Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدہ

  • سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت عالمی ثالثی عدالت میں جاری ہے-

    انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے، جس دوران پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے بہاؤ اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تحفظات پیش کیےعالمی عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر مہر علی شاہ اور مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا بھی موجود تھے۔

    پاکستانی وفد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر منصوبے تعمیر کرتے وقت سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    پاکستان نے عدالت سے درخواست کی کہ بھارت کو معاہدے کے تحت ان تین دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت، ان کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق واضح وضاحت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا درست اور شفاف تعین نہایت اہم ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں،ادھر بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوا۔

    ثالثی عدالت کے بینچ کی قیادت امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ دیگر بین الاقوامی ججز بھی کارروائی کا حصہ تھے، یہ عالمی فورم 127 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،پاکستان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان 1971 کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے اور ملک قابلِ بھروسہ آبی ذخائر کو قومی بقا کیلئے کلیدی حیثیت دیتا ہے آبی ذخائر خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لاکھوں پاکستانیوں کیلئے آبی ذخائر روزگار اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، جبکہ ان کا تحفظ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہےپاکستان آبی ذخائر کو قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا،پاکستان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

  • پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائےگی۔

    بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیانات کے جواب میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائےگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ بھارت بار بار اپنی دہشتگردی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہےبھارت کا خطے میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں ملوث ہونا دستاویزی طور پر ثابت ہے، اور کلبھوشن یادو کیس پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    ترجمان نے مزید کہاکہ بھارت پر بیرونِ ملک ہدفی قتل، تخریب کاری اور دہشتگرد نیٹ ورکس کی معاونت کے سنگین الزامات ہیں، ہند و توا نظریہ انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیتا ہے اور بھارتی طرزعمل اسی سوچ کا عکاس ہے،بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضہ جاری ہے، اور پاکستان کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا رہے گا-

    جماعت اسلامی کا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کے خلاف احتجاج کا اعلان

    دفتر خارجہ نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ طے پایا، اور اس کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

  • بھارتی ریٹائرڈ جنرل کا پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی منصوبے کا انکشاف

    بھارتی ریٹائرڈ جنرل کا پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی منصوبے کا انکشاف

    بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے منصوبے سے پردہ اٹھا دیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر سینئر صحافی حامد نے ان کا ایک انٹرویو کلپ شیئر کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ بھارت اپنی صلاحیت کے مطابق پانی روک سکتا ہے اور پھر اچانک ایک دن پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دے گا۔ان کے مطابق پاکستان کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی جمع کرنے اور روکنے کی گنجائش موجود نہیں، جس کے باعث ملک میں شدید سیلاب آسکتا ہے اور پاکستان اس پانی کو استعمال بھی نہیں کر پائے گا۔

    ریٹائرڈ جنرل نے مزید کہا کہ بھارت گرمیوں میں اس وقت پانی روک لے گا جب فصلوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی اور بارشوں کے موسم میں جب پانی کی ضرورت نہیں ہوگی تو پاکستان کی طرف چھوڑ دیا جائے گا، اس طرح پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدہ ہے، اور بھارت اپنی مرضی سے پانی روکنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

  • سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی  مؤقف کی تائید

    سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی مؤقف کی تائید

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت کو معاہدہ معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

    پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لینے کے بعد، عدالت نے بھارت کے اقدام کو غیرقانونی اور بلاجواز قرار دیا۔

    عدالت کے مطابق، ثالثی عدالت کا کردار واضح ہے اور بھارت کا اقدام عدالت کی فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا.معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش کو معاہدے کی روح اور قانونی بنیادوں کے خلاف قرار دیا گیا۔

    پسِ منظر
    یاد رہے کہ 23 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد بھارت نے اچانک سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، اور 24 اپریل کو پاکستان کو باضابطہ اطلاع دی گئی تھی۔اس پر عالمی ثالثی عدالت نے 16 مئی کو فریقین سے قانونی مؤقف طلب کیا، جس پر پاکستان نے بروقت تحریری مؤقف جمع کروا کر مؤثر دلائل دیے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں، نہ تو عدالت کے دائرہ اختیار کو متاثر کر سکتے ہیں اور نہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں۔پاکستانی حکام نے اس فیصلے کو سفارتی اور قانونی محاذ پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کا پابند بنائے۔

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    جنیوا ،کشمیری کمیونٹی کا مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • کشن گنگا اور رتلے منصوبے: پاکستان نے کارروائی روکنے کی بھارتی درخواست مسترد  کردی

    کشن گنگا اور رتلے منصوبے: پاکستان نے کارروائی روکنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی

    باغی ٹی وی: پاکستان نے بھارت کی جانب سے ورلڈ بینک کے تحت جاری کارروائی روکنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے متعلق تنازع پر کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

    بھارتی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کے بعد، ورلڈ بینک کے غیرجانبدار ماہر مائیکل لینو کو خط لکھ کر کارروائی روکنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پاکستان نے اس درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اپنا جواب ورلڈ بینک کو بھجوا دیا ہے۔واضح رہے کہ کشن گنگا اور رتلے دونوں ہائیڈرو پاور منصوبے مقبوضہ کشمیر میں دریا کشن گنگا اور چناب پر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان منصوبوں کے ڈیزائن کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

    فرانسیسی انجینئر اور انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز کے سابق صدر مائیکل لینو کو ورلڈ بینک نے 13 اکتوبر 2022 کو غیرجانبدار ماہر مقرر کیا تھا۔ ان کا کام دونوں ممالک کے مؤقف سن کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ان منصوبوں کا ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

    ورلڈ بینک کے ماہر نے حالیہ خط کے ذریعے پاکستان سے باضابطہ جواب طلب کیا تھا، جس میں پاکستان نے واضح طور پر بھارتی درخواست کو مسترد کر دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دریاؤں پر ایسے منصوبے تعمیر کر رہا ہے جو پاکستان کے پانی کے حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت کی مودی حکومت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    بھارت کا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نیا بدترین ریکارڈ

    نئی دہلی میں فلسطین حامی تنظیموں کا احتجاج، اسرائیلی مظالم اور مودی حکومت پر شدید تنقید

    ٹرمپ امریکی میڈیا پر برہم، غلط خبریں نشر کرنے کا الزام

    ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد عوام سڑکوں پر، طمانیت اور سکون کی لہر دوڑ گئی

    ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد عوام سڑکوں پر، طمانیت اور سکون کی لہر دوڑ گئی

  • سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    دفتر خارجہ پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان کو "ناجائز طور پر ملنے والا” پانی روک دیا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امیت شاہ نے ہفتے کی صبح ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو میں کہا کہ نہیں، سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ ہم پاکستان جانے والے پانی کو ایک نہر کے ذریعے راجستھان منتقل کریں گے۔”

    دفتر خارجہ کا مؤقف
    پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں ان بیانات کو بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں اور سفارتی روایات کے منافی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر سیاسی معاہدہ ہے، جس میں یکطرفہ طور پر کسی بھی قسم کی معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔دفتر خارجہ نے بھارت کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

    "پانی کو ہتھیار بنانا” قابل مذمت
    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول عمل ہے، جو کسی ذمہ دار ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے۔بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اکستان اپنی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”

    واضح رہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی پانی اور سلامتی سے متعلق کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات جنوبی ایشیا کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

  • سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی  استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی سندھ طاس معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یہ معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان جانے والے دریائی پانی کا رخ موڑ کر اسے راجستھان میں استعمال کیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امیت شاہ کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو وہ پانی کبھی نہیں ملے گا جو اسے ناجائز طور پر مل رہا تھا۔” ان کے اس بیان نے خطے میں پانی کے حوالے سے جاری تنازع کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔

    بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی طور پر بھی اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ زیریں علاقوں (downstream states) کو ان دریاؤں پر پہلا حق حاصل ہوتا ہے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان کئی بار واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری ممکن نہیں اور بھارت کی جانب سے پانی روکنے کا عمل نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اعلان عالمی قوانین، معاہدوں اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، جو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کی پامالی  بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بلاول بھٹو

    سندھ طاس معاہدے کی پامالی بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بلاول بھٹو

    پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے نے بی بی سی اردو کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے اور امریکا میں بھی بھارت کے حامی اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں پاکستان کا مؤقف سچ پر مبنی اور بہت تگڑا ہے،جسے دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کس طرح نمٹتا ہےپاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام تقاضے پورے کیے، اور امریکا سمیت پوری عالمی برادری نے اس عمل کو قریب سے دیکھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کیا گیا۔

    بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا کے سامنے امن کا پیغام لے کر آیا ہے اور موجودہ کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ جوہری تنازع کے سائے میں سفارتی گفتگو کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے جن عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقات ہو رہی ہے، وہ نہ صرف پاکستانی مؤقف کو سن رہے ہیں بلکہ اسے سراہ بھی رہے ہیں اور پاکستان کی سفارتی کوششوں میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    پانی کے مسئلے پر بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے لیے پانی کی سپلائی بند کی تو جواباً بھارت کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہوسکتا ہے سندھ طاس معاہدے جیسے عالمی معاہدوں کو پامال کرنا نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، پاکستان کے اقد امات اور قربانیوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، اور بھارت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کسی بھی ثبوت سے محروم ہیں، جس کا اعتراف خود امریکا میں موجود بھارت نواز حلقے بھی کر چکے ہیں۔

    انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ”ٹیمو ورژن“ قرار دینے کے اپنے بیان پر بھی وضاحت دی کہ یہ الفاظ دانستہ استعمال کیے گئے تاکہ بات کم الفاظ میں سمجھ آ جائے ان کے مطابق یہ بیان ڈیجیٹل دور کی حکمتِ عملی کے تحت تھا، اور اس کا مقصد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا تھا۔

  • سندھ طاس سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو شملہ معاہدہ بھی زیر غور ہوگا،خواجہ آصف

    سندھ طاس سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو شملہ معاہدہ بھی زیر غور ہوگا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ کرے گا تو شملہ معاہدے پر بھی وہی اصول لاگو ہوں گے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ان کا بیان ذاتی حیثیت میں تھا اور وزارت خارجہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اس کا جواب دیا ہے، اگر اس معاہدے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے تو شملہ معاہدے کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ وہ روزانہ چناب دریا میں پانی کی سطح خود مانیٹر کرتے ہیں، بعض دنوں میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی یا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نہ صرف جنگ ہار چکا ہے بلکہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف بھی مزید مضبوط ہوا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو مشورہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی عدم اعتماد کی تحریک نہ لائے، ورنہ اس کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو جائے گا۔

    برطانیہ کا اسرائیلی کارروائیوں پر سخت ردعمل،غزہ کی صورتحال ناقابل برداشت ہے

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    چینی صدر اور ٹرمپ کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل گفتگو، تجارتی تعلقات پر زور

    برطانیہ: ٹیکس محکمے کے اکاؤنٹس فشنگ اسکیم کا شکار، 47 ملین پاؤنڈ کا فراڈ ناکام

    عالمی بینک کا نیا غربت پیمانہ، پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد ہو گئی