Baaghi TV

Tag: سندھ

  • بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر جاری کر دی

    پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی۔

    باغی ٹی وی : ” سی این این” کے مطابق پاکستان میں شدید بارشوں اور تباہ کُن سیلاب سے صوبے سندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل بن گئی ہے۔

    امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی جانب سے سندھ میں بننے والی جھیل کی خلاسے تصویر لی گئی جسے اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا ہے، تصویر میں سندھ میں بننے والی بڑی جھیل نمایاں ہے۔

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    نئی سیٹلائٹ تصاویر جو کہ پاکستان کے ریکارڈ سیلاب کی حد کو ظاہر کرتی ہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ایک بہتے ہوئے دریائے سندھ نے صوبہ سندھ کے ایک حصے کو 100 کلومیٹر چوڑی اندرون ملک جھیل میں تبدیل کر دیا ہے۔

    28 اگست کو NASA کے MODIS سیٹلائٹ سینسر سے لی گئی نئی تصاویر، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ 4 اگست اور 28 اگست کے درمیان سیلاب کا پانی کتنا پھیلااور کس طرح موسلا دھار بارش اور بہنے والے دریائے سندھ کے جنوب میں صوبہ سندھ کا بیشتر حصہ ڈوب گیا ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر میں گہرا نیلا رنگ سیلابی جھیل کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ سیٹلائٹ تصاویر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے سندھ کا بڑا حصہ ڈوبا نظر آ رہا ہے۔

    تصویر کے بیچ میں، گہرے نیلے رنگ کا ایک بڑا علاقہ دریائے سندھ ہے اور تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) چوڑے علاقے کو سیلاب میں بہا رہا ہے، جو کبھی زرعی کھیت تھے اور اب ایک بڑی اندرونی جھیل میں بدل گئے ہیں-

    سیلاب زدہ علاقے میں میڈیکل کیمپ کیلئے ادویات کی خریداری

    ناسا کی ارتھ آبزرویٹری کے مطابق دریائے سندھ کے کنارے آباد علاقوں کو بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یکم اگست اور 26 اگست کے درمیان، دریا سے گزرنے والے صوبوں میں سے ایک، سندھ میں 443 ملی میٹر (ڈیڑھ فٹ سے زیادہ) بارش ہوئی – جو اوسط سے 780 فیصد زیادہ ہے۔

    پچھلے سال اسی تاریخ کو اسی سیٹلائٹ کے ذریعے لی گئی تصویر سے یہ ایک چونکا دینے والی تبدیلی ہے، جس میں دریا اور اس کے معاون ندیوں کو دکھایا گیا ہے جو کہ چھوٹے، تنگ بینڈز کے مقابلے میں دکھائی دیتے ہیں، جو ملک کے کسی ایک علاقے میں ہونے والے نقصان کی حد کو نمایاں کرتے ہیں۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، 1961 میں ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اس سال کا مون سون پہلے ہی ملک کا سب سے زیادہ تر ہے، اور سیزن میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔

    سندھ اور بلوچستان دونوں صوبوں میں، بارش اوسط سے 500 فیصد زیادہ رہی ہے، جس نے پورے دیہات اور کھیتی باڑی کو لپیٹ میں لے لیا، عمارتیں منہدم کر دیں اور فصلیں تباہ کر دیں جبکہ آنے والے دنوں میں خطے میں زیادہ تر خشک موسم کی توقع ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کم ہونے میں دن لگیں گے۔

    پاکستان کی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اتوار کو کہا تھا کہ ملک کے کچھ حصےایک چھوٹے سمندر سے مشابہت رکھتے ہیں” اور یہ کہ "جب تک یہ ختم ہو جائے گا، ہمارے پاس پاکستان کا ایک چوتھائی یا ایک تہائی پانی زیر آب آ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کی سندھ میں ستمبر کے مہینے میں معمول سے زائد بارشوں کی پیشگوئی

  • شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکارپور:شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے:  سندھ کے باسیوں کی حالت زار سے پردہ اٹھا کے عوام الناس کی خدمت کے جھوٹے دعووں اور وعدوں کو بے نقاب کردیا ہے ،

     

    شکارپوربائی پاس سے باغی ٹی وی کے نمائندے عبداللہ عبداللہ جو کہ اس وقت وہاں موجود ہیں اور علاقے میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے آثارکا مشاہدہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی شکار پور اور گردونواح کے باسیوں کی حالت زار پر بھی نوحہ کناں‌ ہیں‌

     

    عبداللہ عبداللہ نے شکارپوربائی پاس سے اس وقت ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی کچھ ویڈیوز شیئر کی ہیں اور پھراس کے بعد وہاں کے لوگوں کے مسائل جان کرحالات کی عکاسی کی ہے ، ان کی طرف سے وائرل کی جانی والی ویڈیوز میں شکارپوربائی پاس کے گردوںواح کی آبادیاں اور گوٹھوں کے رہنے والے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہماری آبادیوں میں سیلاب کاپانی ہے اورہمارے گھر منہدم ہورہےہیں ، ہم حکام کی منتیں کررہے ہیں کہ ہمارے گھروں سے پانی نکالا جائے ،

     

    ان لوگوں کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ ہمارے گھروں سے پانی نکال رہے ہیں اور نہ نکالنے دے رہے ہیں ، آخریہ حکمران ایسا کیوں کررہے ہیں ، ہمیں بتایا جائے ہمارا کیا قصور ہے ،

    شکار پور کے ہونے والے شکار لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عبداللہ عبدالہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہت دکھی ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کےلیے کچھ نہ دیں مگرہمارے گھروں سے پانی تو نکالیں یا نکالنے دیں ، یہ ہمارا سب کچھ ہے جو ایک ایک کرکے منہدم ہورہے ہیں ، عبداللہ عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بڑھ کرپاکستان میں کسی طبقے کی بے بسی اور بدحالی اس سےپہلے نہیں دیکھی،

    ادھر سندھ میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، گوٹھ ڈوب گئے اور سیلابی ریلے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گئے، زمینی رابطہ منقطع ہونے سے متاثرین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

    شکارپور کا 800 گھروں پرمشتمل فقیر گوٹھ سیلاب نے اجاڑ ڈالا، گوٹھ ہر طرف سے دلدل اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے، سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گیا جس کے باعث متاثرین کے لیے گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں رہا۔

    پنجال شیخ میں مکانات ایک ایک کر کے منہدم ہونے لگے، کیونکہ موسلا دھار بارش نے چھوٹے سے جنوبی پاکستانی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اردگرد کے کھیتوں کے وسیع رقبے میں پانی بھر گیا۔

    اس ماہ تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل بارشوں کے بعد، تباہ شدہ دیواروں، ملبے اور لوگوں کے سامان کے ڈھیروں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا جو کہ بھورے سیلابی پانی اور مٹی کے تالابوں میں سے باہر نکل رہے تھے۔

    بدترین مون سون سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں، جس نے جون میں بارش شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 10 لاکھ مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے اور 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔“جب بارش شروع ہوئی تو ہر طرف تباہی پھیل گئی۔”بارشوں نے ایک ایک کرکے “سارا گاؤں ہی مٹا دیا گیا ہے۔”

     

    دوسری طرف اس وقت سندھ میں گڈوبیراج پراونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، لوگ پریشان ہیں اورانتظامیہ کو کچھ سوجھ بوجھ دکھائی نہیں دے رہی کہ اب کس طرح عوام الناس کی مدد کی جانی چاہیے

  • سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    لاہور:کراچی :؛پنجاب اسمبلی میں جمع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں رواں برس کتوں کے کاٹنے کے ساڑھے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 8 افراد انتقال کرگئے۔

     

     

     

    صوبےمیں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ 1878 کیسز شیخوپورہ میں رپورٹ ہوئے۔راولپنڈی میں 1819 ، ساہیوال میں 1552 اور گوجرانوالہ میں 1159 کیسز رپورٹ ہوئے۔فیصل آباد میں 319 کیسز، ڈی جی خان میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 227 کیسز رپورٹ ہوئے۔

     

    آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    حکومت سندھ نے شہریوں کوپاگل اور آوارہ کتوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا،محکمہ بلدیات سندھ کا پاگل اور آوارہ کتوں کی نس بندی کا ایک ارب روپے کا پروگرام ناکام ہوگیا، صرف کراچی میں 7ماہ کے دوران 18ہزار سے زائد لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹ لیا، 2 مریض جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے،

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رواں سال جنوری سے اب تک سگ گزید گی کیسز کے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے، کراچی کے چار بڑے اسپتالوں کے چونکا دینے والے اعدادوشمارسامنے آئے ہیں، رواں سال جنوری سے ابتک آوارہ کتوں نے 18560 لوگوں کو کاٹا ہے، شہر میں کتے کے کاٹنے سے دو افرادجاں بحق ہو گئے، جبکہ سال 2021میں 25 ہزار افراد سگ گزیدگی کا شکار ہوئے، انڈس اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے 6 ہزارکیسزرپورٹ ہوئے، اسی طرح جناح اسپتال میں سگ گزیدگی کے 5983کیسز رپورٹ درج ہوئے،شہر کے سب سے بڑے سول اسپتال کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے 5628کیسز رپورٹ ہوئے،

    عباسی شہید اسپتال میں کتوں کے کاٹنے کے 949کیسز سامنے آئے۔کراچی میں بلیوں کی جانب سے بھی شہریوں کو کاٹنے کے باعث مریض اسپتال پہنچے، شہر کے اسپتالوں میں بلیوں کے کاٹنے سے 49کیسز رپورٹ ہوئے،بندروں اور گدھوں کے کاٹنے سے 8 کیسز سول اسپتال میں رپورٹ ہوئے، تمام مریضوں کو ریبیز کی ویکیسن لگا دی گئی۔

    دوسری جانب محکمہ بلدیات سندھ نے لاکھوں لوگوں کو پاگل اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے کیسز کے بعد سال 2020 میں ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کیا، 96 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبے کے تحت ہزاروں کتوں کی نسبندی ہونی ہے، دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ بلدیات سندھ کتوں کی نسبندی کرنے کے پروگرام پر پیش رفت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے، جون 2022تک 13 کروڑ روپے خرچ کردیے ہیں، کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نتائج سامنے نہیں آئے اور کتوں کی کاٹنے کے کیسز کم نہیں ہوسکے، کتوں کی نسبندی کے پروگرام پر صرف 14 فیصد کام ہوسکا ہے، رواں برس پروگرام کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

  • "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی نے شاہ سیلاب سے متاثرہ عالقے کے دورے پر ہیں کہ اس دوران ایک سوال پوچھنے پر مقامی صحافی اور ایم این اے کے دوران معمولی جھگڑا ہو گیا جس پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرا دی-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اندرون سندھ دورے کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں صحافی کو سمجھاتے اور پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو ان کے گلے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    شرجیل میمن نے سندھ میں سیلاب سے تباہی کی تفصیلات جاری کر دیں

    https://twitter.com/AsgharNarejoo/status/1564296374832726016?s=20&t=DFSYgaQKWCDcLJsUf0RJfQ
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سےسوال پوچھنے پر پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو صحافی پر غصہ آگیا ایم این سکندر راہپوٹو نے غصہ کرتے ہوئے صحافی کو سمجھانے کی کوشش کی جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ ’مت کرو یار میں کرپٹ ہوں‘۔

    اس کے بعد مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرادی۔

    واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر سندھ میں تباہی مچائی ہےسیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونےسے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں،30اضلاع متاثرہوئیں-

    دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ،وزیر خارجہ بلاول کی…

    جولائی میں 308 فیصد سے زائد اور رواں ماہ 784 فیصد سے زائد بارشیں ہوئیں،گڈو اور سکھر سے 550,000 کیوسک سے زیادہ سیلابی ریلا گزررہا ہے کچے کے تمام علاقے زیر آب آگئے ، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے،بارشوں اورسیلاب سے 402 اموات ہوئیں اورایک ہزار 55افراد زخمی ہوئے سندھ میں بارشوں سے 860 ارب روپے کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا،سندھ میں بارشوں سے 15 لاکھ مکانات متاثر ہوئے، لاگت 450 ارب روپے ہے-

    وزیراطلاعات شرجیل میمن کےمطابق سندھ میں بارشوں سے ایک لاکھ 17ہزار 34مویشی ہلاک ہوئے ،سندھ میں بارشوں سے 3171726 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،سندھ میں بارشوں سے کپاس کی 1467579 ایکڑ اراضی پر کھڑی 100 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے-

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

  • اس وقت نفرت کی نہیں‌دل جوڑنے کی باتیں کریں فخر عالم

    اس وقت نفرت کی نہیں‌دل جوڑنے کی باتیں کریں فخر عالم

    فخر عالم نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں کافی سنجیدہ باتیں کہی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ وقت نفرت کو چھوڑ کر دل جوڑنے کا ہے. میں شکر گزار ہوں سندھ رینجرزکا، این جی اوز کا اوران سب کا جو سیلاب زدگان کے لئے مدد کررہے ہیں.پاکستان کے تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ چلیں. سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والے بہت مل جائیں گے لیکن اس وقت قومی سانحے کو مد نظر رکھیں اور لوگوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ ابھاریں. میں نےسندھ کا کچھ حصہ دیکھا ہے جو تباہی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے وہ کافی خوفناک ہے. اس وقت سب کچھ تباہ ہو چکا ہے یقینا اس کے اثرات اس سیلاب کے تھم جانے کے بعد ظاہر ہوں گے

    اس لئے بہت ضروری ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی کو مدعو کیا جائے تاکہ امداد کے معاملات سیدھے ہو سکیں. فخر عالم نے مزید کہا کہ سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے بہت سارے زمینی راستے کٹ چکے ہیں وہاں کے لوگوں تک پہنچنے کا راستہ بھی نہیں ہے.بہت ہی خوفناک صورتحال ہے اس میں ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے. فخر عالم کی طرح تمام شوبز شخصیات سیلاب زدگان کی مدد کے لئے لوگوں کو وڈیو پیغامات جاری کرکے متحرک کررہے ہیں.

  • سندھ میں ایک اور سیلاب،زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل

    سندھ میں ایک اور سیلاب،زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل

    سندھ میں ایک اور سیلاب ،کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث زمیں دارہ بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی بکھری میں داخل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : حالیہ مون سون کے دوران ملک بھر میں سب سے زیادہ بارش نوشہرو فیروز اور کنڈیارو میں ریکارڈ ہوئی، کئی دنوں کی مسلسل بارش کے باعث نوشہرو فیروز اور کنڈیارو میں ہزاروں کچے مکانات سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی امداد نجی گودام میں ذخیرہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر تبدیل

    بلوچستان سے آنے والے سیلابی پانی کا دباؤ بڑھنے کے بعد ضلع دادو کی تحصیل میہڑ کی آخری ڈیفنس لائن سپریو بند میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، سیلابی ریلے میہڑ کی طرف چل پڑے جس سے 100 سے زائد دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    پانی کا دباؤ کم کرنے کیلئے سندھ حکومت نے جوہی بیراج میں شگاف ڈال دیا ، سیلابی پانی جوہی شہر سمیت 60 دیہاتوں کو متاثر کرے گا۔

    جوہی نہر میں شگاف ڈالنے کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رفیق جمالی ناراض ہوگئے انہوں نے کہا کہ جوہی نہر میں شگاف ڈالنے کے فیصلے پر انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

    صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ جوہی نہر میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ مجبوری میں کیا گیا، قمبر، وارہ، میہڑ اور خیرپور ناتھن شاہ کو سیلابی ریلے سے بچانے کیلئے جوہی نہر میں شگاف ڈالنا ضروری تھا۔

    دوسری جانب سانگھڑ کے قریب سیم نالے کا شگاف پُر نہ کیا جا سکا جس کے باعث پانی سانگھڑ شہر کی جانب بڑھنے لگا جبکہ کچھ دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں میرپورخاص میں جھڈو کے قریب روشن آباد پُران ندی میں شگاف پڑگیا، سیلابی ر یلے بدین کی جانب بڑھنے لگے۔

    پاکستان کی بڑی فضائی کمپنی اسکائی ونگزایوی ایشن سیلاب متاثرین کی مدد میں بازی لےگئی،اہم اعلان

    دوسری جانب پاکستان میں سیلاب سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے، ملک بھر میں بارشوں اور سيلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 1 ہزار 61 تک پہنچ چکی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں اورسیلاب سے سب سے زیادہ اموات سندھ میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں 349 اموات ہوئیں، بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے جا ں بحق افراد کی تعداد 242 ہوگئی-

    خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب افراد کی تعداد 242 ریکارڈ، پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے 168 اموات گلگت بلتستان میں بارشوں اور سیلاب سے9 اموات جبکہ آزاد کشمیر میں 42 افراد جا ں بحق ہوئے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 470 مرد 210 خواتین اور 359 بچے جان کی بازی ہار گئے، بارشوں اور سیلاب سے 24 گھنٹے کےدوران 48 افراد زخمی ہوئے اور 29 ہزار 692 مکانات کو نقصان پہنچا، 13 ہزار 323 گھرتباہ ہوئے-

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 157 پلوں کو حالیہ بارشوں سے نقصان پہنچا، ملک بھر میں 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد مویشیوں کا نقصان ہوا ہے، جبکہ 3457 کلو میٹر سڑک کو بارشوں کے باعث نقصان پہنچا۔

  • سیلاب متاثرین کی امداد نجی گودام میں ذخیرہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر تبدیل

    سیلاب متاثرین کی امداد نجی گودام میں ذخیرہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر تبدیل

    سیہون:پاکستان میں سیلاب نے ہرطرف تباہی پھیلا دی ہے ،پاکستانیوں کی بے بسی دیکھ کرپاکستانی اوردیگردنیا پاکستان کے ان سیلاب متاثرین کی دل کھول کرمدد کررہےہیں ، ہرکسی کوپاکستانیوں پر ترس آرہا ہے لیکن سندھ کی افسرشاہی نہ تو ترس کھاتی ہے بلکہ ان سیلاب متاثرین کو ملنے والی امداد کو بھی کھانے کی کوشش کرتی ہے،

    اسی کوشش میں نجی گودام پر دھاوا بول کر خیمے اور راشن اٹھا لیا، مشکلات میں گھرے عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کوتاہی پر سرکاری امداد ذخیرہ کرنے پر سندھ حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کو تبدیل کردیا۔

    سیہون میں بارشوں اور سیلاب متاثرین کی امداد نجی گودام میں ذخیرہ کرنے پر چیف سیکرٹری نے نوٹس لے لیا، اسسٹنٹ کمشنر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

    سوشل میڈیا پر سہیون کے ایک نجی گودام میں سیلاب متاثرین کی امداد ذخیرہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا، چیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے اسسٹنٹ کمشنر سہون عبدالرحیم قریشی کورپورٹ کرنے کا حکم جاری کردیا جبکہ محمد اقبال جندن کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کردیا گیا-

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سیلاب زدگان کیلئے اپیل

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیلاب متاثرین اپنی مدد آپ تحت ذخیرہ کیا گیا امدادی سامان اپنے ساتھ گاڑیوں میں لیکر جارہے ہیں۔

  • آریانہ,دامانہ,درب شاہ گرام ,ڈپو,چیل،مدین تحصیل بحرین میں سیلاب سے100سےزائدگھرمکمل طورتباہ

    آریانہ,دامانہ,درب شاہ گرام ,ڈپو,چیل،مدین تحصیل بحرین میں سیلاب سے100سےزائدگھرمکمل طورتباہ

    :لاہور:آریانہ,دامانہ,درب شاہ گرام ,ڈپو,چیل،مدین تحصیل بحرین میں سیلاب سے100سےزائدگھرمکمل طورتباہ ،اطلاعات کے مطابق کے پی میں آنے والے سیلاب کے نقصانات کی تفصیلات آنا شروع ہوگئی ہیں اور تازہ ترین ابتدائی اطلاعات میں کہا جارہا ہےکہ آریانہ،دامانہ،درب شاہ گرام ،ڈپو،چیل ، مدین اور تحصیل بحرین کے دیگرعلاقوں میں 100 سے زائد گھر مکمل طور پرتباہ ہوگئے ہیں

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جزوی طور پر تقریبا ہرگھر کو نقصان پہنچا ہے اور یہ کہا جارہا ہےکہ بڑی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں ،

     

     

    دوسری طرف وزیراعلٰی کے پی نے اس علاقے میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتےہوئے متاثرین کو فی الفور امداد دینے کا بھی اعلان کیا اور اس ضمن میں امدادی رقم بھی بڑھا دی ہے

     

    ڈیرہ اللہ یار ، بلوچستان میں نئے ریلے کے بعد خیمہ بستیاں بھی ڈوب گئیں ہیں، اس سلسلے میں ڈیرہ اللہ یار سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ اس وقت پانی پورے علاقے میں پھیل چکاہے اوراب تو محفوظ مقامات بھی غیرمحفوظ ہوگئے ہیں اور خیمہ بستیاں تک اس سیلابی ریلے میں ڈوب گئی ہیں،

    اس سلسلے میں ملنے اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی فلاحی تنظیمیں سیلاب متاثرین کی مدد کررہے ہیں،اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جونہی شام کا وقت ہونے کو ہورہا ہے ، اندھیری رات میں پانی کے ریلے میں لوگوں کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ بھی ہورہا ہے

     

    کے پی کے ایک بڑے شہر کو سیلاب کے تازے ریلے کا سامنا ہے یہ شہرجہاں پہلے ہی ڈیرہ اسماعیل خان ایئر پورٹ شدید متاثر ہوا ہے، ایئر پورٹ پانی میں ڈوب گیا، جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن بھی معطل ہوگیا۔

    ڈی آئی خان ایئرپورٹ ٹرمنل بلڈنگ، رن وے، ایپرن سائیڈ دریا کا منظر پیش کرنے لگا، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اے ایس ایف کیمپ بھی پانی سے بھرگیا۔سول ایوی ایشن ملازمین، اے ایس ایف اور ایئرپورٹ کا عملہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔

    دوسری طرف تحصیل پروا سے اطلاعات کے مطابق سیلاب کا تازہ اور بڑا ریلہ گزر رہا ہے جس نے شہرکی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے ،

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ کس طرح پانی کا ریلہ تحصیل پروا کوویران کرتے ہوئے گزررہا ہے ،

     

     

    اطلاعات کے مطابق شدید طوفانی بارشوں کے باعث ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ابتک درجن سے زائد افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں. 160 سے زیادہ دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں.

    ملک بھر کی طرح ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شدید طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب کی تباہ کاریوں میں بتدریج
    اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ سیلاب میں اب تک 9000 سے زیادہ گھر متاثر ہوئے ہیں، سیکروں مال مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں

     

    پروآ اور ملحقہ علاقوں میں ہزاروں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں. ادھر تحصیل کلاچی کے مضافات گاوں کوٹ ولی داد سمیت ملحقہ علاقوں میں سیلابی ریلا داخل ہو گیا ہے، لونی نالہ میں طغیانی کی وجہ سے سگو پل ٹوٹنے سے بین الصوبائی رابطہ کی ڈیرہ ژوب روڈ بند ہو گئی۔ بڈھ میں سیلابی ریلہ داخل ہونے سے ڈیرہ ٹانک روڈ بھی بند ہے۔اور ایک جگہ سے ٹوٹ گیا ہے جہاں لوگ بانسوں کا پل بناکرگزرنے کا راستہ بنا رہے ہیں ،ادھر  ہزارہ پکہ ڈرین سے اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے

  • آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    فلڈ ریلیف اپ ڈیٹ: آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف زمینی دستوں سے بات چیت بھی کریں گے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 212 ریلیف کولیکشن پوائنٹس قائم کیے ہیں۔ سندھ میں 81، پنجاب میں 73، بلوچستان میں 41 اور کے پی کے میں 17 ریلیف کولیکشن پوائنٹس کام کر رہے ہیں۔

    پاک فوج نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے فلڈ ریلیف ڈونیشن اکاؤنٹ قائم کر دیا ہے اکاؤنٹ کا عنوان – سیلاب متاثرین کے لیے آرمی ریلیف (عسکری بینک جی ایچ کیو برانچ)
    اکاؤنٹ نمبر – 00280100620583

    پاک فوج کی جانب سے ضلع راجن پور میں امدادی سرگرمیاں جاری

    بلوچستان:

    آئی ایس پی ار کے مطابق پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے کوئٹہ، مسلم باغ، چمن، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، لہری، نصیر آباد، بیلہ، اُٹھل اور جعفر آباد کے علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے جو کہ خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے کوئٹہ، مسلم باغ، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، دوبندی، لہری، سدوری، لکڑہ ضلع لسبیلہ میں فری میڈیکل کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔

    پنجاب:
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ غازی خان، روجھان اور لیہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے گئے جہاں پاک فج کے جوانوں نے پھنسے ہوئے خاندانوں کو خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ ضلع راجن پور میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اور بچاؤ کی کوششیں کی گئیں جن میں ہرڑ تحصیل جام پور، نور پور ماجھو والا تہہ جام پور، موضع کان والا تہہ جام پور، ماڑی جام پور، دربار سخی بور جام پور، بمبلی جام پور، بستی نوخمی جام پور، ڈیرہ شامل ہیں۔ روجھان، ڈیرہ جیون تحصیل روجھان، چک مٹ نمبر 2 تحصیل روجھان شامل ہیں-

    سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا

    سندھ:

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے ضلع خیرپور، ضلع لاڑکانہ، ضلع نوشہرو فیروز، ضلع شکارپور، ضلع قمبر شداد کوٹ، ضلع جیکب آباد، ضلع کشمور، ضلع بدین، ضلع میر پور خاص، ضلع سانگھہ، ضلع مٹیاری، ضلع عمرکوٹ، میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔ ضلع حیدرآباد، ضلع ٹنڈو محمد خان، ضلع ٹھٹھہ، ضلع جامشورو، ضلع بدین، ضلع سجاول، ضلع دادو۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں 4x میڈیکل کیمپ لگائے گئے۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں 1700 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    خیبرختونخوا:

    آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 150 افراد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اٹک اور ایبٹ آباد میں فوج کی فارورڈ تعیناتی کی گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 4x فیلڈ میڈیکل کیمپ لگائے گئے جہاں 715x مریضوں کا علاج کیا گیا۔ چارسدہ میں سیلاب متاثرین کے لیے 7x ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جبکہ نوشہرہ اضلاع کی ہر تحصیل میں 3x ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔ سول انتظامیہ کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

    سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا

  • بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان:بولان میں مکان کی چھت گرنےسے5 افراد جاںبحق،سندھ میں بھی متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں بولان کے قریب مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق مچ میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 4 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں مکان کی چھت بارش کے باعث خستہ حال ہوگئی تھی جس کے وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا جس میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    عالمی رہنماوں کا شہباز شریف کو ٹیلیفون، تعاون کی یقین دہانی

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں مزید 9 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کے بعد اموات کی تعداد 247 تک پہنچ گئی ہےصوبے بھر میں مجموعی طور پر 61 ہزار 488 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 1000 کلو میٹرز پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی حالیہ بارشوں اورسیلاب سے شدید متاثر ہوئیں ہیں۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

    صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب سے خیبر پختونخوا کے 13اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ سیلاب سے متاثر ہوکر ایک لاکھ 80 ہزار افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    سیلابی پانی اورسڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کےباعث درجنوں سیاح کالام میں پھنسےہوئے ہیں، کمراٹ میں سو سے زائد سیاح پھنس گئے ہیں لوئر دیر، شبقدر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر مقامات پر متاثرین تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب دریائے سوات میں سیلابی پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع کردیا گیا ہے، حکام کے مطابق بجلی کی مکمل بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

    ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    سوات میں سیلابی صورتحال کے بعد کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں اور راستے دریا برد ہوگئے ہیں، سیلابی پانی سے بحرین اور کالام کے درمیان بھی زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس کے باعث متعدد سیاح پھنس گئے ہیں مٹہ کا بائی پاس روڈ بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہےحالیہ سیلاب میں وادی سوات میں 15 رابطہ پلوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان ہوا ہے۔

    ادھر سندھ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، سجاول کے ساحلی علاقے چُوہڑ جمالی کے زیرآب آنیوالے متعدد دیہاتوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی، متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    ٹنڈو آدم میں سیلابی ریلے سے کئی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مٹیاری میں سیلابی صورتحال کے بعد 200 سے زائد دیہات ڈوب گئے، نیو سعیدآباد سے نواب شاہ جانے والا مہران نیشنل ہائی وے بھی زیر آب آگیا۔

    عرب امارات کےصدرمحمد بن زید النہیان نے پاکستان کےسیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان…

    حیدرآباد میں لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت کئی علاقوں میں برساتی پانی نہیں نکالا جاسکا، ٹنڈوالہیار میں متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    میرپورخاص کے بیشتر رہائشی علاقوں سے بارش کا پانی نہیں نکالا جاسکا، شہر کے دو حصوں کو ملانے والا ریلوے انڈر پاس ٹریفک کیلئے تاحال کھولا نہیں جا سکا ہے۔

    جیکب آباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں سیلاب متاثرین سڑک کنارے حکومتی امداد کے منتظر ہیں، پاک فوج کے جوان متاثرین کی مدد کرنے پہنچ گئے ہیں دادو کی تحصیل میہڑ میں بھی سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    خیال رہے کہ سکھر بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، آبپاشی حکام کے مطابق یہ صورتحال مزید ایک ہفتے تک رہنے کا امکان ہے۔

    اسلامی تنظیمیں اور عالمی برادری پاکستان کی فوری مدد کریں ،او آئی سی