Baaghi TV

Tag: سندھ

  • جماعت اسلامی کا کراچی بھر میں احتجاج کا اعلان!

    جماعت اسلامی کا کراچی بھر میں احتجاج کا اعلان!

    جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک کےتحت 30 جنوری کو 50 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔ دھرنوں کی تمام تیاریاں اور انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ حقوق کراچی کی اس تقریب میں ٗحافظ نعیم الرحمن ودیگر رہنما خطاب کریں گے۔ کراچی میں کیے جانے والے یہ دھرنے شام 4 بجے سے شروع کیئے جایئں گے اور رات گئے تک جاری رہیں گے۔ دھرنے شہر بھر کے تمام اضلاع میں دیے جائیں گے،ترجمان جماعت اسلامی۔

    ضلع وسطی میں ڈالمن مال حیدری،امتیاز اسٹور ناظم آباد،ناگن چورنگی، ودیگرعلاقےاس دھرنے میں شامل ہوں گے۔ کراچی دھرنے میں شمالی4.Kچورنگی،سرجانی ٹاون،نارتھ کراچی،الآصف اسکوائر سہراب گوٹھ بھی شامل ہیں۔ ضلع شرقی میں ملینیم شاپنگ مال جوہر موڑ،جوہر چورنگی،صفورہ چوک،ودیگر علاقے شامل ہوں گے۔ ڈسکو بیکری گلشن اور یس کے علاوہ اقبال،یونیورسٹی روڈ حسن اسکوائر، ضلع جنوبی میں ماڑی پور روڈ،لیاری نزد غلامان عباس اسکول،گارڈن،آگرہ تاج،ودیگر ، ضلع غربی میں اورنگی ٹاؤن5نمبر،شیل پیٹرول پمپ فقیرکالونی ودیگر مقامات پر دھرنے دیے جائینگے۔ ضلع ملیر میں اسپتال چورنگی،بھینس کالونی، ڈی سی آفس،لعل آباد موڑ،سمیت مختلف مقامات پر اور شاہراہ قائدین نزد نورانی کباب،لسبیلہ چوک،پرانی سبزی منڈی شاہ ژوب ہوٹل پر بھی دھرنا دیا جائیگا۔

    یہ دھرنے کراچی میں پیپلزپارٹی کی صوباٰئی حکومت کی بدانتظامی اور وفاقی حکومت کی کراچی کے مسائل سے مسلسل کنارہ کشی اختیار کیے جانے کے خلاف دیے جائیں گے۔

  • بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کا انکشاف
    غیر قانونی طور پر بھرتی کیے ہوئے اکائونٹ آفیسر عبد الرشید ملاح نے ملازمین کےGPF کے تقریباً 7.5ملین نکلوا کے اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بنک میں 7٪ کے عوض یعنی 15 لاکھ اپنے جیب میں ڈال دئیے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔
    پکڑے جانے پر وائس چانسلر کی خاموشی اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کے ایکٹنگ چارج نوازنے پر مینجمنٹ کی لاپرواہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ عبدالرشید ملاح جن کی غیر قانونی بھرتی کا معاملہ اینٹی کرپشن میں چل رہا ہے، ان کی غیر قانونی تعیناتی میں ان کی اہلیہ محسنہ سکندر بطور اسسٹنٹ رجسٹرار اپنے شوہر کی مدد رہی تھیں ۔
    لیاری یونیورسٹی کے ملازمین کی 7.5 ملین GP فنڈ کے پیسے لے اڑنے کی کوشش میں اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بینک میں پیسےجمع کرواکر اور 15 لاکھ کی رشوت لے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش نے میاں بیوی کے ناجائز عزائم کی پول پٹی کھول دی۔ اس خرد برد کے کیس میں جہاں عبدالرشید ملاح کے خلاف مینجمنٹ کاروائی کرنے سے قاصر ہے وہیں لیاری یونیورسٹی کے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

  • ڈیفینس پولیس کا ایکشن، پیشہ ور اسٹریٹ کرمنلز  گرفتار

    ڈیفینس پولیس کا ایکشن، پیشہ ور اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

    کراچی: ایس ایس پی ساؤتھ زبیر نذیر کے احکامات پر ڈیفینس پولیس نے پیشہور اسٹریٹ کرمنلز اور موٹر سائیکل لفٹرز کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے دو عادی ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

    ایس ایچ او ڈیفینس نے انٹیلیجنس بیس پر کارروائی کرتے ہوئے فیز 7 ایکسٹینشن نزد صفاء یونیورسٹی کے پاس سے دو پیشہ ور اسٹریٹ کرمنلز کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمانسے پولیس نے دو عدد پسٹل ،چار عدد چھینے گئے موبائل فونز، ڈیفینس سے چوری کی گئ موٹر سائیکل نمبر KMZ 2090 میکر یونین اسٹار 70 ماڈل 2019 جس کا مقدمہ ڈیفینس تھانے میں درج ہے برآمد کر لی۔

    دوران تفتیش ملزمان نے مختلف تھانہ جات کی حدود میں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور پہلے بھی متعدد بار جیل جا چکے ہیں۔ ملزمان کے نام اللہ دتہ، ولد خدا بخش اور ماجد ولد رحیم بخش ہیں۔ مقدمہ الزام نمبر 81/2021 بجرم دفعہ (23) (1) A اسلحہ ایکٹ اور مقدمہ نمبر 82/2012 کے تحت ڈیفینس میں درج کیا گیا۔ ملزمان کے سابقہ کیسس کی تفصیلاتدرج ذیل ہیں:

    ملزم ( ماجد ولد رحیم بخش منگی) مقدمہ الزام نمبر385/2009 بجرم دفعہ457/380 ت پ (عوامیKIA)،
    574/2010 بجرم دفعہ 392/34ت پ (تھانہ عوامی کالونی )، 112/2019 بجرم دفعہ 23 (1) A اسلحہ ایکٹ (تھانہ لانڈہی)،
    357/2019 بجرم دفعہ392/34 ت پ (عوامی KIA)۔

    سابقہ کیس تفصیلات ملزم ( اللہ دتہ ولد خدا یار) مقدمہ الزام نمبر54/2020 بجرم دفعہ392/34 ت پ (عوامی کالونی)،
    148/2020 بجرم دفعہ 23 (1) A اسلحہ ایکٹ (تھانہKIA)۔
    ملزمان کے خلاف کاروائی جاری ہے۔

  • سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر جرمانہ

    سپریم کورٹ کا سندھ حکومت پر جرمانہ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مہلت مانگنے کی استدعا مسترد کردی اور سندھ حکومت کو غیر ضروری التوا پر فریقین کے وکلا کے سفری اخراجات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اگلی سماعت سے پہلے وکیل امداد علی اور ضمیر اللہ کو پچاس پچاس ہزار روپے ادا کرے، دونوں وکلاء حیدرآباد اور سندھ سے آئے ہیں انکو اخراجات ادا کیے جائیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ تحریری جواب کی کاپی جمع نہیں کروا سکے، آپ کو جرمانہ کر رہے ہیں دونوں وکلا کو ادا کریں، گزشتہ سماعت پر بھی عدالت نے حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔
    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے دو دن کی مہلت دینے کی استدعا کی۔ تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس التوا کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کردی۔

    وازشریف خطاب میں پاکستانی پاسپورٹ کے بارے میں جھوٹ بولتے پکڑے گئے،کارکنوں نے شرم کے مارے نظریں جھکا لیں

    فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ کب سنایا جائے گا؟ بتا دیا گیا

  • سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال

    سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال کے متعلق بیان۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 3730 ٹیسٹ کیے گئے۔ آج 537 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو ٹیسٹوں کا 14.4 فیصد ہے۔ اس وقت تک 95053 ٹیسٹ کئے گئے، جس میں 12017 کیسز آئے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 11 مریض انتقال کرگئے۔ اللہ پاک انتقال کرنے والوں کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر دے۔ اس وقت تک 200 مریض کورونا کے باعث انتقال کر چکے ہیں۔ آج 68 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے۔ صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2149 ہے۔ 537 کیسز میں سے 432 نئے کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔ ملیر میں 142، وسطی میں 62 اور شرقی میں 61 نئے کیسز سامنے آئے۔ جنوبی اور کورنگی میں 58-58 جبکہ غربی میں 51 مزید کیسز رپورٹ ہوئے۔ سکھر میں 22، شکارپور میں 19اور قمبرشہداد کوٹ میں 11 نئے کیسز ظاہر ہوئے۔ ٹنڈوالہیار 8، لاڑکانہ 7، حیدرآباد، سانگھڑ اور مٹیاری میں 4-4 مزید کیسز آئے۔ جیکب آباد 3، سجاول 2، میرپور خاص، جامشورو اور بدین میں ایک ایک کیسز آئے آج سے کاروبا ر ایس او پی کے تحت دئے گئے وقت کے مطابق شروع ہوا ہے۔ تمام کاروباری دوستوں کو بتائی گئی ایس او پی تحت کام کرنا ہے۔ میں خود بھی شہر کا دورہ کر کے جائزہ لوں گا۔
    انتظامیہ کسی کو ہراساں نہیں کرےلیکن ایس او پی پر عمل کویقینی بنائیں: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

    عبدالرشید چنا
    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ

  • ترجمان سندھ حکومت کے بیان پر ترجمان پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی کا رد عمل

    ترجمان سندھ حکومت کے بیان پر ترجمان پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی کا رد عمل

    سندھ حکومت کے وزراء ترجمان اور وزیر اعلیٰ ایک پیج پر آجائیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق 23 لوگ وینٹیلیٹر پر،وزیر صحت کے مطابق 70 فیصد وینٹیلیٹر استعمال ہورہے ہیں۔ اگر 70 فیصد وینٹیلیٹر استعمال میں ہیں تو 600 وینٹیلیٹر میں 300 سے زائد افراد وینٹیلیٹر پر ہوں گے ۔ سندھ حکومت بار بار اعداد و شمار کی ہیر پھیر سے لوگوں کو ڈرا رہی ہے۔ سندھ حکومت کے اعمال پر اب سندھ کی عوام کو یقین نہیں رہا ۔ مرتضيٰ وہاب بتائیں کیا سندھ کی اسپتالوں میں ویکسین پہنچ گئی؟ سندھ کے اسپتالوں میں ڈاکٹر، ایمبولینس، وینٹیلیٹر، ادویات پہنچ گئی؟ اربوں روپے کا بجٹ وزیر صحت اور مشیر سندھ حکومت اپنی صحت پر خرچ کررہے ہیں ۔لاشوں پر سیاست کرنا پی پی کا بنیادی منشور ہے۔ پی پی کورونا کے معاملے پر کاروبار اور سیاست کررہی ہے۔ لسانیت کی آگ لگانے والے سندھ کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ سندھ حکومت عوام کی مدد نہیں کرسکتی تو وفاق کو سندھ میں کام کرنے دے۔ سندھ حکومت ڈرامے بازیوں کی بجاء اپنے مسائل پر توجہ دے : جمال صدیقی

    منجانب، میڈیا ڈیپارٹمنٹ پی ٹی آئی کراچی
    03060020607

  • 28 ارب روپےکسے کم نہ آئے،نااہلی آڑے آگئی

    28 ارب روپےکسے کم نہ آئے،نااہلی آڑے آگئی

    کراچی :نااہلی یا سستی ، بے خبری یا ہٹ دھرمی ، سندھ حکومت کی قانونی ٹیم کی نااہلی کے باعث ٹیکس وصولی کی مد میں صوبائی حکومت کے 28 ارب روپے پھنس گئے۔۔ مختلف کمپنیز اور افراد نے ٹیکس نوٹس پر عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیا۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کی دعویدار سندھ حکومت کی قانونی ٹیم کی نا اہلی بے نقاب ہوگئی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں ٹیکس نوٹسز کیخلاف 200 سے زیادہ مقدمات لٹک گئے جس کے باعث ٹیکس وصولی کی مد میں سندھ حکومت کے 28 ارب روپے پھنس گئے۔ سندھ حکومت نے جن افراد اور کمپنیوں کو نوٹسز بھیجے انہوں نے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے لیا۔

    نیب آرڈینینس میں ترمیم،بڑوں بڑوں کو بی سے سی کلاس

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف شادی ہالز کے ذمہ 5 ارب کے ٹیکس واجب الادا ہیں جبکہ ٹرمینل آپریٹرز اور ٹیلی کام کمپنیز نے ڈھائی ڈھائی ارب ٹیکس کے خلاف اسٹے لے رکھا ہےکنسٹرکشن کمپنیز کے ٹیکس نوٹسز کی مد میں سب سے زیادہ 6 ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں۔ لیزنگ، کلبز، بینکنگ، انشورنس اور دیگر کمپنیز نے بھی اسٹے لے رکھا ہے۔

    ماڈل کورٹس ، زبردست کارکردگی،شاندارانعامات

  • کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟  تحریر:  حجاب رندھاوا

    کیا سندھ کا کوئی والی وارث ہے؟؟؟ تحریر: حجاب رندھاوا

    لیاقت قائمخانی کی پوری دولت ابھی سامنے آنے میں کچھ دن لگے گے لیکن 20 گریڈ کے افسر کا محل نما گھر اور گھر سے 10 ارب روپے مالیت کی جائدادوں کی فائلیں، گاڑیاں، زیور، بانڈ، کرنسی ملنا لمحہ فکریہ ہے

    لیاقت قائمخانی جس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ملازمت کا آغاز کیا اور اس نے آخری تنخواہ سوا لاکھ روپے وصول کی تھی اس کا محل نما گھر؟؟ ؟
    سوا لاکھ تنخواہ میں؟
    اور گھر سے دس ارب مالیت کی اشیاء کی برآمدگی؟؟؟ ؟

    کیا سندھ میں اس طرح جنگل کا قانون تھا کہ جو چاہتا لوٹتا رہا
    لیاقت قائم خانی نے کراچی کے باغات کی بحالی۔اور تزئین و آرائش کے نام پر لوٹ مار کی جس کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں ۔
    لیاقت قائمخانی نے 20 سالوں میں کراچی کے 71 پارکس کو صرف کاغذات میں بنایا اور سابق ڈی جی پارکس نے ایک ارب سے زائد روپے ہڑپ کر لیے

    مئیرکراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی 2012 میں شہید بے نظیر بھٹو پارک کے نام پر قومی خزانے کو 24کروڑ کا چونا لگا چکے ہیں۔

    شہید بے نظیر بھٹو پارک میں لوٹ مار پر لیاقت قائم خانی پر اینٹی کرپشن نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

    سابق گورنر اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کے دباؤ پر لیاقت قائم خانی پردرج مقدمات کو سرد خانے کی نظرکر دیا گیا۔

    لیاقت قائم خانی نے باغ ابن قاسم کی طرح شہید بے نظیر بھٹو پارک میں بھی جعلی کام کرائے۔
    لیاقت قائم خانی کراچی کے باغات پر بھالو مٹی کے بجائے سمندری مٹی ڈالتا تھا۔ لیاقت قائم خانی نے صرف شہید بے نظیر بھٹو پارک پر ایک کروڑ کے جعلی درخت اور پودے لگائے

    کے ایم سی محکمہ باغات کے 14ملازمین لیاقت کے گھر پر اور 7 ملازم اہم شخصیات کے گھروں پر کام کرتے تھے۔

    باتھ آئی لینڈ کلفٹن میں لیاقت علی نے گلشن فیصل پارک کے نام پر 40 لاکھ ہڑپ کئے۔۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برآمد ہونے والی گاڑیوں جائیداد کی دستاویزات پرائز بانڈز سونے ہیرے اور قیمتی ساز و سامان کی مالیت کا اندازہ 3 ارب روپے سے اوپر ہے جبکہ ملزم سے ایک لاکر مزید کھلوایا جانا باقی ہے۔ ملزم کی دیگر جائیدادوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

    لیاقت قایم خانی کے قریبی افسران میں سابق ڈی جی پارک طاہر درانی ایڈیشنل ڈائریکٹر اخلاق بیگ شامل تھے۔ آزاد نامی افسر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر خورشید بھی لیاقت خانی کے قریبی افسرتھے۔جو اس کے کرپشن پارٹنر تھے

    لیاقت قائمخانی نے پارکس میں جعلی کام کرانے کے لیے جعلی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں، جعلی کمپنیوں کے نام پر فنڈز ریلیز کئے جاتے تھے جس سے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا

    نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم کی کرپشن کے سیاسی حصے داروں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    لیاقت قائم خانی کے گھر سے برامد ہونے والی گاڑیاں اس نے ٹھیکدار کمپنی فیضان اینڈکو کے مالک چوہدری فیاض، ٹھیکیدار سلیم بھیا، مصطفی ٹھیکیدار سے لیں۔ لیاقت قائم خانی اہم شخصیات کی گاڑیوں کی مرمت بھی کےایم سی کے فنڈز سے کرا کر دیتے تھے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت قائمخانی 2007 سے غیر قانونی طور پر کے ایم سی کے مشیر باغات تھے، گریڈ 21 میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی سے ایک لاکھ روپے پینشن بھی وصول کرتے تھے
    کراچی میونسپل کارپوریشن میں انیس سو اناسی میں بھرتی ہونے والے لیاقت علی قائم خانی کے ایم سی کے بااثر ترین افسر کیسے بنے یہ اب کوئی معمہ نہیں رہا
    اس کو بنانے میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے

    لیاری کے علاقے گٹر باغیچہ کے رہائشی لیاقت علی قائم خانی نے انیس سو اناسی کے ایم سی میں گریڈ سولہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی اور اس وقت کے میئر کراچی عبدل ستار افغانی ماتحت محکمہ باغات میں بطور ہارٹیکلچرسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا ، تینتیس سالہ سروس کابیشتر حصہ محکمہ باغات میں گزارا اور پی ای سی ایچ ایس میں قیمتی بنگلے کے مالک بن گئے۔

    سن دو ہزار پانچ میں نئے بلدیاتی نظام کے وجود میں آنے کے بعد لیاقت علی قائم خانی نے حیرت انگیز طور تیزی کے ساتھ ترقی کی ۔
    سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے دور میں گریڈ اٹھارہ کے ڈائریکٹر لیاقت علی قائم خانی کے لئے ڈی جی پارکس کی پوسٹ بنائی گئی اور انہیں کراچی میں باغات اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے سیاہ سفید کا مالک بنا دیا گیا

    باغ ابن قاسم کی بحالی کے بعد لیاقت علی قائم خانی سابق گورنر سندھ عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے سب سے قریبی افسر سمجھے جانے لگے۔

    سن دو ہزار دس میں بلدیاتی نظام تو لپیٹ دیا گیا لیکن لیاقت علی قائم خانی اپنے عہدے پر براجمان رہے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے قرب حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

    بتایا جاتا ہے کہ بوٹ بیسن پارک کی تعمیر نو کے لئے وفاق سے آنے والا تمام فنڈ حکومت سندھ کے بجائے براہ راست لیاقت علی خان کو دیا گیا ، اعتماد اور قربت کا یہ عالم تھا کہ دو ہزار آٹھ میں سابق صدر آصف علی زرداری نے لیاقت علی قائم خانی کو تمغہ امتیازعطا کیا گیا اور پھر دو ہزار گیارہ میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ۔

    اپریل دو ہزار گیارہ میں لیاقت علی قائم خانی گریڈ بیس سے ریٹائرڈ تو ہو گئے لیکن اس وقت کے ایڈمینسٹریٹر کراچی لالہ فضل الرحمن نے انہیں تین سال کی توسیع دے دی جو اگلے ہی سال یعنی دو ہزار بارہ میں سپریم کورٹ کے حکم پر کالعدم قرار دے دی گئی ۔

    دو ہزار سولہ میں جیسے ہی بلدیاتی حکومت وجود میں آئی تو موجودہ میئر کراچی وسیم اختر نے لیاقت علی قائمخانی کو بطور مشیر باغات ایک بار پھر محکمہ باغات کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیا
    اج لیاقت قائم خانی نیب حراست میں ہے جبکہ مئیر کراچی وسیم اختر دوبئ جا چکا ہے
    نیب ذرائع کے مطابق میئر کراچی کے مشیر لیاقت قائمخانی کے خلاف تین مزید ریفرنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، لیاقت قائمخانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور کرپشن اور جعلی دستاویزات کے ریفرنس بھی دائر ہوں گے
    حجاب رندھاوا

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین