Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدہ

  • پانی پر ہمارا حق ہے ، دفاع کریں گے، وزیر برائے توانائی

    پانی پر ہمارا حق ہے ، دفاع کریں گے، وزیر برائے توانائی

    وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پانی کے ہر قطرے پر ہمارا حق ہے اور اس کا دفاع بھی کریں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت یہ اقدام اور غیر قانونی ہے۔ وزیر توانائی نے کہا کہ پانی کے ہر قطرے پر ہمارا حق ہے، اور ہم قانونی، سیاسی اور عالمی سطح پر پوری طاقت سے اس کا دفاع کریں گے۔” بھارت کی طرف سے جلد بازی اور اسکے نتائج کی پرواہ کے بغیر معطل کرنا آبی جنگ کے مترادف ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

    پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے 1960ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جسے سندھ طاس معاہدے کا نام دیا گیا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے دریاؤں کا پانی منصفانہ تقسیم ہونا تھا۔ اس معاہدے میں ورلڈ بینک بطور ضامن ہے۔معاہدے کے تحت پنجاب میں بہنے والے تین دریاؤں راوی ستلج اور بیاس پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے کنٹرول میں دیا گیا جس کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کو حق دیا گیا ہے۔دونوں ممالک کو دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو حاصل ہے تاہم پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں۔

    بھارتی اقدام سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق بھارت کا یہ مذموم فیصلہ 1960 کے سندھ طاس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے کیونکہ معاہدے کی شق نمبر12۔ (4) کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جبکہ دونوں ملک تحریری طور پر متفق نہ ہوں۔ذرائع کے مطابق بھارت نے بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی انٹرنیشنل قانون کے مطابق Upper riparian , lower riparian کے پانی کو نہیں روک سکتا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا۔ جس میں عالمی بینک بھی بطور ثالت شامل ہے۔

    معاہدے کی روح سے بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل نہیں کر سکتا جبکہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت شدہ معاہدہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل معاہدے کو معطل کر کے بھارت دیگر معاہدوں کی ضمانت کو مشکوک کر رہا ہے، ہندوستان اس طرح کے نا قابل عمل اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کر کے اپنے اندرونی بے قابو حالات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

    سپریم کورٹ بار کا بھارتی عملےکو پاکستان سےنکالنےکا مطالبہ

    بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ،منہ توڑ جواب دیں گے، وزیر خارجہ

    دہشتگردی کا منصوبہ ، اردن نے الاخوان المسلمین پر پابندی لگا دی

    بھارت کا پاکستان پر الزام جھوٹا اور فریبی پراپیگنڈا ہے، فیصل واوڈا

    پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

  • سندھ طاس معاہدہ معطلی، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

    سندھ طاس معاہدہ معطلی، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی

    بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا بلاشبہ بھارتی جارحیت اور انتہا پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی بلاشبہ بھارت کے جارحیت اور انتہا پسندی کی نشاندہی کرتی ہے،مگر یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا۔انڈس واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت یافتہ معاہدہ ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا منسوخ کرتا ہے تو پھر ان تمام معاہدوں پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے جو دیگر ممالک کے ساتھ کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک بھی ہے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو منسوخ یا معطل کرسکتا ہے۔۔؟معاہدے کے تحت بھارت از خود انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل یا منسوخ کرنے کی کوئی قانونی اہلیت نہیں رکھتا۔معاہدے کا آرٹیکل 12(4) صرف اس صورت میں معاہدہ ختم کرنے کا حق دیتا ہے جب بھارت اور پاکستان دونوں تحریری طور پر راضی ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کی طرف سے ایک برطرفی کے معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہوگا اور پھر دونوں کی طرف سے اس کی توثیق کرنی ہوگی۔

    اس معاہدے میں یکطرفہ “معطلی” کی کوئی شق نہیں ہے۔ یہ ایک غیر معینہ مدت کا ہے اور اس کا مقصد کبھی بھی وقت کے ساتھ مخصوص یا واقعہ سے متعلق نہیں ہے۔یہ دونوں ممالک انڈس واٹر ٹریٹی کے یکساں طور پر پابند ہیں ۔ کسی معاہدے سے ہٹنا دراصل اس کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر “تنسیخ”، “معطلی”، “واپس لینے” یا “منسوخ” وغیرہ جیسے جواز پیش کرکے معاہدے کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسے بھارت “منسوخ یا دستبرداری” کہے گا، پاکستان اسے “خلاف ورزی” سے تعبیر کرے گا۔

    سوال یہ بھی کہ کیا ہوگا اگر بھارت پاکستانی پانی کو نیچے کی طرف روکتا ہے اور کیا یہ چین کے لیے اوپر کی طرف کوئی مثال قائم کر سکتا ہے؟ اگر بھارت پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نہ صرف بین الاقوامی آبی قانون کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا۔بین الاقوامی قانون کے مطابق، بالا دستی والا ملک (جیسے بھارت) زیریں ملک (جیسے پاکستان) کے پانی کو روکنے کا حق نہیں رکھتا، چاہے سندھ طاس معاہدہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اگر بھارت ایسا قدم اٹھاتا ہے تو یہ علاقائی سطح پر ایک نیا طرزِ عمل قائم کرے گا، جو بین الاقوامی قانون میں ایک مثال کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔

    اس کا فائدہ چین اٹھا سکتا ہے، جو دریائے برہمپترا کے پانی کو روکنے کے لیے اسی بھارتی طرزِ عمل کو بنیاد بنا سکتا ہے۔ اس طرح بھارت کا یہ قدم نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہوگا بلکہ خود بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ چین جیسی طاقتیں اس صورتحال کو بغور دیکھ رہی ہوں گی.بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل کرنا نہ صرف اس کے طے شدہ طریقہ کار، جیسے مستقل انڈس کمیشن، غیر جانبدار ماہرین یا ثالثی عدالت کے ذریعے تنازع کے حل، کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔ یہ معاہدہ ماضی میں کئی جنگوں اور سیاسی کشیدگیوں کے باوجود قائم رہا ہے، جو اس کی قانونی اور اخلاقی طاقت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

    انڈس واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت یافتہ معاہدہ ہے اگر بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا منسوخ کرتا ہے تو پھر ان تمام معاہدوں پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے جو دیگر ممالک کے ساتھ کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک بھی ہے۔

    یہ دونوں ممالک انڈس واٹر ٹریٹی کے یکساں طور پر پابند ہیں ۔ کسی معاہدے سے ہٹنا دراصل اس کی خلاف ورزی ہے۔ اگر بھارت یکطرفہ طور پر “تنسیخ”، “معطلی”، “واپس لینے” یا “منسوخ” وغیرہ جیسے جواز پیش کرکے معاہدے کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ اس نے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جسے بھارت “منسوخ یا دستبرداری” کہے گا، پاکستان اسے “خلاف ورزی” سے تعبیر کرے گا۔

    پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    پی ایس ایل 10، اسلام آباد کی ملتان کو 7 وکٹوں سے شکست

    سعودی اتھارٹی کی مکہ میں پرمٹ کے بغیر داخلے پر پابندی

    ڈیرہ غازی خان ائیرپورٹ آئندہ سال کے آخر تک ائیربس 320 کیلئے اپ گریڈ ہوگا

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب ، اہم فیصلے متوقع

  • وزیراعظم کا ریاض میں خطاب کے دوران آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز پر زور

    وزیراعظم کا ریاض میں خطاب کے دوران آبی تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز پر زور

    وزیراعظم شہباز شریف نےون واٹر سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر پانی کے تحفظ اور آبی وسائل کے مسائل پر تفصیل سے بات کی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس کے بروقت انعقاد پر سعودی عرب، فرانس، قازقستان اور ورلڈ بینک کا شکریہ ادا کیا، اور پانی کے وسائل کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کے لیے پانی کی فراہمی خطرے میں ہے اور دنیا کی نصف آبادی پانی کی کمی کے مسائل سے دوچار ہے۔ پاکستان میں 30 فیصد آبادی خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ملک کے 70 فیصد علاقے بنجر اور نیم بنجر ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ عالمی سطح پر پانی کے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی کی حد بندیوں سے قوموں کے درمیان روابط اور ایکوسسٹم کی تشکیل ہوتی ہے، اور عالمی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مستقبل میں بڑے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی کے مسائل پر بات چیت کو ترجیح دی ہے اور سندھ طاس معاہدہ اس کی مثال ہے۔پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات انتہائی سنگین ہیں، اور اس وقت پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہیں۔انہوں نے پانی کے ذخائر کے تیزی سے کم ہونے، گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا، اور کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے آبی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا اور لاکھوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔وزیراعظم نے اس موقع پر ’ریچارج پاکستان‘ پروگرام کا ذکر کیا، جس کا مقصد آبی نظام کی بحالی اور ماحولیاتی نظام پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ پاکستان کی واٹر پالیسی پانی کے بہتر انتظام، واٹر شیڈ کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مرتب کی گئی ہے۔وزیراعظم نے عالمی سطح پر پانی کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی سوچ اور قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پانی سے متعلق تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر کا تحفظ یقینی بنائے گا، تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    وزیراعظم کی فرانسی صدر سے اہم ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر گفتگو

    بلاول بھٹوسے چینی سفیر کی ملاقات ،دوطرفہ تعلقات پر بات چیت

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    اسلام آباد سےکراچی کی پرواز میں بم کی جھوٹی اطلاع، مذاق پر 2 مسافر گرفتار

    مسائل پر خاموش نہیں رہ سکتےحکومت کو معاملات ٹھیک کرنے پڑیں گے،علی خورشیدی

  • عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے:پاکستان

    عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے:پاکستان

    اسلام آباد:عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے، کہ اس کی ذمہ داری ہے ، اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا میں بے چینی بڑھے گی جس سے عالمی دنیا بھی متاثر ہوگی ، ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ پاکستان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے۔

    ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 30 اور 31 مئی کو پاک بھارت سندھ طاس آبی کمشنرز کا نئی دلی میں اجلاس ہوا، فریقین نے سندھ طاس معاہدے کی حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس آبی کمشنرز کے اجلاس میں اپنے تحفظات پیش کیے، 28 مئی کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے، 29 مئی کو پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تقریب میں شرکت کی۔

    عاصم افتخار نے کہا ہے کہ ملکہ برطانیہ کی پلاٹینم جوبلی تقریبات کے حوالے سے برطانوی ہائی کمیشن کے ساتھ مل کر بیکن لائٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور خطر ناک چال چل دی

    بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور خطر ناک چال چل دی

    لاہور : بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی سازشوں کو مسلسل جاری رکھا ہوا ہے اور ہر لمحے ایک نئی چال چل رہا ہے. اطلاعات کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی شروع کردی ہے جو کہ سراسر عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے.تفصیلات کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی بھی کھلی خلاف ورزی شروع کرتے ہوئے وولر بیراج لوئر کلنائی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی نہ صرف معائنے کی اجازت نہیں دے رہے بلکہ سیلابی پانی کی اطلاعات بھی بروقت فراہم نہیں کی جارہی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان متنازعہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جن میں کشن گنگا لوئر کلنائی ہائیڈرو پاور اور وولر پاور پراجیکٹ کی انسپکشن کے لیے بھارت کو کئی بار تحریری طور پر اور انڈس واٹر کمشنر کی ایک درجن سے زائد میٹنگ میں بھی درخواست کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ 2014 ء سے شروع ہے۔ بھارت کبھی سیکیورٹی کا ایشو تو کبھی انتخابات کا بہانہ بنا کر تاخیری ہربے استعمال کر رہا ہے۔