Baaghi TV

Tag: سندھ اسمبلی

  • سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج،  جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج، جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی:جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہراحتجاج دھرنے اورہنگامہ آرائی کے خلاف آرام باغ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مقدمہ 34 نامزد ملزمان سمیت 325 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا سرکارمدعیت میں مقدمے میں ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ،سڑک بند کرنے،کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگردفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔

    احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس ایکشن کے دوران جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس افسران و ملازمان زخمی بھی ہوئے۔

    مقدمے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئیر قیادت صفیان دیلا،عثمان شریف ، فیضان ،جواد شعیب اوردیگرنامعلوم سینیئرقیادت دھرنے اوراحتجاج کی سرپرستی کررہے تھےاوراپنی تقریروں کے ذریعے اشتعال پھیلاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔

    احتجاج میں 300 سے 325 افراد شامل تھے دوران تقریراوردھرنے میں شامل افراد جو کہ ڈنڈوں ، لاٹھیوں اوراسلحہ سے مسلحہ ہوکراچانک مشتعل ہوگئے بلوا اورہنگامہ آرائی پراترآئے اورپولیس پرحملہ بول دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر راجہ مسعود،ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی ،ایس ایچ او انسپکٹر شاہ فیصل خان ، پو لیس کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے۔

    متن کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اینٹی رائٹ کا استعمال کیا گیا اورمیگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہنگامہ آرائی نہ کریں اور منتشرہوجائیں لیکن ہجوم مشتعل رہااس کے بعد گیس شیلوں کے ذریعے ہجوم کومنشر کیا گیا۔ دوران ہنگامہ آرائی 30 افراد کوگرفتار کیا گیا جبکہ دیگر نامعلوم موقع پر سے فرار ہو گئے۔

    موقع پرسے 30 بور پستول کے 5 چلیدہ خون ، نائن ایم ایم پستول کے 5 چلیدہ خول ، 15 ڈنڈے ، مختلف سائز کے 35 پتھر،79گیس شیل کے خول پولیس قبضے میں لیے گئیے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے جس سے گورئمنٹ پراپرٹی کو نقصان ہوا۔

  • ارکان سندھ اسمبلی  کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

    ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

    سندھ اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر ضیاء لنجار کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل ایوان میں تمام جماعتوں کی حمایت سے منظور ہوا۔

    اس کے ساتھ ہی ضیاء لنجار نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترامیم پر مبنی اینٹی ٹیرارزم سندھ ترمیمی بل 2025 بھی اسمبلی میں پیش کیا، جو ایوان نے بغیر کسی مخالفت کے منظور کرلیا۔بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے ضیاء لنجار نے کہا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے کسی ایک نام کی سفارش پر جج مقرر کرنا مشکلات پیدا کرتا ہے، ہمیں ججوں کی تعیناتی کے لیے زیادہ آپشنز ملنے چاہئیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ انسداد دہشتگردی عدالتوں میں بعض اوقات 72 سالہ ججز بھی تعینات ہوتے ہیں، حالانکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے، جو عملی مسائل کا باعث بنتی ہے۔

    اسمبلی اجلاس میں منظور کیے گئے دونوں بلز کو اہم قانون سازی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تنخواہوں میں اضافے پر عوامی سطح پر تنقید کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    جرمنی کا اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی سے انکار، غزہ پالیسی پر کڑی تنقید

    مودی ،پیوٹن رابطہ، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    بنوں ،سیکیورٹی فورسز کا بڑا ایکشن، 14 سہولت کار گرفتار، 3 ٹھکانے تباہ

  • سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور

    سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور

    کراچی:سندھ اسمبلی نے اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قادر شاہ کی صدارت میں ہوا جہاں صوبائی وزیرپارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل 2025 پیش کر دیا،وزیرپارلیمانی امور ضیاالحسن لنجار کی جانب سے پیش کیا گیا مذکورہ بل ایوان میں بل کی مرحلہ وار منظوری دی گئی اور تمام اراکین اسمبلی نے بل کی متفقہ حمایت کی۔

    پارلیمانی وزیر ضیاء لنجار نے ایوان میں سندھ بورڈز آف انٹر میڈیٹ و سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیم) بل 2025 ایوان میں پیش کردیا اور کہا کہ یہ بل اس لیے لائیں ہیں کہ 1972کے آرڈیننس میں چیئرمین بورڈ کا عہدہ 20 یا 21 گریڈ کا ہے لیکن اب گریڈ 20 اور 21 کے افسران کو بھی چیئرمین بورڈ لگایا جاسکے گا، اس بل کا مقصد اچھے افسران کو بورڈز میں تعینات کرنا ہے، اس سے بورڈز کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

    مودی نے عاصم منیر سے ملاقات سے بچنےکیلئے ٹرمپ کی دعوت قبول نہیں کی، بلوم برگ

    رکن اسمبلی صابر قائم خانی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بورڈز کی حالت بہتر ہونی چاہیے، جب بورڈز کے حوالے سے بات ہوئی تو ہم نے کمیٹی کے اجلاس میں تجاویز دی تھیں لیکن ہماری تجاویز کو اہمیت نہیں دی گئی، بورڈز کی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور اس بل کو کمیٹی میں بھیج کر دوبارہ اس پر بحث کرنی چاہیے۔

    ضیا لنجار نے کہا کہ حکومت کو یہ ترمیم لانا ہی اس لیے پڑی کہ اچھے افسران موجود ہیں، انہیں بورڈز میں تعینات کیا جاسکے گااور ایوان نے بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، اس بل کے ذریعے ہائی کورٹ کسی ایک شخص کا نام بھیجتا ہے، جج لگانے کا تو ہمیں مشکل کا سامنا ہوتا ہے، ہمارے پاس زیادہ آپشن ہونے چاہئیں جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65 ہے لیکن یہاں 72 سال عمر کے جج بھی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج لگے ہوتے ہیں، جس سے ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ضیا لنجار نے ایوان میں اینٹی ٹیرازم سندھ ترمیمی بل 2025 پیش کردیا۔

    بھارت روسی تیل کی درآمدات میں کمی کرنے پر آمادہ

  • بلوچستان میں جوڑے کاقتل: سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع،پاکستان علماء کونسل کا بھی موقف جاری

    بلوچستان میں جوڑے کاقتل: سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع،پاکستان علماء کونسل کا بھی موقف جاری

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی خواتین اراکین نے سندھ اسمبلی میں بلوچستان میں جوڑے کے بہیمانے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرادی۔

    بلوچستان میں جوڑے کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ جاوید اور ہیر سوہو نے جمع کروائی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وحشیانہ عمل آئین پاکستان کے خلاف ہے اور مذکورہ قرارداد میں قتل کے عمل کو غیر اسلامی اور غیر ثقافتی قرار دیا گیا ہے۔

    اراکین صوبائی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کرے،غیرت کے نام پر اس طرح کے واقعات کی اجازت نہیں دی جا سکتی سندھ اسمبلی کا ایوان بلوچستان میں ایک جوڑے کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہے، وحشیانہ قتل اسلامی تعلیمات، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کے خلاف ہے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام ملوث افراد کو جلد سزا دی جائے۔

    دوسری جانب پاکستان علماء کونسل نے بلوچستان میں قتل ہونے والی خاتون کے والدین کی طرف سے آنے والے بیان کو قرآن و سنت اور پاکستان کے آئین اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ قتل میں والدین کی مرضی شامل تھی۔

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل و سیکریٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا حافظ مقبول احمد ، علامہ طاہر الحسن، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا محمد اشفا ق پتافی، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا مبشر رحیمی اور دیگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومت بلوچستان، بلوچستان کی عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ قتل کرنے والوں کے سہولت کاروں کے خلاف ایکشن لیں۔

    بیان میں کہا گیاکہ والدین کا یہ بیان قرآن و سنت کے احکامات اور پاکستان کے آئین اور دستور کے خلاف ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے، شریعت اسلامیہ یہ حکم دیتی ہے کہ اگر کسی ظلم میں کوئی بھی قریبی عزیز بھی شامل ہو تو اس کو بھی سزا ملنی چاہیے والدین کے بیان میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ خاتون کے قتل میں والدین کی مرضی شامل تھی جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور اس حوالے سے مکمل تحقیقات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں ہوگی،بلوچستان میں قتل مرد،عورت کے والدین بھی قاتلوں کو معاف کرنا چاہیں تو یہ کسی صورت جائز نہیں، شریعت بھی اس طرح کے قاتلوں کو معافی کا حق نہیں دیتی، عورت کے والدین کو بھی اس قتل ناحق میں مجرم تصور کرنا ہوگا۔

    والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    واضح رہے کہ پاکستان علماء کونسل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ مقتولہ کی والدہ نے اپنے جاری بیان میں کہا تھا یہ کوئی بے غیرتی نہیں تھی بلکہ بلوچ رسم و رواج کے مطابق کیا گیا بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی، بلوچی معاشرتی جرگے کے ذریعے بانو کو سزا دی گئی، ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، ہم نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ نہیں، بلکہ بلوچی جرگے میں کیا،میں اپیل کرتی ہوں کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

  • پنجاب اور سندھ  اسمبلیوں میں بھارتی جارحیت کیخلاف قراردادیں

    پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں بھارتی جارحیت کیخلاف قراردادیں

    بھارتی جارحیت کے خلاف صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں جمع کرائی گئی ہیں، دشمن کومنہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد کی جانب سے بھارتی بزدلانہ حملے کے خلاف قرارداد جمع کرائی گئی، جس میں کہا گیا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت کو اس بزدلانہ حملے کے بدلے میں منہ توڑ جواب دیا جائے یہ ایوان بھارت کی جانب سے رات کی تاریکی میں کیے گئے بلااشتعال اور بزدلانہ حملوں اور اس میں معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی مذمت کرتا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان پاکستان کی مسلح افواج کی بروقت، مؤثر اور جرأت مندانہ جوابی کارروائی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہے پاک فوج نے دشمن کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے 5 طیارے اور چیک پوسٹیں تباہ کردیں۔

    قرارداد کے مطابق پاک فوج نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا یہ ایوان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان کو بھارتی بزدلانہ حملے کا رات کو ہی فوری جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے اور ہماری افواج کو کامیابی عطا فرمائے۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن سعدیہ جاوید نے سندھ اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرارداد جمع کرائی، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی جارحیت پاکستان کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہےمعصوم شہری، خواتین اور بچے بھارتی بزدلانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں، بھا رتی حملے انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، پاکستانی افواج کو مؤثر اور مکمل جواب دینے کا اختیار حاصل ہے۔

    سندھ اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد کے مطابق قوم دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے ایوان اور حکومت سندھ پاک افواج اور حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں یہ حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، پاکستان زندہ باد ۔

  • پیپلز پارٹی کے وقار مہدی سندھ سے سنیٹر منتخب  ہو گئے

    پیپلز پارٹی کے وقار مہدی سندھ سے سنیٹر منتخب ہو گئے

    سندھ اسمبلی میں سینیٹ کے ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار وقار مہدی 111 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب مدمقابل امیدوار ایم کیو ایم کی نگہت مرزا نے 36 ووٹ حاصل کیے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پیپلز پارٹی کے وقار مہدی نے 111 ووٹ لے کر سندھ سے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔وقار مہدی کے مد مقابل ایم کیو ایم پاکستان کی امیدوار نگہت مرزا تھیں جنہیں صرف 36 ووٹ ملے۔ریٹرننگ افسر صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 149 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 2 ووٹ غلط مارکنگ کے باعث مسترد ہوئے۔
    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

    اس سے قبل، پیپلزپارٹی کے وفد ناصر حسین شاہ کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے سینیٹ کی خالی نشست پر ایم کیو ایم سے دستبردار ہونے کی درخواست کی تھی تاہم، ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی میں مشاورت کے بعد سینیٹ میں مرحوم تاج حیدر کی خالی نشست پر الیکشن کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی حمایت سے انکار کردیا تھا۔واضح رہے کہ 08 اپریل کو پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور بزرگ سیاستدان سینیٹر تاج حیدر مختصر علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے.

    برطانوی سپریم کورٹ،اے آر وائی کے سلمان اقبال "جیوٹی وی”کیخلاف مقدمہ ہار گئے

    پی ٹی آئی کو دھچکا،مولانا فضل الرحمان کا اپوزیشن گرینڈ الائنس میں شامل ہونے سے انکار

  • خوشی کی بات ہے کہ قرارداد  کی سب نے حمایت کی ہے،شرجیل میمن

    خوشی کی بات ہے کہ قرارداد کی سب نے حمایت کی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعلی سندھ کی پیش کردہ قرارداد کو جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، اور ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق شرجیل انعام میمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وطن سے ہمیں جان سے زیادہ محبت ہے اور یہ وہی سندھ اسمبلی ہے جس نے پاکستان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان بنانے کا کریڈٹ صوبہ سندھ کو جاتا ہے کیونکہ سب سے پہلے یہاں پاکستان کی قرارداد پیش کی گئی تھی۔سندھ اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی بڑے منصوبے سے قبل فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور کسی ایک علاقے کے فائدے کو سب کے فائدے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ جیسے جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے، ویسے ہی پاکستان بھی ایک جسم کی مانند ہے اور اگر کسی ایک حصے کو تکلیف ہوگی تو پورا ملک اس کا اثر محسوس کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس وفاق کی سب سے بڑی محافظ پاکستان پیپلز پارٹی رہی ہے، جس نے ہمیشہ قومی اتحاد کو ترجیح دی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی صدر آصف علی زرداری نے "پاکستان کھپی” کا نعرہ لگایا اور پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کو اولین ترجیح دی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کا مسئلہ محض پانی کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے لیے آکسیجن جیسا ضروری ہے۔ اگر کسی کا آکسیجن بند کر دیا جائے گا تو وہ احتجاج کرے گا، اور یہی حال سندھ کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر تھر میں خشک سالی ہوتی تھی تو لوگ دیگر علاقوں میں چلے جاتے تھے، لیکن اگر سندھ بھر میں پانی ناپید ہوگیا تو لوگ کہاں جائیں گی انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کا آخری سرا کراچی ہے اور اگر دریاں میں پانی نہیں ہوگا تو کراچی میں پانی کہاں سے آئے گا یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔انہوں نے عالمی بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں پانی کا شدید بحران ہوگا، جس سے خوراک کی 70 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ 2021 کی عالمی بینک کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ 2025 میں صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات پیدا ہوں گے۔ شرجیل انعام میمن نے سوال اٹھایا کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک رپورٹ پہلے سے پیش گوئی کر رہی ہو کہ 2025 میں صوبوں کے درمیان تنازعات ہوں گی انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کے خطوط، ارسا کے اجلاس اور دیگر شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سندھ حکومت ہمیشہ جاگتی رہی ہے اور سندھ کے مسائل پر کبھی غفلت نہیں برتی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے ہمیشہ کے لئے کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو دفن کر دیا اور صوبوں کو خودمختاری دینے کے حق میں اقدامات کیے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سانگھڑ میں مشرف کے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کے حق میں ریلی نکالی گئی تھی اور آج وہی لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اقتدار کے لیے سندھ کے پانی پر سودے بازی کی، اور انہی میں سے ایک شخص کو سندھ کا وزیر اعلی بنایا گیا، جس نے ماضی میں کالاباغ ڈیم کے حق میں مہم چلائی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ جب جلال محمود شاہ ڈپٹی اسپیکر تھے اور سندھ اسمبلی میں کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد پیش کی جا رہی تھی تو وہ اسمبلی کی لائٹیں بند کرکے چلے گئے تھے۔

    شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ پاکستان کی مضبوطی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کام کرتی آئی ہے اور مرتے دم تک کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور ہم ہمیشہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کوشاں رہیں گے۔

    دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

    دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

    کراچی کیلئے بجلی 4روپے 85پیسے مزید کمی کا امکان

    4 ارب روپے سےزائدسیلز ٹیکس فراڈمیں ملوث ملزم گرفتار

    اسلحہ لائسنس کی تصدیق کے حوالے سے اہم فیصلہ آ گیا

  • دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد  سندھ اسمبلی سے منظور

    دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

    دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کردی گئی جسے ایوان نے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کا حصوصی اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت شروع ہوا، اسپیکر سندھ اسمبلی نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کردیا، قاسم سومرو، عبد الوسیم، ندا کھڑو سمیت چار ایم پی ایز کا اعلان کیا گیا۔وزیر پارلیمانی امور ضیاء النجار نے اسپیکر سے آج کا بزنس مؤخر کرنے کی درخواست کی، سندھ اسمبلی کے بزنس کے موخر کردیا گیا۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر 6 کنالز کے خلاف قرارداد پیش کی، پیپلز پارٹی کے رہنما جام خان شورو نے کہا کہ یہ اہم اور تفصیلی قرارداد لیڈر آف دی ہائوس نے پیش کی، پانی کے معاملے پر، سندھ کے لوگ حساس ہیں، پیپلز پارٹی نے پانی کی تقسیم پر ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگوں نے کالا باغ ڈیم کو مسترد کیا، کموں شھید پر محترمہ بینظیر نے دھرنہ دیا تھا, قائم علی شاہ اور نثار کھڑو نے تھل کنال کے خلاف دو قراردادیں پیش کیں, ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کیا کیا، کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ کے لیے پیپلز پارٹی نے دفن کیا۔جام شورو نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم پاس کر کہ خودمختاری دی، آصف علی زردارینے کنالز کی منظوری نہیں دی، دو ہزار تیرہ میں پی پی پی کے خلاف اتحاد بنا۔ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے نے بغض پیپلز پارٹی میں اتحاد بنایا، جلال پور کنال کی ارسا نے این او سی دی اس کی مخالفت پیپلز پارٹی نے کی، سندھ کے لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ کس نے منظوری دی اور کس نے مخالفت کی، ہم کہتے ہیں پاکستان میں پانی کی قلت ہے، ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، یہ ارسا کا رکارڈ ہے، آج سے بیس سال قبل کہا جا رہا تھا ہم ارسا کی کچھ شقوں کو نہیں مانتے۔

    جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی نے پوزیشن وااضح کرنے پر وقت لیا، بار بار پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے، گرین پاکستان انیشیٹو کی صدر زرداری نے تعریف بھی کی توثیق کی، چولستان کنال بھی گرین پاکستان انیشیٹو کا حصہ ہے، وزیر اعلی بتائیں سی سی آئی کو جو آپ نے خط لکھا اس کا جواب کیا آیا ؟وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 6 کینال بن رہے ہیں، ہماری قرارداد یہ ہے کہ ہم چھہ کینالوں کو مسترد کرتے ہیں ، گریٹر تھل کینال ٹو کی تحریک انصاف کے دور میں منظوری ہوئی، اس کے خلاف ہم سی سی آئی میں گئے، جب تک سی سی آئی کی میٹنگ نہیں ہوتی یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا ، ہم نے اسے آئینی طور پر غلط کہا ہے، ہم نے سی سی آئی میں اس کو چیلنج کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ان کینالز پر کام نہیں چل رہا ہے، اگر کوئی چھپ کر کرتا ہے تو کام کیسے ہوگا، کچھی کینال 2003 میں منظور ہوا تھا، یہ سیلاب میں شدید متاثر ہوا تھا، چشمہ رائیٹ کینال کے پی بھی پہلے سے منظور شدہ ہے، ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے،سب سے زیادہ شور چولستان کینال ہے یہ کینال بننے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خود وفاقی حکومت کے ادارے پلاننگ کمیشن کی رپورٹ ہے، اس کینال پر انگریزوں کے زمانے سے پروجیکٹ بنتے رہے، اس زمانے سے یہ منصوبہ مسترد ہوتا رہا ہے، پنجاب حکومت نے پی سی ٹو بنایا ہے، یہ 2018 ارب کا منصوبہ ہے یہ غیر منظور ہے، کینال پر کوئی کام ہوتے نظر نہیں آ رہا

    مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف افواہوں پر ہم کو گالم گلوچ سے نوازا، اس اشو کا سب سے رکھوالا پیپلز پارٹی ہے، یہ معاملہ سی سی آئی میں ہے کچھ نہیں کر سکتے، اگر سی سی آئی بھی منظور کرے گی تو ہم جوائنٹ پارلیمنٹ میں جائیں گے، پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری بیٹھے ہیں، اچانک یہ فیصلہ کیا گیا تو میں نے پلاننگ وزیر کو خط لکھا، جب تک منظوری نہیں ہوگی کام کیسے ہوگا چولستان کینال کے بول رہے ہیں سیلاب کا پانی لیں گے۔انہوں نے کہا کہ 4622 کیوسک پانی لینے کی بات کی گئی، کوئی پلاننگ نہیں فزیبلٹی نہیں ہے کینال کہاں سے بنیں گے
    میں حیران ہوں کہ پنجاب پر اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جارہی۔

    کراچی کیلئے بجلی 4روپے 85پیسے مزید کمی کا امکان

    4 ارب روپے سےزائدسیلز ٹیکس فراڈمیں ملوث ملزم گرفتار

    اسلحہ لائسنس کی تصدیق کے حوالے سے اہم فیصلہ آ گیا

    سعودی عرب میں عیدالفطر کے موقع پر 6 چھٹیاں

  • سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    سندھ کی جیلوں میں 2ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو کھانے، ادویات، کپڑوں اور فرنیچر کی فراہمی کے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ 61 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں اور فنڈز کے غلط استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سندھ کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کو کھانے اور ادویات کی فراہمی سمیت دیگر اشیا کی خریداری کے لئے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ سے زائد کی بے ضابطگیوں کی سیکریٹری داخلہ سندھ کو تحقیقات کا حکم دے کر ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین خرم کریم سومرو، مخدوم فخرالزمان سمیت آئی جی جیلز قاضی نظیر احمد اور مختلف جیلوں کے جیل سپرنٹنڈنٹس نے شرکت کی۔

    اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات کی سال 2019 اور سال 2020 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینٹرل جیل کراچی سمیت دیگر جیلوں میں قیدیوں کو کھانے،ادویات، کپڑوں اور فرنیچر کی فراہمی کے ٹھیکوں میں 2 ارب 45 کروڑ 61 لاکھ روپے بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا جس پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے آئی جی جیل سے استفسار کیا کہ قیدیوں کو کھانے اور دیگر اشیا کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے ٹینڈرز کن ٹھیکداروں کو دئے گئے اوراس متعلق ریکارڈ فراہم کریں اور بتایا جائے کے قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے تین وقت کے کھانے کا معیار کیا ہے اور معیار کس طرح چیک کیا جاتا ہے۔

    جس پر آئی جی جیل خانہ جات قاضی نظیر احمد نے پی اے سی کو بتایا کہ سندھ کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو تین وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور کھانے کا معیار میڈیکل افسران اور ججز بھی آکر چیک کرتے ہیں اور قیدیوں کو کھانے کی فراہمی سمیت ادویات فرنیچر اور کپڑوں اور دیگر اشیا کی خریداری میں 2 ارب 45 کروڑ خرچ کئے گئے جس کا باضابطہ ٹینڈر جاری کیا گیا تھا تاہم جیل حکام پی اے سی اور آڈٹ کو 2 ارب 45 کروڑ سے زائد قیدیوں کو کھانے کی فراہمی سمیت دیگر اشیا کی خریداری کے متعلق مطمئن نہیں کر سکے۔

    آڈٹ پیراز کے جائزے کے دوران جیلوں میں ادویات کی خریداری میں 3 کروڑ 70 لاکھ روپے، یونیفارم کی خریداری میں 3 کروڑ 45 لاکھ روپے، قیدیوں کے فرنیچر پر 10 لاکھ 27ہزار روپے خرچ ہونے کا انکشاف سامنے آیا جبکے جیلوں میں مشینری اور پلانٹ کی خریداری کی مد میں 6 کروڑ 18لاکھ روپے کپڑوں کی خریداری پر 29لاکھ روپے خرچہ ظاہر کیا گیا جس پر ڈی جی آڈٹ نے سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کو کھانے کی فراہمی پر 2 ارب 45 کروڑ روپے خرچ ہونے پر ڈی جی آڈٹ نے اعتراض اٹھایا۔

    پی اے سی نے سندھ کے سیکریٹری داخلہ کو قیدیوں کے کھانے سمیت دیگر اشیا کی خریداری کی مد میں 2 ارب 45 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کرنے اور فنڈز کے غلط استعمال کے معاملے کی تحقیقات کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے جیل حکام کو سینٹرل جیل کراچی سمیت دیگر اضلاع کے جیلوں میں قیدیوں کے کھانے کے معیار کی چیکنگ کے لئے فوڈ اتھارٹی کے افسران کو مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں ملیر جیل حکام 80 لاکھ روپے خرچ کرنے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔ پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے پوچھا کہ ملیر جیل حکام نے 80 لاکھ روپے کہاں خرچ کئے جس پر ملیر جیل حکام نے پی اے سی کو بتایا کے ملیر جیل کی مینٹیننس، پیٹرول پر 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں جس پر پی اے سی نے ملیر جیل حکام کو 10 دنوں میں 80لاکھ روپے کے خرچوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

    اجلاس میں کمیٹی کے رکن خرم کریم سومرو نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ جیلوں میں اصلاحات کے لئے اربوں روپے بجٹ فراہم ہورہا ہے تو ملیر جیل کی کھڑکی سے قیدی کیسے فرار ہوا جس پر جیل حکام قیدی فرار ہونے پر پی اے سی کو مطمئن جواب نہ دے سکے۔ اجلاس میں پی اے سی نے سندھ بھر کے جیلوں کی انٹرنل آڈٹ کرانے کی ہدایت کردی۔

    سوزوکی نے آلٹو کی قیمت ایک بار پھر بڑھا دی

    وی پی این کو قانونی بنانے کے لیے لائسنس سروس شروع

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

  • اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودسندھ اسمبلی میں  یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودسندھ اسمبلی میں یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور

    سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور کرلیا ، اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جانب سے اعتراض شدہ سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025 سندھ اسمبلی میں دوبارہ پیش کیا گیا تو ایم کیو ایم کے ارکان نے ایوان میں شدید شور شرابہ کیا اور نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے۔وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار کی جانب سے بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا، تاہم ایوان نے سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025ء منظور کرلیا۔بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے پاس پہنچ کر نعرے بازی کی۔ دریں اثنا وزیر قانون سندھ نے سول کورٹس ترمیمی بل (نظرثانی) بھی ایوان میں پیش کیا۔ یہ دونوں بل گزشتہ اجلاس میں منظور کیے تھے لیکن گورنر سندھ نے اعتراض لگا کر واپس کردیے تھے۔

    اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج اپوزیشن کا رویہ قابل مذمت تھا۔ یہاں پر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اب ان کا اتحاد ہے۔ جو اس ہاؤس میں بغیر بلائے مہمان تھے ان کو شرم کی ضرورت تھی۔ آج جن لوگوں نے احتجاج کیا ان میں سے کسی نے بھی بل کو پڑھا نہیں تھا۔ ہر قابل و اہل شخص وائس چانسلر لگ سکتا ہے۔ اس پر ہنگامہ کرنا بچکانہ حرکت تھی۔بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کی بھرپور تیاریاں

    نیپرا حکام کا کابینہ منظوری کے بغیر اپنی تنخواہوں میں خود ہی اضافہ

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملاقات کیلئے بلا لیا

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی