Baaghi TV

Tag: سندھ

  • سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری

    کراچی :سندھ:ایک بار پھر کورونا کی پابندیاں نافذ: شادیوں میں کھانا کس طرح کھلایا جائے،ہدایات جاری ،اطلاعات کے مطابق سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر عوامی مقامات پرماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور بالخصوص کراچی میں کورونا کی بڑھتی ہوئی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں صوبے بھر میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ عوامی مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت تمام شادی ہالز، مارکیٹس اور عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی ہوگا، اس کے علاوہ شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبوں میں فراہم کیا جائے گا۔

    مارکیٹس میں ویکسین شدہ افراد کے داخلے کی اجازت ہوگی اور انتظامیہ کو ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کرانا لازمی ہوگا۔

    حکومت نے ویکسی نیشن مہم پورے صوبے میں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔اس کے علاوہ ریسٹورینٹس پر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جو ریسٹورینٹس ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں اضافہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے کا نتیجہ ہے، عوام تعاون کریں گے تو اس جاری کورونا لہر پر بھی کنٹرول ہوجائے گا۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ دنوں بعد دوبارہ ٹاسک فورس اجلاس ہوگا جس میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

  • ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم

    ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم

    کراچی :ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم،اطلاعات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پولیس کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز جاکر لاپتا افراد کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کردی

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    درخواستگزاروں کے وکلا نے موقف دیا کہ شہری وقار رحمان، شمشاد علی اور دیگر کو 6 سال پہلے رینجرز نے حراست میں لیا۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے لاپتا افراد کے اہلخانہ الزام لگا رہے ہیں رینجرز والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے خط لکھے ہیں مزید بھی لکھیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے خط نہیں لکھنا خود جاکر رینجرز والوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈریں مت جائیں اور جاکر پوچھیں آخر کار کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز والے شہریوں کو نہیں لے کر گئے تو پھر کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز کی ودری میں کوئی اور لے گیا ہے تو یہ اور بھی خطرناک صورتحال ہے۔ تعزیرات پاکستان اجازت دیتا ہے پولیس کہیں جاکر کسی سے بھی تحقیقات کرسکتی ہے۔

    رینجرز پراسیکیوٹر حبیب احمد نے موقف دیا کہ رینجرز نے تحریری جواب جمع کرادیا ہے کسی کو حراست میں نہیں لیا۔

    عدالت نے کہا چیک کرنے میں کیا ہے تفتیشی افسر جائیں اور رینجرز ہیڈ کوارٹرز چیک کریں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسران کے رینجرز ہیڈکوارٹر جانے سے بڑا فرق پڑے گا۔ جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ ہم 15 دن کا وقت دے رہے ہیں ہر طرح سے تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔عدالت نے دیگر اداروں سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

  • وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے

    وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صحافیوں کے وفد سے غیر رسمی گفتگو کی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا بس چلے توسانحہ مری کی ذمہ داری سندھ پر ڈال دے ،حکومت مری سانحے کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ،حکومت کبھی کہتی ہے مری میں جو ہوا وہ طوفان کی وجہ سے تھا ،کچھ وزرانےکہا کہ لوگ مری گئے کیوں؟ ان کا بس چلے تو یہ سانحہ مری کی ذمہ داری بھی ہم پر ڈال دیتے،ان کا کام ہی یہی ہے کہ یہ سارے مسائل کا ملبہ ہم پرڈالیں،میں مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتا،وفاق کے ساتھ بعض ملاقاتوں میں شدید گرما گرمی ہوئی،وفاق کے فیصلے درست ہیں میں انکو سپورٹ کرتا ہوں

    قبل ازیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ اجلاس سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ،اپوزیشن جماعتیں اجلاس میں اپنےارکان کی حاضری یقینی بنائیں گی،مری کا معاملہ بہت بڑاسانحہ ہے ،قومی اسمبلی میں سانحہ مری پرآواز بلندکی جائے گی،آج قیادت بیٹھ کر لائحہ عمل طے کرے گی،

    قبل ازیں قومی اسمبلی‌ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاوَس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ مری پرپوری قوم افسردہ اور غم میں مبتلا ہے ،اس سے بڑھ کر انتظامیہ کی غفلت کیا ہو سکتی ہے،یہ حادثہ نہیں مجرمانہ غفلت ہے،اس سانحے کا پورا احتساب ہونا چاہیے،

    مری سانحہ، غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟ مبشر لقمان برس پڑے

    مری میں ہونے والی برفباری میں اسلام آباد پولیس کا اہلکار اہلخانہ سمیت جاں بحق ہو گیا

    ایک طرف انسانیت، دوسری طرف بربریت،مسلم امہ کا امتحان ہے، وزیر خارجہ

    آن لائن کلاسز .اب امتحان بھی آن لائن ہی لیں، طلبا سڑکوں پر آ گئے

    طلبا خبردار، پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا شیڈول تیار

    امتحانات کے معاملے پر سستی سیاست بند کی جائے، شفقت محمود

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

    ٹرمپ میرے خواب میں آئے ،بھارتی شہری نے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل ایسا کام کیا کہ سب حیران

    متنازعہ شہریت بل پر امریکا میدان میں آ گیا،ٹرمپ کریں گے مودی سے کشمیر، شہریت بل پر بات

    ٹرمپ کا کریں گے بھارتی فنکار استقبال،28 سٹیج تیار، طلبا کیا کریں گے؟ ڈیوٹی لگا دی گئی

    بھارت میں کھڑے ہوکر ٹرمپ نے پاکستان بارے ایسا کیا کہہ دیا کہ مودی کو پسینے چھوٹ گئے

    ٹرمپ کو ویلکم کرتے وقت مودی نے ایسے نام سے پکارا کہ ٹرمپ منہ دیکھتے رہ گئے، دیا کھرا جواب

    مری، اموات میں اضافہ، جاں بحق افراد کی فہرست جاری

    مری واقعہ،ن لیگ کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ

    مری سانحہ،مذہبی جماعتیں ریسکیو ،رفاہی کام میں متحرک، ووٹ لینے والی جماعتیں غائب

    مری سانحہ،سیاحوں کے لیے داخلہ تاحال بند

    مری میں اموات زیادہ ہوئیں جوقوم سے چھپائی جارہی ہیں،حمزہ شہباز

  • پی ٹی آئی ارکان اسمبلی  پی پی سے کیا بدلہ لینا چاہتے ہیں کہ بے تاب ہیں‌:سیدہ اقربا فاطمہ

    پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پی پی سے کیا بدلہ لینا چاہتے ہیں کہ بے تاب ہیں‌:سیدہ اقربا فاطمہ

    کراچی : :پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پی پی سے کیا بدلہ لینا چاہتے ہیں کہ بے تاب ہیں‌اطلاعات کے مطابق ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پیپلزیوھ آرگنائزیشن سندھ سیدہ اقربا فاطمہ نے کہا ہے کہ انہیں یہ سُن کربہت دکھ ہورہاہے کہ پی ٹی آئی خواتین ارکان اسمبلی کی طرف سے کچھ ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ پی پی کے ساتھ کچھ اچھے رویے کی خواہاں نہیں‌ ہیں

    اس حوالے سے انہوں نے اپنے ٹویٹر پیج سے کچھ چیزیں بھی شیئر کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات نہیں‌ کہ کسی سے انتقام لینے کا تصور کسی انسان کو تنگ کرے ،ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پی پی سے کیا بدلہ لینا چاہتے ہیں کہ بے تاب ہیں‌

     

     

    سیدہ اقربا فاطمہ کہتی ہیں‌ کہ منافق، مسخرہ، ناقص، سستا۔ پی ٹی آئی کے نام نہاد ایم پی اے سندھ اسمبلی میں لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسے جاہلوں کو اس ایوان کی عزت کا بھی پتہ نہیں۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    سیدہ اقربا فاطمہ نے واٹس ایپ پر چلنے والے کچھ ایسے تاثرات کا حوالہ بھی دیاہے جس سے صاف نظرآتا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اپنی خاتون رکن ممبر اسمبلی کو پڑھنے والے تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتے ہیں

    یاد رہے کہ چند دن پہلے قومی اسمبلی میں احتجاج کے دوران تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی غزالہ سیفی اور پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس میں پی پی ممبر آف پارلیمنٹ نے حکومتی رکن کو تھپڑ مار دیا۔

    اس حولے سے غزالہ سیفی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی انگلی مروڑی گئی جس سے نگلی فریکچر ہو گئی ہے تھپڑ بھی مارا ہے۔ جب کہ شگفتہ جمانی نے کہا کہ پہل غزالہ سیفی نے کی تھی میں سینئر ہوں اگر کوئی مجھے ہاتھ لگائے گا تو جواب تو دینا پڑے گا۔ لامحالہ میرا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔

    سیکرٹریٹ پولیس نے غزالہ سیفی کا پولی کلینک اسپتال سے طبی معائنہ کرایا، انہیں میڈیکولیگل رپورٹ تو نہ مل سکی تاہم میڈیکولیگل افسر نے اپنی رائے دے دی، سیکرٹریٹ پولیس نے معاملہ تھانہ ویمن پولیس کو بھیج دیا۔

     

     

    ایس ایچ او ویمن پولیس اسٹیشن مصباح شہباز نے بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے لیے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے ، پراسیس مکمل ہونے پر اعلیٰ حکام سے ہدایت کی روشنی میں مقدمے کے اندراج کے بعد ترجمان پولیس کے ذریعے ایف آئی آر جاری کریں گے۔

    معاملے پر شگفتہ جمانی نے میڈیا کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی سفارشوں پر آنے والی چند خواتین کو پارلیمنٹ اور قانون کا کوئی پتہ نہیں، ایسی خواتین صرف فیشن کےلیے آئی ہیں۔ اس نے آکر میرا پوسٹر پھاڑا، میں نے استفسار کیا کہ کیا یہ بد تمیزی نہیں؟ اس نے میری انگلی مروڑی، میں نے اسے ہٹایا لیکن اس نے پھر حملہ کیا، پھر میرا بھی ہاتھ اٹھ گیا۔

    سید اقربا فاطمہ شاید اسی طرف اشارہ کررہی ہیں جس میں قومی اسمبلی میں پی پی کی خاتون رکن اسمبلی نے پی ٹی آئی خاتون رکن اسمبلی کو تھپڑ دے مارا تھا ، اور اب امکان اس چیز کا کہ ہے کہ پی ٹی آئی خواتین وہ بدلہ سندھ اسمبلی میں پی پی ممبران اسمبلی سے لینا چاہتی ہیں‌

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آج پٹیشن دائر کی ہے، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو چیلنج کیا ہے،

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے،مراد علی شاہ کہتے ہیں اکثریت کی موجودگی نے فیصلہ کیا ہے، 2013 سے جو بچ گیا تھا وہ بھی پیپلز پارٹی نے ہڑپ کرلیا ہے،پیپلز پارٹی وفاق سے کہتی ہے ہمیں این ایف سی سے فنڈ دیا جائے،بلدیاتی اداروں کا ہے شہر کی تمام ضروریات پوری کریں،

    قبل ازیں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ارسطو کہہ رہا ہے کہ سندھ کا بلدیاتی قانون ملک کے لیے خطرہ ہے،ماہرین معیشت کہتے رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملک دشمنی ہے فردوس شمیم نقوی نے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا،فردوس شمیم نقوی استعفٰی دیں اور لوگوں کے درمیان بیٹھیں ،اس وقت پاکستان کی تاریخ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی آٹا،چینی،اور دیگر اشیا تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگی ہوئی ہیں پنجاب میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فارغ کیا گیا،متنازعہ مردم شماری کو پی ٹی آئی نے منظورکیا،پی ٹی آئی میں نالائقوں کی بھرمارہے نالائق حکومت کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات بڑھی ہیں،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنی نااہلی ماننے کوتیارنہیں ،خیبر پختونخوا میں ان کے ساتھ جو ہوا اس پر انہیں شرمندہ ہونا چاہیے پی ٹی آئی کا سندھ میں صفایا ہو چکا ہے یہ کہتے ہیں پی ٹی آئی سندھ میں حکومت بنائے گی ،جماعت اسلامی کے احتجاج میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے پی ٹی آئی کے لوگوں سے کہتا ہوں عوام میں بیٹھیں تاکہ آپ کو پتہ چلے ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوں تو ان کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہوں ،مہنگائی کے خلاف ایم کیو ایم اور جی ڈی اے احتجاج نہیں کرتی،

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

  • پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے

    پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے

    کراچی:پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کواپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنے لگی:حلیم عادل شیخ بھی بول اٹھے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو دھمکی آمیز ویڈیو موصول ہوئی ہے جس پر انہوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم میں درخواست جمع کروادی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے موصول ہونے والی دھمکی پر کہا ہے کہ گزشتہ تین چار روز سے ایک نمبر سے دھمکی آمیز کالز اور اسلحے کی تصاویر موصول ہورہی ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ مجھ پر حملہ ہوسکتا ہے جس پر میں نے ایف آئی اے کو درخواست بھی جمع کرائی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کل رات سے ایک اور ویڈیو مختلف گروپس میں وائرل ہورہی ہے، ویڈیو میں دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سندھ پولیس مجھ سے ناراض ہوگئی ہے، میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے بے گناہوں کی آواز بنتا ہوں، میری کوئی پولیس سے دشمنی نہیں ہے، اگر کسی پولیس والے کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے تو میں اس کے ساتھ بھی کھڑا ہوتا ہوں۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے سُکھن تھانے کے پولیس اہلکار نعمان شاہ اور اوباوڑو میں ہیڈ کانسٹیبل سلطان رند کو مارا گیا میں ان کے گھر گیا، شکارپور میں زخمی اور شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے گھر سب سے پہلے میں گیا تھا جب کہ سہراب گوٹھ میں ایس ایچ اور ٹیم نے ڈاکوؤں کو مارا میں نے تھانے جاکر انہیں شاباش اور انعام دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو پولیس کی نہیں اس کے پیچھے سازش ہے، ماحول پیدا کیا جارہا ہے کہ پولیس کی حلیم عادل شیخ سے دشمنی ہے اس کے ڈائریکٹر پروڈیوسر وزیراعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں، مراد علی شاہ اس کے اور اس کو کھوج کر نکالنے کے ذمے دار ہیں،پہلے کلاشنکوف آئی پھر سرکاری جی تھری آئی، میری اگر سیاسی مخالفت ہے تو وہ پی پی سے ہے جسے دشمنی بنادیا گیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اس پوری سازش کے پیچھے آصف زرداری، بلاول زرداری، مراد علی شاہ اور ان کے بہادر بچے ہیں، میں عمران خان کا سپاہی ہوں صرف اللہ کی ذات سے ڈرتا ہوں، ان ظالموں کے خلاف مظلوموں کی جنگ لڑتا رہوں گا۔

  • طاقتورشخصیت کی کھاد اسمگلنگ کی کوشش ناکام ،مگرسرکاری حکام ڈرکے مارے بھاگ گئے

    طاقتورشخصیت کی کھاد اسمگلنگ کی کوشش ناکام ،مگرسرکاری حکام ڈرکے مارے بھاگ گئے

    کراچی :پی پی رہنما کی کھاد اسمگلنگ کی کوشش کسانوں نے ناکام بنا دی ،مگرسرکاری حکام ڈرکے مارے بھاگ گئے ،اطلاعات کے مطابق رتوڈیرو میں ٹرالر الٹنے کا معاملہ، اسسٹنٹ کمشنر رتوڈیرو ، ایگریکلچر انتطامیہ اور پولیس نے یوریا کھاد سے بھرے ٹرالر پکڑلیے ، تاہم کھاد بااثر ممبر صوبائی اسمبلی سندھ کی ہے پتا چلنے پر اسسٹنٹ کمشنر رتوڈيرو اور ایگریکلچر انتظامیہ فرار ہوگئی۔ کسانوں نے پکڑے جانے والے کھاد کے ٹرالر سرکاری ریٹ پر مستحق کسانوں میں برابری کی بنیاد پر فروخت کرنے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق رتوڈیرو-نئوں ڈیرو روڈ پر گاؤں طیب کی مقام پر دھند کی باعث صبح کو یوریا کھاد سے بھری ہوئے ٹرالر الٹ گیا جس کی اطلاع ملنے پر اسسٹنٹ کمشنر رتوڈیرو اور ایگری کلچر انتظامیہ پہنچ گئے اور الٹ جانے والی یوریا کھاد اور ڈی ای پی سے بھرے ٹرالر اپنی تحویل میں لے لیا۔تاہم کسانوں نے ٹرالر کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر کےاحتجاج شروع کردیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کسانوں کا کہنا تھا کہ کھاد رتوڈیرو کی ایک ڈیلر کی ہے جسی بااثر شخصيت کی حمایت حاصل ہے اسسٹنٹ کمشنر رتوڈيرو اور ایگری کلچر انتظامیہ نے ڈیل کرنے کے بعد انہیں چہوڑ دیا ہے، ہماری فصلیں تباہ ہو رہی اور منافع خورمافیا یوریا کھاد کو اسٹاک کررہی ہے تاکہ بعد ڈیمانڈ بڑھنے پر مہنگے داموں فروخت کرسکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جس یوریا کی بوری کی سرکاری قیمت 1780 روپیہ مقرر ہے وہی یوریا کی فی بوری 32 سو تک مل رہی ہے جبکہ سراسر ناانصافی ہے ، لہٰذا پکڑی جانے والی یہ کھاد سرکاری داموں پر ہمیں دی جائے۔ایس ایچ او رتوڈیرو کا کہنا ہے کہ یوریا کھاد سے بھرے ٹرالر ایم پی اے میر نادر خان مگسی کی ہیں۔

    کسانوں کا موقف ہے کہ یوریا کھاد کے ٹرالر غیرقانونی طور پر منتقل کیے جارہے تھے جن کی کوئی "انوائس” بھی نہیں ہے، لہٰذا کھاد کو ضبط کرکے سرکاری نرخنوں پر فروخت کیا جائے اور رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔

  • سن لیں،پی ٹی آئی سندھ میں بھی ہارے گی، سعید غنی

    سن لیں،پی ٹی آئی سندھ میں بھی ہارے گی، سعید غنی

    سن لیں،پی ٹی آئی سندھ میں بھی ہارے گی، سعید غنی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم الیکشن ہار بھی جائے لیکن عوام کی خدمت جاری رہے گی ،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے ہمیں عوام کی خدمت کرنا سکھایا ہے ،ہم بینظیرمزدور کارڈ لا رہے ہیں جس میں تعلیم صحت کی سہولیات ہوں گی جے یوآئی نے خیبرپختونخوا میں اچھا الیکشن لڑا،لوگوں نے تحریک انصاف کو مسترد کردیا ہے ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات جلد ہونگے ،میئر پیپلزپارٹی کا ہوگا،پی ٹی آئی سندھ میں بھی ہارے گی ،پی ٹی آئی سندھ میں ہار سے خوف زدہ ہے،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ اتفاق ہے کہ کل ہی کے پی کے کی اسمبلی نے شوکت ترین کو سینیٹر مقرر کیا ہے شوکت ترین بطور شخصیت ایک اچھے انسان ہیں لیکن ان کی مثال یہی ہے کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اگلا قربانی کا بکرا وہ نہ بن جائیں جیسا کہ مہنگائی کا الزام لگا کر حفیظ شیخ اور بعد ازاں حماد اظہر کا بکرا بنا دیا گیا تھا۔ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ عوام باشعور ہے اور وہ اپنا ووٹ دے کر ثابت کرتے ہیں کہ وہ کس کی پالیسیوں اور کسی کی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں۔سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ ثابت ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے خوش ہیں اور کے پی کے کے عوام نے ان مافیاز کی حکومت کو مسترد کرکے ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کے ذمہ دار عمران نیازی اور اس کے مافیاز پر اب وہ زیادہ اعتماد نہیں کرسکتے

    قبل ازیں وزیر اطلاعات و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کی زیر صدارت پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، سنئیر نائب صدر راجہ رزاق محمد ساجد جوکیو رزاق، محمد یوسف بلوچ سلمان مراد بلوچ نے شرکت کی ،سعید غنی کا کہنا تھا کہ دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی شایان شان طریقے سے منائی جائے گی۔ اس دن پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کریں گے اور پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    زرداری نے کہا تھا پی ٹی آئی کا جنم خیبر پختونخوا سے ہوا،وہیں دفن ہو گی

    دوبارہ گنتی میں نتیجہ تبدیل،جے یو آئی کو ایک اور نشست مل گئی

  • کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    تھرپارکر :کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق پچھلے سالوں کی طرح ان دنوں پر سوشل میڈیا پر سندھ کی خوبصورت کارونجھر پہاڑیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے لیکن اس کا تذکرہ اس حسین پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔

     

    سندھ کی ان قیمتی پہاڑیون کو بچانے کےلیے پچھلی کئی دہائیوں سے آواز بلند ہوتی آرہی ہے ،پچھلے دو تین سال سے تو ہرآنے والے لمحہ اس قیمتی اثاثے کوچانے کے لیے آواز بن کرسامنے آرہا ہے ، 2019 میں بڑے زوروشور سے آوازیں بلند ہورہی تھیں‌کہ کانجھرو کی پہاڑیوں‌ کو کان کنی کے نام پر لوٹا جارہا ہے

    پھر یہی آواز 2020 کے آخری دنوں میں بلند ہوئی لیکن کسی نے کان تک نہیں دھرا اورپچھلے چند دنوں سے پھر کانجھروکی پہاڑیاں آواز دے رہی ہیں کہ مجھے بچا لیں‌ ورنہ بڑے بڑے مجھے کھا جائیں‌ گے

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور لوگ تھرپارکر کے علاقے میں واقع ان خوبصورت پہاڑیوں کو اپنی منافع خوری کا نشانہ بنا کر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

    کارونجھر کی پہاڑیاں قریباً 23 کلومیٹر طویل سلسلے کا حصہ ہیں اور ان کی چوٹی کی اونچائی 305 میٹر تک ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو ہزار سالہ تہذیب کے ارتقا کا حاصل ہے

     

    سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر قرار دیا تھا جبکہ سندھی زبان کی شاعری میں کارونجھر پہاڑی کا ذکر کئی مقامات پر کیا گیا۔کارونجھر اس لیے بھی اہم ہےکہ یہاں پہاڑ، رن کچھ اور ریت والے تھر کا سنگم ہوتا ہے۔

    اس کےعلاوہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر سے تھا،جنھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔

    کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھروں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ ہے، جو ویسے تو لال نظر آتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔

    یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

     

    کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خالاف نگر پارکر میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔پچھلے چند سالوں سے جاری قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔

    سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ، رن کچھھ کے شمالی کنارے پر23 کلومیٹر پر پھیلا ہوا اور 307 میٹر لمبا پہاڑی سلسلہ موجود ہے ، جسے کارونجھر کہا جاتا ہے۔ ضلعہ تھر پارکر میں ان پہاڑیوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ وجود نہیں رکھتا۔

    کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر گرینائٹ کے پتھروں پر مشتمل ہے۔

    یہ پہاڑی سلسلہ پورے تھر ریگستان سے الگ ہے ، اس سلسلے کی پہاڑیاں مشرق کی طرف بڑہتی جاتی ہیں۔
    ساون کے موسم میں کارونجھر کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں، معمول سے زیادہ سیاح امڈ آتے ہیں اور مقامی معیشت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

    ساون کے موسم میں جب بارشیں پڑتی ہیں تب کارونجھر سے بارش کا پانی پہاڑ سے نہروں کی شکل میں بہتا ہے ۔ ان نہروں کی تعداد بیس ہے۔ ان نہروں کا پانی کارونجھر ڈیم میں اکھٹا ہوتا ہے۔ اسی پانی سے ، کارونجھر کی چھاؤ میں واقع ننگر پارکر شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

    ان نہروں کے نام کچھ یوں ہیں” بھٹیانی ، ماؤ ، گوردڑو ، راناسر، سکھ پور ، گھٹیانی ، مدن واہ ، موندرو ، بھوڈے سر ، لول رائی ، دراہ ، پران واہ وغیرہ ہیں۔

    یہاں کے مقامی لوگ کارونجھر کی معاشی اہمیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ” کارونجھر روزانہ ایک سو کلو سونا پئدا کرتا ہے”۔
    کارونجھر کی پہاڑیوں پر زیادہ تر کیکر ، چندن اور نیم کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    اس پہاڑی سلسلہ میں چنکارا ہرن ، گیدڑ اور نیل گائے جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو پورے تھر میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
    سلسلہ کارونجھر کی غاریں بہت گہری ہیں ، ان غاروں کے اندر ہندو مذھب کی مورتیاں اور کئی اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کنگ کوبرا بھی شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ کئی اقسام کی بوٹیوں کا بھی مسکن ہے۔

    کارونجھر مقدس مذہبی آستانوں کا بھی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں اسلام، ہندومت اور جین مت مذاہب کے مقدس آستانے ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

    اس کے علاوہ ہندو مت کے مقدس ترین قدیمی مندر ساڑدھڑو دھام، انچل ایشور یعنی ایشور کا آنچل، تروٹ جو تھلو، پرانہ آدھی گام، گئو مکھی جیسے آستانے بھی کارونجھر پہاڑی میں واقعے ہیں۔

    یہاں پر ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ساردھڑو بھی ہے ۔ ساردھڑو یہاں کی مقامی ہندو کمیونٹی میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں جن میں ، بھوڈے سر کی مسجد بھی شامل ہے ، جس کو سلطان محمود بیگڑی نے بنوایا تھا۔

    کارونجھر کا ذکر کئی سندھی اور گجراتی شاعروں نے کیا ہے۔

    یہاں کی مقامی لوک داستان ، سڈونت سارنگا اور ہوتھل پری ، جام اوڈھو میں بھی کثرت سے کارونجھر کا ذکر ملتا ہے۔

    کارونجھر جبل محض پہاڑیاں نہیں بلکہ یہ قیمتی معدنیات کا وہ خزانہ ہیں جو سندھ کے ضلع تھرپارکرکے علاقے نگرپارکر کے جنوب مغرب میں پھیلی  ہوئی ہیں ، ان کی قدرتی ساخت اور تراش خراش بہت منفرد اورانتہائی خوبصورت  ہے ۔ سولہ میل تک پھیلے کوہ کارونجھر کو کینرو بھی کہا جاتا ہے۔

    یہاں قدیم آستانوں کے  ساتھ خوب صورت  قدرتی جھرنے بھی بہتے  ہیں، بارش کے بعد یہ جھرنے  بھرپور روانی کے ساتھ ان قیمتی پتھروں کے درمیان سے بہہ نکلتے ہیں پتھروں کی ان سنہری اونچی نیچی چوٹیوں میں اس قیمتی گرینائٹ کا خزانہ پوشیدہ ہے جس کی قیمت اور مالیت کا تعین انصاف پسندی سے کیا جائے تو پورے سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔

    گرینائٹ کی مائننگ پر نہ صرف سندھ واسی سراپا احتجاج ہیں بلکہ سماجی حلقوں میں بھی اس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ماحولیات محبت کا کہنا ہے یہ تھر کا صحرا نہیں بلکہ گلستان ہے اگر اس کی توڑ پھوڑ اسی طرح جاری رہی تو پھر اس قدرتی ورثے کو کون دیکھنےآئے گا ۔

    سرمائی ، سنہرے دلکش رنگ  پتھروں کی یہ کہکشاں تھریوں کے لیے جذباتی وابستگی کی حامل ہے شاید اسی لیے وہ اس کا کٹاؤ اور اس کی توڑ پھوڑ کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے ، کجا کو وہ کسی اورکو اس کی توڑ پھوڑ اور ترسیل کی اجازت دیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کوہ کارونجھر سندھ کا سونا ہے اور کوئی ہمارے سونے کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم سندھ کے  سونے کا کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے ۔ تھریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کارونجھر پہاڑ کو کاٹنا ایسا ہے جیسے کسی ماں کے بیٹے کو قتل کردیا جائے ۔

    لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کسی بھی  زمین  کے معدنی وسائل اس کے باسیوں کی  ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ان سے محبت ضرور کی جائے لیکن اگر ان پہاڑیوں کی ڈرلنگ اور مائننگ سے تھر واسیوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو پھر اس معاملے کو سرکاری اور عوامی سطح پر خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی تجارت کے براہ راست فوائد سندھ کے باسیوں تک بھی پہنچ سکیں  ۔

  • مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر  شاہ

    مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر شاہ

    پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور احترام کیا ؛ پکا قلعہ سے پی پی پی کا کیا واسطہ تھا ؛ یہ پی پی پی حکومت کے خلاف سازش تھی جس کا ایم کیو ایم حصہ تھی؛

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ عامر خان بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ کس نے کیے؛ بوریوں میں بند لاشیں کو ن دیتا تھا؛ سٹی کورٹ میں وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا؛ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے تھے؛ کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کو جانے سے ایم کیو ایم کے گھوسٹ ملازمین فارغ ہوجائیں گے؛ یہی خوف ایم کیو ایم کو کھائے جارہی ہے؛ ہم نے ایم کیو ایم کو کھلی آفر دی کہ اسمبلی میں بل پر بات کریں لیکن اُن کو سیاست کرنی تھی؛ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ مصطفیٰ کمال کو اگر کراچی کے عوام مسترد کررہے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؛ پی پی پی دشمنی میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، پاک سر زمین اور جماعتیں اکھٹی ہوگئی ہیں ؛ حلیم عادل کا صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں ؛یہ خط سیڈیشن /غداری کے زمرے میں آتا ہے ؛یہ جماعتیں کچھ بھی کریں کراچی کے عوام ان کو فارغ کردیں گے؛ عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے ؛ آپ نے تو جیل قتل و غارت ، جلائو گھیرائو میں کاٹی ، کس منہ سے کریڈٹ لے رہے ہیں ؛ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے ؛کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بنانا چاہتے ہیں؛

    واضح رہے کہ بلدیاتی قانون پر شروع ہونے والی محاذ آرائی کے بعد سندھ کی سیاسی لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے اور سیاسی ماحول پر پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے پر تنقیدی نشتر چلا دیئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیخلاف قرار داد لے آئی۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے یہ اعلان سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کے جبری اطلاق کے بعد کیا ہے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سندھ کے عوام سیاسی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاسی گدی نشینوں سے نجات دلوا کرانکو ایک آزاد شہری بنانے کا اعلان کیا ہے

    کراچی میں نجی یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے الزام لگایا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی خیرخواہ نہیں ہے، یہ شہر کو پھر ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، ہم اس شہر کو آگ و خون کی ہولی میں جھونکنے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم 2008ء میں دھمکیاں دیکر حکومت کا حصہ بنی، تاجروں کو دھمکایا گیا تھا اقتدار میں شامل نہ کیا گیا توکاروبار نہیں کرنے دیں گے، پیپلز پارٹی نے مجبوراً کڑوا گھونٹ پیا

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے پی پی رہنماوں کے بیانات پر ایک بہت ہی دلچسپ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری کی جتنی عمر ہے اتنی تو ہم نے جیل کاٹی ہے۔

    کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں عامر خان نے پی پی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول زرداری صاحب جتنی آپ کی عمر ہے اتنی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں۔ دو عملی سیاست نہیں چلے گی، لاڑکانہ اور دادو سمیت سب کو حق دیا جائے۔ جھوٹی اور جعلی اکثریت سے سندھ کا نیا بلدیاتی قانون پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کی اہم جماعتیں اس کالے قانون کو مسترد کرچکی ہیں۔

    ادھرعامر خان نے کہا ہے کہ ہم سندھ کی عوام کوقدامت پسند سیاسی غلامی سے نجات دلوا کررہیں گے اور ایم کیو ایم ہر شہری کوایک باعزت اورقابل احترام مقام دلا کررہے گی

    اُدھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر قرار داد جمع کروا دی ہے۔ قرارداد خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی و دیگر نے جمع کرائی۔

    قرار کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ریاست پاکستان کے خلاف تقریر کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ارکان کو ایوان سے نکال کر باہر پھینکنے کے جملے استعمال کیے، ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ اپنے نفرت انگیز بیان واپس لیں اور معذرت کریں اور ارکان کا باہر پھینکنے کے جملے سے معافی مانگیں۔