Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام، پی ٹی اے نے نیا نظام متعارف کرا دیا

    انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام، پی ٹی اے نے نیا نظام متعارف کرا دیا

    انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام، پی ٹی اے نے نیا نظام متعارف کرا دیا

    پی ٹی اے اب غیر اخلاقی ویب سائٹس کو از خود بلاک کرسکے گا ڈی این ایس نظام کے تحت ویب سائٹس ڈومین کی سطح پر بلاک ہوسکیں گی اس سے قبل ویب سائٹس کی لسٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھجوائی جاتی تھیں ،ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ کا کوئی میکنزم نہیں،نیا نظام غیر اخلاقی مواد کو بلاک کرنے کیلئے بنایا گیا ہے،نئے نظام سے شہریوں کی پرائیویسی پر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا نئے نظام سے انٹرنیٹ کی رفتار پر بھی فرق نہیں پڑے گا،ویب سائٹس بلاک کے خود کار نظام سے وقت کی بچت ہوگی،

    واضح رہے کہ غیر اخلاقی مواد کے خاتمے کے لئے پی ٹی اے نے یوٹیوب کو بھی لکھا تھا، غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ پر موجود ہونے کے باعث پاکستان کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ غیر اخلاقی مواد کو انٹرنیٹ سے ختم کیا جائے،

    موجودہ حکومت نے بھی غیر اخلاقی مواد انٹرنیٹ سے ختم کرنے کے حوالہ سے اہم پالیسی بنائی ہے، حکومت نے لوگوں کو بدنام کرنے اور غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کیا ہے ،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد پھیلانے والوں کو گرفتارکریں گے وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ایسے مواد کو برداشت نہ کیا جائے سوشل میڈیا کو لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے ایسے واقعات کی روک تھام کرنی ہے جس میں ایسے مواد کو بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ہم ایسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گےغیر اخلاقی ویڈیوزاور تصاویر سمیت اس قسم کا گند پھیلانے والوں کا صفایا کریں گے اس سلسلے میں ایف آئی اے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    طالبات کو ہراساں،زبردستی شراب پلائی جاتی،ڈاکٹر خاتون ننگے پاؤں عدالت پہنچ گئی

  • مطمئن کریں قانون میں کیا غیر آئینی ہے جس کو یہ عدالت دیکھے؟ عدالت

    مطمئن کریں قانون میں کیا غیر آئینی ہے جس کو یہ عدالت دیکھے؟ عدالت

    مطمئن کریں قانون میں کیا غیر آئینی ہے جس کو یہ عدالت دیکھے، عدالت
    جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواست پر سماعت ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی کردی ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی صحافی سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرتا ہے، سیریس الزام لگاتا ہے تو اس کا کیا ہو گا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کوئی کسی پر توہین مذہب کا الزام لگاتا ہے کیا یہ درست ہے؟ آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ریگولرجرنلسٹس کی حد تک ہے ؟ سوشل میڈیا کیا اس میں کور نہیں ہے؟ پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے معاملہ زیر التوا ہے ان کو کچھ وقت دے دیتے ہیں، میرے خیال میں آپ تو نہیں کہیں گے کہ کوئی صحافی غلط یا اشتعال انگیزی پھیلا سکتا ہے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ اس میں کونسی چیز غیر آئینی ہے جس کو اس عدالت کو کالعدم قرار دینا چاہیے؟ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کی اس کو یہ عدالت کالعدم قرار دے دے؟ عدالت کو مطمئن کریں قانون میں کیا غیر آئینی ہے جس کو یہ عدالت دیکھے،

    آئین شکنی، اب لگے گا عمران خان اور اسکے ہمنواؤں پر آرٹیکل 6، تیاریاں شروع

    سپیکرکی رولنگ غلط، پیچھے موجود تمام افراد پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے،قمرزمان کائرہ

    گرفتاری کا خوف، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عدالت پہنچ گئے

    مریم نواز کی جعلی ویڈیو پوسٹ کرنیوالا پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    سوشل میڈیا پر غیراخلاقی ویڈیوز چلانے والوں کیخلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے

  • کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    کیا حامد میر ملک چھوڑ کر باہر جانے والے ہیں؟

    سوشل میڈیا پر آئے روز آپ کو کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا ماسوائے فیک نیوز پھیلانے کے اسی طرح آج کل سینئر صحافی حامد میر سے متعلق جھوٹی خبر پھیلائی جارہی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں باہر جارہے ہیں۔
    اسی فیک خبر کا سہارا لیتے ہوئے ایک خودساختہ ٹی وی اینکر حفصہ فیاض نے دعوی کیا کہ: اینکرپرسن سلیم صافی کا استعفی دینے کی اطلاعات ہیں جبکہ صحافی حامد میر کا ایک ماہ چھٹی لیکر باہر جانے کی بھی اطلاع ہے۔

    اس خاتون نے مزید دعوی کیا کہ: ایک معروف چینلز کے تین سینئر اینکرز بھی استعفی دے چکے اور کسی بیرون ملک چلے گئے۔

    اس خاتون کے دعوی کی تردید کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ: "عمران خان کے دور حکومت میں مجھ پر نو ماہ پابندی رہی لیکن میں پاکستان سے نہیں بھاگا تو اس دور میں کیوں بھاگوں گا؟ ہر دور میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، آج کل بھی کچھ مشکلات ہیں لیکن میں چھٹی لیکر کہیں نہیں جا رہا ہوں۔”
    حامد میر نے مزید کہا کہ: عمران خان کے دور میں بھی کچھ سیاستدانوں کے انٹرویو سنسر کرائے جاتے تھے اس دور میں بھی کچھ شخصیات کے انٹرویو کرنا مشکل ہے مثال کے طور پر منظور پشتین کا انٹرویو نشر کرنا بہت مشکل ہے منظور پشتین پر وہی مقدمات ہیں جو عمران خان پر بھی ہیں لیکن ایک ٹی وی پر آ سکتا ہے دوسرا نہیں۔


    حامد میر کی تردید کے بعد شبیر جان نے انہیں لکھا کہ: عمران خان کے دور میں آپ پر پابندی جیو نے لگائی تھی ناکہ عمران خان نے اور اگر جیو نے نہیں لگائی تو پھر جنرل رانی نے لگائی ہوگی جس کا آپ نے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا۔

    اسلام آباد کے صحافی سید عون شیرازی کہتے ہیں کہ: جس حامد میر کو میں جانتا ہوں اُسکا جینا مرنا اسی ملک میں ہے کیونکہ حامد میر جی دار آدمی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: حامد میر پر ہر دور میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور انہیں سرخرو ہونےکی عادت ہے۔

  • سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    گزشتہ 18 جون کی شب معروف اینکرپرسن سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں بلایا جس میں ان سے نقیب اللہ محسود کےقتل سمیت متعددپولیس مقابلوں پرسوالات کئے جس پر سابق ایس ایس پی نے اینکر کو جواب دیا کہ : ” میں پورے پاکستان کو چیلنج کرتاہوں کہ اگر کوکوئی نقیب اللہ ولد محمدخان کا شناختی کارڈ یا فارم (ب) لے آئے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں راؤانوار نے بتایا: "پولیس والے کاویسے بھی ففٹی فٹفی ہوتا ہے، ایک چور آتاہے اور ایک شریف آدمی اب پولیس والا چور کاساتھ دے تو شریف آدمی ناراض اور شریف آدمی کا ساتھ دو تو چور ناراض ہوجاتا ہے۔”

    قبائلی نوجوان نوید الحق اورکزئی نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ: آخر سلیم صافی کو کیاضرورت ہے کہ ہزاروں لوگوں کے قاتلوں کو ہی اپنے پروگرام میں بلاتا ہے ؟ سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاکر کوئی پہلی بار کسی قاتل کا انٹرویو نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ہزاروں لوگوں اور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے قاتل اور ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرچکے ہیں۔

    نوید نے مزید کہا کہ : بطور ایک قبائلی پختون مجھے دکھ ہوا کہ ایک پختون صحافی ہونے کی حثیت سے سلیم صافی نے صرف نقیب اللہ محسود کے قاتل کا ہی نہیں بلکہ چار سو زائد بےگناہوں کے قاتل کا انٹرویو کیا۔ لہذا انہیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ قاتلوں کا انٹرویو ہی کیوں کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ یہ ذمہ دار ی میڈیا کے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے متنازعہ اور مجرموں کی انٹرویو ز نشر نہ کرے ۔

    لیکن سلیم صافی نے اپنا موقف پیش کرتےہوئے کہاکہ:” کسی کا انٹرویو کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس انسان کے ہمنوا بن گئے ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتےہوئے بتایاکہ میں اپنے پروگرام میں شبلی فراز کو نہیں بلاتا تھا لیکن جب وہ حکومتی ترجمان بن گئے تو پھر ان کا موقف لینا میری مجبوری بن گیا اسی طرح اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا مگر انکے انٹرویوز سی این این اور الجزیرہ پر نشر کئے جاتے تھے۔

    صحافی فیض اللہ لکھتے ہیں کہ: "راؤ انوار کا انٹرویو ہوسکتا ہے مگر اسکے خلاف پانچ برس سے احتجاج کرتے مظاہرین کو دس سیکنڈ کے لئیے دکھایا جاسکتا ہے نا ہی انکا ایک منٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے اسے کہتے ہیں اظہار رائے کی آزادی کا شاندار نمونہ۔”


    ایک صارف شبانہ شوکت لکھتی ہے کہ: "کیا یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ نہیں کہ راؤ انوار جیسے سرکاری قاتل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں؟”


    اینکرپرسن سلیم صافی نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: میرے ساتھ انٹرویو میں سابق ایس ایس پی راو انوار نے جو دعوے کئے تھے، اسکےجواب میں ایم کیوایم پاکستان کے فاروق دادا مرحوم کی اہلیہ کا موقف ۔۔۔۔انٹرویو میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی اپنا موقف دینا چاہے تو میرے سوشل میڈیا پلیٹ فورم حاضر ہیں۔


    ایک ٹوئٹرصارف ذیشان ممتاز نے ناقدین کے جواب پرسلیم صافی کو کہا کہ:
    جس پلیٹ فارم میں قاتل کا انٹرویو کیا انصاف کا تقاضہ ہے اسی پلیٹ فارم پر ان کی دیگر جس پر قاتل نے الزام لگایا موقع دیں ورنہ یہ ڈھونگ نہ کریں اور مظلوموں پر نمک پاشی نہ کریں

  • فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنماء فواد حسین چودھری نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ: "رات ہرنائی بلوچستان میں مزدوروں کے کیمپ پر حملہ ہوا نہتے مزدور شہید ہوئے، ان حملوں پر خاموش دہشت گردوں کے حمایتی کراچی، لاہور، اسلام آباد میں مسنگ پرسنز کی گردانیں پڑھتے ہیں۔ ریاست کی کمزوری ہے ان کو پٹہ نہیں ڈالا جاتا دہشت گردوں کے حمایتیوں کو دہشت گرد سمجھا جانا چاہئے۔”


    فواد چودھری کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے کہا کہ: ‏فواد چوہدری آپ جتنا محکوم قوموں کے اذیتوں پر بیان بازی کرو، آپکا آقا آپ سے پھر بھی خوش نہیں ہوگا۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لو کہ آپ اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لئے جو بیانات آپ داغ رہے لہذا اب انکی نظروں میں آپکی اوقات ایک استعمال شدہ ٹشو پیپر جیسی ہے۔


    ایک صارف سعد خان نے لکھا کہ: ‏بطور ایک پاکستانی بلوچ بھی ہمارے بھائی ہیں لہذ آپ اور آپکی جماعت کی جانب ایسے بیانات بلوچ بھائیوں کے لئے تکلیف کا باعث ہیں۔ کیونکہ بلوچ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور گزشتہ رات ہرنائی میں ہونے والے واقع کی پرزور مذمت کرتے ہیں.

    صحافی کیا بلوچ نے سابق وفاقی وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ‏اسی نظریے نے بلوچستان میں ڈائیلاگ کے تمام دروازے بند کئے ہیں۔ حملے کو لاپتہ افراد سے جوڑنا تعصب ہے اور جب ہزارہ یا احمدیوں پر حملے ہوتے ہیں تو آپ مجرموں اور ان کے سہولت کاروں یا اُنکے آقاؤں کا نام لینے کی ہمت کیوں نہیں کر سکتے جن کے ساتھ آپ لنچ اور ڈنر پر ٹیبل شیئر کرتے ہیں۔


    سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے فواد چودھری کو چمچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ” موصوف فواد چودھری وزیر قانون رہے ہیں جو لاپتہ افراد کے جاری انسانی المیے کو دھشت گردی سے جوڑ کر ان شہریوں کی بازیابی میں اپنی حکومت کی ناکامی اور بزدلی کا جواز پیش کر رہے ہیں اور ان بوٹ چاٹ لوگوں کے منہ کا ذائقہ جا نہیں رہا اسی لیے کبھی اسٹیبلشمنٹ پر امریکی سازش کا الزام اور کبھی چمچہ گیری۔”

  • خیبرپختونخواہ:1360سوشل میڈیا ماہرین بھرتی:25 ہزارماہانہ تنخواہ

    خیبرپختونخواہ:1360سوشل میڈیا ماہرین بھرتی:25 ہزارماہانہ تنخواہ

    پشاور:خیبرپختونخواہ:فیک اورجھوٹ کا مقابلہ:1360سوشل میڈیا ماہرین بھرتی:25 ہزارماہانہ تنخواہ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں تقریباً 1360 سوشل میڈیا انفلوینسر (SMI) بھرتی کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ نئے بھرتی ہونے والے ایس ڈی آئی صوبائی حکومت کے خلاف جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں گے۔سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے افراد عوامی مفاد کی حکومتی اصلاحات کے بارے میں نچلی سطح تک آگاہی بھی پھیلائیں گے۔سوشل میڈیا شراکتی پلیٹ فارم پراجیکٹ کے لیے 73کروڑ60لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ہرسوشل میڈیا انفلوینسر کو25000 روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔

    دوسری طرف کے پی حکومت کی طرف سے اس عمل کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے سوشل میڈیا انفلوینسرز کی بھرتی کو سیاست میں انتشار پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔فیک اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کےلیے صوبائی حکومت نے پشاور، مردان، چارسدہ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، چترال لوئر، ہنگو، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان اپر، لکی مروت، مالاکنڈ، مانسہرہ، نوشہرہ، شانگلہ، صوابی، سوات، ٹانک، تور غر، کوہستان لوئر، باجوڑ، خار، خیبر، کرم، مہمند، شمالی وزیرستان، اورکزئی، جنوبی وزیرستان، ایف آر بنوں، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان۔ ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر پشاور، ایف آر ٹانک، کولائی پالس، اور چترال اپر سے1360سوشل میڈیا انفلوئنسر کی بھرتی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    ن لیگ کے پی کے مخلص ساتھیوں کے ساتھ ہاتھ ہونا شروع ہوگیا:بغاوت بھی شروع

    میڈیا ذرائع سے ملنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے لیے 870 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی تھی تاہم نظر ثانی پی سی ون کے مطابق اب اس پراجیکٹ پر 736ملین روپے خرچ ہوں گے ۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد اصلاحاتی اقدامات اور شہری ذمہ داریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عوامی آگاہی کے لیے سوشل میڈیا شراکتی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے۔

    پراجیکٹ کا مقصد عوامی مفاد میں اصلاحات اور جعلی خبروںاورمن گھڑت اطلاعات کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی سطح تک آگاہی پھیلانا ہے۔ تمام میڈیا انفلوینسر حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ صوبائی حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا بھی مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں عوامی خدمات کی فراہمی میں خامیوں کو اجاگر کرنے کا اہم کام بھی ان نوجوانوں کو سونپا ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عوامی شکایات کابھی سراغ لگائیں گے اور حکومت کو معلومات فراہم کریں گے ۔

    پی ڈی ایم نے پورے ملک کو ہلاکررکھ دیا:وفاق،پنجاب کے بعد کے پی میں عدم اعتماد

    وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سستا ہے اور ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہے۔ نوجوان حکومت کو پولیو اور دیگر مہمات کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے میں مدد کریں گے۔پرا جیکٹ کے لئے ایک پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری کی گئی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی سربراہ سردار حسین بابک کہتے ہیں‌ کہ پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہےتحریک انصاف نے پچھلے نو سالوں کے اندر تمام اداروں کے بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو بھرتی کردیا ہے ۔حکومت ان نوجوانوں کو اداروں اور شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرے گی۔ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا ٹیم کو سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ محکمہ اطلاعات کی موجودگی میں سوشل میڈیا کے لیے 1400 افراد کو بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

    کے پی حکومت نے زر علی کو سوشل میڈیا پارٹیسیپیٹری پلیٹ فارم کا پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کررکھا ہے،وہ کہتے ہیں کہ مجموعی طورپر 9379 سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جس کے لئے قابلیت کا معیار انٹرمیڈیٹ یا آئی ٹی میں ڈپلومہ مقر رکیا گیا تھا تاہم امیدوار کے پاس کسی بھی سوشل میڈیا میں ایک ہزار کے قریب فالورز کا ہونا ضروری تھی۔تقریباً 3692 امیدوار معیار کے لیے اہل پائے گئے۔

    ے پی حکومت نے نسوار میں استعمال ہونے والے تمباکو پرٹیکس عائد کر دیا

  • صحیفہ جبار نے کردی سوشل میڈیا صارفین کو نصیحت

    صحیفہ جبار نے کردی سوشل میڈیا صارفین کو نصیحت

    اداکارہ صحیفہ جبار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ آج کل ہر کوئی سوشل میڈیا پر کھلے ہاتھ سے لکھتا ہے یہ بھی نہیں سوچتا کہ جو لکھ رہا ہوں وہ کل کو کسی کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ۔ہر کوئی ہر کسی کی ذاتی زندگی کیا ہر ایشو پر اپنے ٹویٹس اور پوسٹوں کے زریعے تبصرہ کررہا ہوتا ہے یہ چیز مجھے اچھی نہیں لگتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کس نے حق دیا ہے کہ ہم کسی کا مذاق بنائیں ،کسی پر الزام لگائیں کسی کو نیچا دکھائیں یا کسی کی ذاتی زندگی کو پبلک کر دیں ۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ آج اگر ہم کسی کو گندا کررہے ہیں کل کو یہ وقت ہم پہ بھی آسکتاہے کل کو ہم پہ بھی تنقید ہو سکتی ہے۔برا وقت کسی پہ بھی اور کبھی بھی آسکتا ہے ۔صحیفہ نے مزید کہا کہ بہت سارے لوگوں نے سوشل میڈیا صارفین سے پیسے ہتھیانے کے لئے جعلی اکاﺅنٹس بنا رکھے ہیں لہذا لوگ بےوقوف نہ بنیں۔

    یاد رہے کہ جب سے سوشل میڈیا نے زور پکڑا ہے اب کوئی معمولی معاملہ بھی ایسی ہوا پکڑتا ہے کہ بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے فریقین کو صفائیاں دینی پڑتی ہیں اور کئی لوگ تو اس سارے سلسلے سے اتنے ڈپریس ہوجاتے ہیں کہ انہیں اپنا ہی خیال نہیں رہتا اس کی تازہ مثال ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی ہے جنکی اہلیہ نے انکی پرائیویٹ زندگی کو پبلک ایسا کیا کہ وہ کسی سے بھی ملنے سے احتراز کرنے لگے تھے۔

  • مشی خان کا عامر لیاقت سے سوال

    مشی خان کا عامر لیاقت سے سوال

    اداکارہ مشی خان جو ایک عرصہ سے اداکار ی کرتی تو نہیں دکھائی دے رہی ںلیکن دوسروں پر تنقید کرتی ضرور نظرآتی ہیں ۔مشی خان سیاسی طور پر عمرا ن خان کی بہت بڑ ی سپورٹر ہیں ان کا بس چلے تو وہ ہر ااس انسان کا منہ نوچ لے جو عمرا ن خان کو سپورٹ نہیں کرتا ۔ڈاکٹر عامر لیاقت جو پہلے عمران خان کے ساتھ تھے لیکن اب وہ ان کے خلاف بات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور یہ چیز شاید مشی خان کو کھل رہی ہے اس لئے وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور برس پڑتی ہیں ڈاکٹر عامر لیاقت پر۔ حال ہی میں اداکارہ نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے جب سوال ہواکہ آپ کو ڈاکٹر عامر لیاقت کی شادیوں سے کیا مسئلہ ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے بس میں تو یہ کہتی ہوں کہ وہ اپنی شادیوں کے بعد اپنی بیویوں کے ساتھ تصاویر ہمیں کیوں دکھاتے ہیں؟ ٹاک ٹاک شئیر کرکے ہمیں کیوں دکھاتے ہیں وہ یہ سب کریں لیکن اپنے تک رکھیں ہمیں نہ دکھائیں اور وہ ایک نہیں چاہے ہزار شادیاں کریں ہمیں کیا مسئلہ ہے ۔اس انٹرویو میں مشی خان نے عامر لیاقت کا ایک بیان بھی انہیں یاد دلایا اور پوچھا کہ آپ نے تو باہر جانا تھا کیا ہوا آپ کے باہر جانے کے پلان کا؟ کیا کسی نے روک لیا ہے؟

  • وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے والاملزم گرفتار

    وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے والاملزم گرفتار

    وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے والاملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے ٹویٹر پر فیک اکاؤنٹ بنایا گیا تھا، ٹویٹر اکاؤنٹ ویریفائڈ تھا اور صارف رمیز راجہ لائیو نے نام بدل کر شہباز شریف رکھ لیا اور تصویر بھی وزیراعطم شہباز شریف کی لگا دی، رمیز راجہ لائیو کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ بھی کی جا رہی تھی، تا ہم اب اس صارف کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

     

    وزیراعظم شہباز شریف کے فوکل پرسن ابوبکر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنانے والے صارف کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے ، ابوبکر کی جانب سے بھی ایک ٹوئٹ سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اختلاف قبول ہے لیکن غلط معلومات نہیں ابوبکر نے اپنی ٹوئٹ میں صارف کے اکاؤنٹ اور شہباز شریف کے نام سے بنائے جانے والے اکاؤنٹ کی تصویر شیئر کی اور بتایا کہ جعلی اکاؤنٹ بنانے والے صارف (رمیز راجا لائیو ) کو عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ملزم نے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے

    دوسری جانب رمیز راجہ لائیو نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر باغی ٹی وی کا لنک پروفائل میں لگا رکھا ہے، ادارہ باغی ٹی وی کا ایسے کسی بھی نوسرباز سے کوئی تعلق نہیں ہے، باغی ٹی وی فیک اکاؤنٹس اور خصوصا پروپیگنڈہ کرنے والے اکاؤنٹس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،

    باغی ٹی وی پر بلاگز لکھنے والے بلاگر بھی جو اپنی پروفائل میں باغی ٹی وی کا ہینڈل لکھ رہے ہیں وہ باغی ٹی وی کے امپلائی نہیں ، بلکہ وہ اعزازی طور پر بلاگز لکھتے رہے، ایسے تمام افراد کی ٹویٹس اور ٹویٹر پر انکے کام کا ادارہ ذمہ دار نہیں ہے ،باغی ٹی وی ایسے تمام افراد کو متنبہ کرتا ہے کہ جن صارفین کا باغی ٹی وی سے تعلق نہیں وہ اپنے ٹویٹر پروفائل سے باغی ٹی وی کا ہینڈل ختم کر دیں، بصورت دیگر ادارہ انکے خلاف قانونی کاروائی کا مجاز ہو گا،

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    وادی تیراہ میں ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی اشتراک سے "باغ امن میلہ” کا انعقاد

  • عمران خان اداروں کے درمیان بد اعتمادی پیدا کر رہے ہیں ،احسن اقبال

    عمران خان اداروں کے درمیان بد اعتمادی پیدا کر رہے ہیں ،احسن اقبال

    عمران خان اداروں کے درمیان بد اعتمادی پیدا کر رہے ہیں ،احسن اقبال
    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریسرچ کے شعبے میں کام کرنا بہت ضروری ہے اللہ نے بھی قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے کاحکم دیا ہے

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہمیں جامعات میں علم کی جدت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ،11صدی عیسوی تک مسلمان سائنسدان اپنے عروج پر تھے، جب تک مسلمان تفکر اور تدبر سے کام لیتے رہے کامیابی رہی، اسلام نے علم کے خلاف کبھی اپنی طاقت کا استعمال نہیں کیا،

    موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان اداروں کے درمیان بد اعتمادی پیدا کر رہے ہیں ،عمران خان پاکستان دشمن لابی کی سیاست ہے،ہائبرڈ وار میں ٹارگٹ کنٹری کے اداروں کو کمزور کرنا ہوتا ہے عمرا ن خان ہائبرڈ وار کے ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں، عمرا ن خان 2014 سے انتشار کی کوشش کررہے ہیں،عمران خان کو انارکی پھیلا کر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عمران نیازی کی سوشل میڈیا ٹیم پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے،عمران خان کو آئین اور قانون کے مطابق سیاست کی اجازت ہے پاکستان میں اگلے الیکشن کا فیصلہ اتحادی حکومت کرے گی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کا حساب 4 ہفتے کی حکومت نے نہیں دینا گوادر بندرگاہ کے لیے پروپوزلز توآگئے لیکن فنڈز نہیں دیئے گئے ،2020  تک 9 صنعتی زونز تیارکرنے تھے ،ایک بھی نہیں ہوا،460 ارب روپے کے منصوبوں کا 91 ارب سے کیا ہو سکتا ہے،کوئی ہمیں میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا،پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ پی ٹی آئی نے عوام دشمن معاہدہ کیا،نئے پاکستان کی فلم ختم ہوئی تو آزادی پاکستان کی فلم شروع کردی گئی افراط زر پر قابو پانے پر کچھ وقت لگے گا عمران حکومت کے تباہ کن اثرات کچھ سال مزید رہیں گے،جو بے یقینی پھیلائی جارہی ہے وہ گزشتہ 4سالوں کا تسلسل ہے ایک ماہ کے اندر معاشی استحکام پیدا نہیں کیا جا سکتا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک