مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین منفرد یوزر نیم (Username) کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے، جس کے بعد چیٹ کے لیے فون نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا پیر سے صارفین ایپ کے ذریعے اپنا یوزر نیم محفوظ (Reserve) کر سکیں گے، تاہم یہ فیچر لازمی نہیں ہوگا، صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف بھی کر سکیں گے یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ چند معروف شخصیات، سرکاری عہدیداروں اور مشہور ناموں کو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ ہو۔
واٹس ایپ کی ہیڈ آف پروڈکٹ ایلس نیوٹن ریکس نے کہا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر گروپ چیٹس میں، اپنا فون نمبر دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے مطابق یہ فیچر صارفین کو اس بات پر زیادہ اختیار دے گا کہ وہ ایپ پر اپنی شناخت کس طرح ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم صارفین کے پاس بدستور ناپسندیدہ پیغامات بھیجنے والوں کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا اختیار موجود ہوگا۔
دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور کتاب Privacy is Power کی مصنفہ کاریسا ویلز نے کہا کہ اگرچہ یہ فیچر پرائیویسی کے حوالے سے مفید ہے لیکن واٹس ایپ مجموعی طور پر مکمل طور پر پرائیویسی دوست پلیٹ فارم نہیں کیونکہ یہ اشتہارات کے لیے صارفین کا مختلف قسم کا میٹا ڈیٹا، جیسے وہ کس سے اور کب رابطہ کرتے ہیں استعمال کرتا ہے۔
واٹس ایپ نے واضح کیا کہ وہ صارفین کی نجی گفتگو کا مواد اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ تمام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہوتی ہیں اور کمپنی ان کے مندر جات نہیں پڑھ سکتی فیچر کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد صارفین کے فون نمبر دیگر افراد کو نظر نہیں آئیں گے تاہم واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر بدستور ضرور ی ہوگا ، یوزر نیمز کی کوئی عوامی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی۔
