Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کا ایک جاسوس ڈرون یمن کے شمالی صوبے صعدہ کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ کرائیل طرز کے اس ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صعدہ گورنریٹ کی فضائی حدود میں مبینہ طور پر دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا، حوثی فضائی دفاعی یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو کامیابی سے تباہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ڈرون کو کس ہتھیار یا دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا،ان کا گروہ یمن کی خودمختاری اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کا جواب دینا اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا،گفتگو کے دوران علاقائی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن، استحکام اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ناگزیر ہے،اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی مشاورت جاری رکھنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

  • یونانی فوج  نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج کے زیر استعمال امریکی فضائی دفاعی نظام (پیٹریاٹ) نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے۔

    رائٹرز کے مطابق یونانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہےکہ سعودی عرب میں تعینات یونانی فوج کے زیر استعمال فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کے روز یمن سے ینبع کی آئل ریفائنریوں کی جانب داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے سعودی سول ڈیفنس نے حملےکے خدشےکے پیش نظر ینبع میں ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنےکی ہدایت کی یمن سے 2 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا جن کا ہدف ینبع کی آئل ریفائنریاں تھیں۔ایک دوسرے ذریعے نے بھی دونوں میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کی تصدیق کی۔

    واضح رہےکہ یونان نے 2021 میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدےکے تحت امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کیا تھا، جسے یونانی فوجی چلاتے ہیں،اس کا مقصد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچےکا تحفظ ہے، یہ واقعہ دوسرا موقع تھا جب یونانی اہلکاروں نے سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعےکسی حملےکو ناکام بنایا۔

  • سعودی  عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدوں کی پاسداری کریں گے،پاکستان

    سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدوں کی پاسداری کریں گے،پاکستان

    پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور مملکت کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے-

    دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا، جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا، ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی، ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیاجہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان را بطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔

    ترجمان نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہااس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

    ترجمان کاکہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے 34 ویں اجلاس میں شرکت کی پاکستان 2004 سے آسیان ریجنل فورم کا رکن ہے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے نائب وزیر اعظم کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا نائب وزیراعظم کی بنگلادیش کے وزیر خارجہ و جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی آسٹریلین وزیر خارجہ پینی وونگ سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں پاک آسٹریلیا تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان اور آسٹریلیا نے اعلیٰ سطح کے رابطوں اور باقاعدہ سفارتی روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا، آسٹریلین خارجہ پینی وونگ نے کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور آسٹریلیا نے دیرپا امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔

    ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلا س میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے، جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں، کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا، اور اس دوران دونوں مما لک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا نے زراعت، تجارت و سرمایہ کاری سمیت شعبوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کیے پاکستان یورپی یونین کی جی ایس پی رپورٹ کا خیرمقدم کرتا ہے یورپی یونین کی رپورٹ مجموعی طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی پیشرفت کا احاطہ نہیں کرتی جی ایس پی پلس درجہ دونوں فریقوں کے لیے باہمی طور پر مفید ہے پاکستان یورپی کمیشن اور دیگر اداروں کے ساتھ مثبت طور پر روابط برقرار رکھے گا۔
    دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، یہ رپورٹ مکمل طور پر بے بنیاد ہے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے کوئی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں خامو ش نہیں رہ سکتی۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر آواز اٹھاتا رہے گا مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت کے طور بھارت انسانی حقوق کو یقینی بنانے کا پابند ہے، پاکستان فلسطین کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے،فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے 8 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ باہمی رابطے میں ہیں –

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں خواتین اور بچوں کی صورتحال کا احساس ہے قانونی سفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث کسی کو ڈی پورٹ کرنا مروجہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اگر کسی پاکستانی شہری کو بغیر دستاویزات کے افغانستان میں رہائشی حق نہیں تو کسی افغانی کو بھی پاکستان میں بغیر دستاویزات رہنے کا حق نہیں،کلبھوشن یادیو پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی زندہ علامت ہے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دیے جانے سے آگاہ نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے اگر کسی ملک کے شہری دوسرے ملک میں دہشت گرد ملوث پائے جائیں تو انہیں نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ہم پرامن افغان شہریوں کے خلاف نفرت نہیں پنپنے دیں گے پاکستانی کھلے دل کے مالک ہیں –

    انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تجارتی مذاکرات جاری ہیں اور ٹیرف کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا ہے ٹیرف اور چائلڈ لیبر کے معاملے پر امریکا کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے، کارگل جنگ کا معاملہ اب تاریخ کا حصہ ہے، مرحوم سرتاج عزیز کی کارگل کے حوالے سے کتاب بہترین ہے۔

  • وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی مذمت

    وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں-

    وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں-

    انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

    گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعر یف کی اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

  • حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔

    انصاراللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بحری کارروائی ان جہازوں کے خلاف کی گئی جو ان کی تنبیہ کے باوجود سفر جاری رکھے ہوئے تھےگروپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یمن پر عائد محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا۔

    حوثی باغیوں کی جانب سے جن دو ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں سے ایک کا نام ’اینسیلیا‘ اور دوسرے کا ’لیلیٰ‘ بتایا گیا ہے۔

    دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی ملکیت کے جہاز اینسیلیا کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، اینسیلیا نے بدھ کی دیر رات سعودی بندرگاہ جیزان کے قریب میزائل لگنے کی خبر دیتے ہوئے مدد کی اپیل بھیجی تھی۔

    اس سے قبل برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھی اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہےٹینکر کے کپتان کے مطابق آگ میزائل لگنے کے بعد بھڑکی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حوثی تنظیم انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھاتنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن پر عائد محاصرے اور صنعا ایئرپورٹ کی بندش کے جواب میں کیا گیا ہے اگر یمن پر پابندیاں اور محاصرہ برقرار رہا تو وہ بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کی آمدورفت کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری ناکہ بندی کے اعلانات سے عالمی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

  • لندن کے ایک ہوٹل سے سعودی شہزادے کی لاش برآمد،جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی

    لندن کے ایک ہوٹل سے سعودی شہزادے کی لاش برآمد،جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی

    لندن کے ایک ہوٹل میں 29 سالہ سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود کی لاش باتھ روم سے ملی، جہاں ان کے جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی پائی گئی-

    یہ واقعہ مغربی لندن کے کینسنگٹن علاقے میں واقع میریٹ ہوٹل کے کمرے میں پیش آیا،جہاں ہوٹل میں 29 سالہ سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود کی لاش باتھ روم سے ملی، جہاں ان کے جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی پائی گئی،ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 600 پاؤنڈ فی رات تھا-

    برطانوی عدالت کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 29 سالہ سعودی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود 25 نومبر کو مغربی لندن کے کینسنگٹن علاقے میں واقع Marriott Hotel کے باتھ روم میں مردہ پائے گئے، جن کے جسم میں الکحل اور جی ایچ بی (GHB) نامی نشہ آور مادہ موجود تھا-

    کورونر کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے مطابق، شہزادے نے ہوٹل میں ایک ہفتے کے قیام کے لیے چیک ان کیا تھاتفتیش میں انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں الکحل کی مقدار بہت زیادہ تھی اور انہوں نے الکحل کے ساتھ دیگر ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا تھا طبی رپورٹ کے مطابق ان اشیاء کے باہمی ملاپ کے نتیجے میں ہونے والے زہریلے اثرات ان کی موت کا باعث بنے-

    پوٹھم مارٹم اور ٹاکسولوجی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں الکحل کی مقدار ڈرائیونگ کی قانونی حد سے تقریباً تین گنا زیادہ تھی اور ساتھ ہی جسم میں مہلک مقدار میں نشہ آور مادہ GHB پایا گیا،موت سے قبل وہ ری ہیب کلینک (دی پرائوری) میں نشے سے نجات کی تھراپی بھی لے چکے تھے۔

  • سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ طے

    سعودی عرب اور امریکا کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال پر معاہدہ طے

    سعودی عرب اور امریکا نے پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے پرامن استعمال، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مہارت اور تکنیکی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی تاریخی اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل ہے اور گزشتہ برس ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکا کے دوران طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دیتا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے، یہ معاہدہ جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، جبکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات سے ہم آہنگ مشترکہ منصوبوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔

    سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

  • پاکستان کی سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت

    پاکستان کی سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت

    پاکستان نے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بحری آمدورفت کی آزادی، بین الاقوامی بحری نظام اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں،’سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور بحیرہ احمر میں کمرشل شپنگ کو دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    پاکستان نے خاص طور پر ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،پاکستان واضح کرتا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔

    پاکستان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اسے اپنے دفاع کے حق کے تحت اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے قانونی استعمال سمیت تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے،دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

    پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حامی رہے گا، جبکہ تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

  • ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دے دی ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق، 30 سال پر محیط اس ممکنہ معاہدے میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی اور ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی کی تنصیب بھی قائم کی جا سکتی ہےاس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے قانون سازوں کی جانب سے سخت مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی اراکینِ اسمبلی کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو خود سے یورینیم افزودگی کی اجازت دینے سے خطے میں ا یٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایک نئی مقابلے بازی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔