Baaghi TV

Tag: سندھ ہائیکورٹ

  • سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    سانحہ گل پلازہ:سندھ ہائیکورٹ نے حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں پر سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کردئیے۔

    ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی درخواستگزاروں کے وکیل ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ گل پلازہ شاپنگ مال کراچی کا مصروف کمرشل سینٹر ہے گل پلازہ سانحے میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے سانحہ کے ذمہ داروں کوتعین کرکے کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزار بیرسٹر حسن نے موقف دیا کہ سانحہ اداروں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے حکومت کو نقصان کا تخمینہ کرکے ازالہ کرنے کا حکم دیا جائے واقعے کی مکمل انکوائری کراکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے عدالت نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی، کے ایم سی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے 10 فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    امریکا: برفانی طوفان کے باعث 100 سے زائد گاڑیوں کے درمیان تصادم

    درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ انتظامیہ کی براہ راست سنگین غفلت، معائنہ میں ناکامی، حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہے فائر سیفٹی اور بلڈنگ قوانین کو نافذ کرنے میں ناکامی نے انسانی جانوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں شفاف انکوائری کے ذریعے غفلت برتنے والے افسران کی معطلی کا حکم دیا جائے۔

    درخواست گزاروں نے کہا کہ ریاستی ذمہ داری کے اصول کے تحت متوفی متاثرین کے خاندانوں کو مناسب معاوضے کی براہ راست ادائیگیاں دی جائیں، مالی نقصانات کے لئے تاجروں اور دکانداروں کو براہ راست ریاستی فنڈ سے معاوضہ دینے کا حکم دیا جائے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی کی تعمیل کا حکم دیا جائے عدالتی تحقیقات کروائی جائے اور آئندہ اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لئے سندھ فائر سیفٹی ایکٹ 2016 کا سختی سے نفاذ کا بھی حکم دیا جائے۔

    پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر نے برآمدات میں نئی تاریخ رقم کر دی

    درخواستوں میں چیف سیکریٹری، سندھ، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ، میئر، کراچی، چیف فائر آفیسر، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ڈائریکٹر جنرل سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس ریسکیو 1122، ڈپٹی کمشنر، ضلع جنوبی، ڈائریکٹر جنرل محکمہ داخلہ کو فریق بنایا گیا تھا۔

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا-

    اجلاس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا،اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے 12 میں سے 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی-

    اعلامیے کے مطابق جن ججز کو مستقل کیا گیا ان میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحامد بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں جبکہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس خالد حسین شہانی اور جسٹس فیاض الحسن شاہ کو چھ ماہ کے لیے توسیع دینے کی منظوری دی۔

    اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا اس کے ساتھ ہی آئینی بینچ کے لیے جسٹس امجد علی، جسٹس حسن اکبر اور جسٹس عثمان علی ہادی کو نامزد کر دیا گیا۔

    پینٹنگ کی ماہر چمپینزی 49 برس کی عمر میں چل بسی

    اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے،شیری رحمان

    کراچی نے انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے،شرجیل میمن

  • نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کیلئے ملازمت کا کیس، سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا، جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔

    منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے،دی اکانومسٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے، متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔

    ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی نے پاکستان کے دورے کا دلچسپ تجربہ شیئر کردیا

  • سندھ ہائیکورٹ کا  چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ نے صوبے بھر کے چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    عدالت نے یہ حکم کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی منتقلی سے متعلق کیس میں تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے دیا۔تحریری حکم نامے کے مطابق دو رکنی بینچ نے ہدایت دی کہ کمیٹی چڑیا گھروں کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے تجاویز پیش کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی کو متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی معاونت حاصل کرنے کا اختیار ہوگا۔جنگلی حیات کے کنزرویٹر جاوید مہر نے کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کی تھی۔

    عدالت نے کہا کہ کمیٹی صوبے بھر کے تمام چڑیا گھروں کا دورہ کرے گی اور بہتری یا متبادل اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔کیس کی آئندہ سماعت 21 نومبر کو مقرر کی گئی ہے

    امریکا کا ایران پر میکسیکو میں اسرائیلی سفیر کے قتل کی سازش کا الزام

    محسن نقوی نے اے سی سی کےنئے ٹورنامنٹس کا پلان طلب کرلیا

    نیو یارک اور لندن کے میئر کو مذہبی عقیدے کی بنیاد پر تنقید کا سامنا

  • جسٹس جہانگیری جعلی ڈگری کیس: سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا

    جسٹس جہانگیری جعلی ڈگری کیس: سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا

    سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی فوری سماعت کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

    بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں جاری حکم امتناع کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ساکھ متاثر ہورہی ہے، لہذا درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔

    عدالت نے 21 نومبر 2024 کو جسٹس عدنان کریم میمن کی جانب سے اس کیس کی سماعت سے معذرت کے بعد جاری کیا گیا اپنا 17 دسمبر 2024 کا انتظامی حکم واپس لے لیا۔ جسٹس عدنان کریم میمن نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کے کیسز ان کے سامنے پیش نہ کیے جائیں۔ اس حکم کے بعد یہ درخواست آئینی بینچ نمبر 2 کو منتقل کر دی گئی تھی۔

    نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا

    تاہم 15 ستمبر 2025 کو فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نہیں رہے اور اس عہدے پر طاہر نصر اللہ وڑائچ فائز ہیں،عدالت نے تمام درخواست گزاروں اور پاکستان بار کونسل کے نئے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کیے ہیں،چونکہ اس کیس میں ایک سال سے زائد عرصے سے حکم امتناع جاری ہے، اس لیے اسے آئینی بینچ نمبر 1 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،کیس کی آئندہ سماعت 25 ستمبر کو جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو ہوگی۔

    لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

  • کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کردیں۔

    ملزم ارمغان کا ریمانڈ نا دینے والے اے ٹی سی کورٹ نمبر ایک کے جج ذاکر حسین کو انسداد منشیات کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔ کراچی کی 6 انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتیں کافی عرصے سے خالی پڑی تھیں جس میں سے 5 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو انسداد منشیات میں تبدیل کردیا گیا۔

    کراچی کی 3 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو شہید بے نظیر آباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ منتقل کرنے جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں موجود خصوصی عدالتوں کو منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کیا گیا ہے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ دیا۔

    سندھ ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی کراچی کی 12 خصوصی عدالتوں کو ازسرنو منظم کردیاقائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وقتی طور پر انسداد دہشتگردی عدالتیں منظم کرنے اور منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کرنے کی اجازت دیدی ہے حتمی نوٹیفیکیشن محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔

  • جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے قتل کا ملزم سپریم کورٹ سے بری

    جج سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے قتل کا ملزم سپریم کورٹ سے بری

    سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کے بیٹے کے قتل کے ملزمان کی بریت کا فیصلہ جاری کردیا-

    عدالت نے سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم سکندر لاشاری اور شریک ملزم عرفان عرف فہیم کو بری کردیا سپریم کورٹ نے اس حوالے سے مختصر فیصلہ جاری کیا ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا۔

    مختصر فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ تحریر کیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت نے ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن پر ملزمان کر بری کرنے کا فیصلہ دیا۔

    واضح رہے کہ ملزم سکندر لاشاری کو سزائے موت اور ملزم عرفان عرف فہیم کو ٹرائل کورٹ نے 25 سال کی سزا سنائی تھی سندھ ہائیکورٹ کے جج خالد شاہانی کے بیٹے حنین طارق کو 2014 میں قتل کیا گیا تھا۔

  • مونس علوی کو عہدے سے ہٹائے جانے کا فیصلہ معطل

    مونس علوی کو عہدے سے ہٹائے جانے کا فیصلہ معطل

    سندھ ہائیکورٹ نےصوبائی محتسب کا سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل کردیا۔

    سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی نے ہراسانی کا مرتکب قرار دینے کے صوبائی محتسب کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،مونس علوی اپنے وکیل بیرسٹر عابد زبیری کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے مونس علوی کو حکم دیا کہ وہ جرمانےکی رقم 25 لاکھ روپے ناظر سندھ ہائیکورٹ کو جمع کرائیں،اس کے علاوہ عدالت نےصوبائی محتسب اور شکایت کنندہ کو نوٹس بھی جاری کردیے عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ صوبائی محتسب کا قانون کہاں ہے؟

    وکیل مونس علوی نے کہا کہ سندھ میں وفاقی قانون لاگو ہوتا ہے لیکن صوبائی محتسب بنایا ہوا ہےجسٹس فیصل کمال عالم نے نے استفسار کیا کہ فیصلے میں کیا غلط ہے، وکیل نے کہاکہ کیس کی سماعت کا اختیار وفاقی محتسب کو ہے صوبائی کو نہیں، صوبائی محتسب کی جانب سے دی گئی سزا غیرقانونی ہے۔

    واضح رہے کہ صوبائی محتسب جسٹس (ر) شاہ نواز طارق نے جمعرات کو کے-الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ آفیسر مہرین زہرہ کو ہراساں کرنے پر کمپنی کے سی ای او مونس علوی پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔

    صوبائی محتسب نے کہا تھا کہ سی ای او کے الیکٹرک نے شکایت کنندہ مہرین زہرہ کو ہراساں اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا، مونس علوی اگر جرمانے کی رقم ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے جبکہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیا جائے۔

    مونس علوی کے خلاف کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ افسر مہرین زہرہ نے شکایت درج کرائی تھی، شکایت کنندہ کو 2019 میں کے الیکٹرک نے بطور کنسلٹنٹ رکھا تھا۔

  • نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری

    نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شہری کو کراچی کے بجائے جدہ پہنچانے پر نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری کردیا۔

    سندھ ہائیکورٹ میں نجی ائیرلائن کی جانب سے شہری کو کراچی کے بجائے جدہ لے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ذوالفقار سانگی نےکی ،سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے درخواست گزار کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے، کیا ائیرلائن کے خلا ف کوئی انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ انکوائری کے معاملے کا علم نہیں ہے۔

    عدالت نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمیں یہاں سے انصاف نہیں ملتا، ہم صبح سے کیسز کی سماعت کےلیے بیٹھتےہیں، 100، 100 کیسز روزسنتے ہیں، اس کے باوجود لوگ سمجھتے ہیں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا،بعد ازاں عدالت نے نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ 7 جولائی 2025 کو نجی ائیرلائن نے مسافر کو لاہور سے کراچی کے بجائے جدہ پہنچا دیا تھا۔

  • اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اویس قادر شاہ کو گورنر ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا-

    قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ کو امن و امان سے متعلق اجلاس کے موقع پر گورنر ہاؤس کے دروازے بند تھے، جس کے باعث اہم اجلاس منعقد نہ ہو سکا اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ، آئی جی، چاروں ڈی آئی جیز، سی ٹی ڈی اور دیگر افسران کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم دفاتر نہ کھلنے پر اویس قادر شاہ اور دیگر افسران کو واپس جانا پڑا۔

    اویس قادر شاہ نے صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ذمہ داریوں سے روکنا عہدے کی توہین ہے، دفاتر بند رکھنا آئینی عمل میں مداخلت ہے، گورنر ہاؤس کا عملہ سندھ حکومت سے تنخواہیں لیتا ہے لیکن ایسی رکاوٹیں شرمناک ہیں۔

    واقعے کے بعد قائم مقام گورنر سندھ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا اور ایک درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری 2 جون سے بیرون ملک ہیں اور اویس قادر شاہ بطور قائم مقام گورنر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، مگر انہیں گورنر ہاؤس میں دفتری امور سے روکا جا رہا ہے، جو آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے،درخواست کے ساتھ ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا گیا، جس میں گورنر ہاؤس عملے کی جانب سے عدم تعاون کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ترجمان گورنر ہاؤس نے واقعے کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے وضاحت دی کہ اجلاس کے لیے افسران کانفرنس روم میں موجود تھے اور قائم مقام گورنر کے لیے مخصوص دفتر پہلے ہی تیار تھا اگر مرکزی دفتر استعمال کرنا مقصود تھا تو بروقت اطلاع دی جاتی تو انتظامات مکمل کیے جا سکتے تھے گورنر کامران ٹیسور ی نے پرنسپل سیکرٹری کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت دے دی ہے، گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ گورنر ہاؤس ہمیشہ عوام کے لیے کھلا ہے، اور اویس قادر شاہ بطور اسپیکر اور ذاتی حیثیت میں میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔