Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • برطانوی وزیراعظم کی  محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    برطانوی وزیراعظم کی محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

    ریاض : برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا دورہ سعودی عرب، ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر خطے کی مجموعی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیشرفت، ‘شمس’ سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا-

    سعودی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی رابطہ بھی قائم کر لیا گیا ہے، یہ سیٹلائٹ آرٹیمس ٹو مشن کے تحت سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا جس کے بعد سعودی عرب ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے، اس پروگرام کا مقصد خلائی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔

    آرٹیمس II اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں چار خلا بازوں کو اورین سپیس کرافٹ کے ذریعے چاند کے گرد مدار میں بھیجا جا رہا ہے یہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جائے گا، اور مستقبل میں مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔

    سعودی سیٹلائٹ "شمس” اس مشن کے سائنسی آلات میں شامل ہے، جو ایک بیضوی مدار (HEO) میں کام کرے گا یہ مدار زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے لے کر 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوگا، جس کے ذریعے شمسی سرگرمیوں اور خلائی شعاعوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہوگی۔

    دنیا کو غیر ذمہ دار قیادت کے حوالے کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ فوری نوٹس لے،حافظ نعیم

    "شمس”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے یہ آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب مشن ہے اور سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ خلائی موسمیاتی (Space Weather) مشن بھی ہے اس سیٹلائٹ کو مقامی ماہرین نے تیار کیا، جسے وژن 2030 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کی معاونت حاصل رہی۔

    یہ مشن چار اہم سائنسی شعبوں میں تحقیق کرے گا، جن میں خلائی شعاعیں، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور شمسی توانائی کے حامل ذرات شامل ہیں اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مواصلات، فضائی سفر اور نیویگیشن جیسے اہم شعبوں میں بہتری لانے میں مدد دے گا، جبکہ حساس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور تیاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔

    سعودی خلائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ محمد التمیمی کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کی عکاس ہے، جسے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی قیادت حاصل ہے، یہ کامیابی اس عزم کی عکاس ہے کہ مملکت جدت، مہارت کی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے مستقبل کی خلائی تحقیق میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟

    این آئی ڈی ایل پی کے سربراہ جمیل الغامدی کا کہنا ہے کہ ‘شمس’ کی مقامی سطح پر تیاری اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے اور قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ 3 مارچ کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والا ڈرون حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔

    الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں، یہ کارروائی اسرائیل نے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت انجام دی۔

    آئی آر جی سی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی افواج سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور خطے میں اسرا ئیلی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کارروائی یقینی طور پر صہیونی عناصر نے کی، مسلم ممالک کو صہیونی حکومت کی خطے میں فتنہ انگیزی سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پڑوسی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی-صہیونی اتحاد کی تخریبی کوششوں کے خلاف چوکنا رہیں، جس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ سعودی حکام کے بیان سے کہیں زیادہ تباہ کن تھا سعودی وزارتِ دفاع نے واقعے کو محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان قرار دیا تھا، تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حقیقت میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سیکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔

  • سعودی عرب اور کویت کے  وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات

    سعودی وزیر خارجہ نے کویت کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی-

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، دونوں ممالک کے رہنماؤں نے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر بھی غورکیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پربات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران اقتصادی، تجارتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی زور دیا گیا سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ کویت کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اوراعتماد کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہےملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

  • سعودی شہزادی   انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی انتقال کر گئیں

    سعودی شہزادی الجوہرا بنت فیصل بن عبداللہ العبدالرحمان آل سعود انتقال کر گئیں-

    سعودی شاہی دیوان کی جانب سے جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی گئی ہے،بیان کے مطابق مرحومہ شہزادہ محمد بن سعود بن فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی والدہ تھیں اور شاہی خاندان میں ان کا ایک نمایاں مقام تھا، شہزادی الجوہرا کی نمازِ جنازہ آج بروز جمعرات عصر کی نماز کے بعد ریاض کی معروف امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی، جس میں شاہی خاندان کے افراد اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔

    ان کے انتقال پر سعودی عرب میں غم کی فضا پائی جا رہی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے،مرحومہ کی خدمات اور خاندانی حیثیت کے باعث ان کا انتقال سعودی معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے-

  • سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے  بڑا اعلان

    سعودی عرب کا ویزہ ہولڈرز کے لیے بڑا اعلان

    سعودی حکومت نے موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر ویزہ ہولڈرز کے لیے خصوصی سہولتوں کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اُن افراد کے معاملات نمٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن کے ویزے (بشمول وزٹ ویزے، عمرہ، ٹرانزٹ اور فائنل ایگزٹ) 25 فروری 2026 کے بعد ختم ہو چکے ہیں اور جو حالات کے باعث ملک سے روانہ نہ ہو سکے وزارت نے واضح کیا کہ ایسے افراد کے ویزوں میں توسیع میزبان کی درخواست پر 18 اپریل 2026 تک کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ فیس ادا کی جائے، اور یہ سہولت ابشر پلیٹ فارم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

    سعودی حکومت نے ان افراد کو یہ رعایت بھی دی ہے کہ وہ بغیر ویزہ توسیع اور کسی بھی قسم کے جرمانے کے، براہِ راست بین الاقوامی سرحدی راستوں سے ملک چھوڑ سکتے ہیں،سعودی وزارتِ داخلہ نے مستفید ہونے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ 18 اپریل 2026 سے قبل ملک سے روانگی یقینی بنائیں، بصورت دیگر مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا

    شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا

    سعودی عرب کے علاقے قصیم میں واقع شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل عیدالفطر کے موقع پر سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے-

    یہ محل روزانہ سہ پہر 3 بجے سے رات 10 بجے تک آئندہ جمعہ تک کھلا رہے گا، جہاں آنے والے افراد کو علاقے کی سماجی اور معاشی تاریخ سے متعلق نوادرات اور تاریخی اشیاء دیکھنے کا موقع ملے گا،تقریب میں روایتی سعودی عرضہ کے مظاہرے، مقامی خاندانوں کی جانب سے دستکاری کے نمونے اور بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

    یہ محل 1932 (1351 ہجری) میں روایتی نجدی طرزِ تعمیر میں تعمیر کیا گیا تھا اور ماضی میں انتظامی و سکیورٹی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس کا تعلق بانیٔ سعودی عرب شاہ عبدالعزیز سے ہے،یہ اقدام امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ہیریٹیج کمیشن اور قصیم کی امارت کے تعاون سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد تاریخی ورثے کو اجاگر کرنا اور مقامی کمیونٹی کا اپنے قومی تشخص سے تعلق مضبوط بنانا ہے۔

    نگہبان رمضان پیکیج کے تحت عوامی خدمت کا نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ،مریم نواز

    ایل او سی پر تعینات پاک فوج کے جوانوں کا قوم کے نام خصوصی پیغام

    اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے،ایرانی صدر

  • سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    سعودی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے یہ اقدامات نہ صرف حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ ان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے،سعودی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سفارت خانے کے عسکری اتاشی، ان کے معاون اور سفارتی عملے کے 3 دیگر ارکان کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔

    عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے،سعودی عرب اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں و مقیمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا ، مملکت اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    ایران کے عراد، دیمونا پر حملوں کو نیتن یاہو نے ’انتہائی مشکل شام‘ قرار دیا

  • شام میں فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب  کی شدید مذمت

    شام میں فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب کی شدید مذمت

    سعودی عرب نے شام کے جنوبی علاقے میں فوجی تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ہفتے کے روز سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والا اسرائیلی حملہ قابلِ مذمت ہے اور یہ اقدام خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، یہ حملہ اسرائیل کی کھلی جارحیت ہے جو ایک خود مختار ملک کی سالمیت کے خلاف ہے، یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے اور اس طرح کے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں،عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے

    بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکے، شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت

    قبل ازیں ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملے کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا تھا جسے روکا جانا چاہیے مصر، اردن، قطر اور کویت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، اور شام کی خود مختاری کو یقینی بنانے اور ایسے حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے جمعرات کو رپورٹ دی تھی کہ صوبہ سویدا میں حکومتی دستوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم چار دروز جنگجو مارے گئے، بعد ازاں اسرائیلی گولہ باری سے سویدا شہر کے رہائشی علاقے نشانہ بنے۔

    امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی

  • اسحاق ڈار کی  اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت

    اسحاق ڈار کی اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت

    ریاض:نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 18 مارچ 2026 کو ریاض میں عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس میں شرکت کی، جہاں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یہ اجلاس سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، قطر، شام، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرا ئے خارجہ نے بھی شرکت کی، اجلاس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا۔

    انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جاری تنازعات کے فوری خاتمے، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا، وزیر خارجہ نے خطے میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور اسرائیل کی جانب سے جاری کارروائیوں اور اشتعال انگیزیوں کی شدید مذمت کی۔

    انہوں نے شہریوں، توانائی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ ہیں، لہٰذا ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے، وزیر خارجہ نے شرکا کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پا کستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

    اجلاس کے اختتام پر عرب و اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا،دورے کے دوران وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب کو حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے مکمل یکجہتی اور حمایت کا پیغام بھی پہنچایا –

    وزارتی اجلاس کے موقع پر اسحاق ڈار نے ترکی اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا انہوں نے مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل ایک چہار فریقی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں مشترکہ علاقائی چیلنجز پر غور کیا گیا۔