Baaghi TV

Tag: سندھ

  • کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    تھرپارکر :کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق پچھلے سالوں کی طرح ان دنوں پر سوشل میڈیا پر سندھ کی خوبصورت کارونجھر پہاڑیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے لیکن اس کا تذکرہ اس حسین پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔

     

    سندھ کی ان قیمتی پہاڑیون کو بچانے کےلیے پچھلی کئی دہائیوں سے آواز بلند ہوتی آرہی ہے ،پچھلے دو تین سال سے تو ہرآنے والے لمحہ اس قیمتی اثاثے کوچانے کے لیے آواز بن کرسامنے آرہا ہے ، 2019 میں بڑے زوروشور سے آوازیں بلند ہورہی تھیں‌کہ کانجھرو کی پہاڑیوں‌ کو کان کنی کے نام پر لوٹا جارہا ہے

    پھر یہی آواز 2020 کے آخری دنوں میں بلند ہوئی لیکن کسی نے کان تک نہیں دھرا اورپچھلے چند دنوں سے پھر کانجھروکی پہاڑیاں آواز دے رہی ہیں کہ مجھے بچا لیں‌ ورنہ بڑے بڑے مجھے کھا جائیں‌ گے

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور لوگ تھرپارکر کے علاقے میں واقع ان خوبصورت پہاڑیوں کو اپنی منافع خوری کا نشانہ بنا کر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

    کارونجھر کی پہاڑیاں قریباً 23 کلومیٹر طویل سلسلے کا حصہ ہیں اور ان کی چوٹی کی اونچائی 305 میٹر تک ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو ہزار سالہ تہذیب کے ارتقا کا حاصل ہے

     

    سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر قرار دیا تھا جبکہ سندھی زبان کی شاعری میں کارونجھر پہاڑی کا ذکر کئی مقامات پر کیا گیا۔کارونجھر اس لیے بھی اہم ہےکہ یہاں پہاڑ، رن کچھ اور ریت والے تھر کا سنگم ہوتا ہے۔

    اس کےعلاوہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر سے تھا،جنھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔

    کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھروں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ ہے، جو ویسے تو لال نظر آتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔

    یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

     

    کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خالاف نگر پارکر میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔پچھلے چند سالوں سے جاری قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔

    سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ، رن کچھھ کے شمالی کنارے پر23 کلومیٹر پر پھیلا ہوا اور 307 میٹر لمبا پہاڑی سلسلہ موجود ہے ، جسے کارونجھر کہا جاتا ہے۔ ضلعہ تھر پارکر میں ان پہاڑیوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ وجود نہیں رکھتا۔

    کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر گرینائٹ کے پتھروں پر مشتمل ہے۔

    یہ پہاڑی سلسلہ پورے تھر ریگستان سے الگ ہے ، اس سلسلے کی پہاڑیاں مشرق کی طرف بڑہتی جاتی ہیں۔
    ساون کے موسم میں کارونجھر کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں، معمول سے زیادہ سیاح امڈ آتے ہیں اور مقامی معیشت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

    ساون کے موسم میں جب بارشیں پڑتی ہیں تب کارونجھر سے بارش کا پانی پہاڑ سے نہروں کی شکل میں بہتا ہے ۔ ان نہروں کی تعداد بیس ہے۔ ان نہروں کا پانی کارونجھر ڈیم میں اکھٹا ہوتا ہے۔ اسی پانی سے ، کارونجھر کی چھاؤ میں واقع ننگر پارکر شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

    ان نہروں کے نام کچھ یوں ہیں” بھٹیانی ، ماؤ ، گوردڑو ، راناسر، سکھ پور ، گھٹیانی ، مدن واہ ، موندرو ، بھوڈے سر ، لول رائی ، دراہ ، پران واہ وغیرہ ہیں۔

    یہاں کے مقامی لوگ کارونجھر کی معاشی اہمیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ” کارونجھر روزانہ ایک سو کلو سونا پئدا کرتا ہے”۔
    کارونجھر کی پہاڑیوں پر زیادہ تر کیکر ، چندن اور نیم کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    اس پہاڑی سلسلہ میں چنکارا ہرن ، گیدڑ اور نیل گائے جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو پورے تھر میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
    سلسلہ کارونجھر کی غاریں بہت گہری ہیں ، ان غاروں کے اندر ہندو مذھب کی مورتیاں اور کئی اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کنگ کوبرا بھی شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ کئی اقسام کی بوٹیوں کا بھی مسکن ہے۔

    کارونجھر مقدس مذہبی آستانوں کا بھی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں اسلام، ہندومت اور جین مت مذاہب کے مقدس آستانے ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

    اس کے علاوہ ہندو مت کے مقدس ترین قدیمی مندر ساڑدھڑو دھام، انچل ایشور یعنی ایشور کا آنچل، تروٹ جو تھلو، پرانہ آدھی گام، گئو مکھی جیسے آستانے بھی کارونجھر پہاڑی میں واقعے ہیں۔

    یہاں پر ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ساردھڑو بھی ہے ۔ ساردھڑو یہاں کی مقامی ہندو کمیونٹی میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں جن میں ، بھوڈے سر کی مسجد بھی شامل ہے ، جس کو سلطان محمود بیگڑی نے بنوایا تھا۔

    کارونجھر کا ذکر کئی سندھی اور گجراتی شاعروں نے کیا ہے۔

    یہاں کی مقامی لوک داستان ، سڈونت سارنگا اور ہوتھل پری ، جام اوڈھو میں بھی کثرت سے کارونجھر کا ذکر ملتا ہے۔

    کارونجھر جبل محض پہاڑیاں نہیں بلکہ یہ قیمتی معدنیات کا وہ خزانہ ہیں جو سندھ کے ضلع تھرپارکرکے علاقے نگرپارکر کے جنوب مغرب میں پھیلی  ہوئی ہیں ، ان کی قدرتی ساخت اور تراش خراش بہت منفرد اورانتہائی خوبصورت  ہے ۔ سولہ میل تک پھیلے کوہ کارونجھر کو کینرو بھی کہا جاتا ہے۔

    یہاں قدیم آستانوں کے  ساتھ خوب صورت  قدرتی جھرنے بھی بہتے  ہیں، بارش کے بعد یہ جھرنے  بھرپور روانی کے ساتھ ان قیمتی پتھروں کے درمیان سے بہہ نکلتے ہیں پتھروں کی ان سنہری اونچی نیچی چوٹیوں میں اس قیمتی گرینائٹ کا خزانہ پوشیدہ ہے جس کی قیمت اور مالیت کا تعین انصاف پسندی سے کیا جائے تو پورے سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔

    گرینائٹ کی مائننگ پر نہ صرف سندھ واسی سراپا احتجاج ہیں بلکہ سماجی حلقوں میں بھی اس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ماحولیات محبت کا کہنا ہے یہ تھر کا صحرا نہیں بلکہ گلستان ہے اگر اس کی توڑ پھوڑ اسی طرح جاری رہی تو پھر اس قدرتی ورثے کو کون دیکھنےآئے گا ۔

    سرمائی ، سنہرے دلکش رنگ  پتھروں کی یہ کہکشاں تھریوں کے لیے جذباتی وابستگی کی حامل ہے شاید اسی لیے وہ اس کا کٹاؤ اور اس کی توڑ پھوڑ کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے ، کجا کو وہ کسی اورکو اس کی توڑ پھوڑ اور ترسیل کی اجازت دیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کوہ کارونجھر سندھ کا سونا ہے اور کوئی ہمارے سونے کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم سندھ کے  سونے کا کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے ۔ تھریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کارونجھر پہاڑ کو کاٹنا ایسا ہے جیسے کسی ماں کے بیٹے کو قتل کردیا جائے ۔

    لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کسی بھی  زمین  کے معدنی وسائل اس کے باسیوں کی  ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ان سے محبت ضرور کی جائے لیکن اگر ان پہاڑیوں کی ڈرلنگ اور مائننگ سے تھر واسیوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو پھر اس معاملے کو سرکاری اور عوامی سطح پر خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی تجارت کے براہ راست فوائد سندھ کے باسیوں تک بھی پہنچ سکیں  ۔

  • مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر  شاہ

    مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ ؛ بوریوں میں بند لاشیں کون دیتا تھا؛ناصر شاہ

    پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پی پی پی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی اور احترام کیا ؛ پکا قلعہ سے پی پی پی کا کیا واسطہ تھا ؛ یہ پی پی پی حکومت کے خلاف سازش تھی جس کا ایم کیو ایم حصہ تھی؛

    ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ عامر خان بتائیں کہ مخالفین کے جسموں میں ڈرل سے سوراخ کس نے کیے؛ بوریوں میں بند لاشیں کو ن دیتا تھا؛ سٹی کورٹ میں وکیلوں کوزندہ کس نے جلایا؛ ایم کیو ایم کے خلاف تو جنگی جرائم جیسے کیسز چلانے چاہیے تھے؛ کے ایم سی کے اسپتال سندھ حکومت کو جانے سے ایم کیو ایم کے گھوسٹ ملازمین فارغ ہوجائیں گے؛ یہی خوف ایم کیو ایم کو کھائے جارہی ہے؛ ہم نے ایم کیو ایم کو کھلی آفر دی کہ اسمبلی میں بل پر بات کریں لیکن اُن کو سیاست کرنی تھی؛ایم کیو ایم کو تو پی ٹی آئی کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ جماعت اسلامی کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف سیاست کرنی چاہیے جنہوں نے ان سے مینڈیٹ چھینا ؛ مصطفیٰ کمال کو اگر کراچی کے عوام مسترد کررہے ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؛ پی پی پی دشمنی میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی ، پاک سر زمین اور جماعتیں اکھٹی ہوگئی ہیں ؛ حلیم عادل کا صدر کے خط کا جائزہ لے رہے ہیں ؛یہ خط سیڈیشن /غداری کے زمرے میں آتا ہے ؛یہ جماعتیں کچھ بھی کریں کراچی کے عوام ان کو فارغ کردیں گے؛ عامر خان کہتے ہیں جتنی بلاول بھٹو کی عمر ہے اتنی انہوں نے جیل کاٹی ہے ؛ آپ نے تو جیل قتل و غارت ، جلائو گھیرائو میں کاٹی ، کس منہ سے کریڈٹ لے رہے ہیں ؛ایم کیو ایم اب کچھ بھی کرے عوام ان کے مکروہ چہرے دیکھ چکی ہے ؛کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے اب دوبارہ وائسرائے بنانا چاہتے ہیں؛

    واضح رہے کہ بلدیاتی قانون پر شروع ہونے والی محاذ آرائی کے بعد سندھ کی سیاسی لڑائی عروج پر پہنچ گئی ہے اور سیاسی ماحول پر پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک دوسرے پر تنقیدی نشتر چلا دیئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کیخلاف قرار داد لے آئی۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے یہ اعلان سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کے جبری اطلاق کے بعد کیا ہے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد سندھ کے عوام سیاسی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سیاسی گدی نشینوں سے نجات دلوا کرانکو ایک آزاد شہری بنانے کا اعلان کیا ہے

    کراچی میں نجی یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے الزام لگایا ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی خیرخواہ نہیں ہے، یہ شہر کو پھر ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، ہم اس شہر کو آگ و خون کی ہولی میں جھونکنے نہیں دیں گے۔ ایم کیو ایم 2008ء میں دھمکیاں دیکر حکومت کا حصہ بنی، تاجروں کو دھمکایا گیا تھا اقتدار میں شامل نہ کیا گیا توکاروبار نہیں کرنے دیں گے، پیپلز پارٹی نے مجبوراً کڑوا گھونٹ پیا

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما عامر خان نے پی پی رہنماوں کے بیانات پر ایک بہت ہی دلچسپ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول زرداری کی جتنی عمر ہے اتنی تو ہم نے جیل کاٹی ہے۔

    کراچی میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں عامر خان نے پی پی چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول زرداری صاحب جتنی آپ کی عمر ہے اتنی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں۔ دو عملی سیاست نہیں چلے گی، لاڑکانہ اور دادو سمیت سب کو حق دیا جائے۔ جھوٹی اور جعلی اکثریت سے سندھ کا نیا بلدیاتی قانون پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں، صوبے کی اہم جماعتیں اس کالے قانون کو مسترد کرچکی ہیں۔

    ادھرعامر خان نے کہا ہے کہ ہم سندھ کی عوام کوقدامت پسند سیاسی غلامی سے نجات دلوا کررہیں گے اور ایم کیو ایم ہر شہری کوایک باعزت اورقابل احترام مقام دلا کررہے گی

    اُدھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی اسمبلی کے ممبران نے وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کیخلاف نفرت انگیز تقریر پر قرار داد جمع کروا دی ہے۔ قرارداد خرم شیر زمان، بلال غفار، جمال صدیقی و دیگر نے جمع کرائی۔

    قرار کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے ریاست پاکستان کے خلاف تقریر کی، وزیر اعلیٰ سندھ نے ارکان کو ایوان سے نکال کر باہر پھینکنے کے جملے استعمال کیے، ہمارا مطالبہ ہے وزیر اعلیٰ اپنے نفرت انگیز بیان واپس لیں اور معذرت کریں اور ارکان کا باہر پھینکنے کے جملے سے معافی مانگیں۔

  • سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا

    سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا

    دبئی :سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا،اطلاعات کے مطابق سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے میں پانی اور بجلی سمیت چھ اہم منصوبوں کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

    دبئی کے مقامی ہوٹل میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے سینئر رکن اور متحدہ عرب امارات کے وزیر شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے بھی شرکت کی۔

     

     

    دبئی کے مقامی ہوٹل میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس میں‌ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر تھانی بن احمد الرزیودی بھی شریک ہوئے اور اس موقع پر شرکا نے سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی کامیابی اور سندھ میں کاروبار کے بہترین مواقعوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ دھابے جی اسپیشل اکنامک زون، ٹیکنالوجی پارک، ایجوکیشن سٹی اور ہائیڈروجن پراڈکشن بیس کے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔

     

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ہمارا طویل ٹریک ریکارڈ ہے، ہم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دریائے سندھ پر ایک بڑا پُل بنایا اور اور اب ہم اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے دریائے سندھ پر نیا سب سے بڑا پُل بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کے منتظر ہوں اور آج جن چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں ہم ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

     

     

    بلاول نے مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک کراچی میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے حوالے سے یادداشت ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ کراچی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بدولت ہمیں امید ہے کہ اس منصوبے سے ہم کراچی اور صوبے میں پانی کے مسئلے کو حل کر سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کچرے سے توانائی بنانے کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں، کچرہ پاکستان اور کراچی کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ مفاہمتی یادداشت صوبےاور ملک کو پرابھرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

    ان کا کا کہنا تھا کہ اسٹارٹ اپس، چھوٹے کاروباروں اور انٹرپرائزوں کو فنڈ کی فراہمی کے لیے بھی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پاکستان اور سندھ میں سرمایہ کاری کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے ایک ون ونڈو آپریشن بنایا جارہا ہے جس سے انہیں اب اس سلسلے میں درپیش مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

     

    انہوں نے سندھ میں فٹبال اکیڈمی میں سرمایہ کاری پر دبئی کے وزیر کا شکریہ ادا کیا اور کراچی آنے والوں کو پتہ ہے کہ یہ کھیل شہر قائد خصوصاً لیاری کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آخری مفاہمتی یادداشت ای گورننس کے حوالے سے ہے جس سے ہمیں صوبے کے سرکاری محکموں میں شفافیت یقینی بنانے اور کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

  • ناظم جوکھیو قتل کیس:مدعی کا بلاول بھٹو سے بڑا مطالبہ:بلاول بھٹو مشکل میں پھنس گئے

    ناظم جوکھیو قتل کیس:مدعی کا بلاول بھٹو سے بڑا مطالبہ:بلاول بھٹو مشکل میں پھنس گئے

    کراچی :ناظم جوکھیو قتل کیس:مدعی کا بلاول بھٹو سے بڑا مطالبہ:بلاول بھٹو مشکل میں پھنس گئے،اطلاعات کے مطابق ناظم جوکھیو قتل کیس میں مقدمے کے مدعی اور مقتول کے بھائی افضل جوکھیو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قتل کے مرکزی ملزم پیپلز پارٹی کے ایم پی اے جام اویس کی اسمبلی سے رکنیت کو معطل کریں۔

    سیئنر صحافی مبشر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مقتول ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کی ویڈیو شیئر کی ہے۔
    ویڈیو میں افضل جوکھیو نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایم پی اے جام اویس کی اسمبلی سے رکنیت کو فوری طور پر معطل کریں۔

     

     

    https://twitter.com/eternallymisfit/status/1470472173240397824?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1470472173240397824%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fnews360.tv%2Flatest%2F55736%2F

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے مقدمے کے حوالے سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں، میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

    افضل جوکھیو نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے، اس سے پہلے بھی وہ سیکیورٹی کا کہہ چکے ہیں تاہم اس پر ہنوز عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔

    افضل جوکھیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں پیپلز پارٹی کا ورکر ہوں، میں پہلے بھی شہید رانی بی بی کی پیپلز پارٹی کے ساتھ رہا اور اب بھی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے ساتھ ہوں۔

    واضح رہے کہ تین نومبر کو پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی کے مہمانوں کے شکار کی ویڈیو وائرل کرنے والے ناظم جوکھیو کی کراچی میں جان لے لی گئی تھی۔ ناظم جوکھیو کی لاش ملیر میمن گوٹھ کے قریب سے ملی ۔

  • شاہ جی آپ جب بھی بولتے ہیں تو پتھرہی تولتے ہیں‌:ہم نے آپ کوموقع دیا مگرآپ ناکام ثابت ہوئے:اسد عمر

    شاہ جی آپ جب بھی بولتے ہیں تو پتھرہی تولتے ہیں‌:ہم نے آپ کوموقع دیا مگرآپ ناکام ثابت ہوئے:اسد عمر

    کراچی: شاہ جی آپ جب بھی بولتے ہیں تو پتھرہی تولتے ہیں‌:ہم نے آپ کوموقع دیا مگرآپ ناکام ثابت ہوئے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعلیٰ سندھ کی تقریر کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام کی بہتری کے لیےتمام آپشن استعمال کرینگے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیک ہولڈر کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، پاک سرزمین اور مسلم لیگ (ن) کے علاوہ سندھ کی تمام اپوزیشن کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کل وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کی گئی تقریر سے صوبائی خودمختاری کی بات نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ہم اس مسئلے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائیں گے اور سندھ کے عوام کی بہتری کےلیےتمام آپشن استعمال کرینگے۔

    اسد عمر نے سندھ کو عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں اب سندھ کےعوام کےلیے فیصلے کا وقت ہے، آئین کے مطابق سندھ کے شہروں کےجو اختیارات چاہئیں اس کیلئے اب انتظار کرنےکو تیار نہیں۔

    تقریب سے خطاب میں اسد عمر نے کہا کہ سندھ کے لوگوں کےمسائل مقامی حکومتوں میں ہی حل ہوسکتےہیں، ہمارا مطالبہ ہےکہ سندھ میں بھی میئر کو اختیارات دیئےجائیں، انہوں نے سندھ حکومت کو خبردار کیا کہ اگر سیاسی مقاصدلیکرچلیں گےتو کامیاب نہیں ہوسکتے۔

  • ہمارے پاس ثبوت، اسد عمر جھوٹا ثابت کرے منسٹری چھوڑ دوں گا،اہم شخصیت کا اعلان

    ہمارے پاس ثبوت، اسد عمر جھوٹا ثابت کرے منسٹری چھوڑ دوں گا،اہم شخصیت کا اعلان

    ہمارے پاس ثبوت، اسد عمر جھوٹا ثابت کرے منسٹری چھوڑ دوں گا،اہم شخصیت کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم ایل ون منصوبے کے لیے کے سی آر کو پیچھے رکھا گیا،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش ہوئی تو شہری پریشان ہوئے محمود آباد نالے سے متعلق اچھا کام ہوا ہے،کہا جارہاہے کراچی میں ترقیاتی منصوبے وفاق کے ہیں، ہم نے کراچی میں ترقیاتی کام کیے اسد عمر معقول آدمی ہیں لیکن پارٹی پالیسی پر چل پڑے ہیں اسلام آباد کے ایک جلسے میں اسدعمر نے پھینٹی لگانے کی بات کی قومی اسمبلی میں کہہ دیا کہ مردم شماری سندھ حکومت نے کروائی،گزشتہ روز بھی کہاگیا کہ محمود آباد نالہ وفاق بنا رہی ہے وفاق بیچ میں آیا اور ہماری تعمیرات ختم کرکے نئے سرے سے تعمیرات کروائیں،جزیروں پرکام کی اجازت دی گئی تھی،قبضےکی نہیں،ہم نے آرڈیننس کے ذریعے سندھ جزائر پر قبضے کی اجازت نہیں دی،ہم نے آئی لینڈ پر ترقیاتی کام کرنےکی اجازت دی تھی،کے فور کا پمپنگ اسٹیشن اور لائنیں بچھانے کا کام سندھ حکومت کرے گی گورنر سندھ اور وفاقی وزرا نے کہا سندھ حکومت نے کرپشن کی ہے ہم اپنے حصے کا 50 فیصد دینے کے لیے تیار ہیں،کیا یہ خود جو کام کررہے ہیں؟ گرین لائن منصوبہ ن لیگی حکومت کی تھی،پی ٹی آئی کا کراچی میں ایک بھی منصوبہ نہیں ہے،تین مرتبہ کراچی کےلیے اعلانات کیے گئے،ایک روپے بھی نہیں دیا گیا،ٹھٹھہ اور بدین کے لیے اعلان کرکے گئے کچھ بھی نہیں کیا،

    سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز کراچی کے لوگوں کے ساتھ تیسرا مذاق کیا ،کراچی میں ریڈ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب جلد ہوگی،عمران خان کے پاس فنڈز ہیں تو کراچی میں خرچ کریں انہیں کس نے منع کیاہے؟پی ٹی آئی نے کے سی آرمنصوبہ سی پیک سے نکلوا دیا، کہا گیا کہ سندھ حکومت نے اپنے حصے کے پیسے نہیں دیے، سندھ حکومت 58کروڑ روپے کا چیک دے چکی ہے، کہیں تو ثبوت کے پینا فلیکس لگا دیں؟ اسد عمر نے دھڑلے سے غلط بیانی کی ،ہمارے پاس ثبوت ہیں اسد عمر جھوٹا ثابت کرے منسٹری چھوڑ دوں گا،ہم کسی بھلائی میں بھی کام کریں گے تو نیب بلا لے گی، 7دسمبر کو ایس آئی ڈی سی ایل نے ہم سے پیسے مانگے ہیں،

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

  • سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ سندھ میں بھرتیوں کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

    سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ سندھ میں بھرتیوں کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ کی ماتحت عدلیہ میں بھرتیوں کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی-

    باغی ٹی وی : جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا بھرتیوں کیلیے نہ ٹیسٹ ہوئے نہ انٹرویوز ہوئے اور اشتہار کے بغیر بھی بھرتیاں ہوئیں،عمر کی حد اور ڈومیسائل سے متعلق رولز نرم کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ماتحت عدلیہ کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر رولز کی خلاف ورزیاں ہوئیں،بھرتیوں پر پورے سندھ میں شور مچا ہوا تھا،سندھ ہائیکورٹ نے سپروائزری کے دائرہ اختیار میں کیا ایکشن لیا۔

    رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے کہا ماتحت عدلیہ میں2000 سے تقرریوں کا یہی طریقہ کار فالو کیا گیا ہے عدالت عظمیٰ نے سماعت یکم جنوری 2022 تک ملتوی کردی-

    وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کی کراچی پریس کلب کے صحافیوں کے 211 پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی تقریب میں…

    سپریم کورٹ میں نیشنل مینجمنٹ کورس کے ڈاکٹر اعجاز منیر کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات میں چیف جسٹس نے کہا کہ بیوروکریسی کی فیصلہ سازی میں تاخیر سے عدالتی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، عوام کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، بیوروکریسی اپنی ذ مہ داریاں ایمانداری، شفافیت اور قانون کے مطابق ادا کرے۔

    انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کا کام پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے عوامی شکایات کا ازالہ کرنا ہے، بنیادی حقوق کی فراہمی سے ہی عوام اور بیوروکریسی میں فاصلہ کم ہوگا، اچھے افسران کے بغیر گڈگورننس کا قیام ناممکن ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان مزار قائد کیوں نہیں گئے؟ اہم انکشاف

    وزیراعظم عمران خان مزار قائد کیوں نہیں گئے؟ اہم انکشاف

    وزیراعظم عمران خان مزار قائد کیوں نہیں گئے؟ اہم انکشاف

    پیپلزپارٹی کے تحت احتجاجی مظاہرہ سے صوبائی وزیر سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کراچی میں ایک منحوس شخص آیا ہوا ہے جس نے ایک بار پھر کراچی کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے ۔

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی اپیل پر آج ملک بھر میں سیلیکٹڈ حکومت کے خلاف احتجاج نوشتہ دیوار ہے ایک شخص نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے اور خود کشی کرنے کا اعلان کیا تھا آئی ایم ایف سے قرضہ لے لیا اور عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا دسمبر کے مہینے میں بجلی کے بلوں میں 68 ارب وصولی کی جائے گی آئی ائی ایف سے منحوس حکومت نے ہرماہ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے کا وعدہ کیا ہے چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کی جیب پر ڈاکہ مارا گیا 66 لاکھ گندم پنجاب میں غائب کی گئی چینی غائب کردی گئی چینی پر کمیشن بنایا مگر کابینہ میں بیٹھے چینی چوروں پر ہاتھ نہ ڈالا اپوزیشن کو جھوٹی شکایات پر جیل بھیجا جاتا ہے پی ٹی آئی کے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا سندھ کے این ایف سی پر پانی پر گیس پر ڈاکہ ڈالا گیا چینی گیس آٹے بحران کی ذمہ داری سندھ پر ڈالتے ہیں عقل کے اندھے پاکستان کے بارہ موسم بناسکتے ہیں ان سے کوئی بعید نہیں ہے وفاقی وزیر اسمبلی میں کہتا ہے گندم کہاں گئی مجھے نہیں پتا تمہارے چور وزیر اعظم کو پتا ہے کہ وہ گندم کہاں گئی نیب کیوں اس کرپشن پر خاموش ہے اس کی آنکھوں پر پردہ کیوں ہے

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ آغا سراج، فریال زرداری صاحب کو جیل میں رکھا گیا، عمران خان نے وعدہ کیا تھا آئی ایم ایف نہیں جائونگا مگر اب آئی ایم ایف سے پیسے مانگ رہے ہیں ،وعدہ کرکے آئے تھے کہ پیٹرول اور بجلی مہنگی نہیں کرینگے مگر اب روز بجلی و پیٹرول کے نام پر ہماری جیب پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے شرم آنی چاہیئے کہ نعیم الحق کی تعزیت کے لئے فیملی کو اسلام آباد بلایا امید ہےکہ اب لوگوں کے دماغ سے تبدیلی اور نئے پاکستان کی ہوا نکل گئی ہوگی اینگرو سےنکالا گیا شخص اسلام آباد سے الیکشن لڑتا ہے پختون پنجابی سرائیکی بلوچی جو کراچی آئےہیں کیا وہ غیر مقامی ہیں ایم کیوایم کے منہ کو خون لگا ہوا ہے یہ کراچی میں خونریزی چاہتے ہیں ایم کیوایم کے اتحادی ان سے سوال کریں کہ مقامی غیر مقامی کون ہیں لوگوں کو لڑانےکی سازش ہورہی ہے

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ جب سے وزیراعظم بنا ہے کوئی رات کراچی میں نہیں گزاری ، تم مانو یا نہ مانو سندھ پاکستان کا حصہ ہے وزیراعظم نے کبھی دو دن کراچی میں نہیں گزارے اس کی مجبوری ہے کہ قیام کے لئے اجازت لینا پڑتی ہے وزیراعظم کو کہا گیا ہے کہ قائد اعظم کے مزار پر نہ جانا نہیں گیا ،اسد عمر کے والد کارنامے حمودالرحمن کمیشن میں لکھے ہوئے ہیں اسد عمر کو چیلنج کرتا ہوں عمران خان کو بلاول بھٹو کے مقابل مناظرے کے لئے بٹھا دو بلاول بھٹو 5 منٹ میں نیازی کو لاجواب نہ کردیں ہم اپنے آپ کو جیالا کہلوانا چھوڑدیں گے محنت کشوں کو کم سے کم 25 ہزار تنخواہ کا قانون سندھ حکومت نے بنایا عدالت نے کم سے کم تنخواہ کے معاملے پر اسٹے آرڈر دے دیا عدلیہ کا احترام کرتاہوں عدلیہ کو غریب ملازمین کی مشکلات کا خیال رکھنا چاہئیے

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے وزیر اعظم کے دورہ سندھ پر ردعمل میں کہا ہے کہ وزیر اعظم بے شک سندھ کو اپنا صوبہ نہ سمجھیں مگر سندھ پاکستان کک صوبہ ہے۔ گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران وزیر اعظم صرف 4 سے 5 مرتبہ چند گھنٹوں کے لئے ہی سندھ آتے ہیں۔ وزیر اعظم سندھ چند گھنٹوں کے لئے نہیں چند دنوں کے لئے یہاں آٸیں۔ وزیر اعظم خالی اور خیالی اعلانات کرنے کی بجائے عملی طور سندھ کے لئے منصوبے دیں ,وزیر اعظم کو سندھ میں کینسر کے مفت علاج کے اسپتال دیکھ کر تکیلف تو ہوگی ,وزیراعظم تھر جانے والی شاہراہ پر بھی سفر کریں جو پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت نے تعمیر کی ہے , وزیر اعظم این آئی سی وی ڈی بھی دیکھیں جہاں پورے ملک کے عوام کا مفت علاج ہوتا ہے ,فائر بریگیڈ ہوں یا گرین لائیں منصوبہ یہ سابقہ وفاقی حکومت کے منصوبے تھے، جس پر موجودہ نااہل وزیر اعظم اپنی تختیاں لگا رہا ہے۔ گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں موجودہ نالائق اور نااہل حکومت نے کراچی کے لئے ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کیا ہے۔

  • سندھ حکومت کے لیے مشکلات ہی مشکلات:الیکشن کمیشن نے بڑی  پابندی عائد کردی

    سندھ حکومت کے لیے مشکلات ہی مشکلات:الیکشن کمیشن نے بڑی پابندی عائد کردی

    کراچی: سندھ حکومت کے لیے مشکلات ہی مشکلات:الیکشن کمیشن نے بڑی پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سندھ کے تمام اضلاع، شہری اور مقامی علاقوں کی حدود تقسیم کرنے پر پابندی عائد کردی۔

    ذرائع کے مطابق سندھ میں متوقع بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بڑا حکم نامہ جاری کیا، جس میں ضلع کی حدود تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سندھ حکومت شہری یا مقامی علاقے کی حدود بھی تبدیل نہیں کرسکتی جبکہ ٹاؤن اور میونسپل کمیٹی کی تبدیلی پر بھی پابندی ہے۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں سابقہ حدود پر ہی کی جائیں گی۔

    یاد رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخاب میں ترمیم کر کے نیا قانون اسمبلی سے منظور کروایا تھا، جس میں ڈی ایم سی اور یونین کونسلز کو ختم کرکے ٹاؤن کی تعداد کو بڑھایا گیا تھا۔

    ادھر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوگیا ہے پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ق کے درمیان صوبائی بلدیاتی نظام کے حوالے سے معاملات طے پاگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام سے متعلق پی ٹی آئی اور ق لیگ سمیت دیگر اتحادیوں کے درمیان ہونے والے ڈیڈ لاک میں بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور دونوں جماعتوں نے مشاورت کے بعد بلدیاتی سیٹ اپ پر اتفاق کیا اور بات چیت کے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب میں 11 میٹروپولیٹن کارپوریشنز ، 9ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ دونوں جماعتوں نے گجرات اورسیالکوٹ میں بھی میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے قیام اور لارڈ میئر کے انتخاب پر اتفاق کیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب کےباقی 25 اضلاع میں ڈسٹرکٹ کونسلز ہوں گی، جن کی دیکھ بھال یا سربراہی ڈسٹرکٹ میئر کی ذمہ داری ہوگی۔

    نئے بلدیاتی نظام کے تحت نچلی سطح پر نیبرہڈ اور ویلج کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ تحصیل کونسلز اور میونسپل کارپوریشنز کو ختم کردیا جائے گا، اسی طرح میونسپل کمٹیز اور ٹاؤن کمیٹیوں کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ نئے بلدیاتی نظام کے بعد دوسرے تمام سیٹ اپ خود بہ خود ختم ہوجائیں گے۔

  • کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کالا بلدیاتی قانون :ایم کیو ایم کے بعد جماعت اسلامی بھی میدان میں‌ آگئی

    کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کالا بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی 12دسمبر کو ”حقوق کراچی مارچ“کر ے گی، سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 32اور 140-Aکے خلاف ہے۔

    جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کی وڈیرہ شاہی آمریت مسلط کرنے ، شہری اداروں پر قبضے اور کراچی دشمن کالے بلدیاتی قانونی کے خلاف کراچی بھر میں 11مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے۔

    جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے خلاف آئین اقدامات اور غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنازع بلدیاتی ترمیمی بل 2021کو فی الفور واپس لینے ، بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر خود مختار بنانے اور کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیتے ہوئے با اختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے از سر نو قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ۔

    حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی بل کی اسمبلی سے جبری منظور ی کراچی کے عوام کو غلام بنانے اور شہری اداروں پر قبضے کی کوشش ہے ، یہ بل کراچی کے وسائل پر ڈاکہ اورلوٹ مار کا گھناﺅنا کھیل ہے جسے عوام مسترد کرتے ہیں ، آج کراچی بھر میں دیئے گئے دھرنے پیپلز پارٹی کی آمرانہ سوچ، فسطائیت اور کراچی پر قبضہ کرنے کے خلاف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جمعہ 3دسمبر کو اسی حوالے سے پورے شہر میں یوم سیاہ منایا جائے گا اور سینکڑوں مقامات پر مظاہرے ہوں گے جبکہ اتوار 12دسمبر کو کراچی میں ایک بھر پور اور تاریخی ”حقوق کراچی مارچ “کیا جائے گا ،جعلی بل کے خلاف لاڑکانہ، جیکب آباد اور دیگر اندرون سندھ کے شہر ی بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلےمتحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے سندھ حکومت کے لائے گئے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے ۔

    ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ، کے ڈی اے، بلدیہ کے پاس ہونا چاہیے لیکن بلدیاتی بل میں ترمیم سے آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں انہوں نے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا اور احتجاج کا بھی فیصلہ کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔