Baaghi TV

Tag: سندھ

  • سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    چین کے اعلی سطحی کاروباری وفد نے سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی (SEZMC) کے دفتر کا دورہ کیا اور سندھ میں صنعتی، انفراسٹرکچر اور طبی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس کی صدارت سیکریٹری انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ راجہ خرم شہزاد عمر نے کی جنہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو سندھ حکومت کی جانب سے مکمل تعاون اور سازگار ماحول کی یقین دہانی کرائی۔ دھابیجی اکنامک زون کو سی پیک منصوبے کے تحت تیزی سے ترقی دی جا رہی ہے جبکہ خیرپور اکنامک زون مکمل طور پر تیار ہے اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں ترین جگہ ہے۔ چینی وفد نے الیکٹرک وہیکل (EV) مینوفیکچرنگ، خاص طور پر تین پہیوں والے الیکٹرک وہیکل کی مینوفیکچرنگ میں فوری دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ وہ اس منصوبے میں مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اشتراک کے خواہشمند ہیں۔طبی شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں نے سندھ حکومت کے میڈیکل سٹی منصوبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ بیماریوں پر تحقیق و ترقی (R&D) کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا جبکہ الیکٹرانک مصنوعات کے پلانٹ کے قیام میں بھی دلچسپی ظاہر کی تاکہ جدید چینی مصنوعات پاکستانی عوام کو متعارف کرائی جا سکیں۔ چینی وفد نے سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت تعاون اور مراعات فراہم کرے تو وہ سندھ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ پاکستان خطے کے ممالک کو جوڑنے والا ایک اہم ملک ہے۔سیکریٹری انویسٹمنٹ راجہ خرم شہزاد عمر نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے نہ صرف صنعتی ترقی ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی۔ سندھ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے ایک شفاف اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری سے صوبے کی معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ 2024 میں شرکت

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایاز صادق

    سندھ پبلک سروس کمیشن نے سی سی ای-2021 کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا

  • پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ملک کی ترقی  بینظیر بھٹو کا وژن تھا،بلاول بھٹو

    پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ملک کی ترقی بینظیر بھٹو کا وژن تھا،بلاول بھٹو

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے حوالے سے وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر نے سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں پر بریفنگ دی جس میں کہا گیا کہ سندھ میں ساڑھے چھ ارب روپے سے زائد کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصو بے مکمل ہوچکے ہیں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، ملا کٹیار پُل، حیدرآباد میرپورخاص کیرج وے اور سندھ نیشنل پاور کمپنی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے بڑے منصوبے ہیں-

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جرمنی کے سرمایہ کار سندھ میں زراعت اور پانی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، جرمنی کے سرمایہ کار سندھ میں الیکٹرانک گاڑیوں کے چارجنگ کے انفراسٹرکچر پر بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ملک کی ترقی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن تھا، سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل پاکستان کی کامیابی ہے، سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں پر تیزی سے عملدآمد ایک امیدافزا پیشرفت ہے-

    ملاقات میں وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر کے ہمراہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ڈائریکٹر جنرل اسد ضامن اور محکمے کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے-

  • ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں،آصفہ بھٹو کی اپیل

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو کے خلاف 2024 کی آخری مہم کے آغاز کے موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ ملک کو اس موذی بیماری سے مکمل طور پر نجات مل سکے۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا: "ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے کہ ہمارا کوئی بھی بچہ پولیو سے محفوظ نہ رہے۔ 64 پولیو کے کیسز صرف اس سال رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پولیو کے خلاف جاری اس مہم میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہم ہے۔”آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ "یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پولیو کے وائرس سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر بچہ پانچ سال سے کم عمر کو ویکسین ملے۔ آپ کے ایک چھوٹے سے اقدام سے ہزاروں زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔”

    پولیو مہم 16 دسمبر سے 22 دسمبر تک جاری رہے گی، جس میں تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا مقصد ہے۔ آصفہ بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین کے بارے میں اپنے دوستوں، خاندان اور ہمسایوں میں آگاہی پیدا کریں اور اس قومی مہم میں حصہ لیں۔”ہم سب کی کوششوں سے ہی ہم پولیو کو شکست دے سکتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "یہ مہم صرف حکومت کا کام نہیں ہے، بلکہ ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ پولیو کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو اور ہر بچے کو ویکسین کے قطرے پلوانے میں مدد کرے۔ اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، تو ہمیں اجتماعی طور پر کوشش کرنی ہوگی۔”

    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور دیگر ادارے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔ آصفہ بھٹو نے اس مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ محفوظ ہو گا، تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا: "ہم سب مل کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس بیماری سے آزاد کر سکتے ہیں۔”پولیو کے قطرے نہ صرف بچوں کی زندگیوں کو بچاتے ہیں بلکہ ایک بہتر، صحت مند پاکستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ بھر میں سال کی آخری انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع ہو گئی ہے،محکمۂ صحت سندھ کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم 22 دسمبر تک جاری رہے گی،مہم کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 80 ہزار فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے،انسدادِ پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے 15 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے،پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے 63 کیسز میں سے 17 کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں،محکمۂ صحت سندھ نے والدین سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے بچوں میں قوت مدافعت مضبوط ہو گی،محکمۂ صحت سندھ نے انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے رہ جانے والے بچوں کے والدین کو ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،پاکستان اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی موجود ہے اس لیے میڈیا، کمیونٹی رہنماؤں اور علماء سے انسدادِ پولیو مہم کی حمایت کی درخواست ہے۔

  • صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات

    صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلاول ہاؤس میں چین کے کاروباری وفد کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء، چین کے کونسل جنرل نے شرکت کی،صدر مملکت آصف زرداری نے پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی اور تجارتی تعاون فروغ دینے کی ضرورت ہے .دونوں ممالک کے عوام بالخصوص سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانا ہوں گے. وفد نےملکی شعبہ صحت کی ترقی کے لیے پاکستان میں میڈیکل سٹی کے قیام کے لیے 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا،وفد نےمعیشت کے مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، لائیو اسٹاک، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا،

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے اور تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں.پاکستان اور چین اہم امور پر مشترکہ مفادات اور خیالات ہیں.پاکستان اور چین کے مابین کئی دہائیوں پر محیط گہری دوستی ہے.گوادر پورٹ کو ایک علاقائی تجارتی اور اقتصادی حب کے طور پر ترقی دینا میرا وژن تھا.گوادر بندرگاہ سے نہ صرف علاقائی روابط بہتر ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کو بھی فروغ ملے گا.پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہے گا.پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات اور کاروبار کو ترجیح دے گا.پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت اور مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے.سندھ میں چینی زبان کے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں.چینی زبان کے کورسز پاکستان اور چین کے درمیان عوامی اور ثقافتی روابط مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے،

    چونیاں: سڑکوں پر تجاوزات، ٹریفک وارڈنز بے نیاز،طالبات اورشہری مشکلات کا شکار

    چونیاں:یتیم بچہ اغوا، زیادتی اورتاوان نہ ملنے پر قتل

    کراچی سمیت ملک بھر کیلیےبجلی مہنگی

  • سندھ بزرگ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

    سندھ بزرگ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا

    سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے سندھ سینئر سٹیزن کارڈ کا اجراء کیا ہے، جو بزرگ شہریوں کو طبی سہولیات، سفر میں آسانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے گا.

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی بہبود کے وزیر میر طارق علی خان تالپور نے منعقدہ سرکاری دستخطی تقریب میں کہا کہ سماجی بہبود محکمہ سندھ نے نادرا کے تعاون سے بزرگ شہریوں کی معاونت کے لیے اس تاریخی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔نادرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ سینئر سٹیزن کارڈ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 37 لاکھ شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا جس کے ذریعے انہیں صحت کی دیکھ بھال، سفر کی سہولیات اور دیگر شہری خدمات تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔پہلے آزادی کارڈ کے نام سے جانا جانے والا یہ اقدام اب ایک نئے نام کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے، جو حکومت کی بزرگ شہریوں کی عزت اور فلاح و بہبود کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں سماجی بہبود کے وزیر میر طارق علی خان تالپور، سماجی بہبود کے سیکرٹری پرویز احمد سیہر، ڈائریکٹر جنرل سماجی بہبود اطہرحسین میرانی، نادرا کراچی کے ڈائریکٹر جنرل احتشام شاہد، اور پروگرام منیجر جنید شوکت شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر طارق علی خان تالپور نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالی ،سندھ سینئر سٹیزن کارڈ ہماری بزرگ آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یہ اقدام انہیں وہ احترام اور دیکھ بھال فراہم کرتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں اور انہیں ضروری خدمات تک آسان رسائی دیتا ہے۔ ہمارے بزرگ شہری ہماری تاریخ اور ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے لیے عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنا ہمارا اخلاقی فرض ہے انہوں نے مزید کہا اس پروگرام کے ذریعے ہم ایک ایسی معاشرت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اپنے بزرگوں کی قدر اور ان کی دیکھ بھال کرے۔سندھ حکومت بزرگ شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور یہ کارڈ ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو ہم ایک مزید شامل اور مہربان معاشرے کی تعمیر کے لیے اٹھا رہے ہیں۔سندھ سینئر سٹیزن کارڈ محض ایک کارڈ نہیں بلکہ حکومت کا اپنے شہریوں سے یہ وعدہ ہے کہ ان کی سماج کے لیے کی گئی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ بزرگ شہریوں کو بہتر طبی سہولیات، بلا رکاوٹ سفر، اور دیگر شہری خدمات حاصل ہوں، جو ان کی زندگی کو آسان بنائیں۔نادرا کراچی کے ڈائریکٹر جنرل احتشام شاہد نے اس مقصد کے لیے نادرا کی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم سماجی بہبود کے محکمے سندھ کے ساتھ شراکت داری پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سندھ سینئر سٹیزن کارڈ ہمارے بزرگ شہریوں کے لیے مختلف خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جو طویل عرصے سے معاشرے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔سندھ سینئر سٹیزن کارڈ بزرگ شہریوں کے لیے ایک شناختی ذریعہ کے طور پر کام کرے گا، جو انہیں صحت کی دیکھ بھال اور سفر کے فوائد سمیت ضروری خدمات تک رسائی فراہم کرے گا۔سماجی بہبود کا محکمہ سندھ معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے اور شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے لیے پٴْرعزم ہے تاکہ شمولیت اور دیکھ بھال کو فروغ دیا جا سکے۔

  • ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں،طاہر اشرفی

    مدارس اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا

    مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا،اجلاس میں پاکستان بھر سے ہر مکتبہ فکر کے جید علما ء شریک ہوئے،اجلاس میں علماء کرام سے مدارس رجسٹریشن اور اصلاحات کے حوالے مفصل مشاورت کی گئی،اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی بھی شریک ہوئے،اجلاس کے بعد پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مدرسے کے حوالے سے حکومت نے ہمارے مطالبے پرپالیسی کو تبدیل کیا، مدارس کی رجسٹریشن پر حکومت نے تفصیلی مشاورت کی، ہم مدرسہ بنانے اور چلانے والوں کی اولاد ہیں، کیسے ممکن ہے اس معاملے پر سمجھوتہ کریں،2019میں فیصلہ ہواکہ نئے بورڈ بنائے جائیں گے، آج وہ تمام بورڈز بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں، کوئی بیرونی ایجنڈے والا مجھے یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ نہ پڑھاؤ اور یہ پڑھاؤ، ہم پر بلاوجہ کا خوف مسلط کیا جاتا ہے کہ بیرونی ایجنڈا آئے گا اور یہ ہو جائے گا

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی قانون بنتا ہے تو اس کا ایک مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسکو بناتے ،چلاتے ہوئے جو اس کے مقاصد تھے ،وہ پورے ہوئے یا نہیں، 2018 کی مدارس کی اصلاحات کے حوالہ سے کہنا چاہتا ہے کہ وسیع تر مشاورت کے بعد اس ملک میں مدارس کے حوالہ سے نظام وضع کیا گیا جس کا مقصد مدارس کو قومی دھارے میں لانا تھا تا کہ منفی چیزوں کا خاتمہ ہو سکے، سب سے اہم جزو طلبا ہیں جو مدارس سے فارغ التحصیل یا زیر تعلیم ہیں، تا کہ انکے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو،

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ مدارس کے نظام کو اب کسی بیرونی ایجنڈے سے خطرہ نہیں، مدارس کو وزارت تعلیم کے ساتھ ہی منسلک ہونا چاہیے مدارس کا معاملہ تعلیمی معاملہ ہے سیاسی اکھاڑا نہ بنایا جائے، مدارس کے بورڈز میں بھی اضافہ ہونا چاہیے، بی ایس ڈگری کے مساوی مدارس کے طلبہ کو سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیے،

    مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مفتی عبدالکریم
    مفتی عبدالکریم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پہلی دفعہ ہے حکومت مولانا سے بلیک میل نہیں ہورہی، ہمیں حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے،مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے نہیں، سیاست کے نمائندے ہیں، مولانا نے توہین کی ہے، معافی مانگیں،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کسی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے نمائندے ہیں، سیاستدان تو مدارس کے کئی سیاست میں ہیں، اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں‌کہ مولانا فضل الرحمان کو معافی مانگنی چاہئے، چار ہزار مدرسے موجود ہیں، مولانا فضل الرحمان مدارس کے نمائندے کس طرح ہیں، مدارس کے وفاق الگ ہیں ،انہوں نے کبھی مولانا فضل الرحمان کو اپنا نمائندہ نہیں کہا

    اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی، مولانا عبدالکریم آزاد، مفتی عبدالرحیم، خرم نواز گنڈاپور، علامہ جواد حسین نقوی، مولانا طیب طاہری، محمد شریف چنگوانی،مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور علامہ ابتسام الہٰی ظہیر بھی شریک ہوئے۔

    مدارس رجسٹریشن کے حوالے سے ڈی جی آر ای 22 اکتوبر 2019ء کو ملک بھر میں قائم کئے گئے پاکستان بھر میں 17653 مدارس ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ ہیں،598 مدارس کو 1196 اساتذہ فراہم کئے گئے ہیں، 163 مدارس میں قومی نصاب متعارف کرایا گیاہے،اب تک 1491 طالب علموں کو پاکستانی ویزے کے حصول اور توسیع میں مدد فراہم کی گئی ہے،

  • سب سے اہم مسئلہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،چیف سیکریٹری سندھ

    سب سے اہم مسئلہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،چیف سیکریٹری سندھ

    چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے کہا ہے کہ سب سے اہم مسئلہ صوبے کی عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے،عوام انتظامیہ پر بھروسہ نہیں کرتے،اس کی بڑی وجہ ان کے مسائل وقت پر حل نہ ہونا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق بیچ لگژری ہوٹل میں انگلش اسپیکنگ یونین کے دعوت پر ممبران انگلش اسپیکنگ یونین سے خطاب کرتے ہوئے آصف حیدر شاہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں غربت،بے روزگاری ودیگر بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں اور ان کے بنیادی مسائل حل کریںاس موقع پر پیٹرن انچیف انگلش اسپیکنگ عزیز میمن،صدر پرویز مدراس والا،جنرل سیکریٹری مجید عزیز،سنئیر نائب صدر عرفان قریشی نے بھی اظہار خیال کیا،اس موقع پر ممبران نے چیف سیکریٹری سندھ سے مختلف سوالات بھی کئے،ایک سوال پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کراچی اب روشنیوں کا شہر نہیں رہا،آج بھی کراچی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے بہتر حالت میں ہے،انہوںنے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ مسائل بہت زیادہ ہیں ،لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ ان پر توجہ نہیں دی جارہی یا انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی،انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ شہر میں آبادی کا بوجھ ہے،انفرااسٹریکچر اس طرح نہیں بڑھا جس طرح ضرورت ہے ،انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ جوآخری مردم شماری کی گئی ہے اس میں صحیح آبادی ظاہر کی گئی اس سلسلے میں کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے،چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ سندھ میںکام کرنے والے سرکاری افسران یا ملازمین پر سیاستدانوں کا دباو ہوتا ہے،اگر کوئی سرکاری افسر یہ سمجھتا ہے کہ اسے ناجائز کام کیلئے مجبور کیا جارہا تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ کام نہ کرے،انہوں نے کہا کہ میں نے چیف سیکریٹری کی حیثیت سے ماتحت افسران کو واضح ہدایت دی ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں اور تمام کام قائدے و قانون کے مطابق سے کئے جائیں،انہوںنے کہا کہ جب میں حیدرآباد میں کمشنر تھا تو اس وقت میں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی درست نہیں کی سرکاری افسران وقت پر دفاتر میں موجود نہیں ہوتے ،میں خود صبح 9 بجے دفتر میں موجود ہوتا ہے اور اسی طرح دیگر عملہ بھی آفس میں پہنچ جاتا ہے،ایک سوال پر چیف سیکریٹری نے کہا کہ اپنی جان کے تحفظ کے لئے موٹر سائیکل والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہیلمنٹ کا استعمال کریں ،حکومت اگر سختی کرتی ہے تو شور مچنا شروع ہوتا ہے کہ لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے،انہوں نے نائجیریا اور ناروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں کرپشن زیادہ ہے اور وہاں کی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے،پیٹرن انچیف عزیز میمن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سیدآصف حیدر شاہ کا درست انتخاب کیا ہے،آصف حیدر شاہ میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ صوبے کے مسائل حل کرسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ انگلش اسپیکنگ یونین وہ پلیٹ فارم ہے جو مختلف شعبوں میں لوگوں کی خدمت کررہاہے،انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صوبے میں مسائل بہت زیادہ ہیں،لیکن ان مسائل کا حل بھی ضرور ی ہے،پرویز مدراس والا نے چیف سیکریٹری سندھ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ سید آصف حیدر شاہ سول انجنئیر ہونے کے علاوہ پانچ مرتبہ گولڈ میڈل بھی حاصل کرچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری صوبے کے 61 ویں چیف سیکریٹری ہیں،وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور صوبے کے مسائل حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں،مجید عزیز نے کہا کہ چیف سیکریٹری سید آصف حیدرشاہ کا تعلق اسی صوبہ سندھ سے ہے اور انہیں شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل کا پوری طرح علم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے،سنئیر نائب صدر عرفان قریشی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم مختلف اعلی شخصیات کو خطاب کی دعوت دیتے ہیں اور ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ چیف سیکریٹری آج ممبران سے خطاب کے لئے ہمارے درمیان موجود تھے،تقریب کے اختتام پر چیف سیکریٹری کو انگلش اسپیکنگ یونین کی جانب سے ممنٹم پیش کیا گیا۔

    وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، محمد اورنگزیب

    کراچی میں پارہ مزید گر گیا، سردی بڑھنے کا امکان

    علم اور مہارت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، وزیراعلی سندھ

  • حکومت سندھ کا گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ

    حکومت سندھ کا گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ

    وزیرتوانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے صوبے میں گیس کی بڑھتی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کا نوٹس لیتے ہوۓ سیکریٹری توانائی کو وفاقی حکومت کو خط لکھنے کی ہدایت جاری کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام اس وسائل سے محروم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی جس سے بچے ناشتے کے بغیر اسکول جانے پر مجبور ہوگئے جس سے ان کی تعلیمی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ناصر حسین شاہ نے مطالبہ کیا کہ گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے آرٹیکل 158 پر عمل درآمد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والے صوبے کا اس پر پہلا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں سندھ کی نمائندگی یقینی بنائی جائے ،نماٸندگی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔دوسری جانب صوبائی وزیر توانائی نے صدر اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ سندھ میں گیس کی قلت کا فوری نوٹس لیں۔

    اطالوی بحری جہاز 2 روزہ دورے پر کراچی پہنچ گیا

    ڈھائی کروڑ اور22 تولہ سونے کی خاطر بیٹے نے سگی ماں کو قتل کر دیا

  • سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ،  خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ، خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، اور اپنے اسی عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے، پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں کے شعبے میں برابری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

    آج سے اس ٹورنامنٹ کا آغاز لیاری کے انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں ہوا، جہاں سندھ کے مختلف اضلاع سے 320 خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل 16 ٹیمیں اس مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو فروغ دینا اور انہیں ایک بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود اس اہم موقع پر لیاری فٹ بال گراونڈ پہنچے اور سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے حوالے سے پیپلز پارٹی ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگ ایسے ہیں جو خواتین کی ترقی کو نہیں دیکھنا چاہتے، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔ آج، میں یہاں لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراونڈ میں کھڑا ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ ہمارے صوبے کی خواتین کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہے۔”

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ "سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ جیسے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی کھیلوں میں شمولیت بڑھے گی، بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا ہو گی۔ یہ ٹورنامنٹ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں خواتین اپنے کھیل کے جوہر دکھا سکتی ہیں اور معاشرتی طور پر بھی اپنی حیثیت کو مستحکم کر سکتی ہیں۔”قائداعظم نےکہا تھاجب تک خواتین کاکردار نہ ہوکوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ،کچھ لوگ خواتین کو پیچھے کھینچنا چاہتے ہیں، ترقی نہیں کرنے دیتے، ایسی سوچ کے لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں، ہمارے ہمسایہ ممالک میں موجود ہیں، ان کے لئے سمجھتا ہوں سب سے بہترین جواب یہ خواتین ہیں جو آج گراؤنڈ میں موجود ہیں،بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے فٹ بال گراؤنڈ میں آج موجود ہیں جو حکومت سندھ نے کراچی کی عوام کے لئے منصوبہ شروع کیا، میں فخر کرتا ہوں صوبہ بھر کے نوجوان خاص طور کر صوبہ بھر سے خواتین وہ یہاں کھیلوں کے لئے موجود ہیں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے،خواتین کو برابری کا کردار ملنا چاہئے، شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کے لئے بہت کام کیا اور کہا تھا کہ پاکستانی خواتین جو کرنا چاہیں کر سکتی ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے محنت میں، جدوجہد میں، قربانیوں میں اور شہادت قبول کرنے میں لیاری والے سب سے آگے ہیں۔میں اپنے نوجوانوں کو کھیلتے ہوئے، پڑھتے ہوئے اور روزگار حاصل کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔

    سندھ پنک فٹبال ٹورنامنٹ کا افتتاح،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال گراؤنڈلیاری کے عوام کیلئے تحفہ ہے،سندھ کےہرضلع میں یوتھ سینٹربنائے گئے ہیں

    سندھ پنک فٹ بال ٹورنامنٹ میں سندھ کے مختلف اضلاع سے خواتین کھلاڑیوں کی 16 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان ٹیموں کے درمیان دو گروپوں میں مقابلے ہوں گے، اور ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف خواتین کھلاڑیوں کو کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، بلکہ ان کے لیے ایک قومی سطح پر خود کو ثابت کرنے کا بھی موقع ہے۔

    یہ ٹورنامنٹ پیپلز پارٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو کھیلوں سمیت تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ سندھ حکومت نے ہمیشہ کھیلوں کے شعبے میں خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے ترقی کے راستے کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے سندھ کی خواتین کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بلکہ ان کی سماجی اور معاشی حالت میں بھی بہتری آئے گی۔

    اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد، یہ امید کی جا رہی ہے کہ سندھ سمیت پورے پاکستان میں خواتین کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، جو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کا باعث بنیں گے بلکہ پورے ملک کی کھیلوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔اس اقدام کی مدد سے پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور قدم اٹھایا ہے تاکہ وہ خواتین کی ترقی اور انہیں ہر میدان میں برابری کے حقوق فراہم کر سکے۔

  • پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی ملکی معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے ،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی سازش چل رہی ہے اور اس سازش کا ایک حصہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی ہے جو لاشوں کی سیاست کر رہی ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ "پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے اربوں روپے لابنگ کے ذریعے مختلف عالمی طاقتوں تک پہنچائے جا رہے ہیں”۔ پی ٹی آئی کے رہنما دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ سب ایک اسکرپٹ کے تحت ہو رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے عالمی اداروں اور فورمز پر پاکستان کے خلاف کام کرنے کے لیے منظم لابنگ کی ہے۔ اس لابنگ کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی اور معاشی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کر رہی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ہمیشہ سیاسی مفادات کے لیے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے، جبکہ ان کے بیانات اور اقدامات کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے ملک میں افراتفری پیدا کرنے اور معاشی بحران بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی کارکردگی بارے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے متعدد چیلنجز کے باوجود سندھ حکومت نے عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دی ہے۔ سندھ میں 10 ہزار افراد کو آئی ٹی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکیں اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں۔سندھ حکومت نے 21 لاکھ بے گھر افراد کے لیے مکانات کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت ان افراد کو اپنے گھر دیے جائیں گے۔کراچی شہر میں متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں دو بڑے پراجیکٹس شامل ہیں، جن پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد کراچی کی انفراسٹرکچر کی بہتری اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کر دی گئی ہے تاکہ شہر کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور یہاں کے عوام کو بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ "پی ٹی آئی کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے، اور ان کی سیاسی حربے صرف ملک کی دشمنی میں ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے مختلف مواقع پر اداروں کے خلاف بیانات دیے ہیں جس سے ملک میں مزید سیاسی بحران پیدا ہوا ہے۔ تحریک انصاف نے آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کو خط لکھ کر پاکستان کی اقتصادی امداد بند کرنے کی کوشش کی۔ پی ٹی آئی کی قیادت ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے اور عالمی اداروں کے ساتھ ان کے تعلقات ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔