Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدہ

  • بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وزیراعظم

    بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے-

    آبی ذخائر سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس سے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی کو اپنے بیانیے کا حصہ بنا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عظیم فتح عطا کی، جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے اُن کا کہنا تھا کہ شکر کابہترین طریقہ یہی ہےکہ ہم شب و روز محنت کریں اور 24 کروڑ عوام کیلئے معاشی میدان میں روشن مستقبل تشکیل دیں۔

    اللہ صبر کرنے والوں کو پورا ثواب عطا کرتا ہے، خطبہ حج

    انہوں نے کہا کہ پانی کی بندش کے حوالے سے بھارتی دھمکی آمیز بیانیے کو عالمی سطح پر یکسر مسترد کیا گیا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کیلئے کسی طور قابل قبول نہیں آبی وسائل کا تحفظ ایک اجتماعی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے فوری اور سنجیدہ اقداما ت ناگزیر ہیں۔

    وزیراعظم نے زور دیا کہ چاروں صوبوں کے عوام کی پانی کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ہم بھارت کی آبی جار حیت کا جواب بھی اسی جرأت و حکمت سے دیں گے جیسے ہم نے روایتی جنگ میں دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا۔

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیس: نیب کو سات دن میں نوٹیفائی کرنے کی ہدایت

    انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی آبی معاہدوں کے تحت اپنے حقوق کیلئے مؤثر آواز بلند کرے گا، اور ہمیں خود کو بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا،ہمیں اپنے آبی ذخائر خود بڑھانا ہوں گے کیونکہ اگر آج اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سے جنوبی ایشیا میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق طارق فاطمی نے اپنے حالیہ دورۂ روس کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، جس میں توانائی، تجارت اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے ملاقات کے دوران روسی قیادت کو جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کا ایک اہم پیغام صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے روسی وزیر خارجہ کو پیش کیا۔

    روسی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کا خواہاں ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے پلیٹ فارم سے مختلف شعبوں میں مل کر کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے، بلاول بھٹو زرداری

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی  انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے،جنرل ساحر شمشاد مرزا

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے،جنرل ساحر شمشاد مرزا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے-

    خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھرپور اور مؤثر جواب کے بعد بھار ت کو سرحد پر تعینات اپنی افواج کی تعداد کم کرنا پڑی ہے، اور ہم 22 اپریل سے پہلے والی پوزیشن پر واپس آ چکے ہیں۔

    جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلی بار سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا گیا، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک اور غیر ذمے دارانہ قدم ہے، یہ فیصلہ پہلگام حملے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر بغیر کسی ثبو ت کے کیا گیا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان نے معاملے کی غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی تاکہ سچ سامنے آ سکے مگر بھارت نے اس پر مثبت ردعمل دینے کے بجائے جارحانہ اقدامات کو ترجیح دی۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام دستیاب فورمز پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری، آبی ماہرین، صحافیوں اور انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے بھی شرکت کی۔ محمد معین وٹو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی دستاویز ہے جسے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، بھارت کی نیت پاکستان کے دریاؤں پر درست نہیں لیکن ہم اپنے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی،پاکستان پانی کے مسئلے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے خلاف تمام فورمز کو استعمال کریں گے اور کامیابی حاصل کریں گے،بھارت کا یکطرفہ فیصلہ کسی صورت بحال نہیں رہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے،بھارت نے دو دن کیلئے جہلم کا پانی روکا تھا لیکن اب نارمل ہے ، خدشہ ہے کہ بھارت مستقبل میں کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ معین وٹو نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے،پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے ایشو کو حل کرنے کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے ، ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوں اور مل بیٹھ کر ماہرین کا ایک گروپ بنائیں جو صوبوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    وفاقی وزیر نے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی جیسے اہم قومی مسئلے پر میچورٹی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ محمد مہدی نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے چیلنج ہیں،بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں،پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی حق اور قومی خودمختاری کا مسئلہ ہے، بھارت کا رویہ جارحیت کے مترادف ہے جسے پاکستان انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی اداروں اور دوست ممالک کو بھارتی اقدامات سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اندرونی سطح پر پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور آبی خودکفالت کے لیے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں،پاکستان پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر مذاکرات سے حقوق کا تحفظ ممکن نہ ہوا تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر محسن لغاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون بھارت کو معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسے معاہدے ختم ہونے لگیں تو عالمی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ صحافی ذوالفقار مہتو نے کہا کہ سندھ طاس دنیا کا وہ واحد معاہدہ ہے جو پانی جیسے اہم مسئلے پر دو متحارب ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسے سفارتی سطح پرموثر طور پر استعمال کرنا چاہیے۔آبی ماہر چوہدری محمد شفیق نے خبردار کیا کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے جبکہ بھارت سمندر میں جانے والے پانی کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت سا پانی بغیر استعمال کے سمندر میں جا رہا ہے، جسے بچانے کی ضرورت ہے۔

    معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا بھارت کے مفاد میں بھی نہیں، جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا ہے، پاکستان میں پانی کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہمیں اس حساس معاملے پر جذباتیت کی بجائے دانشمندی سے کام لینا ہوگا اور باہمی تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔ سابق انڈس واٹر کمشنر شیراز جمیل نے کہا کہ دریائے چناب کا سارا پانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے آتا ہے، بھارت اس پر ڈیم بنا کر پانی روک سکتا ہے جس سے پاکستان کو خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا، بھارت معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے لیکن یہ عمل وقت طلب ہو گا۔انڈس واٹر کمیشن کے کمشنر آصف بیگ نے کہا کہ بھارت طویل مذاکرات کی آڑ میں تعمیرات جاری رکھتا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کیے ہیں، لیکن اب وہ ٹریٹی سے فرار چاہتا ہے۔

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

  • سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، بلاول بھٹو

    سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں قائم سفارتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر مضبوط مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    بھارتی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی سفارتی کمیٹی کا اجلاس ہوا اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف امن، استحکام اور ترقی پر مبنی ہے انہوں نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی آڑ میں جارحیت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    بلاول نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے دہشتگردی سے خطے کو پاک کرنے کا کوئی حل نکالنا چاہیےانہوں نے بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھی زور دیا کہا کہ بھارت پانی کو اسلحے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ، پانی کے مسئلے پر آنے والی نسلیں جنگ لڑیں گی؟ یہ افسوسناک ہے،جوہری ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو نتائج صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پیغام امن کا پیغام ہے اسے دنیا بھر میں پہنچا رہے ہیں، مودی نے بے بنیاد الزامات لگائے، وزیراعظم شہبازشریف نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت کا موقف بہت کمزور ہےبھارت نے سندھ طاس معائدے کی خلاف ورزی کی، پانی کے مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے، آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے کہ نئے مستقبل کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔

    پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا ،وفاقی وزیر مصدق ملک

    وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے حقائق رکھے جائیں گے اور بغیر شواہد کے بھارت کی مہم جوئی کے نظریے کو دفن کرنا ہوگا پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرے گا انہوں نے بھارتی جارحیت میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی بھی شدید مذمت کی۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ سفارتی کمیٹی عالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور بھارتی جنگی جنون خطے کے لیے شدید خطرہ ہے۔ خرم دستگیر نے خطے میں پائیدار امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط قرار دیا۔

    فیصل سبزواری نے کہا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں مکمل احتیاط برتی ہے اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی:صدر عالمی بینک بھی بول پڑے

    واشنگٹن: صدر عالمی بینک اجے بنگا نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر عالمی بینک اجے بنگا نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے سندھ طاس معاہدے کی تبدیلی یا خاتمہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ممکن ہے اور ورلڈ بینک کا کردار صرف ثالثی کا ہے فیصلہ سازی کا نہیں۔

    سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے کیا گیا تھا تاکہ پانی کے مسائل پر کوئی جنگ یا تنازع نہ ہو،زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔

  • بھارت اور پاکستان کے درمیان  سندھ طاس معاہدہ  تاحال معطل

    بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ تاحال معطل

    بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی معاہدہ "سندھ طاس معاہدہ” تاحال معطل ہے، حالانکہ دونوں ممالک نے حالیہ شدید جھڑپوں کے بعد سیز فائر پر اتفاق کر لیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، بھارت کے چار اعلیٰ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کیا جا رہا۔ پاکستان نے بھی اس معاہدے کی معطلی پر اعتراض کیا ہے اور عالمی سطح پر قانونی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ یہ معاہدہ پاکستان کی 80 فیصد زرعی زمین کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

    یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم، اور چناب پاکستان کو، جبکہ بیاس، راوی اور ستلج بھارت کو دیے گئے تھے۔ تاہم، بھارت نے گزشتہ ماہ اس معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا، جس کی وجہ بھارت کے مطابق کشمیر میں ہندو سیاحوں پر ہونے والا حملہ تھا۔ پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    پاکستان کے واٹر منسٹری کے ایک اہلکار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ حالیہ سیز فائر مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے بھی کہا کہ معاہدے کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔اس معاملے پر نہ تو بھارت کی وزارتِ خارجہ اور نہ ہی پاکستان کے متعلقہ وزرا کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کے خلاف دیگر اقدامات بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں تجارتی سرگرمیوں کی بندش، سرحدی سختیاں، اور ویزہ پابندیاں شامل ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ملکوں میں جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن یہ تمام پابندیاں فی الحال برقرار رہیں گی۔

    پشاور سمیت مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ،وزیر اعظم شہباز شریف

    سیز فائر کے بعد فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے بحال

  • انڈس واٹر کمیشن نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات حکومت کو بھجوا دیں

    انڈس واٹر کمیشن نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات حکومت کو بھجوا دیں

    لاہور: انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی اب تک کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات حکومت کو بھجوا دیں۔

    ذرائع انڈس واٹر کمیشن کے مطابق بھارت 3 ڈیموں کی تعمیر کر کے عملی طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا، تینوں بار بھارت کو ورلڈ بینک اور نیوٹرل ایکسپرٹ سے سبکی کا سامنا کرنا پڑا، بھارت نے 2005 میں بگلیہار ڈیم، 2010 میں کشن گنگا ڈیم اور 2016 میں رتلے ڈیم تعمیر پر معاہدے کو نظر انداز کیا۔

    ذرائع انڈس کمیشن کے مطابق بھارت نے تینوں ڈیموں کی تعمیر اپنی سیاست اور دہشت گردی کی آڑ میں شروع کی، بھارت اب پہلگام واقعے کی آڑ لے کر سندھ طاس معاہدے کو ہی معطل کر چکا ہے محکمانہ قانونی مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا ہے، آئندہ کا فیصلہ حکو مت کرے گی، عالمی ثالثی قوانین کے مطابق یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی ممکن نہیں ہے۔

    بھارتی مصنوعات پاکستان کی زمینی,فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی

    واضح رہے کہ پاکستان نے بھارت سے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی ٹھوس وجوہات جاننے کے لیے نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ابتدائی ہوم ورک بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا نارمل صورتحال کا دعویٰ کھوکھلا نکلا

  • بھارت نے کارروائی کی تو  منہ کالا کردیں گے، خواجہ آصف کی دھمکی

    بھارت نے کارروائی کی تو منہ کالا کردیں گے، خواجہ آصف کی دھمکی

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک پیغام دیا ہے کہ بھارت نے فیس سیونگ کے لیے کوئی کارروائی کی تو منہ کالا کردیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ مودی نے ووٹ بٹورنے کے لیے ڈراما رچایا لیکن عالمی برادری نے بھارتی بیانیہ قبول نہیں کیا جبکہ امریکی نائب صدر نے بھارت کے لیے فیس سیونگ کی گنجائش رکھی ہے۔ بھارت کو عالمی سطح پر وہ مؤقف نہیں ملا جس کی وہ توقع کر رہے تھے اور اگر بھارت کی جانب سے فیس سیونگ کے لیے کارروائی کی گئی تو بھارت کا منہ کالا کردیں گے۔

    خواجہ آصف نے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی اتنا آسان نہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے پانی روکنے کیلئے کوئی اسٹرکچر بنایا تو اسے تباہ کردیں گے، پاکستان کی عوام اور افواج پاکستان کا جذبہ بہت بلند ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرہ تاحال موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس کا بیان آیا کہ تحمل کا مظاہرہ کریں، تحقیقات کی پیشکش نہ کرتے تو دنیا سے جارحانہ بیانات آسکتے تھے۔

    اسحٰق ڈار کے سفارتی رابطے، یونانی وزیر خارجہ نے پاکستانی کی تجویز کو سراہا

    اے آئی کا استعمال ،فرانسی چینل نے بھارتی حکومت کو بےنقاب کر دیا

    وفاقی وزیر مصطفی کمال کی سندھ کی وزیر صحت سے ملاقات

    رانا ثنا اللہ کی مودی کو وارننگ ، ابدالی میزائل ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

    پاکستان میں آئی پی ایل کی اسٹریمنگ پر پابندی

  • بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدےکی معطلی سے علاقائی سلامتی کو خطرہ ہے، برطانوی اخبار

    بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدےکی معطلی سے علاقائی سلامتی کو خطرہ ہے، برطانوی اخبار

    سندھ طاس معاہدےکی معطلی پر بھارت کے یکطرفہ فیصلےکو عالمی سطح پر تنقیدکا سامنا ہے۔

    برطانوی اخبار کا کہنا ہےکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے علاقائی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان اور بھارت میں آبی تناؤ بڑھنےکا خدشہ ہے۔

    فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارت کے حالیہ اقدامات سے پانی کی سکیورٹی پر کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے، معاہدے کی عارضی معطلی کے دونوں ممالک پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں، یہ معاہدہ تین جنگوں کے باوجود قائم رہا، لیکن موجودہ سیاسی کشیدگی، ماحولیاتی تبدیلی، اور آبادی میں اضافہ اس معاہدے کی افادیت اور بقا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت و پاکستان کو یکطرفہ اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے بھارت کا مؤقف خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے، پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات بھار ت کی آبی سکیورٹی کے لیے بھی نقصان دہ ہے، ما ضی کے تنازعات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ امن کی بنیاد رہا ہے۔

    فنانشل ٹائمزکے مطابق ماحولیاتی خطرات بڑھ رہے ہیں، بھارت کا موقف خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے، پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات بھارت کی آبی سیکیورٹی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ ماضی کے تنازعات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ امن کی بنیاد رہا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے واضح کیا کہ بھارت کے اقدامات اس کی اپنی آبی سلامتی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں کیونکہ بھارت بھی کچھ اہم دریاؤں کے سلسلے میں چین، نیپال اور بھوٹان جیسے بالائی ممالک پر انحصار کرتا ہے ماضی کے تمام تنازعات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایک مستحکم پل رہا ہے، اور اس کی معطلی نہ صرف ماحولیاتی اور اقتصادی خطرات کو بڑھا سکتی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔