Baaghi TV

Tag: سندھ

  • منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیہون شریف تحصیل کی 10 یونین کونسلز متاثر ہوئی ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاھ سیہون پہنچ گئے ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ متاثرہ علاقوں بوبک، اراضی، واہڑ کا دورہ کیا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے متاثرین میں راشن بھی تقسیم کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ منچھر جھیل کو ہم نے کٹ دیا، اگر خود بریج ہوتی تو بہت خطرہ ہوتا،میری یونین کونسل واہڑ بھی مکمل ڈوب گئی ہے،لوگوں کی شکایات جائز ہیں، منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے 2010 کے سیلاب سے زیادہ پانی ہے منچھر جھیل کو ہم نے کٹ دیا، اگر منچھر خود بریج ہوتی تو بہت خطرہ ہوتا، اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ثابت قدم رکھے تاکہ ہم لوگوں کی خدمت کر سکیں دادو کا فضائی معائنہ کیا ہے، امید ہے نقصان نہیں ہوگا،سیہون شریف تعلقہ سے سیلابی پانی اترنا شروع ہوا ہے، ہم نے منچھر کو 5 کٹ دیئے ہیں جو پانی اب دریائے سندھ میں جارہا ہے،

    قبل ازیں پاک فوج اور شہری محکموں نے دادو گرڈ سٹیشن کے گرد ، دو اعشاریہ چار کلو میٹر طویل بند تعمیر کر کے اسے سیلابی پانی سے بچا لیا ہے بند سے سٹیشن ڈوبنے سے محفوظ رہا جبکہ دادو میں بجلی معطل نہیں ہوئی۔علاقے کے لوگوں نے اس بروقت اقدام پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال سے دادو میں پانچ سو ، کے وی گرڈ سٹیشن کو ممکنہ خطرے کا نوٹس لیتے ہوئے گرڈ سٹیشن کو بچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • کراچی: 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی کورونا ویکسینیشن کا فیصلہ

    کراچی: 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی کورونا ویکسینیشن کا فیصلہ

    کراچی اور حیدرآباد میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی 6 روزہ خصوصی ویکسینیشن مہم 19 ستمبر سے شروع ہوگی، ڈور ٹو ڈور مہم کے دوران 5 سے 11 سال کی عمر کے 24 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

     

     

    کراچی میں کرونا وائرس کے نتیجے میں اب تک 5 سے 11 سال کی عمر کے 62 اور حیدرآباد میں 2 بچے انتقال کرچکے ہیں، کرونا وائرس سے سب سے زیادہ بچوں کی اموات کراچی کے ضلع جنوبی میں ہوئیں، کراچی اور حیدرآباد میں 9 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔محکمہ صحت سندھ نے کراچی اور حیدرآباد میں 19 ستمبر سے 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی 6 روزہ ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق مہم کے دوران 3 افراد پر مشتمل 4 ہزار 554 ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں سے 3 ہزار 987 آؤٹ ریچ ٹیمیں، 536 فکسڈ سینٹر اور 3 موبائل ٹیمیں شامل ہوں گی، مہم کے دوران 5 سے 11 سال عمر کے 34 لاکھ 13 ہزار 884 بچوں کی ویکسینیشن کا ہدف رکھا گیا ہے، جنہیں فائزر کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی پہلی ڈوز لگائی جائے گی تاہم 70 فیصد ہدف کیلئے 24 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔

     

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے 58 ای ڈی اوز بھی مہم کا حصہ ہوں گے اور ضلعی سطح پر 40 مانیٹرز مہم کی نگرانی کریں گے۔کرونا وائرس کے نتیجے میں مارچ 2020ء سے اگست 2022ء تک کراچی اور حیدرآباد میں 5 سال سے 11 سال کی عمر کے 64 بچے انتقال کرچکے ہیں اموات کی یہ شرح 0.7 فیصد بنتی ہے، سب سے زیادہ 49 اموات کراچی کے ضلع جنوبی میں ہوئیں، شہر قائد میں مجموعی طور پر اب تک ان عمروں کے 62 بچے انتقال کرچکے ہیں اور حیدرآباد میں انتقال کرنیوالے بچوں کی تعداد 2 ہے۔

     

     

     

    بچوں کی بیماریوں کے ماہرین پر مشتمل نمائندہ تنظیم پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی شرح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے، اس وقت 12 سال سے زائد عمر کے تمام پاکستانیوں کی ویکسینیشن کی جاچکی ہے، اب حکومت پاکستان نے 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی ویکسینیشن شروع کا فیصلہ کیا ہے۔

     

    پہلے فیز میں کراچی، حیدرآباد، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور اسلام آباد میں 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسینیٹ کیا جائے گا۔پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن نے والدین سے اپنے بچوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن لگانے میں تعاون کی درخواست کی ہے۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب کے بعد کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ مختلف وبا اور بیماریاں پھوٹنے سے 5 افراد انتقال کر گئے ہیں، انہیں حالات کے پیش نظر سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    خیرپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں گیسٹرو کا مرض وبائی شکل اختیار کر لیا گیا، جس کے بعد خیرپور میں پیر گوٹھ بچاؤ بند ہونے پر کیمپ میں چار افراد کی زندگی بازی ہار گئی۔ متاثرین خوراک اور علاج کی حالت سے خوفزدہ ہیں، جہاں مزید لوگوں کا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدشہ ہے کہ ضلع بھر میں تاحال میڈیکل کیمپ نہیں چلا۔سکھر میں بھی گیسٹرو سے بچہ دم توڑ گیا ہے اور یہاں بھی علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں

    ان علاقوں میں ٹینٹس نہیں اور لوگ دن کو کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کو مچھر اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں‌ کا سامنا کرتے ہیں‌ ، ادھر سکھر سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکھر بیراج کے دوسرے راستے سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد کی گئی۔سکھر بیراج پرموجود حکام کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران واقعات کی تعداد 33 واضح ہے۔ اس سے پہلے والی لاشوں میں 9 خواتین بھی شامل ہیں، تاہم کسی کی شناخت نہ ہو سکی۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے مرادی میں بارش کو تھمے ہوئے روز گزرے مگر میونسپل کمیٹی ڈی کی جانب سے شہر کے گلی محلوں سے پانی نہیں ملنے جاسکا۔ شہر کے اندر ہر طرف تالاب اور منہدم مکانات سے تباہی دل دہلا دینے کا منظرپیش کررہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکی ہیں اور لوگوں کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں ہے

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی سندھ کی طرح حالات اچھے نہیں ہیں، کوہستان ، کالام ، سوات ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگرعلاقوں میں سیلاب کی باقیات ابھی موجود ہیں اور لوگ ایک طرف سخت دھوب میں وقت گزار رہے ہیں تو دوسری طرف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں

    سندھ میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہوگئی ہے سندھ نے پنجاب حکوت سے ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈیکس بھیجنے کی استدعا کی ہے ۔

    سندھ حکومت کی استدعا پر سب سے پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ڈاکٹرزاور نرسز پر مشتمل 10رکنی وفد لاڑکانہ روانہ کردیا ہے، اور اس وفد کے ساتھ ڈائریا، جلدی امراض، سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کا اسٹاک بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز سندھ کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائیں گے اورپھرسندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں مزید طبی سہولتیں فراہم کریں گے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • وزیراعلیٰ سندھ نے20لاکھ ٹینٹ کی منظوری دی ہے:شرجیل میمن: ناصرحسین شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ نے20لاکھ ٹینٹ کی منظوری دی ہے:شرجیل میمن: ناصرحسین شاہ

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ نے 20لاکھ ٹینٹ کی منظوری دی ہے، حالات بہت خراب ہیں اور لوگوں کے پاس رہنے کے لیے کچھ بھی نہیں‌ ،صوبائی وزیرناصرشاہ نے تنقید عمران خان کواس وقت سیاست سوجھ رہی ہے،

    صوبائی وزیرناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ ہمارا تو ایک، ایک اہلکار ان حالات میں محب وطن بنا ہوا ہے،سیلاب متاثرین کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو کا کام جاری ہے،

    ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ اس بارمعمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے سیلاب آیا،

    دوسری طرف صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے 6 ستمبر یوم دفاع کے موقعے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوم اپنے شہیدوں اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے,ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے ملک کی خاطر بے بہا قربانیاں دی کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا دئے,

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر برسات و سیلاب متاثرین کیلئے تین وقت کا تازہ معیاری کھانا تیار کیا جاتا ہے,میرپور خاص 68، سکھر 568، لاڑکانہ ڈویژن میں 481 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے

    سندھ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 2 ہزار 31 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ،اس وقت جو بهی لوگ بے یارو مددگار ہیں ہمیں ان کا انکا سہارا بننا چاہیے،

    ضلعی انتظامیہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے تیار رہے,کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی, ہماری بھرثکوشش ہے جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں ان کی ہر ممکن مدد کی جائے,

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب

    دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب

    سندھ: دادو سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی ریلے کوٹری بیراج پہنچنا شروع ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، فلڈ کنٹرول روم کے مطابق کوٹری بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،کوٹری بیراج اپ اسٹریم میں پانی کی آمد 6 لاکھ 4 ہزار 147 کیوسک ہے۔

    منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    فلڈ کنٹرول روم کے مطابق بیراج سے ڈاؤن اسٹریم میں پانی کا اخراج 5 لاکھ 84 ہزار 372 کیوسک ہے،کوٹری بیراج میں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران 5 ہزار 100 کیوسک پانی کا اضافہ ہوا منچھرجھیل کا پانی کوٹری بیراج پہنچنےپرپانی کی سطح میں اضافہ ہوگا۔

    دوسری جانب منچھرجھیل میں پانی کا دباؤ کم کرنےکےلیے مزید دو مقامات پر کٹ لگا دیئے گئے، کٹ آر ڈی 50 اور آر ڈی 52 پر لگائے گئے سیہون کے قریب منچھر جھیل میں آرڈی 55 پر لگائے گئے شگاف سے پانی نکلنے لگا سیہون شہر اور سعید آباد کے لیے اب بھی خطرہ برقرار ہے۔

    ہلال احمرسوسائٹی پاکستان نےابرارالحق کا عطیات جمع کرنےکا دعویٰ مسترد کر دیا

    مقامی افراد کا کہنا تھا کہ آر ڈی 55 جھیل کا نشیبی حصہ ہے، آر ڈی 55 پر کٹ لگانے سے جھیل سے پانی کا اخراج تیزی سے ہوگا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ شگاف لگانے کی اصل جگہ یہی تھی آرڈی 55 پر شگاف پہلے لگا دیتے تو صورتحال اتنی خراب نہیں ہوتی-

    بوبک بند پر دانستر نہر کے گیٹ بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ بوبک بند کو نقصان پہنچا تو ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہےماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں-

    اسلام آباد ،لاہور سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    بلوچستان سےآنےوالےریلوں کےباعث جوہی اور میہڑ کےرنگ بندوں پرپانی کا دباؤ برقرار ہے ادھربدین کی پران ندی میں 6 روز بعد دوبارہ شگاف پڑگیا، 30سےزائد ڈوبےدیہات میں پانی کی سطح مزیدبڑھ گئی ہے۔

  • سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: فریال تالپور

    سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: فریال تالپور

    کراچی :فریال تالپور نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے اپنے حلقے کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

    فریال تالپور نے رتودیرو میں سیلاب زدہ علاقوں اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جبکہ فریال تالپور نے بارش متاثرین سے ان کے مسائل اور میسر سہولیات کی معلومات لیں

    پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کومشکل حالات کا سامنا ہے، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہر ایک سیلاب متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    فریال تالپور نے متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل ترین صورتحال کا مقابلہ صرف باہمی تعاون اور قومی اتحاد سے ممکن ہے، بارش و سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گےپیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فریال تالپور کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائیں گے، ریہبلیٹیشن کا کام مکمل ہونے تک چین کی سانس نہیں لیں گے۔

    ترجمان پیپلز پارٹی کے مطابق سابق صوبائی وزیرِ داخلہ سہیل انور سیال، اعجاز لغاری، شگفتہ جمانی اوردیگر عہدیداران فریال تالپور کے دورے کے دوران ہمراہ تھے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • منچھر جھیل کا بند ٹوٹنےکا خطرہ، قریبی آبادیاں خالی کرنےکے احکامات جاری

    منچھر جھیل کا بند ٹوٹنےکا خطرہ، قریبی آبادیاں خالی کرنےکے احکامات جاری

    سیہون: منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے اور بند ٹونٹےکے خطرے کے پیش نظر قریبی آبادیوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیےگئے۔

    ڈپٹی کمشنر جامشورو کے مطابق منچھر جھیل کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جھیل کا بندکسی بھی وقت ٹوٹنےکا خدشہ ہے، یونین کونسل واہڑ، بوبک، جعفرآباد اور یونین کونسل چنا کے علاقے خالی کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہےکہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔

    ڈپٹی کمشنرکا مزید کہنا تھا کہ جھیل کے بند کو کٹ نہیں لگائیں گے، آخری وقت تک کوشش کریں گے کہ بچت ہوجائے، منچھر جھیل کے لیے اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں۔جھیل کا پانی کناروں سے چھلکنے لگا ہے، سیہون کی مقامی آبادی انتہائی خوف کا شکار ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منچھر جھیل میں بوبک اور اطراف کے سیکڑوں گاؤں بچانے کے لیے یوسف باغ کے مقام پر بندکو کٹ لگایا جائے۔ جھیل میں پانی کی سطح میں سلسل بڑھنے سے علاقہ مکین شدید پریشان ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بندوں پر موجود ہیں، سامان نہ ہونے کی وجہ سے رضاکار پریشان ہیں۔

    ادھر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان سےآنے والا پانی پہلے منچھراوردریا میں جاتا ہے، منچھرمیں بھی اب پانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ پانی اب چند ماہ تک انہی علاقوں میں رہے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے باعث سب سے زیادہ نقصان سندھ میں ہوا،یہاں سب ہی پریشان ہیں، ایک کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، ہمیں ٹینٹس چاہییں آرڈربھی دےچکےہیں لیکن دستیاب نہیں ہیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے بھرپور تعاون پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے آپ کی فکرمندی قابل تعریف اور قابل تحسین ہے، عوام کو مایوس نہیں کریں گے:

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لوگ پھنسے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے ،14 لاکھ سےزائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے ،نقصانات کا پتہ نکاسی آب کے بعد کیاجائے گا،سندھ حکومت ریسکیو اور ریلیف سے متعلق امور پر کام کررہی ہے سندھ میں سرکاری اسکولوں میں بھی متاثرین کو ٹھہرایا گیا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے عالمی سطح پر جو فنڈز ریزنگ ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے،سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ ابتدائی معالومات ہیں ، 14لاکھ 65ہزار 941گھروں کو نقصان ہوا ہے،سندھ میں اب تک 559افراد جاں بحق، 21ہزار 891زخمی ہوئے سندھ میں 6لاکھ 58ہزار 354افراد کیمپوں میں قیام پذیر ہیں حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت متاثرین کو 2وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے 44لاکھ 2ہزار 484ایکڑ زمین پر فصلوں کو نقصان پہنچا ،سیلاب سے کپاس کی فصل مکمل طور پرتباہ ہوچکی ہے ،سیلاب سے 100فیصد سبزیاں متاثر ہوئے ہیں سیلاب سے آم کے درختوں کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، پاک نیوی،پاک آرمی ،سندھ پولیس اور دیگر ادارے ریسکیو کے عمل میں مصروف ہیں،سیلاب متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے 03355557362 نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے، متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے02135381810نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے،اگر پی ڈی ایم اے سے رابطہ کرکے تصدیق ہوگی تو امداد دہرانے سے بچ جائیں گے، سندھ حکومت نے راشن بیگز کے آرڈر دے دئیے ہیں ،سندھ حکومت راشن ،خوراک ،پانی اور ضروری اشیا کی فراہمی کررہی ہے،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ تقسیم امداد شفاف طریقے سے جاری رہےمتاثرین سیلاب کی امدا د میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے

    عمران خان خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹرز ستعمال کر رہے ہیں ،

    پرویز الہیٰ نے عمران خان کو "خوش” کرنے کا ایک اور "پروگرام”

     ہیبت علی خان نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دریائے سندھ میں ڈوبتے شخص کی جان بچالی

    بشارت کی حدود میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ کے بعد پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لے لیا

  • نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ:نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر،اطلاعات کے مطابق سندھ کے باسی کئی محاذوں پر لڑرہے ہیں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی بے رحمانہ پالیسیاں اورطاقتوروں ،وڈیروں کی خواہشات کا شکار ہورہے ہیں اس اثنا میں اگران پرکوئی اورظلم زیادتی یا تکلیف آجائے تو وہ کدھر جائیں گے

    نواب شاہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیرہےاوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں مریض تڑپ رہے ہیں

    اس سلسلے میں‌ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد نواب شاہ،متاثرین میں خواتین اوربچوں سمیت 20 افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا ہے ، جہاں ان کی حالات خراب بتائی جاتی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیاتھا ، لیکن کھانا باسی تھا اورپھرناقص بھی جس کی وجہ سے کھانا کھانے والے سب بیمار ہوگئے

     

     

    ادھروزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    سیلاب میں گھرے متاثرین کی زندگی امتحان بن گئی،سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور میں خوفناک سیلاب سے قبرستان بھی ڈوب گیا، خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا،شہری لاش کو ٹھیلے پر رکھ کر گھومتے رہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ خیرپور سے خوفناک مناظر سامنے آگئے۔ لاش کو رکھنے اور دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا بھی مشکل ہوگیا۔

    بااثر وڈیرے اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں

    رپورٹس کے مطابق ٹھری میر واہ شہری ایک لاش کو ٹھیلے پر لیے گھوم رہے ہیں جو دو روز سے لاپتا شخص کی ہے اور پانی میں تیرتی ہوئی ملی تھی شہری لاش کو سیلاب کے پانی میں ٹھیلے پر رکھ کر خشک جگہ کی تلاش میں شہر میں گھومتے رہے۔

    سیلاب کی وجہ سے ٹھری میرواہ کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ غائب ہے نا ایمبولینس ملی ہے نا کوئی اور سہولت ہے، لاش کو ریڑھی پر رکھ کر خشک زمین ڈھونڈ رہے ہیں قبرستان میں بھی پانی آچکا ہے جس کی وجہ سے تدفین کرنا ممکن نہیں۔

    سیلاب متاثرین کی مد کیلئے امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 7 ملکوں کی این جی…

    دوسری جانب بلوچستان میں سیلاب میں گِھرے لوگ پانی میں چل چل کر خشک جگہ پر پہنچے تو پاؤں سے خون رسنے لگا، بعض کے پاؤں سوج گئے اور بہت سوں کو چھالے پڑ گئے سیلاب متاثرین سڑک پر بنی چارپائی کی جھونپڑی میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، معصوم بچے آلودہ ماحول اور گندگی میں مختلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ مسائل سے نمٹنا ان کے بس میں نہیں رہا، ڈيرہ اللہ یار میں بھی صورتِ حال بد سے بدتر ہے، سارا علاقہ زیرِ آب ہے اور ہر طرف گندا پانی جمع ہے، متاثرین گندا پانی پی کر اپنی سانسوں کو بحال کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں سیلاب متاثرین کے گھر، سڑکیں سب زیر آب ہیں اور مویشی بھوک اور پیاس کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

    ملک بھرمیں سیلاب اور بارشوں سےجاںبحق افراد کی تعداد 1 ہزار 208 ہوگئی