Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کادیہی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پروگرام شروع

    سندھ حکومت کادیہی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے پروگرام شروع

    بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے سندھ حکومت نے صوبے کی دیہی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ پلاننگ بورڈ کے پروگرام کنسلٹنٹ ذوالفقار کورائی نے کہاکہ اس منصوبے کے تحت صوبائی حکومت غریب لوگوں، خاص طور پر کسانوں کی پائیدار ترقی کو یقینی بنائے گی. انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام مختلف شراکت داروںایجنسیوں کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خاص طور پر صوبے کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے دیہی معیشت کے وسیع شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا.انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ترقیاتی سرگرمیوں میں لوگوں کی شرکت کو یقینی بنا کر ان کی معاشی حالت کو بلند کرنا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے وسیع البنیاد دیہی ترقی کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد بھی حاصل کی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتا ہے تاکہ نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ موثر عوامی مالیات اور نظام کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے پالیسی کے تین بنیادی شعبوں کو درج کیاجن کی نشاندہی اس پروگرام کے تحت کی گئی ہے ان میں سندھ کی معاشی سرگرمیوں اور خدمات کی فراہمی میں نجی شعبے کی شراکت کو بڑھانا، عوامی اخراجات میں پیسے کی قدر کو بہتر بنانا اور دیہی معیشت کو زندہ کرنا شامل ہے سندھ کی آبادی 50 ملین سے زیادہ ہے جس میں سے 52فیصدشہری علاقوں میں رہتے ہیں اور 48فیصددیہی علاقوں میں، تقریبا 38فیصدزراعت، مویشیوں، جنگلات اور ماہی گیری سے اپنا ذریعہ معاش حاصل کرتے ہیں.ماہر زراعت علی نواز نے بتایا کہ دیہی سندھ کی معیشت کا انحصار زراعت کے شعبے پر ہے تقریبا 65فیصدلوگ دیہات میں رہتے ہیں اور ان کا بنیادی پیشہ زراعت ہے تقریبا 80 فیصد کاشتکار چھوٹے سائز کی زمین کے مالک ہیں جب انہیں بروقت آبپاشی کا پانی ملتا ہے تو وہ اپنے کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں اور پانی کے بہا ومیں کسی قسم کی رکاوٹ دیہی معیشت کو بری طرح متاثر کرتی ہے.علینواز نے کہا کہ آبپاشی کے پانی کی کمی کی وجہ سے غربت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سالوں میں دیکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پانی کا کم ہوتا ہوا حصہ زرعی شعبے کی پیداوار کو متاثر کر رہا ہے اس کے علاوہ سمندری پانی کی زرخیز زمین میں مسلسل دخل اندازی ہو رہی ہے جس سے ٹھٹھہ اور بدین اضلاع میں 1.5ملین ایکڑ زمین متاثر ہو رہی ہے اس کے علاوہ، دیگر عوامل بھی ہیں جیسے کہ آبی ذخائر اور کھارا پن، جنگلات کی کٹائی، مٹی کا کٹا، غیر اقتصادی زمینی ملکیت اور خشک سالی، زراعت کے شعبے کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے.ماہر زراعت نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع تھرپارکر اور دادو ہیں کیونکہ ان کا مکمل انحصار بارشوں پر ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا یہ اقدام دیہی معیشت کو بہتر بنانے میں بہت اہم ثابت ہو گا کیونکہ غریب طبقات حکومتی تعاون کے بغیر اپنی معیشت کو برقرار رکھنے سے قاصر ہیں سندھ کی دیہی معیشت خاص طور پر 2022 کے سیلاب سے تباہ ہوئی.

    شام میں پھنسے پاکستانی لبنانی سرحد پر پہنچ گئے

    محمد البشیر شام کے نگران وزیر اعظم مقرر ہو گئے

    چیمپئنزٹرافی کا شیڈول تیار، ایک سیمی فائنل دبئی میں ہوگا

  • کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ حکومت نے کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اس بات کا انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے اس منصوبے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سے حیدر آباد اور پھر حیدر آباد سے سکھر تک بلٹ ٹرین یا سپیڈ ٹرین چلانے کے منصوبے پر بات چیت ہو رہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف صوبے کے اندرونی روابط میں بہتری آئے گی بلکہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی انقلاب آئے گا۔

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی منصوبوں پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں، جیسے پنک بسوں اور پنک ٹیکسی منصوبے، لیکن سندھ حکومت نے ان منصوبوں کو شروع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب پنک ٹیکسی منصوبہ بھی تکمیل کے قریب ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کراچی میں گرین لائن چل رہی ہے، اورنج لائن مکمل ہو چکی ہے، اور ریڈ اور یلو لائن پر کام جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر توجہ دی ہے اور تمام تر چیلنجز کے باوجود ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر بلٹ ٹرین یا اسپیڈ ٹرین کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں کے درمیان فاصلے کو کم کرے گا اور لوگوں کو تیز اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کرے گا۔

    اس بلٹ ٹرین منصوبے کے کامیاب ہونے کی صورت میں سندھ میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ترقی ہو گی بلکہ یہ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا، جو کہ صوبے کی معیشت کے لیے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

  • پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر  چل رہی ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر چل رہی ہے، شرجیل میمن

    شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی غیرملکی ایجنڈے پرچل رہی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کراچی میں نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستان کونقصان پہنچایا، بانی پی ٹی آئی نے پہلے بھی سول نافرمانی کی کال دی تھی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کوکہیں سے اکسایاجاتا ہے، دھرنے میں پاکستانیوں کوکہاگیامنی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی کرو، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان کوآگ لگائی گئی، بسوں کوجلایاگیا، بانی پی ٹی آئی ہروہ کام کرے گا جس سے پاکستان کونقصان ہو۔وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم بانی پی ٹی آئی کی جان کوخطرہ ہے یا نہیں، فیصل واوڈا اسلام آباد میں ہوتے ہیں انہیں زیادہ علم ہوگا، فیصل واوڈا نے کوئی بات کہی تووہ بہت زیادہ معلومات رکھتےہیں۔سندھ میں سب سےزیادہ بیرونی سرمایہ کاری آئی، اس وقت بھی فارن انویسٹرزپاکستان آئےہوئے ہیں، آج صبح غیرملکی سرمایہ کاروں کی وزیراعلیٰ سےملاقات ہوئی، نوجوانوں کوروزگارکی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ میڈیکل سیکٹرمیں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری متوقع ہے، دھابیجی فارن اکنامک زون میں سرمایہ کاری کااعادہ کیا گیا، فارن اکنامک زون میں سرمایہ کاری سے 50 ہزارنوکریاں ملیں گی، پاکستان میں سب سےسستی بجلی تھرکےکوئلےسےبن رہی ہے۔ سندھ حکومت کراچی میں میڈیکل سٹی بنانےجارہی ہے، ہم چاہتے ہیں کراچی سےسکھرتک بلٹ ٹرین چلے، پاکستان میں سرمایہ کاری کےبہت مواقع ہیں، مختلف محکمےغیرملکی سرمایہ کاروں سےمیٹنگ کریں گے، ہرعام آدمی سوچ رہا ہے حکومت ہمارے لیے کیا کررہی ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ ٹرانسپورٹ میں کراچی سرکلرریلوے ہماری اولین ترجیح ہے، ہم نےکہاکراچی میں پلانٹ لگائیں تاکہ سستی بسیں ملیں، کراچی میں پلانٹ لگنےسے لوگوں کوروزگارملےگا، چاہتےہیں لوگوں کاسفرآسان، سستا ہوتاکہ وقت بچے، بدقسمتی سےہم سب کی ترجیح دوسروں کوبرابھلابولنےکی ہے۔

    پی ٹی آئی بیرونی ایجنڈے پر رہی ہے، شرجیل میمن

    ہمارے 200 کارکن لاپتہ ہیں،بیرسٹر گوہر کا دعویٰ

    ڈیرہ غازیخان: انٹرنیشنل انٹی کرپشن ڈے پر ریلی اور سیمینار

  • سب سے اہم مسئلہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،چیف سیکریٹری سندھ

    سب سے اہم مسئلہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،چیف سیکریٹری سندھ

    چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے کہا ہے کہ سب سے اہم مسئلہ صوبے کی عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،عوام انتظامیہ پر بھروسہ نہیں کرتے،اس کی بڑی وجہ ان کے مسائل وقت پر حل نہ ہونا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق بیچ لگژری ہوٹل میں انگلش اسپیکنگ یونین کے دعوت پر ممبران انگلش اسپیکنگ یونین سے خطاب کرتے ہوئے آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں غربت،بے روزگاری ودیگر بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں اور ان کے بنیادی مسائل حل کریںاس موقع پر پیٹرن انچیف انگلش اسپیکنگ عزیز میمن،صدر پرویز مدراس والا،جنرل سیکریٹری مجید عزیز،سنئیر نائب صدر عرفان قریشی نے بھی اظہار خیال کیا،اس موقع پر ممبران نے چیف سیکریٹری سندھ سے مختلف سوالات بھی کئے،ایک سوال پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کراچی اب روشنیوں کا شہر نہیں رہا،آج بھی کراچی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے بہتر حالت میں ہے،انہوںنے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ مسائل بہت زیادہ ہیں ،لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ ان پر توجہ نہیں دی جارہی یا انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی،انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ شہر میں آبادی کا بوجھ ہے،انفرااسٹریکچر اس طرح نہیں بڑھا جس طرح ضرورت ہے ،انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ جوآخری مردم شماری کی گئی ہے اس میں صحیح آبادی ظاہر کی گئی اس سلسلے میں کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے،چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ سندھ میںکام کرنے والے سرکاری افسران یا ملازمین پر سیاستدانوں کا دباو ہوتا ہے،اگر کوئی سرکاری افسر یہ سمجھتا ہے کہ اسے ناجائز کام کیلئے مجبور کیا جارہا تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ کام نہ کرے،انہوں نے کہا کہ میں نے چیف سیکریٹری کی حیثیت سے ماتحت افسران کو واضح ہدایت دی ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں اور تمام کام قائدے و قانون کے مطابق سے کئے جائیں،انہوںنے کہا کہ جب میں حیدرآباد میں کمشنر تھا تو اس وقت میں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی درست نہیں کی سرکاری افسران وقت پر دفاتر میں موجود نہیں ہوتے ،میں خود صبح 9 بجے دفتر میں موجود ہوتا ہے اور اسی طرح دیگر عملہ بھی آفس میں پہنچ جاتا ہے،ایک سوال پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ اپنی جان کے تحفظ کے لئے موٹر سائیکل والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہیلمنٹ کا استعمال کریں ،حکومت اگر سختی کرتی ہے تو شور مچنا شروع ہوتا ہے کہ لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے،انہوں نے نائجیریا اور ناروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں کرپشن زیادہ ہے اور وہاں کی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے،پیٹرن انچیف عزیز میمن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سیدآصف حیدر شاہ کا درست انتخاب کیا ہے،آصف حیدر شاہ میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ صوبے کے مسائل حل کرسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ انگلش اسپیکنگ یونین وہ پلیٹ فارم ہے جو مختلف شعبوں میں لوگوں کی خدمت کررہاہے،انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صوبے میں مسائل بہت زیادہ ہیں،لیکن ان مسائل کا حل بھی ضرور ی ہے،پرویز مدراس والا نے چیف سیکریٹری سندھ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ سید آصف حیدر شاہ سول انجنئیر ہونے کے علاوہ پانچ مرتبہ گولڈ میڈل بھی حاصل کرچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری صوبے کے 61 ویں چیف سیکریٹری ہیں،وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور صوبے کے مسائل حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں،مجید عزیز نے کہا کہ چیف سیکریٹری سید آصف حیدرشاہ کا تعلق اسی صوبہ سندھ سے ہے اور انہیں شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل کا پوری طرح علم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے،سنئیر نائب صدر عرفان قریشی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم مختلف اعلی شخصیات کو خطاب کی دعوت دیتے ہیں اور ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ چیف سیکریٹری آج ممبران سے خطاب کے لئے ہمارے درمیان موجود تھے،تقریب کے اختتام پر چیف سیکریٹری کو انگلش اسپیکنگ یونین کی جانب سے ممنٹم پیش کیا گیا۔

    وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، محمد اورنگزیب

    کراچی میں پارہ مزید گر گیا، سردی بڑھنے کا امکان

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

  • سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں  کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    سندھ حکومت نے 30 اضلاع میں انڈر 16 بوائزو گرلز کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ 2024 کا اعلان کردیا، جس کا باقائدہ سے شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق محکمہ کھیل سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ کی30 اضلاع کی129 اسپورٹس کمپلیکس میں ونٹر کوچنگ کیمپ لگانے کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے لئے 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہی. سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری کا کہنا تھا کہ کراچی کے تمام اضلاع کے 32 اسپورٹس کمپلیکس میں 16 سال سے کم عمر والے اور حیدرآباد کے 9 اضلاع کے 37 اسپورٹس کمپلیکس اور ہاسٹلز میں درخواستیں جمع کروانے کے لئے احکامات جاری کردئیے ہیں، میرپورخاص ڈویژن کے 15 سینٹرز پر مختلف کھیلوں کے لئے درخواستیں جمع کروانے کے لئے ہدایات جاری کردی ہیں۔محکمہ کھیل سندھ کے ترجمان نے مزید کہا کہ شہید بینظیر آباد ڈویژن کے 28 سینٹرز پر انڈر 16 بوائزو گرلز کے کھلاڑی اور لاڑکانہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے 17 سینٹر کے کھلاڑی ونٹر کوچنگ کیمپ کے لئے درخواستیں جمع کروائیں، کرکٹ، فٹبال، کراٹے، والی بال، ایتھلیٹکس، ملاکھڑا، بیڈمنٹن، رنگ بال، ووشو کنگ فو،تائی کوانڈو درخواستیں طلب کی گئی ہیں، 16 سال سے کم عمر والے کھلاڑیwww.sportsandyouthaffairs.govt pk.comپر آن لائن رجسٹر اپلائی کر سکتے ہیں۔

    فاروق ستار سے کراچی مارکیٹوں کے نمائندہ وفود کی ملاقات

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

    بارات کی فائرنگ سے موت، دولہےاور والد کے خلاف مقدمہ درج

    کراچی میں پارہ مزید گر گیا، سردی بڑھنے کا امکان

  • حکومت سندھ ٹرانسپورٹ  نظام کو  جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ کی جانب سے پیپلز بس سروس کے 40 اسٹاپس کی تعمیر دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

    محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے سندھ بھر میں گاڑیوں کی جدید سائٹیفک فٹنس چیکنگ لازمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پیپلز بس سروس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق اور دیگر شریک ہوئے، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے 100 اسٹاپس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، باقی اسٹاپس کا کام بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے، دو ماہ کے اندر جنوری 2025 تک باقی ماندہ 40 بس اسٹاپس پر بھی کام مکمل کرلیا جائے،حکومت سندھ ٹرانسپورٹ کے نظام کو دنیا سے ہم آہنگ اور جدید بنانے کی خواہاں ہے، پیپلز بس سروس کے جدید ترین بس اسٹاپ جدید، موثر، اور پائیدار نقل و حرکت کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں،جدید بس اسٹاپس مسافروں کے لئے بیٹھنے کی بہترین جگہ اور موسم سے تحفظ فراہم کریں گے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنانا روڈ سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ کا ایک سنگ بنیاد ہے،
    باقاعدگی سے فٹنس چیکنگ حادثات کو ٹالنے اور نقصان دہ اخراج کو روکنے کے لئے اہم ہے،فٹنس چیکنگ کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے، شرجیل میمن نے گاڑیوں کے فٹنس چیکنگ یقینی بنانے کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو ضروری اور سخت اقدامات کی ہدایات دی اور کہا کہ حادثات کی روک تھام اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ ناگزیر ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کے منتقلی اور ٹیکس ادائگی کے وقت بھی گاڑیوں کی فٹنس کا موثر نظام لایا جائے، ہر ایک سال کے اندر گاڑیوں کی لازمی فٹنس چیکنگ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، فٹنس قوانین پر عمل نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی،

  • متحدہ نے  یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی نے سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ اینڈ لاءز 2018ء میں ترمیم کی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق متحدہ کمیٹی نے کہا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد اہم ترین تعلیمی منصب کو غیر علمی و ادبی شخصیت کے سپرد کرنا ہے، جو کہ تعلیمی نظام کی پستی کا سبب بنے گا۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تعصب اور تعلیم دشمنی پر مبنی قانون سازیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایم کیو ایم مضبوط ترین دیوار ثابت ہوگی۔کمیٹی نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے اپنے مذموم عزائم کو جاری رکھا تو ایم کیو ایم اس کے خلاف مناسب پلیٹ فارمز پر احتجاج کرے گی۔ایم کیو ایم نے اس ترمیم کو من پسند قانون سازی اور تعلیمی اداروں کو غیر علمی قوتوں کے حوالے کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

    مغربی ہواؤں کے باعث بارش ،سردی کی لہر میں اضافہ متوقع

    حکومت اور افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

  • سندھ  حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    کراچی میں غریب طلبا کو اسکالر شپ کے لیے 19 کروڑ 25 لاکھ 70 ہزار روپے جاری کردیے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے عشر و زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ نے صوبے کے 20 تعلیمی اداروں کو رقم جاری کی جن میں سندھ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی ودیگر ادارے شامل ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کو 85 لاکھ 34 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، اسکالر شپ کمیٹیاں مستحق طلبا کو اسکالر شپ فراہم کریں گی۔سندھ یونیورسٹی کو تین کروڑ 48 لاکھ 6 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، کراچی یونیورسٹی کو مستحق طلبا کے لیے 5 کروڑ 53 لاکھ 4 ہزار روپے جاری ہے۔شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کو 76 لاکھ 18 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون کا کینیا کا خیر سگالی دورہ

    اوکاڑہ: زیادہ گندم اگاؤ مہم، کسانوں کے لیے حکومتی مراعات کا اعلان

    تنگوانی:شوہر نے بیوی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا

  • حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ حقائق کو مسخ اور عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ نئی بھرتی پالیسی اسٹاپ گیپ اقدام ہے، اس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے، بے بنیاد الزامات اجتماعی ترقی کے لئے حکومت سندھ کی کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے، تعلیمی اداروں میں فیسوں کا تعین بنیادی ڈھانچے، سہولیات اور آپریشنل اخراجات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،حکومت سندھ، تعلیم کو سستی اور مساوی بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے، کراچی یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کا زوال وراثت میں ملا مسئلہ ہے،حکومت ٹرانسپورٹ نظام کی بحالی اور جدید بنانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے،ریڈ لائن بی آر ٹی ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کی پریشانیوں کا خاتمہ ہے،میگا پراجیکٹس میں تاخیر اکثر تکنیکی مسائل سمیت ناگزیر چیلنجز کی وجہ سے ہوتی ہے، نگران دور حکومت میں کام روک دینا اور کراچی میں یوٹیلٹیز کی وجہ سے بھی بی آر ٹی پروجیکٹ کو تاخیر کا سامنا ہے،ریڈ لائن منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت کی بڑی وجہ عالمی افراط زر، بڑھتی ہوئی مادی لاگت اور روپے کی قدر میں کمی ہے،

  • وزیر اعلی سندھ سے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال سے ملاقات میں کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور20 دیگر زیر التوا منصوبوں کی پلاننگ کمیشن سے منظوری کے حوالے سے بات چیت کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں کوسٹل ہائی وے کو اکنامک کوریڈور بنانے پر اتفاق کیاگیا کیونکہ یہ کیٹی بندر، کراچی اور ملک کے تمام دیگر شاہراہوں سے منسلک ہے۔اجلاس وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی و توانائی سید ناصر شاہ نے شرکت کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ انہوں نے وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ سے مل کر منگل کوسٹل ہائی وے کے دوسرے مرحلے میں زمین کو ہموار کرنے کا شروع کر دیا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے کو تقریبا 25 سال ہوچکے ہیں مگر اسے اکنامک کوریڈور کا درجہ نہ مل سکا ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سڑک سیکٹر کے منصوبوں کو نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ تک محدود کیاجائے بلکہ انہیں اقتصادی زونز میں بھی شامل کیاجائے۔ اس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت کی جانب سے تعمیر کی جانے والی کوسٹل ہائی وے میں معاشی سرگرمیوں کے قابل ذکر امکانات موجود ہیں۔وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ کوسٹل ہائی وے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں تک سامان کی نقل و حمل کے لیے واضح رسائی فراہم کرے گی کیونکہ یہ قومی شاہراہ اور موٹر وے سے منسلک ہے۔وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ نے وزیراعلی سندھ کو زیر تعمیر کوسٹل ہائی وے پر بریفنگ دی۔کوسٹل ہائی وی: سندھ کوسٹل ہائی وے کی کل لمبائی 279 کلومیٹر ہے جوکہ گھارو، ضلع ٹھٹھہ میں N5 سے شروع ہوتی ہے اور علی بندر ضلع بدین تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت نے 2007 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت شروع کیا تھا۔ مالی مجبوریوں کی وجہ سے یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایافیز1یہ مرحلہ 37 کلومیٹر پر محیط ہے، گھارو کے قریب نیشنل ہائی وے (N5) سے شروع ہوتا ہے اور یہ منصوبے کے اس حصے کو 24-2023 میں تعمیر کیا گیا تھا۔فیزI کی توسیع 11 کلومیٹر اضافی سڑک زیر تعمیر ہیجسے 2023 کیاختتام سے 4ماہ قبل شروع کیاگیا اوراسے اگلے پانچ سالوں میں مکمل کیاجائیگا۔فیز IIاس مرحلے میں مزید 36 کلومیٹر شامل کیاگیا ہے، جو سڑک کو 11 کلومیٹر سے بڑھا کر 47 کلومیٹر تک پھیلاتا ہے، گڈاجو – جھاپولو ڈھنڈ سے شروع ہو کر N110 پر ختم ہوتا ہے۔یہ مرحلہ فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت شامل کیاگیا ہے اور یہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سی ایس آر 2022 کا حصہ ہے۔ اسکیم فی الحال ہائپر انفلیشن اور NHA CSR 2024 کے اجرا کی وجہ سے نظرثانی میں ہے۔پی سی ون کی منظوری کے بعد کام باقاعدگی سے شروع کیاجائیگا۔فیز III،195کلومیٹر، کیٹی بندر سے علی بندر براستہ شاہ بندر اور زیرو پوائنٹ بدین، پالیسی فیصلوں اور فنڈز کی دستیابی پر منحصر ہے جسے بعد میں شروع کیا جائے گا۔وزیر اعلی سندھ نے احسن اقبال کے ساتھ مختلف صوبائی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جوکہ گزشتہ دو سالوں سے نظرثانی کی وجہ سیزیر التوا کا شکار ہیں۔ ان منصوبوں میں حیدرآباد پیکج یعنی ایسٹرن کی تعمیر اور سدرن سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی توسیع شامل ہے۔ حیدرآباد شہر کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے فلٹر پلانٹ اور واٹر سپلائی نیٹ ورکس کی توسیع بھی اس کا حصہ ہے۔وفاقی وزیر نے وزیراعلی سندھ کو یقین دلایا کہ ان کی منظوری جلد جاری کر دی جائے گی۔سائٹ انڈسٹریل اسٹیٹ، کراچی میں سڑکوں کی بحالی اور تعمیر کا کام جو کہ 13 اگست 2024 سے منظوری کے مراحل میں ہے۔ اس پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلی کو بتایا کہ وہ سائٹ انڈسٹریل ایریا کا دورہ کریں گے اور پھر ان کو پلاننگ کمیشن کلیئر کرائیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج اس وقت PC-I کی منظوری کے مراحل میں ہے۔لہذا، دوسری سہ ماہی کی تجویز اس وقت قابل عمل نہیں ہے۔ پلاننگ کمیشن نے تفصیلی تخمینہ نہ ملنے پر PC-I واپس کر کیا۔حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پیکج (اصلاح اور بحالی) بھی PC-I کی منظوری کے لیے زیر جائزہ ہے اس لیے دوسری سہ ماہی پروپوزل تجویز نہیں کی گئی ۔ کراچی کی طرح، پلاننگ کمیشن نے تفصیلی تخمینہ کے لیے PC-I واپس کر دیا۔2022 میں بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے سندھ میں موجودہ اسکولوں کی تعمیر اور تعمیر نو کے لیے وزیر اعظم کے پروگرام (1800 یونٹس) کو ہر لحاظ سے کلیئر کر دیا گیا ہے اور پہلی سہ ماہی فنڈنگ جاری کر دی گئی ہے۔تمام اسکولوں کے لیے ٹینڈرز فی الحال جانچ کے مرحلے میں ہیں اور دوسری سہ ماہی کے لیے 2000 ملین روپے تجویز کیے گئے جوکہ کافی نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک بار کام شروع ہوجائے تو مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے، وزیراعلی سندھ اور وفاقی وزیر نے یکساں نوعیت منصوبوں اور ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں حل کرنے کا عزم کیا تاکہ کام شروع کیا جاسکے۔

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    پاکستان کو 20 سال بعد ورلڈ اسکواش ایونٹ کی میزبانی مل گئی

    کراچی کے صارفین کیلئے بجلی سستی ہو گئی

    مسائل پر خاموش نہیں رہ سکتےحکومت کو معاملات ٹھیک کرنے پڑیں گے،علی خورشیدی

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر