Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    پاکستانی افواج کے دستے کی تعیناتی مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے،سعودی وزارت دفاع

    سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا خصوصی دستہ مشرقی صوبے ظہران میں واقع شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، مشرقی صوبے ظہران پہنچنے والے پاکستان ایئرفورس کے دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی اور استحکام کی حمایت اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    دونوں مسلح افواج کے درمیان فوجی ہم آہنگی اور تعاون تاریخ سے جڑا ہوا ہے جسے حال ہی میں SMDA کی شکلدی گئی۔ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے مملکت میں تعینات ہیں اور مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم فولادی اور ناقابل مذاکرات ہے اس فوجی تعیناتی اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی بات چیت کے درمیان کوئی تعلق پیدا کرنا غیر دانشمندانہ، غیر ضروری اور میرٹ کے بغیر ہے تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی طاقت اور فوجی موقف کے ذریعے قریبی پڑوس اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود اسلام آباد میں موجود ہیں ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے مجوزہ نکات میں مشرقِ وسطیٰ خصوصاً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوج کا انخلا بھی شامل ہے، ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا تھا اور ان حملوں میں امریکی فوج کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کی ایک مضبوط اور طویل تاریخ ہے۔ دونوں برادر ملکوں نے ستمبر 2025 میں باقاعدہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت نے اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عسکری اور دفاعی محاذ کے علاوہ گہرے اقتصادی روابط بھی قائم ہیں پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی تعاون، تربیتی اور مشاورتی خدمات فراہم کرتا آ رہا ہے جب کہ دوسری جانب سعودی عرب نے مشکل معاشی حالات میں بارہا پاکستان کو مدد فراہم کی ہے۔

  • سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیفون کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی امور پر گفتگو کی گئی۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط کو فروغ دے کر مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستانی سفیر کی مدینہ کے گورنر سے ملاقات

    پاکستانی سفیر کی مدینہ کے گورنر سے ملاقات

    پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے مدینہ کے گورنر سے ملاقات کی، اس دوران دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔

    سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے مدینہ ریجن کے گورنر، شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • برطانوی وزیراعظم کی  محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    برطانوی وزیراعظم کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    ریاض : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا دورہ سعودی عرب، ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر خطے کی مجموعی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیشرفت، ‘شمس’ سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا-

    سعودی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی رابطہ بھی قائم کر لیا گیا ہے، یہ سیٹلائٹ آرٹیمس ٹو مشن کے تحت سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا جس کے بعد سعودی عرب ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے، اس پروگرام کا مقصد خلائی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔

    آرٹیمس II اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں چار خلا بازوں کو اورین سپیس کرافٹ کے ذریعے چاند کے گرد مدار میں بھیجا جا رہا ہے یہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جائے گا، اور مستقبل میں مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔

    سعودی سیٹلائٹ "شمس” اس مشن کے سائنسی آلات میں شامل ہے، جو ایک بیضوی مدار (HEO) میں کام کرے گا یہ مدار زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے لے کر 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوگا، جس کے ذریعے شمسی سرگرمیوں اور خلائی شعاعوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہوگی۔

    دنیا کو غیر ذمہ دار قیادت کے حوالے کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ فوری نوٹس لے،حافظ نعیم

    "شمس”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے یہ آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب مشن ہے اور سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ خلائی موسمیاتی (Space Weather) مشن بھی ہے اس سیٹلائٹ کو مقامی ماہرین نے تیار کیا، جسے وژن 2030 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کی معاونت حاصل رہی۔

    یہ مشن چار اہم سائنسی شعبوں میں تحقیق کرے گا، جن میں خلائی شعاعیں، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور شمسی توانائی کے حامل ذرات شامل ہیں اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مواصلات، فضائی سفر اور نیویگیشن جیسے اہم شعبوں میں بہتری لانے میں مدد دے گا، جبکہ حساس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور تیاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔

    سعودی خلائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ محمد التمیمی کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کی عکاس ہے، جسے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی قیادت حاصل ہے، یہ کامیابی اس عزم کی عکاس ہے کہ مملکت جدت، مہارت کی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے مستقبل کی خلائی تحقیق میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟

    این آئی ڈی ایل پی کے سربراہ جمیل الغامدی کا کہنا ہے کہ ‘شمس’ کی مقامی سطح پر تیاری اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے اور قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ 3 مارچ کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والا ڈرون حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔

    الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں، یہ کارروائی اسرائیل نے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت انجام دی۔

    آئی آر جی سی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی افواج سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور خطے میں اسرا ئیلی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کارروائی یقینی طور پر صہیونی عناصر نے کی، مسلم ممالک کو صہیونی حکومت کی خطے میں فتنہ انگیزی سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پڑوسی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی-صہیونی اتحاد کی تخریبی کوششوں کے خلاف چوکنا رہیں، جس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ سعودی حکام کے بیان سے کہیں زیادہ تباہ کن تھا سعودی وزارتِ دفاع نے واقعے کو محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان قرار دیا تھا، تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حقیقت میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سیکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔

  • سعودی عرب اور کویت کے  وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی وزیر خارجہ نے کویت کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی-

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، دونوں ممالک کے رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بھی غورکیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پربات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران اقتصادی، تجارتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی زور دیا گیا سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اوراعتماد کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہےملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

  • سعودی شہزادی   انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی الجوہرا بنت فیصل بن عبداللہ العبدالرحمان آل سعود انتقال کر گئیں-

    سعودی شاہی دیوان کی جانب سے جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی گئی ہے،بیان کے مطابق مرحومہ شہزادہ محمد بن سعود بن فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی والدہ تھیں اور شاہی خاندان میں ان کا ایک نمایاں مقام تھا، شہزادی الجوہرا کی نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات عصر کی نماز کے بعد ریاض کی معروف امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی، جس میں شاہی خاندان کے افراد اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

    ان کے انتقال پر سعودی عرب میں غم کی فضا پائی جا رہی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے،مرحومہ کی خدمات اور خاندانی حیثیت کے باعث ان کا انتقال سعودی معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے-

  • سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے  بڑا اعلان

    سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے بڑا اعلان

    سعودی حکومت نے موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ویزہ ہولڈرز کے لیے خصوصی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اُن افراد کے معاملات نمٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن کے ویزے (بشمول وزٹ ویزے، عمرہ، ٹرانزٹ اور فائنل ایگزٹ) 25 فروری 2026 کے بعد ختم ہو چکے ہیں اور جو حالات کے باعث ملک سے روانہ نہ ہو سکے وزارت نے واضح کیا کہ ایسے افراد کے ویزوں میں توسیع میزبان کی درخواست پر 18 اپریل 2026 تک کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ فیس ادا کی جائے، اور یہ سہولت ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    سعودی حکومت نے ان افراد کو یہ رعایت بھی دی ہے کہ وہ بغیر ویزہ توسیع اور کسی بھی قسم کے جرمانے کے، براہِ راست بین الاقوامی سرحدی راستوں سے ملک چھوڑ سکتے ہیں،سعودی وزارتِ داخلہ نے مستفید ہونے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ 18 اپریل 2026 سے قبل ملک سے روانگی یقینی بنائیں، بصورت دیگر مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔