Baaghi TV

Tag: سندھ

  • کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کراچی: سندھ کے قائم مقام گورنر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے 1292 ویں عرس کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں قائم مقام اسپیکر سندھ آغا سراج درانی نے کہا کہ کسی کو لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ سندھ کا امن مقدم ہے اسے قائم رکھا جائے گا۔صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ادارے کام کررہے ہیں۔

    قائم مقام گورنر نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ پُر امن ہوا دوسرا بھی امن سے مکمل ہوگا۔ جو بھی غیرقانونی طورپر رہائش پذیر ہے اسے واپس اپنےملک بھیجا جائے گا۔ صوبے میں امن قائم رہے اورلوگ خوشحال زندگی گزاریں اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔

    عبد اللہ شاہ غازی کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبد اللہ شاہ غازی کا مزار انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے بیسویں صدی کے اوائل تک یہ مزار، ایک ریتلے پہاڑی کے ٹیلے پر ایک چھوٹی سی کٹیا کی شکل میں واقع تھا۔ مزار کی تعمیر اور توسیع، مزار کے اس وقت کے متولی اور سیہون شریف سے تعلق رکھنے والے قلندری سلسلے کے صوفی بزرگ سید نادر علی شاہ نے کی۔

    مزار کی مشہور عمارت، اس کی سیڑھیاں، جامع مسجد، لنگر خانہ، قوالی ہال اور مہمان خانہ انہی کی زیر نگرانی تعمیر کیے گئے مزار کا سبز اور سفید دھاری دار گنبد کراچی کی شناخت بنا یہ مزار ہر فرقے ، نسل اور معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لنگر کا دو وقت مفت کھانا اور قوالی، مزار کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ قرار پائیں۔ عرصہ دراز تک درگاہ کے انتظامات مرشد نادر علی شاہ کے زیر نگرانی چلتے رہے سنہ 1962 میں محکمہ اوقاف نے مزار کا انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ سنہ 2011 میں، اس مزار کو ایک پاکستانی تعمیراتی کمپنی، بحریہ ٹاؤن کے حوالے کیا گیا، جس نے مزار کے بیرونی حصے کی از سر نو تعمیر کی اس پر کراچی کے رہائشیوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

    عبد اللہ شاہ غازی امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حسن مثنی کے پوتے امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ابومحمد عبد اللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنی بن امام حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔ حضرت حسن مثنی کی شادی فاطمہ کبری بنت امام حسین ابن علی سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

    گوگل پر جاری تفصیلات کے مطابق سنہ 720ء میں مدینہ میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھےابن خلدون کے بقول خلیفہ ابو جعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔

    محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نوازا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کا تعاقب کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھرگئے ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہےطبری نے یہ واقعات 768ء (151 ہجری) میں نقل کیے ہیں-

  • 20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی

    20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی

    لاہور: محکمہ موسمیات نے 20 سے 26 جولائی تک ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق کل سےمون سون ہوائیں شدت کیساتھ بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی۔ راولپنڈی ، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ ، مردان ، فیصل آباد اور لاہور میں 20 سے 23 جولائی تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 24 سے 26 جولائی کے دوران کراچی، جامشورو، میرپورخاص، لاڑکانہ ، سکھر اوربینظیر آباد میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث پنجاب اورسندھ کے نشیبی علاقے زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلا دھار بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نےآئندہ 2 روز کے دوران کراچی میں ہلکی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کےمطابق مغربی بحیرہ عرب میں موجود ہوا کا کم دباؤ عمان کی جانب بڑھ گیا ہے دادو اور قمبر شہداد کوٹ میں گرج چمک کے ساتھ آج بارش ہوسکتی ہے جب کہ ساحلی شہروں میں بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔

    یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

    محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر حصوں میں آئندہ 3 سے 4 دن موسم خشک رہے گا جب کہ آئندہ 2 روز کے دوران کراچی میں موسم ابر آلود، ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے کراچی میں درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا اور سمندی ہوائیں بھی بحال رہے گی۔

    قبل ازیں چیف میٹرولوجسٹ سردارسرفراز نے کہا تھا کہ 22جولائی کو ایک اورمون سون سلسلہ بھارت راجستھان کے راستے سندھ میں داخل ہوکربالائی سندھ پراثراندازہوسکتا ہےمون سون مکمل طورپرفعال ہے،24جولائی کو کراچی سمیت زیریں سندھ کے کچھ اضلاع میں اس کے اثرات بارش کی شکل میں نمودارہوسکتے ہیں،اس حوالے سے مذید بہترپیش گوئی آنے والے دنوں میں ممکن ہوگی۔

    سری لنکا کے قائم مقام صدر نے ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی

    شہر میں گزشتہ دوروز کے دوران سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 68ملی میٹرریکارڈ ہوئی،ابرآلودموسم کی وجہ سے شہرکےدرجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جناح ٹرمینل پر3.4 ملی میٹر،اولڈ ائیرپورٹ 2.6ملی میٹر،مسرور بیس میں 1.5 ملی میٹر،گلشن حدید اورقائدآباد میں 1ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی۔

    بارش کا سسٹم کراچی کے جنوب مغرب میں شمالی بحیرہ عرب کے وسطی حصوں میں ہے،سسٹم کے مرکزمیں زیادہ سے زیادہ ہوا 40-50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے،سسٹم مغرب کی طرف عمان کے ساحل کی جانب بڑھےگا۔

    بلوچستان کے مختلف اضلاع لسبیلہ، اتھل، سونمیانی، اورماڑہ، پسنی، گوادر، جیوانی،تربت، آواران اور کیچ میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،تیز بارشوں کے سبب پسنی، گوادر، جیوانی، تربت، آواران اور کیچ کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے پر سیلاب آسکتا ہے۔

    گھا نا میں جان لیوا ماربرگ وائرس کے اولین کیسز کی تصدیق

  • سہراب گوٹھ پر مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی، پولیس و رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کر دیا

    سہراب گوٹھ پر مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی، پولیس و رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کر دیا

    سہراب گوٹھ: اندرون سندھ کے واقعہ کے تناظر میں سہراب گوٹھ کے اطراف مشتعل افراد نے گلزار ہجری کے قریب موٹر وے پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث موٹر وے ایم نائن ٹریفک کے لیے معطل ہو گیا۔پولیس اور رینجرز نے ایکشن لیتے ہوئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر کردیا اور موٹر وے ایم نائن کو ٹریفک کیلئے بحال کر دیا گیا۔

    اس سے قبل مشتعل افراد نے ٹریفک پر پتھراؤ کیا، ہنگامہ آرائی کے بعد ٹریفک بند کیا گیا۔اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ سہراب گوٹھ سے موٹروے جانے اور آنے والے ٹریفک کو متبادل راستوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

     

    سہراب گوٹھ پر مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی، پولیس و رینجرز نے مظاہرین کو منتشر کر دیا
    موٹروے پولیس نے جمالی پل کے قریب سے مرکزی شاہراہ بند کر دی۔ حیدرآباد سے کراچی آنے والے ٹریفک کو متبادل راستوں پر بھیجا جا رہا ہے۔ ملیر اور کراچی ایسٹ کی پولیس کی بھاری نفری سہراب گوٹھ پر طلب کر لی گئی ہے۔ جبکہ مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کو اینٹی رائٹس سامان کے ساتھ سہراب گوٹھ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    الآصف چورنگی بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کو گلبرگ سے شفیق موڑ بھیجا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ناگن چورنگی اور براک پٹرول پمپ سے یوٹرن لے کر گاڑیاں واپس بھیجی جا رہی ہیں۔ ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ کی وجہ سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

  • چینی کمپنی کا سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ پلانٹ لگانے کا اعلان

    چینی کمپنی کا سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ پلانٹ لگانے کا اعلان

    کراچی: چینی کمپنی یوٹونگ بسز چائنہ نے سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ پلانٹ لگانے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق سندھ حکومت کے مطابق یہ اہم پیشرفت وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن سے یوٹونگ بسز چائنہ کے کنٹری منیجر Paul Zhang کی ملاقات میں ہوئی۔

    لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوتے ہی بجلی غائب

    اس ملاقات میں سروس ہیڈ یوٹونگ Wayner Wang بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ افسران میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ عبدالحلیم شیخ، ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کیپٹن (ر) الطاف حسین ساریو اور این آر ٹی سی پروجیکٹ ڈائریکٹر صہیب شفیق بھی موجود تھے۔

    ملاقات کے دوران آئندہ ہفتے تک اس ضمن میں ٹھوس پروپوزل تیار کرنے پر اتفاق ہوا اور طے پایا کہ پلانٹ 15 سے 18 ایکڑ اراضی پر لگایا جائے گا۔

    شرجیل میمن نے کہا ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی بھرپور کوشش ہے کہ سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا پلانٹ لگایا جائے، پلانٹ لگنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری آئے گی، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    پیٹرول آج سستا ہوجائے گا وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا دعوی

    دوسری جانب چینی کار ساز کمپنی، گاس آٹو گروپ نے کراچی سپیشل اکنامک زون میں الیکٹرک گاڑیوں کے پروڈکشن پلانٹ کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق یہ پلانٹ پورٹ قاسم، کراچی کے قریب تقریبا 1,000 ایکڑ اراضی پر اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے لگایا جائے گا۔

    ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بجلی کی طرف منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔الیکٹرک گاڑیاں جدید دنیا کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستان کے ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر میں الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت ایک مکمل طور پر نئی صنعت کھول سکتی ہے اور بہت سی ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے۔ پیٹرول کی ریکارڈ بلند قیمت برقی گاڑیوں کیلئےصارفین کی مانگ کو متحرک کرے گی۔ اس میں معیشت کو متحرک کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔

    کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

  • عدالت نے اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    عدالت نے اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن کو زیر التوا انکوائریوں میں حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اینٹی کرپشن انکوائریز اور حراساں کرنے سے متعلق حلیم عادل شیخ کی درخواست کی سماعت کی، پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ رات کے اندھیرے میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں، کتنی انکوائریاں زیر التوا ہیں، سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ مجھے اینٹی کرپشن سے معلومات اکٹھی کرنے کی مہلت دیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیر التوا انکوائریز میں کارروائی سے روک دیتے ہیں سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ایسے تو حلیم عادل شیخ کو مکمل استثنیٰ حاصل ہو جائے گا-

    عدالت نے حلیم عادل کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کیخلاف کتنی انکوائریاں ہیں؟ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کیخلاف 2 انکوائریز زیر التوا ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ بتائیں، یہ انکوائریاں کب سے زیر التوا ہیں؟

    وکیل نے موقف دیا کہ یہ انکوائریاں 2019 سے زیر التوا ہیں-

    جس پر عدالت نے ریمارکس دیئےکہ 3 اگست تک حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی نہ کی جائےاور یہ فیصلہ صرف زیر التوا انکوائریز پر لاگو ہوگا جبکہ دیگر کیسز میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    عدالت نے 3 اگست تک اینٹی کریشن حکام دسےجواب طلب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کیخلاف انکوائریز کی تفصیلات طلب کرلیں اور عدالت نے زیر التوا انکوائریز میں اینٹی کرپشن کو حلیم عادل شیخ کیخلاف کارروائی سے روک دیا۔

  • سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد:پاکستان کے صوبے سندھ اور بلوچستان میں جولائی کے مہینے میں مون سون کی بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    وزارت موسمياتى تبدیلی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش سندھ میں ہوئی جو معمول سے 61 ملی میٹر زیادہ تھی، جب کہ بلوچستان میں 39 ملی میٹر زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں 10.5 ملی میٹر، اور بلوچستان میں 6.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر میں معمول سے تقریباً 10 ملی میٹر زیادہ بارشیں ہوئیں۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں معمول سے کم بارشیں ریکارڈ ہوئیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ملک میں معمول سے 28 ملی میٹر زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آج بروز ہفتہ 9 جولائی سے 12 جولائی کے دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔

    میٹ آفس کے مطابق آج اور کل اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور کے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جب کہ گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال، فیصل آباد اور لاہور ڈویژن میں بارش متوقع ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، مسافر اور سیاح محتاط رہیں، دریاؤں اور نہروں میں نہانے اور نشیبی علاقوں میں گاڑیاں کھڑی کرنے سے گریز کریں۔

     

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ آج خضدار، قلات، چمن، دالبندین، مسلم باغ، لسبیلہ، پنجگور، آواران، خاران، ژوب، بارکھان میں بھی بارش کا امکان ہے۔دوسری جانب بدین کے مختلف دیہی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے شہر حب میں ریلے میں پھنسنے والی خواتین اور بچوں سمیت 29 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، نورانی کراس پر ریلے گزرنے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی ہے۔

    شہر قائد میں تیز بارش کے باعث بدھ سے اب تک مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق گارڈن شو مارکیٹ میں کرنٹ لگنے سے 20 سالہ رحمان نوجوان کی ہلاکت ہوئی جبکہ منگھوپیر میں کرنٹ لگنے 23 سالہ رقیب جاں بحق ہوگیا۔

    لانڈھی مانسہرہ کالونی میں گھر میں کرنٹ لگنے سے 38 سالہ خاتون جاں بحق جبکہ کورنگی مہران ٹاؤن میں کام کے دوران 25 سالہ عبدالخالق جاں بحق ہوا۔

    اس کے علاوہ نارتھ کراچی ارسلان ہومز میں ایک گھر کے اندر کرنٹ لگنے سے ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا جس کی شناخت 13 سالہ مذمل ولد مظفر کے نام سے ہوئی ہے۔

    کورنگی میں 100 کواٹرز کے قریب گھر کے اندر پانی کی موٹر سے کرنٹ لگنے سے بزرگ شہری جان بحق ہوگیا جبکہ محمد علی سوسائٹی میں پی ایس او پمپ کے قریب بجلی کا کرنٹ لگنے سے 15 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔

    ادھربلوچستان میں اب تک بارش سے 60 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ پی ڈی ایم اے نے مزید بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارش کا اسپیل 10 جولائی کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ عوام حکومتی سرگرمیوں سے نالاں ہیں۔

    کرونا وائرس: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7 مریض انتقال کرگئے

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے اب تک 60 سے زائد افراد جاں بحق، 78 افراد زخمی، 676مکانات اور 5 برج تباہ ہوئے۔بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 400 سولر پلیٹس، الیکٹرک پول اور زرعی اراضی کو نقصان ہوا جبکہ برساتی نالوں، کاریزات اور آبی گزرگاہوں پر آباد کاری نقصان کی بڑی وجہ ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے مطمئن نہیں، اقدامات کے حوالے سے صرف بلند وبانگ اعلانات ہی ہورہے ہیں۔

    کراچی میں 24گھنٹوں میں کہاں کتنےبادل برسے؟تازہ ترین اعدادوشمارجاری

    دوسری جانب شمالی بلوچستان میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوژک ٹاپ اور شیلا باغ میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی اور چمن کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    کشمور،گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ

    توبہ اچکزئی میں سیلابی ریلے تین ڈیم بہا لے گئے جبکہ قلعہ عبداللّٰہ کے چار چھوٹے ڈیمز میں بھی شگاف پڑگئے جس کے باعث پانی مکانوں میں داخل ہوگیا اور فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • سستی بجلی کی جانب بڑا قدم:نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کا مسودہ تیار

    سستی بجلی کی جانب بڑا قدم:نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کا مسودہ تیار

    کراچی: صوبہ سندھ کے شہریوں کے لیے سستی بجلی کی جانب بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، سندھ حکومت نے نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کا قانونی مسودہ تیار کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے نیپرا کے مقابلے میں سیپرا کے قیام کی تیاری کے سلسلے میں سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا۔

    مجوزہ قانون کے مطابق سندھ میں سیپرا بجلی کے ٹیرف کا تعین کرے گی، پاور جنریشن اور لائسنسنگ کو ریگولیٹ کرے گی، اور صوبے میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مانیٹرنگ کرے گی۔

    سندھ کابینہ کے 5 جولائی کے اجلاس میں اتھارٹی کے قیام پر غور اور فیصلہ ہوگا، بتایا جا رہا ہے کہ اس کے بعد سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس مسودے کی منظوری دے کر اسے قانونی صورت دی جائے گی۔

    خیال رہے کہ وفاق میں پہلے ہی اس حوالے سے ایک اتھارٹی موجود ہے، تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بجلی کی تقسیم اور اس کا ٹیرف مقرر کرے۔اس وقت تھر کوئلہ اور ونڈ سے پیدا ہونے والی بجلی سندھ حکومت کی اپنی ہے، لہٰذا صوبائی حکومت اس سلسلے میں سندھ کے شہریوں کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔

  • کل سے سندھ اور بلوچستان میں  بارشوں کی پیشگوئی

    کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے کل سے سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیا ت نے سندھ اور بلوچستان میں آئندہ 3 دن کے دوران موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے پی ڈی ایم اے نے اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے مون سون ہوائیں آج سے شدت کے ساتھ جنوب مشرقی سندھ اوربلوچستان میں داخل ہوں گی-

    ملک میں مون سون بارشوں کا آغاز،اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات کے مطابق یہ مون سون کے اس مرحلے میں بارشیں برسانےوالا سسٹم مضبوط ہوگا اور شدید بارشوں کا امکان ہے جس میں جمعہ سے 2 جولائی سے 5 جولائی تک تھر پارکر، بدین، عمرکوٹ میں بادل برسیں گے سندھ اور بلوچستان میں موسلادھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطرہ ہے

    کراچی میں 2جولائی سے 5 جولائی تک بارش ہوگی۔ کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص ،عمرکوٹ اور دادو میں اربن فلڈنگ کاخدشہ ہے –

    ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی گئی ہےپی ڈی ایم اے نے بلوچستان کے تیرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے سے متعلق مراسلےجاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہےکہ بارشوں سےندی نالوں میں طغیانی آنےکا خطرہ ہے مشرقی پنجاب ،کشمیر اورخیبر پختونخوا میں مون سون کا آغاز ہو گیا ہے-

    سینیئر صحافی ایاز امیر پر حملے کا مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درج

  • حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں اپیل کردی

    کراچی :حلقہ بندیاں اور انتخابی اصلاحات: ایم کیو ایم کی سپریم کورٹ میں اپیل،اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتےہوئے استدعا کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے

    ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے 24 جون کو حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کے لئے ایم کیوایم کی درخواست مسترد کردی تھی۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان نے سپریم کورٹ میں باقاعدہ اپیل دائر کردی ہے۔

    ایم کیوایم کےکنوینر خالد مقبول و دیگر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سرکاری مشينری استعمال ہوئی، بیلٹ بکس چھین کر نامعلوم مقام پر لے جاکر جعلی ووٹ ڈالےگئے، دھاندلی میں انتظامیہ،پولیس اور الیکشن کمیشن کاعملہ بھی ملوث تھا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ میں انتخابی اصلاحات کے بغیر شفاف الیکشن ممکن نہیں، اس لئے بلدیاتی انتخابات کے دوسرےمرحلے کے انعقاد پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سندھ میں بلدیاتی انتخابات مں پیپلز پارٹی نے سندھ میں چار ڈویژنز کے 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔

    شہری علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں میں اب تک کل 354 میں سے 309 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے ہیں جن میں پیپلز پارٹی 244 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے بعد جی ڈی اے 22، آزاد امیدوار 20، پاکستان تحریک انصاف 14 ، جے یو آئی ف 7 جب کہ دیگر جماعتوں نے 2 نشستیں جیتیں۔