Baaghi TV

Tag: سمندر

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • دوران پرواز پائلٹ بے ہوش:اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گر کر تباہ

    دوران پرواز پائلٹ بے ہوش:اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ ایندھن ختم ہونے پر گر کر تباہ

    اسپین سے جرمنی جانے والا نجی طیارہ بے ترتیب اُڑان بھرتے ہوئے بالٹک کے سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا جب کہ کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے جہاز آٹو موڈ پر تھا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کی شام کو جب ایک نجی طیارہ اپنے راستے سے بھٹک کر لاتویا کے ساحل پر گر کر تباہ ہوا تو اس کی مدد کےلیے نیٹو کے جنگی طیاروں کو روانہ کیا گیا، تاہم انہیں کسی بھی زندہ شخص کا کوئی سراغ نہیں مل سکا حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے میں چار افراد سوار تھے۔

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    پرائیویٹ طیارے نے جنوبی اسپین سے جرمنی کے شہر کولون کے لیے پائلٹ، ایک مرد، ایک عورت اور ایک بچے ساتھ پرواز بھری تھی تاہم تھوڑی دیر بعد ہی طیارے میں کیبن پریشر کے مسائل پیدا ہوگئے اور کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    رابطہ منقطع ہونے کے بعد سے طیارہ مشکوک انداز میں بے ترتیب اُڑان اُڑ رہا تھا اور اپنی منزل سے بھٹک گیا تھا اور ایندھن ختم ہونے تک مسلسل پرواز کرتے ہوئے بالٹک پہنچا اور سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

    سمندر میں گرنے سے قبل جہاز کی رفتار تبدیل تھی اور وہ نہایت نچلی پرواز کر رہا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کا ایندھن ختم ہوگیا تھا۔ کاک پٹ میں پائلٹ نہیں تھا اور پائلٹ کے ساتھ والی کرسی پر ایک تکیہ رکھا تھا۔

    فلائٹ ریڈار 24 کی ویب سائٹ کے مطابق طیارے کو دو مرتبہ کولون اور پیرس کے درمیانی میں مڑتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس کے بعد بحیرہ بالٹک کے اوپر سے نکلتے ہوئے سویڈش جزیرے گوٹ لینڈ کے قریب سے گزرا۔

    سویڈش سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے سربراہ لارس اینٹونسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کےبعد نیٹو جنگی طیاروں جن میں جرمنی، ڈنمارک اور سویڈن کے طیارے شامل تھے حادثے کے شکار جہاز کے عملے سے بصری رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ طیارہ مستقل طور پر اڑتا رہا، یہاں تک کہ وہ لاتویا کے ساحل کے قریب پہنچ کر تیزی سے اونچائی کھو بیٹھا اور ”ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے” گر کر تباہ ہو گیا ابھی تک ”کوئی انسانی باقیات نہیں ملی ہیں ” اور اگرچہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ طیارہ کس وجہ سے تباہ ہوا، تاہم ”وہ جہاز میں واضح طور پر بے ہوش ہو گئے تھے۔

    "العربیہ” کے مطابق ایوی ایشن سیفٹی کے ماہر ہنس کجال نے سویڈش نیوز ایجنسی ٹی ٹی کو بتایا کہ کیبن پریشر کے مسائل کی وجہ سے طیارے کے تمام مسافر اپنا ہوش کھو بیٹھے ہوں۔ ایسا زیادہ اونچائی پر پرواز کرتے چھوٹے طیاروں میں بہت تیزی سے ہوسکتا ہے۔

    سویڈش کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہا کہ انہوں نے پانی پر تیل کے نشانات اور ملبے کے چھوٹے ٹکڑے دریافت کیے ہیں۔

    میانمارکی سابق سربراہ آنگ سان سوچی کوایک اورمقدمےمیں سزا سنادی گئی

    ایوی ایشن ماہر لارس اینٹونسن کا بھی کہنا تھا کہ دوران پرواز طیارے میں موجود تمام افراد بے ہوش ہوجانے کے باعث حادثہ پیش آنے کا امکان زیادہ ہے اس کے سوا کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی اگر اس کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ طیارہ حادثہ پائلٹ سمیت تمام مسافروں کے بے ہوش ہوجانے کے باعث پیش آیا تو یہ اس نوعیت کا چھٹا موقع ہوگا-

    آسٹریا میں جس کمپنی کے نام یہ ہوائی جہازدرج ہے اس کے مالک یا پھر کولون میں رجسٹرڈ جی جی رینٹ، نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ ماضی میں چار بار ایسا چھوٹے طیاروں اور ایک بار کمرشل جیٹ طیارے کے ساتھ پیش آچکا ہے بوئنگ 737 اگست 2005 میں یونان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    امریکا کا تائیوان کیلئے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں کا اعلان،چین کا شدید…

  • زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔

    یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-

    ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔

    او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔

    زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔

    یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید

    پیرس :فرانسیسی قانون سازوں کی برطانوی حکومت پرشدید تنقید ،اطلاعات کے مطابق تین فرانسیسی قانون سازوں نے شمالی سمندر میں کچے سیوریج کو پھینکنے کی اجازت دے کر ماحولیات، ماہی گیروں کی زندگی اور صحت عامہ کو زیادہ خطرے میں ڈالنے پر برطانیہ پر تنقید کی ہے۔

    اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان میں یورپی پارلیمنٹ کے فرانسیسی اراکین نے یورپی کمیشن پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر برطانیہ کے خلاف "سیاسی اور قانونی” اقدامات کرے۔

     

    وزیراعظم شہبازشریف کا سندھ حکومت کے لیے 15 ارب رو پے گرانٹ کا اعلان

     

    انہوں نے ماحولیات کے کمشنر ورجینیجس سنکیویسیئس کو ایک خط میں لکھا ہے کہ "ہم سمندری پانی کے معیار پر منفی نتائج سے خوفزدہ ہیں جو ہم اس ملک کے ساتھ بانٹتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سمندری حیاتیاتی تنوع کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور شیلفش فارموں پر بھی پڑتے ہیں،”

    یہ احتجاج اس وقت ہوا جب حال ہی میں انگلینڈ اور ویلز کے متعدد ساحلوں کو نہانے والوں کے لیے آلودگی کا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

    برطانیہ اب یورپی یونین کے قوانین کا پابند نہیں ہے، لیکن یہ ملک مشترکہ پانیوں کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے متعلقہ کنونشنز پر دستخط کرنے کے بعد بین الاقوامی صحت کے اصولوں کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں ،فرانسیسی قانون سازوں نے دلیل دی کہ بلاک چھوڑنے کے بعد سے اپنے ماحولیاتی وعدوں کو نظر انداز کرنے پر برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

     

    مریم نواز،رانا ثنا،مولانا فضل الرحمان اور دیگر کیخلاف توہین عدالت درخواست ناقابل سماعت قرار

    تینوں ایم ای پیز کا تعلق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی این مارچے پارٹی سے ہے۔ ان میں سے ایک، پیری کارلیسکنڈ، یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی ماہی گیری کمیٹی کے سربراہ ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ قلیل مدت میں سیوریج کے رساؤ سے فرانسیسی ساحل پر نہانے والے پانی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے سمندری حیاتیاتی تنوع، ماہی گیری اور شیلفش فارمنگ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    برطانیہ میں گندے پانی کے انتظام کے نظام کو پرائیویٹائز کر دیا گیا ہے، اس لیے بیت الخلاء سے گندے پانی کو سیوریج ٹریٹمنٹ کے لیے انہی پائپوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے جو بارش کے پانی کی طرح بالآخر دریاؤں اور انگلش چینل میں ختم ہو جاتا ہے۔

    ” قانون سازوں نے یہ بھی کہا ہے کہ شدید بارشوں کے بعد گھروں اور عوامی مقامات کو سیلاب سے بچانے کے لیے، نظام کو ایسا ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بغیر ٹریٹمنٹ شدہ سیوریج کو دریاؤں اور سمندر میں خارج کیا جائے۔”یہ حکومت اور ریگولیٹرز کے لیے صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ واضح ہے کہ پانی کی کمپنیاں کافی کام نہیں کر رہی ہیں۔ صحت عامہ کے خطرات ماحولیاتی اور ماحولیاتی اثرات کے علاوہ ہیں جو بہت زیادہ ضابطے کی بنیاد بناتے ہیں،

    بریکسٹ کے بعد سے انگلینڈ اور فرانس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے گزشتہ سال اکتوبر میں پیرس کے ساتھ تلخ ماہی گیری کے تنازعہ میں تجارتی تنازعہ کی کارروائی کو متحرک کرنے کی دھمکی دی تھی، جب کہ میکرون نے جانسن سے کہا کہ "قواعد کا احترام کریں۔”

  • سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھنے کے بعد اجنبی نے خاتون کی سمندر میں کھوئی انگوٹھی ڈھونڈ نکالی

    سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھنے کے بعد اجنبی نے خاتون کی سمندر میں کھوئی انگوٹھی ڈھونڈ نکالی

    امریکا : اجنبی نے خاتون کی سمندر میں کھوئی انگوٹھی ڈھونڈ نکالی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کےمطابق سمندر میں گِر جانے والی خاتون نے انگوٹھی سمندر میں گرنے والی انگوٹھی کو ڈھونڈنے کیلئے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کی تھی-

    29 سالہ خاتون فرانسِسکا ٹِیل کا کہنا تھا کہ رواں ماہ وہ نیو ہیمپشائر کے ایک قصبے ہیمپٹن میں نارتھ بیچ پر اپنے شوہر کے ساتھ تھیں جب فٹبال اچھالتے وقت ان کی انگلی سے شادی کی انگوٹھی پھسل کر سمندر میں کھو گئی یہ انگوٹھی ان کی پڑ دادی کی تھی گھنٹوں تک تلاش کرنے کے بعد بھی پانی میں انگوٹھی نہیں مل سکی۔

    فرانسِسکا ٹیل نے اپنے مسئلے کے متعلق فیس بک پر پوسٹ ڈالی ان کی پوسٹ ہزاروں بار شیئر کیے جانے کے بعد لو آسکی کی نظر اس پوسٹ پرپڑی جس پرامریکی ریاست وِنسکوائن کے شہر مارش فیلڈ کے رہائشی لو آسکی نے اپنا غوطہ خوری کا لباس پہنا اور انگوٹھی کی تلاش کے لیے سمندر میں اتر گئے شروع کے دو دن ان کی تلاش بے کار گئی۔

    شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا خاندان کو لندن سے منتقل کرنے کا فیصلہ

    لو آسکی کا کہنا تھا کہ وہ ناکامی کو پسند نہیں کرتے وہ واپس جا کر ایک بار اور کوشش کرنا چاہتے تھےیہی وہ موقع تھا جب ان کو سمندر کی تہہ میں انگوٹھی ملی انہوں نے فرانسِسکا ٹِیل کو ایک تصویر بھیجی اور لکھا کہ براہ کرام مجھے بتائیے کہ یہی وہ انگوٹھی ہے تاکہ میں سمندر سے باہر نکل سکوں۔

    فرانسِسکا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں یہ وہی انگوٹھی ہے لو آسکی نے فرانسِسکا کے گھر جا کر انگوٹھی ان کے حوالے کی جس پر فرانسسکا نے لوآسکی کا شکریہ ادا کیا-

    پارٹی ویڈیو اسکینڈل:فن لینڈ کی وزیراعظم کا منشیات ٹیسٹ منفی آگیا

  • کراچی : سی ویو پر 2 نوجوان ڈوب گئے

    کراچی : سی ویو پر 2 نوجوان ڈوب گئے

    کراچی میں سی ویو پر سمندر میں 2 نوجوان ڈوب گئے دونوں کزنز تھے-

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق غوطہ خوروں نے ایک نوجوان سونو کی لاش نکال لی ہے جبکہ دوسرے نوجوان دانیال کی تلاش جاری ہے ڈوبنے والے دونوں افراد کا تعلق پپری سے ہے دونوں نوجوان اہل خانہ اوردوستوں کےہمراہ پکنک منانےآئےتھے۔

    کوہلو: تیز بارش کے باعث گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی ،بچے سمیت 3 افراد سوار

    دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ لانڈھی کا رہائشی 6 سالہ فیصل بھی سمندر میں ڈوب گیا جس کی تاحال تلاش جاری ہے۔

    سمندر میں ڈوبنے والے لڑکوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ لڑکوں کی جان بچائی جا سکتی تھی، ریسکیو ٹیموں کو اطلاع بھی دی گئی تھی لیکن انتظامیہ نے فوری ایکشن نہیں لیا۔

    عید کی شاپنگ کیلئے جانے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد کی موت

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے کی تلاش کے بعد نوجوان سونو کی لاش ملی جبکہ لاپتا دانیال کی تلاش جاری ہے۔

  • بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ ملے، ماں نے تین بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا لی

    بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ ملے، ماں نے تین بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا لی

    بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ ملے، ماں نے تین بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں بچوں کے عید کے کپڑے نہ لانے پر خاتون نے بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا دی

    واقعہ کراچی کے علاقے میں سمندر کے قریب پیش آیا، خاتون نیٹی جیٹی پل پر آئی اور بچوں سمیت سمندر میں کود گئی، خاتون تین بچوں کے ہمراہ سمندر میں کودی، منظور کالونی کراچی کی رہائشی خاتون جس کا نام عائشہ سامنے آیا ہے کہ بارے میں کہا جا رہا ہے خاتون کا اپنے شوہر سے جھگڑا رہتا تھا، خاتون کے کہنے کے باوجود اسکا شوہر بچوں کے لئے عید کے کپڑے لے کر نہیں آیا اور کپڑے لینے سے بھی منع کر دیا،جس کی وجہ سے بچے پریشان تھے اور ماں سے بار بار عید کے لئے نئے کپڑوں کا تقاضا کر رہے تھے ماں نے بچوں کی ضد کے آگے ہار مان لی اور بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا دی،

    خاتون کو سمندر میں چھلانگ لگاتا دیکھ کر وہاں موجود شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دی ریسکیو ٹیم اور شہریوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ماں اور تینوں بچوں کو سمندر سے نکال کر ہسپتال پہنچایا ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماں اور بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے عائشہ کے گھروالے ہسپتال پہنچ گئے جہاں پولیس نے ماں اور بچوں کو ان کے حوالے کردیا ہے

    آلو چھولے بیچنے والا جعلی پیر بنا تو کیا سلوک کیا گیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • امریکا میں کشتی سمندر میں ڈوب گئی،39 افراد لاپتہ

    امریکا میں کشتی سمندر میں ڈوب گئی،39 افراد لاپتہ

    امریکی ریاست فلوریڈا میں کشتی سمندر میں ڈوب گئی، جس سے 39 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں –

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق حکام کو منگل کی صبح اس وقت الرٹ کیا گیا جب ماہی گیروں نے ایک شخص کو فورٹ پیئرس شہر سے 45 میل دور کشتی کے اوپر ایک شخص کو بیٹھے دیکھا زندہ بچ جانے والے نے بتایا کہ گروپ نے ہفتہ کی رات بیمنی، بہاماس سے روانہ کیا تھا لیکن وہ بدقسمتی سے خراب موسم کا شکار ہو گئے۔

    سیرکیلئے گئے سکول کے بچوں کی کشتی خانپور ڈیم میں ڈوب گئی

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشتی ’انسانی اسمگلنگ کے منصوبے‘ کا حصہ تھی زندہ بچ جانے والے شخص کے مطابق، جس کی شناخت نہیں ہوسکی، مسافروں میں سے کسی نے بھی لائف جیکٹ نہیں پہن رکھی تھی۔

    ایجنسی کی جانب سے ٹویٹر پر اطلاع دی گئی ہے کہ تلاش کی قیادت میامی کوسٹ گارڈ سیکٹر نے بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے کی تھی۔

    جزیرہ بیمنی بہاماس کا سب سے مغربی ضلع ہے، جو میامی سے صرف 80 میل دور ہے۔

    بحرِ اوقیانوس کو تنہا سَر کرنے کی کوشش میں 75 سالہ فرانسیسی مہم جو ہلاک

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سیرکیلئے گئے سکول کے بچوں کی کشتی خانپور ڈیم میں ڈوب گئی صادق آباد میں واقع مسلم انٹرنیشنل پبلک اسکول کے طلباء اساتذہ کے ساتھ خان پور ڈیم گھومنے گئے تھے کشتی ڈوبنے سے نجی اسکول کے ٹیچرز سمیت 34 افراد ڈوب گئے امدادی ٹیموں نے ڈوبنے والے طلباء اوراساتذہ سب کو ریسکیو کر لیا ،ایک استاد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی 33 افراد کو نکال لیا گیا ریسکیوٹیمیں امدادی کا موں میں مصروف ہیں-

    لاہور: مسافر وین گندے نالے میں گر گئی،4 بچوں سمیت 2 خواتین جاں بحق

    ریسکیو ذرائع کے مطابق نجی سکول کے بچے پکنک منانے کے لیے خانپور ڈیم آئے تھے کہ اچانک انکی کشتی ڈوب گئی، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچوں واساتذہ کو ریسکیو کیا-

    4 طلباء کی حالت تشویشناک ہے، صادق آباد میں واقع مسلم انٹرنیشنل پبلک اسکول کے طلباء اساتذہ کے ساتھ خان پور ڈیم گھومنے گئے تھے ریسکیو 1122 خانپور نے ایک خاتون ٹیچر ابتدائی طبّی امداد فراہم کرتے ہوئے کو خانپور ہسپتال منتقل کر دیا تاہم خاتون ٹیچر جانبحق ہوگئی۔ کشتی چٹان سے ٹکرانے کے بعد ڈوبی کشتی میں 8 اساتذہ سمیت 26 سٹوڈنٹ سوار تھے-

    شانگلہ میں لینڈسلائیڈنگ 9افراد دب گئے: دو بچے جاں بحق:سخت موسمی حالات

  • ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے سمندر کے اوپر منڈلانے والے ایک بالکل نئے قسم کے طوفان کو ’فضائی جھیل‘ کا نام دیا ہے اسے مغربی بحرِہند سے افریقی سمندروں تک جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان ہوائی بگولوں کی وجہ سے بنتا ہے جس کی رفتار بہت مدھم ہوتی ہے اور پانی کے وسیع ذخائر پر مشتمل یہ نظام بارش برسانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس کی تفصیلات امریکن جیوفزیکل یونین کی موسمِ خزاں کی حالیہ کانفرنس میں بیان کی گئی ہیں۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    رپورٹ کے مطابق سمندری ماحول کے عین اوپر اس سے قبل تنگ اور طویل فضائی کیفیات نوٹ کی گئیں جن میں پانی کی وسیع مقدار بھری ہوتی ہے جنہیں سائنسدانوں نے فضائی دریا کا نام دیا تھا عین نمی سے بھرپور یہ گول دائرے ہوتے ہیں جنہیں فضائی جھیل یا ایٹماسفیئرک لیک کہا گیا ہے فضائی جھیل پورے فضائی موسم سے الگ تھلگ کٹ کر رہتی ہے-

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    تحقیق کے مطابق نمی سے بھرے چھوٹے چھوٹے نظاموں کو افریقی ساحلوں تک جاتے ہوئےدیکھا گیا ہےجہاں یہ نیم بنجر علاقوں اور ساحلوں پربارش برسارہے ہیں ماہرین نے مسلسل 5 سال تک فضائی جھیلوں پر غور کیا ہے جو سست روی سے آگے بڑھتے ہیں اور طویل ترین طوفانی جھیل 27 روز تک برقرار رہی تھی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    5 سال میں مجموعی طور پر 17 جھیلوں کو دریافت کیا گیا ہے جو خطِ استوا کے اردگرد 10 ڈگری پر دکھائی دی ہیں۔ خیال ہے کہ دیگر علاقوں میں یہ فضائی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں وہ بڑے سائیکلون کی شکل اختیار کرلیتی ہیں سائنسدانوں نے فضائی جھیلوں کی تشکیل اور دیگر موسمیاتی کیفیات سے الگ ہونے کے سوالات پر بہت غور کیا ہے پہلا مفروضہ تو یہ ہے کہ شاید اندر کی جانب تیز ہوا سے یہ سب کچھ بنتا ہے اور دوم مجموعی فضائی اور موسمیاتی کیفیات اسے جنم دے رہی ہے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    سائنسدانوں کے مطابق کلائمٹ چینج کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ اندرونی قوت کے تحت ایک جگہ سے دوسرے ملک جاتے رہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے مشرقی افریقا کے ساحلی علاقوں میں بارشیں ہونے لگی ہیں لیکن بارشوں کی یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ایک مصنوعی جھیل پورے سال ایک کلومیٹر وسیع سوئمنگ پول کو چند سینٹی میٹر تک ہی بھر سکتی ہے۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک ایسے دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ” سائنس ” کے تازہ شمارے میں شائع کردہ ریسرچ کے مطابق اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    تحقیق کے مطابق اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ہے، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    ’ینگورم‘ کے رکازات 2011 میں دریافت ہوئے تھے جو خاصی حد تک مکمل کھوپڑی کے علاوہ کندھوں اور ریڑھ کی ادھوری ہڈیوں پر مشتمل تھےانہیں نیواڈا کے آگسٹا پہاڑ میں رکازات کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والی ایک وسیع چٹان کی کھدائی میں برآمد کیا گیا تھا۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    اس کا تعلق جس زمانے سے ہے، اس دور میں ڈائنوسار بھی بہت چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے جنہوں نے بہت بعد میں جا کر زیادہ جسامت حاصل کی اس کی لمبی تھوتھنی جیسی کھوپڑی اور اس میں باریک دانتوں کی باقیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سمندر میں تیرتے دوران چھوٹے آبی جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا۔

    البتہ، اس کی کھوپڑی پر ناک کے نتھنوں والے نشانات بھی بہت واضح ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مچھلی جیسا حقیقی آبی جانور نہیں تھا بلکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سطح سمندر پر آکر ہوا میں سانس لیا کرتا تھا اور واپس غوطہ لگا کر گہرائی میں چلا جاتا تھا ’ینگورم‘ کی جسامت موجودہ زمانے کی دیوقامت ’اسپرم وہیل‘ جتنی رہی ہوگی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت