Baaghi TV

Tag: سندھ طاس معاہدہ

  • سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا،عطا تارڑ

    سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے –

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ طور پر طے پانے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے،اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو تقویت بخشی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، لہٰذا اس حوالے سے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سیمینار منعقد ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہوں گے اس سیمینار سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملے گی۔

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ:بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

    سندھ طاس معاہدہ:بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

    بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے قیام کو غیر قانونی قرار دے دیا-

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور کہا کہ بھارت نے اس ’نام نہاد‘ عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی تشریح سے متعلق ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، تاہم نئی دہلی نے اس فیصلے کو بھی غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    رندھیر جیسوال کے مطابق یہ ثالثی عدالت غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھی اور نئی دہلی اس کے تمام سابقہ فیصلوں کی طرح حالیہ اعلان کو بھی تسلیم نہیں کرتا ترجمان نے واضح کیا کہ اس عدالت کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی کارروائی، فیصلہ یا ایوارڈ بھارت کی نظر میں کالعدم اور بے حیثیت ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

    رندھیر جیسوال نےکہا کہ بھارت نے کبھی اس نام نہاد کورٹ آف آربیٹریشن کے قیام کو تسلیم نہیں کیا، اس لیے اس کے تحت ہونے والی تمام قانونی کارروائیاں مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے سے متعلق بھارت کا فیصلہ بدستور برقرار ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔

    معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس ، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

    اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھادونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔

  • سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت عالمی ثالثی عدالت میں جاری ہے-

    انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے، جس دوران پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے بہاؤ اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تحفظات پیش کیےعالمی عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر مہر علی شاہ اور مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا بھی موجود تھے۔

    پاکستانی وفد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر منصوبے تعمیر کرتے وقت سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    پاکستان نے عدالت سے درخواست کی کہ بھارت کو معاہدے کے تحت ان تین دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت، ان کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق واضح وضاحت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا درست اور شفاف تعین نہایت اہم ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں،ادھر بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوا۔

    ثالثی عدالت کے بینچ کی قیادت امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ دیگر بین الاقوامی ججز بھی کارروائی کا حصہ تھے، یہ عالمی فورم 127 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،پاکستان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان 1971 کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے اور ملک قابلِ بھروسہ آبی ذخائر کو قومی بقا کیلئے کلیدی حیثیت دیتا ہے آبی ذخائر خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لاکھوں پاکستانیوں کیلئے آبی ذخائر روزگار اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں، جبکہ ان کا تحفظ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے منصفانہ اور مکمل نفاذ پر پختہ یقین رکھتا ہے پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہےپاکستان آبی ذخائر کو قومی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا،پاکستان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کیلئے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

  • پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

    اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائےگی۔

    بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیانات کے جواب میں پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچائےگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی الزامات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ بھارت بار بار اپنی دہشتگردی اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے میں کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہےبھارت کا خطے میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں ملوث ہونا دستاویزی طور پر ثابت ہے، اور کلبھوشن یادو کیس پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔

    لاہور: وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کا زیر تعمیر نئے حاجی کیمپ کا دورہ

    ترجمان نے مزید کہاکہ بھارت پر بیرونِ ملک ہدفی قتل، تخریب کاری اور دہشتگرد نیٹ ورکس کی معاونت کے سنگین الزامات ہیں، ہند و توا نظریہ انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیتا ہے اور بھارتی طرزعمل اسی سوچ کا عکاس ہے،بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضہ جاری ہے، اور پاکستان کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا رہے گا-

    جماعت اسلامی کا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کے خلاف احتجاج کا اعلان

    دفتر خارجہ نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ طے پایا، اور اس کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

  • بھارتی ریٹائرڈ جنرل کا پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی منصوبے کا انکشاف

    بھارتی ریٹائرڈ جنرل کا پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی منصوبے کا انکشاف

    بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کے منصوبے سے پردہ اٹھا دیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر سینئر صحافی حامد نے ان کا ایک انٹرویو کلپ شیئر کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ بھارت اپنی صلاحیت کے مطابق پانی روک سکتا ہے اور پھر اچانک ایک دن پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دے گا۔ان کے مطابق پاکستان کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی جمع کرنے اور روکنے کی گنجائش موجود نہیں، جس کے باعث ملک میں شدید سیلاب آسکتا ہے اور پاکستان اس پانی کو استعمال بھی نہیں کر پائے گا۔

    ریٹائرڈ جنرل نے مزید کہا کہ بھارت گرمیوں میں اس وقت پانی روک لے گا جب فصلوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی اور بارشوں کے موسم میں جب پانی کی ضرورت نہیں ہوگی تو پاکستان کی طرف چھوڑ دیا جائے گا، اس طرح پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی عالمی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدہ ہے، اور بھارت اپنی مرضی سے پانی روکنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    اہم عہدوں پر کرپشن کی کہانی،وزیراعظم آفس کا عہدہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال

    آذربائیجان کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ملاقات،شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

    اسلام آباد میں‌شدید بارش،سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

  • سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی  مؤقف کی تائید

    سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی مؤقف کی تائید

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت کو معاہدہ معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

    پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لینے کے بعد، عدالت نے بھارت کے اقدام کو غیرقانونی اور بلاجواز قرار دیا۔

    عدالت کے مطابق، ثالثی عدالت کا کردار واضح ہے اور بھارت کا اقدام عدالت کی فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا.معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش کو معاہدے کی روح اور قانونی بنیادوں کے خلاف قرار دیا گیا۔

    پسِ منظر
    یاد رہے کہ 23 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد بھارت نے اچانک سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، اور 24 اپریل کو پاکستان کو باضابطہ اطلاع دی گئی تھی۔اس پر عالمی ثالثی عدالت نے 16 مئی کو فریقین سے قانونی مؤقف طلب کیا، جس پر پاکستان نے بروقت تحریری مؤقف جمع کروا کر مؤثر دلائل دیے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں، نہ تو عدالت کے دائرہ اختیار کو متاثر کر سکتے ہیں اور نہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں۔پاکستانی حکام نے اس فیصلے کو سفارتی اور قانونی محاذ پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کا پابند بنائے۔

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    جنیوا ،کشمیری کمیونٹی کا مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق

  • کشن گنگا اور رتلے منصوبے: پاکستان نے کارروائی روکنے کی بھارتی درخواست مسترد  کردی

    کشن گنگا اور رتلے منصوبے: پاکستان نے کارروائی روکنے کی بھارتی درخواست مسترد کردی

    باغی ٹی وی: پاکستان نے بھارت کی جانب سے ورلڈ بینک کے تحت جاری کارروائی روکنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے متعلق تنازع پر کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

    بھارتی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کے بعد، ورلڈ بینک کے غیرجانبدار ماہر مائیکل لینو کو خط لکھ کر کارروائی روکنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پاکستان نے اس درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اپنا جواب ورلڈ بینک کو بھجوا دیا ہے۔واضح رہے کہ کشن گنگا اور رتلے دونوں ہائیڈرو پاور منصوبے مقبوضہ کشمیر میں دریا کشن گنگا اور چناب پر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان منصوبوں کے ڈیزائن کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

    فرانسیسی انجینئر اور انٹرنیشنل کمیشن آن لارج ڈیمز کے سابق صدر مائیکل لینو کو ورلڈ بینک نے 13 اکتوبر 2022 کو غیرجانبدار ماہر مقرر کیا تھا۔ ان کا کام دونوں ممالک کے مؤقف سن کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ان منصوبوں کا ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے مطابق ہے یا نہیں۔

    ورلڈ بینک کے ماہر نے حالیہ خط کے ذریعے پاکستان سے باضابطہ جواب طلب کیا تھا، جس میں پاکستان نے واضح طور پر بھارتی درخواست کو مسترد کر دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان دریاؤں پر ایسے منصوبے تعمیر کر رہا ہے جو پاکستان کے پانی کے حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت کی مودی حکومت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    بھارت کا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نیا بدترین ریکارڈ

    نئی دہلی میں فلسطین حامی تنظیموں کا احتجاج، اسرائیلی مظالم اور مودی حکومت پر شدید تنقید

    ٹرمپ امریکی میڈیا پر برہم، غلط خبریں نشر کرنے کا الزام

    ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد عوام سڑکوں پر، طمانیت اور سکون کی لہر دوڑ گئی

    ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد عوام سڑکوں پر، طمانیت اور سکون کی لہر دوڑ گئی

  • سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    دفتر خارجہ پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان کو "ناجائز طور پر ملنے والا” پانی روک دیا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امیت شاہ نے ہفتے کی صبح ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو میں کہا کہ نہیں، سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ ہم پاکستان جانے والے پانی کو ایک نہر کے ذریعے راجستھان منتقل کریں گے۔”

    دفتر خارجہ کا مؤقف
    پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں ان بیانات کو بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں اور سفارتی روایات کے منافی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر سیاسی معاہدہ ہے، جس میں یکطرفہ طور پر کسی بھی قسم کی معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔دفتر خارجہ نے بھارت کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

    "پانی کو ہتھیار بنانا” قابل مذمت
    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول عمل ہے، جو کسی ذمہ دار ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے۔بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اکستان اپنی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”

    واضح رہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی پانی اور سلامتی سے متعلق کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات جنوبی ایشیا کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب