Baaghi TV

Tag: سائنس ٹیکنالوجی

  • بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    ڈنمارک: ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ب جو بچے پریشان کن یا تکلیف دہ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں جوانی میں دل کا دورہ پڑنے یا خون کی شریانوں کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : یورپی جرنل آف ہارٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق جو بچے ابتدائی عمر میں کسی نامناسب حالات سے گزرتے ہیں جوانی میں وہ رگوں کی تنگی اور امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں یا ان امراض کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

    ان مسائل میں خاندان میں بیماری یا موت، غربت وتنگدستی، ناچاقی اور گھریلو لڑائی، نظراندازکرنے اور خاندان میں تناؤ وغیرہ شامل ہیں۔ اس ماحول میں رہنے والے بچے فوری طور پر تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ عین جوانی میں بھی امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں۔

    سروے میں جنوری 1980 سے دسمبر 2001 کےدرمیان 13 لاکھ بچوں کو جائزہ لیا گیا تھا۔ اس دوران 4118 بچے قلبی رگوں کی بیماری (سی وی ڈی) کےشکار ہوچکے تھے جو ان کی سولہویں سالگرہ سے 2018 کے اختتام کے دوران ہوا جبکہ بعض افراد کی عمر 38 برس تک تھی۔

    مطالعہ کے سینئر مصنف، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ صحت عامہ میں وبائی امراض کی سربراہ پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہہم نے پایا کہ بچپن میں بہت کم مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں، بچپن میں نامساعد حالات سے جوانی میں امراضِ قلب کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے-

    ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرنوعمری میں بھی یہ مسائل جان نہ چھوڑیں تب بھی اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم جو اس طویل مطالعے سےعیاں ہے۔ اگر اوسطاً 30برس کے ایک لاکھ افراد موجود ہوں تو 50 افراد میں امراضِ قلب کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گھریلو مسائل سے مزید 10 سے 18 کیس بڑھ سکتے ہیں جو ایک بہت تشویشناک امر ہے۔

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    بالخصوص بچپن میں گھرمیں اموات، شدید دیرینہ امراض کےمنفی اثرات بہت سخت ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ڈنمارک کے کل 1,263,013 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی سولہویں سالگرہ تک زندہ تھے اور کسی امراضِ قلب کے شکار نہ تھے۔

    مطالعے میں صفر سے 15 برس کےبچے شامل تھے جنہیں 5 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں بہت کم گھریلو مسائل والے بچے، مادی ضرویات سےمحروم (بیروزگاری اور غربت)، مستقل محرومی، بہن بھائی یا والدین کو کھودینے والے یا کھونے کے خطرے کے شکار بچے، اور پانچویں قسم ان بچوں کی تھی جو تمام اقسام کے شدید مسائل میں گھرے تھے۔

    ان میں سے جن بچوں نے بھوک اور بیماری دیکھی ان میں امراضِ قلب کی شرح بھی بلند دیکھی گئی ہے-

    محققین نے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تجزیوں کو ایڈجسٹ کیا جو سی وی ڈی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جیسے کہ عمر، پیدائش کے وقت زچگی کی عمر، والدین کی اصل، اور دل، خون کی شریانوں یا میٹابولزم کی کوئی بھی والدین کی بیماریاں۔ ضمنی تجزیوں میں، انھوں نے حمل کی عمر اور والدین کی تعلیم کے لیے بھی ایڈجسٹ کیا۔ انہوں نے ان لوگوں کو خارج کر دیا جن کے والدین کو دل یا میٹابولزم سے متعلق کوئی بیماری تھی، جیسے کہ ذیابیطس یا دل کی بیماری، جو ان کے بچوں کو ان حالات میں مبتلا کر سکتی ہے۔

    گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

    محققین نے پایا کہ مطالعہ میں 2,195 مردوں اور 1,923 خواتین کے درمیان سی وی ڈی کی نشوونما کے خطرے میں بہت کم فرق تھا۔ خطرہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ تھا جنہوں نے خاندان میں شدید بیماری یا موت کا سامنا کیا اور ان لوگوں میں جنہوں نے بچپن اور جوانی کے دوران مشکلات کی بلند اور بڑھتی ہوئی شرح کا تجربہ کیا۔

    ہیڈ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہ ابتدائی جوانی میں بچپن کی مشکلات اور سی وی‌ڈی کے درمیان جو تعلق ہم نے دیکھا اس کی جزوی طور پر ان رویوں سے وضاحت کی جا سکتی ہے جو صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، جیسے شراب پینا، سگریٹ نوشی اور جسمانی بے عملی۔ بچپن ایک حساس دور ہے جس کی خصوصیت تیز رفتار علمی اور جسمانی نشوونما سے ہوتی ہے۔ بچپن میں مشکلات کا بار بار اور دائمی نمائش جسمانی تناؤ کے ردعمل کی نشوونما پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور یہ ان نتائج پر مبنی میکانزم کے لیے ایک اہم وضاحت فراہم کر سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں دریافت

    زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں دریافت

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں کی تصویر جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : تصویروولف-لُنڈ مارک-میلوٹے نامی یہ ڈوارف گلیکسی 2016 میں صرف اسپِٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے دیکھی گئی تھی لیکن چونکہ اس میں نصب آلات جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جتنے جدید نہیں تھے اس لیے اس تصویر میں ستاروں کے دھدنلے نقوش آئے تھے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں سے تقریباً 3 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور جس کا سائز تقریباً دسویں حصہ ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا



    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی طاقتور مکینکس کو استعمال کرتے ہوئے ناسا پُر امید ہے کہ وہ اس کہکشاں کے ستاروں کی تخلیق کی تاریخ کو دوبارہ ترتیب دے سکے گی۔ اس کہکشاں کے متعلق ناسا کا خیال ہے کہ یہ اربوں سال قبل وجود میں آئی تھی۔


    جاری کی جانے والی یہ تصویر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ملکی وے کہکشاں کے بالکل باہر موجود ستاروں کو واضح کرنے کی زبردست صلاحیت کو پیش کرتی ہے جو ایسا اس سے قبل کبھی ممکن نہیں تھا۔

    ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی اس ٹیلی اسکوپ میں نیئر انفرا ریڈ کیمرا نصب ہے جو ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی نشان دہی کرتا ہے۔


    وولف-لُنڈ مارک-میلوٹے کہکشاں ہماری کہکشاں کے پڑوس میں موجود ہے لیکن ہماری کہکشاں کی نسبت 10 گُنا چھوٹی ہے یہ کہکشاں 1909 میں میکس وولف نے دریافت کی لیکن اس کے متعلق تفصیلات 1926 میں نُٹ لُنڈ مارک اور فِلِیبرٹ جیک میلوٹے نے پیش کیں تھیں۔

    ٹیلی اسکوپ کی جانب سے یہ مشاہدہ ارلی ریلیز سائنس پروگرام 1334 کے تحت کیا گیا۔

    ای آر ایس کے ایک سائنس دان کرِسٹن مک کوئن کے مطابق اگرچہ یہ کہکشاں ہماری کہکشاں کے پڑوس میں ہے لیکن سب سے علیحدہ ہے اور کسی دوسرے نظام سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتی۔


    ناسا کے مطابق، ڈبلیو ایل ایم کہکشاں ماہرین فلکیات کے لیے دلچسپ ہے کیونکہ یہ بڑی حد تک الگ تھلگ رہی ہے اور ابتدائی کائنات میں کہکشاؤں کی طرح کیمیکل میک اپ رکھتی ہے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    ویب دوربین، جو دسمبر 2021 میں لانچ کی گئی، آج تک کی سب سے طاقتور خلائی رصد گاہ ہے۔ یہ ناقابل یقین حد تک دور کی کہکشاؤں کی مدھم روشنی کا پتہ لگانے کے قابل ہے کیونکہ وہ انفراریڈ روشنی میں چمکتی ہیں، ایک طول موج انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہے۔

    تصویر میں مختلف رنگوں، سائزوں، درجہ حرارت، عمروں، اور ارتقاء کے مراحل کے انفرادی ستاروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ کہکشاں کے اندر نیبولر گیس کے دلچسپ بادل پیش منظر کے ستارے جس میں ویب کے پھیلاؤ والے اسپائکس ہیں۔ اور پس منظر کی کہکشائیں جن میں سمندری دم جیسی صاف خصوصیات ہیں-

    کرسٹن میک کوئن، نیو جرسی کے پسکاٹا وے میں رٹگرز یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات اور فلکیات کے اسسٹنٹ پروفیسر نے ناسا کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک تبصرے میں کہا۔ ایک سمندری ستاروں کی ایک پتلی "دم” ہے اور ایک کہکشاں کو پھیلانے والی انٹرسٹیلر گیس۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

  • ٹوئٹرکی نئی تبدیلی چند گھنٹوں بعد ختم

    ٹوئٹرکی نئی تبدیلی چند گھنٹوں بعد ختم

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کی جانب سے مخصوص اکاؤنٹس پر گرے ٹک اور آفیشل لیبل کو متعارف کراتے ہی چند گھنٹوں بعد ختم کردیا،یہ نیا گرے ٹک 9 نومبر کو اچانک مخصوص اکاؤنٹس میں نظر آیا اور پھر غائب بھی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر کی پراڈکٹ ڈائریکٹر ایسٹر کرافورڈ نے 8 نومبر کو بتایا تھا کہ مخصوص اکاؤنٹس پر گرے ٹک کے ساتھ آفیشل لیبل کا اضافہ کیا جائے گا۔یہ تبدیلی 9 نومبر کو چند اکاؤنٹس میں دیکھنے میں آئی مگر پھر ایلون مسک نے مداخلت کرتے ہوئے اسے ختم کردیا جس کا عندیہ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں دیا۔

    ٹوئٹر نے بھارت میں 90 فیصد سے زائد عملے کو نوکری سے فارغ کر دیا


    ایلون مسک نے ایک اور ٹوئٹ میں مزید تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے مہینوں میں ٹوئٹر کی جانب سے کافی احمقانہ اقدامات کیے جاسکتے ہیں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کونسی تبدیلی کارآمد ہے اور کونسی بیکار ہے۔


    ایلون مسک کی جانب سے گرے ٹک فیچر کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد ٹوئٹر کی پراڈکٹ ڈائریکٹر ایسٹر کرافورڈ نے بتایا کہ ٹوئٹر میں کوئی بھی پراڈکٹ اب مقدس گائے نہیں، ایلون مسک کافی چیزوں کی آزمائش کررہے ہیں، جن میں سے متعدد ناکام جبکہ کچھ کامیاب ہوسکتی ہیں ہمارا مقصد کامیاب تبدیلیوں کو دریافت کرکے کاروبار کو طویل المعیاد بنیادوں پر مضبوط بنانا ہے۔

    ٹوئٹر پر اکاؤنٹس کو 3 اقسام میں تقسیم کیا جائے گا


    انہوں نے گرے ٹک ہٹائے جانے کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ لیبل ابھی ‘مردہ’ نہیں ہوا ہم صرف حکومتی اور کمرشل اکاؤنٹس کے ساتھ اس کا آغاز کریں گے اور شخصیات میں آفیشل لیبل کا استعمال ابھی نہیں ہوگا۔

    ایلون مسک نے ویری فائیڈ اکاؤنٹس کے لیے یکم نومبر کو 8 ڈالرز کے سبسکرپشن پلان کا عندیہ دیا تھا جس پر عملدرآمد آئندہ چند روز میں ہوگا ایلون مسک کے مطابق ویری فکیشن کے لیے فیس سے جعلی اکاؤنٹس کی تعداد میں کمی آئے گی جبکہ کوئی فرد کسی برانڈ کی نقل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس اکاؤنٹ کو ہمیشہ کے لیے معطل کردیا جائے گا۔

    میٹا کا 11 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ

  • ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت، جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا

    ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت، جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا

    ماہرین نے ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا-

    باغی ٹی وی : جریدے لائیوسائنس میں شائع تحقیق کے مطابق ڈائنو سار کی یہ قسم ٹکر مارنے کی بجائے ٹانگیں اور ہاتھ چلانے کا بڑی ماہر تھی ماہرین کے خیال ہے کہ جس طرح آج کینگرو مکے اور لاتیں چلاتے ہیں عین اسی طرح یہ ڈائنوسار بھی لڑنے کا ماہر تھا۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    ماہرینِ حیاتیات نے کِک باکسنگ کے اس رویے کا ثبوت ’پیکی سے فیلو سارس(Pachycephalosaurus) کے ایک اچھی طرح سے محفوظ ڈھانچے کا تجزیہ کرکے اس کا ایک ورچوئل 3D ماڈل بنا کراوریہ نوٹ کیا کہ ڈائنوسار کی اناٹومی کےحصے کنگارو سے مشابہت رکھتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر اسی طرح کے طریقوں سے منتقل ہوتے ہیں۔

    مالٹا میں گریٹ پلین ڈائنوسارمیوزیئم کے ماہرین نے اسے دریافت کیا ہے یہ تحقیق 2 نومبرکوٹورنٹو میں سوسائٹی آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تھی کریٹے شیئس عہد سے تعلق رکھنے والا ڈائنوسار دو ٹانگوں پر چلتا تھا جسے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا نام دیا گیا ہے اور اپنے دشمن پر طاقتور لاتیں چلاتا تھا۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    خوش قسمتی سے ’پیکی سے فیلو سارس‘ کا بہت ہی اچھا اور قدرے مکمل ڈھانچہ ملا ہے جس کی بنا پر تھری ڈی ماڈل بنایا گیا ہے۔ ماہرین نے غور کیا تو انکشاف ہوا کہ اس کے خدوخال بہت حد تک بڑے کینگرو سے مشابہہ ہیں۔ اگرچہ یہ ڈائنوسار اپنی دم کو بطور کوڑا استعمال کرتا تھا لیکن ساھ ہی کینگرو کی طرح مکے برسانے اور لات مارنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

    اگرچہ یہ اپنے تربوز جیسے بڑے سر سے بھی ٹکر مار سکتا تھا لیکن اسے ہاتھ پیر چلانے میں آسانی ہوتی تھی۔ دوسری جانب میامی میں فروسٹ سائنس میوزیئم سے واستہ ماہر کیری وڈروف نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا غالب امکان ہے کہ یہ ڈائنوسار جھگڑالو تھا۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    یہ طویل عرصے سے سوچا جاتا تھا کہ یہ کریٹاسیئس دور (145 ملین سے 66 ملین سال پہلے) عجیب و غریب ایک دوسرے پر بھاگتے تھے اور اپنے تربوز جیسے سر سے ایک دوسرے کو ممکنہ طور پر ساتھیوں، خوراک یا علاقے کے لیے مقابلہ کرنے کے لیے ٹکریں مارتے تھے –

    ووڈرف نے کہا کہ اگرچہ بہت سے ماہرین حیاتیات نے پیکی سے فیلو سارس کی کھوپڑیوں کا مطالعہ کیا ہے، باقی جسم پر تجزیہ بہت کم ہے کیونکہ ان کے ڈھانچے شاذ و نادر ہی اچھی طرح سے محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن، امریکی مغرب کی ہیل کریک فارمیشن سے اچھی طرح سے محفوظ شدہ نمونے تک رسائی کا مطلب یہ تھا کہ ووڈرف اس کی ریڑھ کی ہڈی کی جانچ کر سکتا ہےاور ساتھ ہی دیگر جسمانی خصوصیات جو اس کے رویے کے بارے میں سراغ پیش کر سکتی ہیں۔

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

  • سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب موجود بلیک ہول دریافت کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جریدے نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ سورج سے 10 گنا زیادہ بڑے پیمانے پرایک خوابیدہ خول ہے، جو اپنے ستارے سے اتنا ہی دور گردش کر رہا ہے جتنا کہ زمین ہماری طرف سے ہے۔

    محققین کے مطابق یہ بلیک ہول زمین سے 1600 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے اور سورج سے 10 گنا زیادہ بڑا ہےاس بلیک ہول کو Gaia BH1 کا نام دیا گیا ہے جس کی شناخت اس کے مدار میں گھومنے والے ستارے سے ہوئی۔

    یہ ایک خوابیدہ بلیک ہول ہے جس کے باعث اس کو دریافت کرنا مشکل تھا مگر سائنسدان ایسا کرنے میں کامیاب رہے سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ستارہ تھا جو اربوں سال تک زندہ رہنے کے بعد بلیک ہول میں بدل گیا۔

    زمین کی سطح کے نیچے گرم چٹانوں سے زیادہ موثر توانائی پیدا کی جا سکتی ہے،تحقیق

    اس بلیک ہول کی شناخت یورپین اسپیس ایجنسی کے Gaia اسپیس کرافٹ سے ہوئی، جس کے بعد دنیا بھر میں 6 مختلف ٹیلی اسکوپس سے اس مقام کا مشاہدہ کیا گیا اس طرح سائنسدان یہ تصدیق کرنے کے قابل ہوگئے کہ یہ ایک خوابیدہ بلیک ہول ہے یہ پہلی بار ہے جب ہماری کہکشاں میں سورج جیسے ایک ستارے کو ایک بلیک ہول کے مدار میں گھومتے دریافت کیا گیا۔

    ایک بلیک ہول کو خوابیدہ اس وقت تصور کیا جاتا ہے جب وہ زیادہ مقدار میں ایکسرے ریڈی ایشن کو خارج نہیں کررہا ہوتا، جن کے ذریعے ہی عموماً بلیک ہولز کو شناخت کیا جاتا ہےخوابیدہ بلیک ہولز کو دریافت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے اردگرد سے رابطے میں نہیں ہوتے۔

    برج اوفیچس میں اگلا قریب ترین معلوم بلیک ہول مونوکیروس برج میں تقریباً 3,000 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اس نئے بلیک ہول کو جو چیز ہماری کہکشاں میں پہلے سے شناخت شدہ 20 یا اس سے زیادہ دوسرے لوگوں سے الگ کرتی ہے، اس کی قربت کے علاوہ، یہ ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں کر رہا ہے کشش ثقل سے قریب کی ہر چیز کو استعمال نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ، بلیک ہول غیر فعال ہے-

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    بلیک ہولز اتنی گھنی چیزیں ہیں کہ آئن سٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریہ کے مطابق روشنی بھی ان سے بچ نہیں سکتی۔ یہ انہیں فطرت میں سب سے زیادہ دلچسپ اور پرتشدد مظاہر بناتا ہے وہ کائنات کی سب سے زیادہ شاندار اشیاء بن سکتے ہیں، کیونکہ گیس، دھول اور یہاں تک کہ چھوٹے ستارے پھٹ جاتے ہیں-

    زیادہ تر ہر کہکشاں میں سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ بڑا بلیک ہول ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کو یقین نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آتے ہیں. چھوٹے بلیک ہولز کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ وہ بڑے ستاروں سے بنتے ہیں جو اپنی تھرمونیوکلیئر زندگی کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں اور منہدم ہو گئے ہیں کہکشاں میں شاید لاکھوں بلیک ہولز ہیں وہ عام طور پر اپنے آپ کو ایکس رے کے ذریعہ پہچانتے ہیں جب وہ اپنے ساتھیوں سے ڈبل اسٹار سسٹم میں گیس چھین لیتے ہیں۔

    ہارورڈ سمتھسونین سنٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات کے ماہر کریم البدری چار سال سے ایسے چھپےہولز کی تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے یہ بلیک ہول یورپی خلائی ایجنسی کے GAIA خلائی جہاز کے ڈیٹا کی چھان بین کرتے ہوئے پایا گیا، جو کہکشاں میں موجود لاکھوں ستاروں کی پوزیشنوں، حرکات اور دیگر خصوصیات کو انتہائی درستگی کے ساتھ ٹریک کر رہا ہے۔

    11 ہزار سال قبل پھٹنے والے ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    ڈاکٹر ال بدری اور ان کی ٹیم نے ایک ستارے کا پتہ لگایا، جو ہمارے سورج سے تقریباً مماثلت رکھتا ہے، جو عجیب طرح سے ہل رہا تھا، جیسے کسی غیر مرئی ساتھی کے کشش ثقل کے زیر اثر۔ مزید تحقیق کرنے کے لیے، محققین نے ہوائی میں مونا کییا کے اوپر جیمنی نارتھ دوربین کی کمانڈ کی، جو اس کے ڈوبنے کی رفتار اور مدت کی پیمائش کر سکتی ہے یہ تکنیک اس عمل سے مماثل ہے جس کے ذریعے ماہرین فلکیات ستاروں کے گھومنے کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ مدار میں گھومنے والے exoplanets کی موجودگی کا پتہ لگایا جا سکے-

  • شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی ہیں،ماہرین

    ماہرین نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیوں کا جھنڈ اور اڑنے والے کیڑوں کی سرگرمی سے فضا میں عین وہی برقی کیفیات پیدا ہوسکتی ہے جو بجلی بھرے گرجنے والے بادل سے وجود میں آتی ہے۔

    باغی ٹی وی : برقی چارجز ہر جگہ ہوتے ہیں، مثبت اور منفی دونوں۔ جیسا کہ مخالف چارجز ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں، جیسے چارجز ایک دوسرے کو دور کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ قوتیں اکثر انسانی پیمانے پر کسی کا دھیان نہیں دیتیں، لیکن ان کا چھوٹے جانوروں اور پودوں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔

    اڑنے والے کیڑوں کی سرگرمی سے فضا میں عین وہی برقی کیفیات پیدا ہوسکتی ہے جو بجلی بھرے گرجنے والے بادل سے وجود میں آتی ہے لیکن اس سے خود حشرات کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور انہیں غذا ڈھونڈنے میں مدد ملتی ہے اور مکڑیاں ہوا میں بلند ہوکر طویل فاصلے تک جاتی ہیں۔

    یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسداں پروفیسر ایلارڈ ہنٹنگ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ طبعیات، حیاتیات پر اثر انداز ہوتی ہے جبکہ اب معلوم ہوا ہے کہ حیاتیات طبعیات پر اثر ڈالتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے حشرات برقِ سکونی (اسٹیٹک الیکٹرسٹی) پیدا کرتے ہیں اور فضا میں اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔

    تجربات سے انکشاف ہوا کہ شہد کی مکھیوں کا جھنڈ زیادہ برقی چارج رکھتا ہے اور فضا میں برقی سرگرمی بڑھا کر 100 سے 1000 وولٹ فی مربع میٹر تک پہنچا دیتا ہے۔ اگرچہ اس کا اثر زیادہ تر میدان کے آس پاس ہی ہوتا ہے۔

    ماہرین نے اس سرگرمی کا دیگر جانداروں پر اثر بھی معلوم کیا ہے۔ پھر ٹڈی دل پر بھی غور ہوا جو بہت بڑی تعداد میں سفر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اب تک 460 مربع میل پر 8 کروڑ سے زائد ٹڈوں کا جھنڈ بھی دیکھا گیا اور ان کا برقی اثر مکھیوں سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    ماہرین کہتے ہیں کہ جانوروں میں حیاتیات اور برقِ سکونی کے درمیان تعلق کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔ ان کا اثر مختلف جگہوں اور پیمانوں پر ہوسکتا ہے۔ مٹی میں خردنامئے اور بیکٹیریا بھی بجلی بناتے ہیں تو دوسری جانب اڑن کیڑے عالمی فضائی برقی سرکٹ بناتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، شہد کی مکھیاں اپنے پروں کے طور پر ایک مثبت چارج جمع کرتی ہیں – جواپنے پر ایک سیکنڈ میں 200 سے زیادہ بار مارتی ہیں – ہوا میں موجود مالیکیولوں کے خلاف رگڑتی ہیں، اور اسے منفی چارج شدہ جرگ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ وہ پھولوں کے برقی شعبوں کا بھی پتہ لگاسکتے ہیں اور ان میں ترمیم کرسکتے ہیں۔

    مکڑیاں منفی چارج شدہ جالوں کو گھماتی ہیں جو مثبت چارج والےکیڑوں کو پھنسانے کے لیے پہنچتی ہیں، اوروہ درختوں کے برقی میدانوں کو ہوا میں تیرنےکےلیے استعمال کرتی ہیں مثبت طور پرچارج شدہ ہمنگ برڈز منفی چارج شدہ پودوں کےاسٹیمن کو اپنی چونچوں کی طرف کھینچتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر ہونے کے باوجود ماحولیاتی نظام بجلی سے گونج رہا ہے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    جریدے iScience میں پیر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ جب شہد کی مکھیوں اور ٹڈیوں جیسے کیڑے بھیڑ میں جمع ہوتے ہیں، تو ہر مخلوق میں انفرادی چارجزجمع ہو کر فضا میں بجلی کے میدانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جتنی کہ گرج چمک کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کے عین موسمی اثر کی تصدیق کے لیے اضافی تحقیق کی ضرورت ہوگی، کھربوں چھوٹے اجسام جو ہوا کو برقی بناتے ہیں، موسم کے بنیادی واقعات کی وضاحت کرنے میں مدد کرسکتے ہیں، جیسے بادلوں کی تشکیل، اور ہمارے ارد گرد کے پیچیدہ ماحول کی تصویر بھرنے میں۔

    یونیورسٹی آف مین کے بائیو مکینکس کے محقق وکٹر اورٹیگا-جیمنیز جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ یہ پہلا مطالعہ تھا جس نے ماحول پر جانوروں کے بڑے پیمانے پر برقی اثرات کی تصدیق کی اور یہ کہ "اس سے بہت سے امکانات کھلتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کیڑوں کے غول ہر جگہ ہیں آپ اسے مچھروں میں دیکھ سکتے ہیں، آپ اسے شہد کی مکھیوں میں دیکھ سکتے ہیں، آپ اسے ٹڈیوں اور پرندوں میں دیکھ سکتے ہیں-

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

  • واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    ہرزلیا: میٹا کی زیرملکیت ایپلیکشن واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : جہاں نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئے ، پرانی نسلوں کو یہ سیکھنا پڑا کہ اس کے مطابق کیسے ڈھالنا ہے۔ ایسی ہی عمر کا ایک گروہ جنریشن X (جو 1965-1980 کے درمیان پیدا ہوا) ہے،جو زندگی میں نسبتاً دیر سے ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ ہوا اور اسے "ڈیجیٹل تارکین وطن” کہا جاتا ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    ریچ مین یونیورسٹی کے محققین کی طرف سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں ڈاکٹر گیلی ایناو، ایڈلسن سکول آف انٹرپرینیورشپ کے محقق اور فیکلٹی ممبر، اور سیمی اوفر سکول آف کمیونیکیشنز کے تال نادیل ہارونی اور پروفیسر یائر گیلی نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ہم اپنے تعلقات کو واٹس ایپ کے ذریعے کیسے چلاتے ہیں اور چاہے یہ اس سے ملتا جلتا ہو یا اس سے مختلف جس طرح سے ہم انہیں حقیقی زندگی میں ہینڈل کرتے ہیں۔

    اسکالر جان گوٹ مین، ایک طبی ماہر نفسیات اور ریاضی دان، نے رشتے میں لڑائی کی اہمیت کو تسلیم کیا، اور دعویٰ کیا کہ تنازعات سے نمٹنے کی صلاحیت ہی ایک مستحکم رشتے کی بنیاد ہے۔ اس نے رشتے میں تنازعات کے انتظام کے تین نمونوں کی بھی نشاندہی کی جو اس کے استحکام کی پیش گوئی کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

    جرنل نیو میڈیا اینڈ سوسائٹی میں شائع تحقیق میں ماہرین نے دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ واٹس ایپ جوڑوں کے لیے لڑائی اور صلح کا بہترین مقام ثابت ہوسکتی ہے محققین کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ سے لوگوں کو اپنے شریک حیات کا نکتہ نظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

    محققین نے کہا کہ ایموجیز سے جذبات اور غصے کا اظہار زیادہ بہتر طریقے سے کرنا ممکن ہوتا ہے واٹس ایپ چیٹ رشتے کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہےاس تحقیق میں 35 سے 50 سال کی عمرکے ایسے 18 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی شادی کو 5 سال کا عرصہ ہوچکا تھا۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    اس کے بعد دیکھا گیا کہ جھگڑے کی صورت میں ان جوڑوں کی جانب سے کس طرح کے رویے کا اظہار کیا جاتا ہے جیسے سرد مہری، جذباتی انداز یا دیگر،پھر یہ دیکھا گیا کہ یہی جھگڑا میسجنگ ایپ میں کرنے سے تعلق پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ حقیقی زندگی میں جوڑے جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ سکتے ہیں مگر میسجنگ ایپ پر ایک دوسرے کے پیغامات کو کئی بار پڑھتے ہیں تاکہ نکتہ نظر کو سمجھ سکیں۔

    محققین نے کہا کہ 1960 یا 1970 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد ڈیجیٹل طریقوں کی بجائے براہ راست بات کرنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، مگر ہم نے دریافت کیا کہ ضروری نہیں یہ خیال واقعی درست ہو۔

    انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ سے زندگی بھر کے اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اضافی پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

  • گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرادیا ۔

    باغی ٹی وی : اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک نامی یہ الرٹ سسٹم بلاقیمت ہے اوراینڈرائیڈ پلیٹ فارم کا ایک مددگار فیچر ہے جو دنیا بھر میں زلزلوں کا پتا لگاتا ہے اور لوگوں کو آگاہ کرتا ہےیہ سسٹم زلزلےکی سرگرمیوں کا پتا لگانے کے لیےفعال اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں موجود ایکسلرو میٹر (accelerometers)استعمال کرتا ہے اور سرچ اور ڈیوائس کے ذریعے براہ راست لوگوں کوزلزلے کے بارے آگاہ کرتا ہے۔

    فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا

    یہ سسٹم گوگل سرچ کو تقریباً فوری طور پر (near-instant)معلومات فراہم کرتا ہے جب لوگ ’زلزلہ‘ یا ’میرے نزدیک زلزلہ‘دیکھتے ہیں تو انہیں متعلقہ نتائج ملتے ہیں اور ساتھ ہی اس بارے میں مددگار وسائل کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں کہ زلزلے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔

    تیل کی پیداوار ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل سے نہیں بڑھا سکتے،محمد بن سلمان

    ایسے صارفین جو یہ الرٹس وصول نہیں کرنا چاہتے وہ ڈیوائس کی سیٹنگ میں جا کر اسے بند بھی کر سکتے ہیں موبائل آلات پر اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم 2 اقسام کے الرٹس دکھاتا ہے جن کا انحصار زلزلے کی شدت پر ہوتا ہے۔

    یہ اطلاع زلزلے کے مرکز سے فاصلے کی معلومات کے ہمراہ بھیجی جاتی ہے، الرٹ فون کے موجودہ والیوم، وائبریشن، اور ڈسٹرب نہ کریں کی سیٹنگ استعمال کرتا ہے۔

    ٹک ٹاک گوگل سرچ انجن کیلئے بھی خطرہ بن گیا

  • زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    لندن: سمندری جانداروں اور انسانوں کے بعد اب زمینی چھوٹے میملز کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

    تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے جس کے مطابق جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

    دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔

    ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔

  • سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں 4 لاکھ برقی گاڑیوں کی بیٹری کے برابر بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری کو فعال کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دو ارب یورو کا یہ منصوبہ سوئس پہاڑی علاقے کی سطح زمین سے 600 میٹر گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر 14 سالوں سے کام جاری تھا۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ نینٹ ڈی ڈرانس کی جانب سے جاری کی جانےو الی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نئی قابلِ تجدید توانائیوں کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہوا جن کی پیداوار ناہموار ہوتی ہے، اس اتار چڑھاؤ کے لیے اِزالے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور کھپت میں توازن مستقل طور قائم کیا جاسکے۔

    اس بیٹری کی 2 کروڑ کلو واٹ آور کی گنجائش اس بات کو ممکن بنائے گی کہ قابلِ تجدید ذرائع سے بننے والی اضافی توانائی کو مستقبل کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے۔ لہذا یہ برقی گرڈ کے استحکام اور روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    یہ ہائیڈرو بیٹری اضافی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے دو مختلف بلندیوں پر بنے دو مختلف ذخائر تک پانی پمپ کر کے کام کرتی ہے۔جب اضافہ بجلی بنتی ہے تو6 پمپ ٹربائنس نچلے حوض سے اوپر موجود حوض میں پانی بھیجتے ہیں ڈھائی کروڑ مکعب میٹر کی گنجائش رکھنے والی اس آبی بیٹری کی توانائی کا اخراج اتنا ہے کہ 9 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا