Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • مناسک حج کا آغاز،لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں موجود

    مناسک حج کا آغاز،لاکھوں عازمینِ حج میدانِ عرفات میں موجود

    اسلام کے پانچویں بنیادی رکن، حج کا آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج اس وقت حج کے رکنِ اعظم یعنی وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں موجود ہیں۔

    امسال مسجد نمرہ میں مسجد نبویﷺ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے، جسے سننے کے لیے عازمین کا ایک بڑا سمندر میدانِ عرفات میں یکجا ہو چکا ہے خطبہ حج کے بعد عازمینِ حج یہاں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے نمازوں کی ادائیگی کے بعد تمام عازمینِ حج غروبِ آفتاب تک مسلسل تلاوتِ قرآن، استغفار اور دعاؤں میں مصروف رہیں گے۔

    میدانِ عرفات میں وقوفِ عرفہ کے بعد، حجاج کرام غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گےعازمینِ حج مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کریں گے اور سنتِ نبویﷺ کے مطابق رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے اسی قیام کے دوران حجاج کرام اگلے دن کے مناسک یعنی ”رمی“ کے لیے کنکریاں بھی جمع کریں گے۔

    اگلے روز یعنی 10 ذوالحجہ کو عازمینِ حج جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا فریضہ انجام دیں گے پہلے دن بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی رمی جمرات کے فوری بعد عازمینِ حج قربانی کریں گے اور پھر بال منڈوائیں گے اور اپنا احرام کھول دیں گےاس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیار ت اور صفا و مروہ کی سعی کریں گے اور مناسکِ حج کی تکمیل کے بعد واپس منیٰ کی خیمہ بستی کا رخ کریں گے۔

    11 ، 12 اور 13 ذوالحج کے ایام میں منیٰ میں قیام واجب ہے۔ ان ایام میں روزانہ زوال کے بعد تینوں شیطانوں کو 7، 7 کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ 12 ذوالحجہ کو رمی کے بعد مکہ واپسی کی اجازت ہوتی ہے، ورنہ 13 کو رمی کر کے واپسی ہوتی ہےحج کے تمام ارکان مکمل کرنے کے بعد آخری بار کعبہ کا طوافِ وداع کیا جاتا ہے یہ طواف صرف ان لوگوں پر واجب ہے جو حدودِ حرم سے باہر کے رہنے والے ہوں یوں لاکھوں عازمینِ حج کے خشوع و خضوع، ایثار، قربانی اور گریہ و زاری کے ساتھ یہ عظیم الشان اور مقدس فریضہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے-

  • عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    عازمین حج کی حفاظت کیلئے میزائل سسٹم اور مختلف فضائی دفاعی نظام نصب

    سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور ریڈار نظام نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں زائرین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکےایامِ حج کے دوران زمینی نگرانی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی بھی مسلسل جاری رہے گی۔

    وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو فعال بنایا گیا ہے,مکہ میں نصب کیے گئے فضائی دفاعی نظام میں اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار بھی شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور ردعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حکام کے مطابق رواں برس فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آنے والے غیرملکی عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے حج سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے تقریباً 30 فیصد عازمین ’’روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعے سعودی عرب پہنچے, اس سال عازمینِ حج کی رہائش، آمدورفت، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ حج کے تمام مراحل کو محفوظ، منظم اور پُرسکون بنایا جا سکے۔

  • مناسک حج کے دوران سخت گرمی کا امکان ہے،سعودی محکمہ  موسمیات

    مناسک حج کے دوران سخت گرمی کا امکان ہے،سعودی محکمہ موسمیات

    سعودی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہےکہ مناسک حج کے دوران مکہ مکرمہ میں سخت گرمی کا امکان ہے اور 25 مئی تک درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہےجبکہ مدینہ منورہ میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنےکا امکان ہے۔

    سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق مناسک حج کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد رہے گا اور کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوا چلنےکا امکان ہے، جازان، عسیر الباحہ اور مکہ کے پہاڑی علاقوں میں طوفان اور بارش کا بھی امکان ہے حکام نے اپیل کی ہے کہ عازمین حج ہدایات پر عمل کریں اور زیادہ مقدار میں پانی کا استعمال کرکے سخت گرمی میں پانی کی کمی سے بچنےکی کوشش کریں اور رہنما حفاظتی اصولوں پر ہر حال میں عمل کریں۔

    سعودی حکام کے مطابق جمعہ کی دوپہر تک بیرون ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی، جن میں سے 14 لاکھ 57 ہزار سے زیادہ فضائی راستے سے پہنچےگزشتہ روز ذی الحج کے پہلے جمعے کو لاکھوں زائرین نے مسجد الحرام میں نماز جمعہ ادا کی، مناسک حج کا اہم ترین رکن وقوف عرفہ 26مئی کو ادا کیا جائے گا۔

  • ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    ایران مذاکرات کی کوششوں کا فوری جواب دے، تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے،سعودی عرب

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکی صدر کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سفارت کاری کو موقع دینے کے اقدام کو سراہتا ہے تاکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول معاہدہ طے کیا جاسکے، سعودی عرب اس حوالے سے پاکستان کی جاری ثالثی کوششوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

    سعودی وزیر خارجہ کے مطابق ریاض کو امید ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا اور جامع معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا فوری جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔

    سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع فوجی حملہ مؤخر کردیا گیا ہے کیونکہ اب سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔

  • حج 2026: مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے

    حج 2026: مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی خطبہ حج دیں گے

    ریاض:مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں مذہبی امور کی صدارت نے اعلان کیا ہے کہ مسجد نبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی 26 مئی کو مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیں گے۔

    شیخ علی بن عبدالرحمن بن علی الحذیفی کو سعودی عرب اور دنیا میں قرآن کریم کے سب سے ممتاز قراء میں سے ایک سمجھا جاتا ہے مکہ مکرمہ ریجن کے قریہ القرن میں یکم رجب ہجری 1366 میں پیدا ہوئے، وہ ایک راسخ العقیدہ مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد سعودی افواج کے امام و خطیب تھے، شیخ علی الحذیفی نے ابتدائی قرآنی تعلیم اپنے قصبے میں حاصل کی، شیخ محمد بن ابراہیم الحذیفی کے حلقہ قرآن سے حفظ کیا۔

    بعد ازاں بلجرشی کمشنری کے سکول اور بلجرشی کالج سے تعلیم حاصل کی ریاض کی جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ کے شعبہ شریعہ سے 1392 ہجری میں فارغ ہوئے، انہیں بلجرشتی کمشنری کے کالج میں استاد کے طور پر تعینات کیا گیا، جہاں وہ تفسیر و توحید، النحو و الصرف اور خطاطی کی تعلیم سے وابستہ ہوگئے اس کے ساتھ بلجرشی کمشنری کی جامع مسجد میں امام و خطیب کے طور پر بھی فرائض ادا کیے۔

    شیخ الحذیفی نے 1395 ہجری میں مصر کی معروف جامعہ الازھر سے ماسٹرز اور اس کے بعد فقہ فیکلٹی اورعلوم اسلامیہ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کیا انہیں ہجری 1397 میں اسلامی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا فیکلٹی آف شریعہ میں توحید، فقہ کی تدریس کے فرائض کے ساتھ فیکلٹی آف حدیث اور اصول الدین کے شعبے میں بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔

    قرآن کریم کالج میں بھی قرات کی اقسام کی تعلیم دی ان کی آواز میں قرات کی ریکارڈنگ مملکت اور بیرونی ممالک کے ریڈیو سٹیشنز میں موجود ہیں انہوں نے معروف قراء سے قرات کی سند حاصل کی، جن میں نمایاں ترین شیخ احمد عبدالعزیز الزیات شامل ہیں۔ شیخ الحذیفی مسجد قبا کے امام و خطیب، ہجری 1399 سے 1401 تک مسجد نبوی کے امام و خطیب رہے۔

    1401 میں مسجد الحرام میں امام و خطیب مقرر کیے گئے بعد ازاں 1402 سے تاحال مسجد نبوی کے امام و خطیب ہیں۔ کنگ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس میں قرآن پاک کی طباعت کے لے مصحف ریکارڈنگ نگران کمیٹی کے رکن، قرآن پاک کی طباعت کی سپریم کونسل کے رکن بھی ہیں۔

  • اسحاق ڈار سے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کی  ملاقات

    اسحاق ڈار سے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کی ملاقات

    سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔

    اسلام آباد میں علاقائی سفیروں کی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کے دوران سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مثبت پیشرفت کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہےانہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

    انہوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی برادری سے مسلسل رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہے۔

  • 1800 سے زیادہ علما عازمین حج کی رہنمائی پر مامور ڈیجیٹل اور فیلڈ سسٹم بھی فعال

    1800 سے زیادہ علما عازمین حج کی رہنمائی پر مامور ڈیجیٹل اور فیلڈ سسٹم بھی فعال

    سعودی عرب کی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و رہنمائی نے اعلان کیا ہے کہ حج 1447 ہجری کے موقع پر عازمینِ حج کو مذہبی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے الیکٹرانک، ٹیلیفون اور فیلڈ چینلز کے ذریعے 24 گھنٹے خدمات جاری ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق یہ نظام 20 ذوالقعدہ سے 20 ذوالحجہ تک فعال رہے گا، جس کے تحت وزارت کا ٹول فری خود کار ہاٹ لائن نمبر (8002451000) 200 علما اور 120 مترجمین پر مشتمل ٹیم کے ذریعے 14 زبانوں میں رہنمائی فراہم کررہا ہےایک انٹرایکٹو ویڈیو کال سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے، جو آئی پیڈز کے ذریعے 40 سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے یہ سہولت مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور فضائی، زمینی اور بحری تمام داخلی راستوں پر فراہم کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے عازمین براہ راست علما سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

    ڈیجیٹل سہولیات کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر 1822 علما کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، جن میں مساجد، داخلی راستے اور اہم حج روٹس شامل ہیں۔یہ علما روزانہ لیکچرز، مسلسل رہنمائی اور انٹرایکٹو دروس کے ذریعے عازمین کو قرآن و سنت کی روشنی میں مناسکِ حج کی ادائیگی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجود ہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ آج سےنافذ العمل ہوگیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کےشہری 90 دن تک ایک دوسرےکے ملک کا سفر کر سکتے ہیں، ویزا استثنا سے سرکاری، سفارتی، عام پاسپورٹ کے حامل افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دونوں ممالک کے شہری بغیر ویزے کے سیاحت،کاروبار کےلیے جاسکتے ہیں وزٹ ویزے پر دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرےکے ملکوں میں داخل ہوسکتے ہیں، ویزا استثنا معاہدہ یکم دسمبر 2025 میں سعودی دارالحکومت ریاض میں طے پایاتھا معاہدے پر روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دستخط کیے تھے۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے –

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، خطے میں جاری کشیدگی اور ثالثی کوششوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے صرف 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی تازہ گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا گفتگو کے دوران پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی کوششوں اور ان کی تازہ ترین پیشرفت پر بھی مشاورت کی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی اور شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان اس سے قبل بھی رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے اس سے قبل 10 مئی کو بھی ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، قطر اور نیدرلینڈز کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے تھے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔