Baaghi TV

Tag: سندھ حکومت

  • سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    سندھ حکومت کا پاور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع پلان کا اعلان

    صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقی سید ناصر شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کے بجلی کے بنیادی اسٹرکچر میں انقلاب لانے کیلئے اہم اقدامات کر رہی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر توانائی ناصر شاہ نے ایک مقامی ہوٹل میں دی نالج فورم اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انرجی اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام انرجی ڈائیلاگ کے دوران حکومت کے اس اقدام کا اعلان کیا۔ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ کے متبادل توانائی پروگرام میں صوبے کے توانائی کے مسلسل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعدد اختراعی طریقے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا سنگ بنیاد کم استعمال کرنے والے گھرانوں میں دو لاکھ سولر پیکجز کی تقسیم ہے، جس سے کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو صارفین کے علاقوں میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ ایک جامع قابل تجدید توانائی پروگرام کا اعلان کرنا جس کا مقصد لاکھوں رہائشیوں کو سستی بجلی کے حل فراہم کرنا ہے۔ان پیکجز میں شمسی پینل، بیٹریاں، پنکھے اور بلب شامل ہیں جو صفر سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے ہیں۔ ناصر شاہ نے کہا کہ حکومت بیک وقت متعدد متبادل توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن میں سولر، ونڈ اور ہائبرڈ پاور کے اقدامات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں بہت ترقی ہوئی ہے اور کوئلے سے سستی بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
    ڈائرکٹر آف الٹرنییٹ انرجی گورنمنٹ آف ونڈ محفوظ قاضی نے 400 میگاواٹ کے سولر پارکس کی ترقی پر روشنی ڈالی جس میں دو سالوں میں گرڈ انٹیگریشن متوقع ہے۔ ان کے مطابق سندھ توانائی کا مرکز ہے جو شمسی، ہوا، ایٹمی اور کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پبلک سیکٹر میں توانائی کی تبدیلی میں پیش رفت کر رہی ہے کیونکہ سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے اور اگلے مرحلے میں سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کو سولرائز کیا جا رہا ہے۔اس اقدام کے مالی پہلو بھی اتنے ہی امید افزا ہیں جس میں حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کاربن کریڈٹس میں 49 ملین امریکی ڈالر کمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک نے قابل تجدید توانائی کی منتقلی میں مدد کے لیے 30 سالہ قرض بھی فراہم کیا ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی رکن ماروی راشدی نے سمندری کٹاؤ کے تباہ کن ساحلی علاقوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی اور بالخصوص توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں میں بنیادی ڈھانچے کے اہم خلاء کو اجاگر کیا۔انہوں نے سمارٹ اور مائیکرو گرڈ ٹیکنالوجیز کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فعال طور پر حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ پرائیڈ کے بدر عالم نے تھر کے کوئلے کی کان کنی سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی دباؤ بالخصوص آبی وسائل پر کافی دباؤ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سفارش کی کہ کان کنی اور پاور پلانٹس کے لیے زمین لیز کی بنیاد پر مختص کی جانی چاہیے تاکہ طویل مدتی ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ماہرین نے مسلسل نشاندہی کی کہ قومی گرڈ ناقابل برداشت اور ناقابل بھروسہ ہے جس کیلئے جامع گرڈ فیز آؤٹ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کوئلے کی کان کنی کے ماحولیاتی نتائج ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں، محققین مقامی اور درآمد شدہ کوئلہ نکالنے کے طریقوں کے اثرات کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ مکالمے میں محققین اور ماہرین نے صوبے کے توانائی کے چیلنجز کی اہم نوعیت پر زور دیا۔محقق سیدہ سدرہ مہدی نے 11 سے 17 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کے شدید اثرات کی نشاندہی کی جو لوگوں کی زندگیوں کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے۔ چیلنجز کافی ہیں بشمول گردشی قرضہ، اعلیٰ صنعتی ٹیرف، اور وقفے وقفے سے بجلی کی فراہمی۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر مبشر علی صدیقی جیسے ماہرین نے متبادل توانائی کے ذرائع سے متعلق ایک جامع پالیسی دستاویز کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر نعمان احمد، ڈین، این ای ڈی یونیورسٹی نے شہری مراکز میں توانائی کے بحران پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق کچی آبادیوں میں رہنے والے لوگ یوٹیلیٹی سروسز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ اس موقع پر رینیو ایبل فرسٹ کے ریسرچر حماد احمد، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تنویر باری، ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد ولید، رینیو ایبل فرسٹ کے محمد باسط غوری نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں ٹی کے ایف کی ڈائریکٹر زینیہ شوکت نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تقریب کی نظامت کی۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

  • کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) آزمائشی طور پرسڑکوں پرآگئیں، گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سکے گا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید کیمروں سے لیس 2 گاڑیاں( ایمرجنسی ریسپانس وہیکل ) سڑکوں پرآگئیں ، گاڑیوں میں 12 میگا پکسل کی7 جدید کیمرے نصب ہیں گاڑیوں میں لگے 6 جدید کیمروں سے مشکوک گاڑیوں کی نمبرپلیٹس اورمشکوک افراد کے چہروں کو شناخت کیا جا سگے گا، گاڑی کی چھت پرلگا کیمرا 360 ڈگری تک روٹیٹ کرسکتا ہے۔جدید کیمروں سے لیس گاڑیوں کو ابتدائی طورپرشہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں کھڑا کیا گیا ہے،ایک گاڑی میں ایک کمانڈراور تین سپاہی موجود ہوں گے ، گاڑی میں موجود کمانڈرکے پاس ایک ٹیبلیٹ ہو گا جو کہ کیمروں اور مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے منسک ہوگا۔انچارج آپریشن سیف سٹی شہباز مغل نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر جدید کیمروں سے لیس 23 گاڑیاں موجود ہوں گی جو کہ شہر کے مختلف علاقوں اورشاہراہوں میں کھڑی کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں لگے کیمرے نائٹ ویڑن ہیں اور اندھیرے میں کام کرنے کی صلاحت رکھتے ہیں، کیمرے کے لیے چہرہ اورگاڑیوں کی نمبر پلیٹس ریڈ ایبل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ نادرا اورایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہے جسے ہی کوئی مشکوک شخص یا جعلی نمبرپلیٹ لگی گاڑی کیمروں سے لیس گاڑی کے سامنے گزرے گی اس کی نشاندہی ہو جائے گی اوراس گاڑی یا مشکوک شخص سے متعلقہ تھانے کو اطلاع کردی جائے گی۔گاڑی میں انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ وائرلیس سیٹ بھی موجود اگرکبھی نیٹ کے مسائل سامنے آتے ہیں اورنیٹ نہیں چل رہا ہوا تو متعلقہ تھانے کو وائرسیل سیٹ کے ذریعے اطلاع کر دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جدید آلات سے نصب گاڑیوں کی کوئی جگہ مختص نہیں ہوگی جس جگہ پران گاڑیوں کی ضرورت ہو گی انہیں وہاں کھڑا کردیا جائے گا۔انچارج سیف سٹی نے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں مجموعی طور پر 13 سو جدید کیمرے لگائے جائیں گے جن میں سے 100 جدید کیمرے آپریشن ہو چکے ہیں جبکہ 300 نئے پولز لگنے ہیں جن میں 15 سے زائد پولز شہر کے مختلف علاقوں میں لگاجا چکے ہیں۔

    ملک میں حالات خراب ہوں تو گورنر راج لگایا جاسکتا، آغا سراج درانی

    جاپان سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرانٹ فراہم کرے گا

    فردوس شمیم نقوی سمیت دیگر رہنماؤں کی ضمانتیں منسوخ

    موہن جودڑو ایکسپریس کو پرانے روٹ پر بحال کردیا گیا

  • ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موسمیاتی اثرات اور آفات سے بچاؤ کیلیے اقدامات کے ذریعے زرعی معیشت کے فروغ کیلیے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ زراعت اور پیپلزہاؤسنگ پروجیکٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر داخلہ ضیا لنجار، معاون خصوصی وزیراعلیٰ جبار خان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈووکیٹ جنرل حسن اکبر، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سی ای او پیپلزہاوسنگ خالد شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 24 ارب روپے سے سکھر بیراج کے دروازوں اور اسٹرکچر کی بحالی آبی وسائل اور انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کا اہم منصوبہ ہے۔منصوبہ 20 جون 2024 کو سکھر بیراج کے ایک دروازے کے گرنے پر شروع کیا گیا۔ اب کینالوں سمیت تاریخی بیراج کے تمام دروازے تبدیل کیے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریف کیا کہ منصوبہ 3 سال میں مکمل ہوگا۔ اس وقت بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ بحالی کے جامع منصوبے میں ایک بڑے کوفرڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بیراج کی تعمیر کے بعد پہلی بار، فرش، گھاٹ اور بنیادی پرزوں کا معائنہ اور مرمت کی جائے گی.پہلے مرحلے میں بائیں کنارے کی دیوار سے شروع ہونے والے 16 دروازوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے کی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ کوفرڈیم کی تعمیر 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوئی۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے 20 اکتوبر 2024 کو 16 دروازوں کی تبدیلی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کی۔وزیر آبپاشی جام خان شوروکے مطابق، اپ اسٹریمکوفرڈیم کے لیے کل 510 شیٹ پائلز کامیابی کے ساتھ نصب کیے جاچکے ہیں، جبکہ 26 نومبر 2024 کو ڈائون اسٹریم شیٹ پائلز پر کام شروع کیا گیا، 594 میں سے 16 پائلز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں سامان پہنچانے کیلیے عارضی راستہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اسٹیل شیٹ کے پائلز اور جیوممبرین کیلیے ریت کے بورے بھی سائٹ پر پہنچاد یے گئے ہیں۔ 24 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے سکھر بیراج پراجیکٹ میں مرمت کے اضافی کاموں کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ منصوبہ 23 فروری 2027 تک مکمل ہوگا تاہم ایک سال کی اضافی ڈیفیکٹ لائبلیٹی مدت بھی دی گئی ہے۔ سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ خالد شیخ نے اجلاس کے دوران سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مکانات کی تعمیر نو کے لیے براہ راست فنڈز کی منتقلی کے لیے 10 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ اب تک 8 لاکھ 10 ہزار مستحقین کو فنڈز تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ 75 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں، 3 لاکھ خاندان پہلے ہی اپنے نئے گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آفات سے محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیلاب متاثرین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کے وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے منصوبے میں پیش رفت کی تعریف کی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہاؤسنگ اور آبپاشی دونوں منصوبوں میں کام کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پائیدار ترقی کیلیے پرعزم ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی اور پیپلز ہاؤسنگ جیسے منصوبوں کے ذریعے، ہم مستقبل کے لیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، جو اپنے لوگوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت وسیع پیمانے پر بیراجوں کی بحالی اور رہائش کے اقدامات میں مصروف عمل ہے جو کہ جامع ترقی کے ماڈل کی مثال ہے۔ ان کوششوں کا مقصد صوبے کے ضروری انفرا اسٹرکچر کی حفاظت اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔

  • تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے تمام قصبوں اور شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے تاکہ وہاں بسنے والے شہریوں کو اپنی دہلیز پر بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ کے دسرے چھوٹے اہم شہروں جیسے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ اور میرپورخاص میں جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور ان شہروں کے لوگوں کو بہتر معاش تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔ سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں میں شہری انفراسٹرکچر پنجاب کے انہی شہروں کے انفراسٹرکچر سے بہت پیچھے ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں کی تیز رفتار ترقی سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں میں احساس محرومی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔کاشف سعید نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں کی تیز رفتار ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں۔ ان کے التوا میں پڑے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سکھر حیدرآباد موٹر وے کے دیرینہ منصوبے کا خاص طور پر قابل ذکر ہے اسی طرح جامشورو سے سیہون تک دو رویہ سڑک دس سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے سیاحوں اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو سہولیات دینے کے لیے سندھ کے اہم سیاحتی مرکز گورکھ ہل کو فوری طور پر ترقیاتی کام مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی کام جاری ہے،میئر کراچی

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تعمیراتی کام جاری ہے،میئر کراچی

    میئر کراچی بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کا تعمیراتی کام جاری ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق مئی کراچی نے بتایا کہ شیریں جناح کالونی میں شاہراہ غالب نزد پی ایس او پیٹرول پمپ کیماڑی گیٹ نمبر 2 کے قریب سے سڑک کی استرکاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقہ مکینوں کو سہولت فراہم کی جاسکے، یہ ہم سب کے بدلتے اور بہتر ہوتے شہر کراچی کے مناظر ہیں جو آج شہریوں کے سامنے ہیں اور اسی طرح آگے بھی جاری رہیں گے، کراچی کی رونقوں اور روشنیوں کو بلدیہ عظمیٰ بحال کررہی ہے اور شہر کے ہر ضلع میں کام ہوتا نظر آرہا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت ٹھیک اور کام کرنے کا جذبہ ہو تو وسائل یا اختیارات کبھی رکاوٹ نہیں بنتے ،کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کو بروقت اور جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کی جاسکے، شیریں جناح کالونی میں بھاری ٹریفک کی وجہ سے سڑکوں کی صورتحال تشویش ناک تھی اور ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا تھا، کیماڑی گیٹ نمبر2 کے قریب کی خستہ حالت کے پیش نظر اس کی فوری مکمل اور استرکاری کا فیصلہ کیا گیا اور اس پر تیزی سے کام شروع کیا گیا اور اب جلد ہی اس مکمل کرلیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کا وسیع تر مفاد ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    ماربل سٹی کراچی کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری کردی

  • سندھ حکومت کا  500 میگا واٹ سولر فلوٹنگ منصوبہ،کینجھر جھیل پر کام شروع

    سندھ حکومت کا 500 میگا واٹ سولر فلوٹنگ منصوبہ،کینجھر جھیل پر کام شروع

    کینجھرجھیل میں ملک کے پہلے فلوٹنگ سولر پروجیکٹ پرکام کا آغاز کردیا گیا تاہم منصوبے پر ماہی گیر اور آبی ماہرین نے خدشات کا اظہار کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کو میٹھاپانی فراہم کرنے والے سب سے بڑے ذخیرے کینجھر جھیل میں حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 78 ارب روپے کی لاگت سے ملک کے پہلے فلوٹنگ سولر پروجیکٹ پر کام شروع کردیا ہے .منصوبے سے 500 میگا واٹ بجلی حاصل کی جائے گی جب کہ نوری جام تماچی کے مزار سے جھیل کے اندر 18 مقامات پر بورنگ کا کام مکمل کیا جاچکا ہے لیکن اس منصوبے پر ماہی گیروں کو شدید تحفظات ہیں دوسری جانب ماہی گیروں اور آبی ماہرین کا موقف ہے کہ جھیل سے ہزاروں لوگوں کا روزگاروابستہ ہے، جھیل پر سولرپلیٹس نصب ہونگی تو آبی حیات اور مہمان پرندے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں جب کہ زہریلے کیمیکل سے مچھلیاں اوردیگرآبی حیات مرجائیں گے لہذا منصوبہ ماہی گیروں کے روزگار ، مہمان پرندوں اورآبی حیات کیلئے خطرناک ہوگا.منصوبے سے متعلق صدر کینجھر جھیل کنزرویشن نیٹ ورک محمد انیس کا کہنا ہے کہ ہم پروجیکٹ کی مخالفت نہیں کرتے لیکن اس منصوبے سے جھیل میں آنیوالے سائبرین پرندے اور 45 اقسام کے مقامی پرندے اور مچھلی متاثر ہوگی. ماہر ماحولیات سابق مینیجر ڈبلیو ڈبلیو ایف کینجھر جھیل غلام رسول کھتری نے کہا کہ کئی ملین روپے کا جھیل میں مچھلی کا بیچ ڈالاہے وہ کہاں جائے گا؟6 ماہ قبل حیدرآباد سے آنیوالی ٹیم نے سروے کیا تھاجس میں بتایا گیا تھا کہ اس جھیل پر 40 سے 50 ہزار لوگوں کا گزارا ہے جھیل تباہ ہو جائے گی منچھر کو زہر بنا دیا ہے اب کینجھر کو زہر بنائیں گے اوپر پلیٹس لگے گی تو نیچے چھاﺅں ہوگی آبی حیات کا کیا ہوگا؟ د ریں اثناءحکومت کا موقف ہے کہ 78 ارب روپے کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبے سے آبی حیات اور ماحولیات کوکوئی خطرہ نہیں، منصوبہ جھیل کے صرف5 سے 6 فیصد حصے پر ہی بنے گا اور منصوبے سے ماحولیات اورماہی گیری متاثر نہیں ہوگی.دوسری طرف سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ آبی حیات اور مہمان پرندوں کی آمد میں کوئی مداخلت نہ ہو اس کیلئے سولرپلیٹس کی تنصیب کی زیادہ ترتیاری سائیٹ پر کی جائے گی، جبکہ منصوبے کیلئے کوئی نقصان دہ کیمیکل بھی استعمال نہیں ہوگا.

  • سندھ حکومت نے کراچی میں یوتھ کلب قائم کرلیا

    سندھ حکومت نے کراچی میں یوتھ کلب قائم کرلیا

    سندھ حکومت کے محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز نے نوجوانوں کے لیے گلستان جوہر کراچی میں یوتھ کلب قائم کرلیا ہے جس میں اسپورٹس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی سہولیات موجود ہیں۔

    سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرس عبدالعلیم لاشاری نے اپنے دفتر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ محکمے کے وزیر سردار محمد بخش خان مہر کی ہدایات پر یوتھ ڈولپمنٹ کمپلیکس کا نام تبدیل کرکے اس کو یوتھ کلب بنایا گیا ہے جہاں ملٹی پرپز اسپورٹس ہالز ہیں جس میں مختلف گیمز کھیلی جا سکتی ہیں،ابھی ہم نے یوتھ کلب میں واکنگ ٹریک، ریکریئشنل کارنرز، لائبرری, پوڈکاسٹ سینٹر اور فری لانسنگ یسٹ بھی بنایا ہے جہاں نوجوان اپنی تخلیقی و تعمیری صلاحیتوں کو فروغ دینے کی سرگرمیوں میں مصروف رہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ویسے تو ہر کلب میں والدین ممبر بنتے ہیں اور بچے ان کے ساتھ جاتے ہیں لیکن یوتھ کلب میں نوجوان ممبر بنیں گے اور ان کے والدین کو بچوں کی ممبرشپ کے حساب سے انٹری ملی گی عبدالعلیم لاشاری نے بتایا کہ یوتھ کلب میں 15 برس سے 29 برس کے نوجوانوں کو ممبرشپ دی جائے جو کہ یوتھ کلب کی تمام سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گی. ہم یوتھ کلب بہت جلد تائی کوانڈو سمیت مختلف کھیلوں کے لیے کوچنگ کا آغاز بھی کریں گے۔

    گورنرسندھ 5 روزہ غیر ملکی دورے پرروانہ

    کپڑوں کی آڑ میں غیر ملکی سگریٹس،کمپیوٹر ایل سی ڈیزاسمگل کی کوشش ناکام

    وی پی این کے متعلق اسلامی کونسل کا فتویٰ نہیں آیا،راشد سومرو

  • بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اوربدسلوکی سے بچانا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

    بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اوربدسلوکی سے بچانا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اور زیادتی سے بچانا ہوگا۔ والدین اور بچوں کو آگاہی دینی ہوگی۔

    19 نومبر کو بچوں کے خلاف تشدد کی روکتھام کے دن کے موقع پر پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال کا تھیم ’’ تیز رفتار ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات، بچوں کو جنسی استحصال اور زیادتی سے بچانا‘‘ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مواقع اور خطرات دونوں کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو اپنا تحفظ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس دن کا مقصد بچوں اور والدین کو یہ سکھانا ہے کہ استحصال سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ تعلیم، شعور اور تفہیم کے ذریعے ہی اس درندگی اور سفاکیت کو معاشرے سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے فوائد پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سے زندگی کے کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں تاہم بچوں کی حفاظت کا نیا چیلنج بھی درپیش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگردرست قوانین اور اقدامات کا اطلاق کیا جائے تو جدید ٹیکنالوجیز بچوں کے تحفظ کا اہم ہتھیار ثابت ہوسکتی ہیں۔ مراد علی شاہ نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی تعلیم دیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنے کےلیے آگاہی دینا ضروری ہے۔ بچوں کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کےلیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی حفاظت کےلیے نئے اقدامات اٹھائے ہیں اور حکومت بچوں کو ہر قسم کے استحصال اور تشدد سے بچانے کےلیے پر عزم ہے۔ ہمیں بچوں کو ہر حال میں ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جس میں وہ وقار اور آزادی کے ساتھ نشوونما پا سکیں۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت ، بہبود اور صحت کو یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

    عالمی اردو کانفرنس 5 تا 8 دسمبر آرٹس کونسل کراچی میں ہو گی

    ہوٹلز ،گیسٹ ہائوسز کیخلاف کریک ڈائون ، 9غیر ملکی باشندےگرفتار

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    10کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اسمگل موٹرسائیکلیں برآمد

  • سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    حکومت سندھ، سماجی بہبود کے محکمہ، یونیسیف اور دیگر اہم شراکت داروں کے تعاون سے، چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (CPIMS) کا باضابطہ آغاز کیا۔ یہ اہم موقع ورلڈ چلڈرن ڈے کی تقریبات کے ساتھ منایا گیا، جس کا مقصد بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے ایک نئی تحریک کا آغاز کرنا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق تقریب میں وزیر سماجی بہبود میر طارق علی تالپور، سیکریٹری سماجی بہبود پرویز احمد سیہر، برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن مارٹن ڈاسن، اور یونیسیف اسلام آباد کی چیف آف چائلڈ پروٹیکشن سوسن اینڈریو شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر سماجی بہبود میر طارق علی تالپور نے کہا: "بچے ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔حکومت سندھ بچوں کے مسائل کو حل کرنے اور ان کے لیے ایک محفوظ اور ترقی یافتہ ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔انہوں نے CPIMS کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:”یہ نظام نہ صرف بچوں کے تحفظ کے کیسز کو بہتر طریقے سے منظم کرے گا بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو بھی مضبوط بنائے گا۔ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ کن علاقوں اور کن بچوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔”صوبائی وزیر نے مزید کہا: "سندھ حکومت نے ہمیشہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ ہم نہ صرف قانون سازی بلکہ اس کے موثر نفاذ کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ CPIMS اس بات کی ضمانت دے گا کہ کوئی بچہ مدد سے محروم نہ رہے۔”انہوں نے والدین، اساتذہ، اور سول سوسائٹی پر زور دیتے ہوئے کہا”بچوں کا تحفظ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم سب کو مل کر ایسے نظامات کو سپورٹ کرنا ہوگا جو بچوں کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ہوں۔میں والدین اور اساتذہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں اور ان کے مسائل کو سمجھیں۔”میر طارق علی تالپور نے اس موقع پر بچوں کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:”ہم بچوں کے تحفظ اور بہبود کے لیے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر بچہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال کر سکے اور ایک محفوظ اور بااختیار ماحول میں پروان چڑھ سکے۔

  • سندھ فوڈ اتھارٹی کی 350 کارروائیاں، 20 لاکھ کے جرمانے

    سندھ فوڈ اتھارٹی کی 350 کارروائیاں، 20 لاکھ کے جرمانے

    سندھ فوڈ اتھارٹی (ایس ایف ای) نے غذائی تحفظ اور قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک روز میں سندھ بھر میں 350 سے زائد مقامات پر معائنہ کیا گیا، جس کے دوران اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے، بھاری جرمانے عائد کیے گئے، اور لائسنسنگ کے عمل کو فروغ دیا گیا تاکہ عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں، سندھ فوڈ اتھارٹی کی دو ٹیموں نے 35 معائنہ کیے، جن کے دوران 11 اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے اور مختلف مقامات پر 6 لاکھ 40 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ کیماڑی میں 12 معائنہ کیے گئے، جن میں پانچ اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے اور 90 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ڈسٹرکٹ کورنگی میں 48 مقامات پر معائنہ کیا گیا، 15 اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے، 12 مقامات پر 5 لاکھ 20 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، اور 15 لائسنس چالان جاری کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 1 لاکھ 46 ہزار 900 روپے تھی۔ڈسٹرکٹ ملیر میں 15 معائنہ کیے گئے، جن کے دوران 11 اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے اور 3 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ضلع مشرقی میں مجموعی طور پر 40 انسپکشنز کی گئیں، جن کے نتیجے میں 3 بہتری کے نوٹس اور 7 جرمانے جو کہ 155,000 روپے کے تھے عائد کیے گئے، اس کے علاوہ 10 لائسنس چالانز بھی جاری کیے گئے۔ شہید بینظیر آباد (SBA) میں 18 انسپکشنز کی گئیں، جن کے نتیجے میں 13 بہتری کے نوٹس اور 7 لائسنس چالانز جاری کیے گئے۔میرپورخاص میں 18 مقامات پر معائنہ کیا گیا، جس میں تین اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے۔ حیدرآباد کی ویجیلنس ٹیم نے 23 مقامات کا معائنہ کیا، 17 اصلاحی نوٹس جاری کیے، اور 1 لاکھ 20 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے۔علاوہ ازیں، عمرکوٹ،تھرپارکر، سانگھڑ، ٹھٹھہ، قمبر،شہدادکوٹ، مٹیاری، بدین، ٹنڈو محمد خان، دادو، اور ٹنڈو الہ یار میں بھی معائنہ کیا گیا، جہاں فوڈ سیفٹی کے معیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے اور عوامی صحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی، مزمل حسین ہالیپوٹو نے ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان مشترکہ کارروائیوں نے اتھارٹی کی غذائی تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی غیر معیاری کاروباروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گی تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔اسی دوران سندھ فوڈ اتھارٹی نے کراچی کے علاقے ملیر میں ایک معروف پیزا برانڈ کے مینوفیکچرنگ یونٹ پر چھاپہ مارا اور غذائی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا۔
    دورانِ چھاپہ، بڑی مقدار میں زائد المعیاد اجزا برآمد کیے گئے جو شہر بھر میں فروخت ہونے والے پیزا کی تیاری میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو نے کہا، "گلی سڑی اور غیر معیاری اشیاء سے خوراک تیار کرنا عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایسی خلاف ورزیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔”مینوفیکچرنگ یونٹ کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا اور 4 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ہالیپوٹو نے مزید کہا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی شہریوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے گی۔

    پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کیلئے اقدامات شروع

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی