Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں  کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    سندھ حکومت نے 30 اضلاع میں انڈر 16 بوائزو گرلز کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ 2024 کا اعلان کردیا، جس کا باقائدہ سے شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق محکمہ کھیل سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ کی30 اضلاع کی129 اسپورٹس کمپلیکس میں ونٹر کوچنگ کیمپ لگانے کا اعلان کردیا گیا ہے، جس کے لئے 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہی. سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری کا کہنا تھا کہ کراچی کے تمام اضلاع کے 32 اسپورٹس کمپلیکس میں 16 سال سے کم عمر والے اور حیدرآباد کے 9 اضلاع کے 37 اسپورٹس کمپلیکس اور ہاسٹلز میں درخواستیں جمع کروانے کے لئے احکامات جاری کردئیے ہیں، میرپورخاص ڈویژن کے 15 سینٹرز پر مختلف کھیلوں کے لئے درخواستیں جمع کروانے کے لئے ہدایات جاری کردی ہیں۔محکمہ کھیل سندھ کے ترجمان نے مزید کہا کہ شہید بینظیر آباد ڈویژن کے 28 سینٹرز پر انڈر 16 بوائزو گرلز کے کھلاڑی اور لاڑکانہ ڈویژن کے تمام اضلاع کے 17 سینٹر کے کھلاڑی ونٹر کوچنگ کیمپ کے لئے درخواستیں جمع کروائیں، کرکٹ، فٹبال، کراٹے، والی بال، ایتھلیٹکس، ملاکھڑا، بیڈمنٹن، رنگ بال، ووشو کنگ فو،تائی کوانڈو درخواستیں طلب کی گئی ہیں، 16 سال سے کم عمر والے کھلاڑیwww.sportsandyouthaffairs.govt pk.comپر آن لائن رجسٹر اپلائی کر سکتے ہیں۔

    فاروق ستار سے کراچی مارکیٹوں کے نمائندہ وفود کی ملاقات

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

    بارات کی فائرنگ سے موت، دولہےاور والد کے خلاف مقدمہ درج

    کراچی میں پارہ مزید گر گیا، سردی بڑھنے کا امکان

  • حکومت سندھ ٹرانسپورٹ  نظام کو  جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے کی خواہاں ہے،شرجیل میمن

    حکومت سندھ کی جانب سے پیپلز بس سروس کے 40 اسٹاپس کی تعمیر دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

    محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے سندھ بھر میں گاڑیوں کی جدید سائٹیفک فٹنس چیکنگ لازمی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے،سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پیپلز بس سروس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق اور دیگر شریک ہوئے، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے 100 اسٹاپس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، باقی اسٹاپس کا کام بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے، دو ماہ کے اندر جنوری 2025 تک باقی ماندہ 40 بس اسٹاپس پر بھی کام مکمل کرلیا جائے،حکومت سندھ ٹرانسپورٹ کے نظام کو دنیا سے ہم آہنگ اور جدید بنانے کی خواہاں ہے، پیپلز بس سروس کے جدید ترین بس اسٹاپ جدید، موثر، اور پائیدار نقل و حرکت کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہیں،جدید بس اسٹاپس مسافروں کے لئے بیٹھنے کی بہترین جگہ اور موسم سے تحفظ فراہم کریں گے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنانا روڈ سیفٹی اور ماحولیاتی تحفظ کا ایک سنگ بنیاد ہے،
    باقاعدگی سے فٹنس چیکنگ حادثات کو ٹالنے اور نقصان دہ اخراج کو روکنے کے لئے اہم ہے،فٹنس چیکنگ کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے، شرجیل میمن نے گاڑیوں کے فٹنس چیکنگ یقینی بنانے کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو ضروری اور سخت اقدامات کی ہدایات دی اور کہا کہ حادثات کی روک تھام اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ ناگزیر ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کے منتقلی اور ٹیکس ادائگی کے وقت بھی گاڑیوں کی فٹنس کا موثر نظام لایا جائے، ہر ایک سال کے اندر گاڑیوں کی لازمی فٹنس چیکنگ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں، فٹنس قوانین پر عمل نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی،

  • متحدہ نے  یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی نے سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ اینڈ لاءز 2018ء میں ترمیم کی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق متحدہ کمیٹی نے کہا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد اہم ترین تعلیمی منصب کو غیر علمی و ادبی شخصیت کے سپرد کرنا ہے، جو کہ تعلیمی نظام کی پستی کا سبب بنے گا۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تعصب اور تعلیم دشمنی پر مبنی قانون سازیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایم کیو ایم مضبوط ترین دیوار ثابت ہوگی۔کمیٹی نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے اپنے مذموم عزائم کو جاری رکھا تو ایم کیو ایم اس کے خلاف مناسب پلیٹ فارمز پر احتجاج کرے گی۔ایم کیو ایم نے اس ترمیم کو من پسند قانون سازی اور تعلیمی اداروں کو غیر علمی قوتوں کے حوالے کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

    مغربی ہواؤں کے باعث بارش ،سردی کی لہر میں اضافہ متوقع

    حکومت اور افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

  • سندھ  حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    کراچی میں غریب طلبا کو اسکالر شپ کے لیے 19 کروڑ 25 لاکھ 70 ہزار روپے جاری کردیے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے عشر و زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ نے صوبے کے 20 تعلیمی اداروں کو رقم جاری کی جن میں سندھ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی ودیگر ادارے شامل ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کو 85 لاکھ 34 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، اسکالر شپ کمیٹیاں مستحق طلبا کو اسکالر شپ فراہم کریں گی۔سندھ یونیورسٹی کو تین کروڑ 48 لاکھ 6 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، کراچی یونیورسٹی کو مستحق طلبا کے لیے 5 کروڑ 53 لاکھ 4 ہزار روپے جاری ہے۔شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کو 76 لاکھ 18 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون کا کینیا کا خیر سگالی دورہ

    اوکاڑہ: زیادہ گندم اگاؤ مہم، کسانوں کے لیے حکومتی مراعات کا اعلان

    تنگوانی:شوہر نے بیوی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا

  • حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    حقائق کو مسخ، عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ حقائق کو مسخ اور عوام کو گمراہ کرنا جماعت اسلامی کی تاریخ رہی ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ نئی بھرتی پالیسی اسٹاپ گیپ اقدام ہے، اس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے، بے بنیاد الزامات اجتماعی ترقی کے لئے حکومت سندھ کی کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے، تعلیمی اداروں میں فیسوں کا تعین بنیادی ڈھانچے، سہولیات اور آپریشنل اخراجات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،حکومت سندھ، تعلیم کو سستی اور مساوی بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے، کراچی یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کا زوال وراثت میں ملا مسئلہ ہے،حکومت ٹرانسپورٹ نظام کی بحالی اور جدید بنانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے،ریڈ لائن بی آر ٹی ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کی پریشانیوں کا خاتمہ ہے،میگا پراجیکٹس میں تاخیر اکثر تکنیکی مسائل سمیت ناگزیر چیلنجز کی وجہ سے ہوتی ہے، نگران دور حکومت میں کام روک دینا اور کراچی میں یوٹیلٹیز کی وجہ سے بھی بی آر ٹی پروجیکٹ کو تاخیر کا سامنا ہے،ریڈ لائن منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت کی بڑی وجہ عالمی افراط زر، بڑھتی ہوئی مادی لاگت اور روپے کی قدر میں کمی ہے،

  • وزیر اعلی سندھ سے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سے وفاقی وزیر احسن اقبال کی ملاقات

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال سے ملاقات میں کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور20 دیگر زیر التوا منصوبوں کی پلاننگ کمیشن سے منظوری کے حوالے سے بات چیت کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں کوسٹل ہائی وے کو اکنامک کوریڈور بنانے پر اتفاق کیاگیا کیونکہ یہ کیٹی بندر، کراچی اور ملک کے تمام دیگر شاہراہوں سے منسلک ہے۔اجلاس وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی و توانائی سید ناصر شاہ نے شرکت کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ انہوں نے وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ سے مل کر منگل کوسٹل ہائی وے کے دوسرے مرحلے میں زمین کو ہموار کرنے کا شروع کر دیا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے کو تقریبا 25 سال ہوچکے ہیں مگر اسے اکنامک کوریڈور کا درجہ نہ مل سکا ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سڑک سیکٹر کے منصوبوں کو نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ تک محدود کیاجائے بلکہ انہیں اقتصادی زونز میں بھی شامل کیاجائے۔ اس پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت کی جانب سے تعمیر کی جانے والی کوسٹل ہائی وے میں معاشی سرگرمیوں کے قابل ذکر امکانات موجود ہیں۔وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ کوسٹل ہائی وے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں تک سامان کی نقل و حمل کے لیے واضح رسائی فراہم کرے گی کیونکہ یہ قومی شاہراہ اور موٹر وے سے منسلک ہے۔وزیر پی اینڈ ڈی ناصر شاہ نے وزیراعلی سندھ کو زیر تعمیر کوسٹل ہائی وے پر بریفنگ دی۔کوسٹل ہائی وی: سندھ کوسٹل ہائی وے کی کل لمبائی 279 کلومیٹر ہے جوکہ گھارو، ضلع ٹھٹھہ میں N5 سے شروع ہوتی ہے اور علی بندر ضلع بدین تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت نے 2007 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت شروع کیا تھا۔ مالی مجبوریوں کی وجہ سے یہ منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایافیز1یہ مرحلہ 37 کلومیٹر پر محیط ہے، گھارو کے قریب نیشنل ہائی وے (N5) سے شروع ہوتا ہے اور یہ منصوبے کے اس حصے کو 24-2023 میں تعمیر کیا گیا تھا۔فیزI کی توسیع 11 کلومیٹر اضافی سڑک زیر تعمیر ہیجسے 2023 کیاختتام سے 4ماہ قبل شروع کیاگیا اوراسے اگلے پانچ سالوں میں مکمل کیاجائیگا۔فیز IIاس مرحلے میں مزید 36 کلومیٹر شامل کیاگیا ہے، جو سڑک کو 11 کلومیٹر سے بڑھا کر 47 کلومیٹر تک پھیلاتا ہے، گڈاجو – جھاپولو ڈھنڈ سے شروع ہو کر N110 پر ختم ہوتا ہے۔یہ مرحلہ فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت شامل کیاگیا ہے اور یہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سی ایس آر 2022 کا حصہ ہے۔ اسکیم فی الحال ہائپر انفلیشن اور NHA CSR 2024 کے اجرا کی وجہ سے نظرثانی میں ہے۔پی سی ون کی منظوری کے بعد کام باقاعدگی سے شروع کیاجائیگا۔فیز III،195کلومیٹر، کیٹی بندر سے علی بندر براستہ شاہ بندر اور زیرو پوائنٹ بدین، پالیسی فیصلوں اور فنڈز کی دستیابی پر منحصر ہے جسے بعد میں شروع کیا جائے گا۔وزیر اعلی سندھ نے احسن اقبال کے ساتھ مختلف صوبائی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جوکہ گزشتہ دو سالوں سے نظرثانی کی وجہ سیزیر التوا کا شکار ہیں۔ ان منصوبوں میں حیدرآباد پیکج یعنی ایسٹرن کی تعمیر اور سدرن سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی توسیع شامل ہے۔ حیدرآباد شہر کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے فلٹر پلانٹ اور واٹر سپلائی نیٹ ورکس کی توسیع بھی اس کا حصہ ہے۔وفاقی وزیر نے وزیراعلی سندھ کو یقین دلایا کہ ان کی منظوری جلد جاری کر دی جائے گی۔سائٹ انڈسٹریل اسٹیٹ، کراچی میں سڑکوں کی بحالی اور تعمیر کا کام جو کہ 13 اگست 2024 سے منظوری کے مراحل میں ہے۔ اس پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعلی کو بتایا کہ وہ سائٹ انڈسٹریل ایریا کا دورہ کریں گے اور پھر ان کو پلاننگ کمیشن کلیئر کرائیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیج اس وقت PC-I کی منظوری کے مراحل میں ہے۔لہذا، دوسری سہ ماہی کی تجویز اس وقت قابل عمل نہیں ہے۔ پلاننگ کمیشن نے تفصیلی تخمینہ نہ ملنے پر PC-I واپس کر کیا۔حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ پیکج (اصلاح اور بحالی) بھی PC-I کی منظوری کے لیے زیر جائزہ ہے اس لیے دوسری سہ ماہی پروپوزل تجویز نہیں کی گئی ۔ کراچی کی طرح، پلاننگ کمیشن نے تفصیلی تخمینہ کے لیے PC-I واپس کر دیا۔2022 میں بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے سندھ میں موجودہ اسکولوں کی تعمیر اور تعمیر نو کے لیے وزیر اعظم کے پروگرام (1800 یونٹس) کو ہر لحاظ سے کلیئر کر دیا گیا ہے اور پہلی سہ ماہی فنڈنگ جاری کر دی گئی ہے۔تمام اسکولوں کے لیے ٹینڈرز فی الحال جانچ کے مرحلے میں ہیں اور دوسری سہ ماہی کے لیے 2000 ملین روپے تجویز کیے گئے جوکہ کافی نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک بار کام شروع ہوجائے تو مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے، وزیراعلی سندھ اور وفاقی وزیر نے یکساں نوعیت منصوبوں اور ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں حل کرنے کا عزم کیا تاکہ کام شروع کیا جاسکے۔

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    پاکستان کو 20 سال بعد ورلڈ اسکواش ایونٹ کی میزبانی مل گئی

    کراچی کے صارفین کیلئے بجلی سستی ہو گئی

    مسائل پر خاموش نہیں رہ سکتےحکومت کو معاملات ٹھیک کرنے پڑیں گے،علی خورشیدی

    منفی پروپیگنڈے، بنگلہ دیش میں بھارتی ٹی وی چینلز پر پابندی کی درخواست دائر

  • سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقی سید ناصر شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے بجلی کے بنیادی اسٹرکچر میں انقلاب لانے کیلئے اہم اقدامات کر رہی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر توانائی ناصر شاہ نے ایک مقامی ہوٹل میں دی نالج فورم اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انرجی اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام انرجی ڈائیلاگ کے دوران حکومت کے اس اقدام کا اعلان کیا۔ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ کے متبادل توانائی پروگرام میں صوبے کے توانائی کے مسلسل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اختراعی طریقے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا سنگ بنیاد کم استعمال کرنے والے گھرانوں میں دو لاکھ سولر پیکجز کی تقسیم ہے، جس سے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو صارفین کے علاقوں میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ایک جامع قابل تجدید توانائی پروگرام کا اعلان کرنا جس کا مقصد لاکھوں رہائشیوں کو سستی بجلی کے حل فراہم کرنا ہے۔ان پیکجز میں شمسی پینل، بیٹریاں، پنکھے اور بلب شامل ہیں جو صفر سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے ہیں۔ ناصر شاہ نے کہا کہ حکومت بیک وقت متعدد متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں سولر، ونڈ اور ہائبرڈ پاور کے اقدامات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں بہت ترقی ہوئی ہے اور کوئلے سے سستی بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
    ڈائرکٹر آف الٹرنییٹ انرجی گورنمنٹ آف ونڈ محفوظ قاضی نے 400 میگاواٹ کے سولر پارکس کی ترقی پر روشنی ڈالی جس میں دو سالوں میں گرڈ انٹیگریشن متوقع ہے۔ ان کے مطابق سندھ توانائی کا مرکز ہے جو شمسی، ہوا، ایٹمی اور کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پبلک سیکٹر میں توانائی کی تبدیلی میں پیش رفت کر رہی ہے کیونکہ سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے اور اگلے مرحلے میں سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے۔اس اقدام کے مالی پہلو بھی اتنے ہی امید افزا ہیں جس میں حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کاربن کریڈٹس میں 49 ملین امریکی ڈالر کمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک نے قابل تجدید توانائی کی منتقلی میں مدد کے لیے 30 سالہ قرض بھی فراہم کیا ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی رکن ماروی راشدی نے سمندری کٹاؤ کے تباہ کن ساحلی علاقوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی اور بالخصوص توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں میں بنیادی ڈھانچے کے اہم خلاء کو اجاگر کیا۔انہوں نے سمارٹ اور مائیکرو گرڈ ٹیکنالوجیز کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فعال طور پر حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ پرائیڈ کے بدر عالم نے تھر کے کوئلے کی کان کنی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی دباؤ بالخصوص آبی وسائل پر کافی دباؤ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سفارش کی کہ کان کنی اور پاور پلانٹس کے لیے زمین لیز کی بنیاد پر مختص کی جانی چاہیے تاکہ طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ماہرین نے مسلسل نشاندہی کی کہ قومی گرڈ ناقابل برداشت اور ناقابل بھروسہ ہے جس کیلئے جامع گرڈ فیز آؤٹ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کوئلے کی کان کنی کے ماحولیاتی نتائج ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، محققین مقامی اور درآمد شدہ کوئلہ نکالنے کے طریقوں کے اثرات کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ مکالمے میں محققین اور ماہرین نے صوبے کے توانائی کے چیلنجز کی اہم نوعیت پر زور دیا۔محقق سیدہ سدرہ مہدی نے 11 سے 17 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کے شدید اثرات کی نشاندہی کی جو لوگوں کی زندگیوں کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے۔ چیلنجز کافی ہیں بشمول گردشی قرضہ، اعلیٰ صنعتی ٹیرف، اور وقفے وقفے سے بجلی کی فراہمی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر مبشر علی صدیقی جیسے ماہرین نے متبادل توانائی کے ذرائع سے متعلق ایک جامع پالیسی دستاویز کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر نعمان احمد، ڈین، این ای ڈی یونیورسٹی نے شہری مراکز میں توانائی کے بحران پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ یوٹیلیٹی سروسز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ اس موقع پر رینیو ایبل فرسٹ کے ریسرچر حماد احمد، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تنویر باری، ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد ولید، رینیو ایبل فرسٹ کے محمد باسط غوری نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں ٹی کے ایف کی ڈائریکٹر زینیہ شوکت نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تقریب کی نظامت کی۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

  • کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) آزمائشی طور پرسڑکوں پرآگئیں، گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سکے گا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) سڑکوں پرآگئیں ، گاڑیوں میں 12 میگا پکسل کی7 جدید کیمرے نصب ہیں گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سگے گا، گاڑی کی چھت پرلگا کیمرا 360 ڈگری تک روٹیٹ کرسکتا ہے۔جدید کیمروں سے لیس گاڑیوں کو ابتدائی طورپرشہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں کھڑا کیا گیا ہے،ایک گاڑی میں ایک کمانڈراور تین سپاہی موجود ہوں گے ، گاڑی میں موجود کمانڈرکے پاس ایک ٹیبلیٹ ہو گا جو کہ کیمروں اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسک ہوگا۔انچارج آپریشن سیف سٹی شہباز مغل نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر جدید کیمروں سے لیس 23 گاڑیاں موجود ہوں گی جو کہ شہر کے مختلف علاقوں اورشاہراہوں میں کھڑی کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں لگے کیمرے نائٹ ویڑن ہیں اور اندھیرے میں کام کرنے کی صلاحت رکھتے ہیں، کیمرے کے لیے چہرہ اورگاڑیوں کی نمبر پلیٹس ریڈ ایبل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ نادرا اورایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہے جسے ہی کوئی مشکوک شخص یا جعلی نمبرپلیٹ لگی گاڑی کیمروں سے لیس گاڑی کے سامنے گزرے گی اس کی نشاندہی ہو جائے گی اوراس گاڑی یا مشکوک شخص سے متعلقہ تھانے کو اطلاع کردی جائے گی۔گاڑی میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ وائرلیس سیٹ بھی موجود اگرکبھی نیٹ کے مسائل سامنے آتے ہیں اورنیٹ نہیں چل رہا ہوا تو متعلقہ تھانے کو وائرسیل سیٹ کے ذریعے اطلاع کر دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جدید آلات سے نصب گاڑیوں کی کوئی جگہ مختص نہیں ہوگی جس جگہ پران گاڑیوں کی ضرورت ہو گی انہیں وہاں کھڑا کردیا جائے گا۔انچارج سیف سٹی نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 13 سو جدید کیمرے لگائے جائیں گے جن میں سے 100 جدید کیمرے آپریشن ہو چکے ہیں جبکہ 300 نئے پولز لگنے ہیں جن میں 15 سے زائد پولز شہر کے مختلف علاقوں میں لگاجا چکے ہیں۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موسمیاتی اثرات اور آفات سے بچاؤ کیلیے اقدامات کے ذریعے زرعی معیشت کے فروغ کیلیے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ زراعت اور پیپلزہاؤسنگ پروجیکٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر داخلہ ضیا لنجار، معاون خصوصی وزیراعلیٰ جبار خان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈووکیٹ جنرل حسن اکبر، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سی ای او پیپلزہاوسنگ خالد شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 24 ارب روپے سے سکھر بیراج کے دروازوں اور اسٹرکچر کی بحالی آبی وسائل اور انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کا اہم منصوبہ ہے۔منصوبہ 20 جون 2024 کو سکھر بیراج کے ایک دروازے کے گرنے پر شروع کیا گیا۔ اب کینالوں سمیت تاریخی بیراج کے تمام دروازے تبدیل کیے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریف کیا کہ منصوبہ 3 سال میں مکمل ہوگا۔ اس وقت بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ بحالی کے جامع منصوبے میں ایک بڑے کوفرڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بیراج کی تعمیر کے بعد پہلی بار، فرش، گھاٹ اور بنیادی پرزوں کا معائنہ اور مرمت کی جائے گی.پہلے مرحلے میں بائیں کنارے کی دیوار سے شروع ہونے والے 16 دروازوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے کی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ کوفرڈیم کی تعمیر 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوئی۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے 20 اکتوبر 2024 کو 16 دروازوں کی تبدیلی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کی۔وزیر آبپاشی جام خان شوروکے مطابق، اپ اسٹریمکوفرڈیم کے لیے کل 510 شیٹ پائلز کامیابی کے ساتھ نصب کیے جاچکے ہیں، جبکہ 26 نومبر 2024 کو ڈائون اسٹریم شیٹ پائلز پر کام شروع کیا گیا، 594 میں سے 16 پائلز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں سامان پہنچانے کیلیے عارضی راستہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اسٹیل شیٹ کے پائلز اور جیوممبرین کیلیے ریت کے بورے بھی سائٹ پر پہنچاد یے گئے ہیں۔ 24 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے سکھر بیراج پراجیکٹ میں مرمت کے اضافی کاموں کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ منصوبہ 23 فروری 2027 تک مکمل ہوگا تاہم ایک سال کی اضافی ڈیفیکٹ لائبلیٹی مدت بھی دی گئی ہے۔ سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ خالد شیخ نے اجلاس کے دوران سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مکانات کی تعمیر نو کے لیے براہ راست فنڈز کی منتقلی کے لیے 10 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ اب تک 8 لاکھ 10 ہزار مستحقین کو فنڈز تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ 75 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں، 3 لاکھ خاندان پہلے ہی اپنے نئے گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آفات سے محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیلاب متاثرین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کے وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے منصوبے میں پیش رفت کی تعریف کی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہاؤسنگ اور آبپاشی دونوں منصوبوں میں کام کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پائیدار ترقی کیلیے پرعزم ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی اور پیپلز ہاؤسنگ جیسے منصوبوں کے ذریعے، ہم مستقبل کے لیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، جو اپنے لوگوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت وسیع پیمانے پر بیراجوں کی بحالی اور رہائش کے اقدامات میں مصروف عمل ہے جو کہ جامع ترقی کے ماڈل کی مثال ہے۔ ان کوششوں کا مقصد صوبے کے ضروری انفرا اسٹرکچر کی حفاظت اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔

  • تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے تمام قصبوں اور شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے تاکہ وہاں بسنے والے شہریوں کو اپنی دہلیز پر بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ کے دسرے چھوٹے اہم شہروں جیسے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ اور میرپورخاص میں جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور ان شہروں کے لوگوں کو بہتر معاش تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔ سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں میں شہری انفراسٹرکچر پنجاب کے انہی شہروں کے انفراسٹرکچر سے بہت پیچھے ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں کی تیز رفتار ترقی سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں میں احساس محرومی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔کاشف سعید نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں کی تیز رفتار ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں۔ ان کے التوا میں پڑے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سکھر حیدرآباد موٹر وے کے دیرینہ منصوبے کا خاص طور پر قابل ذکر ہے اسی طرح جامشورو سے سیہون تک دو رویہ سڑک دس سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے سیاحوں اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو سہولیات دینے کے لیے سندھ کے اہم سیاحتی مرکز گورکھ ہل کو فوری طور پر ترقیاتی کام مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند