مطابق ہونی ہی نہیں چاہیے …

    اس فیچر کو استعمال کرنے کا طریقہ :

    اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے واٹس ایپ میں اس گروپ کی چیٹ اوپن کریں جس کو وہ چھوڑنا چاہتے ہیں اس چیٹ ونڈو میں اوپر گروپ کے نام پر کلک کرکے گروپ انفو میں جائیں گروپ انفو میں نیچے اسکرول کرنے پر ایگزٹ گروپ کا آپشن نظر آئے گا اور اس پر کلک کریں۔

    اس آپشن پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے لکھا آئے گا کہ صرف گروپ ایڈمنز کو ہی آپ کے گروپ چھوڑنے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا، پھر ایگزٹ گروپ پر کلک کردیں۔

    انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

  • 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    ماہرین نے 1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویر عکس بند کر لی-

    باغی ٹی وی: باقیات کی یہ تصویر سیرو ٹولولو اِنٹر-امیریکن آبزرویٹری میں موجود وکٹر ایم بلینکو ٹیلی اسکوپ میں نصب ڈارک انرجی کیمرا (ڈی ای کیم) سے عکس بند کی گئی۔

    چینی ماہرین فلکیات نے ایس این 185 نامی اس سُپر نووا کا پہلی بار مشاہدہ 185 عیسوی میں بطور ’مہمان ستارے‘ کے طور پر کیا تھا کیوں کہ یہ آسمان پر ایک نئی چمکدار روشنی کے طور پر ظاہر ہوا تھا ماہرین کے مطابق یہ سپرنووا 1800 برس قبل ایک ستارہ تھا جو پھٹ کر سپرونووا بن چکا ہے۔

    سب سے پہلے ریکارڈ ہونے والے سُپر نووا کی جگہ اب صرف RCW 86 نامی ملبے کا ایک چھلہ موجود ہے سائنس دانوں کے مطابق یہ تصویر اس سپر نووا کی باقیات کے 1800 سال کے ارتقائی سفر کے متعلق معلومات پر روشنی ڈالےگی۔

    محققین کی ٹیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈی ای کیم کے زبردست وائڈ فیلڈ ویژن کی بدولت ماہرین فلکیات نے سپر نووا کی مکمل باقیات کا انتہائی نایاب نظارہ، جیسا کہ یہ آج دِکھتا ہے، تشکیل دیا ہے۔

    ماہرین کا عرصے سے یہ ماننا رہا ہے کہ اس چھلے کو وجود میں آنے کے لیے ستارے کے پھٹنے کے بعد تقریباً 10 ہزار سال کا عرصہ لگا ہوگا۔ لیکن تازہ ترین دریافت کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ 2000 سال کے مختصر عرصے میں بھی ہوسکتا ہے۔

    تصویر کو بغور دیکھا جائےتو اس میں بڑے پیمانے پر فولاد کی موجودگی کا انکشاف ہوتا ہے جس کے متعلق محققین کا کہنا تھا کہ یہ چیز ایک مختلف نوعیت کا دھماکا ہونے کے متعلق معلومات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

  • ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    ناسا نےزمین سے 1450 نوری سال کےفاصلے پرموجود ویری ایبل ستاروں کی تصویر جاری کر دی

    واشنگٹن: ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے دو ویری ایبل ستاروں کی تصویر لی ہے جو زمین سے 1450 نوری سال کے فاصلے پر موجود ستارہ ساز خطے اورائن نیبیولا میں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ناسا اور یوروپین اسپیس ایجنسی کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جاری کی گئی تصویر کے درمیان میں وی 372 اورائنِس نامی ستارہ موجود ہے جبکہ بائیں جانب اوپر کی طرف ایک چھوٹا ویری ایبل ستارہ موجود ہے،ویری ایبل ستارے وہ ستارے ہوتے ہیں جن کی روشنی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے۔


    وی 372 اورائنِس ایک مخصوص قسم کا ویری ایبل ستارہ ہے جو اورائن واری ایبل کی نام سے جانا جاتا ہےیہ کم عمر ستارے طوفانی کیفیت میں مبتلا ہیں جس کا مشاہدہ ماہرینِ فلکیات نے ان ستاروں کی بے ترتیب روشنی کی مدد سے کیا اورائن ویری ایبل ستاروں کا تعلق عموماً گیس اور غبار کے بادلوں پر مشتمل اورائن نیبیولا سے جوڑا جاتا ہے۔


    یہ تصویر ہبل کے دو آلات کو استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ تفصیلی تصویر کے لیے ڈیٹا ایڈوانس کیمرا فار سروے اور وائڈ فیلڈ کیمرا 3 سے انفرا ریڈ اور قابلِ دید طول امواج پر حاصل کیا گیا ہے۔

  • ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہےجو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: خود مختار ڈرون کومشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    اس کا فریم کاربن فائبر کا ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    سلمان خان کی نئی فلم ’کسی کا بھائی، کسی کی جان‘ کا ٹریلر جاری

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹےپیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل نیچر جیو سائنسز میں شائع تحقیق کے مطابق زمین کی اوپری تہہ سیال دھات پر مبنی ہے جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں پر مشتمل ہے اور اس کا حجم چاند کے 70 فیصد رقبے کے برابر ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    خیال کیا جاتا ہے کہ مینٹل کی نسبت زمین کے اندرونی تہہ کی تفریق گردش کور ڈائنامکس اور گروویٹیشنل کور مینٹل کپلنگ پر جیوڈینامو کے اثرات کے تحت ہوتی ہے اس گردش کا اندازہ بار بار زلزلہ کی لہروں کے درمیان وقتی تبدیلیوں سے لگایا گیا ہے جو اندرونی کور سے ایک ہی راستے سے گزرتی ہیں۔

    ایسا مانا جاتا تھا کہ زمین کی اندرونی تہہ کاؤنٹر کلاک وائز گھومتی ہے مگر Peking یونیورسٹی کی تحقیق میں نتیجہ نکالا گیا کہ اندرونی تہہ کی گردش 2009 کے قریب تھم گئی تھی اور پھر وہ مخالف سمت یا کلاک وائز گھومنا شروع ہوگئی۔

    محققین نے بتایا کہ ہمارے خیال میں یہ تہہ پہلے ایک سمت میں گھومتی ہے اور پھر دوسری جانب گھومنے لگتی ہے دونوں سمتوں میں گھومنے کا یہ چکر 70 سال (ہر سمت کا چکر 35 سال میں مکمل ہوتا ہے) تک مکمل ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2009 سے قبل آخری بار زمین کی اندرونی تہہ کی سمت 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی تھی اور اگلی بار ایسا 2040 کی دہائی کے وسط میں ہوگا۔

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

    زمین کی اندرونی تہہ کے حوالے سے تفصیلات اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ سطح سے 5 ہزار کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے تاہم اس تحقیق کے لیے ماہرین نے زلزلوں کی لہروں کا تجزیہ کیا تھا اوراس کی مدد سےاندرونی تہہ کی گردش کا تعین کرنےمیں کامیابی حاصل ہوئی۔

    محققین نے 1960 سے 1990 کی دہائی کے زلزلوں کے ریکارڈز کا موازنہ حالیہ زلزلوں سے کیا، جس سے عندیہ ملا کہ زمین کی اندرونی تہہ کی گردش 2009 میں رک گئی تھی اور پھر اس نے سمت بدل لی محققین کے مطابق اندرونی تہہ کے گھومنے کی سمت بدلنے سے دنوں کی لمبائی اور زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    عالمی سطح پر مسلسل پیٹرن بتاتا ہے کہ اندرونی تہہ گردش حال ہی میں موقوف ہوئی ہے۔ ہم نے اس حالیہ پیٹرن کا موازنہ 1964 کے جنوبی جزائر کےڈبلٹس کےالاسکا کےزلزلہ ریکارڈ سے کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ تقریباً سات دہائیوں کے دہورے حصے کے طور پر اندرونی تہہ کی بتدریج واپسی کے ساتھ منسلک ہے-

    ایک اور اہم موڑ کے ساتھ۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں۔ یہ کثیر الجہتی وقفہ کئی دوسرے جیو فزیکل مشاہدات، خاص طور پر دن کی لمبائی اور مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ موافق ہے۔

  • گیس کے چولہے پر کھانا بنانا صحت کیلئے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے

    لندن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ گیس پر کھانا بنانا صحت کے لیے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق ٹیلی ویژن پرشیف برقی چولہوں کے متبادل استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر(ٹریفک کے دھوئیں میں موجود ذرات) بنتے ہیں یہ بخارات پھیپھڑوں کونقصان پہنچاتےہیں اور خون میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے امراضِ قلب، کینسر اور الزائمرز کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    بچے اور بوڑھے افراد کو ان چولہوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہےجبکہ ایک تحقیق کےمطابق گیس کے چولہے گھر کی فضا مصروف شاہراہوں سے زیادہ آلودہ کر دیتے ہیں۔

    نیو سائنٹسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق میں شامل بچے بیگ میں لگے آلودگی کے مانیٹر کے ساتھ اسکول گئے امپیرئل کالج لندن کی پروفیسر فرینک کیلی کا کہنا تھا کہ باہر سے زیادہ گھر میں شام کے وقت بچوں کو آلودگی سامنا تھا جس وقت ان کے والدین کھانا بنا رہے تھے۔

    ایک اور تحقیق کے مطابق گیس کے چولہے امریکا میں ہر آٹھ میں سے ایک بچے میں دمے کا سبب ہوتے ہیں۔

    پروفیسر کیلی، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کا کہنا تھا کہ یہ چولہے گھر کی فضا آلودہ کرنے کا بڑا سبب ہیں۔ یہ دمے اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب ہوسکتے ہیں اور ان کو بد تر کر سکتے ہیں یہ مسئلہ ان گھروں میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے جہاں مناسب ہواداری کا انتظام نہیں ہوتا۔

    گیس کے چولہے شہر کی مصروف سڑکوں کی سطح سے کئی گنا زیادہ اندر کی ہوا میں اضافہ کرتے ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    ایک اور تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جنوبی کیلیفورنیا کے رہائشی گیس کے چولہے کا استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور فارملڈہائیڈ کی سطح کے سامنے آتے ہیں جو امریکی حکام کی طرف سے مقرر کردہ بیرونی آلودگی کے لیے حفاظتی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن لوفٹ نے کہا کہ کوئی یہ بحث کر سکتا ہے کہ گیس کے چولہے سے منسلک خطرہ آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ ہو سکتا ہے گیس ککر بھی گلوبل وارمنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ امریکہ میں چولہے سے نکلنے والی میتھین کا آب و ہوا پراثرپڑتا ہےجو تقریباً 500,000 پٹرول کاروں سےکاربن ڈائی آکسائیڈ کےاخراج کے مقابلے میں ہوتا ہے۔

    2025 تک، برطانیہ میں کوئی بھی نیا گھر فوسل فیول ہیٹنگ کے ساتھ نہیں بنایا جائے گا، ایک ایسا اقدام جس کا تقریباً یقینی طور پر مطلب ہوگا کہ ان کے پاس الیکٹرک انڈکشن چولہے ہوں گے امریکہ میں، صدر جو بائیڈن کا مہنگائی میں کمی کا ایکٹ گھرانوں کو گیس سے انڈکشن سٹو پر جانے کے لیے $1,340 تک کی سبسڈی فراہم کرے گا۔

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا اور اب ایوی ایشن انڈسٹری نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی پرواز کا کامیاب تجربہ کرلیا ہےجس سےکاربن کا اخراج صفرہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں زیرو ایویا (ZeroAvia) نامی کمپنی کی جانب سےتیار کردہ دو انجن کا 19 سیٹر چھوٹا طیارہ 10 منٹ کی تجرباتی پرواز کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد دنیا کا سب سے پہلا بڑا طیارہ بن گیا ہے جس نے ہائیڈروجن-الیکٹرک پاور پر کامیاب پرواز مکمل کی ہے مائع ہائیڈروجن کا استعمال کرتے ہوئے، ٹیکنالوجی پرواز کے دوران کاربن کے اخراج کو ختم کرتی ہے۔

    بلند معیار کے اسٹیریوائیر بڈز قیمتی اور خوبصورت بالیاں بھی

    زیرو ایویا کی یہ پرواز برطانیہ کی ہائی فلائیر 2 (HyFlyer II) پراجیکٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد 300 ناٹیکل میل کے مفاصلے تک 9 سے 19 سیٹر طیاروں کیلئے زیرو کاربن اخراج والی 600 کلو واٹ پاور ٹرین تیار کرنا ہے۔

    زیرو ایویا 2020 میں 250 کلو واٹ ہائیڈروجن الیکٹرک پاور ٹرین کے ذریعے 6 سیٹر طیارے کی کامیاب پرواز کے بعد سے اب تک چھوٹے انجنوں پر مشتمل 30 پروازیں مکمل کر چکی ہے-

    ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری کا کاربن اخراج میں کل حصہ 2.5 فیصد ہے اور یہ تجربہ کاربن اخراج کو کم ترین سطح پر لانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے جبکہ ہائیڈروجن کو طیاروں کیلئے ایک بہترین متبادل ایندھن قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ ہائیڈروجن، فاسل فیولز کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسز کی پیداور میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتا۔

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    ہائیڈروجن کو ہوائی جہازوں کے لیے ایندھن کے ایک امید افزا حل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے کیونکہ یہ جلانے پر کوئی گرین ہاؤس گیسیں پیدا نہیں کرتا ہے۔ تاہم، جب تک کہ ہائیڈروجن کو قابل تجدید توانائی کا استعمال کرتے ہوئے پیدا نہ کیا جائے، اسے بنانے کا عمل فوسل ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔

    ڈورنیئر 228 کو مکمل سائز کے پروٹو ٹائپ ہائیڈروجن الیکٹرک پاور ٹرین کے ساتھ دوبارہ تیار کیا گیا تھا، جس میں ہوائی جہاز کے بائیں بازو پر دو فیول سیل اسٹیک تھے۔ لیتھیم آئن بیٹری پیک نے ٹیک آف کے دوران سپورٹ کو بڑھا دیا، جبکہ سیٹیں ہٹا کر کیبن کے اندر ہائیڈروجن ٹینک اور فیول سیل پاور جنریشن سسٹم رکھے گئے تھے۔

    آدھی طاقت فیول سیلز سے آتی ہے اور آدھی بیٹری پیک سے، کمپنی کے نمائندے نے پرواز کے بعد کی پریس کانفرنس میں تصدیق کی دائیں بازو میں ایک باقاعدہ انجن تھا، حفاظتی وجوہات کی بناء پرحالانکہ اسے پرواز کے دوران استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    Cotswold ہوائی اڈے سے شروع ہو کر، ہوائی جہاز نے ٹیکسی، ٹیک آف، مکمل پیٹرن کا سرکٹ اور لینڈنگ سب کچھ ہائیڈروجن الیکٹرک انجن پر کیا۔ اس کی رفتار 120 ناٹ یا 139 میل فی گھنٹہ تھی کمپنی نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ "تمام سسٹمز نے توقع کے مطابق کارکر دگی کا مظاہرہ کیا۔

    تجارتی پرواز کے لیے، یقیناً، ہائیڈروجن ٹینک اور فیول سیل پاور جنریشن سسٹم طیارے کے باہر رکھے جائیں گے۔ کمپنی کا مقصد اب کنفیگریشن کو حتمی شکل دینا اور سال کے آخر تک اسے سرٹیفیکیشن کے لیے پیش کرنا ہے۔

  • دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    بیجنگ: ماہرین کے مطابق حمل کی مہلک پیچیدگیوں کے ابتدائی اشاروں کی پیٹ میں ہوتی تبدیلیوں اور ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی:اسکریننگ ٹیسٹ کا نتیجہ نارمل ہو سکتا ہے اور اس مسئلے سے محروم ہو سکتا ہے جو موجود ہے۔ حمل کے دوران، خواتین کو عموماً یہ اسکریننگ ٹیسٹ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ عورت یا اس کے بچے کے لیے پیدائشی نقائص یا دیگر مسائل کی جانچ کی جا سکے۔ قبل از پیدائش کی جانچ کے بارے میں آپ کو جو بھی خدشات ہیں اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    چین کی نِنگبو یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیا ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے پری ایکلیمپسیا (دورانِ حمل بلند فشار خون ہونا)، جیسٹیشنل ڈائبیٹیز (دورانِ حمل ہونے والی ذیابیطس) اور انٹرا ہیپٹک کولیسٹیسِس (دورانِ حمل ہونے والا جگر کا ممکنہ طورپرمہلک عارضہ) جیسی صورتوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

    نامعلوم وجوہات کے سبب حمل پیٹ کے بیکٹیریا کو متاثر کرتا ہے اور سائنس دانوں نے اس بات کو مزکورہ بالا حمل کی تینوں پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا ہے پری ایکلیمپسیا ہر سال تقریباً سات فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور رحمِ مادر میں 5 لاکھ سے زائد بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے۔

    جیسٹیشنل ڈائیبیٹیز تقریباً 10 فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور بچوں کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ جبکہ انٹرا ہیپٹِک کولیسٹیسِس تقریباً سات فی صد بچوں کی قبل از پیدائش اموات کا سبب بنتی ہے۔

    اگرچہ ان اسباب کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہے لیکن مرض کی جلدی تشخیص اور علاج ان تینوں پیچیدگیوں کے زندگی بھر رہنے والے اثرات یا ماں یا بچے کو موت سے بچانے کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

    تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر رونگ رونگ شوان کا کہنا تھا کہ محققین نے دورانِ حمل چھوٹی چین کے فیٹی ایسڈ کی تقسیم اور ان کا تین مخصوص حمل کی پیچیدگیوں کے درمیان تعلق دیکھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ فیٹی ایسڈ پیٹ میں قدرتی طور پر موجود بیکٹیریا کا ’میٹابولک پروڈکٹ‘ ہوتے ہیں اور ان کو حمل کی پیچیدگیوں کے ممکنہ اشاروں کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    مائیکرو سافٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک اے آئی سافٹ ویئر بنایا ہے جو صرف تین سیکنڈ تک کسی کی بھی آواز سن کر اس کی ہوبہو نقل بناتا ہے۔

    باغی ٹی وی: انسانی آواز نقل کرنے والے اس سافٹ ویئر کا نام وال ای، اے آئی رکھا گیا ہے اب یہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ہے یعنی لکھے الفاظ کو آواز میں بدلتا ہے۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    یہ دنیا میں کسی بھی شخص کی آواز کی نقل کرسکتا ہے جس کے لیے اسے تین سیکنڈ کی آڈیو فائل درکار ہوگی۔ تاہم مزید بہتری کے لیے قدرے طویل آڈیو فائل کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ سافٹ ویئر اس حد تک مؤثر ہے کہ یہ آواز کے زیروبم اور آواز کے جذباتی اتارچڑھاؤ کی بھی نقالی کرسکتا ہے۔

    وال ای سے کسی بھی شخصیت سے وہ الفاظ ادا کروائے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہے۔ اس سے جعلی آڈیوز اور فیک ریکارڈنگ کا ایک نیا سیلاب بھی آسکتا ہے اور طرح طرح کےمسائل جنم لےسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ کےمطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی اس کے الگورتھم کو انگریزی زبان کی 60 ہزار گھنٹوں کی آواز پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں کہانی سنانے والے اور کتاب پڑھنے والوں کی آواز بھی شامل ہیں۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    تاہم ریکارڈ کی گئی آواز کے نمونے یا واٹس ایپ پیغامات پر اس کا معیار کچھ گرسکتا ہے تاہم اگر کوئی وال ای پر براہِ راست اچھے مائیک سے آواز ریکارڈ کرتا ہے تو سافٹ ویئر کےنتائج حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں۔

    آزاد تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ مائیکروسافٹ کےدعووں کے برعکس سافٹ ویئر نے بہت واجبی صلاحیت دکھائی۔

    تاہم مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس کے کچھ فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی فنکار فلم کی ڈبنگ درمیان میں چھوڑ کر کہیں اور مصروف ہوجاتا ہے تو اس کی ڈبنگ سافٹ ویئر سے کی جاسکتی ہے اس طرح کےچھوٹے امور وال ای اے آئی اچھی طرح نبھا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مائیکرو سافٹ مشہور مصوروں کی پینٹنگ کی نقل کرنے والا ایک اور پروگرام ڈیل ای بنا چکا ہے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

  • 2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں سمندر کے درجہ حرارت نے 2021 میں بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: دو درجن سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، سمندروں نے 2022 میں مسلسل چوتھے سال ریکارڈ پر اپنی گرم ترین سطح کو نشانہ بنایا۔ گرمی کے پچھلے ریکارڈ 2021، 2020 اور 2019 میں ٹوٹے تھے، اور پچھلے چھ سالوں میں سب سے اوپر چھ گرم ترین سطحیں واقع ہوئی ہیں دنیا جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے اس کی یہ ایک بُری علامت ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    بین الاقوامی محققین پرمشتمل ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ گزشتہ برس زمین کےسمندروں میں 10 زیٹا جولز(1021 یا 10 کے آگے 21 صفر)کے برابر گرمائش کا اضافہ ہوا۔

    یہ مقدار کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار 70 کروڑ 1.5 لیٹر حجم والی کیتلیوں کو ایک سال تک ہر سیکنڈ ابالنے کے لیے کافی ہے یا یہ توانائی ایک سال میں عالمی سطح پر بننے والے بجلی سے 100 گُنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے زمین کے سمندر کس بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس تحقیق میں دنیا بھرکے 16 اداروں کے 24 سائنس دانوں کیجانب سے سمندروں کے متعلق مشاہدات پیش کیے گئے۔

    یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف پروفیسر مائیکل مین کا کہنا تھا کہ انسانوں کی خارج کردہ کاربن سے پیدا ہونے والی تپش کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ جب تک ہم نیٹ زیرو اخراج تک نہیں پہنچ جاتے یہ تپش جاری رہے گی اور ہم سمندر کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑتے جائیں گے جیسے 2022 میں کیا گیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کے متعلق آگہی اور بہتر سمجھ موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ نیا ریکارڈ بدھ کے روز شائع ہوا، کچھ ہی دن بعد جب یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ 2022 سیارے کا پانچواں گرم ترین سال تھا۔ ایجنسی کے مطابق، سال 2016، 2020، 2019 اور 2017 سبھی ٹاپ فائیو میں بھی شامل ہیں یہ تمام سیاروں کی گرمی، سمندروں اور ماحول کے ایک طویل مدتی نمونے کا حصہ ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدان لیجنگ چینگ کی سربراہی میں سمندروں کی رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ 1958 کے بعد سے ہر دہائی جب سائنسدانوں نے پہلی بار سمندری حرارت کی قابل اعتماد پیمائش کو رکھنا شروع کیا آخری سے زیادہ گرم رہا ہے۔ اور وقت کے ساتھ گرمی میں تیزی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے، سمندر جس شرح سے گرمی کو ذخیرہ کرتا ہے اس میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی