Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • ڈنمار ک کا15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی  کا فیصلہ

    ڈنمار ک کا15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فیصلہ

    ڈنمارک نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو روکنے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں جسے پہلے بل کی صورت اسمبلی میں پیش کیا جائے گااس بل کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور باضابطہ منظوری کے بعد آئندہ برس سے نافذ بھی ہوسکتا ہے۔

    عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک ایک ڈیجیٹل ایویڈنس ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے ذریعے پابندی پر عمل یقینی بنایا جا سکے گا فی الوقت بل کے مندرجات دستیاب نہیں تاہم امکان ہے کہ 13 سال سے 15 سال کی عمر تک بچے والدین کے اکاؤنٹس استعمال کرسکتے ہیں البتہ 13 سال سے 15 سال تک کے عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    واضح رہے کہ ڈنمارک میں 98 فیصد بچے اپنا خود کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں اور ناسمجھی میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں،دوسری جانب حال ہی میں آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی نافذ کی ہے-

  • سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت کا سخت کارروائی کا عندیہ

    سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت کا سخت کارروائی کا عندیہ

    اسلام آباد:وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نا کیا تو کارروائی کی جائے گی،، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی اے آئی اور الگوردم سے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے-

    اسلام آباد میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشتگردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، سوشل میڈیا کمپنیوں کوپہلے بھی کہا تھا پاکستانی قوانین پر عمل کریں۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نا کیا تو کارروائی کی جائے گی، افغانستان کے حکومتی اداروں کے آفیشل اکاونٹس سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلایا جارہا ہےسوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتربنانا ہوں گے اور اگر ایسانا کیا گیا تو پھر ہم کارروائی پر مجبور ہوں گے دہشتگردی پر مبنی سوشل میڈیا اکاونٹس کی پاکستانی ادارے متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، پاکستانی اداروں کی درخواستوں پر مختلف سوشل میڈیا کمپنیاں مختلف جواب بھی دیتی ہیں تاہم اس کی روک تھام نہیں کی جاتی جبکہ کچھ کمپنیوں کا جواب انتہائی کمزور ہوتا ہے۔

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    وزیرمملکت نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا تھا کہ پاکستان میں سروسز کو جاری رکھنے کیلیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو دفاتر کھولنے ہوں گے، انتباہ میں یہ بھی کہا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا دہشتگرد آزادنہ استعمال کررہے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی اے آئی اور الگوردم سے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، دہشت گردی میں ملوث 19اکاؤنٹس بھارت اور 28 افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے تھے، جس پر ایکس اور فیس بک کو شکایت درج کرائی تو انہوں نے انتہائی کمزور رسپانس دیا۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں،چائلڈ پورنو گرافی کا ڈیٹا اور فلسطین سے متعلق کوئی بھی پوسٹ آٹو ڈیلیٹ ہوجاتی ہے تو دہشگردی کا کیوں نہیں ہوتا، مطالبہ کرتے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دہشگردی میں ملوث اکاؤنٹس اور ان کے مواد کو آٹو ڈیلیٹ کیا جائے۔

    بلاول بھٹو نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

    بیرسٹر عقیل نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا پاکستان کے حوالے سے دہرا معیار ہے، فلسطین کے معاملے پر 24گھنٹوں میں ویڈیو ڈیلیٹ کردی جاتی ہیں، ایکس کی جانب سے دہشتگردی میں ملوث اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریس تک نہیں دیئے جاتے، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا تو برازیل ماڈل کو بھی اپنایا جاسکتا ہے، برازیل ماڈل میں ایکس کو بند کر کے جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ ہم اس معاملے پر عالمی عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔

  • خاتون  اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کیلئے 10ویں منزل کی بالکونی سے لٹک گئی

    خاتون اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کیلئے 10ویں منزل کی بالکونی سے لٹک گئی

    چین کے صوبے گوانگ دونگ میں ایک چینی خاتون کی اپنے آشنا کی بیوی سے بچنے کے لیے بالکونی سے باہر لٹکنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی-

    سوشل میڈیا پر پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چینی خاتون ایک بلند رہائشی عمارت کی 10ویں منزل کی بالکونی سے ایک ہاتھ کی مدد سے لٹک رہی ہے، عینی شاہدین کے مطابق خاتون کئی لمحوں تک خوفناک انداز میں اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہیں، ویڈیو میں ایک نیم برہنہ شخص بھی کھڑکی میں نظر آتا ہے جو خاتون سے بات کرتا ہے اور پھر اندر چلا جاتا ہے۔

    خاتون اپنا موبائل فون ہاتھ میں پکڑے آہستہ آہستہ نیچے والی منزل تک اترنے کی کوشش کرتی ہے اور ڈرین پائپ اور تنگ کناروں کا سہارا لیتی ہے ویڈیو میں اسے نیچے والی کھڑکی پر دستک دیتے بھی دیکھا گیا، جس پر رہائشی نے کھڑکی کھول کر اسے اندر کھینچ لیا۔

    یورپی ملک بلغاریہ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا

    مقامی رپورٹس کے مطابق شادی شدہ شخص نے اپنی بیوی کے اچانک گھر لوٹنے پر گھبراہٹ میں اپنی محبوبہ کو بالکونی میں دھکیل دیا، جس کے بعد اس نے عمارت کے باہر سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

    یہ ویڈیو چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی، جہاں صارفین نے اس جوڑے کو ’سوشل ڈیتھ‘ کا شکار قرار دیا اور کہا کہ وہ شدید شرمندگی کا سامنا کریں گے،متعدد صارفین نے خبردار کیا کہ بلند عمارتوں کے بیرونی حصے سے چڑھنا نہایت خطرناک ہے اور ذرا سی لغزش موت کا سبب بن سکتی تھی۔

    عادل راجا نے سابق فوجی افسر سے معافی مانگ لی

    یہ واقعہ برطانیہ میں ہونے والے ایک الگ سانحے کے فوراً بعد پیش آیا ہے، جہاں انتیس سالہ بارٹوز اربانیاک سکیگنیس میں ہالیڈے پارک ایونٹ میں بالکونی سے گر کر ہلاک ہو گئی تھی عینی شاہدین نے بتایا کہ اس نے گرنے سے پہلے بالکونیوں کے درمیان چڑھنے کی کوشش کی جائے وقوعہ پر موجود ایک ٹرینی نرس نے CPR کا انتظام کیا، اور اسے نوٹنگھم میں کوئینز میڈیکل سینٹر لے جایا گیا، لیکن وہ دو دن بعد سر پر شدید چوٹ لگنے سے انتقال کر گئی۔

  • سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ان تمام افراد کا ڈیٹا جمع کرلیا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی عالیشان زندگی، گاڑیاں، بنگلے اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کیا جائے گا، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو شادیوں پر بے پناہ اخراجات کرتے ہیں لیکن ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔ شادیوں میں 20، 20 ہزار ڈالر کے مہنگے سوٹ پہننے والے بھی ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔

    ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ دولت کی نمائش کرنے والوں کو لازمی طور پر اپنے ذرائع آمدن واضح کرنے ہوں گے۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن اور خرچ میں فرق پایا گیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،جبکہ ایف بی آر گزشتہ سال جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا اس سال کے گوشواروں سے موازنہ کرے گا اگر کسی شخص کی آمدن میں اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا لیکن وہ مسلسل عیاش زندگی گزار رہا ہے یا سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش اشیاء اور تقریبات کی نمائش کر رہا ہے تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا یہ اقدام نان فائلرز اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف مہم کا حصہ ہے تاکہ قومی خزانے میں اضافہ کیا جا سکے اور ٹیکس کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا سکے۔

  • یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب آمدنی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی

    یوٹیوب کی جانب سے 15 جولائی سے monetization پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان تبدیلیوں کا مقصد غیر معیاری مواد، بار بار پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز سے آمدنی کے حصول کو ناممکن بنانا ہے جبکہ اوریجنل اور تخلیقی ویڈیوز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،یوٹیوب پارٹنر پروگرام (وائے پی پی) کو 15 جولائی کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور تفصیلی گائیڈلائنز جاری کی جائیں گی، جن میں بتایا جائے گا کہ صارفین کس طرح کے مواد سے پیسے کما سکیں گے اور کونسی ویڈیوز سے آمدنی کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

    یوٹیوب کی آفیشل اپ ڈیٹ کے مطابق پلیٹ فارم ایسی ویڈیوز کو ہدف بنائے گا جو دوسروں کے مواد کی نقل پر مبنی ہوں یا جن میں معمولی ترمیم کر کے انہیں نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو اگرچہ یوٹیوب نے "غیر مستند” یا "بار بار دہرائے گئے” مواد کی واضح تعریف نہیں دی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان چینلز پر اثر انداز ہوں گی جو بغیر چہرے کے گیمنگ ویڈیوز یا AI سے تیار کردہ آوازوں اور کرداروں پر انحصار کرتے ہیں۔

    ابھی نئی پالیسیوں کے بارے میں تو تفصیلات موجود نہیں مگر یوٹیوب پیلپ پیج پر وضاحت کی گئی ہے کہ صارفین کو ہمیشہ اوریجنل اور مصدقہ مواد کو اپ لوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی نئی پالیسیوں سے صارفین کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کونسا مواد اب غیر مستند ہوگا۔

    غییر ضروری فیسوں کے مطالبات، نجی تعلیمی اداروں کیلئے سخت گائیڈ لائنز جاری

    کچھ صارفین کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی مختلف اقسام کی ویڈیوز جیسے ری ایکشن ویڈیوز سے ہونے والی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے،مگر یوٹیوب کے عہدیدار Rene Ritchie نے بتایا کہ ایسا نہیں ہوگا یہ تبدیلیاں وائے پی پی پالیسیوں میں معمولی اپ ڈیٹس کی طرح ہوں گی اور ان کا مقصد غیر معیاری مواد کی شناخت کرنا ہے،جس طرح کے مواد سے آمدنی ممکن نہیں، وہ برسوں سے وائے پی پی پالیسیوں کے تحت monetization کا اہل نہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی بدولت یوٹیوب میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کمپنی کی جانب سے بنیادی طور پر غیر معیاری کا لیبل اے آئی ویڈیوز کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہےاس حوالے سے صورتحال 15 جولائی کو واضح ہوگی جب پالیسی گائیڈلائنز کو باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔

    لیاری واقعہ: ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ، 6 افسران زیر حراست

    ایسے میں پاکستانی یوٹیوبرز بھی جو اپنی ویڈیوز میں آے آئی یا گیمنگ ویڈیوز کا استعمال کرتے ہیں اس پالیسی سے خطرے میں پڑگئے ہیں کیونکہ گیمنگ ویڈیوز پر مبنی اور اے آئی سے تیار کردہ آوازوں پر مبنی کئی یوٹیوب چینلز موجود ہیں جو پاکستانی ہیں، جبکہ کئی ایسے یوٹیوب چینلز بھی موجود ہیں جو غیر مستند اور دہرائے گئے مواد پر مبنی ہیں جو اس پالیسی کے باعث اپنی مونیٹائزیشن کھو سکتے ہیں۔

  • محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    محرم الحرام: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے پر 24 گھنٹوں میں 18 افراد گرفتار

    پنجاب پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور قابل اعتراض مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر دی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے،ان میں سے 19 واقعات پر مقدمات درج کر کے 18 قانون شکن افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے فیس بک پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 16 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ واٹس ایپ پر 3 اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 6 ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، گزشتہ 7 روز کے دوران سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کرنے پر مجموعی طور پر 130 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 148 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی پھیلانے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہےمحرم الحرام کے دوران امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت یا اشتعال انگیزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    پنجاب پولیس کا یہ کریک ڈاؤن اس بات کا مظہر ہے کہ ریاست محرم الحرام کے تقدس اور عوامی تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • محرم الحرام میں  نفرت انگیز مواد، اور اشتعال انگیزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    محرم الحرام میں نفرت انگیز مواد، اور اشتعال انگیزی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    محرم الحرام میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے لیے این سی سی آئی اے کی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، مذکورہ ٹیم وزارت داخلہ کی ہدایت پر تشکیل دی دی گئی ہے-

    وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، مذہبی منافرت پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹس کی نگرانی کے لیے ماہرین پر مشتمل ٹیم سرگرم ہوگئی،ٹیم میں ٹیکنیکل ماہرین، ڈیجیٹل تجزیہ کار اور نفرت انگیز مواد پر نظر رکھنے والے افسران شامل ہیں، یہ ٹیم نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی، محرم الحرام کے دوران سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کی روک تھام اولین ترجیح ہو گی، اس اقدام کا مقصد پرامن محرم، بین المسالک ہم آہنگی اور سوشل میڈیا نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک بھر میں محرم الحرام سیکیورٹی پلان پراہم اجلاس ہوا تھا، جس میں تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں محرم الحرام کے سیکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا اجلاس میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس حوالے سے الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے پیمرا کو واضح سفارشات ارسال کی جائیں گی، محرم الحرام کے دوران امن وامان یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتطامی اقدامات کا بھی فیصلہ ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹرنیٹ یا موبائل فون سروس کی بندش کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں متعلقہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی تھی کہ انٹرنیٹ یا موبائل فون سروس کے حوالے سے فیصلہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جائے، تمام ضروری اقدامات اور فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے کو مسترد کردیا

    کراچی سےجدہ جانے والی پرواز حادثے سے بچ گئی

    مشرق وسطیٰ میں جاری بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ،پردہ اٹھ گیا

  • سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

    سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ

    اسلام آباد:وفاقی حکومت کی جانب سے جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل عہدے پر تقرری کے بعد سوشل میڈیا پر ’’فیلڈ مارشل فاتح حق عاصم منیر‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    فیلڈ مارشل عہدے کی تقرری پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے عوام نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو زبردست خراج تحسین پیش کیاسوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے ان کی حب الوطنی، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی سلامتی کے لیے کردار کو سراہا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ ہر پاکستانی کے دل کی آواز اور اپنے سپہ سالار سے محبت کی عکاس ہےپاک فوج نے آرمی چیف کی قیادت میں بھارتی جارحیت پر 10 مئی کی صبح جارحانہ جواب دیا تھا جس پر دشمن جنگ بندی پر مجبور ہوا۔

    جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی، نوٹیفکیشن جاری

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں جنرل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے پارلیمانی حلقوں میں بھی ان کی عسکری قیادت اور قومی معاملات میں کردار کو مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے۔

    خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 4 بچے جاں بحق ، متعدد زخمی

  • معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد

    معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد

    حکومتِ پاکستان نے معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد کر دیے.

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومتِ پاکستان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے چند معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان یوٹیوبرز پر غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کا الزام ہے۔متاثرہ یوٹیوبرز میں صدیق جان، معید پیرزادہ، صابر شاکر اور عمران ریاض خان شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے مالی امداد حاصل کر کے سوشل میڈیا پر پاکستان کے اداروں اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اور دیگر حساس اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد ان یوٹیوبرز کے مالیاتی ریکارڈز کی جانچ کی، جس میں مبینہ طور پر بیرونی ممالک سے لاکھوں روپے کی فنڈنگ کے شواہد ملے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ یوٹیوبرز ’آزادی اظہار‘ کی آڑ میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے تھے، اور انہیں مبینہ طور پر دشمن ممالک سے مالی مدد مل رہی تھی۔

    یاد رہے کہ ان میں سے اکثر یوٹیوبرز حکومتی پالیسیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک بڑی فالوونگ رکھتے ہیں۔اس معاملے پر تاحال متاثرہ فریقین کی جانب سے باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان گرما گرم بحث جاری ہے۔

    خیبر پولیس کی وردی تبدیل،شلوار قمیض کی جگہ،شرٹ پتلون کا حکم

    فلسطین میں نسل کشی ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے،روسی قونصل جنرل

    وزیراعظم آج دورۂ ترکیہ کے لیے روانہ ہوں گے

    کینال منصوبے کے خلاف احتجاج، آلو، پیاز کی ترسیل متاثر

    پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عمران لالیکا نے معافی مانگ لی، پاک فوج زندہ باد کے نعرے

  • خیبرپختونخوا ،ملزمان انٹرویو  اور  پولیس کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

    خیبرپختونخوا ،ملزمان انٹرویو اور پولیس کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

    آئی جی خیبرپختونخوا نے صوبے میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے سوشل میڈیا کے استعمال جبکہ زیر تفتیش ملزمان کو یوٹیوبر کے سامنے پیش کرنے انٹرویوز کروانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    انسپکٹر جنرل آف پولیس کی ہدایات کے مطابق پولیس اہلکاروں کو فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غیر مجاز استعمال پر فوری ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا۔زیر تفتیش ملزمان کے سوشل میڈیا ٹرائل سے متعلق شکایات پر خیبر پختونخوا پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ہدایات کے مطابق پولیس اہلکاروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر غیر ضروری سرگرمیاں محکمے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، کچھ اہلکاروں نے غیر مجاز طور پر میڈیا کو ملزم کے بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جس پر عدلیہ نے بھی سخت تنقید کی تھی۔

    ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز اور یونٹ ہیڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دفاتر میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹس قائم کریں تاکہ پولیس اہلکاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے ان یونٹس کا کام سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ہوگا۔حکام کے مطابق گزشتہ کئی سالوں میں بار بار ہدایات جاری کی گی لیکن پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد اب بھی سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہے۔

    اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ تمام ڈی پی اوز اور یونٹ کمانڈرز ایک ہفتے کے اندر رپورٹ جمع کرائیں کہ انہوں نے پابندی پر کتنا عملدرآمد کروایا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی۔ سپریم جوڈیشری نے بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے میڈیا کو غیر قانونی طور پر ملزم کے بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دینے پر سخت تنقید کی تھی اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ محمد عالم شنواری نے تمام یونٹس کو یاد دہانی کرائی ہے کہ اگر وہ سوشل میڈیا پالیسی پرعملدرآمد نہیں کرواتے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    نادرا کی شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے ڈاکخانوں سے سہولت ختم

    کراچی میں قبرستان سے مارٹر گولے برآمد، الرٹ جاری

    چین کا جوابی وار ، امریکہ کی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف لگا دیا

    اماراتی سفیر کا ایک لاکھ پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

    ٹرمپ ٹیرف،دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری