Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    اسلام آباد میں منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ کے دوران پاکستان کی 12 کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا آغاز کریں گی۔

    اسلام آباد میں الراعی گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سعودی وژن 2030 پاک سعودی تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ سعود ی وژن 2030 نےعالمی سرمایہ کاری اورنجی شعبے کےفروغ کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں،جن سےپاکستانی کاروباری برادری بھرپور استفادہ کرسکتی ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے الراعی گروپ اور مملکت سعودی عرب کو کامیاب سمٹ کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اور حکومت پاکستان معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

    الراعی گروپ کے چیئرمین بلال ایم زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ملکیتی حقوق، آسان بینکاری سہولیات اور کم از کم سرمائے کی شرط کے بغیر کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے پاکستان کی کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی یا پارٹنرشپ فرم، جو کم از کم ایک سال سے فعال ہو، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا اور پاک سعودی تجارتی تعلقات کے فروغ میں الراعی گروپ کے کردار کو سراہاسمٹ میں سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کی نمایاں کامیابی پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 12 ممتاز کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادد ا شتوں (ایم او یوز) پر دستخط تھے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کا آغاز کریں گی شرکا نے اس پیشرفت کو دو نوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

  • حوثیوں کی سعودی عرب کیلئے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی

    حوثیوں کی سعودی عرب کیلئے آبنائے باب المندب بند کرنے کی دھمکی

    صنعاء: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یمنی بندرگاہوں پر بحری ٹریفک سے متعلق عائد پابندیاں اور رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو سعودی بحری جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب بند کر دی جائے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کو ایک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یمنی بندرگاہوں پر بحری نقل و حمل میں حائل تمام رکاو ٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں تاکہ تجارتی اور انسانی امدادی سرگرمیاں بحال ہو سکیں، اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سعود ی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ اس اقدام کو یمن پر عائد بحری پابندیوں کے جوا ب میں ضروری سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

    آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے اس راستے سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل، گیس اور تجارتی سامان دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہےماہرین کے مطابق اگر اس اہم بحری راستے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے یا جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور شپنگ انڈسٹری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کی اس تازہ دھمکی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • سعودی عرب میں آرامکو کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 14 افراد جاں بحق،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    سعودی عرب میں آرامکو کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 14 افراد جاں بحق،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    سعودی عرب کے مشرقی ساحلی شہر راس تنورہ میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام 14 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں –

    سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے سعودی وزارت توانائی کے حوالے سے بتایا کہ سعودی آرامکو کا ہیلی کاپٹر اتوار کی صبح تقریباً 6 بجے راس تنورہ میں گر کر تباہ ہوا، راس تنورہ سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع ایک اہم تیل بردار بندرگاہ ہےحادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 14 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے اور ہلاک ہونے والے تمام افراد سعودی شہری تھے۔

    وزارت توانائی نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی تاہم متعلقہ حکام کی شمولیت سے جامع تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کے اسباب کا تعین کیا جا سکے، بیان میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی بھی کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہیلی کاپٹر حادثے میں 14 سعودی شہریوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہےایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے راس تنورہ میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا کہ اکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور سعودی عرب کے برادر عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں غم کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

    دریں اثنا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، گفتگو کے دوران اسحاق ڈار ہیلی کاپٹر حادثے پر سیاسی اور عسکر ی قیادت کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیاسعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسحاق ڈار کی جانب سے اظہار کیے گئے برادرانہ جذبات کو سراہا اور دو نو ں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورت حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی رابطوں اور مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا،سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔

    واضح رہے کہ سعودی آرامکو نے گزشتہ جمعہ کو خلیج میں واقع راس تنورہ آئل ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی تھی۔ یہ سرگرمیاں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث تقریباً چار ماہ تک معطل رہنے کے بعد بحال کی گئی تھیں، دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کے دیگر توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر تیل اور گیس کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا ہےیہ اقدامات جنگ بندی کے عبوری معاہدے سے قبل خطے سے توانائی کی ترسیل تیز کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔

  • پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے سائنس دانوں نے پودوں کے اندر موجود ایک ایسے حفاظتی طریقہ کار کا پتا لگایا ہے جو انہیں شدید گرمی کے دوران سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس دریافت سے سائنس دانوں کو ایسے نئے زرعی فصلوں کے بیج تیار کرنے میں مدد ملے گی جو شدید گرم اور خشک موسم میں برداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں-

    یہ تحقیق KAUST کی اسسٹنٹ پروفیسر مونیکا خوداشیوچز کی قیادت میں کی گئی، جس کے نتائج سائنسی جریدے ’Plant Physiology‘ میں شائع ہوئے ہیں تحقیق کے مطابق جب پودے سخت گرمی کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے خلیوں میں موجود ایک خاص پروٹین عارضی ڈھانچے بنا لیتا ہے، جو پودے کے اہم حصے کلوروپلاسٹ کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کلوروپلاسٹ وہ حصہ ہے جہاں فوٹوسنتھیسز کا عمل ہوتا ہے، یعنی پودا سورج کی روشنی کو اپنی نشوونما کے لیے توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دریافت کیا گیا پروٹین، جسے ’پروٹوکلوروفیلائیڈ آکسیڈوریڈکٹیز‘ کہا جاتا ہے، گرمی کے دباؤ کے وقت اپنا مقام اور طریقہ کار تبدیل کر لیتا ہے اس طرح پودا نئے پروٹین بنانے کے انتظار کے بجائے پہلے سے موجود نظام کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر خود کو محفوظ بناتا ہے جن پودوں میں یہ پروٹین موجود نہیں تھا وہ زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار رہے، جبکہ اس پروٹین والے پودے گرمی کے بعد زیادہ تیزی سے بحال ہوگئے۔

    جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو کلوروفل پیدا کرنے والا پروٹین (protochlorophyllide oxidoreductase) چھوٹے، قابلِ ریورس (reversible) قطروں کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہ گرینولز شدید گرمی کے دباؤ سے پودے کو بچاتے ہیں اور اس کی سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بحال رکھتے ہیں-

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت خاص طور پر سعودی عرب جیسے خشک اور گرم علاقوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے، جہاں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور زمین کی خرا ب ہوتی کیفیت فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے ماہرین اب یہ جانچ رہے ہیں کہ کیا یہی حفاظتی نظام دیگر فصلوں میں بھی موجود ہے اور کیا اسے بہتر بنا کر ایسی فصلیں تیار کی جاسکتی ہیں جو سخت موسمی حالات میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں،یہ تحقیق اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہےیہ پیش رفت مستقبل میں غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد دے سکتی ہے۔

  • سعودی عرب نے ایک ہفتے میں ہزاروں غیر قانونی باشندوں کو ملک بدر کردیا

    سعودی عرب نے ایک ہفتے میں ہزاروں غیر قانونی باشندوں کو ملک بدر کردیا

    سعودی میڈیا کے مطابق سعودی سکیورٹی حکام نے ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 10ہزار 725 غیر قانونی مقیم افراد کو گرفتار جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 7 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر کردیا-

    سعودی وزارت داخلہ نے بتایاکہ یہ گرفتاریاں 4 جون سے 10 جون کے درمیانی عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون سے کیے گئے مشترکہ معائنے کے دوران کی گئیں ، گرفتار افراد میں ریزیڈنسی قانون کی خلف ورزی کرنے والے 5 ہزار 899 افراد بھی شامل ہیں اس کے علاوہ بارڈر سکیورٹی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 3 ہزار 84 افراد جبکہ لیبر لاء کی خلاف ورزی کرنے والے ایک ہزار 742 افراد شامل ہیں مجموعی طور پر 7 ہزار 989 غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ 14ہزار 268 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے سفارتی مشنز میں بھیجا گیا۔

    سعودی میڈیا کے مطابق سرحد پار کرکے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کی کل تعداد ایک ہزار418 تھی جن میں سے 43 فیصد یمنی، 55 فیصد ایتھوپیا کے شہری اور 2 فیصد دیگر قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے،اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر مملکت چھوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کل 34 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب  سے رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان الیکٹرانک دستخطی تقریب کل ہوگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے کا خیرمقدم کیا،اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ کل متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی یہ اہم پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں پاکستان کی مسلسل اور مثبت کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کردار کی زبردست تعریف کی،گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے اختتام پر مصر میں منعقد ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ (آر-4) اجلاس سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا پاکستان اور سعودی عرب نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ مفاہمت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔

    واضح رہے کہ قبل وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کی۔

  • 34 ہزار سےزائد پاکستانی حجاج وطن واپس پہنچ گئے

    34 ہزار سےزائد پاکستانی حجاج وطن واپس پہنچ گئے

    سعودی عرب میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد اب تک کم از کم 34 ہزار سے زائد حاجی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

    وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق جہاں ہزاروں حاجی اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں، وہاں اب بھی 84 ہزار 791 پاکستانی حجاج کرام سعودی عرب میں موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار پروازوں کے ذریعے واپس لایا جا رہا ہے پاکستان نے سالانہ اسلامی زیارت کے اختتام پر گزشتہ ماہ ہی اپنے بعد از حج فلائٹ آپریشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا تھا، جس کے تحت ہزاروں زائرین کو سعودی شہروں جدہ اور مدینہ منورہ سے پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچایا جا رہا ہےحجاج کرام کی خدمت پر مامور تقریباً 250 حج اسپورٹ اسٹاف (خدام الحجاج) بھی اپنی ذمہ داریاں مکمل کر کے پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں۔

    وزارت نے کہا کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کے رش اور کسی بھی قسم کی بدمزگی سے بچنے کے لیے حجاج کرام کی رہائش گاہوں پر ہی سامان کی بورڈنگ کے لیے ‘سٹی چیک ان’ کی جدید سہولت فراہم کی گئی ہے، جہاں پرواز کی روانگی سے 24 سے 48 گھنٹے قبل ہی حاجیوں کے سامان کی چیک ان کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔

    بیان کے مطابق بعد از حج آپریشن کے تحت اب تک 15 ہزار سے زائد خوش نصیب حاجی مدینہ منورہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس حصے ‘ریاض الجنہ’ کی زیارت کا شرف بھی حاصل کرچکے ہیں، جبکہ وزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ حاجیوں کی وطن واپسی کا یہ پورا فلائٹ آپریشن 30 جون تک بلاوجہ تاخیر کے جاری رہے گا۔

  • ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    ریاض ایئر کو بوئنگ طیاروں کی پہلی کھیپ موصول

    سعودی عرب کی نئی قومی ایئرلائن ‘ریاض ایئر’ نے اپنے بیڑے میں پہلے 2 کسٹم بلٹ بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے شامل کر کے اپنی تجارتی پروازوں کے آغاز کی جانب ایک بہت بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسیکی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں جدید ترین طیارے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں روایتی طور پر انہیں پانی کی توپوں سے سلامی دی گئی یہ طیارے ریاض ایئر کی جانب سے دیے گئے مجموعی 72 طیاروں کے آرڈر کی پہلی کھیپ ہیں، جو سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے اور یہ مملکت کے ‘ویژن 2030’ کے تحت معیشت کو متنوع بنانے اور سیاحت و ہوا بازی کے شعبے کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ریاض ایئر کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس نے اس موقع پر کہا کہ وہ صرف ایک ایئرلائن ہی نہیں بنا رہے، بلکہ مملکت کے دل سے دنیا کے لیے ایک نیا راستہ کھول رہے ہیں ایئرلائن کا ہدف ہے کہ وہ 2030 تک اپنے بیڑے کو 180 سے زائد طیاروں تک وسیع کرے اور ریاض کو دنیا بھر کے 100 سے زیادہ مقامات سے جوڑ دے۔

    توقع ہے کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع سعودی عرب کی جغرافیائی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاض ایئر رواں سال کے آخر تک تقریباً 20 مقامات کے لیے اپنی سروسز کا آغاز کر دے گی کچھ ہی ہفتے قبل کمپنی نے اپنے نئے ڈریم لائنرز کے ذریعے ‘ریاض تا لندن’ روٹ کے لیے ٹکٹوں کی عمومی فروخت شروع کی ہے، جس کی باقاعدہ پروازیں یکم جولائی سے شروع ہوں گی۔

    لندن ہیتھرو کی یہ سروس ریاض ایئر کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگیان نئے طیاروں کے اندرونی حصے کو 4 مختلف کیبن کیٹیگریز (بزنس الیٹ، بزنس، پریمیم اکانومی اور اکانومی) میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سسٹم، بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی اور تیز رابطہ کاری فراہم کی گئی ہے تاکہ ایئرلائن کے ٹیکنالوجی پر مبنی بزنس ماڈل کو سپورٹ کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ ریاض ایئر کو پی آئی ایف نے 2023 میں لانچ کیا تھا اور اسے اپریل 2025 میں جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن سے آپریٹر سرٹیفکیٹ ملا تھا سعودی حکام کے مطابق ریاض ایئر مستقبل میں مملکت کی غیر تیل ملکی معیشت میں تقریباً 20 ارب ڈالرز کا حصہ ڈالے گی اور 2 لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گی اس وقت ایئرلائن کے چیئرمین پی آئی ایف کے گورنر یاسر الرمیان ہیں، جبکہ اس کی قیادت اتحاد ایئرویز کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس کر رہے ہیں۔

  • سعودی عرب میں ایک صدی بعد پہلی مرتبہ جنگلی گدھے کی پیدائش

    سعودی عرب میں ایک صدی بعد پہلی مرتبہ جنگلی گدھے کی پیدائش

    سعودی عرب میں ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    سعودی ریزرو میں تقریباً 100 سال بعد انتہائی نایاب جانور اونیجر، گورخر یا ایشیائی جنگلی گدھے کی پہلی پیدائش ہوئی ہے۔ نایاب جانور کی پیدائش ایک صدی سے زائد عرصے سے جزیرہ نمائے عرب کے صحراؤں سے غائب ہو نے والی نسل کی واپسی ہے

    سعودی خبر رساں ادارے سعودی گزٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو میں 100 سال سے زائد عرصے بعد مملکت کی سرزمین پر ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے پہلے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے، نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی پیدائش کا اعلان ایک سال بعد کیا گیا، کیونکہ جنگلی گدھوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے۔

    ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر بچے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 12 ماہ کامیا
    بی سے مکمل کر لیے ہیں جنگلی گدھوں کے بچوں کے لیے پہلا سال سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے اور ان کی بقا کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔

    یہ کامیابی جزیرہ نما عرب کی جنگلی حیات کی بحالی کے پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد 23 مقامی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مساکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے اس منصوبے کے تحت ایسے جانوروں کی واپسی ممکن بنائی جا رہی ہے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عرب کے صحراؤں سے غائب تھے۔

    ریزرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت اپریل 2024 میں اردن کے رائل سوسائٹی فار دی کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں ممکن ہوئی اس پروگرام کے تحت پانچ مادہ اور دو نر ایشیائی جنگلی گدھوں کو اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلو میٹر کا سفر طے کرا کے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

    منتقلی کے بعد ایک مادہ بچے کی پیدائش ہوئی، تاہم بعد میں دو پیدائشیں کامیاب نہ ہو سکیں، جس سے اس نایاب نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے عمل میں درپیش چیلنجز کا اندازہ ہوتا ہے ماہرین کے مطابق تقریباً 11 ماہ کے حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیدائش کے 15 سے 20 منٹ کے اندر کھڑا ہو سکے اور دودھ پینا شروع کر دے اس وقت ریزرو میں پانچ ماداؤں اور تین نر جانوروں پر مشتمل ایک ریوڑ موجود ہے، جو سعودی عرب میں اس نسل کا واحد گروپ ہے جبکہ رواں موسم سرما میں مزید دو بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو تحفظ کی جاری کوششوں کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہوگی۔

    بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ قدرت کے مطابق دنیا بھر میں جنگلوں میں اس نسل کے 600 سے بھی کم جانور باقی رہ گئے ہیں، ریزرو اس وقت جنگلی گد ھوں کے جینیاتی تنوع میں اضافے پر بھی کام کر رہا ہے اسی مقصد کے لیے اردن سے ایک نئی مادہ کو لایا جا رہا ہے جو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد ریوڑ کا حصہ بنے گی منصوبے کے تحت افزائش نسل کے لیے دو الگ الگ ریوڑ قائم کیے جائیں گے تاکہ نسل کی طویل مدتی بقا، جینیاتی تنوع اور ماحو لیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو کا یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو بچانے کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • رواں سال کتنے  مسلمانوں نےفریضۂ حج اداکیا؟سعودی محکمہ شماریات کی رپورٹ جاری

    رواں سال کتنے مسلمانوں نےفریضۂ حج اداکیا؟سعودی محکمہ شماریات کی رپورٹ جاری

    سعودی محکمہ شماریات نے مناسک حج کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں سال مجموعی طور پر ریکارڈ 17 لاکھ 7 ہزار 301 افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔

    محکمہ شماریات کے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اس سال 165 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 15 لاکھ 46 ہزار 655 غیر ملکی حجاج کرام نے حج ادا کیا جن میں سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں،جبکہ سعودی عرب کے مقامی افراد کی بھی بڑی تعداد نے فریضہ حج ادا کیا رپورٹ کے مطابق اس سال 1 لاکھ 60 ہزار 646 سعودی شہریوں نے مناسک حج ادا کیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی تعداد میں سے 8 لاکھ 93 ہزار 396 مرد حجاج تھے جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 8 لاکھ 13 ہزار 905 تھی، 14 لاکھ 85 ہزار 729 غیر ملکیوں نے حج کے لیے فضائی راستہ اخیتار کیا جبکہ 54 ہزار 429 افراد زمینی راستے سے مبارک سفر کیا، علاوہ ازیں 6 ہزار 497 غیر ملکی حجاج سمندری را ستے سے مملکت پہنچے۔

    واضح رہے کہ سعودی محکمہ شماریات کے گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مطابق 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔