Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے،ایرانی صدر

    ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہیے،کل پیر کو مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھاایران اپنے بین الاقوامی حقوق چاہتا ہے، جنگ نہیں چاہتے ، اب بھی امن کو ترجیح دیتے ہیں، امریکا، اسرائیل اور یورپی مما لک چاہتے ہیں علاقے میں کوئی ملک آزاد نہ رہے۔

    ایرانی صدر کا سعودی عرب اور حوثیوں کے حوالے سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجووں نے سعودی عرب پر حملے شروع کر دیئے ہیں،سعودی پریس ایجنسی نے سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک مسجد اور متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    دو دن پہلے سعودی عرب کے شہروں ریاض اور مدینہ میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کئے گئے تھے جس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا،علاوہ ازیں چند روز قبل بھی حوثی گروپ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا، سعودی عرب اور دیگر مغربی و عرب اتحادی ممالک طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں (تحریک انصار اللہ) کو عسکری سازوسامان، ٹیکنالوجی اور مالی امداد فراہم کرتا ہے۔

  • سعودی شہر  پر یمنی حوثیوں کا حملہ، 2 افراد زخمی،مسجد سمیت املاک کو نقصان

    سعودی شہر پر یمنی حوثیوں کا حملہ، 2 افراد زخمی،مسجد سمیت املاک کو نقصان

    سعودی عرب کے شہر جازان میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملے میں 2 افراد زخمی ہو گئے۔

    سعودی پریس ایجنسی نے سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہفتے کے روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل سعودی عر ب کے جنوبی علاقے جازان میں آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک مسجد اور متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا،حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے جاز ان کے علاقے الطوال میں کارروائیاں کیں، سول ڈیفنس کے ترجمان نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلا ف ور زی ہے۔

    سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، چند روز قبل بھی حوثی گروپ نے ابہا، خمیس مشیط، جاز ان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    دوسری جانب ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق انصار اللّٰہ نے یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں کا سعودی عرب کو جواب دیا جائے گا۔

    دو دن قبل سعودی عرب کے شہروں ریاض اور مدینہ میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کئے گئے تھے جس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا،سعودی اور عراقی حکام کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا تھا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے عراق کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا،عراقی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا کہ برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔

  • سعودی عرب کے 3 شہروں پر پر حوثیوں کا  بیلسٹک میزائل اور ڈرون سےپھر بڑا حملہ

    سعودی عرب کے 3 شہروں پر پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون سےپھر بڑا حملہ

    یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے،ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔

    تازہ کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • سعودی کابینہ کی فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت

    سعودی کابینہ کی فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت

    سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں علاقائی صورتحال، فلسطین سمیت اہم عالمی امور اور سعودی عرب کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کے آغاز پر شہزادہ محمد بن سلمان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا، کابینہ نے سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی، اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازو ں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی، اجلاس میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا، سعو د ی کابینہ نے اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عرب ممالک کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت کی۔

    کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا، اجلاس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کے کئی دیگر معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی،کابینہ نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں LEAP 2026 کے نتائج کو بھی سراہا، جس کے دوران تقریباً 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، معاہدوں اور اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

    اجلاس میں سعودی عرب اور اسپین کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے سمیت سوئٹزر لینڈ کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔

  • مصر کی سعودی شہروں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

    مصر کی سعودی شہروں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

    مصر نے سعودی عرب کے شہروں پر حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    مصری وزارتِ خارجہ نے اسے “خطرناک کشیدگی”، سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی اور سعودی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا سعودی حکام کے مطابق 73 شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    قاہرہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑا ہے،مصر نے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بھی واضح طور پر مسترد کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصری اور عرب قومی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کے خبر رساں ادارے صبا نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے،اس کے علاوہ شمالی شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 7 افراد ہلاک اور خاتون سمیت کم از کم 7 زخمی ہوئے۔

    الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے کہا کہ حملہ الجوف صوبے میں قائم سینٹرل کریکٹیو فیسلٹی پر کیا گیاحوثی ٹی وی چینل المسیرہ نے مبینہ حملے کے بعد کی فوٹیج بھی نشر کی، جس میں ایک عمارت منہدم اور لوگوں کو ملبے میں تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سعودی عرب نے جیل پر فضائی حملے کے حوثی الزام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  • سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حوثی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی

    سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حوثی حملے، خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں جن میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوگئے۔

    یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔

    ترجمان نے ایکس پر جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس پر اتحاد کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کی جائے گی،یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر یمن کے مختلف علاقوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

    حوثیوں کے خبر رساں ادارے صبا نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز میں مختلف مقامات کو فضائی حملوں اور کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے،اس کے علاوہ شمالی شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 7 افراد ہلاک اور خاتون سمیت کم از کم 7 زخمی ہوئے۔

    الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے کہا کہ حملہ الجوف صوبے میں قائم سینٹرل کریکٹیو فیسلٹی پر کیا گیاحوثی ٹی وی چینل المسیرہ نے مبینہ حملے کے بعد کی فوٹیج بھی نشر کی، جس میں ایک عمارت منہدم اور لوگوں کو ملبے میں تلاش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سعودی عرب نے جیل پر فضائی حملے کے حوثی الزام پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    حوثی حملوں پر میجر جنرل المالکی نے مزید کہا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان اس ’دہشت گرد ملیشیا‘ کو روکنے اور اس کے جارحانہ عزائم کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گی، یہ اقدامات سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع، قومی اثاثوں کے تحفظ اور شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر یمن میں ’قتل عام‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سعودی طیارے جاسوسی پروازیں کر رہے ہیں اور کرائے کے جنگجوؤں کو ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے 4 جاسوس ڈرون مار گرائے، جن میں ایک سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے۔

    یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے،حوثی خود کو انصار اللہ کہتے ہیں، ایر ان کے اتحادی ہیں اور یمن کی حکومتی افواج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جنہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، ان کا شمالی یمن، بحیرۂ احمر کا ساحلی علا قہ اور دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول ہے۔

    اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی روکیں اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ کشیدگی ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔

  • یونانی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم نے سعودی عرب پر ڈرونز کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا

    یونانی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم نے سعودی عرب پر ڈرونز کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا

    سعودی عرب کے وسیع تر ینبع کے علاقے میں یونانی فوجی اہلکاروں کے زیر استعمال فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کے ایک گروپ کو روک لیا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یونانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب میں تعینات یونانی فوجی اہلکاروں نے جمعرات کو ڈرونز کے ایک جھنڈ کے خلاف کارروائی کی،ڈرونز کو روکنے کی کارروائی سعودی فضائی دفاعی نظام کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے کی گئی یونانی فوج کے زیر استعمال پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے تین میزائل فائر کیے۔

    یونانی سکیورٹی ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ حملے میں مجموعی طور پر کتنے ڈرونز شامل تھے اور ان میں سے کتنے ڈرونز مار گرائے گئے۔ ڈرونز کی اصل یا انہیں کس فریق نے لانچ کیا، اس بارے میں بھی فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ینبع سعودی عرب کا ایک اہم ساحلی علاقہ ہےاور یہاں تیل صاف کرنےکی بڑی تنصیبات موجود ہیں،اسی وجہ سے علاقے میں کسی بھی ڈرون یا میزائل حملے کو سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات اور عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

    پیٹریاٹ ایک جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام ہے، جسے میزائلوں اور بعض دیگر فضائی خطرات کے خلاف دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس نظام کو سعودی فضائی دفاع کے ساتھ مربوط کرکے ڈرونز کے خلاف کارروائی کی گئی۔

  • سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی وزیراعظم شہباز شریف سے الوداعی ملاقات

    سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی وزیراعظم شہباز شریف سے الوداعی ملاقات

    پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس، اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کی۔

    وزیراعظم نے سعودی سفیر کو پاکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کے مزید استحکام کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو سراہا۔

    وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور صحت و تندرستی کی دعاؤں کا اظہار کیا،وزیراعظم نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور فراخدلانہ معاونت کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب کے اہم کردار کی بھی تعریف کی۔

    سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں کے دوران پاکستان کی جانب سے ملنے والی گرمجوشی، تعاون اور مہمان نوازی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،انہوں نے پاکستان میں اپنے قیام کو ایک یادگار اور خوشگوار تجربہ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے ذاتی عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم نے سعودی سفیر کے لیے ان کی مستقبل کی ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • سعودی ایئرلائن ریاض ایئر نے لاہور کیلیے آپریشنز کا آغاز کردیا

    سعودی ایئرلائن ریاض ایئر نے لاہور کیلیے آپریشنز کا آغاز کردیا

    ریاض ایئر نے اسلام آباد کے بعد لاہور کیلیے فضائی آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔

    سعودی عرب کی ریاض ایئر کی پہلی پرواز آر ایکس 676 لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئی جہاں لینڈ کرتے ہی پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا،اور پی اے اے فائر اینڈ ریسکیو سروسز کی جانب سے ریاض ایئر کی افتتاحی پرواز کو واٹر سیلوٹ پیش کیا گیا۔

    سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے لاہور ایئرپورٹ پر ریاض ایئر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جبکہ اس موقع پر ربن اور کیک کاٹنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

    پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاض ایئر کی آمد پاکستان سعودی فضائی رابطوں کے فروغ میں اہم سنگ میل ہےلاہور اور ریاض کے درمیان فضائی رابطے سے مسافروں کو مزید سہولت ملے گی۔

  • پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکی صدر کی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے حال ہی میں اور بالآخر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو خطے میں باہمی دفاعی تعاون کی جانب اہم قدم ہے۔

    امریکی صدر کی جانب سے دئیے گئے بیان پر اب وزیر اعظم شہبازشریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر علاقائی دفاع یقینی بنائیں گے، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے،ایٹمی تباہی سے بچانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بروقت اقدامات نے جنوبی ایشیا کو تباہی سے بچایا،پائیدار امن ہی عوام کی خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تینوں ممالک کی قیادت کو مبارکباد دی ہے۔