Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی  کی یقین دہانی

    سعودی عرب کی متبادل سپلائی روٹ سے پاکستان کو تیل فراہمی کی یقین دہانی

    فاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات ہوئی-

    ملاقات میں پاکستان کی جانب سے متبادل تیل سپلائی روٹ کے طور پر یانبو کی بندرگاہ کے استعمال کی درخواست کی گئی،ملاقات کے دوران سعودی عرب کی جانب سے مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ سعودی ذرائع نے بحیرہ احمر میں واقع بندرگاہ یانبو کے ذریعے سپلائی کی سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہےپاکستان کے لیے خام تیل اٹھانے کے لیے ایک جہاز کو پاکستان سے بندرگاہ یانبو روانہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے وہ اس وقت میں پاکستان کی حمایت پر سعودی عرب کے شکرگزار ہیں اور امید ہے کہ بندرگاہ یانبو سے تیل کی سپلائی میں پاکستان کو ترجیح دی جائے گی۔

    نئے سپریم لیڈر کا انتخاب:ایران نے اسرائیلی دعویٰ مسترد کر دیا

    سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اس موقع پر کہا کہ کسی بھی ہنگامی ضرورت کے پیشِ نظر پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھا جائے گا پاکستان اور سعودی عرب آزمائش میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان عوام کے لیے توانائی کی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہےپاکستان کی بیشتر پیٹرولیم سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے اور ان حالات میں سعودی عرب جیسے برادر ممالک کی حمایت پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    امریکہ کا نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم

  • پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    رواں سال حج پروازوں کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے اور پاکستان سے پہلی حج پرواز 18 اپریل کو روانہ ہوگی۔

    سرکاری حج اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 468 پروازوں کے ذریعے ایک لاکھ 19 ہزار عازمین کو حجازِ مقدس پہنچایا جائے گا18 اپریل کو کراچی، لاہور، سیالکو ٹ اور ملتان سے پہلی پروازیں روانہ ہوں گی، حج آپریشن کے پہلے روز چار پروازوں کے ذریعے عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا ابتدائی 15 روز تک عاز مین کو مدینہ منورہ منتقل کیا جائے گا، جبکہ جدہ کے لیے حج پروازوں کا آغاز 4 مئی سے ہوگا مدینہ منورہ کے لیے پہلی طویل دورانیے کی پرواز 7 مئی کو روانہ کی جائے گی، جبکہ پاکستان سے آخری حج پرواز 21 مئی کو اڑان بھرے گی مجموعی طور پر حج آپریشن 34 روز جاری رہے گا۔

    سرکاری اسکیم کے تحت 67 ہزار 230 مرد اور 51 ہزار 846 خواتین عازمین کو سعودی عرب لے جایا جائے گا۔ مدینہ منورہ کے لیے 186 جبکہ جدہ کے لیے 282 پروازیں آپریٹ کی جائیں گی حج آپریشن میں قومی و نجی ایئر لائنز حصہ لیں گی جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن، ایئر بلیو، ایئر سیال اور سعودی ایئر لائن شامل ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    کراچی سمیت ملک کے آٹھ شہروں سے حج پروازیں چلائی جائیں گی۔ اسلام آباد سے 129، کراچی سے 124 اور لاہور سے 104 پروازیں روانہ ہوں گی کوئٹہ سے 18، ملتان سے 34 اور سیالکوٹ سے 26 حج پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، جبکہ فیصل آباد سے 23 اور سکھر سے 5 پروازیں عازمین کو سعودی عرب پہنچائیں گی حکام کے مطابق تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور عازمین کو بروقت اور سہولت کے ساتھ حجازِ مقدس پہنچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،خواجہ آصف

  • واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے،سعودی عرب

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے،سعودی عرب

    سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں پیش کیا گیا تاثر حقائق کے منافی ہے اور سعودی عرب کے مؤقف کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ مشاورت کی تھی اور یہ کارروائی مبینہ طور پر ہفتوں پر محیط لابنگ کے بعد عمل میں آئی تاہم امریکا میں موجود سعودی سفارتخانے نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے جاری تھ۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے 4 باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھارپورٹ میں یہ تاثر دیا گیا کہ خطے کی صورتحال اور اتحادیوں کی تشویش کے تناظر میں امریکا نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔

    کچھ قوتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا چاہتی ہیں،علامہ طاہر اشرفی

    اس رپورٹ کے بعد واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل اور قابل اعتبار معاہدے کی حمایت کی ہے اور کسی بھی مرحلے پر امریکی صدر کو مختلف یا جارحانہ پالیسی اپنانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

    سعودی مؤقف ہے کہ ریاض کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کشیدگی میں کمی، مذاکرات، علاقائی استحکام اور مسلم دنیا میں اتحاد کا فروغ ہے۔ اس دعوے کی تائید تاریخ کے مختلف ادوار میں سعودی کردار سے بھی ہوتی ہے، جہاں ریاض نے سفارتی، انسانی اور مالی سطح پر متعدد مسلم ممالک کی مدد کی۔

    عمران خان کا آنکھ کے علاج کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

  • سعودی عرب کا ایرانی میزائل کو ریاض کی فضاؤں میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کا ایرانی میزائل کو ریاض کی فضاؤں میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے دارالحکومت ریاض اور ملک کے مشرقی علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سعودی فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ریاض اور مشرقی خطے پر حملے کیے گئے، لیکن ملکی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا کر دیا ایسے حملوں کو کسی بھی جواز کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ کارروائی اس کے باوجود کی گئی جب ایرانی حکام کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

    مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی :8 ممالک کی فضائی حدود بند

    سعودی حکام نے اس اقدام کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہےسکیورٹی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

    امریکی اسرائیلی حملے کے بعد خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویر سامنے آ گئی

  • ایران کی جانب سے  کنگ فہد ایئر بیس  اور امریکی طیارہ بردار جہاز  پرحملے کی اطلاعات

    ایران کی جانب سے کنگ فہد ایئر بیس اور امریکی طیارہ بردار جہاز پرحملے کی اطلاعات

    ایران کی جانب سے مختلف عرب ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جب کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکا سنا گیا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے سعودی عرب کے اہم فضائی اڈے کنگ فہد ایئر بیس پر راکٹ حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ذرائع کے مطابق حمللے کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ بحرِ ہند میں ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر میزائلوں سے حمللہ کیا۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایران نے یواےای میں الدفرا ائیربیس، بحرین میں بحری ائیربیس کو نشانہ بنانےکی تصدیق کی ہےیو اےای کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ یو اے ای نے متعدد ایرانی میزائلوں کو روک دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، متحدہ عرب امارات اس جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں-

    وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں تاکہ تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کے ایگزیکٹو کمیٹی کے اوپن اینڈڈ ایکسٹرا آرڈینری وزارتی اجلاس میں جدہ میں شرکت کر سکیں، جو 26 تا 28 فروری 2026 تک جاری رہے گا،وزیر خارجہ اس موقع پر او آئی سی رکن ممالک کے ہم منصبوں سے باہمی ملاقاتیں بھی کریں گے اس کے علاوہ دورے کے دوران وہ مکہ اور مدینہ مکرمہ کی مختصر زیارات بھی انجام دیں گے۔

    سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں ضروری ہیں، پاکستان گورننس فورم

    وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

  • بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم سے سعودی سفیر نے ملاقات کی-

    اتوار کی صبح سیکریٹریٹ میں کابینہ ڈویژن کے دفتر میں بنگلہ دیش میں تعینات سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبداللہ جعفر سے خیرسگالی ملاقات کے دوران وزیراعظم طارق رحمان نے امید ظاہر کی ہے کہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات مستقبل میں ’نئی بلندیوں‘ تک پہنچ جائیں گے۔

    سعودی سفیر نے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ریاض کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بنگلہ دیش کے ساتھ ’ہر ممکن تعاون‘ جاری رکھے گا ملاقات میں وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر بھی موجود تھے۔

    اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان صبح 9 بج کر 5 منٹ پر باقاعدہ طور پر دفتری امور کا آغاز کرنے کے لیے سیکریٹریٹ پہنچے، جہاں کابینہ سیکریٹری اے بی ایم عبد الستار نے ان کا استقبال کیاحکام کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

  • پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے-

    ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی)، عرب لیگ (ایل اے ایس) اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹریٹس نے بھی دستخط کیے۔

    اعلامیے میں امریکی سفیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے، پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔

    گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے یہ منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔

    اوکاڑہ،دھی رانی پروگرام،اجتماعی شادیوں کی چوتھی تقریب،90 بیٹیوں کی شادی

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔

    گیمبر پریس کلب اوکاڑہ کینٹ کی23 ویں تقریب حلف برداری

    ادھر سعودی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی سفیر نے اپنے بیان میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اشتعال انگیز بلکہ خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ہے۔

    عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دینےپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل

    سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے خیالات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستوں کی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں شرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہےسعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے بیانات سے اجتناب کرے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • پاک  سعودیہ معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں،سعودی سفیر

    پاک سعودیہ معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں،سعودی سفیر

    پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہا ہے-

    سفیر نواف بن سعید المالکی نے اسلام آباد میں کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) کے تحت رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔

    سعودی سفیر کا بیان اس اہم پیشرفت کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جب ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیانStrategic Mutual Defense Agreement پر دستخط کیے گئے تھے اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    سفیر نواف المالکی نے کہا کہ 3 ماہ قبل ہم نے اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ اب ان شااللہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کی معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں، جس پر جلد دستخط ہوں گے۔

    گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں توانائی، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں بڑے منصوبوں کو ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    2024 میں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں 2.8 ارب ڈالر مالیت کی 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کر چکے ہیں، جبکہ بجلی کے باہمی رابطے کے منصوبے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت طے پا چکی ہے۔

    کے ایس ریلیف کے تحت شروع کیے گئے رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کے ذریعے پاکستان کے 30 اضلاع میں 1 لاکھ 92 ہزار 500 مستحق افراد کے لیے 27 ہزار فوڈ باسکٹس تقسیم کی جائیں گی ہر پیکج میں 80 کلو آٹا، 5 لیٹر کوکنگ آئل، 5 کلو چینی، 2 کلو کھجور اور 5 کلو چنا شامل ہے، جو ایک اوسط گھرانے کی رمضان بھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہےیہ منصوبہ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے اور کمزور طبقات کی معاونت کے عزم کا حصہ ہے، اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔

  • ہجرتِ نبوی ﷺ کے تاریخی مقامات کی زیارت کے منصوبے کا آغاز

    ہجرتِ نبوی ﷺ کے تاریخی مقامات کی زیارت کے منصوبے کا آغاز

    سعودی عرب میں ’علیٰ خُطاہ‘ منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    العریبہ کے مطابق نبی کریم ﷺ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک 470 کلومیٹر طویل تاریخی سفرِ ہجرت کے راستے کو محفوظ اور دستاویزی شکل دی گئی ہےاس منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک ایسا روحانی اور تاریخی تجربہ ہے جس کا مقصد اس مقدس ہجرت کی یاد تازہ کرنا ہے تاکہ ہر زائر اس عظیم واقعے کے روحانی اور تاریخی پہلوؤں سے جڑ سکے اور اس کے اثرات کو محسوس کر سکے۔

    سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی آل الشیخ نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر افتتاحی تقریب کی ویڈیو بھی شیئر کی انہوں نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں ’علیٰ خُطاہ‘ منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو ہجرتِ نبوی ﷺ کے راستے کو منظم تعلیمی فریم ورک کے تحت دستاویزی شکل دیتا ہے تاکہ سیرتِ نبوی ﷺ کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے،یہ منصوبہ جدید اسٹوری ٹیلنگ اور پریزنٹیشن ٹیکنالوجیز کے استعمال سے تیار کیا گیا ہے جو مسلسل چھ ماہ تک جاری رہے گا۔

    یہ منفرد تجربہ زائرین کو غارِ ثور سے مسجدِ قبا تک ہجرت کے راستے پر لے جاتا ہے جو تقریباً 470 کلومیٹر پر محیط ہے اور 41 سے زائد تاریخی مقامات سے گزرتا ہےاس سفر کے دوران قیام گاہیں، مہمان نوازی کی سہولیات، ریستوران اور دکانیں قائم کی گئی ہیں، جنہیں اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ تاریخی سفر کی فضا کو معلوماتی اور عملی تجربے کے ذریعے محسوس کیا جا سکے۔

    اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب کو عالمی ثقافتی سیاحت کے نقشے پر مزید مستحکم مقام دلانا ہے تاکہ تاریخی ورثے اور سیاحت کو یکجا کرتے ہوئے ایک منفرد سفر پیش کیا جا سکے‘علیٰ خطاہ‘ منصوبہ وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوگا جس کے تحت مملکت کے گہرے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے سیاحتی مواقع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔