Baaghi TV

Tag: سمندر

  • 80 ہزارافراد کو سمندر میں بسانے کی تیاری

    80 ہزارافراد کو سمندر میں بسانے کی تیاری

    دنیا کے سب سے بڑے تیرتے ہوئے شہر کی تعمیر کا منصوبہ ،جسے ایک مکمل شہر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی –

    ’’فریڈم شپ‘‘ نامی یہ مجوزہ منصوبہ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ اسے ایک مکمل شہر کی حیثیت بھی حاصل ہوگی جہاں بیک وقت 80 ہزار افراد رہ سکیں گے فریڈم شپ کی لمبائی تقریباً ایک میل، چوڑائی 800 فٹ اور اونچائی 30 منزلہ عمارت کے برابر ہوگی اس دیوہیکل بحری شہر کی تعمیر پر تقریباً 12 ارب پاؤنڈ لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    جہاز میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے لیے گھر موجود ہوں گے جبکہ 10 ہزار سیاحوں اور روزانہ آنے والے مہمانوں کے لیے بھی جگہ مختص ہوگی۔ اس کے علاوہ 20 ہزار افراد پر مشتمل عملہ اس شہر نما جہاز کے انتظامات سنبھالے گا،فریڈم شپ میں جدید طبی سہولیات سے آراستہ تحقیقی اسپتال، اسکول، کالج، شاپنگ مالز، ریستوران، بینک، تجارتی مراکز اور مالیاتی ادارے قائم کیے جائیں گے منصوبے میں ایک 15 ہزار نشستوں والا اسپورٹس اسٹیڈیم، واٹر پارک، دو عجائب گھر، سمفنی ہال، کانفرنس سینٹر اور متعدد بلند و بالا ہوٹل بھی شامل ہیں۔

    city

    رہائشیوں اور سیاحوں کی تفریح کے لیے ایک وسیع ایکویریم، جدید نائٹ کلب، دو منزلہ فوڈ ہال اور سرسبز پارکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ جہاز کے اندر مختلف علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے ٹرام سسٹم متعارف کرایا جائے گا جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے 15 میل طویل واک ویز اور تین ایکڑ پر مشتمل سبزہ زار بنائے جائیں گے۔

    فریڈم شپ کسی بندرگاہ پر مستقل طور پر نہیں رکے گا بلکہ بین الاقوامی سمندری حدود میں رہے گا اور تقریباً ہر دو سال بعد پوری دنیا کا چکر مکمل کرے گا چونکہ اس کا حجم موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہوگا، اس لیے مسافروں کو ساحل تک پہنچانے کے لیے خصوصی فیری سروس استعمال کی جائے گی۔

    فریڈم شپ کا تصور پہلی مرتبہ 1990 کی دہائی میں امریکی انجینئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا اب فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو راجر گوچ نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان کیا ہے اس منصوبے میں دلچسپی اتنی زیادہ ہے کہ بیک وقت تین ایسے جہاز بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

    منصوبے کے مطابق جہاز کی تعمیر انڈونیشیا میں کی جائے گی اور اسے مختلف حصوں میں تیار کرکے سمندر میں جوڑا جائے گا، تعمیر مکمل ہونے میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں، تاہم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ لوگ تعمیر کے دوران ہی اس پر رہائش اختیار کرنا شروع کر سکیں گے فریڈم شپ کو ماحول دوست منصو بہ بھی قرار دیا جا رہا ہے منتظمین کے مطابق اسے ممکنہ طور پر جوہری توانائی سے چلایا جائے گا جس سے کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی ساتھ ہی سمندر وں کی صفائی اور ماحول کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو فریڈم شپ نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز ہوگا بلکہ انسانی تاریخ کا پہلا مستقل تیرتا ہوا شہر بھی بن جائے گا جو رہائش، کاروبار، تعلیم اور تفریح کا ایک منفرد عالمی مرکز ثابت ہو سکتا ہے۔

  • پاکستانی سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل 2 دہائیوں بعد دوبارہ شروع

    پاکستانی سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل 2 دہائیوں بعد دوبارہ شروع

    پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ شروع کردیا گیا۔

    وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت پروڈکشن شیئرنگ معاہدے اور ایکسپلوریشن لائسنسز کی دستخطی تقریب میں شرکت کی، معاہدے کے مطابق ابتدائی تین سالہ لائسنس مدت کے فیز ون میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی، فیز ٹو میں ڈرلنگ تک پیشرفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں، آف شور بڈ راؤنڈ 2025 میں 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس کی منظوری دی گئی، دو بلاکس آف شور ڈیپ-C اور آف شور ڈیپ-F کے معاہدے 2 دسمبر 2025 کو وزیر اعظم ہاؤس میں طے پا چکے ہیں۔ آج مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کا معاہداتی فریم ورک مکمل ہوگیا۔

    وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں ایک تاریخی سنگِ میل ہیں، آف شور ایکسپلوریشن کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت پُرعزم ہے، یہ معاہدے پاکستان کے سمندری تیل و گیس کے امکانات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہیں۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ آف شور بڈ راؤنڈ کی کامیاب تکمیل شفاف اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی عکاس ہے، آف شور پیٹرولیم رولز کے نفاذ اور ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ کے اجرا سے شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، ماری انرجیز نے 23 میں سے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلا کس بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر حاصل کیے۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو آٹھ ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ ہوئے جن میں دو بلاکس بطور آپریٹر شامل ہیں، پرائم گلوبل انرجیز کو ایک بلاک بطور آپریٹر الاٹ کیا گیا، فیز ون میں سیسمک ڈیٹا اکٹھا کرنے، پروسیسنگ سمیت جیولوجیکل و جیو فزیکل اسٹڈیز شامل ہوں گی، مثبت نتائج کی صورت میں فیز ٹو کے تحت سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے ایکسپلوریشن کنویں کھودے جائیں گے۔

  • مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ 20 افراد فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے سینیگال گئے تھے، جن میں سے 8 جاں بحق ہوگئے جبکہ 12 کو بچایا گیا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) حکام نے اس سانحے کے متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ان افراد کا تعلق مختلف شہروں سے ہے، اور ان میں سے کچھ افراد وزٹرز اور ٹورسٹ ویزا پر سفر کر رہے تھے، جبکہ کچھ عارضی رہائشی ویزا پر سینیگال گئے تھے۔ 7 افراد فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جن میں 1 فرد عارضی رہائشی ویزا پر تھا، جبکہ 6 افراد ٹورسٹ ویزا پر ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے کراچی سے سینیگال روانہ ہوئے۔ علاوہ ازیں، 2 افراد نے عمرہ ویزا پر 18 ستمبر کو لاہور سے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ 9 افراد کا تعلق گجرات سے تھا، جن میں سے 5 کو بچا لیا گیا جبکہ 4 افراد حادثے کا شکار ہوئے۔ منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی اس حادثے میں شامل تھے، جن میں سے 3 جاں بحق ہوگئے جبکہ 3 کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح، شیخوپورہ کے 3 افراد اور سیالکوٹ کا ایک شخص بھی بچا لیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ کے ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔

    یہ تمام افراد مئی سے ستمبر کے دوران سینیگال اور سعودی عرب کا سفر کر رہے تھے۔ ان مسافروں میں سفیان، غلام مصطفی، مہتاب الحسن، رئیس افضل جیسے افراد شامل ہیں، جو فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جبکہ علی حسن اور حامد شبیر بھی اسی سفر پر فیصل آباد سے روانہ ہوئے تھے۔

    حکومت نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی میں 4 ارکان شامل ہوں گے، جو اس حادثے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور اس پر رپورٹ مرتب کریں گے۔

    یاد رہے کہ یہ کشتی حادثہ جمعرات کو موریطانیہ کے ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جب غیرقانونی طور پر اسپین جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور کشتی میں سوار 86 تارکین وطن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ مراکشی حکام کے مطابق، اس حادثے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔یہ سانحہ ایک اور سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

  • بھارتی نیوی کی آبدوز کشتی سے ٹکرا گئی،2 افراد لاپتہ

    بھارتی نیوی کی آبدوز کشتی سے ٹکرا گئی،2 افراد لاپتہ

    بھارتی بحریہ کی آبدوز گوا کے قریب ماہی گیری کے جہاز سے ٹکرا گئی، 11 افراد بچا لیے گئے، 2 کی تلاش جاری ہے

    21 نومبر کو بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز گوا کے ساحل سے تقریباً 70 سمندری میل دور ماہی گیری کے جہاز مارتھوما سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے وقت جہاز پر 13 عملے کے ارکان موجود تھے۔بھارتی بحریہ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس کے دوران 11 افراد کو بچا لیا گیا۔ باقی 2 عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔بحریہ کے ترجمان کے مطابق، تلاش اور بچاؤ کے کام میں بھارتی بحریہ اور بھارتی کوسٹ گارڈز بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔یہ واقعہ ممکنہ طور پر 20-21 نومبر کو ہونے والی سی ویگل کوسٹل سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس مشق کے دوران پیش آیا۔ حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز اور ماہی گیری کشتی کے درمیان گوا کے ساحل سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور تصادم ہوا، جس میں 13 ماہی گیروں کی کشتی متاثر ہوئی۔ دفاعی وزارت کے مطابق اس حادثے میں 11 ماہی گیروں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 2 اب بھی لاپتہ ہیں۔حادثہ مارٹھوما نامی ماہی گیری کشتی اور اسکورپین کلاس آبدوز کے درمیان پیش آیا۔ بھارتی بحریہ نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا، جس میں چھ جہاز اور فضائیہ کے طیارے شامل ہیں۔بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کے لیے مزید امدادی وسائل بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ آپریشن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر ممبئی کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ کوسٹ گارڈ کے وسائل بھی متاثرہ علاقے میں روانہ کر دیے گئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ "حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔”

    اسکورپین کلاس آبدوزیں بھارتی بحریہ کی طاقتور سمندری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں، جو کئی طرح کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں اینٹی سب میرین وارفیئر، اینٹی سرفیس وارفیئر، خفیہ معلومات جمع کرنا، مائن بچھانا اور علاقے کی نگرانی شامل ہے۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان آبدوزوں میں انتہائی جدید خاموشی کی خصوصیات، کم شور پیدا کرنے والے نظام اور پانی کے نیچے یا سطح پر انتہائی درستگی کے ساتھ دشمن پر حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ حملہ ٹارپیڈو اور ٹیوب سے لانچ کیے جانے والے اینٹی شپ میزائل دونوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    بھارتی بحریہ اور دیگر ادارے تاحال حادثے کے متاثرین کو ڈھونڈنے اور واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔

    اڈانی گروپ کو بڑا دھچکا،کینیا نے معاہدے منسوخ کر دیئے

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • پاکستانی سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل ذخائر کا انکشاف

    پاکستانی سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل ذخائر کا انکشاف

    پاکستان کے سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل کے ذخائر کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ایک دوست ملک کے ساتھ ملکر 3 سال کے عرصے میں جیوگرافک سروے کیا گیا جس میں تیل اور گیس کے ذخائر کی نشاندہی کرلی گئی ہے

    سابق رکن اوگرا محمد عارف کا کہنا تھا کہ تیل کے ذخائر کی دریافت گیم چینجر ثابت ہو گی، جبکہ گیس کے ذخائر ملنے سے معاشی لحاظ سے قسمت بدل سکتی ہے،ہ ملک ہر سال 200 ارب ڈالر تیل اور گیس پر خرچ کرتا ہے۔

    جنگ نیوز کے مطابق پاکستان میں سمندر سے تیل اور گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، دریافت ہونے والے ذخیرے کے بارے میں کہا جا رہا ہے ہے کہ دنیا کا چوتھا بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ ہے جو تین سال کے سروے کے بعد سامنے آیا،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے جیولوجیکل سروے کیا گیا، سروے کے دوران سمندر سے لیے گئے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جا رہا ہے،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس اور تیل کے بھاری ذخائر کی دریافت سے متعلق کہنا قبل از وقت ہے، یہ گیس اور تیل کی موجودگی سے متعلق اندازہ یا تخمینہ ہو سکتا ہے،ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز آفس اگلے سال پہلی سہ ماہی میں بڈنگ کرائے گا، کامیاب بولی دہند گان کو آف شور بلاکس ایوارڈ ہوں گے، ایکسپلوریشن کا عمل شروع ہونے بعد تیل و گیس کی دریافت کا معلوم ہو سکے گا۔

    پاکستان میں پہلے بھی متعدد بار سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی گئی، ماضی میں سمندر میں ہونے والی تیل اور گیس کی تلاش کیلئے سرگرمیاں بھی تخمینوں کی بنیاد پر تھیں، جب تک گیس یا تیل دریافت نہ ہو جائے ذخیرے کا حجم نہیں بتایا جا سکتا،

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان،بحری جہاز ڈوب گیا،عملے میں 13 بھارتی افراد شامل

    عمان میں یمن کی طرف جانے والا بحری جہاز ڈوب گیا، عملے کے 16 افراد میں سے 13 بھارتی تھے

    عمان کی میری ٹایم سیکورٹی سنٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کی طرف جانے والاایک بحری جہاز عمان کے قریب سمندر میں ڈوب گیا ہے، جہاز پر عملے کے 16 ارکان سوا تھے جن میں سے 13 بھارتی اور 3 سری لنکن شہری تھے،جہاز پر تیل لدا ہوا تھا،جس کا نام پریسٹیج فالکن بتایا گیا ہے، جہاز ڈوبنے کے بعد سوار عملے کی تلاش جاری ہے تاحال عملے کے بارے کچھ پتہ نہ چل سکا

    عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کے مطابق ڈوبنے والے بحری جہاز پر مشرقی افریقی ملک کوموروس کا جھنڈا بنا ہوا تھا،جہاز عمان کی مرکزی صنعتی دوقم بندرگاہ کے قریب ڈوب گیا تھا جس کے بعد مقامی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا تاہم تازہ ترین معلومات کے مطابق ٹینکر میں سوار افراد کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا.

  • بھارت کا 14 پاکستانیوں کو منشیات سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ

    بھارت کا 14 پاکستانیوں کو منشیات سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ

    بھارت نے 14 پاکستانیوں کو سمندر سے منشیات سمیت گرفتار کر لیا

    بھارتی کوسٹ گارڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گجرات کے ساحل سے دور بین الاقوامی میری ٹائم بارڈر لائن کے قریب 14 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے،جن کے قبضے سے 80 کلو منشیات برآمد ہوئی ہے، کاروائی این سی بی اور اے ٹی ایس گجرات نے کی، سوشل میڈیا پربھارتی کوسٹ گارڈ نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ سمندر میں ایک کاروائی کی گئی جس میں ایک کشتی جس کا تعلق پاکستان سے ہے، مغربی بحیرہ عرب میں پکڑی ہے، اس کشتی پر عملہ بھی پاکستانی تھا، عملے کے 14 افراد کشتی پر سوار تھے، دوران تلاشی کشتی سے 80 کلو منشیات برآمد ہوئی ہے،جس کی قیمت چھ سو کروڑ بنتی ہے،

    رواں برس ماہ فروری میں بھی این سی بی اور بھارتی بحریہ نے گجرات کے ساحل کے قریب منشیات کی کھیپ پکڑی تھی۔ اس وقت مشترکہ آپریشن میں 3 ہزار 132 کلو منشیات ضبط کی گئی تھیں جن کی مالیت 1000 کروڑ روپے سے زیادہ تھی،اس آپریشن میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا،

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    بھارتی انتخابات،دی گارڈین نے مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا

    مودی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر بھارتی الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

  • بالٹی مور،جہاز حادثہ،ڈوبنے والوں میں چھ بھارتی شہری شامل

    بالٹی مور،جہاز حادثہ،ڈوبنے والوں میں چھ بھارتی شہری شامل

    امریکی شہر بالٹی مور میں گزشتہ روز پیش آنے والے حادثے کے بعد دریا میں ڈوبنے والوں میں چھ بھارتی شہری بھی شامل ہیں

    واقعہ میں ڈوبنے والے چھ شہری بھارتی ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والوں کی موت ہو چکی ہو گی، کوسٹ گارڈ حکام کاکہنا ہےکہ گزشتہ روز ریسکیو ٹیم نے دو افراد کو پانی سے زندہ نکالا تاہم اب پل حادثے میں ڈوبنے والے مزید افراد کو تلاش کرنے کی امید کھوچکے ہیں،دریا میں ڈوبنے والے 6 ورکروں سے متعلق یہ قیاس ہے کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں،اب ہم ریسکیو کارروائیوں کو ختم کرچکے ہیں، اب ان کی توجہ 6 لاپتا ورکروں کی لاشیں ڈھونڈنے پر ہے جو شپ کے پل سے ٹکرانے کے بعد سے لاپتا ہیں

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے بالٹی میں حادثے کا شکار ہونے والے جہاز کے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کا تعلق بھارت سے ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق شپنگ کمپنی نے بھی کنفرم کیا ہے کہ ڈوبنے والے بھارتی شہری ہیں جہاز کا عملہ 22 افراد پر مشتمل ہے .

    امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، انہوں نے کوسٹ گارڈ کی کال کا فوری جواب دیتے ہوئے میری لینڈ کے حکام کی بروقت کارروائی کو سراہا جنہوں نے فوری طور پر پل کو بند کر دیا تھا،امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت پل کی تعمیر کے اخراجات برداشت کرے۔

    بالٹی مور میں منگل کو فرانسس اسکاٹ کی برج نامی پل اس وقت گر گیا جب ایک جہاز اس سے ٹکرا گیا، جہاز کے ٹکرانے کے محض 4 سیکنڈ کے اندر اندر پل گر گیا تھا،پل سے ٹکرانے والا جہاز ایک کنٹینر بردار جہاز ہے جس پر سنگاپور کا جھنڈا لگا ہوا ہے۔ اس میں سوار 22 رکنی عملہ کے تمام بھارتی شہری ہیں،جہاز بالٹی مور سے کولمبو جا رہا تھا۔

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

  • 14 لاپتہ ماہی گیروں میں سے 10 کے جسد خاکی مل گئے

    14 لاپتہ ماہی گیروں میں سے 10 کے جسد خاکی مل گئے

    پاک بحریہ نے پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ مل کر مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں کشتی الاسد کے 14 لاپتہ ماہی گیروں میں سے 10 کے جسد خاکی کو سمندر سے ڈھونڈ نکالا۔

    سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز 05 مارچ 2024 کو کیا گیا تھا۔ حادثے کو کئی دن گزر جانے اور خراب سمندری صورتحال کے باوجود 10 لاپتہ ماہی گیروں کے جسد خاکی آج کامیابی کے ساتھ کھلے سمندر سے نکال لیے گئے۔ماہی گیروں کی کشتی الاسد 45 افراد کے عملے کے ساتھ 5 مارچ کو خراب موسم کی وجہ سے ہجامڑو کریک کے قریب ڈوب گئی تھی۔ سرچ آپریشن میں پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کے متعدد اثاثے بشمول ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹرز، بحری جہاز اور سپیڈ بوٹس نے حصہ لیا۔ پی ایم ایس ایس رحمت نے سرچ آپریشن پر تعینات یونٹوں سے اطلاع موصول ہونے پر 10 لاپتہ ماہی گیروں کے جسد خاکی تلاش کیے اور سمندر سے نکالے۔ لاپتہ ماہی گیروں کے جسد خاکی کو مزید کارروائی کے لیے متعلقہ سول حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کی جانب سے کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اس عزم کا غماز ہے کہ پاک بحریہ سمندر میں ہر قسم کی ناگہانی آفت سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار ہے۔

  • ابراہیم حیدری کے قریب کشتی ڈوب گئی،30 ماہی گیر تھے سوار

    ابراہیم حیدری کے قریب کشتی ڈوب گئی،30 ماہی گیر تھے سوار

    کراچی، افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے،کھلےسمندر میں ماہی گیروں کی کشتی ڈوب گئی ہے

    ترجمان کوسٹل میڈیا سینٹر کمال شاہ کا کہنا تھا کہ کشتی حجاموکری کےقریب کھلے سمندرمیں ڈوب گئی،کشتی میں 30 ماہی گیرسوارتھے، ماہی گیروں کاتعلق ابراہیم حیدری سےہے جو مچھلی کے شکار پر گئے تھے، ٹیموں کو ماہی گیروں کی تلاش کیلئے روانہ کیا گیا، ٹیموں نے پہنچ کر 30 ماہی گیروں کو تلاش کر لیا،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوش قسمت ماہی گیروں کو دوسری لانچ کے ذریعے ابراہیم حیدری لایا جا رہا ہے

    واضح رہے حجامڑو کریک کراچی اور ٹھٹھہ کا درمیانی علاقہ ہے جبکہ کراچی سے کشتی کے ڈوبنے کا مقام پانچ گھنٹے کی مسافت پر ہے