Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدہ

  • سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    دفتر خارجہ پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان کو "ناجائز طور پر ملنے والا” پانی روک دیا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امیت شاہ نے ہفتے کی صبح ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو میں کہا کہ نہیں، سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ ہم پاکستان جانے والے پانی کو ایک نہر کے ذریعے راجستھان منتقل کریں گے۔”

    دفتر خارجہ کا مؤقف
    پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں ان بیانات کو بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں اور سفارتی روایات کے منافی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر سیاسی معاہدہ ہے، جس میں یکطرفہ طور پر کسی بھی قسم کی معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔دفتر خارجہ نے بھارت کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

    "پانی کو ہتھیار بنانا” قابل مذمت
    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول عمل ہے، جو کسی ذمہ دار ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے۔بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اکستان اپنی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”

    واضح رہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی پانی اور سلامتی سے متعلق کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات جنوبی ایشیا کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

  • سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی  استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی سندھ طاس معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یہ معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان جانے والے دریائی پانی کا رخ موڑ کر اسے راجستھان میں استعمال کیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امیت شاہ کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو وہ پانی کبھی نہیں ملے گا جو اسے ناجائز طور پر مل رہا تھا۔” ان کے اس بیان نے خطے میں پانی کے حوالے سے جاری تنازع کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔

    بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی طور پر بھی اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ زیریں علاقوں (downstream states) کو ان دریاؤں پر پہلا حق حاصل ہوتا ہے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان کئی بار واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری ممکن نہیں اور بھارت کی جانب سے پانی روکنے کا عمل نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اعلان عالمی قوانین، معاہدوں اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، جو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کی پامالی  بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بلاول بھٹو

    سندھ طاس معاہدے کی پامالی بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، بلاول بھٹو

    پارلیمانی سفارتی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے نے بی بی سی اردو کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ بھارت نے پہلگام حملے کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے اور امریکا میں بھی بھارت کے حامی اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں پاکستان کا مؤقف سچ پر مبنی اور بہت تگڑا ہے،جسے دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کس طرح نمٹتا ہےپاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام تقاضے پورے کیے، اور امریکا سمیت پوری عالمی برادری نے اس عمل کو قریب سے دیکھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کیا گیا۔

    بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا کے سامنے امن کا پیغام لے کر آیا ہے اور موجودہ کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ جوہری تنازع کے سائے میں سفارتی گفتگو کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے جن عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقات ہو رہی ہے، وہ نہ صرف پاکستانی مؤقف کو سن رہے ہیں بلکہ اسے سراہ بھی رہے ہیں اور پاکستان کی سفارتی کوششوں میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔

    پانی کے مسئلے پر بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے لیے پانی کی سپلائی بند کی تو جواباً بھارت کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہوسکتا ہے سندھ طاس معاہدے جیسے عالمی معاہدوں کو پامال کرنا نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، پاکستان کے اقد امات اور قربانیوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، اور بھارت کی طرف سے لگائے گئے الزامات کسی بھی ثبوت سے محروم ہیں، جس کا اعتراف خود امریکا میں موجود بھارت نواز حلقے بھی کر چکے ہیں۔

    انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ”ٹیمو ورژن“ قرار دینے کے اپنے بیان پر بھی وضاحت دی کہ یہ الفاظ دانستہ استعمال کیے گئے تاکہ بات کم الفاظ میں سمجھ آ جائے ان کے مطابق یہ بیان ڈیجیٹل دور کی حکمتِ عملی کے تحت تھا، اور اس کا مقصد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنا تھا۔

  • سندھ طاس سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو شملہ معاہدہ بھی زیر غور ہوگا،خواجہ آصف

    سندھ طاس سے چھیڑ چھاڑ ہوئی تو شملہ معاہدہ بھی زیر غور ہوگا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے چھیڑ چھاڑ کرے گا تو شملہ معاہدے پر بھی وہی اصول لاگو ہوں گے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ان کا بیان ذاتی حیثیت میں تھا اور وزارت خارجہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اس کا جواب دیا ہے، اگر اس معاہدے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے تو شملہ معاہدے کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ وہ روزانہ چناب دریا میں پانی کی سطح خود مانیٹر کرتے ہیں، بعض دنوں میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی یا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نہ صرف جنگ ہار چکا ہے بلکہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف بھی مزید مضبوط ہوا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو مشورہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی عدم اعتماد کی تحریک نہ لائے، ورنہ اس کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو جائے گا۔

    برطانیہ کا اسرائیلی کارروائیوں پر سخت ردعمل،غزہ کی صورتحال ناقابل برداشت ہے

    ناصرہ المعروف اداکارہ رانی بیگم ،تحریر :راحین راجپوت

    چینی صدر اور ٹرمپ کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل گفتگو، تجارتی تعلقات پر زور

    برطانیہ: ٹیکس محکمے کے اکاؤنٹس فشنگ اسکیم کا شکار، 47 ملین پاؤنڈ کا فراڈ ناکام

    عالمی بینک کا نیا غربت پیمانہ، پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد ہو گئی

  • بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وزیراعظم

    بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے-

    آبی ذخائر سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس سے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی کو اپنے بیانیے کا حصہ بنا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عظیم فتح عطا کی، جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے اُن کا کہنا تھا کہ شکر کابہترین طریقہ یہی ہےکہ ہم شب و روز محنت کریں اور 24 کروڑ عوام کیلئے معاشی میدان میں روشن مستقبل تشکیل دیں۔

    اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    انہوں نے کہا کہ پانی کی بندش کے حوالے سے بھارتی دھمکی آمیز بیانیے کو عالمی سطح پر یکسر مسترد کیا گیا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کیلئے کسی طور قابل قبول نہیں آبی وسائل کا تحفظ ایک اجتماعی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے فوری اور سنجیدہ اقداما ت ناگزیر ہیں۔

    وزیراعظم نے زور دیا کہ چاروں صوبوں کے عوام کی پانی کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ہم بھارت کی آبی جار حیت کا جواب بھی اسی جرأت و حکمت سے دیں گے جیسے ہم نے روایتی جنگ میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا۔

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیس: نیب کو سات دن میں نوٹیفائی کرنے کی ہدایت

    انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی آبی معاہدوں کے تحت اپنے حقوق کیلئے مؤثر آواز بلند کرے گا، اور ہمیں خود کو بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا،ہمیں اپنے آبی ذخائر خود بڑھانا ہوں گے کیونکہ اگر آج اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سے جنوبی ایشیا میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق طارق فاطمی نے اپنے حالیہ دورۂ روس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، جس میں توانائی، تجارت اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے ملاقات کے دوران روسی قیادت کو جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا ایک اہم پیغام صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے روسی وزیر خارجہ کو پیش کیا۔

    روسی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کا خواہاں ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے، بلاول بھٹو زرداری

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی  انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے،جنرل ساحر شمشاد مرزا

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے،جنرل ساحر شمشاد مرزا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے-

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر جواب کے بعد بھار ت کو سرحد پر تعینات اپنی افواج کی تعداد کم کرنا پڑی ہے، اور ہم 22 اپریل سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آ چکے ہیں۔

    جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے، یہ فیصلہ پہلگام حملے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر بغیر کسی ثبو ت کے کیا گیا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان نے معاملے کی غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی تاکہ سچ سامنے آ سکے مگر بھارت نے اس پر مثبت ردعمل دینے کے بجائے جارحانہ اقدامات کو ترجیح دی۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام دستیاب فورمز پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری، آبی ماہرین، صحافیوں اور انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے بھی شرکت کی۔ محمد معین وٹو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی دستاویز ہے جسے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، بھارت کی نیت پاکستان کے دریاؤں پر درست نہیں لیکن ہم اپنے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی،پاکستان پانی کے مسئلے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے خلاف تمام فورمز کو استعمال کریں گے اور کامیابی حاصل کریں گے،بھارت کا یکطرفہ فیصلہ کسی صورت بحال نہیں رہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے،بھارت نے دو دن کیلئے جہلم کا پانی روکا تھا لیکن اب نارمل ہے ، خدشہ ہے کہ بھارت مستقبل میں کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ معین وٹو نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے،پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے ایشو کو حل کرنے کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے ، ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوں اور مل بیٹھ کر ماہرین کا ایک گروپ بنائیں جو صوبوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    وفاقی وزیر نے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی جیسے اہم قومی مسئلے پر میچورٹی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ محمد مہدی نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے چیلنج ہیں،بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں،پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی حق اور قومی خودمختاری کا مسئلہ ہے، بھارت کا رویہ جارحیت کے مترادف ہے جسے پاکستان انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی اداروں اور دوست ممالک کو بھارتی اقدامات سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اندرونی سطح پر پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور آبی خودکفالت کے لیے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں،پاکستان پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر مذاکرات سے حقوق کا تحفظ ممکن نہ ہوا تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر محسن لغاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون بھارت کو معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسے معاہدے ختم ہونے لگیں تو عالمی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ صحافی ذوالفقار مہتو نے کہا کہ سندھ طاس دنیا کا وہ واحد معاہدہ ہے جو پانی جیسے اہم مسئلے پر دو متحارب ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسے سفارتی سطح پرموثر طور پر استعمال کرنا چاہیے۔آبی ماہر چوہدری محمد شفیق نے خبردار کیا کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے جبکہ بھارت سمندر میں جانے والے پانی کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت سا پانی بغیر استعمال کے سمندر میں جا رہا ہے، جسے بچانے کی ضرورت ہے۔

    معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا بھارت کے مفاد میں بھی نہیں، جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا ہے، پاکستان میں پانی کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہمیں اس حساس معاملے پر جذباتیت کی بجائے دانشمندی سے کام لینا ہوگا اور باہمی تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔ سابق انڈس واٹر کمشنر شیراز جمیل نے کہا کہ دریائے چناب کا سارا پانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے آتا ہے، بھارت اس پر ڈیم بنا کر پانی روک سکتا ہے جس سے پاکستان کو خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا، بھارت معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے لیکن یہ عمل وقت طلب ہو گا۔انڈس واٹر کمیشن کے کمشنر آصف بیگ نے کہا کہ بھارت طویل مذاکرات کی آڑ میں تعمیرات جاری رکھتا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کیے ہیں، لیکن اب وہ ٹریٹی سے فرار چاہتا ہے۔

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

  • سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، بلاول بھٹو

    سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں قائم سفارتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر مضبوط مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    بھارتی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی سفارتی کمیٹی کا اجلاس ہوا اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف امن، استحکام اور ترقی پر مبنی ہے انہوں نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی آڑ میں جارحیت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    بلاول نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے دہشتگردی سے خطے کو پاک کرنے کا کوئی حل نکالنا چاہیےانہوں نے بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھی زور دیا کہا کہ بھارت پانی کو اسلحے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ، پانی کے مسئلے پر آنے والی نسلیں جنگ لڑیں گی؟ یہ افسوسناک ہے،جوہری ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو نتائج صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پیغام امن کا پیغام ہے اسے دنیا بھر میں پہنچا رہے ہیں، مودی نے بے بنیاد الزامات لگائے، وزیراعظم شہبازشریف نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت کا موقف بہت کمزور ہےبھارت نے سندھ طاس معائدے کی خلاف ورزی کی، پانی کے مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے، آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ نئے مستقبل کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔

    پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا ،وفاقی وزیر مصدق ملک

    وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے حقائق رکھے جائیں گے اور بغیر شواہد کے بھارت کی مہم جوئی کے نظریے کو دفن کرنا ہوگا پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرے گا انہوں نے بھارتی جارحیت میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ سفارتی کمیٹی عالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور بھارتی جنگی جنون خطے کے لیے شدید خطرہ ہے۔ خرم دستگیر نے خطے میں پائیدار امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط قرار دیا۔

    فیصل سبزواری نے کہا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں مکمل احتیاط برتی ہے اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    واشنگٹن: صدر عالمی بینک اجے بنگا نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر عالمی بینک اجے بنگا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے سندھ طاس معاہدے کی تبدیلی یا خاتمہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ممکن ہے اور ورلڈ بینک کا کردار صرف ثالثی کا ہے فیصلہ سازی کا نہیں۔

    سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے کیا گیا تھا تاکہ پانی کے مسائل پر کوئی جنگ یا تنازع نہ ہو،زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔