Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • بھارتی فوج کی  تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

    بھارتی فوج کی تشہیری ویڈیو سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

    بھارتی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی مختصر ویڈیو نے صارفین کی توجہ حاصل کر لی-

    سرکاری اکاؤنٹ ADGPI Indian Army سے جاری کی گئی ویڈیو میں رات کے وقت مسلح فوجی اہلکاروں کو اندھیرے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا ہے مناظر میں سب سے نمایاں چیز اہلکاروں کے ہتھیاروں پر لگی روشن لیزر لائٹس ہیں، جو واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔

    ویڈیو کے اندر شامل تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہدف پر پڑنے والی لیزر محض انتباہ نہیں بلکہ حتمی فیصلے کی علامت ہے، جبکہ ایک اور سطر میں رات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

    یہ ویڈیو 4 جنوری 2026 کو شیئر کی گئی اور مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اسے دیکھ لیا، سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کو عسکری حقیقت کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا، جس کے بعد یہ پوسٹ طنزیہ تبصروں اور سخت تنقید کی زد میں آگئی، بنیادی اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ رات کے وقت اسلحے پر اس طرح کی لیزر لائٹس کا استعمال فوجی اہلکاروں کی پوزیشن ظاہر کرسکتا ہے۔

    ‎ایمنسٹی انٹرنیشنل کا 27ویں آئینی ترمیم پر سخت ردِعمل، عدلیہ کی آزادی کو خطرہ قرار

    ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ امریکا میں رہنے والا ایک عام شہری ہے جو کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، مگر اس کے پاس موجود ہتھیار اور سازوسامان اس ویڈیو میں دکھائے گئے سامان سے کہیں بہتر ہیں،ایک صارفے اسے بالی وڈ فلموں سے تشبیہ دی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو 13 سال کے بچوں کو متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہےایک نے سوال اٹھایا کہ کیا نائٹ وژن آلات کے بجائے لیزر استعمال کرنا وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟-

    ایک صارف نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک سینماٹک اور تشہیری ویڈیو ہے، کسی حقیقی یا خفیہ فوجی آپریشن کی فوٹیج نہیں،ایک اور صارف نے مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں بندوقوں پر اسٹار ٹریک جیسی لیزر دکھائی گئی ہیں، حقیقی سرخ نقطے والی لیزر سائٹس فضا میں اس طرح نظر نہیں آتیں جب تک دھواں، دھند یا کوئی ٹھوس ہدف موجود نہ ہو، اس لیے ویڈیو میں دکھائی گئی لیزر عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    جنوبی کوریا: صدر نے گنج پن کو قومی مسئلہ قرار دے دیا

    ایک صارف نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک سے بھی سوال کیا کہ ویڈیو میں مسئلہ کیا ہے۔ گروک نے جواب دیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرخ لیزر سائٹس رات کے وقت فوجیوں کی پوزیشن دشمن پر ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ حقیقی عسکری حکمتِ عملی میں خصوصی دستے نائٹ وژن آلات کے ساتھ نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ لیزرز استعمال کرتے ہیں یہ ویڈیو تشہیری مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عسکری اعتبار سے درست عکاسی نہیں کرتی،ایک اور طنزیہ تبصرے میں کہا گیا کہ دو افراد پر مشتمل گشت کے دوران رائفل پر لائٹ سیبر جیسی روشنی لگانا رات کے وقت پاکستانیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔

    تاحال انڈین فوج یا اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس شدید ردِعمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی-
    ‎غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، خیموں پر بمباری سے پانچ سالہ بچی سمیت دو فلسطینی جاں بحق

  • ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والا ملزم گرفتار

    ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والا ملزم گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو سوشل میڈیا میں بدنام کرنے کی مہم میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق راولپنڈی میں 23 دسمبر 2025 کو کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا، جن کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 26(اے) کے تحت قائم مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار شخص پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی و ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا تھا اور کارروائی کے دوران ملزم کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا اور متعلقہ شواہد ضبط کر لیے گئے،کارروائی ضلع راولپنڈی میں کی گئی جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش این سی سی آئی اے راولپنڈی کے سب انسپکٹر غیور عباس جعفری کر رہے ہیں۔

    روس: ایک اور دھماکے میں دو پولیس افسران سمیت 3 افراد ہلاک

    بھارت کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    حکومت کا آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ

  • سوئٹزرلینڈ  کا بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    سوئٹزرلینڈ کا بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    آسٹریلیا اور ڈنمارک کے بعد اب سوئٹزرلینڈ نے بھی بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ ایلیزابت باؤم شنائیڈر کا کہنا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ ذہنی، نفسیاتی اور سماجی نقصانات سے بچانے کے لیے مزید مؤثر اور سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے پابندی بھی ایک قابل غور آپشن ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر حالیہ پابندی ایک اہم مثال ہے،یورپی یونین اور آسٹریلیا میں اس موضوع پر ہونے والی بحث نے یہ ثابت کر دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اب محض رضاکا ر انہ ضابطے کافی نہیں رہے،سوئٹزرلینڈ بھی یہ پابندی عائد کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

    انہوں نے کہا کہ جن میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عمر کی بنیاد پر پابندی، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور ایسے الگورتھمز کے خلاف کارروائی شامل ہو سکتی ہے جو کم عمر صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس حوالے سے تفصیلی مشاورت آئندہ سال کے آغاز میں شروع کی جائے گی اور اس کی بنیاد ایک جامع تحقیقی رپورٹ ہوگی۔

    ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر منظور احمد انتقال کر گئے

    قبل ازیں 2023 میں چین نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اسکرین ٹائم پر سخت پابندیاں نافذ کیں تھیں جب کہ 2024 میں فرانس اور برطانیہ نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے قوانین مزید سخت کیے،رواں سال آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی نافذ کی جب کہ رواں سال کے آخر میں ڈنمارک نے بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے باضابطہ مشاورت شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    بنگلہ دیش ، بھارت کشیدگی میں اضافہ، دہلی میں قونصلر اور ویزا سروس معطل

  • سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان گرفتار

    اسلام آباد:نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی اسلام آباد نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض ویڈیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ملزمان نے متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر قابلِ اعتراض ویڈیوز ریکارڈ کیں اور بعد ازاں انہیں عوامی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل کیا، متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ کو بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا رہا انکوائری نمبر 1094/25 اور مقدمہ نمبر 340/25 درج کیا گیا، مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 21 بمعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت درج کیاگیا ۔

    گرفتار ملزمان میں محمد شکیل اور شاہینہ بی بی شامل ہیں، تفتیش کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل نمبر ملزمہ کے نام پر رجسٹرڈ تھا ملزمان نے جعلی شناخت کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد کو سوشل میڈیا پر نشر کیا اور مختلف ذرائع سے متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو ارسال کر کے ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق خواتین کی عزت و وقار اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ڈنمار ک کا15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی  کا فیصلہ

    ڈنمار ک کا15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فیصلہ

    ڈنمارک نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو روکنے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں جسے پہلے بل کی صورت اسمبلی میں پیش کیا جائے گااس بل کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور باضابطہ منظوری کے بعد آئندہ برس سے نافذ بھی ہوسکتا ہے۔

    عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک ایک ڈیجیٹل ایویڈنس ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے ذریعے پابندی پر عمل یقینی بنایا جا سکے گا فی الوقت بل کے مندرجات دستیاب نہیں تاہم امکان ہے کہ 13 سال سے 15 سال کی عمر تک بچے والدین کے اکاؤنٹس استعمال کرسکتے ہیں البتہ 13 سال سے 15 سال تک کے عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ ڈنمارک میں 98 فیصد بچے اپنا خود کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں اور ناسمجھی میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں،دوسری جانب حال ہی میں آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی نافذ کی ہے-

  • سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت کا سخت کارروائی کا عندیہ

    سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت کا سخت کارروائی کا عندیہ

    اسلام آباد:وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نا کیا تو کارروائی کی جائے گی،، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی اے آئی اور الگوردم سے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے-

    اسلام آباد میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشتگردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، سوشل میڈیا کمپنیوں کوپہلے بھی کہا تھا پاکستانی قوانین پر عمل کریں۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نا کیا تو کارروائی کی جائے گی، افغانستان کے حکومتی اداروں کے آفیشل اکاونٹس سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلایا جارہا ہےسوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتربنانا ہوں گے اور اگر ایسانا کیا گیا تو پھر ہم کارروائی پر مجبور ہوں گے دہشتگردی پر مبنی سوشل میڈیا اکاونٹس کی پاکستانی ادارے متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، پاکستانی اداروں کی درخواستوں پر مختلف سوشل میڈیا کمپنیاں مختلف جواب بھی دیتی ہیں تاہم اس کی روک تھام نہیں کی جاتی جبکہ کچھ کمپنیوں کا جواب انتہائی کمزور ہوتا ہے۔

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    وزیرمملکت نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا تھا کہ پاکستان میں سروسز کو جاری رکھنے کیلیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو دفاتر کھولنے ہوں گے، انتباہ میں یہ بھی کہا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا دہشتگرد آزادنہ استعمال کررہے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی اے آئی اور الگوردم سے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، دہشت گردی میں ملوث 19اکاؤنٹس بھارت اور 28 افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے تھے، جس پر ایکس اور فیس بک کو شکایت درج کرائی تو انہوں نے انتہائی کمزور رسپانس دیا۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں،چائلڈ پورنو گرافی کا ڈیٹا اور فلسطین سے متعلق کوئی بھی پوسٹ آٹو ڈیلیٹ ہوجاتی ہے تو دہشگردی کا کیوں نہیں ہوتا، مطالبہ کرتے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشگردی میں ملوث اکاؤنٹس اور ان کے مواد کو آٹو ڈیلیٹ کیا جائے۔

    بلاول بھٹو نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

    بیرسٹر عقیل نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا پاکستان کے حوالے سے دہرا معیار ہے، فلسطین کے معاملے پر 24گھنٹوں میں ویڈیو ڈیلیٹ کردی جاتی ہیں، ایکس کی جانب سے دہشتگردی میں ملوث اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریس تک نہیں دیئے جاتے، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا تو برازیل ماڈل کو بھی اپنایا جاسکتا ہے، برازیل ماڈل میں ایکس کو بند کر کے جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ ہم اس معاملے پر عالمی عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔

  • خاتون  اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کیلئے 10ویں منزل کی بالکونی سے لٹک گئی

    خاتون اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کیلئے 10ویں منزل کی بالکونی سے لٹک گئی

    چین کے صوبے گوانگ دونگ میں ایک چینی خاتون کی اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کے لیے بالکونی سے باہر لٹکنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی-

    سوشل میڈیا پر پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چینی خاتون ایک بلند رہائشی عمارت کی 10ویں منزل کی بالکونی سے ایک ہاتھ کی مدد سے لٹک رہی ہے، عینی شاہدین کے مطابق خاتون کئی لمحوں تک خوفناک انداز میں اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہیں، ویڈیو میں ایک نیم برہنہ شخص بھی کھڑکی میں نظر آتا ہے جو خاتون سے بات کرتا ہے اور پھر اندر چلا جاتا ہے۔

    خاتون اپنا موبائل فون ہاتھ میں پکڑے آہستہ آہستہ نیچے والی منزل تک اترنے کی کوشش کرتی ہے اور ڈرین پائپ اور تنگ کناروں کا سہارا لیتی ہے ویڈیو میں اسے نیچے والی کھڑکی پر دستک دیتے بھی دیکھا گیا، جس پر رہائشی نے کھڑکی کھول کر اسے اندر کھینچ لیا۔

    یورپی ملک بلغاریہ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

    مقامی رپورٹس کے مطابق شادی شدہ شخص نے اپنی بیوی کے اچانک گھر لوٹنے پر گھبراہٹ میں اپنی محبوبہ کو بالکونی میں دھکیل دیا، جس کے بعد اس نے عمارت کے باہر سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

    یہ ویڈیو چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی، جہاں صارفین نے اس جوڑے کو ’سوشل ڈیتھ‘ کا شکار قرار دیا اور کہا کہ وہ شدید شرمندگی کا سامنا کریں گے،متعدد صارفین نے خبردار کیا کہ بلند عمارتوں کے بیرونی حصے سے چڑھنا نہایت خطرناک ہے اور ذرا سی لغزش موت کا سبب بن سکتی تھی۔

    عادل راجا نے سابق فوجی افسر سے معافی مانگ لی

    یہ واقعہ برطانیہ میں ہونے والے ایک الگ سانحے کے فوراً بعد پیش آیا ہے، جہاں انتیس سالہ بارٹوز اربانیاک سکیگنیس میں ہالیڈے پارک ایونٹ میں بالکونی سے گر کر ہلاک ہو گئی تھی عینی شاہدین نے بتایا کہ اس نے گرنے سے پہلے بالکونیوں کے درمیان چڑھنے کی کوشش کی جائے وقوعہ پر موجود ایک ٹرینی نرس نے CPR کا انتظام کیا، اور اسے نوٹنگھم میں کوئینز میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، لیکن وہ دو دن بعد سر پر شدید چوٹ لگنے سے انتقال کر گئی۔

  • سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ان تمام افراد کا ڈیٹا جمع کرلیا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی عالیشان زندگی، گاڑیاں، بنگلے اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کیا جائے گا، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو شادیوں پر بے پناہ اخراجات کرتے ہیں لیکن ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔ شادیوں میں 20، 20 ہزار ڈالر کے مہنگے سوٹ پہننے والے بھی ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔

    ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ دولت کی نمائش کرنے والوں کو لازمی طور پر اپنے ذرائع آمدن واضح کرنے ہوں گے۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن اور خرچ میں فرق پایا گیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،جبکہ ایف بی آر گزشتہ سال جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا اس سال کے گوشواروں سے موازنہ کرے گا اگر کسی شخص کی آمدن میں اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا لیکن وہ مسلسل عیاش زندگی گزار رہا ہے یا سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش اشیاء اور تقریبات کی نمائش کر رہا ہے تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا یہ اقدام نان فائلرز اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف مہم کا حصہ ہے تاکہ قومی خزانے میں اضافہ کیا جا سکے اور ٹیکس کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا سکے۔

  • یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب کی جانب سے 15 جولائی سے monetization پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان تبدیلیوں کا مقصد غیر معیاری مواد، بار بار پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز سے آمدنی کے حصول کو ناممکن بنانا ہے جبکہ اوریجنل اور تخلیقی ویڈیوز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائے پی پی) کو 15 جولائی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور تفصیلی گائیڈلائنز جاری کی جائیں گی، جن میں بتایا جائے گا کہ صارفین کس طرح کے مواد سے پیسے کما سکیں گے اور کونسی ویڈیوز سے آمدنی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

    یوٹیوب کی آفیشل اپ ڈیٹ کے مطابق پلیٹ فارم ایسی ویڈیوز کو ہدف بنائے گا جو دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی ہوں یا جن میں معمولی ترمیم کر کے انہیں نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ یوٹیوب نے "غیر مستند” یا "بار بار دہرائے گئے” مواد کی واضح تعریف نہیں دی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان چینلز پر اثر انداز ہوں گی جو بغیر چہرے کے گیمنگ ویڈیوز یا AI سے تیار کردہ آوازوں اور کرداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

    ابھی نئی پالیسیوں کے بارے میں تو تفصیلات موجود نہیں مگر یوٹیوب پیلپ پیج پر وضاحت کی گئی ہے کہ صارفین کو ہمیشہ اوریجنل اور مصدقہ مواد کو اپ لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی نئی پالیسیوں سے صارفین کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کونسا مواد اب غیر مستند ہوگا۔

    غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    کچھ صارفین کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی مختلف اقسام کی ویڈیوز جیسے ری ایکشن ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے،مگر یوٹیوب کے عہدیدار Rene Ritchie نے بتایا کہ ایسا نہیں ہوگا یہ تبدیلیاں وائے پی پی پالیسیوں میں معمولی اپ ڈیٹس کی طرح ہوں گی اور ان کا مقصد غیر معیاری مواد کی شناخت کرنا ہے،جس طرح کے مواد سے آمدنی ممکن نہیں، وہ برسوں سے وائے پی پی پالیسیوں کے تحت monetization کا اہل نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی بدولت یوٹیوب میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کمپنی کی جانب سے بنیادی طور پر غیر معیاری کا لیبل اے آئی ویڈیوز کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہےاس حوالے سے صورتحال 15 جولائی کو واضح ہوگی جب پالیسی گائیڈلائنز کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

    لیاری واقعہ: ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ، 6 افسران زیر حراست

    ایسے میں پاکستانی یوٹیوبرز بھی جو اپنی ویڈیوز میں آے آئی یا گیمنگ ویڈیوز کا استعمال کرتے ہیں اس پالیسی سے خطرے میں پڑگئے ہیں کیونکہ گیمنگ ویڈیوز پر مبنی اور اے آئی سے تیار کردہ آوازوں پر مبنی کئی یوٹیوب چینلز موجود ہیں جو پاکستانی ہیں، جبکہ کئی ایسے یوٹیوب چینلز بھی موجود ہیں جو غیر مستند اور دہرائے گئے مواد پر مبنی ہیں جو اس پالیسی کے باعث اپنی مونیٹائزیشن کھو سکتے ہیں۔

  • محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    پنجاب پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر دی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے،ان میں سے 19 واقعات پر مقدمات درج کر کے 18 قانون شکن افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے فیس بک پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 16 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ واٹس ایپ پر 3 اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 6 ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، گزشتہ 7 روز کے دوران سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کرنے پر مجموعی طور پر 130 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 148 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی پھیلانے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہےمحرم الحرام کے دوران امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت یا اشتعال انگیزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    پنجاب پولیس کا یہ کریک ڈاؤن اس بات کا مظہر ہے کہ ریاست محرم الحرام کے تقدس اور عوامی تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔