Baaghi TV

Tag: سائنس ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ میسنجر نے صارفین کی آسانی کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا-

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    اس سے قبل یہ فیچر ویب ورژن کے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی پیش کردیا گیا ہے۔

    اس فیچر کو پیش کیے جانے کے بعد اب اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    واٹس ایپ نے یہ فیچر اینڈرائیڈ کے 2.23.2.2 ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے، یہ فیچر صارفین واٹس ایپ اپ ڈیٹ کرنے کے بعد استعمال کرسکتے ہیں۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک سے دوسرے اینڈرائیڈ فون میں وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرنے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے لیے صارفین کو گوگل ڈرائیو کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ کام صرف کیو آر کوڈ کے ذریعے ہی ممکن ہو جائے گا۔

    یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بیٹا ورژن 2.23.1.26 اور 2.23.1.27 میں چند صارفین کو ہی دستیاب ہے، اس کا استعمال بہت آسان ہے جب بھی آپ کسی نئی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ انسٹال کریں تو امپورٹ چیٹس کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیوائس کا کیمرا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے لیے اوپن ہوجائے گا۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی،…

  • سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    ماہرین نے سمندری سیپی سے مضبوط اور ماحول دوست ہیلمٹ بنا لیا-

    باغی ٹی وی :سمندر کنارے دھاری دار سیپی میں ایک نرم کیڑا کسی خطرے کے بغیر مزے سے رہتا ہے اور اسی سیپی سے اب ایک ماحول دوست ہیلمٹ بنایا گیا ہےاسے شیلمٹ کا نام دیا گیا ہے-

    پی سی بی نےسابق ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں اضافہ کردیا

    شیلمٹ میں اسکیلپ سیپی کی 50 فیصد مقدار اور 50 فیصد پلاسٹک ملایا گیا ہے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلمٹ بنانے والی کمپنی نے اپنے کاروبار میں دیہات کے ماہی گیروں کو شریکِ کاروبار بنایا ہے جو اس ہیلمٹ کے لیے سیپی کا خام مال فراہم کرتے ہیں۔

    شیلمٹ کی تباری کے لیے جاپانی کاؤشی کیمیکل کمپنی نے اہم کردار ادا کیا ہے اور سمندری بستی کے ماہی گیر سالانہ 40 ہزار ٹن سیپیاں فراہم کریں گے۔

    اگرچہ یہ سیپیاں اب بھی جالوں میں پھنس کر آتی ہیں لیکن ان کا مصرف کچھ نہیں ہوتا اور وہ ساحل پر پڑی بو دیتی رہتی ہیں جاپان کے سب سے شمالی سرے پر واقع، ہوکائیڈو جزیرہ اپنے آتش فشاں، قدرتی گرم چشموں اور نرم، میٹھے،سشیمی گریڈ سکیلپس کے لیے جانا جاتا ہے۔

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پلاسٹک میں صدفے یا سیپی کو ملانے سے نہ صرف ہیلمٹ ہلکا پھلکا رہتا ہےبلکہ وہ مضبوط ترین ہیلمٹ کے مقابلے میں یکساں سختی رکھتا ہے۔

    پاکستانیوں کو امریکی ویزا کے حصول کیلئے آسانی

  • مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    گلوبل وارمنگ کے پیشِ نظر اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لانے لگ گئیں۔

    باغی ٹی وی : اوزون سطح کرہ ارض کو ڈھانپنے والی ایک حفاظتی سطح ہے جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاؤں کو زمین کے ماحول میں گھسنے سے روکتی ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ماضی کے مطالعوں میں روز مرہ کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کلوروفلورو کاربن (سی ایف سیز) کو اوزون سطح، انسان کی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ پایا گیا ہے،1987 میں درجنوں ممالک نے موٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے جس کے تحت دستخط کنندہ سی ایف سیز کے استعمال کو ختم کرنے کے پابند ہوگئے اوریہ ایک تاریخی کثیر جہتی ماحولیاتی معاہدہ ہےجو تقریباً 100 انسانی ساختہ کیمیکلز، یا ‘اوزون کو ختم کرنے والے مادے’ (ODS) کی کھپت اور پیداوار کو منظم کرتا ہے۔

    تاہم اب دنیا بھر کے سینکڑوں سائنسدانوں کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ کے مطابق اوزون کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے استعمال میں کمی کے نتیجے میں اوزون کی تہہ بحال ہونا شروع ہوگئی ہے اور اس صدی کے آخر تک زمین کو گلوبل وارمنگ کے سبب بڑھنے والے درجہ حرارت میں 0.5- 1 ڈگری تک کمی کا سامنا متوقع ہےلیکن گروپ نے جیو انجینئرنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے اوزون پرت پر غیر ارادی اثرات سے بھی خبردار کیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    مونٹریال پروٹوکول کی پیشرفت پر ہر چار سال بعد شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پینل نے اوزون کو ختم کرنے والے ممنوعہ مادوں کے تقریباً 99 فیصد کے مرحلے سے باہر ہونے کی تصدیق کی۔

    پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ میں سوراخ کی دریافت کا اعلان پہلی بار برطانوی انٹارکٹک سروے کے تین سائنسدانوں نے مئی 1985 میں کیا تھا۔

    پینل کی رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیاں اپنی جگہ پر رہتی ہیں، تو توقع ہے کہ 2040 تک یہ تہہ 1980 کی قدروں تک پہنچ جائے گی، اوزون سطح کی انٹارکٹک میں 2066 تک، آرٹک میں 2045 اور باقی دنیا میں 2040 تک اس ہی حالت میں واپسی متوقع ہے جس حال میں وہ 1980 میں تھی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    انٹارکٹک اوزون ہول کے سائز میں تغیرات، خاص طور پر 2019 اور 2021 کے درمیان، زیادہ تر موسمیاتی حالات کی وجہ سے تھے اس کے باوجود، سال 2000 سے، انٹارکٹک اوزون کی خلاف ورزی رقبے اور گہرائی میں آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے اوزون سیکریٹریٹ کے انوائرنمنٹ پروگرام کی ایگزیکٹِیو سیکریٹری میگ سیکی کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اوزون تہہ کی بحالی ایک زبردست خبر ہےموسمیاتی تغیر کو کم کرنے کے لیے مونٹریال پروٹوکول اس سے زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتا 35 سال سے زیادہ کے عرصے میں یہ معاہدہ ماحولیات کے لیے حقیقی چیمپئن بن گیا ہےسائنٹیفک اسسمنٹ پینل کی طرف سے کئے گئے جائزے اور جائزے پروٹوکول کے کام کا ایک اہم جزو بنے ہوئے ہیں جو پالیسی اور فیصلہ سازوں کو مطلع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    منگل کو ایک ٹویٹ میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ اوزون کی تہہ کی بحالی "ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ جب ہم مل کر کام کریں گے تو دنیا کیا حاصل کر سکتی ہے-

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

  • برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو ناکامی کا سامنا ہوا

    برطانیہ کے پہلے تاریخی خلائی مشن کو لانچ کے دوران ناکامی کا سامنا ہوا اور سیٹلائیٹس لے جانے والا راکٹ کہیں گم ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ کے علاقے کورن وال کی اسپیس پورٹ سے اسٹارٹ می اپ خلائی مشن کو کاسمک گرل نامی بوئنگ 747 طیارے سے روانہ کیا گیا آئرلینڈ کے شمالی ساحلی علاقے میں طیارے نے کامیابی سے لانچر ون راکٹ کو ریلیز کیا جس پر 9 سیٹلائیٹس موجود تھے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    مشن کا انتظام سنبھالنے والی کمپنی ورجین آربٹ کے مطابق راکٹ مطلوبہ بلندی تک پہنچنے میں ناکام رہا اور سیٹلائیٹس سمیت گم ہوگیا یوکے اسپیس ایجنسی کے مطابق گمشدہ راکٹ یا تو جل گیا ہوگا یا شمالی بحر اوقیانوس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہوگا۔

    یو کے اسپیس ایجنسی کے کمرشل اسپیس فلائٹ ڈائریکٹر میٹ آرچر نے بتایا کہ مشن کی ناکامی پر انہیں بہت زیادہ مایوسی ہے مگر پھر بھی انہیں خوشی ہے کہ یورپ میں سیٹلائیٹس لے کر جانے والا پہلا مشن برطانوی سرزمین سے روانہ ہوا،لانچ کا پہلا مرحلہ تو کامیاب رہا مگر دوسرے مرحلے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔
    https://twitter.com/VirginOrbit/status/1612590978942263297?s=20&t=Wrge1ovy7iF12vRJ8FoAlg

    زمین پر پانی کی پیمائش کیلئےاہم مشن پر روانہ

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے مگر لانچ کا عمل کامیاب رہا اور ہم نے کافی پیشرفت کی انہوں نے تصدیق کی کہ راکٹ اور سیٹلائیٹس گم ہوگئے ہیں مگر لوگوں کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

    یہ مشن پاکستانی وقت کے مطابق 10 جنوری کی شب 3 بجے روانہ ہوا تھا جبکہ 4 بجے راکٹ کو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر ریلیز کیا گیا۔

    ورجین آربٹ نے پہلے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ لانچر ون کامیابی سے زمین کے مدار میں پہنچ گیا ہے، مگر کچھ دیر بعد ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ کسی مسئلے کے باعث ہم مدار تک پہنچ نہیں پارہےیہ جو سیٹلائٹ لے کر جا رہا تھا وہ چھوڑا نہیں جا سکا اور گم ہو گیا کاسمک گرل، کیریئر 747 جیٹ، بحفاظت اڈے پر واپس آ گیا۔

    یوکے اسپیس ایجنسی کے ڈپٹی سی ای او ایان اینیٹ نے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مدار میں پہنچنا اصل میں "کتنا مشکل” ہے – لیکن اگلے 12 مہینوں میں مزید لانچوں کی پیش گوئی کی ہے۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

  • ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ وہ اس سوشل میڈیا ایپ میں گم ہوجاتے ہیں اور گھنٹوں تک اس پر اسکرولنگ کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : صارفین کی شکایت پر کمپنی کی جانب سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا جارہا ہے جس کا مقصد مناسب وقت تک نیند کو یقینی بنانا ہے کمپنی کی جانب سے نئے فیچر سلیپ ریمائنڈرز کی آزمائش کی جارہی ہے۔

    نیا فیچر ایپ میں "اسکرین ٹائم” سیٹنگز کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ وہ صارفین جو ٹیسٹ کا حصہ ہیں انہیں ایک نیا "نیند کی یاد دہانی” کا اختیار نظر آئے گا۔

    اس فیچر کے تحت سونے کے وقت کے الرٹس لگانے جبکہ نیند کے دوران نوٹیفکیشنز کو میوٹ کرنے جیسے آپشنز دستیاب ہوں گے کمپنی کےمطابق اس نئےفیچرکی آزمائش دنیا بھر میں صارفین کی محدود تعداد میں کی جارہی ہےیہ نیا فیچراسکرین ٹائم سیٹنگزمیں سلیپ ریمائنڈرز کے نام سے موجود ہوگا۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    کمپنی نے بتایا کہ اس فیچر سے صارفین کو ٹک ٹاک پر اسکرولنگ کے دوران معلوم ہوسکے گا کہ اب ان کے سونے کا وقت ہوگیا ہے اس کے لیے صارفین کو سونے کے ایک وقت کو سلیکٹ کرنا ہوگا اور وہ وقت قریب آنے پر ایپ کی جانب سے یاد دلایا جائے گا کہ نیند کا وقت آگیا ہےاس کے ساتھ ساتھ پش نوٹیفکیشنز 7 گھنٹوں کے لیے میوٹ ہوجائیں گے تاکہ صارف کی نیند متاثر نہ ہوسکے۔

    ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم صارفین کی بہتری کے لیے متعدد نئے ذرائع پر کام کررہے ہیں اور یہ نیا ٹول بھی اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے فروری 2020 میں اسکرین ٹائم منیجمنٹ ٹولز متعارف کرائے تھے اور اس کے بعد سے ایسے متعدد فیچرز کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کو ایپ کے استعمال کے حوالے سے زیادہ اختیار فراہم کرسکیں۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

  • سال کے آغاز میں ہی ٹوئٹر میں ایک اور بڑی تبدیلی

    سال کے آغاز میں ہی ٹوئٹر میں ایک اور بڑی تبدیلی

    سوشل میڈیا کے مقبول پلیٹ فارم ٹوئٹر میں ایک اور بڑی تبدیلی کی تیاری کر لی گئی۔

    باغی ٹی وی :ایلون مسک کی جانب سے سے ٹوئٹر کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر میں کئی تبدیلیاں کی گئیں ہیں جیسے ماہانہ فیس ادا کرکے بلیو ٹک کا حصول، 60 منٹ طویل ویڈیوز پوسٹ کرنا اور ویو کاؤنٹ وغیرہ۔ سال 2023 میں بھی ان تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    فیفا ورلڈ‌کپ: لیونل میسی کے کمرے کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    اب سال کے آغاز میں ہی اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں ایک اور بڑی تبدیلی جارہی ہے جو ٹوئٹر کے استعمال کا تجربہ بدل دے گی ٹوئٹر کی جانب سے بہت جلد سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں نیوی گیشن یا مواد کی تلاش کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جارہا ہے۔


    ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ٹوئٹر کا نیا نیوی گیشن فیچر جنوری میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

    ازبکستان میں بھی بھارتی کمپنی کا تیار کردہ سیرپ پینے سے 18 بچے جاں بحق

    اس فیچر کی بدولت ٹوئٹر کی نیوزفیڈ کئی حصوں میں تقسیم ہوجائے گی یعنی صارف سائیڈ سویپ کرکے ٹاپ، لیٹسٹ، ٹرینڈنگ اور دیگر تک رسائی حاصل کرسکیں گے اس وقت ٹوئٹر میں تاریخ وار ٹائم لائن (جس میں نئے ٹوئٹس سب سے اوپر ہوتے ہیں) اور ہوم ٹائم لائن (جس میں مواد الگورتھم طے کرتا ہے) کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس فیچر کا عندیہ ایلون مسک نے دسمبر کے شروع میں بھی دیا تھا ابھی یہ واضح نہیں کہ جنوری میں کب تک یہ فیچر تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

  • جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    کیلیفورنیا: امریکا کے حکومتی سائنسدانوں نے فیوژن توانائی کے حصول میں ایک انتہائی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوہری توانائی کے حصول میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نئی تحقیق کےمطابق جوہری فیوژن (ایسا عمل جس میں ٹھوس مادہ تبدیل ہو کر مائع بن جاتا ہے) تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واضح رہے کہ ہمارا سورج نیوکلیائی فیوژن (عملِ گداخت) کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے جس میں ہائیڈروجن ایٹم باہم مل کر ہیلیئم بناتے ہیں۔ اس عمل میں غیرمعمولی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم لارنس لِیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں نے حال ہی میں پہلی بار ایک فیوژن ری ایکشن میں اضافی توانائی کی پیداوار حاصل کی ہے جو خرچ کی جانے والی توانائی سے زیادہ ہے۔

    لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں واقع نیشنل اگنیشن فیسلٹی (این آئی ایف) نے لیزر استعمال کرتے ہوئے پہلے 2.1 ملین جول توانائی خرچ کی اور اس سے 2.5 ملین جول توانائی حاصل کی۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے جوہری فیوژن کے تجربے کو کاربن سے پاک توانائی کے حصول میں اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    کیلی فورنیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً لامحدود،محفوظ اور صاف توانائی کےذریعے کو دریافت کرنے میں پیش رفت کی ہے اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج نہیں ہوتیں جبکہ پیٹرول، کوئلے اور دیگر ذرائع کی توانائی سے مضر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس سے ہمارے موسمیاتی توازن اور ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

    لیبارٹری تجربے میں اگنیشن(ignition) نامی جوہری فیوژن کے رد عمل سے زیادہ توانائی حاصل ہوئی، جوہری فیوژن میں ہائیڈ روجن جیسے ہلکے عناصر کو ایک ساتھ توڑنے کے عمل سے توانائی کا بہت بڑا اخراج ہوتا ہے۔

    اگرچہ روایتی بجلی گھروں کی طرح فیوژن پاور اسٹیشن کی منزل ابھی بہت دور ہے لیکن دنیا میں رکازی (فاسل) ایندھن سے اجتناب اور صاف توانائی کے حصول میں اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ جوہری فیوژن پر تحقیق کا آغاز 1950 سے ہوا،محققین مثبت توانائی حاصل کرنے کا مظاہرہ کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

  • ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جس جگہ آپ نوکری کرتے ہیں وہاں کی ہوا آپ کو رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : اینلز آف دی رہیومیٹکس ڈیزیز نامی ایک جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ملازمت کی جگہ زہریلے بخارات، گیسز اور محلول کے دھوئیں یا غبار میں سانس لینا لوگوں میں دائمی آٹو امیون جوڑوں کی بیماری کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

    تحقیق کے لیے محققین نے 4000 افراد سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جو ایک سوئڈش مطالعے کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان تمام افراد میں 1996 سے 2017 کے درمیان تازہ تازہ اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

    ٹیم نے ان تمام افراد کی نوکریوں کے متعلق چھان بین کی تاکہ یہ اندازہ لگا سکیں ان کی نوکریوں کی جگہ پر 32 ایجنٹس کے بخارات میں سے کونسا موجود تھا۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ دھوئیں اور گرد و غبار میں سانس لینے کا تعلق اس بیماری کے خطرات میں اضافے سے تھا۔ مزید یہ کہ سیگریٹ نوشی یا جینیاتی عوامل کے سبب لاحق خطرات میں بھی یہ چیز اضافہ کرتی ہے۔

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    محققین کا کہنا تھا کہ 32 میں سے 17 ایجنٹس، جن میں ایسبیسٹوس، کوارٹز، ڈیزل کا دھواں، پیٹرول کا دھواں، کاربن مونو آکسائیڈ اور فنگیسائڈز شامل ہیں، کا تعلق اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس سے تعلق تھا۔

    تحقیق میں محققین نے دیکھا کہ ملازمت کی جگہ پر موجود اس قسم کے کسی آلودگی میں سانس لینے کا تعلق رہیومیٹائڈ آرٹھرائٹس کی ایک قسم میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 25 فی صد اضافے سے ہے جو اینٹی سیٹریولینیٹڈ پروٹین اینٹی باڈیز(اے سی پی اے) کی موجودگی میں مزید بد تر ہوجاتی ہے مردوں میں اس بیماری کے خطرات میں 40 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس میں مبتلا افراد کو بدتر طبی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ان کے جوڑ بہت خرابی سے گزرتے ہیں۔

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس ایک دائمی آٹو امیون بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں میں سوزش اور تکلیف ہو جاتی ہے۔ آٹو امیون بیماریاں وہ بیماریاں ہوتی ہیں جس میں جسم کا قدرتی نظام صحت مند اور متاثر خلیوں کو بلا امتیاز ختم کرنا شروع ہو جاتا ہے۔

  • قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے شمالی گرین لینڈ کے منجمد صحرا سے 20 لاکھ سال پرانا جینیاتی مواد (ڈی این اے) دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میں شائع ہونے والی اس دریافت سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ خطہ لاکھوں سال قبل ہاتھی، قطبی ہرن اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کا گھر تھا یہ خطہ کسی زمانے میں جنگل سے ڈھکا ہوا تھا مگر آج یہاں سبزہ نظر ہی نہیں آتا آج، یہ ایک بنجر آرکٹک ریگستان ہے، لیکن اس وقت یہ درختوں اور پودوں کا ایک سرسبز منظر تھا-

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    محققین نے بتایا کہ انہوں نے شمالی گرین لینڈ کے ساحلی علاقے Kap Kobenhavn سے حاصل کیے گئے 41 نمونوں میں دنیا کے قدیم ترین جینیاتی مواد کو دریافت کیا نمونے نامیاتی مرکبات سے بھرپور تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے نمونوں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہاں متعدد جاندار، پودے اور جرثومے پائے جاتے تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب ہم 20 لاکھ سال پرانے ڈی این اے کو دیکھ رہے ہیں جس سے زمانہ قدیم میں گم ہوجانے والی دنیا کا علم ہوتا ہےتحقیق کے دوران جینیاتی مواد سے اس خطے میں کم از کم 102 جانداروں کی موجودگی کے بارے میں علم ہوا۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور گلیشیئر کے ماہر کرٹ کجر نے کہا کہ "مطالعہ ایک ایسے ماضی کا دروازہ کھولتا ہے جو بنیادی طور پر کھو چکا ہے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    محققین نے مٹی کے نمونوں سے ماحولیاتی ڈی این اے، جسے ای ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، نکالا یہ وہ جینیاتی مواد ہے جسے جاندار اپنے گردونواح میں بہاتے ہیں – مثال کے طور پر، بال، فضلہ، تھوکنے یا گلنے والی لاشوں کے ذریعے۔

    واقعی پرانے ڈی این اے کا مطالعہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے کیونکہ جینیاتی مواد وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ جاتا ہے اور سائنسدانوں کو صرف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔

    لیکن جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ، محققین ڈی این اے کے چھوٹے، تباہ شدہ بٹس سے جینیاتی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر جینیاتی ماہر ایسکے ولرسلیو نے وضاحت کی۔

    نیچر جریدے میں بدھ کو شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں، انہوں نے ڈی این اے کا موازنہ مختلف پرجاتیوں کے ڈی این اے سے کیا، جو مماثلت کی تلاش میں تھے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    اس سے قبل ماہرین نے 2006 میں نمونے جمع کرکے ڈی این اے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت انہیں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔

    مگر اس کے بعد سے لاکھوں سال پرانے ڈی این اے کو دریافت کرنے کی ٹیکنالوجی بہتر ہوئی اور سائنسدان 16 سال کی کوششوں کے بعد یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

  • ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    دنیا کے پہلے خلائی سیاح جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ کیا کہ وہ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک سے ملاقات کے بعد بہت جلد خلا سے متعلق ‘بڑا اعلان’ کرنے والے ہیں-

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا ایک آن لائن فیشن کمپنی کے بانی ہیں اور انہوں نے دسمبر 2021 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) جاکر پہلے خلائی سیاح کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    وہ 2023 میں ایلون مسک کی کمپنی کے ذریعے چاند کے سفر کی منصوبہ بندی بھی کررہے ہیں، مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مشن شیڈول کے مطابق روانہ ہوتا ہے یا نہیں۔


    47 سالہ یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ایلون مسک سے ان کی آن لائن ملاقات ہوئی اور وہ 9 دسمبر کو خلا سے متعلق بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔

    جنوبی افریقا میں چرچ جانے والا قافلہ سیلاب میں بہہ گیا؛ 14 افراد ہلاک

    اگر 2023 کو اسپیس ایکس کا چاند پر بھیجے جانے والا مشن روانہ ہوا تو یوساکوما یزاوا وہاں جانے والے پہلے پرائیویٹ مسافر بن سکتے ہیں انہیں ستمبر 2018 میں اسپیس ایکس نے چاند کے پہلے نجی سیاحتی دورے کے لیے منتخب کیا تھا۔

    ایک میوزک بینڈ میں ڈرمر سے مقبولیت حاصل کرنے والے میزاوا، اپنے توجہ حاصل کرنے والے سٹنٹس کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں کپڑوں کی آن لائن جاپانی کمپنی زوزو کے بانی میزاوا نے فیشن انڈسٹری سے دولت کمائی اپنی دولت کا بڑا حصہ وہ آرٹ پر خرچ کرتے ہیں-

    ٹِک ٹاک ایپ سے امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں. ایف بی آئی