Baaghi TV

Tag: سمندر

  • سمندر کے اندر آتش فشاں پھٹنے سے ایک نیا جزیرہ بن گیا

    سمندر کے اندر آتش فشاں پھٹنے سے ایک نیا جزیرہ بن گیا

    جاپان میں سمندر کے اندر آتش فشاں پھٹنے سے ایک نیا جزیرہ بن گیا ہے،لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ زیادہ دیر تک نہ چل سکے۔

    باغی ٹی وی: جاپان کے موسمیاتی ادارے جے ایم اے کے مطابق Iwo Jima کے قریب بحر الکاہل میں یہ نیا جزیرہ سمندر میں ابھرا ہے،یہ بے نام جزیرہ زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے کا نتیجہ ہےسمندر میں اس کے ابھرنے کی تصویر بھی جاری کی گئی ہےاس تصویر میں ایک دھماکے کےبعد سیاہ راکھ کےبادل کو جزیرے کےاوپر پھیلتے دکھایا گیا ہے گزشتہ سال سے اس خطے میں آتش فشانی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    واٹس ایپ میں نئے فیچر کا اضافہ

    ٹوکیو یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ یہ جزیرہ 30 اکتوبر کو آتش فشاں پھٹنے سے تشکیل پایا،ماہرین کا کہنا تھا کہ زیرسمندر اس چٹان کے بننے کا عمل کافی عرصے سے جاری تھا اور اب جا کر یہ سطح پر ابھری ہے،یہ جزیرہ Iwo Jima کے ساحل سے ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔

    چیف جسٹس نے اپنے متعدد انتظامی اختیارات رجسٹرارسپریم کورٹ کو تقویض کردیئے

    جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی کے آتش فشاں ڈویژن کے ایک تجزیہ کار یوجی اسوئی کے مطابق، اس کا قطر تقریباً 100 میٹر تھا اور سطح سمندر سے 20 میٹر تک بلندی تک پہنچ گیا، لیکن یہ جزیرہ سکڑ گیا ہے کیونکہ اس کی "ٹوٹ پڑی” سطح لہروں سے بہہ گئی ہے، اور آتش فشاں کی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔

    آئو جیما کے قریب آتش فشاں کے پھٹنا کوئی نئی بات نہیں ہے اور حالیہ برسوں میں سمندر کے نیچے اسی طرح کے پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں، لیکن ایک نیا جزیرہ ایک اہم پیشرفت ہے-

  • تیج سمندری طوفان،محکمہ موسمیات کے سائیکلون سینٹر کی جانب سےالرٹ جاری

    تیج سمندری طوفان،محکمہ موسمیات کے سائیکلون سینٹر کی جانب سےالرٹ جاری

    بحیرہ عرب کے جنوب مغرب میں تیج سمندری طوفان یمن کے ساحل سے ٹکراگیا

    رات گئے طوفان یمن کے ساحل سے گزرا،یمن کےساحلوں سے ٹکرانے کےبعد شدت کم ہوگئی،محکمہ موسمیات کے سائیکلون سینٹر کی جانب سے تازہ الرٹ جاری کر دیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ تیج طوفان کا رخ بحیرہ عرب کے مغرب سے شمال مغرب کی طرف رہےگا، تیج طوفان آج آہستہ آہستہ کمزور ہوکر ہوا کے کم دباو میں تبدیل ہوکر ختم ہوجائےگا، گزشتہ تین روز سے طوفان تیج بحیرہ عرب کےسمندر میں ہے،ہوا کے بھنور سے بننےوالا طوفان دو روز میں شدید تیز ہوا یمن کےساحل سے ٹکراکر کمزور کم ہوگیا

    محکمہ موسمیات سائیکلون سینٹرکے مطابق تیج طوفان آج مکمل ختم ہوجائےگا،تیج طوفان کےساتھ بنگال کے ساحل پر ہوا کا دباو تشکیل پارہاہے، بنگال کےساحل پر ہوا کےدباو میں اگلے چند روز میں شدید ہونے کی توقع ہے،یہ طوفان بھی پاکستان کے ساحلوں سے فاصلے پر ہیں،پاکستان اس سمندری طوفان سے محفوظ رہےگا

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

     کیٹی بندرسے شہریوں کا انخلا مکمل

    امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر الرٹ،مندروں میں دعائیں

  • زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف

    محققین نے زمین کی پرت کے نیچے ایک بہت بڑے سمندر کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، محققین کئی دہائیوں سے اس گمشدہ گہرے پانی کی تلاش کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: محققین کا کہنا ہے کہ زمین کے 400 میل اندر ”رنگ ووڈائٹ“ کے نام سے مشہور چٹان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے زمین کی سطح ”مینٹل“ کے اندر پانی سپنج جیسی حالت میں ذخیرہ ہوتا ہے، جو کہ مائع، ٹھوس یا گیس نہیں بلکہ چوتھی حالت ہے۔

    جیو فزیسسٹ سٹیو جیکبسن نے کہا کہ رنگ ووڈائٹ ایک سپنج کی طرح ہے، جو پانی سے بھیگا ہوا ہے، رنگ ووڈائٹ کے کرسٹل ڈھانچے کچھ خاص ہے جو اسے ہائیڈروجن کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور پانی کو پھنسنے کی اجازت دیتا ہے مینٹل کے گہرے حالات میں اس معدنیات میں بہت زیادہ پانی ہو سکتا ہے‘مجھے لگتا ہے ہم آخر کار زمین کے مکمل واٹر سائیکل کا ثبوت دیکھ رہے ہیں، جو ہمارے قابل رہائش سیارے کی سطح پر مائع پانی کی وسیع مقدار کی وضاحت کرنے میں مدد کر سکتے ہیں-

    19 لاکھ اسکوائر میل رقبے پر پھیلے دنیا کے 8ویں گمشدہ براعظم کا نقشہ تیار

    محققین نے یہ نتائج اس وقت زلزلوں کا مطالعہ کرنے کے دوران اخذ کیے جب انہوں نے پایا کہ سیسمومیٹر زمین کی سطح کے نیچے جھٹکوں کی لہریں ریکارڈ کر رہے ہیں اس سے، وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ پانی اس چٹان میں موجود ہے جسے رنگ ووڈائٹ کہا جاتا ہے اگر چٹان میں صرف ایک فیصد پانی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سطحِ زمین کے نیچے سمندر سے تین گنا زیادہ پانی ہے-

    بھارت کا کینیڈا کے سفارتکاروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی کا حکم

  • چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چینی سائنسدانوں اورانجینئرزنے بحیرہ جنوبی چین میں سمندری تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے آلے کا آف شور ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 20 کلو واٹ کا آلہ، بنیادی طور پر چائنا جیولوجیکل سروے کے براہ راست کنٹرول میں گوانگزو میرین جیولوجیکل سروے (GMGS) کے ذریعے تیار کیا گیا، ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد، جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے کے دارالحکومت گوانگزو کو واپس کر دیا گیا ٹیسٹ کے دوران، ڈیوائس نے چار گھنٹے اور 47 منٹ تک بجلی پیدا کی، جو 16.4 کلو واٹ کی زیادہ سے زیادہ پاور آؤٹ پٹ تک پہنچ گئی۔

    جی ایم جی ایس کے ایک سینئر انجینئر ننگ بونے بتایا کہ آف شور ٹیسٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ سمندری تھرمل انرجی پاور جنریشن سسٹم کی عملداری کے ساتھ ساتھ اس کے موثر طورسے کام کرنے کی تصدیق کی گئی، جو کہ ملک کی جانب سے سمندری تھرمل توانائی کو ترقی اور استعمال کرنے،زمینی جانچ کے مرحلے سے لے کر آف شور ایپلی کیشنز تک کی جاری کوششوں میں اہم قدم ہے۔

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ننگ کے مطابق،سمندری حرارتی توانائی سطح اور گہرے سمندری پانی کے درمیان درجہ حرارت کے فرق کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، اس طرح یہ قابل تجدید توانائی کا ایک ذریعہ ہے چین سمندری تھرمل توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن متعلقہ تحقیق پہلے لیبارٹری اور زمینی جانچ کے مرحلے میں رہی تھی۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

  • مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    قاہرہ: مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک سبز ہو گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شمالی مصر کے پورٹ سعید گورنری میں ساحل سمندر پر جانے والوں کو ایک عجیب و غریب واقعے نے اس وقت ششدر کر دیا جب سمندر کا پانی اچانک سبز رنگ میں بدل گیا سمندر کا پانی تبدیل ہونے پر قریب رہائش پذیر لوگ پریشان اور تشویش کا شکار ہو گئے۔

    پورٹ سعید گورنری کے ساحلوں پر سیر کرنے والے شہری حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ سمندر کا پانی بعض مقامات پر ہلکا سبز اور بعض جگہوں پر گہرا سبز ہو گیا اس کیفیت کو دیکھ کر بہت سے لوگ خوف زدہ ہو گئے۔

    پورٹ سعید یونیورسٹی میں سائنس کی فیکلٹی نے سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہونے پر کہا کہ سائنس کالج کے ڈین ڈاکٹر فرید ابراہیم ال الدسوقی نے میرین سائنسز کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسماعیل کی سربراہی میں ماہرین کو فوری طور پر ساحل سمندر پر جانے کی ہدایت کی اور اس واقعے کی پوری رپورٹ لکھنے کو کہا۔

    کالج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ پورٹ سعید کے مشرقی ساحلی علاقے، مشرق میں فشنگ کلب کے سامنے سے لے کر مغرب میں پولیس کلب تک اچانک پانی کا رنگ بدل کیا۔

    کالج نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ یہ عوامل پچھلے کچھ دنوں سے دیکھنے میں آ رہےہیں کلوروفیٹا یا ’طحالب‘ کے سبز جھرمٹ ساحلی پٹی تک پھیلے مگر پٹی کی چوڑائی چند میٹرسے زیادہ نہیں عموماً اس کی چوڑائی 5 سے 20 میٹر ہےتاہم ان طحالبی جھرمٹوں کا حجم سمندری دھاروں کی شدت، لہروں کی شدت اور نوعیت اور گہرائی کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

    کالج کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سمندری لہریں ان طحالبوں کو ساحل کی ریت پر پھینک دیتی ہیں۔ پھر وہ آہستہ آہستہ سوکھ کر مر جھا جاتی ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ساحل کے حالات اور پانی میں اضافے کی وجہ سے یہ غائب ہو جاتی ہیں۔

    کالج نے تصدیق کی کہ یہ مظہرخطرات سے محفوظ ہے اوراس سے کسی قسم کی ماحولیاتی آلودگی کا کوئی خطرہ نہیں ان کے بارے میں فیلڈ ٹیسٹ اور پانی کےنموں سے ان کی جانچ کی جا چکی ہے،عموماً اس طرح کا منظر سبز طحالب کے اچانک جمع ہونے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، نامیاتی غذائی اجزاء میں اضافے اور سمندری دھاروں کی شدت میں اضافہ وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہےتاہم یہ منظرکچھ دنوں تک جاری رہے گا، پھر غائب ہوجائے گا۔

  • سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    لندن: ایک سمندری ٹیکنالوجی اور ریسرچ فرم ڈیپ(DEEP) ریسرچ لیبز کے سائنسدانوں نے ویلز کے ساحل پر سطح سے 660 فٹ نیچے ایک بیس بنانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے جہاں محققین ایک وقت میں 28 دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی ماہرین نے ویلز اور برطانیہ کےقریب پانی کی گہرائی میں ایک مستقل تحقیق اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ’ڈیپ‘ کے نام سے 2027 تک مکمل ہو جائے گا جو 80 میٹر گہرے پانی میں بنایا جائے گا اس کی کل لمبائی600 میٹر ہوگی برطانیہ اور ویلز کےدرمیان ایک مناسب، پرسکون اور اونچی امواج سے محفوظ مقام کا انتخاب کیا گیاہے یہاں پانی بہت صاف ہے اورمحلِ وقوع کی بنا پر سمندری ٹیکنالوجی کے کئی اداروں کے قریب واقع ہوگا اطراف میں ہی برطانیہ کی کمرشل اور ڈائیونگ صنعتیں بھی واقع ہیں۔

    ڈیپ پروجیکٹ کا مرکزی منصوبہ ’سینٹینل‘ ہے جو ایک کیپسول نما ڈیزائن ہے اسے چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے، بار بار تبدیل کیا جاسکتا ہے اور دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے، سائنسدانوں کی انفرادی ضروریات کے لحاظ سے اس میں ردوبدل ممکن ہوگا، کمپنی نے اسے سمندری دیہات کا نام دیاہےسب سے بڑھ کر یہ سمندری لہروں اور اتھل پتھل سے محفوظ رہے گا اور اطراف کے ماحول کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا یہ ‘ایپیپلاجک زون’ تک وسیع رسائی فراہم کرے گا، جہاں 90 فیصد سمندری حیات پائی جاتی ہے۔

    شمالی وزیرستان :دہشتگردوں اورسیکیورٹی فورسزکےدرمیان فائرنگ،نوجوان شہید

    ڈیپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صرف سطح سے دراندازی کرنے کے بجائے سمندر کے اس حصے کے مکمل طور پر دریافت کرنے کے قابل ہونا سائنسدانوں کے سمندروں کا مشاہدہ، نگرانی اور سمجھنے کے طریقے میں ایک قدمی تبدیلی کی نمائندگی کرے گا،ایپی پیلیجک زون کو اکثر سورج کی روشنی کا زون کہا جاتا ہے، اور یہ سطح سے نیچے 660 فٹ (200 میٹر) تک پھیلا ہوا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے وضاحت کی کہ یہ اس زون میں ہے جہاں زیادہ تر نظر آنے والی روشنی موجود ہےاس کے ساتھ سورج کی روشنی سورج سےگرمی آتی ہے جو موسموں اور عرض البلد دونوں کے ساتھ اس زون میں درجہ حرارت میں وسیع تغیرات کے لیے ذمہ دار ہے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت خلیج فارس میں 97F (36C) سے لے کر قطب شمالی کے قریب 28F (-2C) تک ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی

    اگرچہ سائنسدان اس زون کو آبدوزوں پر تلاش کر سکتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر ایک وقت میں گھنٹوں پانی کے اندر رہ سکتے ہیںDEEP کے صدر سٹیو ایتھرٹن نے کہا کہ ہمیں سمندروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے دنیا کو جن نسلی چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں سے بہت سے سمندروں کے مرکز میں ہیں، اور وہ ایسے مواقع بھی پیش کرتے ہیں جن کو ہم نے سمجھنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔

    پہلے روبوٹک بازوؤں سے فولادی انفراسٹرکچر پانی میں اتاراجائےگا جس میں تھری ڈی پرنٹنگ سے بھی مدد لی جائےگی یہاں سائنسدانوں کے رہنے اور تحقیق کی جگہیں بھی بنائی جائیں گی اس میں ہرکیپسول نما ماڈیول کا قطر 6 میٹر تک ہوگا جو بوئنگ 777 ہوائی جہاز کی طرح ہی ہوگا یہاں تک کہ سیاح بھی یہاں آسکیں گےلیکن اس کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ زمین کی طرح سائنسداں پانی میں رہ کرآسانی سے تحقیق کرسکیں جو بین الاقوامی مرکز بھی ہوگا۔

    کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

  • دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی : 200 سے زیادہ بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدانوں نے ایک کھلا خط شائع کیا جس میں سمندر پر مبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کی تحقیق اور ترقی کو ترجیح دینے اور تیز کرنےکی ضرورت کی توثیق کی گئی خط میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سمندروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی اور خطرات اور فوائد کو بہتر طور پر سمجھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

    دنیا بھر کے سائنسدانوں، بحری حیاتیات داں اور آب و ہوا کے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں،بالخصوص سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجذاب کو روکنے کی ضرورت ہےیہ خط اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے پہلے جاری کیا گیا ہے جو نیویارک میں منعقد ہوگا اس خط پر ماہرین کے دستخط بھی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ سمندروں پرمبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے یا ’اوشن بیسڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ ریموول (اوسی ڈی آر) پر تحقیق اورکوششوں کو تیزترکیا جائےاس کا مطلب یہ ہےکہ کسی بھی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سمندروں میں جذب ہونے سے روکا جائے۔

    سعودی ولی عہد،جی 20 اجلاس کے فوری بعد واپس نہیں جائیں گے

    ماہرین نے کہا کہ اسی تناظر میں ہم آب وہوا میں تبدیلی کے کے خوفناک مظاہر بھی دیکھ چکے ہیں اور اس سال کئی گرم ترین تاریخی دنوں کا مشاہدہ بھی ہوا ہے اس کی صاف وجہ ہے کہ کاربن جمع ہونے سے عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) بڑھ رہی ہے،ہم فضا میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کررہے ہیں اس سے زمین کا حساس نظام متاثرہورہا ہے اور عالمی سمندر اپنی استطاعت سے 50 گنا زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کررہے ہیں اس طرح سمندری درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اس کی تیزابیت بڑھ رہی ہے یوں سمندری حیات پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ہر راستے کو روکنے کی بھی ضرورت ہے۔

    دستخط کرنے والے سائنسدانوں نے بھی کہا ہے وہ اس ضمن میں اپنی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے نئے طریقوں، قانون سازی اور فریم ورک پربھی زوردیا ہے۔ خط کے مطابق سمندروں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار بنانا بہت ضروری ہے خط میں عالمی رہنماؤں پر زوردیا گیا ہے وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

    جی 20 سربراہی اجلاس،رکشے میں بارودی مواد کی اطلاع پر پولیس کی دوڑیں

    ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے صدر اور ڈائریکٹرپیٹر ڈی مینوکل، جس نے کھلے خط پر دستخط کیے نے کہا آئی پی سی سی نے واضح کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کے لیے اس صدی میں بڑے پیمانے پر CO2 کو ہٹانے کی ضرورت ہوگی لہذا، یہ ضروری ہے کہ ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کے تمام راستوں کی ذمہ دارانہ تحقیق، ترقی اور جانچ کو تیز کریں، بشمول سمندر میں، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کون سے نقطہ نظر بالآخر محفوظ، مساوی اور قابل عمل ہو سکتے ہیں-

    کھلے خط کے دستخط کنندگان تحقیق کو آگے بڑھانے، اختراع کو فروغ دینے، اور ایسے پالیسی فریم ورک کی وکالت کرنے کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ تحقیق اور جانچ کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابل عمل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلی کے عمل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ خط میں اخراج کو کم کرنے کی بنیادی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں کاربن کو ہٹانا 1.5 ڈگری سیلسیس کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

  • ،سمندر ہمارے پاس ہے لیکن پینے کے پانی سے محروم ہیں،گورنر سندھ

    ،سمندر ہمارے پاس ہے لیکن پینے کے پانی سے محروم ہیں،گورنر سندھ

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پاکستان نیوی ڈے کے موقع پر گورنمنٹ بوائز،گرلز سیکنڈری اسکول یونس آباد ماری پور کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ پاکستان نیوی جیسا ادارہ ہمارے پاس موجود ہے جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ہم کو بھولا نہیں ہے

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ پاکستان نیوی کی جانب سے مزید اسکولز گود لینا خوش آئند ہے ۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنے حصے کا کام کیا ہے ،ہم آج بھی وہی کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے،ہم نے ترقی اس لئے نہیں کی کہ ہم فرقوں میں تقسیم ہوچکے ہیں ،اتنے برسوں میں ہم نے پایا کچھ نہیں صرف کھویا ہی کھویا ہے ،ہم ایک قوم بن کر دیکھیں حالات ضرور ٹھیک ہوں گے ،سمندر ہمارے پاس ہے لیکن پینے کے پانی سے محروم ہیں ،ان سب مسائل کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہمیں تقسیم کردیا گیا ہے

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ یہاں موجود اساتذہ پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی بحیثیت قوم تربیت کریں صحیح اور غلط کی پہچان بتائیں قومی ترانے پر کھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی ضروری ہے میں ایچ ای سی کی طرز پر پرائمری ایجوکیشن کمیشن کے قیام کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے ایک اچھی تربیت یافتہ نسل تیار کریں کراچی گرامر اسکولز اور ایچ سن کالج جیسے ادارے ہر شہر میں ہونے چاہیے ہمارے بچے سولہ سال کی پڑھائی کے بعد بھی بیروزگار ہیں ہمیں ایک قوم بننا ہے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے مسائل حل ہوتے چلے جائیں گے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوں گے لوگوں کی خدمت کے لیے اختیار کی نہیں نیت کی ضرورت ہوتی ہے

    بھارت جی 20 کی صدارت کا غیرقانونی استعمال کررہا. وزیر خارجہ

    جی 20 اجلاس میں شرکت کے لئے نائیجریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو بھارت پہنچ گئے ہیں

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    وزیراعظم مودی نے کابینہ اراکین کے لئے ایس او پیز جاری کی ہیں

  • اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا

    اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا

    دبئی میں یوم آزادی کا انوکھا اور انمول جشن ،خاور اقبال نامی اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا-

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں 76 ویں یوم آزادی کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں، گلی، محلوں میں جیسے سبز ہلالی پرچموں کی بہار آ گئی ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد پرچم اور جھنڈیوں کی خریداری کر رہی ہے۔ قومی پرچم، جھنڈیوں، بیجز اور دیگر آرائشی اشیاء کی فروخت کے لئے جگہ جگہ عارضی اسٹال لگائے گئے ہیں-

    ہر کوئی جشن آزادی کو لے کر انتہائی پرجوش دکھائی دیتا ہے ، مہنگائی کے باوجود شہریوں میں جشن آزادی منانے کے حوالے سے جوش و خروش میں کوئی کمی نظر نہیں آتی جہاں ملک بھر میں جوش و خروش سے تیاریاں جاری ہیں وہیں اوورسیز پاکستانی بھی پاکستان کا یوم آزادی بھر پور طریقے سے منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں،خاور اقبال نامی اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    لال حویلی کے باہر تجاوزات کے خلاف آپریشن،شیخ رشید آگ بگولہ ہو گئے


    سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق قومی پرچم سمندر کی تہہ میں لہرانے کیلئے خاور اقبال نے تین ماہ کی خصوصی ٹریننگ حاصل کی جس کے بعد پاکستانی پرچم بحیرہ عرب کی تہہ میں لہرانے میں کامیاب ہو گئے، خاور اقبال نے پاکستانی پرچم کو سیلوٹ کیا اور پاکستان کی سربلندی کیلئے سمندر کی تہہ میں دعا کی۔ خاور اقبال نے جشن آزادی پر پورے قوم کو مبارک باد دی اور پاکستان اور پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو سراہا-

    پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

  • ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ہزاروں گاڑیوں سے لدے بحری جہاز میں آگ لگ گئی،عملے نےسمندر میں چھلانگ لگا دی

    ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ کے قریب گاڑیوں سے لدے بحری کارگو جہاز میں اچانک آگ لگ گئی۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے جزیرے ایملینڈ کے ساحل کےقریب 3 ہزار گاڑیاں لے جانے والے کارگو بحری جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور عملے کے ارکان سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے جہاز کے عملے کے کچھ افراد نے آگ سے بچنے کے لیے 100 فٹ کی اونچائی سے سمندر میں چھلانگ لگائی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ ایملنیڈ کے ڈچ جزیرے کے قریب پیش آیا جہاں ایک کارگو جہاز میں 3 ہزار گاڑیاں موجود تھیں۔ ڈچ کوسٹ گارڈ کے مطابق پاناما کے کارگو شپ میں 25 الیکٹرک گاڑیوں سمیت 2 ہزار857 گاڑیاں جرمنی سے مصر لے جائی جا رہی تھیں، جہاز میں عملہ بھی موجود تھا اور آگ کے نتیجے میں جہاز کا ملاح ہلاک اور 22 افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں سانس میں دشواری، جھلسنے سمیت دیگر زخموں کی وجہ سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے یہ حادثہ بحیرہ شمالی کے ایسے علاقے میں پیش آیا ہے جسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے-

    جوبائیڈن انتظامیہ کی پناہ گزینوں پر عائد کی گئی پابندیاں معطل

    حکام کے مطابق عملے نے پہلے اپنے طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جہاز میں لگی آگ بجھانے کے لیے بحیرہ شمالی میں بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور خدشہ ہے کہ آگ پر قابو پانے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈچ کوسٹ گارڈ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ جہاز میں موجود 25 الیکٹرک گاڑیوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے پیش آیا ہےجہاز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اطراف میں پانی ڈالا جا رہا تھا لیکن ریسکیو کشتیوں نے ڈوبنے کے خطرے کی وجہ سے جہاز پر بہت زیادہ پانی ڈالنے سے گریز کیا۔

    امریکا کےپاس خلائی طشتریاں اورخلائی مخلوق کی لاشیں موجود ہیں،سبق انٹیلیجنس افسر

    آگ لگنےکی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم امکان ہے کہ آتشزدگی کی وجہ الیکٹرک گاڑی ہو سکتی ہے۔ جہاز پر تقریبا 25 گاڑیاں برقی تھیں۔ تین ہزار گاڑیوں سے لدا بحری کارگو جہاز منگل کو شمالی جرمنی سے مصر کے شہر پورٹ سعید کے لیے روانہ ہوا تھا۔