Baaghi TV

Tag: سائنس

  • اگر موجودہ حکومت میرے 5 بڑے منصوبے آگے بڑھا دے تو سائنس کا منظر تبدیل ہو جائے گا،فواد چودھری

    اگر موجودہ حکومت میرے 5 بڑے منصوبے آگے بڑھا دے تو سائنس کا منظر تبدیل ہو جائے گا،فواد چودھری

    سابق وزیر اطلاعات اور قانون فواد چودھری کا کہنا ہے کہ امید ہے وزارت سائنس وٹیکنالوجی پی ٹی آئی کے منصوبوں کو آگے بڑھائے گی۔

    باغی ٹی وی : فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ بھنگ کی صنعت بڑی مارکیٹ ہے اور اس کا ادویات میں استعمال گیم چینجر ہو گا، اگر یہ میرے 5 بڑے منصوبے آگے بڑھا دیں تو سائنس کا منظر تبدیل ہو جائے گا، دونوں وزارتوں میں جو اصلاحات میں نے کیں اس پر فخر ہے۔


    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارتوں میں محنتی اور کام کرنے والے لوگوں کو ڈھونڈ کر میرٹ پر لگایا گیا، ایک بھی پوسٹنگ میرٹ سے ہٹ کر نہیں کی اور اس پالیسی نے وزارتوں کو تبدیل کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک عملی طور پر ماوراۓ آئین چل رہا ہے،بجٹ اسمبلیوں میں بحث کےبغیر نافذ ہو رہے ہیں، میڈیا پر بدترین سنسرشپ ،مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن نہیں کئےجا رہے ہیں-


    انہوں نے کہا کہ الیکشن رسمی کاروائی بن گئے ہیں زبردستی کے وزیر اعلٰی حمزہ شہباز کے خلاف مقدمے سنے ہی نہیں جا رہے اس نظام کیخلاف بڑی جدوجہد کرنی ہو گی-

    واضح رہے کہ وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے چرس (بھنگ) کی کاشت اور استعمال کو ریگولیٹ کرنے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،اتھارٹی طبی اور صنعتی استعمال کے لیے چرس (بھنگ) تیار کرنے کے لیے پروڈیوسرز اور کسانوں کو لائسنس جاری کرے گی۔ چرس (بھنگ) کی پیداوار کا لائسنس 15 سال کے لیے قابل عمل ہوگا۔

    اتھارٹی پانچ مختلف قسم کے لائسنس جاری کرے گی جس میں صنعتی، طبی، پروسیسنگ، تحقیق اور ترقی کا لائسنس شامل ہے۔ چرس کی برآمد کا خصوصی اجازت نامہ محکمہ تجارت کی طرف سے جاری کیا جائے گا وزارت سائنس و ٹیکنالوجی پالیسی کو منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوائے گی۔

    اس سے قبل دسمبر 2021 میں، پی ٹی آئی حکومت کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے دواؤں اور صنعتی استعمال کے لیے بھنگ کی کاشت کے لیے پاکستان کی پہلی بھنگ پالیسی بنائی تھی نیشنل ہیمپ پالیسی کے تحت جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے، سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ون ونڈو آپریشن کے ساتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

    سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر شبلی فراز نے کہا تھا کہ حکومت کو بھنگ کے پتوں کی کاشت کے لیے بے شمار درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں 100 فرموں کو اس مقصد کے لیے لائسنس دیے گئے تھے بھنگ کی پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول تعلیم، تجارت اور انسداد منشیات کی وزارتوں کی مشاورت سے بنائی گئی ہے۔

  • دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی چپ تیار جو ایک سیکنڈ میں 2 ارب تصاویر پروسیس کر سکتی ۔

    پینسلوانیا میں پہلی مرتبہ سائنس دانوں نے عین دماغی طور پر کام کرنے والی ایسی طاقتور آپٹیکل چپ بنائی ہے جو صرف ایک سیکنڈ میں دو ارب تصاویر پروسیس کرسکتی ہے۔
    پنسلوانیا کے ماہرین نے یہ برقی چپ اعصابی نیٹ ورک کے طرز پر تیار کی ہے ۔اس کے کام کرنے کا انداز تھوڑا مختلف ہے ۔یہ روایتی انداز کے برعکس کام کرتی ہے اور کسی بھی طرح سست نہیں ہوتی ہے ۔

    ساتھ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وه خود ہی سیکھتے رہتے ہیں بلکل ہی نیورل نیٹ ورک کی طرح ہی ۔اور یہ اسی سیکھنے کے عمل کے دوران اپنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
    اس چپ کو آپٹیکل چپ کا نام بھی دیا گیا ہے ۔کیونکہ اس چپ میں برقی سگنل کی بجاۓ روشنی ایک سے دوسرے مقام سے گزرتی دکھائی دیتی ہے ۔
    جب اس چپ پر تجربہ ہوا تو پتا چلا کہ یہ ایک چپ 9.3 مربع ملی میٹر بنائی گئی ہے ۔

    مزید یہ کہ ہر ایک تصویر کو شناخت کرتے ہوئے چپ کو صرف 0.57 نینو سیکنڈ لگے ۔اس سے اس بات کا اندازہ بھی ہوا کہ صرف ایک ہی سیکنڈ کے اندر چپ پونے دوارب تصاویر دیکھ کر پروسیس کرسکتی ہے۔
    اب اس چپ کے دوسرے اہم پہلو کی طرف جاتے ہیں جس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس میں معلومات جزوقتی اسٹور نہیں ہوتی ہیں۔اور چپ میں میموری موجود نا ہونے کی سب سے اہم ترین وجہ بھی یہ ہی ہے۔اور یہ عمل اس طرح سےمحفوظ بھی ہے ۔

  • سکلز یونیورسٹی کا دنیا کےکئی ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل

    سکلز یونیورسٹی کا دنیا کےکئی ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل

    دبئی :سکلز یونیورسٹی کا دنیا کے ساتھ ممالک کے ساتھ معاہدے :پاکستان بھی شامل،اطلاعات کے مطابق یونیسکو کے نیووک انٹرنیشنل اور ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کے تعاون سے ابوظہبی میں ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوئی اس تقریب میں ویسے تو دنیا کے اکثرممالک سے ماہرین پہنچے تھے لیکن خوشقسمت صرف 7 ٹھہرے جن میں پاکستان کا بھی نام شامل ہے

     

    پاکستان کے سینئر صحافی مبشرلقمان جو کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کے حوالے سے بہت زیادہ علم رکھتے ہیں ، انہوں نے عرب امارات میں پاکستان کے ایک تعلیمی ادارے کو ایک بہت بڑا مقام ملنے پر اس ادارے کو بھی مبارک باد دی ہے اور اہل وطن کو بھی کہ اب پاکستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے دیگر ممالک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ ہوگیا ہے اور پاکستان نے بڑے عرصے کے بعد یہ کامیابی حاصل کی ہے جو ایک بہت بڑا اعزاز ہے

    https://twitter.com/mubasherlucman/status/1491757883083665414
     

    یاد رے کہ جس تقریب کا ذکر مبشرلقمان کررہے ہیں اس اہم تقریب میں خوشقسمت ٹھہرنے والے ممالک کی فہرست کچھ اسطرح ہے

    اروشا ٹیکنیکل کالج، تنزانیہ
    مرکز برائے لچکدار تعلیم، سویڈن
    Iloilo سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی، فلپائن
    نیشنل سکلز یونیورسٹی، پاکستان
    نیشنل ہائیر انجینئرنگ سکول آف تیونس، تیونس
    یونیورسٹی آف مینجمنٹ "TISBI”، روس
    وائیکاٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نیوزی لینڈ

     

     

    ٹیکنالوجی کے اعلیٰ کالجوں کو یونیسکو کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

     

    اس سلسلے میں یہ تقریب ابوی ظہبی میں ہوئی ، اس تقریب کو کامیاب کرنے میں یونیسکو ، یونیووک انٹرنیشنل سینٹر اور ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کا تعاون حاصل تھا ، ہائیر کالجز آف ٹیکنالوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد سمیع نے کنسورشیم کے تمام شرکا کا خیر مقدم کیا ، اس کے ساتھ ساتھ یونیسکو ، یونیووک کے سربراہ فریڈرک ہیوبلز نے اس طرح کی معاون کنسورشیا کے ذریعے ٹیکنالوجی تعلیم کو فروغ دینے میں اپنے مرکز کے کردار کو بیان کرتے ہوئے اس کی ضرورت کی اہمیت کو واضح کیا ،

     

     

    یونیسکو ، یونیووک کے تمام آٹھ مراکز کے تعلیمی اداروں کے رہنماوں کی تقریب سے خطاب میں ہائیرکالجز آف ٹیکنالوجی متحدہ عرب امارات کے صدر اور چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر عبدالطیف الشمسی بھی شامل تھے وائس چانلسر سکلز یونیورسٹی اور کنسورشیم کے رُکن پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوویڈ نے ہمیں ڈیجٹیلائزڈ اور انتہائی مربوط دنیا میں دھکیل دیا ہے

     

     

     

    اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ UNEVOC یونیسکو کے رکن ممالک کی اپنے TVET سسٹم کو مضبوط اور اپ گریڈ کرنے کی کوششوں میں مدد کرتا ہے۔

     

    کنسورشیم نے 7 فروری 2022 کو ایک آن لائن دستخطی تقریب کے ساتھ پراجیکٹ کے آغاز کا جشن منایا، جس کی میزبانی HCT نے کی، جس میں UNESCO-UNEVOC کے سربراہ فریڈرک ہیوبلر اور پروفیسر عبداللطیف الشامسی، HCT کے صدر اور سی ای او، ساتوں کے سربراہان کی موجودگی میں۔ شراکت دار ادارے، اور ڈاکٹر احمد سامی، حکمت عملی اور مستقبل کے HCT ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جو اس عالمی اقدام کے انتظام کے ذمہ دار ہیں۔

    پروجیکٹ کنسورشیم کا مقصد مستقبل کے ان ممکنہ منظرناموں کی نشاندہی کرنے کے لیے اپنے اراکین کی ادارہ جاتی مستقبل کی دور اندیشی کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے، جس کے لیے عالمی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) کے شعبے کو مخصوص قابل عمل حکمت عملیوں کے ساتھ تیار کیا جانا چاہیے۔

    اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، فریڈرک ہیوبلر نے نشاندہی کی کہ: "پروجیکٹ ‘مستقبل کی مستقبل کی انسٹیٹیوشنل صلاحیت برائے پوسٹ COVID-19 ورلڈ’ ایک بہت ہی مناسب اور اہم مسئلے کو حل کرتا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں موجودہ وبائی بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال نے تعلیم کے شعبے سمیت معاشرے کے تمام حصوں کو متاثر کیا ہے۔ بحران نے یہ ظاہر کیا ہے کہ TVET اداروں کو ممکنہ خطرات کے ساتھ ساتھ مواقع کی نشاندہی کرنے اور ان کا جواب دینے کے لیے زیادہ چست اور بہتر طور پر تیار ہونا چاہیے۔

     

    پروفیسر عبداللطیف الشامسی، ایچ سی ٹی کے صدر اور سی ای او نے کہا کہ اس عالمی اقدام کے مرکزی مرکز کے طور پر یہ انتخاب HCT کی دیرپا اور مؤثر عالمی موجودگی اور TVET کے میدان میں ایک رہنما کے طور پر اس کی پہچان کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر قابل اطلاق اعلیٰ تعلیم کی منزل بننے کی HCT کی اسٹریٹجک خواہش کے مطابق ہے،

  • موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    سمارٹ فون تو ہر کوئی رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کی گھنٹوں چارجنگ کرنے والی اذیت سے ہر کوئی پریشان ہے ۔ لیکن اب یہ پریشانی بھی حل ہونے کے قریب ہے ۔ چین کی ایک ویوو نامی کمپنی نے سمارٹ فون رکھنے والوں کی الجھن کو آسانی میں بدل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ویوو نامی کمپنی نے جدید تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کی وجہ سے اب سمارٹ فومن رکھنے والے لوگ اپنا فون صرف 13 منٹ میں چارج کر لیں گے ۔
    چینی کمپنی ویوو نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ہے۔ اس کی بدولت پچاس فیصد بیٹری صرف پانچ منٹ میں چارج ہوجاٸے گی ۔
    اس ٹیکنالوجی کی بدولت ویوو کمپنی ، ون پلس، ہواوے اور اوپو کے مقابلے پر آگئی ہے۔ اس چارجنگ ٹیکنالوجی کی بدولت 4000 ایم اے ایچ بیٹری صرف اور صرف 13 منٹ میں چارج ہوجائے گی ۔
    ویوو کمپنی اس سے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیلات اگلے ہفتے ایونٹ میں سامنے آئیں گے جس میں یہ کمپنی اپنا پہلا 5 جی اسمارٹ فون اپیکس 2019 بھی پیش کرے گی ۔

  • الٹراساونڈ ہوگا اب ایک کیپسول سے

    الٹراساونڈ ہوگا اب ایک کیپسول سے

    گلاسگو یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا کیپسول تیار کیا ہے جس میں انہوں نے پورے الٹرا ساٶنڈ کو سمو دیا ہے ۔ کیپسول کی جسامت والا یہ ایک مقناطیسی آلہ ہے جسے مریض کیپسول کی طرح نگل لے گا ۔ جبکہ اس آلہ کو جسم کے باہر سے مقناطیس کے ذریعے کنٹرول کیا جاٸے گا ۔ مقناطیسی آلہ باسانی سے اسے جسم کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے گا ۔ اس کے ذریعے اندرونی جسم ، نظامِ ہاضمہ اور آنتوں وغیرہ کی تصاویر ایک بیرونی آلے پر نظر آتی رہتی ہیں ۔ مختلف جانداروں پر اس کیپسول نما الٹرا ساونڈ کو آزمانے کے بعد اس کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کٸے جا رہے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے علاج میں یہ کیپسول نما الٹرا ساٶنڈ بہت اہم کردار ادا کرے گی ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ذریعے معدے اور آنتوں کے لاکھوں مریضوں کو لقمہ اجل بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔